عہد نبوی میں جہاد وقتال کی نوعیت (۲)


[''نقطۂ نظر''کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ میری دی ہوئی امان کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ آپ نے فرمایا: انت تقول ذلک یا ابا سفیان (واقدی، المغازی، ۲/۷۹۴) ''ابو سفیان، یہ بات تم کہہ رہے ہو (مجھ پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں)''۔ اس کے بعد ابو سفیان ناکام مکہ واپس لوٹ آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد صحابہ کو خفیہ طور پر تیاری کا حکم دیا اور اسی رازداری کی کیفیت میں حملہ آور ہو کر مکہ کو فتح کر لیا اور بیت اللہ کو تمام اصنام واوثان اور مشرکانہ رسوم کے تمام آثار سے پاک کر کے اس کو دین ابراہیمی کی اصل اساس یعنی توحید کے عالمی مرکز کی حیثیت سے بحال کر دیا۔

۹ ہجری میں حج کے موقع پر قرآن نے یہ اعلان کیا کہ مشرکین اپنی اعتقادی نجاست کی وجہ سے بیت اللہ میں عبادت تو کجا، اس کے قریب آنے کے حقدار بھی نہیں ہیں، اس لیے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب بھی پھٹکنے نہ پائیں:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِنَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ فَلاَ یَقْرَبُواْ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہَذَا (التوبہ ۲۸)

''اے ایمان والو! مشرکین محض ناپاک ہیں، اس لیے اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آنے پائیں۔''

چنانچہ اس سال حج کے موقع پر اس حکم کی باقاعدہ منادی کر کے حرم میں مشرکین کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ (بخاری) ۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دین ابراہیمی کی روایات کے مطابق مناسک حج کی تعلیم لوگوں کو دی۔ (مسلم، رقم: ۲۹۵۰) اس طرح کفر وشرک سے بیت اللہ کی تطہیر اور اس کو توحید کا عالمی مرکز بنانے کا مشن مکمل ہو گیا، چنانچہ آپ نے اس موقع پر یہ اعلان فرمایا کہ:

ان الشیطان قد ایس من ان یعبد فی بلادکم ہذہ ابدا ۔ (ترمذی، رقم ۳۰۸۵)

''شیطان کو اب اس بات کی کوئی امید نہیں رہی کہ جزیرۃ العرب میں دوبارہ کبھی اس کی پوجا کی جائے گی۔''

بیت اللہ میں دین توحید کی بحالی کے بعد اگلا مرحلہ شرک اور مظاہر شرک سے سرزمین عرب کی تطہیر کا تھا۔ یہ دراصل اسی ذمہ داری کا تسلسل تھا جو ذریت ابراہیم پر اپنی میراث کے علاقے کو شرک سے پاک رکھنے کے لیے ابتدا ہی سے عائد کی گئی تھی۔ چنانچہ بنی اسرائیل جب مصریوں کی غلامی سے رہا ہو کر سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں ایک گروہ کی حیثیت سے منظم ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں حکم دیا کہ وہ سرزمین کنعان پر قبضہ کرنے کے لیے، جس کی ملکیت اور وراثت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کی ذریت کے حق میں کیا تھا، اس شہر کے باشندوں کے خلاف قتال کریں اور شہر پر قبضہ کر لیں۔ (المائدہ ۲۰، ۲۱) تورات میں ہے کہ اس وقت سرزمین کنعان میں بہت سی مشرک قومیں آباد تھیں اور بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ ان سب قوموں کو نیست ونابود کر کے ان کی عبادت گاہوں اور بتوں کو ڈھا دیں اور اس سرزمین سے کفر وشرک کا خاتمہ کر دیں۔ کتاب گنتی میں ہے:

''جب تم اردن سے پار ہو کر ملک کنعان میں جاؤ تو اس ملک کے سب باشندوں کو اپنے سامنے سے نکال دو۔ ان کی سب تراشی ہوئی مورتوں کو اور ان کے گھڑے ہوئے بتوں کو فنا کرو اور ان کی اونچی جگہوں کو ڈھا دو اور ملک کے مالک بنو اور اس میں بسو، کیونکہ میں نے تمھیں اس کو بطور میراث کے دیا ہے۔'' (۳۳: ۵۰۔۵۳)

استثنا میں ہے:

''جب خداوند تیرا خدا تجھ کو اس ملک میں جس پر قبضہ کرنے کے لیے تو جا رہا ہے پہنچا دے اور تیرے آگے سے ان بہت سی قوموں کو یعنی حتیوں اور جرجاسیوں اور اموریوں اور کنعانیوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کو جو ساتوں قومیں تجھ سے بڑی اور زور آور ہیں نکال دے اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مار لے تو تو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ ان پر رحم کرنا۔ تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے ان کی بیٹیاں لینا کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ یوں خداوند کا غضب تم پر بڑھکے گا اور وہ تجھ کو جلد ہلاک کر دیے گا۔ بلکہ تم ان سے یہ سلوک کرنا کہ ان کے مذبحوں کو ڈھا دینا۔ ان کے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دینا اور ان کی یسیرتوں کو کاٹ ڈالنا اور ان کی تراشی ہوئی مورتیں آگ میں جلا دینا۔'' (استثنا ۷: ۱۔۵)

تورات کے مطابق بنی اسرائیل کو اس کا پابند کیا گیا تھا کہ وہ اپنی میراث کے علاقے سے باہر بسنے والی اقوام کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر سکتے ہیں، لیکن میراث کے حدود کے اندر وہ کسی مشرک قوم کا وجود گوارا نہ کریں:

''جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دے اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کر تیری خدمت کریں۔ ..... ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں۔ پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے، کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا بلکہ تو ان کو یعنی حتی اور اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا کہ خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے، بالکل نیست کر دینا تاکہ وہ تم کو اپنے سے مکروہ کام کرنے نہ سکھائیں جو انھوں نے اپنے دیوتاؤں کے لیے کیے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو۔'' (استثنا ۲۰:۱۰-۱۸)

بنی اسرائیل ہی کے ایک عظیم پیغمبر اور فرمانروا سیدنا سلیمان علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے بے نظیر حکومت وسلطنت، مادی واقتصادی قوت اور شاہانہ شان وشوکت سے نوازا تھا۔ قرآن مجید کی تصریح کے مطابق سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنی اس قوت اور برتری کو اپنے قرب وجوار میں مشرکانہ مذاہب کی پیروی کرنے والی قوموں کی تادیب وتنبیہ اور ان کو سرنگوں کرنے کے لیے بھی استعمال کیا۔ چنانچہ جب انھیں معلوم ہوا کہ قوم سبا سورج پرستی میں مبتلا ہے تو انھوں نے اس کی ملکہ کو خط لکھا:

بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیْمِ أَلَّا تَعْلُوا عَلَیَّ وَأْتُونِیْ مُسْلِمِیْنَ ۔(النمل ۳۱)

''اللہ کے نام کے ساتھ جس کی رحمت بے پایاں اور جس کی شفقت ابدی ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس حاضر ہو جاؤ۔''

