جماعت صحابہ کی خصوصی حیثیت-۴


[''نقطۂ نظر''کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

سیدنا عمر نے عبد الرحمن بن ربیعہ کو حکم دیا کہ وہ ترکوں کے خلاف جنگ کریں۔ وہ اپنا لشکر لے کر باب کو توڑ کر ترکوں کے علاقے میں داخل ہو گئے۔ ابتدا میں تو ترکوں پر رعب کی کیفیت طاری ہو گئی تاہم بعد میں انھوں نے شدید مزاحمت کی اور مسلمانوں کو میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ عبد الرحمن بن ربیعہ اس جنگ میں شہید ہو گئے۔ (البدایہ والنہایہ، ۷/۱۲۳، ۱۲۴)

اسی طرح سیدنا معاویہ کو جب اطلاع ملی کہ ان کے ایک کمانڈر نے ترکوں پر حملہ کر کے انھیں ایک لڑائی میں شکست دی ہے تو وہ اس پر سخت ناراض ہوئے اور اسے لکھا کہ جب تک میرا حکم نہ آئے، ترکوں سے لڑائی نہ کرنا کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ترک عربوں کو نکال کر دور دراز علاقے کی طرف دھکیل دیں گے۔ (فتح الباری، ؟؟)

ایرانیوں کی بغاوتوں کو فرو کرنے کے لیے جب جنگی مہمات کا ہمہ گیر منصوبہ تیار کیا گیا تو ہندوستان میں ایرانی طاقت کے بعض مراکز بھی زیر غور آئے۔ سندھ اور فارس کے سیاسی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے مشہور مورخ قاضی اطہر مبارک پوری لکھتے ہیں:

''مکران سے سراندیپ تک کے تمام ہندوستانی راجے مہاراجے شاہان ایران کے باج گزار اور وفادار تھے اور حسب ضرورت اپنے اموال اور رعایا سے ان کی مدد کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ۱۷ ھ کے بعد دیگر مقامات کے حکمرانوں کی طرح ہندوستان کے یہ راجے مہاراجے بھی ایرانیوں کی مدد اور عربوں سے مقابلے کے لیے دوڑ دھوپ کرنے لگے اور ایک راجہ دوسرے راجہ کے پاس اس بارے میں رائے مشورہ کے لیے خطوط اور آدمی بھیجنے لگا یہاں تک کہ ۲۱ھ میں جنگ نہاوند میں ایرانیوں نے اپنی تمام اندرونی اور بیرونی طاقتیں اسلامی فوج کے مقابلے میں جمع کر لیں جن میں سندھ کے راجے اور یہاں کے سپاہی بھی تھے۔ اس واقعہ کے بعد اسلامی فوج نے اپنے حربی نقشہ میں ایران کے اہم مقامات کی طرح ہندوستان کے ان مقامات اور راجوں کو بھی درج کر لیا جہاں سے ان کے خلاف مدد آنے لگی تھی اور کھل کر عربوں کے مقابلہ میں صف آرائی کی نوبت آ گئی تھی۔'' (خلافت راشدہ اور ہندوستان، ص ۶۹)

''حالات وواقعات کی کڑی ملانے سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا یہ فیصلہ اور مکران پر حملہ کا منصوبہ ہندوستان کے راجوں کی روش کا عین رد عمل تھا تاکہ ایرانی فوجوں کو یہاں سے مدد نہ مل سکے اور نہ ہی باب الابواب سے لے کر سندھ وہند کی فوجی طاقت منظم ہو کر اسلامی فوج کے مقابلے میں آ سکے۔ مگر ایسے حالات پیدا ہوتے رہے کہ اس فیصلہ کے باوجود خلافت کی طرف سے بلاد فارس اور مکران پر فوج کشی کا موقع نہ مل سکا اور مخالف طاقتیں اس مدت میں پورے طور سے منظم ہو کر ۲۱ھ میں جنگ نہاوند میں مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹ گئیں۔ بالفاظ دیگر مسلمانوں کی طرف سے مزید اتمام حجت ہو گئی اور اب ان ایرانی اور ہندوستانی جنگ بازوں سے نبٹنا بالکل ہی ضروری ہو گیا۔'' (ص ۷۰)

ہندوستان کی طرف سے درپیش اس مسلسل خطرے کے باوجود خلفاے راشدین کی حتی الامکان کوشش یہی تھی کہ اسلامی فوج اس معاملے میں الجھنے نہ پائے۔ چنانچہ ۱۵ ہجری میں بحرین کے گورنر عثمان بن ابی العاص نے مرکز سے اجازت کے بغیر سمندر کے ذریعے سے تھانہ اور دیبل کے علاقوں پر حملہ کروایا تو سیدنا عمرؓ نے اس پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ آپ نے فرمایا:

یا اخا ثقیف حملت دودا علی عود وانی احلف باللہ لو اصیبوا لاخذت من قومک مثلہم ۔(بلاذری، ۴۳۸)

''اے بنو ثقیف کے آدمی! تم نے تو ایک کیڑے کو لکڑی پر چڑھا (کر اسے پانی میں ڈال) دیا۔ میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر ان کو کوئی نقصان پہنچتا تو میں تمہاری قوم میں سے اتنے ہی افراد کو قصاص میں قتل کر دیتا۔''

اس وقت تک فارس کا علاقہ مفتوح نہیں ہوا تھا۔ فارس کا سارا علاقہ مفتوح ہو گیا اور اسلامی سلطنت کے حدود سندھ تک پہنچ گئے تو بھی ایرانی شورشوں میں سندھی راجاؤں کے کردار کے باوجود سیدنا عمرؓ نے یہی پالیسی برقرار رکھی۔مثال کے طور پر آپ نے قندابیل کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ صورت حال لشکر کشی کے لیے موزوں نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا:

لا یسالنی اللہ عن احد بعثتہ الیہا ابدا۔ (عیون الاخبار، بحوالہ خلافت راشدہ اور ہندوستان، ص ۶۲)

''اللہ تعالیٰ مجھ سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سوال نہ کرے جسے میں وہاں بھیجوں۔''

ایک اور موقع پر آپ نے مکران کی صورت حال دریافت کی اور اسی نتیجے پر پہنچے کہ وہاں لشکر کشی نہ کی جائے:

