جناب عمار خان ناصر اور مدیر ’’محدث‘‘ کے مابین مراسلت


[مسجد اقصیٰ کی تولیت]

[ مسجد اقصیٰ کی تولیت کے موضوع پر یہ ''المورد'' کے شعبۂ تصنیف و تالیف کے رکن اور مدیر ماہنامہ ''الشریعہ'' جناب عمار خان ناصر اور ماہنامہ''محدث'' کے مدیر جناب حافظ حسن مدنی کے مابین ہونے والی مراسلت ہے ۔ اس سلسلے کا اولین مراسلہ اگرچہ گزشتہ شمارے میں شائع ہو چکا ہے، مگر سلسلۂ کلام کی تفہیم کے پیش نظر یہاں اسے دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔ مراسلت سے پہلے جناب عمار خان ناصر کا ایک وضاحتی نوٹ بھی شامل اشاعت ہے۔ مدیر]

جناب عمار خان ناصر کی ایک وضاحت

''اشراق'' کے گزشتہ شمارے میں ماہنامہ ''محدث'' کے مدیر حافظ حسن مدنی صاحب کے نام میرا ایک مکتوب شائع ہوا ہے۔ یہ مکتوب ۱۷ مارچ ۲۰۰۷ کو لکھا گیا تھا جس کا جواب مدیر ''محدث'' کی طرف سے مجھے ۲۵ مارچ کو موصول ہوا اور دو تین مزید خطوط کے تبادلے کے بعد یہ مراسلت زیر بحث نکتے کی حد تک مکمل ہو گئی۔ میں اپنا پہلا خط ۱۷ مارچ کو ''اشراق'' میں اشاعت کے لیے بھیج چکا تھا۔ ۲۵ مارچ کو مدیر ''محدث'' کا جواب موصول ہونے پر میں نے فوری طور پر مدیر ''اشراق'' سے رابطہ کیا اور ان سے گزارش کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ پوری مراسلت کو یکجا شائع کرنے کے لیے گنجایش پیدا کریں، ورنہ میرا خط بھی آیندہ شمارے کے لیے موخر کر دیں، لیکن اس وقت تک ''اشراق'' چھپ چکا تھا، چنانچہ اس سلسلۂ مراسلت کے باقی خطوط کو اپریل کے شمارے میں جگہ نہ مل سکی۔ ''اشراق'' کا یہ شمارہ ملتے ہی مدیر ''محدث'' نے فون پر مجھ سے رابطہ کیا اور اس بات پر شکوہ کیا کہ میں نے اپنا خط ''اشراق'' میں اشاعت کے لیے کیوں بھیجا ہے۔ ان کے بقول وہ ''اشراق'' کے ساتھ مکالمہ یا افہام وتفہیم پر مبنی بحث کے قائل نہیں ہیں، اس لیے یہ بحث ''الشریعہ'' اور ''محدث'' تک محدود رہنی چاہیے تھی۔ میں نے واضح کیا کہ میری تحریریں ''الشریعہ'' کے ساتھ ساتھ ''اشراق'' میں بھی باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں اور اس تحریر کا ''اشراق'' میں چھپنا کوئی نئی بات نہیں، تاہم اگر ''اشراق'' میں میرا خط چھپنے سے آپ کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے تو میں اس پر معذرت چاہتا ہوں۔ مجھے بے حد، بے حد افسوس ہے کہ موقر معاصر نے اس بات کو ایک بالکل غلط رنگ دیتے ہوئے اپریل ۲۰۰۷ کے شمارے میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ: '''اشراق' کا رویہ صحافتی بد دیانتی کی زندہ مثال ہے کہ انھوں نے 'اشراق' کے شمارۂ اپریل میں صرف اپنے تیار کردہ محقق کے خط کو من وعن شائع کرنے پر ہی اکتفا کیا ہے جبکہ جناب محمد عمار ناصر نے نہ صرف مجلہ 'اشراق' کو دو طرفہ خطوط مہیا کیے بلکہ ان کے بقول انھیں اکٹھا شائع کرنے کی تاکید بھی کی تھی۔ اشراق کے اس رویہ کی محمد عمار خان ناصر نے باضابطہ معذرت کرتے ہوئے اسے باعث افسوس قرار دیا ہے۔'' (۹۱)

میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ''محدث'' کا مذکورہ بیان سراسر 'محدثانہ' ہے۔ موقر معاصر کو اس سطح پر کیوں اترنا پڑا؟ قارئین اس کا اندازہ اس مراسلت اور بالخصوص اس کے آخری خطوط سے بخوبی کر سکیں گے۔ [عمار ناصر]

جناب عمار خان ناصر اور مدیر ''محدث'' کے مابین مراسلت

——- ۱——-

بردارمحترم حافظ حسن مدنی صاحب ، مدیر ماہنامہ ''محدث'' لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے، مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