ملکہ سبا کی طرف سے پس وپیش کیے جانے پر انھوں نے انھیں دھمکی دی کہ:

فَلَنَأْتِیَنَّہُمْ بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا وَلَنُخْرِجَنَّہُم مِّنْہَا أَذِلَّۃً وَہُمْ صَاغِرُونَ (النمل ۳۷)

''پس ہم ایسے لشکروں کے ساتھ ان پر حملہ کریں گے جن کا مقابلہ کرنے کی تاب ان میں نہیں ہوگی اور ہم ان کو ذلیل اور حقیر بنا کر ان کے ملک سے نکال دیں گے۔''

اسی قانون کے تحت خود بنی اسرائیل کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ سزا مقرر کر دی تھی کہ اگر ان میں سے کوئی فرد یا گروہ 'شرک' یا اس کے مظاہر میں مبتلا ہو تو اسے قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے کوہ طور پر جانے کے بعد جب بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پوجا شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ جو لوگ اس نجاست سے آلودہ نہیں ہوئے، وہ بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو قتل کریں:

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ إِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوبُواْ إِلَی بَارِءِکُمْ فَاقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ ذَلِکُمْ خَیْْرٌ لَّکُمْ عِندَ بَارِءِکُمْ (البقرہ ۵۴)

''اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم، تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اس لیے اپنے پیدا کرنے والے کی طرف توبہ کرو اور اپنے (بھائی بندوں) کو قتل کرو۔ یہ تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے۔''

اسی قانون کے تحت موسوی شریعت میں مشرکانہ اعمال ورسوم میں ملوث ہونے والوں کے لیے موت کی سزامقرر کی گئی تھی۔ تورات میں ہے:

''پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا تو بنی اسرائیل سے یہ بھی کہہ دے کہ بنی اسرائیل میں سے یا ان پردیسیوں میں سے جو اسرائیلیوں کے درمیان بود وباش کرتے ہیں، جو کوئی شخص اپنی اولاد میں سے کسی کو مولک کی نذر کرے، وہ ضرور جان سے مارا جائے۔ اہل ملک اسے سنگسار کریں۔'' (احبار ۲۰: ۱، ۲)

بنی اسرائیل میں سلسلہ نبوت کے اختتام کے بعد بنی اسماعیل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت چونکہ ذریت ابراہیم ہی میں چلی آنے والی روایت کا تسلسل تھی، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد جزیرۂ عرب میں 'شرک' کے بطور ایک مذہب اور مشرکین کے بطور ایک مذہبی گروہ کے باقی رہنے کی کوئی گنجایش نہیں ہو سکتی تھی اور مشرکین اگر اپنے کفر وشرک پر قائم رہتے تو ان پر موت کی سزاکا نافذ کیا جانا خدا کے قانون کے مطابق بعثت محمدی کا ایک لازمی تقاضا تھا۔ اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بنیادی اقدام تو یہ کیا کہ مختلف مواقع پر باقاعدہ مہمات بھیج کر جزیرۂ عرب میں مختلف مقامات پر قائم مشرکین کے عبادت خانوں کو مسمار کروا دیا۔ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:-

قریش اور بنو کنانہ نے نخلہ کے مقام پر عزیٰ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی اور اس کی تولیت ودربانی کی ذمہ داری بنو ہاشم کے حلیف قبیلہ سلیم کے خاندان بنو شیبان کے پاس تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

بنو ثقیف نے طائف میں لات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی اور اس کے متولی اور خادم بنو معتب تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابو سفیان صخر بن حرب کوبھیجا جنھوں نے اس کو گرا کر یہاں ایک مسجد بنا دی۔

اوس اور خزرج اور یثرب کے دیگر قبائل نے قدید کے علاقے میں منات کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں ابو سفیان صخر بن حرب، یا ایک قول کے مطابق علی بن ابی طالب کو بھیج کر اس کو گرا دیا۔ (واقدی کی روایت کے مطابق اس کو سعد بن زید الاشہلی نے گرایا تھا)

قبیلہ دوس، خثعم، بجیلہ اور تبالہ کے علاقے میں دیگر اہل عرب نے ذو الخلصۃ کی عبادت گاہ قائم کر رکھی تھی جس کو وہ کعبہ یمانیہ کے نام سے پکارتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں جریر بن عبد اللہ البجلی کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا۔

سلمیٰ اور آجا کے مابین جبل طے کے قریب قبیلہ طے اور ان کے قریبی قبائل نے قلس کی عبادت گاہ بنا رکھی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ابن ابی طالب کو بھیج کر اس کو گرا دیا۔

رہاط کے مقام پر قبیلہ ہذیل کی سواع کے نام پر قائم کردہ عبادت گاہ کو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے منہدم کیا۔ (ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۳/۷۱۱۔ تفسیر القرآن العظیم، ۴/۲۵۳، ۲۵۴)

اس کے ساتھ ساتھ معاہدہ حدیبیہ کے موقع پر قرآن مجید میں سورۃ الفتح نازل ہوئی تو اس میں مشرکین کے خلاف آئندہ جنگ کا ہدف صاف لفظوں میں یہ بیان کیا گیا کہ:

سَتُدْعَوْنَ إِلَی قَوْمٍ أُوْلِیْ بَأْسٍ شَدِیْدٍ تُقَاتِلُونَہُمْ أَوْ یُسْلِمُونَ (الفتح ۱۶)

''جلد ہی تمہیں ایک ایسی قوم کے مقابلے کے لیے بلایا جائے گا جو نہایت جنگجو اور زورآور ہوگی۔ تمہیں ان کے ساتھ لڑنا ہوگا یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں۔''

اس کے کچھ ہی عرصے کے بعد سورۂ براء ۃ کی وہ ابتدائی آیات نازل کر دی گئیں جن میں بدنیت اور بدعہد مشرک قبائل کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو کالعدم قرار دیا گیا اور انھیں چار ماہ کی مہلت دے کر یہ کہا گیا کہ وہ یا تو اسلام قبول کر لیں اور یا اہل ایمان کے ہاتھوں جہنم رسید ہونے کے لیے تیار ہو جائیں:

بَرَاء ۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلَی الَّذِیْنَ عَاہَدتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ فَسِیْحُوا فِی الأَرْضِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَّاعْلَمُوا أَنَّکُمْ غَیْْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَأَنَّ اللّٰہَ مُخْزِی الْکَافِرِیْنَ..... فَإِذَا انْسَلَخَ الأَشْہُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَیْْثُ وَجَدْتُّمُوْہُمْ وَخُذُوْہُمْ وَاحْصُرُوْہُمْ وَاقْعُدُوْا لَہُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ فَإِنْ تَابُو'ا وَأَقَامُوا الصَّلاَۃَ وَآتَوُا الزَّکَاۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَہُمْ إِنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ۔(توبہ ۱-۵)

''اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں سے براء ت کا اعلان ہے جن سے تم نے معاہدے کر رکھے ہیں۔ سو (اے مشرکو) چار ماہ تک زمین میں چل پھر لو اورجان لو کہ اللہ کے آگے تمہارا کوئی زور نہیں چل سکتا اور یہ کہ اللہ کافروں کو رسوا کر کے رہے گا۔ .... پھر جب حرام مہینے گزر جائیں (اور چار ماہ کی مدت پوری ہو جائے) تومشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور انھیں پکڑو اور انھیں گھیرو اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو۔ پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی پابندی قبول کر لیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بے شک اللہ معاف کرنے والا، مہربان ہے۔''

البتہ اسی سلسلہ بیان میں آیت ۷ میں یہ ہدایت کی گئی کہ حدیبیہ کے مقام پر مشرکین کے ساتھ جو معاہدہ کیا گیا ہے، اس کی پاس داری کی جائے، تا آنکہ مشرکین خود ہی اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں۔

قرآن نے اسی موقع پر یہ حکم بھی دے دیا کہ بیت اللہ کے مسلمانوں کے تصرف میں آنے کے بعد جب حج اکبر کاموقع آئے تو اس موقع پر پورے جزیرۂ عرب کے مشرکین سے بھی براء ت کا اعلان کر دیا جائے:

وَأَذَانٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُولِہِ إِلَی النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الأَکْبَرِ أَنَّ اللّٰہَ بَرِیْءٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ وَرَسُولُہُ فَإِن تُبْتُمْ فَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّکُمْ غَیْْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ۔(توبہ ۳)

''اور اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے حج اکبر کے دن بھی اعلان کر دیاجائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہیں۔ پھر (اے مشرکو) اگر تم توبہ کر لو تو یہی تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ کے آگے زور نہیں چلا سکتے اور کافروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔''

نبی صلی اللہ علیہ سلم نے اسی حکم کی وضاحت میں ارشاد فرمایا کہ:

امرت ان اقاتل الناس حتی یشہدوا ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ ویقیموا الصلاۃ ویوتوا الزکاۃ فاذا فعلوا ذلک عصموا منی دماء ہم واموالہم الا بحق الاسلام وحسابہم علی اللہ۔(بخاری، رقم ۲۴)

''مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اس وقت تک لوگوں سے قتال کروں جب تک کہ وہ 'لا الٰہ الا اللہ' کا اقرار نہ کر لیں۔ پس جو لاالہ الا اللہ کا اقرار کر لے گا، اسے میری طرف سے جان اور مال کی امان حاصل ہو جائے گی اور اس کے اعمال کا حساب االلہ کے سپرد ہوگا۔''

مشرکین عرب کے بہت سے گروہوں نے آپ کے اس اعلان ہی کے نتیجے میں دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا جس کے متعدد شواہد حدیث وسیرت کے ذخیرے میں موجود ہیں:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

عجب اللہ من اقوام یجاء بہم فی السلاسل حتی یدخلوا الجنۃ۔(مسند احمد، رقم ۹۵۰۹)

''اللہ کو ان لوگوں پر تعجب ہے جن کو بیڑیوں میں جکڑ کر لایا جائے تاکہ جنت میں داخل ہو جائیں۔''

بنو بکر بن وائل کے نام خط میں آپ نے انھیں لکھا:

اما بعد فاسلموا تسلموا ۔(الطبقات الکبریٰ ۱/۲۸۱)

''اما بعد! اسلام لے آو، بچ جاؤ گے۔''

قبیلہ عبد القیس کا وفد اسلام قبول کرنے کے لیے آیا تو آپ نے ان کے حق میں یوں دعا فرمائی:

اللہم اغفر لعبد القیس اذ اسلموا طائعین غیر کارہین غیر خزایا ولا موتورین اذ بعض قومنا لا یسلمون حتی یخزوا ویوتروا ۔(مسند احمد، رقم ۱۷۱۶۱)

''اے اللہ، قبیلہ عبدالقیس کی مغفرت فرما دے کیونکہ یہ کسی زبردستی کے بغیر خود اپنی مرضی سے اسلام لے آئے ہیں۔ یہ نہ رسوا ہوئے ہیں اور نہ ان کو کوئی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جبکہ ہماری قوم کے کچھ لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ انھیں رسوائی اور جانی ومالی نقصان سے سابقہ نہ پیش آ جائے۔''

اس موقع پر آپ نے انصار سے کہا:

یا معشر الانصار اکرموا اخوانکم فانہم اشباہکم فی الاسلام واشبہ شئ بکم شعارا وابشارا اسلموا طائعین غیر مکرہین ولا موتورین اذ ابی قوم ان یسلموا حتی قتلوا۔ (مسند احمد، رقم ۱۷۱۶۲)

''اے گروہ انصار، اپنے بھائیوں کا خوب اکرام کرو، کیونکہ یہ (آگے بڑھ کر رضامندی سے) اسلام لانے میں بھی تم سے مشابہ ہیں اور ان کی ظاہری وباطنی حالت بھی تم سے بہت ملتی جلتی ہے۔ انھوں نے جبر واکراہ کے بغیر اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا ہے، جبکہ کچھ لوگوں نے اس سے انکار کیا یہاں تک کہ انھیں قتل کر دیا گیا۔''

بنو خثعم کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خط تحریر فرمایا، ابن سعد نے اس کے الفاظ یہ نقل کیے ہیں:

ومن اسلم منکم طوعا او کرہا فی یدہ حرث .... (الطبقات الکبریٰ ۱/۲۸۶)

''تم میں سے جنھوں نے اسلام قبول کیا، چاہے طوعاً کیا ہو یا کرہاً، اور ان کے پاس کھیتی ہے .....''

۸ ہجری میں بنو تمیم کا وفد بارگاہ نبوی میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ثابت بن قیس انصاری نے اس موقع پر ان کے سامنے ایک تقریر کی، جس میں انھوں نے کہا:

فنحن انصار اللہ ووزراء رسولہ نقاتل الناس حتی یومنوا باللہ فمن آمن باللہ ورسولہ منع منا مالہ ودمہ ومن کفر جاہدناہ فی اللہ ابدا وکان قتلہ علینا یسیرا ۔(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ،۲/۴۷۵)

''ہم اللہ اور اس کے رسول کے مددگار ہیں۔ ہم اس وقت تک لوگوں سے لڑیں گے جب تک کہ وہ اللہ پر ایمان نہ لے آئیں۔ پس جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے گا، اسے ہماری طرف سے جان ومال کی امان حاصل ہوگی۔ اور جو انکار کرے گا، ہم اس کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کریں گے اور اس کو قتل کرنے میں ہمیں کوئی تردد نہیں ہوگا۔''

رفاعہ بن زید جذامی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا تو آپ نے انھیں ان کی قوم کے نام حسب ذیل خط دے کر روانہ کیا:

انی بعثتہ الی قومہ عامۃ ومن دخل فیہم، یدعوہم الی اللہ والی رسولہ، فمن اقبل منہم ففی حزب اللہ وحزب رسولہ ومن ادبر فلہ امان شہرین۔ (السیرۃ النبویۃ ۲/۵۰۲)