فقدم صحار علی عمر بالخبر والمغانم فسالہ عمر عن مکران وکان لا یاتیہ احد الا سالہ عن الوجہ الذی یجئمنہ فقال یا امیر المومنین ارض سہلہا جبل وماوہا وشل وتمرہا دقل وعدوہا بطل وخیرہا قلیل وشرہا طویل والکثیر بہا قلیل والقلیل بہا ضائع وما وراء ہا شر منہا فقال ا سجاع انت ام مخبر؟ قال لا بل مخبر۔ قال لا واللہ لا یغزوہا جیش لی ما اطعت وکتب الی الحکم بن عمرو والی سہیل الا یجوزن مکران احد من جنودکما واقتصرا علی ما دون النہر۔ (طبری ۴/۱۸۲)

''صحار فتح کی خبر اور مال غنیمت لے کر سیدنا عمر کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس سے مکران کے بارے میں پوچھا۔ اور ان کی عادت تھی کہ جس علاقے سے بھی کوئی آدمی ان کے پاس آتا، وہ اس سے اس طرف کے احوال معلوم کرتے تھے۔ صحار نے کہا کہ وہ ایسی سرزمین ہے جس کے میدان پہاڑوں کی طرح دشوار گزار، پانی بہت تھوڑا، کھجوریں بالکل ردی اور دشمن بڑا بہادر ہے۔ وہاں خیر بہت کم اور شر بہت پھیلا ہوا ہے۔ بہت بڑی تعداد بھی وہاں کم پڑ جائے گی جبکہ تھوڑی تعداد تو بالکل ہی ناکارہ ثابت ہوگی۔ اور اس سے آگے کا علاقہ اس سے بھی بدتر ہے۔ یہ سن کر سیدنا عمر نے کہا: تم لفظی تک بندی کر رہے ہو یا ٹھیک ٹھیک حالات بتا رہے ہو؟ صحار نے کہا: بالکل صحیح بتا رہا ہوں۔ سیدنا عمر نے کہا: بخدا، جب تک میرا حکم مانا جاتا ہے، کوئی لشکر حملہ کرنے کے لیے وہاں نہیں جائے گا۔ پھر انہوں نے حکم بن عمرو اور سہیل کو خط لکھا کہ تم دونوں میں سے کسی کا لشکر بھی مکران کی سرحد عبور نہ کرے، بلکہ دریا سے اس پار کے علاقے تک محدود رہو۔''

سیدنا عثمان بھی اپنے عہد حکومت کے آخری ایام سے قبل تک اسی پالیسی پر عمل پیرا رہے، تاہم حالات وواقعات نے آخر کار اس ضبط کو توڑ کر سندھ کی فتح کی راہ ہموار کر دی۔ (بلاذری، ۴۳۸، ۴۳۹)

مصر کے معاملے کو دیکھیے۔ اس کی فتح کے لیے کیے جانے والے حملے کے بارے میں تاریخی روایتیں دو ہیں:

ایک روایت کے مطابق ۱۸ ہجری میں سیدنا عمر شام کے علاقے جابیہ میں تشریف لائے تو عمرو بن العاص نے انھیں مصر پر حملے کے لیے آمادہ کرنا چاہا اور کہا:

یا امیر المومنین ائذن لی ان اسیر الی مصر وحرضہ علیہا وقال: انک ان فتحتہا کانت قوۃ للمسلمین وعونا لہم وہی اکثر الارض اموالا واعجزہم عن القتال والحرب۔

''اے امیر المومنین ! مجھے مصر پر حملے کی اجازت دیجیے۔ انہوں نے سیدنا عمر کو آمادہ کرنے کی بہت کوشش کی اور کہا کہ اگر آپ مصر کو فتح کر لیں گے تو اس سے مسلمانوں کو قوت اور مدد حاصل ہوگی۔ نیز یہ کہ یہ سرزمین مال ودولت سے بھرپور ہے اور وہاں کے لوگ جنگ اور لڑائی کے میدان میں بالکل نکمے ہیں۔''

سیدنا عمر نے مسلمانوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا پسند نہ کیا اور اس تجویز کو مسترد کر دیا، تاہم عمرو بن العاص مسلسل ان کے سامنے مصر کی اہمیت اور اس کی فتح میں آسانی کا ذکر کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اس کی نیم دلانہ اجازت دینے پر رضامند ہو گئے۔ آپ نے عمرو سے فرمایا:

سر وانا مستخیر اللہ فی مسیرک وسیاتی کتابی الیک سریعا ان شاء اللہ تعالیٰ فان ادرکک کتابی وامرتک فیہ بالانصراف عن مصر قبل ان تدخلہا او شیئا من ارضہا فانصرف وان انت دخلتہا قبل ان یاتیک کتابی فامض لوجہک واستعن باللہ واستنصرہ۔(سیوطی، حسن المحاضرۃ، ۱/۱۰۶)

''تم روانہ ہو جاؤ لیکن میں اس معاملے میں اللہ تعالیٰ سے بہتر راہنمائی کی دعا کروں گا۔ جلد ہی میرا خط تمھیں ملے گا۔ پس اگر میں تمھیں واپس پلٹنے کا حکم دوں اور میرا خط تمھیں مصر یا اس کے کسی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے مل جائے تو واپس پلٹ آنا۔ اور اگر میرا خط ملنے سے پہلے تم اس میں داخل ہو چکے ہوئے تو اپنی مہم جاری رکھنا اور اللہ سے مدد اور نصرت کے طالب رہنا۔''

عمرو بن العاص لشکر لے کر روانہ ہو گئے تو مصر میں داخل ہونے سے قبل انھیں سیدنا عمر کا خط ملا جس میں انھوں نے انھیں آگے بڑھنے سے روک دیا تھا، لیکن عمرو نے اس خدشے کو محسوس کرتے ہوئے خط کو فوراً پڑھنے کے بجائے اس وقت کھولا جب وہ اپنی فوج کے ساتھ مصر میں داخل ہو چکے تھے۔ (Philip K. Hitti, History of the Arabs, p.160)

دوسری روایت یہ ہے کہ عمرو ابن العاص کو سرے سے سیدنا عمرؓ نے اجازت دی ہی نہیں تھی اور انھوں نے بلا اجازت قدم اٹھایا تھا۔ بلاذری لکھتے ہیں:

