لیلۃ القدر


اللہ تعالیٰ نے نظام زندگی کو شام و سحر، روز و شب اور ماہ و سال کے اعتبارسے تشکیل دیا ہے۔ یہ نظام اس کی عظیم حکمت کا آئینہ دار ہے۔ جہاں اس نے انسانوں کو ان اعتبارات کے لحاظ سے زندگی بسر کرنے کا شعور دیاہے ، وہاں اپنی قدرت ، اپنی رحمت اور اپنی برکت کو اس دنیا سے متعلق کرنے کے لیے بھی انھی کو ملحوظ رکھا ہے۔ چنانچہ اس نے لازمی عبادات کے خاص اوقات اورخاص ایام مقرر کیے ہیں اور بعض موقعوں کو اپنی عنایتوں کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا ہے۔ انھی میں سے ایک موقع ماہ رمضان اور اس کے اندر لیلۃ القدر ہے۔ لیلۃ القدر کو قرآن مجید نے مبارک رات سے تعبیر کیا ہے۔ اس رات کی برکت و فضیلت کے حوالے سے جو باتیں قرآن و حدیث سے معلوم ہوتی ہیں، ان کا خلاصہ ہم یہاں بیان کر دیتے ہیں۔

قرآن مجید کا نزول

قرآن مجید لیلۃ القدر میں نازل ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

''ہم نے اس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ۔''(القدر۹۷: ۱)

''ہم نے اس (قرآن) کو ایک نہایت مبارک رات میں اتارا ہے ۔'' (الدخان ۴۴: ۳)

قرآن کے نزول سے اس رات کی نسبت معمولی بات نہیں ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ عالم کے پروردگار نے انسانوں کو ابدی رہنمائی سے فیض یاب کرنے کے لیے اس رات کا انتخاب کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کا منشاتھا کہ اس کا کلام نہایت محفوظ طریقے سے انسانوں تک پہنچے ۔ چنانچہ اس نے ہر لحاظ سے اس کی حفاظت کا بندوبست فرمایا۔اس ضمن میں اس نے آسمان سے زمین تک وہ تمام راستے مسدود کر دیے جن سے شیاطین دراندازی کر سکتے تھے۔

بہرحال قرآن مجید کی حفاظت کے اس عظیم انتظام کی بنا پر انسانوں کو قرآن جیسی عظیم نعمت ملنے کے ساتھ ساتھ یہ موقع بھی میسر آیا ہے کہ اگر وہ چاہیں تو شیاطین کی تاخت سے بچتے ہوئے اپنے پروردگار کے بے پایاں التفات سے فیض یاب ہو ں اور جنت میں اپنے مقام کومحفوظ کرلیں۔

امور دنیا کی تقدیر و تقسیم

قرآن مجید نے اس رات کو لیلۃ القدرسے تعبیر کیا ہے۔ اس سے مراد فیصلوں والی رات ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس موقع پر امور دنیا کے بارے میں اپنے فیصلوں کو متعین فرماتے اوران کی روشنی میں کارکنان قضا و قدر کو ذمہ داریاں تفویض کرتے ہیں۔ سورۂ دخان میں ارشاد فرمایا ہے:

''اس رات میں تمام پر حکمت امور کی تقسیم ہوتی ہے، خاص ہمارے حکم سے۔''( ۴۴: ۴)

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

''اس کی یہ عظمت و برکت اس وجہ سے ہے کہ اس میں کائنات سے متعلق بڑے بڑے فیصلے ہوتے ہیں۔ جب اس دنیا کی چھوٹی چھوٹی حکومتوں کے وہ دن بڑی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں جن میں وہ اپنے سال بھر کے منصوبے طے کرتی ہیں تو اس رات کی اہمیت کا اندازہ کون کر سکتا ہے جس میں پوری کائنات کے لیے خدائی پروگرام طے ہوتا اور سارے جہان کا فیصلہ ہوتا ہے۔'' (تدبر قرآن ۹/ ۴۶۷)

فرشتوں اور جبریل امین کا نزول بھی اسی پہلو سے ہے۔ فرمایا ہے:

''اس میں فرشتے اور روح الامین اترتے ہیں، ہر معاملے میں، اپنے پروردگار کی اجازت سے ۔''(القدر ۹۷: ۴)

مراد یہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقررکیے گئے امور کو دنیا میں نافذ کرنے کے لیے اترتے ہیں۔ اس موقع پراللہ کے نہایت مقرب فرشتے حضرت جبریل امین بھی زمین پر اترتے ہیں۔