''محدث'' کے مارچ ۲۰۰۷ کے شمارے میں ''مسجد اقصیٰ صیہونیوں کے نرغے میں'' کے زیر عنوان آپ کا تفصیلی اور معلوماتی اداریہ پڑھنے کو ملا اور اس بات پر خوشگوار حیرت ہوئی کہ میں نے ''الشریعہ'' کے ستمبر/ اکتوبر ۲۰۰۳ اور اپریل / مئی ۲۰۰۴ کے شماروں میں شائع ہونے والی اپنی تفصیلی تحریروں میں شرعی زاویۂ نگاہ سے اس معاملے کے جس بنیادی پہلو کی طرف اہل علم کی توجہ مبذول کرائی تھی، آپ کی تازہ تحریر میں اس کو تسلیم کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ایک ایسا موقف اختیار کیا گیا ہے جو امت مسلمہ کے مروجہ جذباتی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی موقف سے بالکل مختلف ہے اور جس سے، صورت حال کے واقعی تجزیے اور حکمت عملی کے بعض پہلووں سے قطع نظر، کوئی اصولی اختلاف غالباً نہیں کیا جا سکتا۔ میری پوری بحث کا حاصل یہی تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل سے، جسے قرآن مجید نے ''مسجد اقصیٰ'' کے نام سے یاد کیا ہے، بنی اسرائیل کے حق تولیت کو ازروے شریعت منسوخ قرار دینے کا تصور اور اس کی بنیاد پر تقریباً ۱۵۰۰ فٹ لمبے اور ۱۰۰۰ فٹ چوڑے موجودہ احاطۂ ہیکل (Temple Mount) کے پورے رقبے اور بالخصوص اس کے وسط میں موجودہ صخرۂ بیت المقدس اور اس پر اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان کے تعمیر کردہ 'قبۃ الصخرہ' کو بلاشرکت غیرے مسلمانوں کی ملکیت قرار دینے کا دعویٰ شرعی واخلاقی لحاظ سے درست نہیں، اس لیے مسلمانوں کو اپنا دعویٰ استحقاق تاریخی وواقعاتی بنیاد پر اس احاطے کی جنوبی دیوار کے ساتھ قائم اس مسجد تک محدود رکھنا چاہیے جہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فتح بیت المقدس کے موقع پر نماز ادا کر کے اسے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ (یہ مسجد خود سیدنا عمرنے تعمیر نہیں فرمائی تھی، بلکہ بعد کے دور میں مسلمانوں کی تعمیرکردہ ہے۔ ابتدا میں اسے 'مسجد عمر' کا نام دیا گیا تھا، لیکن رفتہ رفتہ یہ 'مسجد اقصیٰ' ہی کے نام سے معروف ہو گئی، جو ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی ذکر کردہ 'مسجد اقصیٰ' یعنی حضرت سلیمان کی تعمیر کردہ مسجد سے مختلف ایک اصطلاح ہے) آپ نے اپنی تحریر میں اس بنیادی نکتے کو تسلیم فرماتے ہوئے لکھا ہے:

''اس مسجد پر مسلمانوں کے استحقاق کی وجہ تاریخی طور پر یہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اس مقام پر مسجد کو تعمیر کیا تھا تو اس وقت یہ جگہ ویران تھی۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے خود یہاں سے کوڑا کرکٹ صاف کر کے اس مسجد کو قائم کیا تھا۔ خلیفۂ راشد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ جیسا عادل حکمران کسی اور قوم کی عبادت گاہ پر اسلامی مرکز تعمیر کر کے کسی دوسری قوم کا مذہبی حق غصب کرے گا۔'' (محدث، مارچ ۲۰۰۷، ۵)

''اگر یہود اس علاقے میں کوئی ہیکل تعمیر کرنا بھی چاہتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں تو ا س کے لیے مسجد اقصیٰ کا انہدام کیوں ضروری ہے اور وہ عین اس مقام پر ہی کیوں تعمیر ہوتا ہے جہاں یہ مقدس عمارت موجود ہے؟ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں شمال مغربی حصہ اور دیگر بہت سے حصے بالکل خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں اکثر مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ اس قبۂ صخرہ کی کوئی شرعی فضیلت نہیں، حتیٰ کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہاں نماز پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ یوں بھی یہود کے ہاں قبلہ کی حیثیت اس کو حاصل رہی ہے کیونکہ انھوں نے خیمۂ اجتماع کو اپنا قبلہ بنایا ہوا تھا جو قبۂ صخرہ کے مقام سے اٹھا لیا گیا، چنانچہ قبۂ صخرہ کو اس کا آخری مقام ہونے کے ناتے انھوں نے اسے ہی اپنا قبلہ قرار دے لیا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبۂ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر ہی صرف کر رہے ہیں؟'' ( ۱۸)

ان اقتباسات کی روشنی میں میرے ناقص فہم کے مطابق نتیجے کے اعتبار سے آپ کے موقف اور میرے نقطۂ نظر میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ اپنی تحریر کے آخر میں آپ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ:

''امت مسلمہ کے فرزند آج ۴۰ برس گزرنے کے بعد بھی نہ صرف مطمئن وپرسکون ہیں، بلکہ آہستہ آہستہ کوتاہی اور مداہنت یوں اپنا اثر دکھا رہی ہے کہ مسلمانوں میں بعض ایسے کرم فرما بھی پیدا ہو گئے ہیں جو مسجد اقصیٰ کو اسی طرح یہود کی تولیت میں دے دینے کے داعی ہیں جیسے مسلمانوں کے پاس بیت اللہ الحرام کی تولیت ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔'' ( ۲۰)

