عہد نبوی میں جہاد و قتال کی نوعیت (۱)


[یہ مصنف کی کتاب ''جہاد: ایک مطالعہ'' کا ایک باب ہے۔ قارئین اشراق کے لیے اس کتاب کے مباحث بالترتیب شائع کیے جا رہے ہیں۔ (ادارہ)]

قرآن وسنت کے نصوص سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیرو اہل ایمان کو عہد نبوی کے معروضی حالات کے تناظر میں جہاد وقتال کا حکم دو طرح کے مقاصد کے تحت دیا گیا: ایک اہل کفر کے فتنہ وفساد اور اہل ایمان پر ان کے ظلم وعدوان کا مقابلہ کرنے کے لیے اور دوسرے کفر وشرک کا خاتمہ اور باطل ادیان کے مقابلے میں اسلام کا غلبہ اور سربلندی قائم کرنے کے لیے۔

پہلے مقصد کے تحت قتال کی تفصیل حسب ذیل نصوص میں بیان کی گئی ہے:

أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ ۔ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوَاتٌ وَّمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً وَّلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہُ إِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ (الحج: ۳۹، ۴۰)

''جن اہل ایمان کے ساتھ جنگ کی جاتی ہے، انہیں اجازت دی جاتی ہے (کہ وہ بھی لڑائی کریں) کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ناحق ان کے گھروں سے نکال دیا گیا، محض اس جرم میں کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب صرف اللہ ہے۔ اور اگر اللہ ایک گروہ (کے ظلم وعدوان کو) دوسرے گروہ کے ذریعے سے دفع نہ کرے تو خانقاہوں، گرجوں، کنیسوں اور مسجدوں جیسے مقامات، جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، گرا دیے جاتے۔ اور جو لوگ اللہ کی مدد کریں گے، اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ بہت قوت والا نہایت غالب ہے'' ۔

سورۃ النساء میں فرمایا ہے:

وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُوْنَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنکَ وَلِیّاً وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْراً (النساء: ۷۵)

''تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور کفار کی چیرہ دستی کا شکار ان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو چھڑانے کے لیے قتال نہیں کرتے جو یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ، ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور اپنی جناب سے ہمارے لیے کوئی مددگار اور اپنے پاس سے ہمارے لیے کوئی حامی بھیج دے۔''

سورۂ انفال میں ارشاد ہوا ہے:

وَإِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ فَعَلَیْْکُمُ النَّصْرُ إِلاَّ عَلَی قَوْمٍ بَیْْنَکُمْ وَبَیْْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ وَّاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاءُ بَعْضٍ إِلاَّ تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِی الأَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ (الانفال: ۷۲، ۷۳)

''اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے، سوائے اس صورت کے کہ وہ کسی ایسی قوم کے خلاف مدد مانگیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔ اور جن لوگوں نے کفر کیا، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اگر تم (ان کے مقابلے میں) اہل ایمان کی مدد نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہاور بہت بڑا فساد پھیل جائے گا۔''

ان نصوص کا حاصل یہ ہے کہ کفار کے جو گروہ مسلمانوں پر کسی بھی نوعیت کے ظلم وستم اور جارحیت کا ارتکاب کریں اور بالخصوص عقیدہ ومذہب کے انتخاب واختیار کے معاملے میں ان کی آزادی ان سے چھیننے کی کوشش کریں، ان کے خلاف تلوار اٹھانا نہ صرف جائز ہے بلکہ قوت واستطاعت اور حالات کی موافقت اور جنگ کے اخلاقی اصولوں کی پاسداری کی شرط کے ساتھ ایک اخلاقی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے۔

جہاد کا دوسرا مقصد یعنی کفر وشرک کا خاتمہ اور اسلام کی سربلندی کا قیام درج ذیل نصوص میں بیان ہوا ہے:

وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۱۹۳)

''اور ان کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔''

مذکورہ آیت ہجرت مدینہ کے بعد جہاد کے حوالے سے دی جانے والی ہدایات کے بالکل ابتدائی دور سے تعلق رکھتی ہے اور اس میں کفار کے فتنہ وفساد کو خدا کے دین کی سربلندی کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیتے ہوئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ کفار کے ساتھ قتال کیا جائے تاکہ فتنہ ختم ہو سکے اور خدا کا دین سربلند ہو جائے۔

عہد نبوی میں جہاد وقتال کے آخری مراحل میں دین حق کو قبول نہ کرنے والے گروہوں کے حوالے سے متعین احکام سورۂ توبہ میں بیان کیے گئے ہیں۔ مشرکین عرب کے بارے میں ارشاد ہوا ہے:

فَإِذَا انسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُواْ الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدتُّمُوہُمْ وَخُذُوہُمْ وَاحْصُرُوہُمْ وَاقْعُدُواْ لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِن تَابُوْا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوا سَبِیْلَہُمْ إِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ (التوبہ: ۵)

''پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کر ڈالو اور ان کو پکڑو اور گھیرو اور ہر جگہ ان کی تاک میں بیٹھو۔ پھر اگر یہ شرک سے تائب ہو جائیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''

اہل کتاب کے حوالے سے فرمایا گیا کہ:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَہُمْ صَاغِرُونَ (التوبہ: ۲۹)

''ان اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرو جو نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی قبول کرتے ہیں۔ (ان کے ساتھ جنگ کرو) یہاں تک کہ یہ تمہارے مطیع بن کر ذلتاور پستی کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ سلم کا ارشاد ہے:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلاۃ ویوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ہم واموالہم الا بحق الاسلام وحسابہم علی اللہ (بخاری، رقم ۲۴)

''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک کہ وہ 'لا الٰہ الا اللہ' اور 'محمد رسول اللہ' کا اقرار نہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی پابندی قبول نہ کر لیں۔ پھر جب وہ ایسا کر لیں تو اسلام کے عائد کردہ کسی حق کے علاوہ وہ اپنی جانوں اور مال کو مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور ان کا حساب اللہ کے سپرد ہوگا۔''

ان نصوص کا مدعا یہ ہے کہ کفرو شرک کا ارتکاب کرنے والے گروہوں کے خلاف قتال کا فریضہ انجام دیا جائے تاکہ وہ یا تو دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں اور یا ان کی سیاسی خود مختاری کا خاتمہ کر کے اہل اسلام کو اہل کفر پر بالادست اور دین حق کو باطل ادیان پر غالب کر دیا جائے۔