قالوا وکان عمرو ابن العاصی حاصر قیساریۃ بعد انصراف الناس من حرب الیرموک ثم استخلف علیہا ابنہ حین ولی یزید بن ابی سفیان ومضی الی مصر من تلقاء نفسہ فی ثلاثۃ آلاف وخمس ماءۃ فغضب عمر لذلک وکتب الیہ یوبخہ ویعنفہ علی افتتانہ علیہ برایہ وامرہ بالرجوع الی موضعہ ان وافاہ کتابہ دون مصر فورد الکتاب علیہ وہو بالعریش۔ (فتوح البلدان، ۲۱۹)

'اہل تاریخ بتاتے ہیں کہ عمرو بن العاص نے جنگ یرموک سے فارغ ہونے کے بعد قیساریہ کا محاصرہ کر لیا۔ پھر جب یزید بن ابی سفیان واپس چلے گئے تو اپنے بیٹے کو وہاں اپنا نائب بنا کر خود ہی فیصلہ کر کے ساڑھے تین ہزار کا لشکر لے کر مصر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیدنا عمر نے اس پر سخت ناراض ہوکر ا ن کو خط لکھا اور ان سے پوچھے بغیر ازخود فیصلہ کرنے پر عمرو کو سخت سست کہا اور انہیں حکم دیا کہ اگر یہ خط انھیں مصر پہنچنے سے پہلے مل جائے تو اپنی جگہ پر واپس چلے جائیں۔ عمرو کو یہ خط اس وقت ملا جب وہ عریش میں تھے۔''

مصر سے آگے افریقہ کی فتح کے معاملے میں بھی یہی صورت حال رہی۔ عمرو بن العاص جب مصر کے علاقوں کو فتح کرتے ہوئے ۲۲ ہجری میں اس کے آخری شہر طرابلس تک پہنچ گئے تو انھوں نے سیدنا عمر کے نام خط میں لکھا:

انا قد بلغنا طرابلس وبینہا وبین افریقیۃ تسعۃ ایام فان رای امیر المومنین ان یاذن لنا فی غزوہا فعل۔ (بلاذری، ص ۲۳۳)

''ہم طرابلس پہنچ گئے ہیں اور یہاں سے افریقہ تک نو دن کا سفر ہے۔ اگر امیر المومنین مناسب سمجھیں تو ہمیں افریقہ پر حملہ کرنے کی اجازت دے دیں۔''

آپ نے جواب میں لکھا:

لا تدخل افریقیۃ فانہا مفرقۃ لاہلہا غیر مجتمعۃ ماؤہا قاس ما شربہ احد من العالمین الا قست قلوبہم

''افریقہ کے علاقے میں مت داخل ہونا۔ یہ سرزمین اپنے باشندوں کو اکٹھا نہیں رہنے دیتی بلکہ منتشر کر دیتی ہے۔ اس کے پانی میں ایسی تاثیر ہے کہ دنیا کی جو بھی

(یاقوت الحموی، معجم البلدان، ۱/۲۲۹)

قوم اسے پیے گی، ان کے دل سخت ہو جائیں گے۔''

سیدنا عثمان نے بھی اپنے عہد میں ابتداء اً افریقہ میں داخل ہونے سے گریز کی پالیسی کو برقرار رکھا، لیکن بعد میں حالات کو دیکھتے ہوئے اس کو فتح کرنے کی اجازت دے دی اور عبد اللہ بن ابی سرح نے ۲۷ یا ۲۸ یا ۲۸ ہجری میں افریقہ پر حملہ کیا۔ (بلاذری، ص ۲۳۴)

حبشہ کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق صحابہ نے کوئی پیش قدمی نہیں کی۔ اس ضمن میں صرف ایک واقعہ عہد صحابہ کی تاریخ میں رپورٹ ہوا ہے۔ طبری لکھتے ہیں:

وفیہا بعث عمر رضی اللہ عنہ علقمۃ بن مجزز المدلجی الی الحبشۃ فی البحر وذلک ان الحبشۃ کانت تطرفت فی ما ذکر طرفا من اطراف الاسلام فاصیبوا فجعل عمر علی نفسہ الا یحمل فی البحر احدا ابدا۔ (طبری، ۴/۱۱۲)

''۲۰ ہجری میں عمر رضی اللہ عنہ نے علقمہ بن مجزز مدلجی کو سمندر کے راستے سے حبشہ کی طرف بھیجا۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اہل حبشہ نے مسلمانوں کے سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ تاہم علقمہ کے ساتھ جانے والی یہ جماعت ہلاک ہو گئی جس پر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر لازم کر لیا کہ وہ سمندر کے راستے سے کبھی کوئی لشکر نہیں بھیجیں گے۔''

مذکورہ پالیسی کی پابندی کے معاملے میں سب سے زیادہ سخت اور بے لچک رویہ سیدنا عمر کا تھا اور ان کی نسبت سے اس کی معنویت اس تناظر میں بالخصوص دو چند ہو جاتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیش گوئیوں کی بنا پر اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ ان کی وفات سے مسلمانوں کی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور ان کی قوت وشدت اندر کا رخ کر کے باہمی قتل وقتال کی شکل اختیار کر لے گی۔ (بخاری، رقم ۵۲۵) ایک موقع پر انھوں نے فرمایا:

واللہ لا یفتح بعدی بلد فیکون فیہ کبیر نیل بل عسی ان یکون کلا علی المسلمین ۔ (ابو یوسف، الخراج، ص ۲۶)

''بخدا، میرے بعد کوئی علاقہ ایسا فتح نہیں ہوگا جس سے مسلمانوں کو کوئی بڑا فائدہ حاصل ہو، بلکہ الٹا اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ مسلمانوں کے لیے بوجھ بن جائے۔''