''میں نے رفاعہ کو اس کی ساری قوم اور اس میں (باہر سے آکر) شامل ہونے والوں کی طرف بھیجا ہے تاکہ وہ انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دے۔ تو ان میں سے جو (اس دعوت کو قبول کرنے کے لیے) آگے بڑھیں گے، انھیں اللہ اوراس کے رسول کی جماعت میں شمار کیا جائے گا اور جو لوگ منہ پھیر لیں تو انھیں دو مہینے کی مہلت ہے۔''

رفاعہ یہ خط لے کر اپنی قوم کے پاس گئے تو انھوں نے ان کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔صرد بن عبد اللہ ازدی نے اپنی قوم بنو ازد کے ایک وفد کے ہمراہ بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تو آپ نے انھیں ان کی قوم کے مسلمانوں کا امیر مقرر کر کے حکم دیا کہ وہ اپنے علاقے کے مشرکین کے ساتھ جہاد کریں:

فامرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی من اسلم من قومہ وامرہ ان یجاہد بمن اسلم من کان یلیہ من اہل الشرک من قبل الیمن (السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۹۵)

صرد بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق یمن کے علاقہ جرش میں مشرک قبائل کامحاصرہ کیا اور انھیں اسلام کی دعوت دی۔ پھر ان میں سے جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیا، انھیں اپنے ساتھ شامل کر لیا جبکہ انکار کرنے والوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک جنگی تدبیر سے مشرکین کو قلعے سے نکل کر اپنے تعاقب پر آمادہ کیا اور پلٹ کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس جنگ میں بہت سے مشرک مارے گئے، چنانچہ اہل جرش کا ایک وفد اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ (السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۹۵۔ الطبقات الکبریٰ ۵/۵۲۶)

۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن الولید کی قیادت میں چار سو آدمیوں پر مشتمل ایک سریہ نجران کے قبیلہ بنو الحارث بن کعب کی طرف بھیجا اور کہا کہ وہ جا کر ان کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں اور اگر وہ تین دن تک اس دعوت کو قبول نہ کریں تو ان کے ساتھ قتال کریں۔ خالد نے وہاں پہنچ کر اپنے سواروں کو مختلف اطراف میں بھیجا جنھوں نے اس بات کی منادی کی کہ 'یا بنی الحارث اسلموا تسلموا'۔ (اے بنو الحارث، اسلام لے آؤ، بچ جاؤ گے) اس کے نتیجے میں بنو الحارث نے قتال کی نوبت آنے سے پہلے ہی اسلام قبول کر لیا۔ (طبری، ۳/۱۲۶، ۱۲۷۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ ۲/۵۰۰)

اس ضمن میں بنو ثقیف کے قبول اسلام کی روداد بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ ذخیرۂ سیرت کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۸ ہجری میں طائف کا محاصرہ کرنے کے بعد حالات کی مناسبت سے فی الوقت بنو ثقیف سے جنگ کا فیصلہ موخر کر دیا، تاہم اس محاصرے کے دوران میں بنو ثقیف پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ رسول اللہ کی مخالفت مول لے کر جزیرۂ عرب میں پر امن طریقے سے رہنا ان کے لیے ناممکن ہے، چنانچہ اشاعت اسلام سے خوفزدہ ہو کر اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے انھوں نے طوعاً وکرہاً اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ ابن ہشام نے ثقیف کے سردار عمرو بن عبد یالیل کی گفتگو یوں نقل کی ہے:

انہ قد نزل بنا امر لیست معہ ہجرۃ انہ قد کان من امر ہذا الرجل ما قد رایت، قد اسلمت العرب کلہا ولیس لکم بحربہم طاقۃ فانظروا فی امرکم ۔(السیرۃ النبویۃ ۲/۴۵۶)

''ہمیں ایک ایسی صورت حال میں گرفتار ہو گئے ہیں جس سے کوئی مفر نہیں۔ اس شخص (محمد) کا معاملہ تم دیکھ رہے ہو کہ سارا عرب اسلام قبول کر چکا ہے اور اور تمھارے پاس ان سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے، اس لیے اپنے معاملے میں غور کرو۔''

انا نخاف ہذا الرجل قد اوطا الارض غلبۃ ونحن فی حصن فی ناحیۃ من الارض والاسلام حولنا فاش واللہ لو قام علی حصننا شہرا لمتنا جوعا وما اری الا الاسلام وانا اخاف یوما مثل یوم مکۃ۔ (الواقدی، ۳/۹۶۷)

''ہم اس شخص سے خوف زدہ ہیں۔ اس نے پوری سرزمین عرب کو روند کر مغلوب کر لیا ہے۔ ہم اس سرزمین کے ایک کونے میں ایک قلعے میں بند ہیں اور ہمارے ارد گرد اسلام پھیل چکا ہے۔ بخدا، اگر وہ ایک مہینے تک ہمارے قلعے کا محاصرہ جاری رکھتے تو ہم بھوکوں مر جاتے۔ مجھے اسلام قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ ورنہ مجھے خدشہ ہے کہ ہمارا حال بھی ایک دن وہی ہوگا جو مکے والوں کا ہوا۔''

چنانچہ اہل طائف کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انھوں نے اپنے بتوں کی حفاظت اور شراب، زنا اور سود کے کاروبار کو جاری رکھنے کے حوالے سے بعض شرطیں منوانا چاہیں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یکسر مسترد کر دیا۔ یہ وفد واپس طائف پہنچا تو اس کے تاثرات یہ تھے:

فقالوا جئناکم من عند رجل فظ غلیظ یاخذ من امرہ ما شاء قد ظہر بالسیف واداخ العرب ودان لہ الناس ورعبت منہ بنو الاصفر فی حصونہم والناس فیہ اما راغب فی دینہ واما خائف من السیف۔ (الواقدی، ۳/۹۶۹)

''انھوں نے کہا: ہم ایک نہایت درشت اور تند خو آدمی کے پاس سے آ رہے ہیں جو صرف اپنی من مانی کرتا ہے۔ وہ تلوار لے کر اٹھا ہے اور پورے عرب کو اس نے زیر کر لیا ہے۔ لوگ بھی اس کے مطیع بن چکے ہیں اور رومیوں پر اپنے قلعوں میں اس کا رعب طاری ہے۔ اب دو ہی طرح کے لوگ رہ گئے ہیں: کچھ تو اپنی مرضی سے اس کے دین کی طرف راغب ہیں اور کچھ محض تلوار کے ڈر سے اطاعت قبول کر رہے ہیں۔''

فتح مکہ کے بعد اس عمومی تاثر کا اظہار ارباب سیرت نے جگہ جگہ کیا ہے۔ واقدی لکھتے ہیں:

والاسلام یومئذ لم یعم العرب قد بقیت بقایا من العرب وہم یخافون السیف لما فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمکۃ وحنین۔ (الواقدی، ۳/۹۷۴)

''اسلام ابھی سارے اہل عرب میں نہیں پھیلا تھا بلکہ کچھ لوگ ابھی باقی تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ اور حنین میں مشرکین کے ساتھ جو کیا، اس کے پیش نظر وہ بھی اسلام کی تلوار سے خوف زدہ تھے۔''