اگر یہ اشارہ جیسا کہ گمان غالب ہے میری تحریروں کی طرف ہے تو میں، فی الواقع، آپ کی اس تعریض کا مدعا نہیں سمجھ سکا۔ اگر مسجد اقصیٰ سے آپ کی مراد حضرت سلیمان علیہ السلام کا تعمیر کردہ ہیکل ہے جس کا محل وقوع قبۃ الصخرہ کے قریب ہے تو اس پر تصرف اور تولیت کی اجازت،بلکہ ترغیب تو آپ خود بھی یہود کو دے رہے ہیں، اور اگر اس سے مراد حضرت عمررضی اللہ عنہ کے مخصوص کردہ مقام پر تعمیر کی جانے والی مسجد یعنی موجودہ 'مسجد اقصیٰ' ہے تو میری تحریر میں کہیں بھی اس کی تولیت یہود کے سپرد کر دینے کی بات نہیں کہی گئی، بلکہ' 'الشریعہ'' کے اپریل/مئی ۲۰۰۴ کے شمارے میں، میں نے اس بحث کا اختتام ہی اس نکتے پر کیا ہے کہ:

''مسلمانوں کو پوری دیانت داری کے ساتھ اپنے موجودہ موقف پر نظر ثانی کرتے ہوئے ان بے بنیاد مذہبی تصورات کو خیرباد کہنا ہوگا جو پوری عبادت گاہ سے یہود کے حق تولیت کی تنسیخ یا قبۃ الصخرہ کی اہمیت وتقدس کے حوالے سے وضع کر لیے گئے ہیں اور سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے طرز عمل کی اتباع میں اپنے حق کو اس جگہ تک محدود ماننا ہوگا جہاں روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کا تذکرہ ملتا ہے اور جسے سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کی عبادت کے لیے مخصوص فرما دیا تھا۔'' ( ۷۴)

آپ کے مضمون میں اٹھائے جانے والے بعض قانونی نکات اور واقعاتی تفصیلات پر بحث واختلاف کی گنجایش موجود ہے، لیکن ان سے قطع نظر کرتے ہوئے موجودہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کے حوالے سے جن صیہونی عزائم کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ اگر درست ہیں تو یقیناًامت مسلمہ کو اپنے حق کا دفاع پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہیے۔ خدا کرے کہ امت مسلمہ کے دل میں' 'اپنے حق'' کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ''نفس حق'' کو پہچاننے اور اس کو تسلیم کرنے کا جذبہ بھی بیدار ہو جائے۔

محترم حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب اور ادارہ کے دیگر رفقا کی خدمت میں سلام اور آداب عرض ہے۔

محمد عمار خان ناصر

گوجرانوالہ

۱۷/ مارچ ۲۰۰۷

——- ۲——-

لاہور، ۲۵مارچ ۲۰۰۷ء

برادر گرامی محمد عمار خاں ناصر صاحب، مدیر ماہنامہ ''الشریعہ'' گوجرانوالہ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا مراسلہ ملا، شکرگزار ہوں کہ مسجد اقصیٰ کے حالات وواقعات پر مبنی میرے مضمون کا نہ صرف آپ نے مطالعہ کیا، بلکہ اس کی افادیت اور واقعاتی استدلال سے بھی اتفاق فرمایا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اطمینان اس امرپر ہے کہ آپ نے اپنے مراسلے کے آخر میں مسجدِ اقصیٰ کے تحفظ کے بارے میں ان جذبات سے بھی اتفاق ظاہر کیا جو مسلم امہ میں بالعموم پائے جاتے ہیں۔ آپ کے الفاظ میں ''موجودہ مسجد اقصیٰ کے انہدام کے حوالے سے جن صہیونی عزائم کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ اگر درست ہیں تو یقیناًامت مسلمہ کواپنے حق کا دفاع پوری جرات اور استقامت کے ساتھ کرنا چاہیے۔'' مزید برآں میرے موقف پر یہ تبصرہ کہ'' کوئی اصولی اختلاف غالباً نہیں کیا جاسکتا'' لکھ کر بھی آپ نے میرے استدلال کو تقویت بخشی۔