مذکورہ بالا تاریخی شواہد کی روشنی میں خلفاے راشدین کی جنگی پالیسی کو ہم درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کر سکتے ہیں:

o جہاد وقتال سے ان کا مقصد اسلامی سلطنت کی غیر محدود توسیع نہیں تھا، بلکہ ان کا ہدف صرف رومی اور فارسی سلطنتیں تھیں۔

o رومی اور فارسی سلطنتوں کے خلاف جنگ کی اجازت حاصل ہونے کے باوجود وہ ان کے تمام علاقوں پر قبضہ نہیں کرنا چاہتے تھے بلکہ ان کے پیش نظر اصلاً صرف شام اور عراق کے علاقے تھے اور وہ ان سے آگے بڑھنا نہیں چاہتے تھے۔

o ان علاقوں کو فتح کرنے کے بعد جنگ کو روکنے کا فیصلہ وقتی حالات کے تحت نہیں تھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ کوئی ایسی رکاوٹ درمیان میں حائل ہو جائے کہ نہ دشمن کی فوجیں مسلمانوں کی طرف آ سکیں اور نہ مسلمان ان تک پہنچ سکیں۔

o جنگ نہ کرنے کا فیصلہ عددی قلت یا کسی ضعف اور کمزوری یا شکست کے خوف کی بنا پر بھی نہیں تھا، کیونکہ مسلمانوں کو فتح ونصرت کی واضح بشارت حاصل تھی اور ضرورت پیش آنے پر انھوں نے اسی حربی استعداد کے ساتھ فارسی سلطنت کے تمام علاقوں کو فتح کر لیا تھا۔

o جنگ کو روک دینے کا فیصلہ کرنے کے بعد اسے دوبارہ جاری کرنے کا فیصلہ انھوں نے صرف اس وقت کیا جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ اس کے بغیر دشمن کی طرف سے مسلسل چھیڑ چھاڑ اور جنگی کارروائیوں کے سلسلے کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔

o روم و فارس یا ان کے زیر اثر علاقوں کے علاوہ دوسری قوموں کے خلاف انھوں نے صرف اس صورت میں اقدام کیا جب انھوں نے مسلمانوں کے مقابلے میں دشمن کی مدد کی یا ان کی طرف سے میدان جنگ میں آئے۔

o سمندر کے راستے سے کوئی جنگی مہم بھیجنے کے وہ سرے سے قائل ہی نہیں تھے اور اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کے طریقے کے منافی اور مسلمانوں کی جانوں کو بلا ضرورت خطرے میں ڈالنے کے مترادف سمجھتے تھے۔

غلبہ دین کا وعدہ اور اس کی تکمیل

قرآن مجید میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ہدف یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ کے دین کا غلبہ تمام دینوں پر قائم کر دیا جائے۔

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ۔ (التوبہ ۹:۳۳)

''وہی ذات ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو۔''

بعض اہل علم کے ہاں یہ رجحان دکھائی دیتا ہے کہ وہ مذکورہ آیت کو پوری دنیا پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کے کسی نظری اور اصولی ہدف کا بیان سمجھتے ہیں۔ (ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ، ج ۲۸، ص ۲۹۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی، تفہیم القرآن، ۲/۱۸۸، ۱۹۰)

تاہم قرآن مجید میں یہ آیت تین مقامات پر آئی ہے اور ہر جگہ اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے لیے غلبہ اور فتح کی بشارت اور وعدے کی حیثیت سے ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کی روشنی میں متعدد مواقع پر جزیرۂ عرب اور روم وفارس کے علاقوں پر اللہ کے دین کے غلبے کی پیش گوئیاں کیں۔ (اس نوع کی بعض روایات پہلے باب میں بیان کی جا چکی ہیں جبکہ مزید تفصیل آئندہ باب میں دیکھی جا سکتی ہے۔) 'لیظہرہ علی الدین کلہ' کے اس وعدے کا یہ متعین مصداق صحابہ کرام اور ان کے بعد صدر اول کے اہل علم پر بھی پوری طرح واضح تھا اور وہ اس کی تفسیر اسی مخصوص تناظر میں ایک وعدے کے طور پرکرتے تھے۔

ام المومنین عائشہ روایت کرتی ہیں:

سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول لا یذہب اللیل والنہار حتی تعبد اللات والعزی فقلت یا رسول اللہ ان کنت لاظن حین انزل اللہ (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون) ان ذلک تاما قال انہ سیکون من ذلک ما شاء اللہ ثم یبعث اللہ ریحا طیبۃ فتوفی کل من فی قلبہ مثقال حبۃ خردل من ایمان فیبقی من لا خیر فیہ فیرجعون الی دین آباۂم ۔(مسلم، رقم ۵۱۷۴)

''میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ دن اور رات کا سلسلہ ختم ہونے سے پہلے وہ وقت پھر آئے گا کہ لات اور عزیٰ کی پوجا شروع کر دی جائے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ، جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون' تو میں اس کا مطلب یہ سمجھتی تھی کہ ایک مرتبہ حاصل ہونے کے بعد یہ غلبہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک اللہ چاہے گا، یہ دین غالب رہے گا لیکن پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجیں جو ہر اس شخص کو وفات دے دے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو۔ اس کے بعد وہی لوگ رہ جائیں گے جن میں ذرہ برابر خیر نہ ہوگی اور پھر وہ اپنے آباواجداد کے دین کی طرف پلٹ جائیں گے۔''

ایک دوسرے موقع پر ام المومنین حضرت عائشہؓ نے فرمایا:

کان المومنون یفر احدہم بدینہ الی اللہ تعالی والی رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم مخافۃ ان یفتن علیہ فاما الیوم فقد اظہر اللہ الاسلام والیوم یعبد ربہ حیث شاء ۔ (بخاری، رقم ۳۶۱۱)

''اہل ایمان اپنے دین کو بچانے کے لیے اس خوف سے کہ انھیں ستایا نہ جائے، بھاگ کر اللہ اور اس کے رسول کے پا س آ جاتے تھے، لیکن آج تو اللہ نے اسلام کو غلبہ عطا کر دیا ہے اور آج مومن جہاں چاہے، اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے۔''

تمیم داریؓ نے بھی غلبہ دین کے اس وعدے کو جزیرۂ عرب ہی کے تناظر میں سمجھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد: 'لا یترک اللہ بیت مدر ولا وبر الا ادخلہ اللہ ہذا الدین بعز عزیز او بذل ذلیل' نقل کرنے کے بعد انھوں نے کہا کہ:

قد عرفت ذلک فی اہل بیتی لقد اصاب من اسلم منہم الخیر والشرف والعز ولقد اصاب من کان منہم کافرا الذل والصغار والجزیۃ ۔ (مسند احمد، رقم ۱۶۲۴۴)

''میں نے یہ پیش گوئی اپنے خاندان میں پوری ہوتے دیکھ لی ہے۔ ان میں سے جو اسلام لائے، ان کو تو خیر اور عزت اور شرف ملا، اور جو کافر رہے، ان پر ذلت اور پستی اور جزیہ مسلط کر دیا گیا۔''

یہی روایت امام ابن حبان نے مقداد بن الاسود سے نقل کی ہے اور اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: 'ذکر الاخبار عن اظہار اللہ الاسلام فی ارض العرب وجزائرہا' (صحیح ابن حبان، رقم ۶۶۹۹)