مشرکین کے بارے میں آپ کی یہ پالیسی اس قدر واضح تھی کہ جزیرۂ عرب کے مختلف اطراف میں آباد بہت سے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی طرف سے کسی خصوصی حکم کے بغیر ازخود مشرکین کو قتل کر نا شروع کر دیا۔ مثلاً تبوک سے واپسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حمیر کے سرداروں حارث بن عبد کلال، نعیم بن عبد کلال اور نعمان کا خط ملا جس میں انھوں نے آپ کو اپنے اسلام قبول کرنے اور اپنے علاقے میں موجود مشرکوں کو قتل کرنے کی خبر دی۔ آپ نے جواب میں انھیں لکھا:

قد وقع بنا رسولکم ..... وانبانا باسلامکم وقتلکم المشرکین وان اللہ قد ہداکم بہداہ۔(السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۹۷)

''تمھارا قاصد ہمارے پاس پہنچا ہے اور اس نے ہمیں تمھارے اسلام قبول کرنے اور مشرکین کو قتل کرنے کی خبر دی ہے اور یہ کہ اللہ نے تمھیں اپنی ہدایت سے نوازا ہے۔''

البتہ آپ نے اس خط میں انھیں تاکید کی کہ کسی یہودی یا نصرانی کو اس کے دین سے نہ ہٹایا جائے، بلکہ اس پر جزیہ عائد کر دیا جائے۔ اسی طرح آپ نے حمیر ہی کے ایک سردار زرعہ ذی یزن کے نام خط میں لکھا:

ان مالک بن مرۃ الرہاوی قد حدثنی انک اسلمت من اول حمیر وقتلت المشرکین فابشر بخیر۔ (السیرۃ النبویۃ ۲/۴۹۸)

''مالک بن مرہ رہاوی نے مجھے بتایا ہے کہ تم نے حمیر میں سب سے پہلے اسلام قبول کر لیا ہے اور مشرکین کو قتل کیا ہے، سو بھلائی کی خوشخبری قبول کرو۔''

اسی تناظر میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر کے بادشاہ منذر بن ساویٰ کو خط لکھ کر ہدایت کی کہ مجوس میں سے جو اپنے دین پر قائم رہنا چاہے، اس سے جزیہ وصول کیا جائے تو منافقین نے اس بات کو پراپیگنڈا کا موضوع بنا لیا اور کہا کہ:

زعم محمد انہ انما بعث لقتال الناس کافۃ حتی یسلموا ولا یقبل الجزیۃ الا من اہل الکتاب ولا نراہ الا قد قبل من مشرکی اہل ہجر ما رد علی مشرکی العرب (المدونۃ الکبریٰ ۳/۴۷)

''محمد نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس لیے بھیجا گیا ہے کہ وہ سب لوگوں کے ساتھ لڑیں یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئیں اور یہ کہ وہ اہل کتاب کے علاوہ کسی سے جزیہ قبول نہیں کریں گے، لیکن اب ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے عرب کے مشرکوں سے جو بات (یعنی جزیہ دے کر اپنے مذہب پر قائم رہنا) قبول نہیں کی، اہل ہجر کے مشرکوں سے وہی بات قبول کرلی ہے۔''

مزید برآں اہل عرب کے جبراً اسلام قبول کرنے کی ایک بڑی واضح دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوتے ہی عرب کے بیشتر قبائل مرتد ہو گئے اور صحابہ کو دوبارہ جہاد بالسیف کر کے انھیں مطیع بنانا پڑا۔ یہ صورت حال صرف دور دراز کے علاقوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ خود مرکز اسلام یعنی مکہ مکرمہ میں بھی بڑے پیمانے پر لوگ ارتداد پر آمادہ ہو چکے تھے۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۵۵۸) عبد اللہ بن عمر نے ایک موقع پر اس صورت حال کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لما مات النبی صلی اللہ علیہ وسلم تشایع الناس وتحزبوا فقامت تلک الناصیۃ فقاتلوا الناس حتی ردوا الناس الی کلمۃ الاسلام وحتی قالوا لا الہ الا اللہ وان نبیکم حق (مسند الشامیین، رقم ۱۶۶۱)

''جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ (اسلام کو چھوڑ کر) مختلف گروہوں اور دھڑوں میں بٹ گئے ، چنانچہ آپ کے ساتھیوں کا گروہ اٹھا اور اس نے لوگوں کے ساتھ قتال کیا یہاں تک کہ انھیں کلمہ اسلام کی طرف واپس لوٹا دیا اور منکرین کو یہ اقرار کرنا پڑا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ تمھارا نبی برحق ہے۔''

اگر یہ مان لیا جائے کہ یہ تمام قبائل اپنی رضامندی اور اختیار سے دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے تھے تو اتنے وسیع پیمانے پر ان کے دین سے مرتد ہو جانے یا مرکز اسلام کی اطاعت قبول کرنے سے انکار کا رویہ کسی طرح بھی قابل فہم نہیں رہتا۔

صحابہ کرام نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنگی اقدامات کی تعبیر اسی پہلو سے کی ہے۔

حسان بن ثابت نے اپنے بعض اشعار میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا ہے:

اما قریش فانی لن اسالمہم حتی ینیبوا من الغیات للرشد ویترکوا اللات والعزی بمعزلۃ ویسجدوا کلہم للواحد الصمد ویشہدوا ان ما قال الرسول لہم حق ویوفوا بعہد اللہ والوکد (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۲۶۰، ۲۶۱)

''میں قریش کے ساتھ ہرگز صلح نہیں کروں گا، یہاں تک کہ وہ گمراہی چھوڑ کر سیدھی راہ پر آ جائیں، لات وعزیٰ کی عبادت سے کنارہ کش ہو کر سب کے سب ایک خدا کے سامنے سجدہ کرنے لگیں، اس بات کا اقرار کر لیں کہ رسول نے ان سے جو کہا ہے، وہ حق ہے اور اللہ کے مضبوط عہد کی پاس داری کریں۔''

عباس بن مرداس السلمی نے اپنے قصیدے میں کہا ہے:

فان یہدوا الی الاسلام یلفوا وان لم یسلموا فہم اذان انوف الناس ما سمر السمیر بحرب اللہ لیس لہم نصیر (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۳۸۳)

''اگر وہ اسلام قبول کر لیں گے تو رہتی دنیا تک لوگوں کے مابین سربلند رہیں گے، لیکن اگر اسلام نہیں لائیں گے تو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ اعلان جنگ ہے جس میں ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔''

کعب بن مالک نے بنو ثقیف کو مخاطب کر کے کہا:

فان تلقوا الینا السلم نقبل وان تابوا نجاہدکم ونصبر نجاہد ما بقینا او تنیبوا ....... بکل مہند لین صقیل لامر اللہ والاسلام حتی وتنسی اللات والعزی وود ونجعلکم لنا عضدا وریفا ولا یک امرنا رعشا ضعیفا الی الاسلام اذعانا مضیفا یسوقہم بہاسوقا عنیفا یقوم الدین معتدلا حنیفا ونسلبہا القلائد والشنوفا (السیرۃ النبویۃ، ۲/۴۰۷، ۴۰۸)