یہ نصوص اپنے ظاہر کے لحاظ سے اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاد وقتال کا جو حکم دیا گیا، وہ اپنے ہدف کے لحاظ سے مخالف گروہوں کے فتنہ وفساد کو فرو کرنے اور اہل ایمان کو ان کے ظلم وتعدی سے بچانے تک محدود نہیں تھا، بلکہ خالص اعتقادی تناظر میں، کفر وشرک کا خاتمہ یا اہل کفر کو مسلمانوں کا محکوم بنانا بھی اس کے اہداف ومقاصد میں شامل تھا۔ کلاسیکی علمی روایت میں مذکورہ دونوں طرح کے نصوص کو جہاد کے دو الگ الگ اور مستقل بالذات مقاصد ہی کا بیان قرار دیا گیا ہے، تاہم دور جدید میں بہت سے اہل علم نے اس رائے سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا نقطہ نظر یہ ہے کہ جہاد اسلام کی توسیع واشاعت کے لیے نہیں بلکہ محض اس کے دفاع اور دشمنان اسلام کے ظلم وجبر کے خاتمہ کے لیے مشروع کیا گیا تھا اور قرآن مجید میں جہاد کے تمام احکام اسی مخصوص تناظر میں عہد رسالت اور عہد صحابہ کے اسلام دشمن گروہوں کے بارے میں وارد ہوئے ہیں۔ اس نقطہ نظر کی رو سے جن نصوص میں کفار ومشرکین کو قتل کرنے یا محکوم بنا کر ان پرجزیہ عائد کرنے کا ذکر ہوا ہے، ان کو انھی کفار سے متعلق سمجھنا چاہیے جو اسلام اور مسلمانوں پر ظلم وتعدی کی ابتدا کے مرتکب ہوئے تھے اور ان کے بارے میں مستقل طور پر معاندانہ روش اختیار کیے ہوئے تھے۔ گویا اگر یہ اہل کفر مسلمانوں کے لیے اپنے مذہب پر قائم رہنے کا حق کھلے دل سے تسلیم کر لیتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی ان کے کفر وشرک سے کوئی سروکار نہ ہوتا اور آپ عقیدہ ومذہب کی بنیاد پر ان سے کسی قسم کا کوئی تعرض کیے بغیر ان کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کر لیتے۔ (اس نقطہ نظر کے حق میں جو استدلالات پیش کیے گئے ہیں، آگے چل کر ہم ان کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔)

ہماری راے میں اس نقطہ نظر کوقبول کرنا اس کے بغیر ممکن نہیں کہ قرآن مجید کے نصوص میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے پس منظر، اس کے مقصد اور اس مقصد کے حصول کی حکمت عملی کے حوالے سے جو پوری اسکیم بیان ہوئی ہے، اس کو کلیتاً نظر انداز کر دیا جائے۔ قرآن مجید کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی دعا کے مطابق، بنی اسماعیل کے تزکیہ وتطہیر اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دینے کے لیے ہوئی تھی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنی ذریت کو حجاز کے علاقے میں آباد کیا تھا اور ان سے توحید پر قائم رہنے اور شرک سے اجتناب کا عہد لے کر بیت الحرام کی تولیت اور دربانی کے فرائض ان کے سپرد فرمائے تھے۔ سورۂ بقرہ میں ہے:

وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِیْ الظَّالِمِیْنَ ۔ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَیْْتَ مَثَابَۃً لِّلنَّاسِ وَأَمْناً وَاتَّخِذُواْ مِن مَّقَامِ إِبْرَاہِیْمَ مُصَلًّی وَعَہِدْنَا إِلَی إِبْرَاہِیْمَ وَإِسْمَاعِیْلَ أَن طَہِّرَا بَیْْتِیَ لِلطَّاءِفِیْنَ وَالْعَاکِفِیْنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُودِ...... وَمَن یَرْغَبُ عَن مِّلَّۃِ إِبْرَاہِیْمَ إِلاَّ مَنْ سَفِہَ نَفْسَہُ وَلَقَدِ اصْطَفَیْْنَاہُ فِی الدُّنْیَا وَإِنَّہُ فِی الآخِرَۃِ لَمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ إِذْ قَالَ لَہُ رَبُّہُ أَسْلِمْ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیْمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوبُ یَا بَنِیَّ إِنَّ اللّٰہَ اصْطَفَی لَکُمُ الدِّیْنَ فَلاَ تَمُوتُنَّ إَلاَّ وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ (بقرہ ۱۲۴-۱۳۲)

''اور جب ابراہیم کے رب نے چند باتوں میں اس کو آزمایا تو اس نے ان کو پورا کر دکھایا۔ اللہ نے کہا کہ میں تمھیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ ابراہیم نے کہا کہ میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنانا)۔ اللہ نے کہا کہ میرے اس وعدے میں ظالم شامل نہیں ہوں گے۔ اور جب ہم نے کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) ابراہیم کی جائے سکونت کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ میرے گھر کو طواف اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع وسجو د کرنے والوں کے لیے (شرک سے) پاک رکھنا۔ ...... اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے سوائے اس کے جو نادان ہو۔ ہم نے اس کو دنیا میں بھی منتخب کیا اور آخرت میں بھی وہ نیک لوگوں کے زمرے میں ہوگا۔ جب اس کے پروردگار نے اس سے کہا کہ فرماں برداری اختیار کر لو تو اس نے کہا کہ میں رب العالمین کے سامنے سر اطاعت خم کرتا ہوں۔ اور ابراہیم نے بھی اپنے بیٹوں کو اسی کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو! اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے، اس لیے مرتے دم تک اسی کے فرماں بردار رہنا۔''

سورۂ ابراہیم میں ہے:

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَذَا الْبَلَدَ آمِناً وَّاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَنْ نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ ۔ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْراً مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَإِنَّہُ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَإِنَّکَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔ رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْءِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُونَ (ابراہیم ۳۵-۳۷)

''اور جب ابراہیم نے دعا کی کہ میرے پروردگار! اس شہر کو امن کی جگہ بنا دے اور مجھے او ر میری اولاد کو اس بات سے بچائے رکھ کہ ہم بتوں کی پرستش کرنے لگیں۔ اے پروردگار! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کیا ہے۔ سو جوشخص نے میری پیروی کی، وہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ اے ہمارے پروردگار! میں نے اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں تاکہ اے پروردگار، یہ نماز قائم کریں۔ سو تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف مائل کر دے اور انھیں پھلوں سے روزی دے تاکہ یہ شکر ادا کریں۔ ''