میرا یہ مضمون مسجد اقصیٰ کے بعض حالیہ واقعات کے حوالے سے تھا اور میں نے مضمون کے مقدمہ میں ہی اس امر کی صراحت کردی تھی کہ مسجد اقصیٰ پر دینی رسائل میں جاری شرعی بحث سے اس مضمون کا کوئی تعلق نہیں اور اس حوالے سے مستقل مضمون درکار ہے۔ چنانچہ میرے اس مضمون میں شرعی موقف کو سرے سے پیش نہیں کیا گیا تھا، اس کے باوجود میرے لیے یہ امر چونکا دینے والا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی شرعی تولیت پرتین برس قبل شائع ہونے والے آپ کے طول طویل مباحث اور ان کے نتائج سے آپ نے مجھے بھی ازخود متفق قرار دے لیا ہے اور اس اتفاق کے اظہار کے لیے آپ نے میرے مضمون کے دو اقتباسات پیش کیے ہیں۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان اقتباسات کو سیاق سے کاٹ کر آپ نے اپنے من مانے مفہوم میں لیاہے جبکہ ان سے میرا مدعا ہرگز وہ نہیں جو آپ باور کرا رہے ہیں۔ آپ میرے مضمون کے مطالعے کی بجائے ان سے وہ شواہد تلاش کرتے رہے ہیں جن سے کسی طورآپ کے متنازعہ موقف کی ہم نوائی ہوتی ہو، وگرنہ ان اقتباسات کا یہ مفہوم میرے حاشیہ خیال میں بھی موجود نہیں۔آپ کو بخوبی یاد ہوگا کہ آپ کے مضامین کی اشاعت کے بعد علما کے حلقے میں سے غالباً کوئی ایک رائے بھی آپ کی تائید میں شائع نہیں ہوئی اور مسجد اقصیٰ پر آپ کے مضامین دینی صحافت کے متنازعہ ترین مقالات میں سے ہیں جس پر ''الشریعہ'' کے متعدد مراسلے اور مستقل مضامین بھی شاہد ہیں، جبکہ میرے مضمون کا موضوع ہی اس سے مختلف ہے۔ بہرحال آپ نے یہ الفاظ '' میرے ناقص فہم کے مطابق نتیجے کے اعتبار سے آپ کے موقف اورمیرے نکتہ نظرمیں کوئی خاص فرق نہیں'' لکھ کرجس طرح مجھے اپنا ہم نوا قرار دیا ہے، اس سے میں متفق نہیں ہوں کیونکہ جہاں تک میرے شرعی موقف کا تعلق ہے تو میں اس پر ایک مستقل مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ آپ کے موقف کے بارے میں فی الحال چند تنقیحات پر اکتفا کرتا ہوں :

O کیا آپ صہیونیت کے نام نہاد دعوے 'ہیکل سلیمانی' کے قائل نہیں بلکہ اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کے مؤید بھی ہیں؟

O کیا آپ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی بجائے یہود کو تولیت کا حق دینے کے داعی نہیں ؟

O کیا آپ مسلمانوں کے موقف کو جذباتی، غیر اخلاقی اور غیرشرعی قرار نہیں دیتے؟

O کیا آپ دیوارِ گریہ کے قائل نہیں اور اسے بھی یہود کا حق قرار دیتے ہیں؟

جبکہ دوسری طرف مسلم اُمہ کے زعما بالعموم ان میں سے کسی بات کو تسلیم نہیں کرتے۔

جہاں تک 'واقعاتی نتیجہ' میں بظاہر اتفاق کا مسئلہ ہے تو میری رائے میں اس کی حیثیت بھی چند الفاظ کے اشتراک سے زیادہ کچھ نہیں، حقیقت اور امر واقعہ اس کے عین برعکس ہے۔ ماضی قریب میں آپ کے پیش کردہ'ممکنہ حل ' اور موجودہ مراسلہ کے گہرے مطالعے کے بعد میں پوری بصیرت سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے اور آپ کے پیش کردہ نتیجے میں عملاً کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی۔ آپ احاطہ قدس میں یہودیوں کی شراکت کے قائل ہیں جبکہ میں اس سے متفق نہیں۔ اس سلسلے میں مزید تفصیلات پرگفتگو کرنے سے قبل میری گزارش ہے کہ اس موضوع پر آپ کی سابقہ تحریروں کی غیرمعمولی طوالت کی وجہ سے بعض بنیادی باتوں کے بارے میں آپ کے موقف میں نکھار باقی نہیں رہا۔اشتراک کا شائبہ پیدا ہونے کی وجہ یہی ابہام اور احتمال ہے۔ اگر آپ حسب ذیل سوالات کی دو ٹوک وضاحت فرماسکیں توآپ کے مراسلہ میں ذکر کردہ دعوائے اتفاق پر میں اپنا بادلائل موقف پیش کرسکوں گا۔ اس دوٹوک نکھار کی ضرورت اس لیے زیادہ ہے کہ اس طرح کئی برس سے جاری یہ بحث بہت جلد کسی حتمی نتیجہ پر پہنچ جائے گی:

۱۔مسجد اقصیٰ اور ہیکل سلیمانی آپ کی نظر میں ایک ہی چیز کے دونام ہیں، آپ کے نزدیک اس [حقیقی]۱؂ مسجد اقصیٰ کا مصداق کون سی جگہ ہے؟ قبہ صخرہ، فوارۂ کاس، [حالیہ] مسجد اقصیٰ یا کوئی اور؟

۲۔ [حالیہ] مسجد اقصیٰ جہاں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نمازپڑھی تھی، کیا [حقیقی] مسجد اقصیٰ یہی نہیں؟ اگر نہیں توآپ اس مسجد کو کیا حیثیت دیتے ہیں؟

۳۔ [حقیقی] مسجد اقصیٰ پر کیا مسلمانوں اور یہود ہر دو اقوام کا استحقاق ہے، اگر دونوں کاحق مشترک ہے تو اس حق کی نوعیت کیا ہے اور ان میں سے کس کا حق آپ برتر سمجھتے ہیں؟

۴۔ حق کی برتری کی صورت میں عملاً اس قوم کے لیے آپ کیا اقدام تجویز کرتے ہیں اور مرجوح حق والی قوم کے لیے کیا؟