ایک اور روایت کے مطابق تمیم داری نے قبول اسلام کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ:

یا رسول اللہ ان اللہ مظہرک علی الارض کلہا فہب لی قریتی من بیت لحم قال ہی لک ۔(ابو عبید، الاموال ۳۶۸)

''یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ آپ کو اس ساری سرزمین پر غلبہ عطا فرمانے والے ہیں تو بیت لحم کی بستی مجھے عطا کر دیجیے۔ آپ نے فرمایا وہ تمھاری ہے۔''

سیدنا عمرؓ نے ایک موقع پر حج میں رمل کے طریقے کے بارے میں فرمایا:

فی ما الرملان الآن والکشف عن المناکب وقد اطا اللہ الاسلام ونفی الکفر واہلہ ومع ذلک لا ندع شیئا کنا نفعلہ علی عہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسند احمد، رقم ۳۰۰)

''اب جبکہ اللہ نے اسلام کو استحکام بخش دیا ہے اور کفر اور اہل کفر کا صفایا ہو چکا ہے، طواف کرتے ہوئے تیز چلنے اور کندھوں کو ننگا کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی، لیکن اس کے باوجود ہم اس طریقے کو ترک نہیں کریں گے جس پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عمل کیا کرتے تھے۔''

فارس کی فتوحات کا سلسلہ اختتام کے قریب پہنچا تو سیدنا عمرؓ نے ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں اس وعدے کی تکمیل پر اللہ کا شکر ادا کیا:

ان اللہ بعث محمدا بالہدی ووعد علی اتباعہ من عاجل الثواب وآجلہ خیر الدنیا والآخرۃ فقال ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون فالحمد للہ الذی انجز وعدہ ونصر جندہ الا وان اللہ قد اہلک ملک المجوسیۃ وفرق شملہم فلیسوا یملکون من بلادہم شبرا یضیر بمسلم الا وان اللہ قد اورثکم ارضہم ودیارہم واموالہم وابناء ہم لینظر کیف تعملون۔ (البدایہ والنہایۃ، ۷/۱۲۹)

''بے شک اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت دے کر بھیجا اور ان کی اتباع کرنے پر دنیا اور آخرت، دونوں کے اجر وثواب کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اس نے فرمایا کہ 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون' ۔ سو اللہ کا شکر ہے جس نیاپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ دیکھو، اللہ نے مجوسیوں کے بادشاہ کو ہلاک کر کے اس کی قوم کا شیرازہ توڑ دیا ہے۔ اب وہ اپنے ملک کی ایک بالشت بھی ایسی زمین کے مالک نہیں جس سے مسلمانوں کو کوئی ضرر پہنچا سکتا ہو۔ سنو، اللہ نے تمھیں ان کی سرزمین اور ان کے گھروں اور مالوں اور اولاد کا مالک بنا دیا تاکہ تمہارا امتحان لے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟''

حضرت حذیفہ نے ایک موقع پر فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا فقاتل بمن اقبل من ادبر حتی اظہر اللہ دینہ۔ (ابن ابی داود، کتاب المصاحف ۱/۱۷۶)

''بے شک اللہ نے محمد ﷺ کو معبوث کیاتھاچنانچہ وہ لڑے ان سے جنھوں نے دین قبول کرنے سے گریزکیا۔یہاں تک کے اللہ نے ان کے دین کو غالب کر دیا۔''

حسن بصری سورۂ احقاف کی آیت: 'وما ادری ما یفعل بی ولا بکم' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

ما فی الآخرۃ فمعاذ اللہ قد علم انہ فی الجنۃ حین اخذ میثاقہ فی الرسل ولکن قال وما ادری ما یفعل بی ولا بکم فی الدنیا اخرج کما اخرجت الانبیاء قبلی او اقتل کما قتلت الانبیاء من قبلی ولا ادری ما یفعل بی ولا بکم امتی المکذبۃ ام امتی المصدقۃ ام امتی المرمیۃ بالحجارۃ من السماء قذفا ام مخسوف بہا خسفا ثم اوحی الیہ (واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس) یقول احطت لک بالعرب ان لا یقتلوک فعرف انہ لا یقتل ثم انزل اللہ عزوجل (ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا) یقول اشہد لک علی نفسہ انہ سیظہر دینک علی الادیان ثم قال لہ فی امتہ (وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون) فاخبرہ اللہ ما یصنع بہ وما یصنع بامتہ ۔(تفسیر الطبری، ۲۶/۸)

'اللہ کی پناہ، اس کا تعلق آخرت سے نہیں ہے۔ جب اللہ نے آپ کے بارے میں انبیا سے میثاق لیا تو یقیناًآپ کے علم میں تھا کہ آپ جنت میں جائیں گے۔ یہ جو آپ نے کہا کہ 'ما ادری ما یفعل بی ولا بکم ' (پتہ نہیں میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا) تو اس کا مطلب یہ تھا کہ پتہ نہیں مجھے بھی پہلے انبیا کی طرح مکہ سے نکالا جائے گا یا قتل کر دیا جائے گا۔ اور یہ بات کہ معلوم نہیں تمہارا کیا بنے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ پتہ نہیں میری امت میری تکذیب کرے گی یا تصدیق؟ اور کیا اس پر آسمان سے پتھر برسیں گے یا اسے زمین میں دھنسا دیا جائے گا؟ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کہ 'واذ قلنا لک ان ربک احاط بالناس' یعنی میں نے اہل عرب کو اس طرح گھیر رکھا ہے کہ تمھیں قتل نہیں کر سکیں گے۔ اس سے رسول اللہ کو پتہ چل گیا کہ آپ قتل نہیں ہوں گے۔ پھر اللہ نے یہ آیت اتاری: 'ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا' یعنی اللہ نے یہ بات اپنے ذمے لے لی ہے کہ وہ آپ کے دین کو تمام ادیان پر غالب کر دے گا۔ پھر آپ کی امت کے بارے میں فرمایا کہ 'وما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم وما کان اللہ معذبہم وہم یستغفرون' اس طرح اللہ نے آپ کو بتا دیا کہ وہ آپ کے ساتھ اور آپ کی امت ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہے۔''