بنی اسماعیل اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں اصل ملت پر قائم رہے، تاہم رفتہ رفتہ ان میں انحراف پیدا ہوتا گیا اور شرک وبدعت ان کے مابعد الطبیعیاتی تصورات، مناسک عبادت اور معاشرتی رسم ورواج میں سرایت کرتے چلے گئے اور توحید خالص کا مرکز یعنی بیت الحرام 'شرک' کا گڑھ بن کر رہ گیا۔ سیدنا ابراہیم اور سیدنا اسماعیل علیہما السلام کی دعا کے مطابق چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ مکرمہ میں مبعوث کیا تو ملت ابراہیمی کی اصل تعلیمات کے احیا اور مشرکانہ بدعات کے خاتمے کو آپ کی جدوجہد کا ہدف قرار دیا۔ قرآن نے واضح کیا کہ آپ عام معنوں میں کوئی داعی، واعظ اور مبلغ نہیں، بلکہ خدا کے رسول اور اس کے آخری پیغمبر ہیں، چنانچہ خداکے قانون کے مطابق آپ کی جدوجہد کا کامیابی سے ہم کنار ہونا اور جزیرۂ عرب میں خدا کے دین کا غلبہ قائم ہونا ایک طے شدہ فیصلہ ہے جو اہل کفر کی خواہشات، کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم قائم ہو کر رہے گا:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ (التوبہ ۳۳)

''اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو۔''

دین کا یہ غلبہ، ظاہر ہے کہ منکرین حق کے خلاف قائم کیا جانا تھااور اس کی عملی صورت یہ تھی کہ بیت اللہ کو مشرکین کے قبضہ وتصرف سے آزاد کرا کے دوبارہ توحید خالص کا مرکز بنا دیا جائے اور اسلام کے علاوہ کوئی دوسرا دین سرزمین عرب میں غالب اور سربلند نہ رہے۔ اس ہدف کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے 'قتال' کاناگزیر ہونا تاریخ وسیرت سے واقف ہر شخص پر واضح ہے اور قرآن مجید میں کفار کے خلاف جہاد وقتال کے احکام، جیسا کہ ہم ابھی واضح کریں گے، اسی تناظر میں وارد ہوئے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے:

بیت اللہ پر اس وقت مشرکین قریش قابض ومتصرف تھے اور نہ صرف یہ کہ دعوت توحید کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ انھوں نے توحید پر ایمان رکھنے کی پاداش میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ پر ایمان لانے والے لوگوں پر ظلم وستم اور ایذا رسانی کا سلسلہ بھی شروع کررکھا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں بیت اللہ کو شرک سے پاک کر کے دوبارہ توحید کا مرکز بنا دینا اس کے بغیر ممکن نہیں تھا کہ مشرکین کے خلاف تلوار اٹھائی جائے اور ان کے غلبہ وتسلط کو طاقت کے زور پر ختم کر دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر سرداران قریش کو اس حقیقت پر ان الفاظ میں متنبہ کیا کہ:

اتسمعون یا معشر قریش اما والذی نفسی بیدہ لقد جئتکم بالذبح (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۱/۲۷۴)

''اے گروہ قریش! کیا تم سن رہے ہو؟ یاد رکھو، خدا کی قسم! میں تمھارے لیے ذبح کا انجام لے کر آیا ہوں۔''

ایک دوسرے موقع پر ابوجہل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیغام کو یوں بیان کیا کہ:

ان محمدا یزعم انکم ان تابعتموہ علی امرہ کنتم ملوک العرب والعجم ....وان لم تفعلوہ کان لہ فیکم ذبح (السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۳۶)

''محمد کا دعویٰ ہے کہ اگر تم نے اس کے دین کی پیروی کی تو تم عرب وعجم کے حکمران بن جاؤ گے، لیکن اگر ایسا نہ کیا تو اس کے ہاتھوں تمھاری خوں ریزی ہوگی۔''

تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کو مکہ مکرمہ میں اس کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ یہ ہے کہ کسی آزاد اور خود مختار علاقے میں ایک باقاعدہ نظم اجتماعی کے تحت اپنی سیاسی وحربی طاقت کو مجتمع کیے بغیر یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں تھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کی گئی کہ حق کا غلبہ باطل پر بزور قوت قائم کر دینے کے لیے انھیں جس حکومت واقتدار کی ضرورت ہے، اس کے حصول کے لیے وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کرتے رہیں:

وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّیْ مِن لَّدُنکَ سُلْطَاناً نَّصِیْراً ۔ وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَہُوقاً (بنی اسرائیل ۸۰، ۸۱)

''اور دعا کرو کہ اے پروردگار! مجھے عزت واکرام کے ساتھ داخل کر اور (مکہ سے) خیر وخوبی کے ساتھ نکال اور مجھے اپنے پاس سے ایسا اقتدار نصیب فرما جو مددگار ہو۔ اور کہہ دو کہ حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا، کیونکہ باطل کے لیے نابود ہوناہی مقدر ہے۔''

اللہ کے حکم سے آپ کا مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنا اسی مقصد کے لیے تھا۔ چنانچہ انصار مدینہ کے اسلام قبول کرنے پر جب آپ نے ان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے شہر میں مسلمانوں کے لیے ایک جاے پناہ اورمرکز فراہم کریں تو انھوں نے سوال کیا کہ:

<

strong>یا رسول اللہ ان بیننا وبین الرجال حبالا وانا قاطعوہا یعنی الیہود فہل عسیت ان نحن فعلنا ذلک ثم اظہرک اللہ ان ترجع الی قومک وتدعنا؟ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۰۲)

''یا رسول اللہ! ہمارے اور یہود کے مابین تعلقات ہیں جنھیں (آپ کا ساتھ دینے کے لیے) ہم توڑ دیں گے، لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم یہ کر لیں اور پھر اللہ آپ کو (قریش پر) غلبہ عطا کر دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم کے پاس چلے جائیں؟''

مدینہ میں مسلمانوں کو ایک محفوظ جائے پناہ میسر آ گئی اور وہ ہجرت کر کے وہاں مجتمع ہونا شرو ع ہو گئے تو سورۂ حج کی آیت ۳۹ میں اللہ تعالیٰ نے انھیں مشرکین مکہ کے خلاف قتال کی باقاعدہ اجازت دے دی :

إِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ آمَنُوا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ خَوَّانٍ کَفُورٍ ۔ أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُونَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلَی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرٌ ۔ الَّذِیْنَ أُخْرِجُوا مِن دِیَارِہِمْ بِغَیْْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن یَقُولُوا رَبُّنَا اللّٰہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُم بِبَعْضٍ لَّہُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ یُذْکَرُ فِیْہَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْراً وَلَیَنصُرَنَّ اللّٰہُ مَن یَنصُرُہُ إِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ ۔الَّذِیْنَ إِن مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ وَأَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْأُمُورِ (الحج ۳۸، ۴۱)

سورۂ حج میں یہ اجازت جس سلسلہ بیان میں آئی ہے، اس کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنَاہُ لِلنَّاسِ سَوَآءًنِ الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ وَمَنْ یُّرِدْ فِیْہِ بِاِلْحَادٍم بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ (الحج:۲۶)

''جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لیے مساوی کر دیا ہے، وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں، جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔''

اس کے بعد مشرکین کے الحاد اور کفر کو واضح کرنے کے لیے آیت ۲۶ سے ۳۸ تک بیت اللہ کی ابتدائی تاریخ اور اس کی تعمیر کے اصل مقصد کو واضح کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کے لیے جگہ خود متعین فرما کر حضرت ابراہیم کو اس کی تعمیر کا حکم دیا اور انھیں اس کا متولی بنا کر ہدایت کی کہ وہ اس کو خداے واحد کی عبادت کرنے والوں کے لیے کفر وشرک کی آلودگیوں سے پاک رکھیں۔ اسی ضمن میں قربانی کی رسم کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ملت ابراہیمی میں قربانی صرف اللہ کے نام پر مشروع کی گئی تھی اور اس کے پیروکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ خداے واحد ہی کے حضور قربانی گزرانیں اور اصنام واوثان کی نجاست سے دور رہیں۔ اس کے بعد آیت ۳۹ میں فرمایا گیا ہے کہ چونکہ مشرکین نے ملت ابراہیمی کے اصل پیروکاروں یعنی اہل ایمان کو محض اس وجہ سے مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے کہ وہ توحید کے قائل ہیں، اس لیے انھیں اجازت ہے کہ اس ظلم کا بدلہ لینے کے لیے مشرکین سے جہاد کریں۔ قرآن نے یہاں 'ولینصرن اللہ من ینصرہ' کے الفاظ سے واضح کیا ہے کہ اس قتال کا مقصد محض مسلمانوں پرہونے والے ظلم کا بدلہ لینا نہیں، بلکہ خدا کے دین کی نصرت کرنا بھی تھا جس کی عملی صورت یہ تھی کہ بیت اللہ کو مشرکین کے تسلط سے آزاد کرا کے اسے ملت ابراہیمی کی روایات کے مطابق خالص توحید کا مرکز بنانے کے لیے قتال کیا جائے۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں:

لما اخرج النبی صلی اللہ علیہ وسلم من مکۃ قال ابوبکر اخرجوا نبیہم لیہلکن فانزل اللہ تعالیٰ اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر فقال ابوبکر لقد علمت انہ سیکون قتال (ترمذی، رقم ۳۰۹۵)

''جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے نکلنے پرمجبور کر دیا گیا تو ابوبکر نے کہا کہ اہل مکہ نے اپنے نبی کو نکال دیا ہے، اب یہ ضرور ہلاک ہو کر رہیں گے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ: اذن للذین یقاتلون بانہم ظلموا وان اللہ علی نصرہم لقدیر تو ابوبکر نے کہا کہ میں نے جان لیا ہے کہ (قریش کو سزا دینے کے لیے) قتال ہوگا۔''

دوسرے مقام پر قرآن نے واضح کیا ہے کہ قریش سے عرب کا اقتدار چھین کر اہل ایمان کے سپرد کیے جانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ جزیرۂ عرب میں شرک کے بجاے توحید غالب ہو اور خدا کا پسندیدہ دین یہاں متمکن ہو جائے:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوا مِنکُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُم فِیْ الْأَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضَی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُم مِّن بَعْدِ خَوْفِہِمْ أَمْناً یَعْبُدُونَنِیْ لَا یُشْرِکُونَ بِیْ شَیْْئاً وَمَن کَفَرَ بَعْدَ ذَلِکَ فَأُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ (النور ۵۵)

''اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے، وعدہ کیا ہے کہ وہ ہرحال میں انھیں اس سرزمین میں اسی طرح اقتدار عطا کرے گا جیسے ان سے پہلے لوگوں کو عطا کیا اور ان کے لیے ان کے دین کو لازماً مستحکم کر دے گا جسے اس نے ان کے لیے پسند کیا ہے اور ان کے خوف کو یقیناًامن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد بھی انکار کریں تو وہی بدکار ہیں۔''

قتال کی اجازت ملنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار مدینہ سے عقبہ اخیرہ کی بیعت لی تو اس کا یہ مفہوم انصار اور اہل مکہ، دونوں پر بالکل واضح تھا کہ یہ درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کے خلاف برسرجنگ ہونے کی تمہید ہے۔ بیعت کے موقع پر عباس بن عبادہ نے انصار سے مخاطب ہو کر کہا:

یا معشر الخزرج ہل تدرون علام تبایعون ہذا الرجل؟ قالوا نعم قال انکم تبایعونہ علی حرب الاحمر والاسود من الناس (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۰۵)

''اے گروہ خزرج! کیا تم جانتے ہوکہ تم اس آدمی کے ہاتھ پر کس چیز کی بیعت کر رہے ہو؟ انھوں نے کہا ، ہاں۔ عباس نے کہا کہ تم اس کے ساتھ (عرب کے) سارے لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کی بیعت کر رہے ہو۔''

بیعت کے بعد انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسی وقت کفار کے تلوار اٹھانے کے لیے تیار ہیں:

واللہ الذی بعثک بالحق ان شئت لنمیلن علی اہل منی غدا باسیافنافقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لم نؤمر بذلک (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۰۷)

''اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ہم کل ہی اپنی تلواروں کے ساتھ اہل منیٰ پر پل پڑیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ ابھی ہمیں اس کا حکم نہیں دیا گیا۔''