۵۔ شدرحال والی متفق علیہ حدیث(مساجدِ ثلاثہ) اور مسجد اقصیٰ میں نماز کی فضیلت والے فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کی آپ مسلمانوں کے لیے عملی صورت کیا تجویز کرتے ہیں؟

چونکہ اس بحث کو آپ نے ہی شروع کیا اور ا س کے ہر پہلو پر تفصیل سے تحقیق بھی فرمائی، اس لیے اس بحث کے ان اہم نکات کا دوٹوک جواب بھی اخلاقاً آپ کو دینا چاہیے کیونکہ حق کو واضح ہونا چاہیے اور اس میں کوئی ابہام نہیں رہنا چاہیے۔ بہتر ہوگا کہ آپ دوٹوک اور معروضی اسلوب میں ان کے جواب دے کر تفصیلی دلائل کے لیے اپنے ۱۵۰ صد سے زائد صفحات کے متعین پیرا گرافوں کی نشاندہی کردیں۔مجھے امید ہے کہ آپ کے جوابات کے بعد پیش نظر مسئلہ کافی حد تک از خود ہی واضح ہوجائے گا۔ تاہم آپ کے جواب کے بعد میں بڑی وضاحت اور صراحت سے اپنا تفصیلی موقف تحریر کروں گا، تاکہ اس اہم شرعی مسئلہ پر ہمارے قارئین کسی واضح نتیجہ تک پہنچ سکیں۔ ان شاء اللہ

اللّٰہم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ

حافظ حسن مدنی، لاہور

——- ۳——-

برادرم حافظ حسن مدنی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟

میرے خط کے جواب میں آپ کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ بے حد شکریہ! میں اشتیاق کے ساتھ منتظر رہوں گا کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کے شرعی پہلو سے متعلق آپ کا مستقل مضمون کب معرض تحریر میں آتا ہے اور اس میں آپ کیا نقطۂ نظر اختیار فرماتے اور اس کے حق میں کیا استدلالات پیش کرتے ہیں۔ سردست میں اپنی گزارشات کو آپ کے حالیہ مکتوب کے مندرجات تک محدود رکھوں گا۔

آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے آپ کے مضمون سے اپنے اور آپ کے موقف میں جو اشتراک اخذ کیا ہے، وہ درست نہیں، بلکہ ایسا آپ کے اقتباس کو سیاق وسباق سے ہٹا کر من مانے معنی پہناتے ہوئے کیا گیا ہے۔ تاہم آپ نے اس اقتباس سے میرے اخذ کردہ نتیجے کی تردید تو فرمائی ہے، لیکن اپنے مضمون کے سیاق وسباق کی روشنی میں اس کا صحیح مدعا اور مفہوم واضح کرنے کی زحمت نہیں کی۔ میں آپ کا اقتباس یہاں دوبارہ نقل کرنا چاہوں گا:

''اگر یہود اس علاقے میں کوئی ہیکل تعمیر کرنا بھی چاہتے ہیں جس سے ان کے مذہبی جذبات وابستہ ہیں تو ا س کے لیے مسجد اقصیٰ کا انہدام کیوں ضروری ہے اور وہ عین اس مقام پر ہی کیوں تعمیر ہوتا ہے جہاں یہ مقدس عمارت موجود ہے؟ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں شمال مغربی حصہ اور دیگر بہت سے حصے بالکل خالی ہیں، وہاں وہ قبہ بھی ہے جس کے بارے میں اکثر مسلم علما کا موقف یہ ہے کہ اس قبہ صخرہ کی کوئی شرعی فضیلت نہیں، حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے یہاں نماز پڑھنا بھی گوارا نہیں کیا تھا۔ ...پھر کیا وجہ ہے کہ یہود قبہ صخرہ پر کوئی تصرف کرنے کی بجائے سارا زور مسجد اقصیٰ پر ہی صرف کر رہے ہیں؟'' (محدث، مارچ ۲۰۰۷، ۱۸)

ازراہ کرم آپ واضح فرمائیں کہ جب آپ ہیکل کی تعمیر کے لیے یہود کو موجودہ مسجد اقصیٰ کے بجائے احاطۂ ہیکل ہی میں واقع دیگر مقامات، مثلاً قبۃ الصخرہ وغیرہ کی راہ دکھا رہے ہیں اور یہ بھی بتا رہے ہیں کہ ان مقامات کی آپ کے نزدیک کوئی شرعی فضیلت نہیں تو اس کا مطلب مذکورہ مقامات پر تصرف وتولیت میں عدم دلچسپی ظاہر کرنے کے سوا کیا نکلتا ہے؟ اگر یہود آپ کی دکھائی ہوئی راہ پر چلتے ہوئے قبۃ الصخرہ کی جگہ پر اپنا ہیکل تعمیر کرنا چاہیں تو وہ آخر زمین کے اوپر ہی بنے گا یا 'بغیر عمد ترونہا' فضا میں معلق ہوگا؟ اور اگر آپ یہود کا ہیکل تعمیر کرنے کا حق تو تسلیم کرتے ہیں، لیکن احاطے یا ہیکل کی تولیت میں انھیں کسی طرح بھی شریک کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یہ واضح فرمایے کہ کیا ہیکل کی تعمیر کے بعد یہودی قوانین کے مطابق اس میں رسوم عبادت ادا کرنے اور کاہنوں سے متعلقہ مذہبی خدمات بجا لانے کا فریضہ بھی آپ خود ہی انجام دیں گے؟ اور اگر یہ حق بھی آپ یہود کے لیے تسلیم کرتے ہیں تو مذہبی معنوں میں کسی عبادت گاہ پر تصرف وتولیت اور کیا چیز ہوتی ہے؟