''اگر تم ہمیں صلح کا پیغام دو گے تو ہم قبول کر لیں گے اور تمھیں اپنا معاون بنا کر تمھارے سرسبز وشاداب علاقے سے لطف اندوز ہوں گے، لیکن اگر انکار کرو گے تو ہم پوری ثابت قدمی سے جہاد کریں گے اور ہماری استقامت میں کوئی اضطراب یا کمزوری نہیں ہوگی۔ جب تک ہم زندہ رہیں گے، برسر جنگ رہیں گے تا آنکہ تم اسلام کی طرف رجوع کر لو اور پوری طرح اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو۔ .... ہماری تیز دھار، پتلی اور صیقل شدہ تلواریں لوگوں کو پوری قوت سے اللہ کے دین، اسلام کی طرف دھکیلتی رہیں گی یہاں تک کہ یہ دین توحید مضبوط اور مستحکم ہو جائے اور لات وعزیٰ اور ود کا نام ونشان مٹ جائے اور ہم ان (بتوں کو چڑھائے جانے والے) ہار اور کانٹے ان سے چھین لیں۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد سقیفہ بن ساعدہ میں انصار کے اجتماع میں سعد بن عبادہ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا:

رزقکم اللہ الایمان بہ وبرسولہ والمنع لہ ولاصحابہ والاعزاز لہ ولدینہ والجہاد لاعداۂ فکنتم اشد الناس علی عدوہ منکم واثقلہ علی عدوہ من غیرکم حتی استقامت العرب لامر اللہ طوعا وکرہا واعطی البعید المقادۃ صاغرا داخرا حتی اثخن اللہ عز وجل لرسولہ بکم الارض ودانت باسیافکم لہ العرب ۔(طبری، ۳/۲۱۸)

''اللہ نے تمھیں یہ توفیق دی کہ تم اس پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور تمھیں ان کی اور ان کے ساتھیوں کی حفاظت، پیغمبر کے لائے ہوئے دین کو غالب اور اس کے دشمنوں کے ساتھ جہاد کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ چنانچہ رسول اللہ کے اندرونی اور بیرونی دشمنوں کے خلاف سب سے زیادہ مضبوطی اور صلابت تم نے ہی دکھائی، یہاں تک کہ اہل عرب طوعاً وکرہاً اللہ کے دین کے تابع ہو گئے اور دور دراز کے قبائل نے بھی ذلت اور پستی کے ساتھ اطاعت قبول کر لی۔ اس طرح اللہ نے تمھارے ذریعے سے اس سرزمین کو پیغمبر کے لیے مغلوب کر دیا اور تمہاری تلواروں کی مدد سے اہل عرب پیغمبر کے مطیع ہو گئے۔''

سیدنا ابوبکر نے ایک موقع پر فرمایا:

ان اللہ بعث محمدا صلی اللہ علیہ وسلم بہذا الدین فجاہد علیہ حتی دخل الناس فیہ طوعا وکرہا ۔

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دین دے کر بھیجا، چنانچہ آپ نے اس کے لیے جہاد کیا یہاں تک کہ لوگ خواہی نخواہی اس میں داخل ہو گئے۔''(ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۲/۵۲۶)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مرتد ہونے والے قبائل کے اپنے خط میں انھوں نے فرمایا:

ان اللہ تعالی ارسل محمدا بالحق من عندہ الی خلقہ بشیرا ونذیرا وداعیا الی اللہ باذنہ وسراجا منیرا لینذر من کان حیا ویحق القول علی الکافرین فہدی اللہ بالحق من اجاب الیہ وضرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باذنہ من ادبر عنہ حتی صار الی الاسلام طوعا وکرہا۔ (طبری، ۳/۲۵۰)

''اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس سے دین حق دے کر اپنی مخلوق کی طرف بھیجا تاکہ وہ انہیں خوشخبری سنائیں، انذار کریں، اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلائیں، اور ایک روشن چراغ بن کر لوگوں کو حق کی راہ دکھائیں۔ اللہ کا مقصد یہ تھا کہ یہ رسول ان لوگوں کو انذار کرے جن کے دل زندہ ہیں اور انکار کرنے والوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ نافذ ہو جائے۔ چنانچہ جن لوگوں نے اس دین کی طرف رغبت ظاہر کی، اللہ نے انھیں ہدایت عطا کی اور جنھوں نے اس سے اعراض کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم سے ان کے خلاف لڑائی کی یہاں تک کہ وہ خواہی نخواہی اسلام لانے پر آمادہ ہو گئے۔''

نعمان بن مقرن نے یزدگرد کے دربار میں یہی بات کہی:

ان اللہ رحمنا فارسل الینا رسولا یدلنا علی الخیر ویامرنا بہ ویعرفنا الشر وینہانا عنہ ووعدنا علی اجابتہ خیر الدنیا والآخرۃ فلم یدع الی ذلک قبیلۃ الا صاروا فرقتین فرقۃ تقاربہ وفرقۃ تباعدہ ولا یدخل معہ فی دینہ الا الخواص فمکث کذلک ما شاء اللہ ان یمکث ثم امر ان ینہد الی من خالفہ من العرب ویبدا بہم ففعل فدخلوا معہ جمیعا علی وجہین مکروہ علیہ فاغتبط وطائع ایاہ فازداد۔ (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ۷/۴۱)

''اللہ تعالیٰ نے ہم پر رحمت فرمائی اور ہمارے پاس ایک رسول بھیجا جس نے ہمیں خیر کی باتیں بتا کر ان پر عمل کرنے کا اور شر کی باتیں بتا کر ان سے باز رہنے کا حکم دیا اور اس دعوت کو قبول کرنے پر ہم سے دنیا وآخرت کی بھلائی کا وعدہ کیا۔ چنانچہ اس نے جس قبیلے کے سامنے بھی یہ دعوت پیش کی، وہ دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک گروہ اس کے قریب ہوگیا جبکہ دوسرے نے اس سے دوری اختیار کرلی۔ (ابتدا میں تو) اس رسول کے دین میں کچھ خاص گروہ ہی شامل ہوئے اور جب تک اللہ نے چاہا، یہی صورت حال رہی۔ پھر اسے حکم ملا کہ وہ اٹھے اور اس دین کی مخالفت کرنے والے اہل عرب کے ساتھ برسرپیکار ہوجائے۔چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا جس کے نتیجے میں اہل عرب سب کے سب اس دین میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے جن سے جبراً یہ دین منوایا گیا تھا، وہ اچھے حال میں رہے اور جو اپنی رضامندی سے داخل ہوئے تھے، ان کی بھلائی میں اور اضافہ ہو گیا۔''

رومی فوج کے سالار جرجہ سے گفتگو کرتے ہوئے خالد بن ولید نے کہا:

انا قبلنا ہذا الامر عنوۃ ۔(البدایہ والنہایہ ۷/۱۳)

''ہم نے اس دین کو اپنی مرضی کے برعکس قبول کیا تھا۔''

سیدنا ابو ہریرہ 'کنتم خیر امۃ اخرجت للناس' کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

خیر الناس للناس تاتون بہم فی السلاسل فی اعناقہم حتی یدخلوا فی الاسلام ۔(بخاری، رقم ۴۱۹۱)

