قذف کی سزا


[یہ مصنف کی زیر طبع کتاب ''حدود و تعزیرات چند اہم مباحث'' کا ایک جز ہے۔ قارئین

''اشراق'' کے افادے کے لیے اس کتاب کے جملہ مباحث بالا قساط شائع کیے جا رہے ہیں .]

قرآن مجید میں قذف کی سزا سورۂ نور (۲۴)کی آیات ۴۔۵ میں بیان ہوئی ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَاْتُوْا بِاَرْبَعَۃِ شُہَدَآءَ فَاجْلِدُوْہُمْ ثَمٰنِیْنَ جَلْدَۃً وَّلَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُونَ. اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.

''اور جو لوگ پاک دامن خواتین پر الزام لگائیں، پھر اس پر چار گواہ پیش نہ کر سکیں، انھیں اسی کوڑے لگاؤ اور (کسی معاملے میں) ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔ اوریہی لوگ فاسق ہیں۔ ہاں، جو اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو بلاشبہ اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔''

اس سزا کے حوالے سے کئی فقہی بحثیں تنقیح کا تقاضا کرتی ہیں۔

توبہ واصلاح کے بعد قاذف کی گواہی کا حکم

ایک بحث یہ ہے کہ مذکورہ آیت میں 'اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا' کا استثنا۱؂'اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ'سے متعلق ہے یا 'لَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادہً اَبَدًا' سے۔ دوسری تاویل ماننے کی صورت میں اس بات کی گنجایش پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر قذف کامرتکب توبہ واصلاح کر لے تو اس کی گواہی قابل قبول قرار دے دی جائے، تاہم احناف نے اسے فسق سے متعلق مانا ہے اور یہ راے قائم کی ہے کہ دنیا میں قذف کے مرتکب کی گواہی قبول کرنے کی کسی حال میں کوئی گنجایش نہیں۔ ہماری راے میں کلام میں تین قرینے ایسے ہیں جو احناف کی راے کو راجح قرار دیتے ہیں:

ایک یہ کہ 'لَا تَقْبَلُوْا لَہُمْ شَہَادَۃً اَبَدًا' میں 'اَبَدًا' کی قید ازروے بلاغت اس کے بعد کسی استدراک کی گنجایش ماننے میں مانع ہے۔ اگر قرآن مجید کو یہ کہنا ہوتا کہ توبہ کے بعد ان کی گواہی قبول کر لی جائے تواصل حکم میں 'اَبَدًا' کی قید کا اضافہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

دوسرے یہ کہ 'اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ' میں توبہ کا جو اثر اور نتیجہ بیان کیا گیا ہے، وہ دنیوی سزا سے نہیں،بلکہ اخروی سزا سے متعلق ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہ پورا استدراک دراصل 'اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ' کے ساتھ متعلق ہے۔

تیسرے یہ کہ اگر اس استدراک کو رد شہادت سے متعلق مانا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ توبہ واصلاح کے متحقق ہو جانے کا فیصلہ ظاہر میں کیسے کیا جائے گا؟ اگر تو یہ فرض کیا جائے کہ قذف کا ارتکاب کرنے والے افراد لازماً ایسے ہوں گے جو اپنی ظاہری زندگی میں فسق وفجور میں معروف ہوں تو ان کی توبہ واصلاح کا کسی حد تک اندازہ ان کے ظاہری طرز زندگی میں تبدیلی سے کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ قرآن مجید نے قذف کی سزا صرف ایسے افراد کے لیے بیان نہیں کی، بلکہ بظاہر بہت قابل اعتماد اور متقی افراد بھی اگر کسی پر زنا کا الزام لگائیں اور چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو ان کے لیے بھی یہی سزا ہے۔ ایسے افراد کے ہاں توبہ اور اصلاح کا ظہور، ظاہر ہے کہ ان کے باطن میں ہوگا جس کا فیصلہ کرنے کا کوئی ظاہری معیار موجود نہیں۔ چنانچہ یہ کہنا کہ ایسے لوگ اگر توبہ و اصلاح کر لیں تو ان کی گواہی قبول کر لی جائے، عملی اعتبار سے ایک بے معنی بات قرار پاتی ہے۔