''لیظہرہ علی الدین کلہ' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

(ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفیباللہ شہیدا) یقول اشہد لک علی نفسہ انہ سیظہر دینک علی الدین کلہ وہذا اعلام من اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم والذین کرہوا الصلح یوم الحدیبیۃ من اصحابہ ان اللہ فاتح علیہم مکۃ وغیرہا من البلدان مسلیہم بذلک عما نالہم من الکآبۃ والحزن بانصرافہم عن مکۃ قبل دخولہموہا وقبل طوافہم بالبیت ۔(تفسیر الطبری، ۲۶/۱۰۹)

''ھو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا ہے کہ اس نے یہ بات طے کر رکھی ہے کہ وہ آپ کے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ان ساتھیوں کے لیے جنھوں نے حدیبیہ کی صلح کو ناپسند کیا تھا، اس بات کی اطلاع ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں مکہ اور دوسرے شہروں کی فتح عطا فرمائے گا اور اس موقع پر مکہ میں داخل ہونے اور بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے واپس پلٹنے سے انھیں جو دکھ اور غم پہنچا ہے، اس کا مداوا اس طریقے سے کر دے گا۔''

عبد اللہ بن سلام نے قتل عثمان کے موقع پر محاصرہ کرنے والوں سے فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بشیرا ونذیرا یبشر بالجنۃ وینذر بالنار فاظہر اللہ من اتبعہ من المومنین علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔ (احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ ۱/۴۷۶)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا۔ آپ جنت کی خوشخبری دیتے اور جہنم سے خبردار کرتے تھے۔ پھر اللہ نے آپ کی پیروی اختیار کرنے والوں اہل ایمان کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، اگرچہ مشرکوں کو یہ بات بہت ناپسند تھی۔''

قتادۃ سورۂ صف کی آیت: کونوا انصار اللہ کما قال عیسی ابن مریم للحواریین کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

قد کان ذلک بحمد اللہ جاء ہ سبعون رجلا فبایعوہ تحت العقبۃ وآووہ حتی اظہر اللہ دینہ (ابن عبد البر، الاستیعاب ۱/۱۴)

''اللہ کا شکر ہے کہ ایسا ہی ہوا۔ آپ کے پاس ستر افراد آئے جنھوں نے گھاٹی کے نیچے آپ سے بیعت کی اور آپ کو ٹھکانا فراہم کیا، یہاں تک کہ اللہ نے اپنے دین کو غالب کر دیا۔''

امام شافعی لکھتے ہیں:

قال اللہ تبارک وتعالی: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون ....... فقد اظہر اللہ عزوجل دینہ الذی بعث بہ رسولہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الادیان بان ابان لکل من سمعہ انہ الحق وما خالفہ من الادیان باطل واظہرہ بان جماع الشرک دینان دین اہل الکتاب ودین الامیین فقہر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الامیین حتی دانوا بالاسلام طوعا وکرہا وقتل من اہل الکتاب وسبی حتی دان بعضہم بالاسلام واعطی بعض الجزیۃ صاغرین وجری علیہم حکمہ صلی اللہ علیہ وسلم وہذا ظہور الدین کلہ۔ قال وقد یقال لیظہرن اللہ عزوجل دینہ علی الادیان حتی لا یدان للہ عزوجل الا بہ وذلک متی شاء اللہ تبارک وتعالی (الام، ۴/۱۷۱)

'اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ المشرکون۔ چنانچہ اللہ نے اپنے اس دین کو جو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دے کر بھیجا تھا، تمام دینوں پر غالب کر دیا، اس طریقے سے بھی کہ اس نے سب سننے والوں پر واضح کر دیا کہ یہی دین حق ہے اور اس کے سوا باقی تمام ادیان باطل ہیں، اور اس طرح بھی کہ کفر وشرک کے داعی دو بڑے مذہبی گروہوں یعنی اہل کتاب اور امیین عرب میں سے امیین کو تو جبراً وقہراً قبول اسلام پر مجبور کیاجبکہ اہل کتاب میں سے کچھ کو قتل کیا اور کچھ کو قیدی بنایا، یہاں تک کہ ان میں سے کچھ تو اسلام میں داخل ہو گئے اور باقی نے ذلیل ہو کر جزیہ دینا منظور کر لیا اور آپ کی حکومت کے زیر نگیں آگئے۔ اس طرح تمام دینوں پر غلبے کا وعدہ پورا ہو گیا۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو تمام ادیان پر اس طرح غالب کریں گے کہ کسی دوسرے دین کا کوئی پیروکار باقی نہیں رہے گا اور یہ جب اللہ چاہے گا، تب ہوگا۔ ''

امام احمد فرماتے ہیں:

کان النبی یدعو الی الاسلام قبل ان یحارب حتی اظہر اللہ الدین وعلا الاسلام ولا اعرف الیوم احدا یدعی قد بلغت الدعوۃ کل احد والروم قد بلغتہم الدعوۃ وعلموا ما یراد منہم وانما کانت الدعوۃ فی اول الاسلام (ابن قدامہ، المغنی، مسئلہ ۷۴۳۶)

'نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے دین کو غالب کر دیا اور اسلام سربلند ہو گیا۔ میرے خیال میں آج کسی شخص کو دعوت دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ سب تک دعوت پہنچ چکی ہے۔ رومیوں تک بھی دعوت پہنچ چکی ہے اور انھیں معلوم ہے کہ ان سے کیا چیز مطلوب ہے۔ دعوت دینا صرف اسلام کے ابتدائی زمانے میں ضروری تھا۔''

امام ابوبکر الجصاص اس وعدے کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

وقولہ تعالی (لیظہرہ علی الدین کلہ) من دلائل النبوۃ لانہ اخبر بذلک والمسلمون فی ضعف وقلۃ وحال خوف مستذلون مقہورون فکان مخبرہ علی ما اخبر بہ لان الادیان التی کانت فی ذلک الزمان الیہودیۃ والنصرانیۃ والمجوسیۃ والصابءۃ وعباد الاصنام من السند وغیرہم فلم تبق من اہل ہذہ الادیان امۃ الا وقد ظہر علیہم المسلمون فقہروہم وغلبوہم علی جمیع بلادہم او بعضہا وشردوہم الی اقاصی بلادہم فہذا ہو مصداق ہذہ الآیۃ التی وعد اللہ تعالیٰ فیہا اظہارہ علی جمیع الادیان (احکام القرآن، ۳/۴۴۲)

''اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ وہ اس دین کو تمام دینوں پر غالب کرے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے دلائل میں سے ایک ہے کیونکہ یہ بات اللہ تعالیٰ نے اس وقت بتائی تھی جب مسلمان ضعف اور قلت اور خوف کی حالت میں لاچار اور دبے ہوئے تھے۔ پھر یہ پیش گوئی بعینہ اسی طرح پوری ہوئی، کیونکہ اس زمانے کے مذہبی گروہ یہی یہود، مسیحی، مجوسی، صابی اور سند وغیرہ کے بت پرست تھے۔ اور ان گروہوں میں سے کوئی گروہ ایسا نہیں تھا جس پر مسلمانوں کو غلبہ نہ نصیب ہوا ہو ۔ چنانچہ مسلمانوں نے یا ان کے سارے علاقوں پر قبضہ کر لیا اور یا کچھ علاقے چھین کر انھیں اپنے ملک کے دور دراز کونوں میں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ہے اس آیت کا مصداق جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو تمام ادیان پر غالب کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔''

امام ابو الحسن اشعری فرماتے ہیں:

وجاہد فی اللہ حق الجہاد وقاتل اہل العناد حتی تمت کلمۃ اللہ عز وجل وظہر امرہ وانقاد الناس للحق اجمعین حتی اتاہ الیقین لا وانیا ولا مقصرا (الابانۃ عن اصول الدیانۃ، ص ۳۵)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا جیسے جہاد کرنے کا حق ہے اور معاندین کے ساتھ جنگ کی یہاں تک اللہ کا فیصلہ پورا ہو گیا، اس کا دین غالب ہو گیا اور سب لوگ حق کے مطیع ہو گئے، یہاں تک کہ آپ کا دم واپسیں آ گیا اور آپ اس حال میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ آپ نے اپنے فریضے کی ادائیگی میں نہ کوئی سستی دکھائی اور نہ کوتاہی کی۔''

امام نووی لکھتے ہیں:

فلما کان الفتح واظہر اللہ الاسلام علی الدین کلہ واذل الکفر واعز المسلمین سقط فرض الہجرۃ فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا ہجرۃ بعد الفتح (شرح مسلم، ص ۱۲۰۱)

''پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسلام کو تمام ادیان پر غالب کر دیا، کفار کو ذلیل اور اہل اسلام کو سربلند کر دیا تو ہجرت کا فریضہ ساقط ہو گیا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہیں۔''

امام طحاوی لکھتے ہیں:

قولہ صلی اللہ علیہ وسلم تاکل القری ای یغلبونہم علی قراہم فیفتحونہا وقد کان ذلک منہم علیہ حتی اظہر اللہ تعالی نبیہ صلی اللہ علیہ وسلم علی الدین کلہ وذلک علم جلیل من اعلام نبوتہ فی الیہود والنصاری (المعتصر من المختصر، ۲/۲۰۴)

''نبی صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے: تاکل القری یعنی اہل ایمان کفار کے علاقوں پر غالب آ جائیں گے اور انھیں فتح کر لیں گے۔ اور ایسا ہی ہوا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام ادیان پر غالب کر دیا۔ اور یہ چیز یہود ونصاریٰ کے حق میں آپ کی نبوت کے دلائل میں سے ایک عظیم دلیل ہے۔''

امام ابن تیمیہ نے بھی اس کی تفسیر ایک وعدے کی حیثیت سے کی ہے جو بالفعل پورا ہو چکا ہے:

ثم استخلف عمر فقہر الکفار من المجوس واہل الکتاب واعز الاسلام ومصر الامصار وفرض العطاء ووضع الدیوان ونشر العدل واقام السنۃ وظہر الاسلام فی ایامہ ظہورا بان بہ تصدیق قولہ تعالی ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا وقولہ تعالی وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصالحات لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم ........ الفاسقون وقول النبی صلی اللہ علیہ وسلم اذا ہلک کسری فلا کسری بعدہ واذا ہلک قیصر فلا قیصر بعدہ والذی نفی بیدہ لتنفقن کنوزہما فی سبیل اللہ فکان عمر رضی اللہ عنہ ہو الذی انفق کنوزہما (مجموع الفتاویٰ، ۲۵/۲۹۸)

''حضرت ابوبکر کے بعد عمر خلیفہ بنے اور انھوں نے کفار میں سے مجوس اور اہل کتاب کو زیر نگیں بنایا، اسلام کو سربلند کیا، شہر آباد کیے، وظائف مقرر کیے، دیوان قائم کیا، عدل گستری کی، اور سنت کو قائم کیا۔ ان کے دور حکومت میں اسلام کو ایسا غلبہ نصیب ہوا جس سے اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کی صداقت آشکارا ہو گئی جو ان آیات میں بیان ہوا ہے: ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ وکفی باللہ شہیدا۔(وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناپسند ہو)۔ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے،ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک میں اقتدار بخشے گا،جیساکہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے....... ۔وہی لوگ نافرمان ہیں نیز نبی صلی اللہ علیہ کا ارشاد ہے: (جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا اور جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں ہوگا۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، ان دونوں بادشاہوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔) یہ سیدنا عمر ہی تھے جنھیں ان دونوں کے خزانوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کر نے کا شرف حاصل ہوا۔''

مزید لکھتے ہیں:

قولہ ''قالت الامامیۃ: فاللہ یحکم بیننا وبین ہولاء وہو خیر الحاکمین'' فیقال للامامیۃ ان اللہ حکم بینہم فی الدنیا بما اظہرہ من الدلائل والبینات وبما یظہرہ اہل الحق علیکم فہم ظاہرون علیکم بالحجۃ والبیان وبالید واللسان کما اظہر دین نبیہ علی سائر الادیان ۔ قال تعالیٰ ہو الذی ارسل رسولہ بالہدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ومن کان دینہ قول اہل السنۃ الذی خالفتموہم فیہ فانہ ظاہر علیکم بالحجۃ واللسان کظہور دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم علی سائر الادیان ولم یظہر دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم قط علی غیرہ من الادیان الا باہل السنۃ کما ظہر فی خلافۃ ابی بکر وعمر وعثمان رضی اللہ عنہم ظہورا لم یحصل لشئ من الادیان وعلی رضی اللہ عنہ مع انہ من الخلفاء الراشدین ومن سادات السابقین الاولین لم یظہر فی خلافتہ دین الاسلام بل وقعت الفتنۃ بین اہلہ وطمع فیہم عدوہم من الکفار والنصاری والمجوس بالشام والمشرق (الذہبی، المنتقیٰ من منہاج السنۃ النبویۃ، ص ۱۸۴)