برکت اور سلامتی کی عظیم رات

سورۂ قدر میں اس رات کی عظمت وبرکت کو دو پہلووں سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک پہلو سے یہ بات بیان ہوئی ہے کہ: ''یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔'' معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسلوب اس کی برکتوں اور فیض رسانیوں کی کثرت کو بیان کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے۔ اس سے مقصود انسانوں پر یہ واضح کرنا ہے کہ یہ کوئی عام رات نہیں ہے کہ اسے سو کر گزار دیا جائے، بلکہ اگر پروردگار کے التفات اور نظرکرم کے حوالے سے دیکھا جائے تو ہزار مہینوں کی ہزاروں راتیں بھی اس کے مقابلے میں ہیچ ہیں۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی اس آیت کی شرح میں لکھتے ہیں:

'''ہزار مہینوں ' کی تعبیر بیان کثرت کے لیے ہے اور اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امور مہمہ کی تنفیذ کے ساتھ خاص ہونے کی وجہ سے جو رحمتیں ، برکتیں اور خدا سے قرب کے جو مواقع اس ایک رات میں حاصل ہوتے ہیں، وہ ہزاروں راتوں میں بھی نہیں ہو سکتے۔''(البیان ۲۱۵)

دوسرے پہلو سے یہ فرمایا ہے کہ :''یہ رات سراسر سلامتی ہے، طلوع فجر تک۔''

اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے دوران میں اللہ تعالیٰ آفات سماوی کو روک دیتے، شیطانوں کی کارروائیوں پر پابندی لگا دیتے اور انسانوں کے لیے اپنے قرب اور اپنی رحمتوں اور برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں۔ انھی برکات کے پیش نظر قرآن مجید نے اسے لیلۂ مبارکہ سے بھی تعبیر کیا ہے ۔

لیلۃ القدر کا تعین

قرآن مجید اور احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لیلۃ القدر ماہ رمضان ہی کی رات ہے، مگر یہ کون سی رات ہے، اس کی تصریح قرآن میں نہیں ہے۔ احادیث سے البتہ یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے ایک رات ہے۔ بخاری کی روایت کے مطابق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ بعض روایتوں میں آخری سات دنوں کی صراحت بھی ہے ۔ بعض میں صحابۂ کرام کے حوالے سے اکیسویں، تیئسویں اور ستائیسویں رات کے بارے میں قیاسات نقل ہوئے ہیں، بعض میں اکیسویں، تئیسویں اور پچیسویں رات کا ذکر آیا ہے۔ تاہم اس موضوع کی تمام روایتوں پر نظر ڈالنے سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ یہ رمضان کی آخری دس راتوں میں سے کوئی طاق رات ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی اس روایت سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیلۃ القدر کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس تاریخوں میں۔ یعنی اکیس یا انتیس کو، تئیس یا ستائیس کو یا پچیس کو۔''(بخاری)

لیلۃ القدر کی متعین تاریخ نہ بتانے کی حکمت بظاہر یہی معلوم ہوتی ہے کہ لوگوں کے اندر اس رات کو پانے کی جستجو پیدا ہو۔ اس جستجو میں وہ کئی راتیں عبادت میں گزاریں اور اپنے لیے اجر کا سامان پیدا کریں۔

عبادت کا اہتمام

لیلۃ القدر کی اس عظمت و برکت کو جاننے کے بعدیہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گناہوں کی بخشش کا اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں ہے۔ چنانچہ کسی شخص کو بھی اس کی جستجو سے بے گانہ نہیں ہونا چاہیے ۔ہر صاحب ایمان کو اپنے پروردگار کی بے پایاں نعمتوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے اور دل کی گہرائیوں سے اس کا شکر بجا لانا چاہیے۔ اپنی ضرورتوں اور تمناؤں کو اس کے حضور میں پیش کرنا چاہیے۔ اپنی پریشانیاں اس کے سامنے رکھ کر اس سے صبر کی توفیق طلب کرنی چاہیے اور ان کے تدارک کی درخواست پیش کرنی چاہیے۔ اس موقعے کا بہترین عمل عبادت ہے ۔ روایات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں شب و روز کا بیشتر وقت عبادت میں گزارتے تھے۔ سیدہ عائشہ بیان فرماتی ہیں:

''جب رمضان کی آخری دس تاریخیں آتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو جاتے تھے۔ رات رات بھر جاگتے تھے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے تھے۔''(متفق علیہ)

____________