غیر مسلموں پر زنا کا الزام لگانے کی سزا

قذف سے متعلق مذکورہ آیات میں 'وَالَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ' کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر محصن مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں قاذف کو یہ سزا نہیں دی جائے گی۔ جمہور فقہا نے کسی شخص کے محصن ہونے کی شرائط میں مسلمان ہونے کو بھی شمار کیا ہے۔ چنانچہ وہ کسی غیر مسلم پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں مسلمان قاذف پر حد جاری کرنے کے قائل نہیں۔ اسی طرح ان کے نزدیک اگر مسلمان شوہر اپنی غیر مسلم بیوی پر زنا کا الزام لگائے تو دونوں کے مابین لعان نہیں کرایا جائے گا۔ فقہا نے 'احصان' کے اس مفہوم کے لیے بالعموم عبداللہ بن عمر سے مروی بعض روایات کو ماخذ قرار دیا ہے۔اس کے برعکس سعید بن المسیب کی راے یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان اہل کتاب کی خواتین پر زناکا جھوٹا الزام لگائے تو اسے بھی کوڑے لگائے جائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھی 'محصنات' قرار دیا ہے۔۲؂ سیدنا عمر کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ وہ اہل ذمہ کی خواتین پر زنا کا الزام لگانے والے کو کوڑے لگایا کرتے تھے۔۳؂ تاہم اس میں صراحت نہیں کہ یہ حد کے کوڑے ہوتے تھے یا تعزیر کے۔ اسی طرح بعض فقہا مسلمان شوہر کے اپنی غیر مسلم بیوی پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں ان کے مابین لعان کے بھی قائل ہیں۔۴؂

ہماری راے میں موخر الذکر راے زیادہ وزن رکھتی ہے، اس لیے کہ قرآن مجید نے قذف کی سزا کے بیان میں 'محصنات' کا لفظ پاک دامن عورتوں کے مفہوم میں استعمال کیا ہے جو اس لفظ کا عام اور معروف استعمال ہے۔ یہ بات کہ احصان کا کوئی مخصوص اصطلاحی مفہوم ہے جس میں مسلمان ہونا بھی شامل ہے، ایک ایسا دعویٰ ہے جس پر کوئی مضبوط دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔ اگر شریعت نے اس کو کوئی خاص اصطلاح بنایا ہے اور اس میں بعض اوصاف وقیودکا اضافہ کیا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے لیے واضح اور صریح دلائل چاہییں جو میسرنہیں۔ اس ضمن میں عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے بارے میں اول تویہی بات طے نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے یا عبد اللہ بن عمرکا فتویٰ۔۵؂ بظاہر دوسرے امکان کے حق میں زیادہ قرائن پائے جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ اس قول میں بھی 'احصان' کا کوئی اصطلاحی مفہوم بیان کرنا متکلم کے پیش نظر نہیں۔ یہ صحابی کی طرف سے ایک تاثر اور احساس کا بیان ہے جو سراسر ایک موضوعی (Subjective) چیز ہے اور جسے زبان کے معروف ومتداول الفاظ کے معانی متعین کرنے کے لیے کسی طرح بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اب جہاں تک لفظ کے سادہ مفہوم کے لحاظ سے پاک دامن ہونے کا تعلق ہے تو قرآن مجید ہی کی تصریح سے یہ بھی واضح ہے کہ پاک دامن عورتیں جیسے مسلمانوں میں ہو سکتی ہیں، اسی طرح غیر مسلموں میں بھی ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۵ میں اہل کتاب کی خواتین سے نکاح کی اجازت بیان کرتے ہوئے 'وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ' (اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔

البتہ، فقہا کے موقف کی ایک دوسری اساس موجود ہے اور اپنے محل میں ان کی بات درست ہے۔ ہم نے ''قصاص ودیت میں مسلم اور غیر مسلم میں امتیاز'' کے تحت واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اسلام قبول نہ کرنے والے اہل کتاب کے لیے قرآن مجید میں یہ سزا مقرر کی گئی تھی کہ انھیں محکوم بنا کر ان پر جزیہ عائد کر دیا جائے اور وہ مسلمانوں کے زیردست بن کر ذلت کے ساتھ زندہ رہیں۔۶؂ اس عمومی رہنمائی کی روشنی میں صحابہ نے مسلمانوں کے محکوم بننے والے ان غیر مسلموں کے لیے بہت سے امتیازی قوانین وضع کیے جن کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے معاشرتی مرتبے اور تکریم کے لحاظ سے مسلمانوں کے مساوی نہ سمجھے جائیں اور انھیں تذلیل و تحقیر کا احساس ہوتا رہے۔ غیر مسلم پر زنا کا الزام لگانے کی صورت میں مسلمان پر حد قذف جاری نہ کرنے کی راے بھی اسی نکتے پر مبنی ہے۔ ''ارتداد کی سزا'' کے تحت ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ غیر مسلموں پر جزیہ عائد کرنے اور انھیں تحقیر وتذلیل کا نشانہ بنانے کی یہ سزا اپنے پس منظر کے لحاظ سے شریعت کا کوئی عمومی قانون نہیں تھی۔ اس کا تعلق انھی غیر مسلموں سے تھا جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی نیابت میں صحابہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہ سزا نافذ کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا تھا۔ اس دائرے سے باہر اس حکم کی تعمیم حکم کی علت کی رو سے درست نہیں اور اگر قذف کا قانون عزت وآبرو کے تحفظ کے لیے ہے تو اسلامی ریاست کے مسلمان شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی اس حق سے بہرہ مند کیا جانا چاہیے۔