ابن اسحاق بیعت عقبہ ثانیہ کی سیاسی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کانت بیعۃ الحرب حین اذن اللہ لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی القتال شروطا سوی شرطہ علیہم فی العقبۃ الاولی کانت الاولی علی بیعۃ النساء وذلک ان اللہ تعالیٰ لم یکن اذن لرسولہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الحرب فلما اذن اللہ لہ فیہا وبایعہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی العقبۃ الاخیرۃ علی حرب الاحمر والاسود اخذ لنفسہ واشترط علی القوم لربہ وجعل لہم علی الوفاء بذلک الجنۃ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۱۲)

''جب اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتال کی اجازت دے دی تو آپ نے (انصار سے) جنگ کی جو بیعت لی، اس میں ایسی شرائط بھی شامل کیں جو عقبہ اولیٰ کی بیعت میں نہیں تھیں۔ پہلی بیعت تو انھی باتوں پر لی گئی تھی جن کا ذکر عورتوں سے لی جانے والی بیعت میں ہوا ہے کیونکہ اس وقت اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت نہیں دی تھی۔ پھر جب اللہ نے اس کی اجازت دے دی اور آپ نے عقبہ اخیرہ میں ان سے احمر واسود کے خلاف جنگ پر بیعت لی تو آپ نے اپنے لیے (پناہ اور حفاظت) کا عہد بھی لیا اور لوگوں پر اللہ کے عہد پر قائم رہنے کی شرط بھی عائد کی اور اس عہد کو پورا کرنے پر ان سے جنت کا وعدہ کیا۔''

مدینہ میں مسلمانوں کے اجتماع اور پھر خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کا یہ مفہوم ومقصد قریش پر بھی بالکل واضح تھا، چنانچہ بیعت عقبہ کا واقعہ ان کے علم میں آیا تو ان کے اعیان اگلے ہی دن بنو خزرج کے پاس گئے اور ان سے کہا:

یا معشر الخزرج انہ قد بلغنا انکم قد جئتم الی صاحبنا ہذا تستخرجونہ من بین اظہرنا وتبایعونہ علی حربنا (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۰۷)

''اے گروہ خزرج! ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم ہمارے اس آدمی کے پاس اس لیے آئے ہو کہ اسے ہمارے درمیان سے نکال کر لے جاؤ اور تم ہمارے ساتھ جنگ کرنے کے لیے اس کے ساتھ بیعت کر رہے ہو۔''

ابن اسحاق لکھتے ہیں:

لما رات قریش ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قد صارت لہ شیعۃ واصحاب من غیرہم بغیر بلدہم وراوا خروج اصحابہ من المہاجرین الیہم عرفوا انہم قد نزلوا دارا واصابوا منہم منعۃ فحذروا خروج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الیہم وعرفوا انہ قد اجمع لحربہم (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۳۴)

''جب قریش نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی جماعت بن گئی ہے اور اہل مکہ کے علاوہ ایک دوسرے علاقے میں کچھ اور ساتھی بھی ان کو مل گئے ہیں اور پھر انھوں نے مسلمانوں کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کو بھی دیکھا تو انھوں نے سمجھ لیا کہ مسلمانوں کو قریش کے مقابل ایک محفوظ ٹھکانہ مل گیا ہے، چنانچہ انھیں فکر ہوئی کہ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکل کر ان کے پاس چلے جائیں گے۔ قریش نے جان لیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خلاف جنگ کا مصمم عزم کر چکے ہیں۔''

یہی وہ ڈر تھا جس کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے موقع پر جب قریش آپ کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل وضع کرنے کے لیے دار الندوہ میں جمع ہوئے تو آپ کو گرفتار کر کے محبوس کر دینے یا مکہ سے نکال دینے کی تجاویز پر اتفاق نہیں ہو سکا، کیونکہ دونوں صورتوں میں یہ خطرہ تھا کہ آپ یا آپ کے ساتھی بالآخر مکہ مکرمہ پر حملہ کر کے قریش کا اقتدار ختم کرنے کی کوشش کریں گے، چنانچہ قریش نے نعوذ باللہ آپ کو قتل کرنے کی تجویز پر اتفاق کر لیا۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۳۶)

بہرحال مشرکین کے ناپاک منصوبوں کے علی الرغم جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے اور آپ کی سربراہی میں ایک باقاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو گئی تو سورۂ بقرہ میں مشرکین کے خلاف قتال کا باقاعدہ حکم دیا گیا اور یہ واضح کیا گیا کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اصل ہدف اللہ کے دین کو سربلند کرنا ہے اور قریش کے خلاف قتال کر کے ان کے فتنہ وفساد کو ختم کرنے کا حکم اسی مقصد کے تحت دیا جا رہا ہے:

وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلاَ تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبِّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْْثُ ثَقِفْتُمُوہُمْ وَأَخْرِجُوہُمْ مِّنْ حَیْْثُ أَخْرَجُوکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلاَ تُقَاتِلُوہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّی یُقَاتِلُوکُمْ فِیْہِ فَإِنْ قَاتَلُوکُمْ فَاقْتُلُوہُمْ کَذَلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِیْنَ ۔فَإِنِ انتَہَوْاْ فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔ وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ فَإِنِ انْتَہَواْ فَلاَ عُدْوَانَ إِلاَّ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (البقرہ ۱۹۰-۱۹۳)

''اور جو لوگ تم سے لڑتے ہیں، تم بھی اللہ کی راہ میں ان سے لڑو، لیکن زیادتی نہ کرنا کیونکہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور ان کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، وہاں سے تم بھی ان کو نکالو۔ اور فتنہ، قتل سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہاں، مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو، یہاں تک کہ وہ تم سے لڑائی نہ کریں۔ پھر اگر وہ لڑیں تو ان کو قتل کرو۔ یہی ہے بدلہ کافروں کا۔ اور اگر وہ باز آ جائیں تو بے شک اللہ معاف کر دینے والا، مہربان ہے۔ اور ان سے برابر لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔ اور اگر وہ باز آ جائیں تو ظالموں کے علاوہ کسی پر زیادتی روا نہیں۔''

یہاں قتال کی غایت یہ بیان کی گئی ہے کہ 'فتنہ' باقی نہ رہے اور اس کا نتیجہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کا دین غالب ہو جائے گا۔ اس سے قرآن کی مراد یہ تھی کہ قریش کی قوت کو توڑ کر مکہ مکرمہ کو فتح کر لیا جائے اور مشرکین کو بیت الحرام سے بے دخل کر کے یہاں سے شرک کے تمام آثار کو مٹا دیا جائے تاکہ عرب کے مشرکین شرک کو ذلیل اور توحید کو سربلند دیکھ کر من حیث الجماعت دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ سورۂ نصر میں اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ اور مشرکین عرب کے بحیثیت قوم اسلام قبول کر لینے کا ذکر ایسے بلیغ اسلوب میں کیا گیا ہے کہ رسول اللہ کی بعثت کے یہ دونوں ہدف پوری قطعیت کے ساتھ واضح ہو جاتے ہیں۔ فرمایا:

إِذَا جَاء نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ ۔ وَرَأَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُونَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ أَفْوَاجاً ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّاباً (النصر ۱-۳)

''جب اللہ کی مدد آ جائے اور (مکہ) فتح ہو جائے اور تم لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے دیکھ لو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے مغفرت مانگو، بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔''

قرآن نے فتح مکہ کی اسی اہمیت کی وجہ سے یہ واضح کر دیا کہ مکہ فتح ہونے کے بعد قتال میں حصہ لینے والے کسی طرح اس سے پہلے جہاد کرنے والوں کے برابر نہیں ہو سکتے:

لَا یَسْتَوِیْ مِنکُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ أُوْلَءِکَ أَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ أَنفَقُوا مِن بَعْدُ وَقَاتَلُوا وَکُلّاً وَعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنَی وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْرٌ (الحدید ۱۰)

''تم میں سے وہ لوگ جنھوں نے (مکہ کی) فتح سے پہلے مال خرچ کیا اور جہاد کیا (اور وہ جنھوں نے نہیں کیا) برابر نہیں ہو سکتے۔ ان لوگوں کا درجہ ان سے بڑا ہے جنھوں نے فتح کے بعد مال خرچ کیا اور جہاد کیا۔ اور دونوں کے ساتھ اللہ نے اچھے بدلے کا وعدہ کیا ہے اور اللہ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتا ہے۔''

اس ضمن میں وَمَا کَانُوآ اَوْلِیَآءَ ہُ اِنْ اَوْلِیَآؤُہُ اِلاَّ الْمُتَّقُوْنَ (الانفال: ۳۳۔ ''مشرکین مسجد حرام کے متولی نہیں۔ اس کی تولیت کے حق دار تو صرف اللہ سے ڈرنے والے ہیں'') اور 'مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَن یَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللہ شَاہِدِیْنَ عَلَی أَنفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ' (التوبہ ۱۷۔ ''مشرکین کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے اوپر خود کفر کی گواہی دیتے ہوئے اللہ کی مساجد کو آباد کریں) جیسی آیات میں یہ بات تو دوٹوک الفاظ میں واضح کر دی گئی تھی کہ مسجد حرام کو آباد کرنے اور اس کی تولیت وانتظام کے اصل حق دار اہل ایمان ہیں، جبکہ مشرکین اس کا کوئی حق نہیں رکھتے، تاہم مکہ مکرمہ کو فتح کرنے کے لیے فوری اقدام کرنے کے بجائے یہ حکمت عملی اختیار کی گئی کہ مختلف معرکوں میں قریش کی حربی قوت اور سیاسی پوزیشن کو زک پہنچا کر ان کا دم خم نکال دیا جائے تاکہ جب مسلمان مکہ کو فتح کرنے کے لیے جائیں تو شکستہ دل قریش ان کی مزاحمت نہ کر سکیں اور حدود حرم میں زیادہ خون ریزی کی نوبت نہ آنے پائے۔ اس ضمن میں پہلا اور فیصلہ کن معرکہ بدر میں بپا ہوا ۔ ذخیرۂ سیرت کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوۂ بدر کے محرکات میں، من جملہ دیگر عوامل کے، تحریش واغرا (Provocation) کی وہ کارروائیاں بھی شامل تھیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے وقتاً فوقتاً قریش کے تجارتی قافلوں پر حملوں کی صورت میں کی گئیں۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے:

oرمضان ۱ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہ کی قیادت میں ایک سریہ قریش کے تجارتی قافلے پر حملہ کرنے کے لیے ساحل سمندر کی طرف بھیجا، تاہم مجدی بن عمرو نے فریقین سے گفتگو کر کے لڑائی کو ٹال دیا۔ (واقدی، المغازی ۱/۹)

o شوال ۱ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبیدہ بن الحارث کی قیادت میں ایک سریہ رابغ کی طرف بھیجا جہاں ان کی جھڑپ ابو سفیان بن حرب کی قیادت میں قریش کی ایک جماعت سے ہوئی۔ (واقدی ۱/۱۰)

o ذو القعدہ ۱ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تجارتی قافلے پر حملے کی غرض سے سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں ایک سریہ خرار کی طرف بھیجا ، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے ہی قافلہ وہاں سے گزر چکا تھا، چنانچہ وہ مدینہ واپس آ گئے۔ (واقدی، ۱/۱۱)

o صفر ۲ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے قافلے پر حملے کی غرض سے خود ایک لشکر کی قیادت کرتے ہوئے ابوا کی طرف گئے، لیکن لڑائی کی نوبت نہیں آئی۔ (واقدی، ۱/۱۲)

o ربیع الاول میں آپ پھر اسی غرض سے بواط کی طرف گئے لیکن اس موقع پر بھی قافلے سے ٹکراؤ نہ ہو سکا۔ (ایضاً)

o اسی سال جمادی الاخریٰ میں آپ قریش کے قافلوں پر حملے کے لیے اپنے صحابہ کے ساتھ مقام ذی العشیرہ تشریف لے گئے۔ (۱/۱۲، ۱۳)

o رجب ۲ ہجری میں آپ نے عبد اللہ بن جحش کی قیادت میں ایک لشکر مقام نخلہ کی طرف بھیجا۔ ان کو ہدایت یہ تھی کہ قریش کے قافلے کا جائزہ لے کر محض معلومات اکٹھی کریں، تاہم انھوں نے بلا اجازت قافلے پر حملہ کر دیا۔ (۱/۱۳، ۱۴)

o رمضان ۲ ہجری میں آپ نے شام سے لوٹنے والے قریش کے تجارتی قافلے پر حملے کی غرض سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ بدر کا معرکہ اسی سفر کے نتیجے میں پیش آیا، کیونکہ مکہ سے آنے والا قریشی لشکر اصلاً اپنے تجارتی قافلے ہی کو بچانے کے لیے نکلا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کی خاص تدبیر سے قافلے کے بچ کر نکل جانے کے باوجود مسلمانوں کی مختصر جماعت میدان بدر میں مشرکین مکہ کے مقابلے میں معرکہ آرا ہوئی اور قریش کی صف اول کی قیادت کا صفایا کر دیا۔