کوئی مصنف جب اپنی تحریر سے واضح طور پر نکلنے والے کسی نتیجے کو 'own 'کرنے سے انکار کرتا ہے تو اس کی وجہ یا تو یہ ہوتی ہے کہ اس نے وہ تحریر اچھی طرح سوچ سمجھ کر نہیں لکھی ہوتی اور یا یہ کہ وہ اپنی تحریر میں ملفوف نتیجے کا واضح اعتراف کرنے کے لیے درکار اخلاقی جرات سے محروم ہوتا ہے۔ میں حسن ظن رکھتا ہوں کہ آپ کے معاملے میں یہ دوسری صورت نہیں پائی جاتی۔

آپ نے اپنے مکتوب کے آخر میں میرے موقف کے حوالے سے جن نکات کی وضاحت طلب فرمائی ہے، ان سب کی تفصیل میں اپنی تحریروں میں پہلے ہی بیان کر چکا ہوں، تاہم آپ کی فرمایش پر انھیں دوبارہ دہرا دیتا ہوں:

۱۔ قرآن مجید نے 'مسجد اقصیٰ' کا لفظ ہیکل سلیمانی کے لیے استعمال کیا ہے۔ موجودہ احاطۂ ہیکل کے اندر اس کا محل وقوع یقینی طور پر معلوم نہیں، تاہم غالب گمان کے مطابق اس کو صخرۂ بیت المقدس (جس کے اوپر اس وقت 'قبۃ الصخرہ' قائم ہے) کے قرب وجوار میں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ صخرہ بنی اسرائیل کے لیے قبلے کی حیثیت رکھتا تھا اور ہیکل کی عمارت کے اندر ہی واقع تھا۔ اس وقت مسلمان جس مسجد کو 'مسجد اقصیٰ' کہتے ہیں، وہ عین ہیکل سلیمانی کی جگہ پر واقع نہیں، بلکہ احاطۂ ہیکل کی جنوبی دیوار کے قریب اس جگہ تعمیر کی گئی ہے، جہاں فتح بیت المقدس کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نماز ادا فرمائی تھی۔

۲ و ۵۔ موجودہ مسجد اقصیٰ، ہیکل سلیمانی (یعنی قرآن مجید کی ذکر کردہ 'مسجد اقصیٰ') کی اصل عمارت کا حصہ نہ ہونے کے باوجود توسیعی طور پر مسجد ہی کے حکم میں ہے، اس لیے اس میں نماز ادا کرنے کی وہی فضیلت اور ثواب ہے جو صحیح احادیث میں مسجد اقصیٰ کے حوالے سے ثابت ہے۔

۳ و۴۔ بنی اسرائیل کی مرکزی عبادت گاہ، قربان گاہ اور قبلہ ہونے کے ناتے سے ہیکل سلیمانی یعنی اصل مسجد اقصیٰ کی تولیت شرعی واخلاقی طور پر انھی کا استحقاق ہے اور قرآن وسنت میں ان کے اس حق کی تنسیخ کی کوئی دلیل نہیں۔ مسلمانوں کا حق اس مسجد کے حوالے سے یہ ہے کہ انھیں یہاں عبادت کرنے کی پوری آزادی حاصل ہو۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہیکل سلیمانی کی اصل عمارت کے بجائے اس سے بالکل ہٹ کر احاطۂ ہیکل کے جنوب میں، جہاں اس وقت موجودہ مسجداقصیٰ واقع ہے، مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ متعین کر کے دونوں اقوام کے مذہبی حق کے تحفظ اور پاس داری کی ایک واضح صورت متعین فرما دی تھی اور امت مسلمہ کو اسی کی پابندی کرنی چاہیے۔

اگر اس ضمن میں مزید کوئی نکتہ وضاحت طلب ہو تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔

محمد عمار خان ناصر

۲۵ مارچ ۲۰۰۷

——- ۴——-

لاہور، ۲۶مارچ ۲۰۰۷ء

برادر محترم جناب محمد عمار خان ناصر

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کا جواب موصول ہونے پرشکرگزار ہوں۔ سردست آپ کے حسب ارشاد اس اقتباس کے سیاق پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں جسے آپ اپنے موقف کی حمایت قرار دینے پر مصر ہیں۔ جیساکہ میں پچھلے مراسلے میں تحریرکرچکا ہوں کہ میں نے حالیہ مضمون شرعی موقف کے حوالے سے عمداً نہیں لکھاکیونکہ اس مضمون کی وجہ تحریر مسجد اقصیٰ پر حالیہ جارحیت بنی تھی نہ کہ دینی رسائل میں جاری ۴سالہ پرانی بحث، اسی بنا پر میں نے مقدمہ میں بھی اس کی صراحت کومناسب خیال کیا۔ چنانچہ میرے اس مضمون میں ان واقعات کو ترتیب وار پیش کیا گیا کہ مسجد اقصیٰ ان دنوں کن حالات سے دوچار ہے۔ اس بنا پر کوئی شخص ان واقعات کے وقوع سے انکارکرے، یا انھیں مفروضہ قرار دے تو ایسااعتراض تو اس مضمون کے ضمن میں کیا جاسکتا ہے، البتہ جب میں نے کوئی شرعی موقف خود بھی اختیار نہیں کیا او ر اس کے دلائل نہیں دیے، تو میری ایک عبارت سے اپنے تئیں وہ موقف کیسے کشید کیا جاسکتا ہے، جس سے تعرض نہ کرنے کا صاحبِ مضمون خود شروع میں اظہار کرچکا ہے۔

آپ کا کہنا ہے کہ ''نتیجے کے اعتبار سے آپ کے موقف اورمیرے نکتہ نظرمیں کوئی خاص فرق نہیں۔'' یہ دعویٰ کرنا اس وقت ممکن ہوتا جب یہ کہاجاسکتا کہ میں نے بھی آپ کے 'ممکنہ حل' کی طرح، اپنے پیش کردہ اقتباس کے ذریعے صہیونی شورشوں کا یہ حل پیش کیا ہے کہ قبہ صخرہ یہود کے حوالے کردیا جائے۔ جبکہ میرے مضمون میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی تسلط کے بعد۴۰ سالہ مختصر تاریخ، ہیکل مزعوم کی تعمیر کے صہیونی جنون کا تذکرہ اورحالیہ جارحیت کے ۴؍ امکانات پیش کرنے کے بعد موجودہ مقام، جہاں یہ جارحیت ہوئی ہے، کی غیرمعمولی اہمیت کو پیش کرنے پر ہی اکتفا کیا گیا ہے اور آخر میں امت مسلمہ کو ان کا فرض یاد دلایا گیا ہے۔ اس مقام کی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے میں نے یہ قرار دیا ہے کہ صہیونیوں کا مزعومہ ہیکل کوئی مجرد دعویٰ نہیں بلکہ اس میں مسجد اقصیٰ کا انہدام ایک لابدی امر ہے کیونکہ ارضِ مقدس کو مسلم شعور سے کھرچنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ میں نے لکھا ہے کہ اگران کے پیش نظر مسجد اقصیٰ کا انہدام نہیں بلکہ محض ہیکل سلیمانی کی تعمیرہوتا تو انھوں نے یہ مزعومہ ہیکل موجود ہ مسجد اقصیٰ کے علاوہ کسی اور نقطہ پر تعمیرکیوں نہیں کیا؟ جبکہ وہاں احاطہ قدس کے باہر بھی جگہیں خالی ہیں، مسجد اقصیٰ کے ماسوا اس احاطے میں بھی خالی مقامات اور اہم عمارتیں مثلاً قبہ صخرہ وغیرہ بھی موجود ہیں، ان کو چھوڑ کر عین مسجد اقصیٰ کے نیچے ہیکل کی موجودگی کا دعویٰ ہندووں کے ا س دعوے کے مشابہ ہے جو وہ ہندوستان میں کئی مساجد کے حوالے سے کرچکے ہیں کہ وہ عین قدیم مندروں پر تعمیر کی گئی ہیں،ایسے دعوے کرنے والوں کے پیش نظر اپنے مرکز کی تعمیرکی بجائے دراصل دوسری قوم کی عبادت گاہ کو مسمار کرنے کا مکروہ عزم کار فرما ہوتا ہے۔ میرے اس اقتباس کا رجحان ہیکل کی تعمیر کے جواز اورا س کا محل ذکرکرنے کی بجائے عین مسجد اقصیٰ کے انہدام کے صہیونی ہدف کی مؤکد نشاندہی اور ان کے عزائم کو آشکارا کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میرے مضمون کے آخر میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ اس پورے احاطہ قدس پر استحقاق صرف مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔ عجب بات ہے کہ ایک عبارت کو لکھنے والے کے مدعا کی بجائے،مضمون کی دیگر عبارتوں سے صرف نظر کرتے ہوئے اور سیاق وسباق کے برعکس اپنے ذہن میں پہلے سے موجود نکتہ کو نہ صرف اصل دعویٰ قرا ردے دیا جائے بلکہ موقف بھی بنا دیا جائے۔ مذکورہ اقتباس کی ترکیب سے بھی میرے موقف ہونے کی نفی ہوتی ہے، کیونکہ یہ سارا اقتباس محض ایک مفروضہ ہے جس کی نشاندہی جملے کے آغاز میں درج لفظ 'اگر' کے ساتھ بھی ہورہی ہے۔