''معترض کا یہ قول کہ امامیہ کہتے ہیں کہ ہمارے اور ان کے مابین اللہ ہی فیصلہ کرے گا، اور وہ سب سے بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، تو اس کے جواب میں امامیہ سے کہا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے مابین اپنے ظاہر کردہ دلائل وبینات کے ذریعے سے اور اہل حق کو تم پر غلبہ دے کر فیصلہ کر دیا ہے، چنانچہ اہل حق دلیل وبرہان اور طاقت اور زبان، ہر لحاظ سے بالادست ہیں، ایسے ہی جیسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے دین کو تمام انبیا پر غالب کیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: (وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دے)۔ جو لوگ اہل سنت کے دین کے، جس کے تم مخالف ہو، پیروکار ہیں، وہ ایسے ہی تم پر حجت واستدلال میں غالب ہیں جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین تمام ادیان پر غالب ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دوسرے ادیان پر اہل سنت ہی کے ہاتھوں غالب ہوا جیسا کہ حضرت ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے دور میں اس کو ایسا غلبہ نصیب ہوا جس دنیا کے کسی دین کو نہیں ہوا۔ جبکہ علی رضی اللہ عنہ اگرچہ خلفاے راشدین میں سے اور سابقین اولین کے بزرگوں میں سے تھے، لیکن ان کے عہد خلافت میں اسلام کو غلبہ حاصل نہیں ہوا بلکہ خود اہل اسلام کے مابین جنگ وجدال برپا ہو گیا اور ا ن کے دشمن کفار اور شام اور مشرق کے نصاریٰ اور مجوس ان کو نقصان پہنچانے کا خواب دیکھنے لگے۔''

ابن کثیر فرماتے ہیں:

ہذا وعد من اللہ تعالیٰ لرسولہ صلوات اللہ وسلامہ علیہ بانہ سیجعل امتہ خلفاء الارض ای ائمۃ الناس والولاۃ علیہم وبہم تصلح البلاد وتخضع لہم العباد ولیبدلنہم من بعد خوفہم امنا وحکما فیہم وقد فعلہ تبارک وتعالی ولہ الحمد والمنۃ ..... ثبت فی الصحیح ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان اللہ زوی لی الارض فرایت مشارقہا ومغاربہا وسیبلغ ملک امتی ما زوی لی منہا فہا نحن نتقلب فی ما وعدنا اللہ ورسولہ وصدق اللہ ورسولہ (البدایہ والنہایہ ۳/۳۰۰، ۳۰۱)

''یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول کے ساتھ وعدہ ہے کہ وہ آپ کی امت کو زمین کے حکمران اور اصحاب اقتدار بنائے گا، ان کے ذریعے سے ان ملکوں میں صلاح پیدا ہوگی، لوگ ان کے مطیع ہو جائیں گے اور اللہ ان کے خوف کی جگہ انھیں امن اور لوگوں پر حکومت کا موقع عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ پورا کر دیا اور وہی تعریف اور احسان کا سزاوار ہے۔ .... صحیح حدیث میں ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ ویلم نے فرمایا کہ اللہ نے میرے لیے زمین سمیٹ دی اور میں نے اس کے مشرق اور مغرب کے علاقے دیکھے اور میری امت کا اقتدار وہاں تک پہنچے گا جہاں تک زمین سمیٹ کر مجھے دکھائی گئی۔ تو دیکھو، اب ہم اللہ اور رسول کے بیان کردہ موعودہ علاقوں میں چل پھر رہے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔''

شاہ ولی اللہ لکھتے ہیں:

''قال اللہ تعالی: لیظہرہ علی الدین کلہ وایں وعدہ بنا بر حکمت الٰہی در زمان آنحضرت بظہور نرسید لاجرم خلفا را بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم منصوب ساخت تا آں موعود منجز گردد'' (ازالۃ الخفاء ۱/۲۰)

''اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: لیظہرہ علی الدین کلہ ۔ اور یہ وعدہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پورا نہیں ہو سکا، ا س لیے لازمی طور پر اس نے آپ کے بعد خلفاے راشدین کو مقرر کیا تاکہ یہ وعدہ پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔''

دور اول کے اہل علم کے ہاں آیت کا یہ مفہوم عمومی طور پر واضح ہے، البتہ امام شافعی نے بالکل سرسری طور پر یہ قول بھی نقل کیا ہے کہ جب اللہ چاہے گا، اسلام کا غلبہ پوری دنیا پر قائم ہو جائے گا۔ بعد کے مفسرین کے یہاں اس بات نے من جملہ دیگر اقوال کے ایک قول کی جبکہ متاخرین کے ہاں اس ایک قول نے بھی رفتہ رفتہ 'واحد' قول کی شکل اختیار کر لی اور عام طور پر یہ سمجھا جانے لگا کہ اس وعدے کا عملی ظہور امام مہدی کے ظہور اور سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول کے موقع پر ہوگا۔ ہم نے قرآن مجید میں ان آیات کے سیاق وسباق کی روشنی میں اس وعدے کا جو محل بیان کیا ہے، اس سے واضح ہے کہ یہ درحقیقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے حوالے سے اللہ کے اسی غیر متبدل قانون کا بیان ہے جس کے مطابق پیغمبر اور اس کے ساتھی بہرحال اپنے مخالفین پر غالب آ کر رہتے ہیں۔ غلبہ دین کا یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اصلاً جزیرۂ عرب کے حدود میں کیا تھا اور یہ چونکہ آپ کے منصب رسالت کا لازمی تقاضا تھا، اس لیے اس کی تکمیل آپ کی ذات کی حد تک آپ کی حیات مبارکہ ہی میں ہو گئی تھی۔ اس کے بعد صحابہ کرام کو جو فتوحات حاصل ہوئیں، وہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہونے والے غلبے کی توسیع اور تکمیل تھیں، اس لیے وہ بھی ضمناً اس کا مصداق قرار پاتی ہیں، لیکن زمان ومکان کے اس مخصوص دائرے سے باہر نہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نصرت کا کوئی وعدہ ہے اور نہ اس سے نظری سطح پر کوئی آفاقی ہدف اخذ کیا جا سکتا ہے۔