''تم لوگوں کے لیے اس لحاظ سے ایک بہترین قوم ہو کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر انھیں لاتے ہو یہاں تک کہ وہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔''

اکابر تابعین نے بھی مشرکین عرب کے معاملے میں اسی قانون کی تصریح کی ہے۔ حسن بصری کا ارشاد ہے:

قاتل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل ہذہ الجزیرۃ من العرب علی الاسلام لم یقبل منہم غیرہ۔ (مصنف ابن ابی شیبۃ، رقم ۱۲۶۷۹)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیرۂ عرب کے مشرکین کے ساتھ اس بات پر قتال کیا کہ وہ اسلام قبول کر لیں۔ آپ نے اسلام کے علاوہ ان سے کوئی بات قبول نہیں کی''۔

ابن شہاب زہری فرماتے ہیں:

ٍٍٍٍٍٍانزلت فی کفار قریش والعرب وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ وانزلت فی اہل کتاب قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق الی قولہ صاغرون۔ (بلاذری، فتوح البلدان، ۷۵)

''کفار قریش اور عرب کے بارے میں تو یہ آیت اتری: 'وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین للہ' جبکہ اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الآخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق الی قولہ صاغرون'۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام پر ایمان نہ لانے والا دوسرا بڑا گروہ اہل کتاب کا تھا۔ آپ اگرچہ اصلاً عرب کے امیوں میں اٹھائے گئے تھے اور آپ کی بعثت خاصہ کا ہدف یہ تھا کہ انھیں کفر وشرک سے پاک کر کے دوبارہ دین ابراہیمی کا پیروکار بنا دیں اور دنیا کے سامنے اس دین کی گواہی دینے کی ذمہ داری انھیں تفویض کر دیں، تاہم قرآن نے یہ اعلان کیا کہ آپ کو پوری دنیاے انسانیت کی طرف بھی نبی بنا کر بھیجا گیا ہے اور دنیا کے تمام گروہ آپ کی دعوت کے مخاطب اور آپ پر ایمان لانے کے مکلف ہیں۔ چنانچہ قرآن نے غیر مبہم لفظوں میں واضح کیا ہے کہ اللہ کے ہاں جو دین قبول کیا جائے گا، وہ اسلام ہی ہے جس کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا گیا ہے اور اس کی پیروی اختیار کرنا عرب کے امیوں اور اہل کتاب دونوں کے لیے لازم ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ الدِّیْنَ عِندَ اللّہِ الإِسْلاَمُ .... وَقُل لِّلَّذِیْنَ أُوْتُواْ الْکِتَابَ وَالأُمِّیِّیْنَ أَأَسْلَمْتُمْ فَإِنْ أَسْلَمُواْ فَقَدِ اہْتَدَواْ وَّإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّمَا عَلَیْْکَ الْبَلاَغُ وَاللّہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَاد۔ (آل عمران ۱۹، ۲۰)

''اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔۔۔ اور تم اہل کتاب اور ان امیوں سے کہہ دو کہ کیا تم اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پا لیں گے اور اگر منہ موڑیں تو تمھارے ذمے صرف بات کو پہنچا دینا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو خوب دیکھ رہا ہے۔''

سورۂ اعراف میں ارشاد ہوا ہے:

قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُولُ اللّہِ إِلَیْْکُمْ جَمِیْعاً الَّذِیْ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ لا إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ فَآمِنُواْ بِاللّہِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الأُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّہِ وَکَلِمَاتِہِ وَاتَّبِعُوہُ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ۔(الاعراف ۱۵۷، ۱۵۸)

''کہہ دو کہ اے لوگو، میں تم سب کی طرف اللہ کا پیغمبر ہوں، وہ کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ زندگی اور موت دیتا ہے۔ اس لیے اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لے آؤ ، یعنی یہ نبی امی جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اور اس کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پا جاؤ۔''

قرآن نے اہل کتاب کو مخاطب کر کے صریح لفظوں میں کہا ہے کہ اگر وہ آپ پر ایمان نہیں لائیں گے تو خدا کے عذاب کے مستحق ٹھہریں گے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ آمِنُواْ بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقاً لِّمَا مَعَکُم مِّن قَبْلِ أَن نَّطْمِسَ وُجُوہاً فَنَرُدَّہَا عَلَی أَدْبَارِہَا أَوْ نَلْعَنَہُمْ کَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ وَکَانَ أَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُولا۔ (نساء ۴۷)

''اے وہ لوگو جنھیں کتاب دی گئی، اس (قرآن) پر ایمان لے آؤ جو ہم نے اس چیز کی تصدیق کے طور پر نازل کیا ہے جو تمہارے پاس موجود ہے، اس سے پہلے کہ ہم چہروں کو مسخ کر دیں اور ان کا رخ ان کی پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اسی طرح لعنت کریں جیسے ہم نے ہفتے کے دن (خدا کی حدود پامال کرنے) والوں پر لعنت کی۔ اور اللہ کا فیصلہ نافذ ہو کر رہتاہے۔''

تاہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہود نے نہ صرف آپ پر ایمان لانا گوارا نہیں کیا، بلکہ آپ کی پھیلتی ہوئی دعوت کے مستقبل کو بھانپتے ہوئے اس کی مخالفت کے لیے پر تولنا شروع کر دیے اور جزیرۂ عرب پر دین اسلام کی بالادستی کو روکنے کے لیے لوگوں کو اس سے روکنے اور اسلام کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز سمیت ہر حربہ اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابتداءً تو اہل ایمان کو ان سے صرف نظر کرنے کی ہدایت فرمائی، (بقرہ ۱۰۹) تاہم اس کے ساتھ ساتھ قرآن نے یہ بھی واضح کیا کہ اسلام اور اہل اسلام کو زک پہنچانے کے لیے یہود کی تمام سازشیں اور کوششیں بے کار رہیں گے اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں بھی ذلت ومسکنت کے اسی عذاب سے دوچار ہوں گے جو انبیا کی تکذیب کی پاداش میں ان پر قیامت تک کے لیے لازم کر دیا گیا ہے۔ (آل عمران ۱۱۱، ۱۱۲) پھر ایک خاص حد تک عفو ودرگزر سے کام لینے کے بعد سورۂ مائدہ کی آیت ۳۳ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتال اور محاربہ کی راہ اختیار کرنے والے تمام گروہوں، بالخصوص یہود کی سرکوبی کے لیے نہایت واضح اور متعین ہدایات دے دی گئیں۔ ارشاد ہوا ہے:

إِنَّمَا جَزَاء الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ اَوْ تُقَطَّعَ أَیْْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَاب عَظِیْمٌ (المائدہ: ۳۳)

''جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسرجنگ ہو جائیں اور زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کریں، ان کی سزا بس یہی ہے کہ ان کو عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے یا سولی چڑھا دیا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ دیے جائیں یا اس سرزمین سے انہیں جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ رسوائی تو ان کے لیے دنیا میں مقدر کی گئی ہے اور آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حکم کے تحت بنو قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل کی جبکہ بنو قینقاع، بنو نضیر، اہل خیبر، اہل فدک اور اہل نجران کو مختلف اوقات میں جلا وطنی کی سزا دی گئی۔ یہود کے یہی قبائل تھے جو عملاً مسلمانوں کے خلاف محاربہ اور فساد کا رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ ۷ ہجری میں خیبر کے فتح ہو جانے کے بعد بحیثیت ایک قوم کے ان کی قوت ٹوٹ گئی اور وہ فتنہ وفساد کی صلاحیت سے بڑی حد تک محروم ہو گئے، چنانچہ عہد رسالت میں غزوۂ خیبر کے بعد مذکورہ گروہوں میں سے کسی کے خلاف عملی اقدام کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ البتہ سورۂ توبہ میں جب مشرکین سے اعلان براء ت کے بعد ان کے قتل عام کا حکم دیا گیا تو اہل کتاب کے بارے میں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ چونکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دعواے نبوت کی حقانیت واضح ہونے کے باوجود آپ پر ایمان نہیں لائے، اس لیے ان کے خلاف قتال کر کے انھیں محکوم بنا لیا جائے اور ذلت ورسوائی کی ایک علامت کے طور پر ان 'جزیہ' عائد کر دیا جائے۔ قرآن نے واضح کیا ہے کہ اس مقصد کے تحت اہل کتاب کے خلاف قتال پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت یعنی 'اظہار دین' ہی کا ایک لازمی حصہ ہے ۔ ارشاد ہوا ہے:

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِاللّٰہِ وَلاَ بِالْیَوْمِ الآخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ وَلاَ یَدِیْنُونَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ حَتَّی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَن یَدٍ وَّہُمْ صَاغِرُونَ .... یُرِیْدُونَ أَن یُطْفِؤُواْ نُورَ اللّٰہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَیَأْبَی اللّٰہُ إِلاَّ أَنْ یُّتِمَّ نُورَہُ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ۔ ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ ۔(التوبہ ۲۹-۳۳)

''ان اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرو جو نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی قبول کرتے ہیں۔ (ان کے ساتھ جنگ کرو) یہاں تک کہ یہ تمہارے مطیع بن کر ذلت اور پستی کی حالت میں جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ ... یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنے مونہوں سے بجھا دیں، لیکن اللہ کافیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا، چاہے کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سارے دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرکوں کو یہ بات کتنی ہی ناپسند ہو۔''

یہ قرآن مجید میں جہاد وقتال کے احکام کا اصل تناظر ہے اور اس سے واضح ہے کہ مشرکین اور اہل کتاب کے خلاف قتال کے یہ احکام محض مسلمانوں کے دفاع اور اہل کفر کے فتنہ وفساد کو دفع کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اللہ کے دین کی سربلندی اور شرک کا خاتمہ کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔ یہ ایک 'مقدس جنگ' (Holy war) تھی جس کا محرک مال ومنال اور سطوت وشوکت کا حصول نہیں، بلکہ خدا کے حکم پر اسی کے ایک مقصد کو پورا کرنا تھا۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنیاد پر قرآن نے اس قتال کو 'جہاد فی سبیل اللہ' کا عنوان دیا، اس میں حصہ لینے کو اللہ کے ساتھ ایک سودا قرار دیا، اس میں جان ومال قربان کرنے والوں کو 'انصار اللہ' کا لقب دیا اور اس سے گریز کرنے والے اہل ایمان کو جا بجا وعیدیں سنائی ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

کُتِبَ عَلَیْْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تَکْرَہُواْ شَیْْئاً وَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَعَسَی أَن تُحِبُّواْ شَیْْئاً وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لاَ تَعْلَمُونَ (البقرہ، ۲۱۶)

''تم پر لڑنا فرض کر دیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں ناپسند ہے۔ توقع ہے کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو جبکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔اور توقع ہے کہ ایک چیز کو تم پسند کرو جبکہ وہ تمہارے لیے بری ہے۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔''

سورہ نساء میں فرمایا:

أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِیْنَ قِیْلَ لَہُمْ کُفُّوا أَیْْدِیَکُمْ وَأَقِیْمُوا الصَّلاَۃَ وَآتُواالزَّکَاۃَ فَلَمَّاکُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ کَخَشْیَۃِ اللّہِ أَوْ أَشَدَّ خَشْیَۃً وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ کَتَبْتَ عَلَیْْنَا الْقِتَالَ لَوْلا أَخَّرْتَنَا إِلَی أَجَلٍ قَرِیْبٍ قُلْ مَتَاعُ الدَّنْیَا قَلِیْلٌ وَالآخِرَۃُ خَیْْرٌ لِّمَنِ اتَّقَی وَلاَ تُظْلَمُونَ فَتِیْلاً ۔(النساء: ۷۷)

''کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ پھر جب ان پر قتال فرض کر دیا گیا تو اب ان میں سے ایک گروہ اس طرح دشمن سے ڈرنے لگا جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے، بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ اور انہوں نے کہا کہ یا اللہ، تو نے کیوں ہم پر لڑنا فرض کر دیا؟ کیوں نہ تو نے کچھ مدت کے لیے ہمیں مزید مہلت دے دی؟ تم کہہ دو کہ دنیا کا سامان تو بہت تھوڑا ہے جبکہ جو لوگ اللہ سے ڈریں، ان کے لیے آخرت بہت بہترہے اور (تمہارے اعمال کے معاملے میں) تمہاری ذرہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہوگی۔''

سورۂ توبہ میں ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ اللّٰہَ اشْتَرَی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ أَنفُسَہُمْ وَأَمْوَالَہُم بِأَنَّ لَہُمُ الجَنَّۃَ یُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَیْْہِ حَقّاً فِیْ التَّوْرَاۃِ وَالإِنجِیْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَی بِعَہْدِہِ مِنَ اللّٰہِ فَاسْتَبْشِرُواْ بِبَیْْعِکُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُم بِہِ وَذَلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم۔ (التوبہ۔۱۱۱)

''اللہ نے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس وعدے پر خرید لیے ہیں کہ انھیں بدلے میں جنت ملے گی۔ وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں تو وہ قتل کرتے بھی ہیں اورانھیں قتل کیا بھی جاتا ہے۔ اللہ نے تورات اور انجیل اور قرآن میں اس وعدے کو پورا کرنا اپنے ذمے ٹھہرایا ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو سکتا ہے؟ اس لیے (اے ایمان والو) تم نے جو سودا کیا ہے، اس پر خوش ہو جاؤ اور یہی عظیم کامیابی ہے۔''

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُوا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ ۔ إِلاَّ تَنفِرُواْ یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِل قَوْماغَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً وَاللّٰہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ۔(التوبہ ۳۸، ۳۹)

''اے ایمان والو، تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتاہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کے ساتھ چپک رہتے ہو! کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی ز ندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ تو پھر آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی تو نہایت ہی حقیر ہے اگر تم نہ اٹھو گے تو خدا تمھیں درد ناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ دوسری قوم لائے گااور تم اس کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکو گے اور اللہ ہر بات پر قادر ہے۔ ''

(باقی)