مدیر ’محدث‘ کے نام جناب عمار خان ناصر کا مکتوب


[یہ ''المورد'' کے شعبۂ تصنیف و تالیف کے رکن اور ماہنامہ ''الشریعہ'' کے مدیر جناب عمار خان ناصر کا مکتوب ہے جو انھوں نے معاصر ماہنامہ ''محدث'' کے مدیر کے نام تحریر کیا ہے۔ اس میں مسجد اقصیٰ کی تولیت زیربحث ہے، چنانچہ اس موضوع پر شامل اشاعت تنقیدی مکالمے کے ساتھ یہ خط بھی شائع کیا جا رہا ہے۔]

بردارمحترم حافظ حسن مدنی صاحب ، مدیر ماہنامہ ''محدث'' لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے، مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

''محدث'' کے مارچ ۲۰۰۷ کے شمارے میں ''مسجد اقصیٰ صیہونیوں کے نرغے میں'' کے زیر عنوان آپ کا تفصیلی اور معلوماتی اداریہ پڑھنے کو ملا اور اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں نے ''الشریعہ'' کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ اور اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شماروں میں شائع ہونے والی اپنی تفصیلی تحریروں میں شرعی زاویۂ نگاہ سے اس معاملے کے جس بنیادی پہلو کی طرف اہل علم کی توجہ مبذول کرائی تھی، آپ کی تازہ تحریر میں اس کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ایک ایسا موقف اختیار کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے مروجہ جذباتی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی موقف سے بالکل مختلف ہے اور جس سے، صورت حال کے واقعی تجزیے اور حکمت عملی کے بعض پہلووں سے قطع نظر، کوئی اصولی اختلاف غالباً نہیں کیا جا سکتا۔ میری پوری بحث کا حاصل یہی تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل سے، جسے قرآن مجید نے ''مسجد اقصیٰ'' کے نام سے یاد کیا ہے، بنی اسرائیل کے حق تولیت کو ازروے شریعت منسوخ قرار دینے کا تصور اور اس کی بنیاد پر تقریباً ۱۵۰۰ فٹ لمبے اور ۱۰۰۰ فٹ چوڑے موجودہ احاطۂ ہیکل (Temple Mount) کے پورے رقبے اور بالخصوص اس کے وسط میں موجودہ صخرۂ بیت المقدس اور اس پر اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے تعمیر کردہ 'قبۃ الصخرہ' کو بلاشرکت غیرے مسلمانوں کی ملکیت قرار دینے کا دعویٰ شرعی واخلاقی لحاظ سے درست نہیں، اس لیے مسلمانوں کو اپنا دعویٰ استحقاق تاریخی وواقعاتی بنیاد پر اس احاطے کی جنوبی دیوار کے ساتھ قائم اس مسجد تک محدود رکھنا چاہیے جہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فتح بیت المقدس کے موقع پر نماز ادا کر کے اسے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ (یہ مسجد خود سیدنا عمرنے تعمیر نہیں فرمائی تھی، بلکہ بعد کے دور میں مسلمانوں کی تعمیرکردہ ہے۔ ابتدا میں اسے 'مسجد عمر' کا نام دیا گیا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ 'مسجد اقصیٰ' ہی کے نام سے معروف ہو گئی، جو ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی ذکر کردہ 'مسجد اقصیٰ' یعنی حضرت سلیمان کی تعمیر کردہ مسجد سے مختلف ایک اصطلاح ہے) آپ نے اپنی تحریر میں اس بنیادی نکتے کو تسلیم فرماتے ہوئے لکھا ہے:

''اس مسجد پر مسلمانوں کے استحقاق کی وجہ تاریخی طور پر یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اس مقام پر مسجد کو تعمیر کیا تھا تو اس وقت یہ جگہ ویران تھی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے خود یہاں سے کوڑا کرکٹ صاف کر کے اس مسجد کو قائم کیا تھا۔ خلیفۂ راشد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ جیسا عادل حکمران کسی اور قوم کی عبادت گاہ پر اسلامی مرکز تعمیر کر کے کسی دوسری قوم کا مذہبی حق غصب کرے گا۔'' (محدث، مارچ ۲۰۰۷، ۵)