جدید طبی ذرائع اور لعان

مذکورہ آیات میں قرآن مجید نے کسی پاک دامن عورت پر زنا کا الزام ثابت کرنے کے لیے چار گواہ طلب کیے ہیں اور اگر الزام لگانے والا گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے قذف کی پاداش میں ۸۰ کوڑے لگانے کا حکم دیا ہے، البتہ ان سے متصل اگلی آیات میں شوہر کے لیے یہ قانون بیان کیا گیا ہے کہ اگر وہ اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور اس کے پاس چار گواہ نہ ہوں تو میاں بیوی کے مابین لعان کرایا جائے گا۔۷؂

شوہر کے لیے یہ گنجایش پیدا کرنے کی وجہ بالکل واضح ہے کہ اگر وہ اپنے الزام میں سچا ہے، لیکن چار گواہ پیش نہیں کر سکا تو اسے جھوٹا قرار دے کر قذف کی سزا دینے کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ عورت جس بچے کو جنم دے گی، اس کا نسب اس کے شوہر ہی سے ثابت مانا جائے گا، جبکہ یہ امکان موجود ہے کہ بچہ درحقیقت اس کا نہ ہو۔ اگر بچے کے نسب کا مسئلہ نہ ہو تو لعان کے اس طریقے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں رہتی اور خاوند سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر اس کی عورت بدکاری کی مرتکب ہوئی ہے تو وہ طلاق دے کر اسے فارغ کر دے، لیکن چونکہ یہاں اصل مسئلہ بچے کے نسب کے ثبوت کا ہے اور شوہر کا یہ حق ہے کہ کسی ناجائز بچے کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، اس لیے بچے کا نسبی تعلق اس سے ختم کرنے کے لیے لعان کی مذکورہ صورت نکالی گئی، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ امکان بھی پوری طرح موجود ہے کہ شوہر اپنے الزام میں جھوٹا ہو اور اپنی بیوی کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ خود اپنی ہی اولاد کو بھی نسبی شناخت کے جائز حق سے محروم کرنے کے دوہرے جرم کا مرتکب ہوا ہو۔ قدیم دور میں بچے کے نسب کی تحقیق کا کوئی یقینی ذریعہ موجود نہیں تھا۔ چنانچہ لعان کے سوا اس معاملے کا کوئی حل ممکن نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیوی پر الزام لگانے کی صورت میں لعان کا یہ طریقہ اختیار کر کے بچے کے نسب کو عورت کے شوہر سے منقطع کرنا بجاے خود مقصود نہیں، بلکہ ایک عملی مجبوری کا نتیجہ تھا۔ ہماری یہ راے اگر درست ہے تو دور جدید میں طبی ذرائع کے ارتقا کے حوالے سے اس پر دو نتیجے مرتب ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ اگر خاوند کے بیوی پر الزام لگانے کی صورت میں بیوی لعان کا راستہ اختیار کرنے کے بجاے طبی ذرائع کی مدد سے الزام کی تحقیق کا مطالبہ کرے تو ایسا کرنا ضروری ہوگا، اس لیے کہ لعان کی صورت میں بیوی زنا کی سزا سے تو بچ جاتی ہے، لیکن معاشرے کی نظر میں اس کی عفت و عصمت مشتبہ اور کردار مشکوک قرار پاتا ہے۔ لعان کا طریقہ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، بذات خود مطلوب نہیں، جبکہ اپنی حیثیت عرفی کا تحفظ خاتون کا ایک جائز حق ہے ۔ چنانچہ طبی ذرائع اگر خاوند کے الزام کی تحقیق میں کوئی قابل اعتماد معاونت فراہم کر سکتے ہیں تو ان سے مدد لینا ضروری ہوگا۔ البتہ اگر طبی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات فیصلہ کن نہ ہوں تو وہ مجبوری علیٰ حالہٖ باقی رہتی ہے جس کے پیش نظر لعان کا طریقہ مشروع کیا گیا ہے۔