قریش کے تجارتی قافلوں سے وقتاً فوقتاً تعرض کا یہ سلسلہ غزوۂ بدر کے بعد بھی جاری رہا اور صلح حدیبیہ تک قریش کو مسلسل اس پالیسی سے زک اٹھانا پڑی۔ مثال کے طور پر قریش نے اپنے تجارتی قافلے کا راستہ بدل کر عراق کے راستے سے شام کا سفر کرنا چاہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع ملنے پر زید بن حارثہ کی قیادت میں سو آدمیوں کا ایک جتھہ بھیجا جس نے قافلے کو لوٹ کر اس کا مال غنیمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لا کر پیش کر دیا۔ (واقدی، ۱/۱۹۸)*

* مولانا شبلی نعمانی مرحوم نے یہاں غیر ضروری طور پر یہ نکتہ چھیڑا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے سرایا کا مقصد قریش کے تجارتی قافلوں کے بارے میں محض معلومات حاصل کرنا یا چھیڑ چھاڑ کرنا تھا نہ کہ ان قافلوں کو لوٹ لینا۔ ان کے خیال میں ایسا کرنا ایک غیر اخلاقی اور اسلامی شریعت کی رو سے ''گناہ'' کا عمل ہوتا۔ (سیرت النبی ۱/۱۹۲) حالانکہ قریش عملاً مسلمانوں کے خلاف برسر جنگ تھے اور جنگی اخلاقیات کی رو سے ان کی جانیں اور ان کے اموال مسلمانوں کے لیے بدیہی طور پر مباح تھے۔ خود قرآن نے 'واذ یعدکم اللہ احدی الطائفتین انہا لکم' (الانفال ۷) کے الفاظ میں اس کی تصریح کی ہے کہ قریش کے تجارتی قافلے کو لوٹ لینا مسلمانوں کے لیے مباح تھا اور یہی وجہ ہے کہ ایک موقع پر مسلمانوں کے ایک سریے نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ابو العاص بن الربیع سے، جو اس وقت مشرک تھے اور شام کے ایک تجارتی سفر سے واپس آ رہے تھے، ان کا مال چھین لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کسی قسم کی نکیر نہیں فرمائی، بلکہ ابو العاص کی تالیف قلب کے لیے مسلمانوں سے سفارش کی کہ 'فان تحسنوا وتردوا علیہ الذی لہ فانا نحب ذلک وان ابیتم فہو فئ اللہ الذی افاء علیکم فانتم احق بہ' (طبرانی، معجم کبیر ۲۲/۴۳۰۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۱/۵۸۰) یعنی ''اگر تم احسان کرتے ہوئے اس کا مال واپس کردو تو یہ ہمارے لیے خوشی کا باعث ہوگا، لیکن اگر نہ کرنا چاہو تو یہ اللہ کا مال ہے جو اس نے تمھیں دیا ہے اور تم ہی اس کے حق دار ہو۔'' اسی طرح جب معاہدۂ حدیبیہ کے بعد ابوبصیر اور ان کے ساتھیوں نے قریش کے قافلوں پر حملے کرنا شروع کیے اور لوٹا ہوا مال غنیمت لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے معاہدے کی وجہ سے مال کو تو قبول نہیں کیا، لیکن ابوبصیر سے بھی یہ نہیں کہا کہ تمھارا ان قافلوں کو لوٹنا غیر اخلاقی ہے، اس لیے ایسا نہ کرو۔ خود شبلی نے ان دونوں واقعات کا ذکر کیا ہے، لیکن کوئی اخلاقی سوال نہیں اٹھایا۔ (سیرت النبی ۱/۲۰۵، ۲۷۵)

جنگ بدر میں قریش کی عبرت ناک شکست درحقیقت فتح مکہ کی تمہید تھی، چنانچہ اس موقع پر کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے اپنے اشعار میں سرداران قریش کو یوں خبردار کیا:

فلا تعجل ابا سفیان وارقب

بنصر اللہ روح القدس فیہا

جیاد الخیل تطلع من کداء

ومیکال فیا طیب الملاء

(السیرۃ النبویۃ ۲/۲۵)

''ابو سفیان! جلدی میں مت پڑو اور اس وقت کا انتظار کرو جب (محمد اور اصحاب محمد کے) عمدہ اور بہترین گھوڑے مقام کداء سے نمودار ہوں گے۔ ان کو اللہ کی مدد اور جبریل اور میکائیل کی رفاقت حاصل ہوگی۔ سو یہ کیسی پاکیزہ جماعت ہوگی۔''

احد اور احزاب کی جنگیں بھی بدر ہی سے شروع ہونے والے سلسلے کی کڑیاں تھیں۔ ان جنگوں کے ذریعے سے قریش کی طاقت اور ان کے عزم وہمت کو شکست دینے کا مقصد پورا ہو گیا اور ۵ ہجری میں غزوۂ خندق کے موقع پر مشرکین کا لشکر جرار ناکام ونامراد واپس پلٹ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرما دیا کہ اب مشرکین میں جنگ کا دم خم باقی نہیں رہا، اس لیے اب اقدام کرنے کی باری ان کی نہیں، بلکہ مسلمانوں کی ہے۔ آپ نے فرمایا:

الآن نغزوہم ولا یغزوننا نحن نسیر الیہم (بخاری، رقم ۳۸۰۱)

''اب ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے۔ اب ان کی طرف بڑھنے کی باری ہماری ہے۔''

۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عمرے کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو مشرکین نے انھیں حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ سابقہ ہدایات کی رو سے اس موقع پر مسلمانوں کو حدود حرم میں تلوار اٹھانے کا پورا پورا حق حاصل تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اہم تر مصالح کے پیش نظر مشرکین سے صلح کا معاہدہ کر لیا تو اس کو ذہنی طور پر قبول کرنا صحابہ کے لیے ایک آزمائش بن گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید میں اس صلح کی حکمت اور اس کے پوشیدہ فوائد پر باقاعدہ ایک سورت نازل کرنا پڑی جس میں انھیں یہ بتایا گیا کہ اگرچہ مشرکین ان کو مسجد حرام سے روکنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، لیکن چونکہ مکہ میں ابھی بہت سے ایسے اہل ایمان موجود ہیں جو اپنے ایمان کو مخفی رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اور مشرکین کے مابین واضح امتیاز نہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ وہ بھی لڑائی میں تہ تیغ ہو جائیں گے، اس لیے اس موقع پر قتال کو موخر کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انھیں فتح مکہ کی بشارت اس وضاحت کے ساتھ دی گئی کہ مسجد حرام کا مسلمانوں کے تصرف میں آنا چونکہ 'اظہار دین' یعنی جزیرۂ عرب میں غلبہ اسلام کا لازمی تقاضا ہے، اس لیے یہ وعدہ یقیناًپورا ہو کر رہے گا:

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاآ اللّٰہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُوْنَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذَلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا۔ ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا (الفتح: ۲۷۔۲۸)

''یقیناًاللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا کہ اللہ نے چاہا تو تم یقیناًپورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے، سر منڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے، تمہیں کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا۔ وہ ان باتوں کو جانتا ہے جن کو تم نہیں جانتا، پس اس نے اس کے بعد ایک قریبی فتح تمہارے لیے مقدر کر دی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا۔''

قریش کے ساتھ اس معاہدے کے ذریعے سے آپ ایک طرف ان لوگوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا چاہتے تھے جو اسلام کو قبول کرنے کے خواہش مند تھے لیکن قبائلی تعلقات کی وجہ سے قریش اور مسلمانوں کی کشمکش میں کھل کر قریش کی مخالفت مول نہیں لے سکتے تھے اور دوسری طرف آپ مسلمانوں کی قوت اور توجہ کو یکسو کر کے قریش کے علاوہ دیگر مشرک قبائل کی سرکوبی کے لیے مرکوز کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ نے قریش کو معاہدۂ صلح کی پیش کش کرتے ہوئے یہ بات کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان پر صاف واضح کر دی کہ یہ صلح مستقل بقاے باہمی کی غرض سے نہیں، بلکہ محض فریقین کی مصلحت کے لحاظ سے عارضی طور پر کی جا رہی ہے۔ آپ نے ان سے کہا:

انا لم نات لقتال احد، انما جئنا لنطوف بہذا البیت، فمن صدنا عنہ قاتلناہ، وقریش قوم قد اضرت بہم الحرب ونہکتہم، فان شاء وا ماددتہم مدۃ یامنون فیہا ویخلون فی ما بیننا وبین الناس، والناس اکثر منہم، فان ظہر امری علی الناس کانوا بین ان یدخلوا فی ما دخل فیہ الناس او یقاتلوا وقد جمعوا، واللہ لاجہدن علی امری ہذا حتی تنفرد سالفتی او ینفذ اللہ امرہ (الواقدی، المغازی، ۲/۵۹۳)

''ہم کسی کے ساتھ لڑنے کے لیے نہیں آئے۔ ہم تو بیت اللہ کا طواف کرنے آئے ہیں۔ ہاں جو ہمیں اس سے روکے گا، اس کے ساتھ ہم جنگ کریں گے۔ جنگ پہلے ہی قریش کو بہت نقصان پہنچا چکی ہے اور اس نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اس لیے اگر وہ چاہیں تو میں ایک مخصوص عرصے کے لیے ان کے ساتھ صلح کرنے کو تیار ہوں جس میں انھیں بھی ہماری طرف سے امن حاصل ہو اور وہ بھی ہمارے اور باقی اہل عرب کے معاملے میں دخل انداز نہ ہوں۔ اہل عرب کی تعداد قریش سے زیادہ ہے۔ سو اگر میں ان پر غالب آ گیا تو قریش کو اختیار ہوگا کہ چاہیں تو سب لوگوں کی طرح اس دین میں داخل ہو جائیں اور چاہیں تو جنگ کریں۔ اس وقت ان کی بکھری ہوئی قوت بھی مجتمع ہوگی۔ بخدا میں اس دین کے غلبے کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ یا تو (سب لوگ میرا ساتھ چھوڑ دیں اور) میں اکیلا رہ جاؤں اور یا اللہ اپنے فیصلے کو نافذ کر دے۔''

سیدنا عثمانؓ رسول اللہ کے سفیر بن کر اہل مکہ کے پاس گئے تو انھوں نے بھی انھیں یہی پیغام دیا:

قال بعثنی رسول اللہ الیکم یدعوکم الی اللہ والی الاسلام تدخلون فی الدین کافۃ فان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ واخری تکفون ویلی ہذا منہ غیرکم فان ظفروا بمحمد فذلک ما اردتم وان ظفر محمد کنتم بالخیار ان تدخلوا فی ما دخل فیہ الناس او تقاتلوا وانتم وافرون جامون، ان الحرب قد نہکتکم واذہبت بالاماثل منکم (واقدی، المغازی، ۲/۶۰۰، ۶۰۱)

''عثمان نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اللہ اور اسلام کی دعوت دے کر تمھارے پاس بھیجا ہے۔ (بہتر یہی ہے کہ) تم سب کے سب اللہ کے دین میں داخل ہو جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ بہرحال اپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کرے گا۔ تمھیں اختیار ہوگا چاہو تو تمام لوگوں کی طرح تم بھی اس دین کو قبول کر لینااور چاہو تو جنگ کر لینا۔ اس وقت تم تعداد کے لحاظ سے بھی کہیں زیادہ ہو چکے ہوگے۔ دیکھو، اس جنگ نے تمھاری کمر بالکل توڑ دی ہے اور تمھارے بہترین لوگ اس کا لقمہ بن چکے ہیں۔''

حدیبیہ کا یہ معاہدۂ صلح ۸ ہجری تک برقرار رہا اور قریش کی طرف سے اس کی کوئی خلاف ورزی اس دوران میں سامنے نہیں آئی۔ ۸ ہجری میں قریش نے معاہدۂ حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنو خزاعہ کے خلاف لڑائی میں بنو بکر کو مدد فراہم کی۔ سرداران قریش اس پر نادم ہوئے اور انھوں نے ابو سفیان کو مدینہ بھیجا تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ معاہدۂ صلح کی تجدید کر کے آئیں۔ ابو سفیان یہ پیشکش لے کر مدینہ گئے لیکن رسول اللہ نے اس کو قبول نہیں کیا۔ بہتیرے جتن کرنے کے بعد آخر کار انھوں نے لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ:

الا انی قد اجرت بین الناس ولا اظن محمدا یخفرنی

''لوگو سن لو! میں نے سب لوگوں کے سامنے (قریش اور ان کے حلیفوں کو) امان دی اور مجھے یقین ہے کہ محمد میری دی ہوئی ا س امان کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔''

(باقی)