''اگر یہود اس علاقے میں کوئی ہیکل تعمیر کرنا بھی چاہتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں تو ا س کے لیے مسجد اقصیٰ کا انہدام کیوں ضروری ہے اور وہ عین اس مقام پر ہی کیوں تعمیر ہوتا ہے جہاں یہ مقدس عمارت موجود ہے؟ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں شمال مغربی حصہ اور دیگر بہت سے حصے بالکل خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں اکثر مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ اس قبۂ صخرہ کی کوئی شرعی فضیلت نہیں، حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہاں نماز پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ یوں بھی یہود کے ہاں قبلہ کی حیثیت اس کو حاصل رہی ہے کیونکہ انھوں نے خیمۂ اجتماع کو اپنا قبلہ بنایا ہوا تھا جو قبۂ صخرہ کے مقام سے اٹھا لیا گیا، چنانچہ قبۂ صخرہ کو اس کا آخری مقام ہونے کے ناتے انھوں نے اسے ہی اپنا قبلہ قرار دے لیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبۂ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر ہی صرف کر رہے ہیں؟'' ( ۱۸)

ان اقتباسات کی روشنی میں میرے ناقص فہم کے مطابق نتیجے کے اعتبار سے آپ کے موقف اور میرے نقطۂ نظر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اپنی تحریر کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

''امت مسلمہ کے فرزند آج ۴۰ برس گزرنے کے بعد بھی نہ صرف مطمئن وپرسکون ہیں، بلکہ آہستہ آہستہ کوتاہی اور مداہنت یوں اپنا اثر دکھا رہی ہے کہ مسلمانوں میں بعض ایسے کرم فرما بھی پیدا ہو گئے ہیں جو مسجد اقصیٰ کو اسی طرح یہود کی تولیت میں دے دینے کے داعی ہیں جیسے مسلمانوں کے پاس بیت اللہ الحرام کی تولیت ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔'' ( ۲۰)

اگر یہ اشارہ جیسا کہ گمان غالب ہے میری تحریروں کی طرف ہے تو میں، فی الواقع، آپ کی اس تعریض کا مدعا نہیں سمجھ سکا۔ اگر مسجد اقصیٰ سے آپ کی مراد حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ ہیکل ہے جس کا محل وقوع قبۃ الصخرہ کے قریب ہے تو اس پر تصرف اور تولیت کی اجازت،بلکہ ترغیب تو آپ خود بھی یہود کو دے رہے ہیں، اور اگر اس سے مراد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے مخصوص کردہ مقام پر تعمیر کی جانے والی مسجد یعنی موجودہ 'مسجد اقصیٰ' ہے تو میری تحریر میں کہیں بھی اس کی تولیت یہود کے سپرد کر دینے کی بات نہیں کہی گئی، بلکہ' 'الشریعہ'' کے اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں، میں نے اس بحث کا اختتام ہی اس نکتے پر کیا ہے کہ:

''مسلمانوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان بے بنیاد مذہبی تصورات کو خیرباد کہنا ہوگا جو پوری عبادت گاہ سے یہود کے حق تولیت کی تنسیخ یا قبۃ الصخرہ کی اہمیت وتقدس کے حوالے سے وضع کر لیے گئے ہیں اور سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے طرز عمل کی اتباع میں اپنے حق کو اس جگہ تک محدود ماننا ہوگا جہاں روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا تذکرہ ملتا ہے اور جسے سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص فرما دیا تھا۔'' ( ۷۴)

آپ کے مضمون میں اٹھائے جانے والے بعض قانونی نکات اور واقعاتی تفصیلات پر بحث واختلاف کی گنجایش موجود ہے، لیکن ان سے قطع نظر کرتے ہوئے موجودہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کے حوالے سے جن صیہونی عزائم کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ اگر درست ہیں تو یقیناًامت مسلمہ کو اپنے حق کا دفاع پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ خدا کرے کہ امت مسلمہ کے دل میں' 'اپنے حق'' کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ''نفس حق'' کو پہچاننے اور اس کو تسلیم کرنے کا جذبہ بھی بیدار ہو جائے۔

محترم حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب اور ادارہ کے دیگر رفقا کی خدمت میں سلام اور آداب عرض ہے۔

محمد عمار خان ناصر-گوجرانوالہ