دوسرے یہ کہ اگر طبی ذرائع سے بچے کے نسب کی تحقیق یقینی طور پر ممکن ہے اور اپنے نسب کا تحفظ بجاے خود بچے کا ایک جائز حق بھی ہے تو بیوی کے کہنے پر یا بڑا ہونے کے بعد خود بچے کے مطالبے پر ان ذرائع سے مدد لینا اور اگر ان کی رو سے بچے کا نسب اپنے باپ سے ثابت قرار پائے تو اسے قانونی لحاظ سے اس کا جائز بیٹا تسلیم کرنا، ہر لحاظ سے شریعت کے منشا کے مطابق ہوگا۔

خاوند کے بدکار ہونے کی صورت میں فسخ نکاح کا حق

یہاں ایک مزید بحث یہ ہے کہ قرآن مجید نے لعان کا طریقہ اصلاً اس صورت کے لیے بیان کیا ہے جب شوہر اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے۔ اگر بیوی شوہر پر زنا کا الزام عائد کرے اور اس بنیاد پر اس سے تفریق کا مطالبہ کرے تو کیا کیا جائے؟ نصوص میں اس صورت کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ فقہی ذخیرے میں بھی ہمیں اس صورت سے متعلق کوئی تصریح نہیں مل سکی، لیکن فقہا غالباً اس صورت کو بھی قذف سے متعلق نصوص کے عموم کے تحت داخل مانتے اور بیوی پر قذف کی حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔ ہماری راے میں یہ امر بحث طلب ہے،

اس لیے کہ جس نوعیت کی مجبوری کے تحت خاوند کو قذف کے عمومی قانون سے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے لعان کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے، کم وبیش اسی درجے کی مجبوری اس صورت میں عورت کو بھی پیش آتی ہے۔ قرآن مجید نے نہ صرف نکاح کے لیے پاک دامن مردوں اور عورتوں کے انتخاب کی بار بار تاکید کی ہے، بلکہ متعین طور پر یہ بھی فرمایا ہے کہ جس مرد یا عورت کا زانی ہونا ثابت ہو جائے، اس سے کوئی پاک دامن عورت یا مرد نکاح نہیں کر سکتے۔

ارشاد باری ہے:

اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ.

(النور۲۴: ۳)

''زانی مرد کسی عورت سے نکاح نہ کرنے پائے، سوائے اس کے کہ کوئی زانیہ ہو یا مشرکہ۔ اور زانیہ سے بھی کوئی شخص نکاح نہ کرے، سوائے اس کے کہ کوئی زانی ہو یا مشرک، جبکہ اہل ایمان پر ایسا کرنا حرام قرار دیا گیا ہے۔''

جمہور فقہا 'حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ' کو زنا کی حرمت کا بیان قرار دیتے ہیں، لیکن یہاں نہ تو اصولی طور پر زنا کی حرمت بیان کرنے کا کوئی محل ہے اور نہ 'اَلزَّانِیْ لَایَنْکِحُ' کا سابق جملہ اس کی اجازت دیتا ہے کہ 'حُرِّمَ ذٰلِکَ' کو نکاح کے بجاے زنا کی حرمت کا بیان سمجھا جائے، اس لیے صحیح بات یہی ہے کہ اس آیت سے زانی مرد یا زانی عورت کے ساتھ نکاح کی حرمت ثابت ہوتی ہے۔ کتب حدیث میں منقول ایک روایت کے مطابق، جس کی سند کچھ کمزور ہے، جب مرثد بن ابی مرثد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک زانی عورت کے ساتھ نکاح کی اجازت مانگی تو آپ نے اسے یہی آیت پڑھ کر سنائی اور فرمایا کہ اس کے ساتھ نکاح نہ کرو۔۸؂

بالفرض اس کو حرام نہ مانا جائے تو بھی عام اخلاقیات اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس طرح مرد کو یہ حق ہے کہ وہ بدچلن عورت کو اپنے نکاح میں نہ رکھے، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ کسی بدکردار مرد کے نکاح میں نہ رہے۔ اس لحاظ سے اگر بیوی اس بنیاد پر اپنے خاوند سے جدائی کا دعویٰ عدالت میں کرے کہ وہ ایک بدکار شخص ہے تو اس سے چار گواہ طلب کرنا جو ایک ناممکن بات ہے، اور ایسا نہ کر سکنے کی صورت میں اس پر قذف کی حد جاری کرنا عدل وانصاف کے منافی دکھائی دیتا ہے، اس لیے یہ ضروری ہوگاکہ یا تو اس صورت میں بھی لعان کے بعد دونوں میں تفریق کرا دی جائے یا عورت پر حد قذف جاری کیے بغیر اسے فسخ نکاح کی سہولت دے دی جائے۔

حد قذف کے نفاذ کے مطالبہ کا حق

فقہاے احناف نے قذف کو ناقابل دست اندازئ پولیس جرم قرار دیا ہے اور ان کی راے میں جب تک کوئی صاحب حق خود مرافعہ نہ کرے، عدالت ازخود قاذف کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ہماری راے میں یہ بات بنیادی طور پر درست ہے، تاہم بعض صورتیں اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ تقاضا کرتی ہیں کہ ان میں خود نظم اجتماعی کو اقدام کرنے کا حق دیا جائے۔

مثال کے طور پر اگر الزام کا نشانہ بننے والا فرد کسی دباؤ یا جبر کے تحت یا مجرم کے معاشرتی اثر و رسوخ سے خوف زدہ ہو کر اپنے حق دفاع کو استعمال کرنے سے گریز کرے تو عدالت اس کے تحفظ کے لیے ازخود نوٹس لے سکتی ہے۔اسی طرح معاشرے کی ایسی سربرآوردہ اور قد آور شخصیات جو معاشرے کی شناخت کا ذریعہ ہوں اور ان کی ہتک عزت سے پورا معاشرہ اذیت محسوس کرے، ان کی حیثیت عرفی کو قومی اثاثہ سمجھنا چاہیے اور اگر شر پسند عناصر ان کی شخصیت کو داغ دار کرنا چاہیں تو ریاست کو مصلحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کے خلاف اقدام کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔

اگر الزام تراشی اور بہتان طرازی انفرادی اور شخصی دائرے سے نکل کر کسی معاشرتی فتنے کی صورت اختیار کر لے تو بھی قانون اور عدالت کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ چنانچہ سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۶۱ میں منافقین اور مدینہ منورہ میں فتنہ انگیزی کرنے والے بعض دوسرے گروہوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو انھیں جہاں پائے جائیں، عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ آیت کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ مدینہ منورہ کے ان فتنہ پرداز گروہوں کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اہل بیت اور مسلمان خواتین کے بارے میں بہتان تراشنے اور ان کی کردارکشی کے مکروہ عمل نے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کی شکل اختیار کر لی تھی اور اسی سے نمٹنے کے لیے یہاں ان کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔

اسی طرح اگر کسی خاتون پر زنا کا الزام عائد کیا جائے اور وہ خود تو حد قذف کا مطالبہ نہ کرے، لیکن اس کے اعزہ قاذف کے خلاف مرافعہ کریں تو ہماری راے میں ان کا یہ حق تسلیم کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ خواتین کی عزت ان کے اعزہ واقربا اور اہل خاندان کی بھی عزت ہوتی ہے اور انھیں بھی اسی طرح اذیت کا شکار ہونا پڑتا ہے جس طرح خاتون ہوتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مکرمہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والے افراد پر خود ام المومنین کے مطالبے پر نہیں، بلکہ ریاست ہی کی طرف سے اقدام کرتے ہوئے حد قذف جاری کی گئی تھی۔ فقہا کا ایک گروہ ایسی صورت میں جب الزام کا نشانہ بننے والی عورت خود تو محصنہ نہ ہو، لیکن اس کا شوہر یا بیٹا محصن ہو، قاذف پر حد جاری کرنے کے قائل ہیں۔۹؂ ہماری راے میں اسی اصول کا تقاضا یہ ہے کہ ان اعزہ کو اجراے حد کا مطالبہ کرنے کا حق بھی حاصل ہو اور اس حق کو قذف کا نشانہ بننے والے مرد یا عورت کی زندگی تک محدود نہ مانا جائے، بلکہ اس کے بعد بھی اقربا کے لیے یہ حق تسلیم کیا جائے۔ حنفی فقہا نے اس حق کو ان حقوق میں شمار کیا ہے جو ورثا کو منتقل نہیں ہوتے، حالانکہ اسے وراثت کے ساتھ منسلک کرنے کے بجاے مذکورہ سادہ اصول پر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اگر مقذوف کی زندگی میں اس پر الزام لگایا جائے اور وہ فوت ہو جائے تو یہ کہہ کر ورثا کو حق مرافعہ سے محروم کرنا درست نہیں کہ حق قذف میں وراثت جاری نہیں ہوتی۔ یہ وراثت کا نہیں، بلکہ عزت و آبرو کے تحفظ کامسئلہ ہے جو ورثا کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے جتنی مرنے والے کے لیے رکھتا تھا۔