راقم کا تو یہ محض مفروضہ ہے جس کا ہدف بھی وہ ہے جو اوپر ذکر ہوچکا، جبکہ دوسری طرف آپ اس موقف کے پرزور داعی ہیں جیسا کہ پہلے خط کے آخر میں ''الشریعہ'' اپریل۲۰۰۴ء میں شائع شدہ آپ کا اقتباس شاہد ہے۔ آپ کے طویل شرعی موقف کی طرح جس نے دردمندانِ ملت کے دلوں کو زخمی کیا ہوا ہے آپ کا 'ممکنہ حل' بھی معصومیت اور حقائق سے منہ موڑنے کی نادر مثال ہے۔آپ کو راقم کی تحریر کی تہہ میں چھپا ہوا اشتراک تو نظر آتا ہے ، جس کی صریح نفی بھی ساتھ ہی موجود ہے لیکن راقم کے ذکر کردہ ۴۰ برس پر محیط وہ مسلسل صہیونی اقدامات دکھائی نہیں دیتے جو آپ کے 'ممکنہ حل' کا منہ چڑا رہے اور اسے کلیتاً ناقابل عمل بتارہے ہیں۔ میرا مضمون(جسے 'حالات کی رپورٹ اور تبصرہ'کہنا زیادہ بہتر ہوگا) آپ کے ممکنہ حل کی پوری قلعی کھول دیتا ہے۔ آپ ایک بار اپنے سلسلۂ مضامین کا تتمہ (بعنوان 'ممکنہ حل') ملاحظہ فرمالیں اور پھر اس کا راقم کے مضمون سے تقابل کرلیں، تو آپ پر 'مزعومہ اشتراک' کی پوری حقیقت کھل جائے گی: (۱) آپ امت مسلمہ کی بجائے یہود کو مسجداقصیٰ کا متولی قرار دیتے ہیں (۲)اور قبہ صخرہ یا اس کے اردگردکو حقیقی مسجد اقصیٰ کا مصداق سمجھتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ موجودہ مسجد اقصیٰ جہاں حضرت عمررضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی،مسلمانوں کی خودساختہ قرار پاتی ہے (۳) جسے آپ خود ساختہ کہنے کی بجائے حقیقی مسجد اقصیٰ کے توسیعی حکم میں شامل ہونے کی توجیہ فرماتے ہیں۔ قبہ صخرہ کو مسجد اقصیٰ کے حقیقی مصداق ہونے کی بنا پر آپ اسے یہود کو دینے کے پرزور داعی اس بنا پر ہیں کہ آپ کے نزدیک اصل مسجد شرعاً یہود کی زیر تولیت ہی ہونی چاہیے۔ یا د رہے کہ آپ کے موقف کے یہ مرکزی نکات پوری مسلم امہ کے چودہ صدسالہ موقف بلکہ تعامل کے صریح مخالف گویا قرآنی اصطلاح میں 'سبیل المومنین سے انحراف' کے زمرے میں آتے ہیں۔ اب میرے مضمون کو دیکھیے، میں نے ان نظریاتی بحثوں کی بجائے موجودہ مسجد اقصیٰ پر صہیونیوں کے ۴۰ سالہ منفی اقدامات کو ذکر کیا ہے۔ یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ یہود کا ۴۰ سالہ جارحانہ طرز عمل بھی آپ کی اس توجیہ اور 'ممکنہ حل' کی کسی طور تائید نہیں کرتا؟ چنانچہ یہاں پہنچ کر آپ یہود کی بعض تحریروں کا سہارا لیتے ہوئے ان کے کھلے ظالمانہ طرز عمل سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔ میراآپ سے سوال ہے کہ اگر یہود قبہ صخرہ پر ہیکل سلیمانی تعمیرکرناچاہتے ہیں تو

۱۔ ان کی تمام کوششیں مسجد اقصیٰ کومسمار کرنے پر کیوں مرکوز ہیں، گزشتہ ۴۰ برسوں میں قبہ صخرہ یا کوئی او رمقام ان کی جارحیت کا نشانہ یا عزائم کا مرکز کیوں نہیں ٹھہرا جبکہ آپ کے خیا ل میں یہود کے نزدیک یہی مقام مزعومہ ہیکل کا اصل مرکز ہے۔ یا د رہے کہ یہ قبہ بھی موجودہ مسجد اقصیٰ کی طرح مسلم خلیفہ ولید بن عبدالملک بن مروان کا ہی تعمیر کردہ ہے کیونکہ علامہ ابن تیمیہؒ کی تصریح کے مطابق دور خلفاے راشدین میں صخرہ بیت المقدس محض ایک ننگی چٹان تھی۔

۲۔ صہیونیوں نے سرنگیں بھی مسجداقصیٰ کے نیچے کھودی ہیں تاکہ وہ ازخود منہدم ہوجائے نہ کہ قبہ صخرہ کے نیچے ، اگر ان کا ہدف قبہ صخرہ (آپ کے نزدیک: مزعومہ ہیکل کا مرکز)ہے توان کی جارحیتوں کا مرکز مسجد اقصیٰ کیوں ہے؟

۳۔ یہود کے نزدیک مزعومہ ہیکل سلیمانی کی آخری یادگار(مزعومہ دیوار گریہ) بھی مسجد اقصیٰ کے بالکل متصل ہے جبکہ قبہ صخرہ تو اس سے کہیں فاصلے پر ہے۔اس سے بھی پتا چلتا ہے کہ یہود موجودہ مسجداقصیٰ کو ہی ہیکل سلیمانی کا مرکز سمجھتے ہیں نہ کہ قبہ صخرہ کو۔

۴۔یہود نے ۱۹۸۸ء اور ۱۹۸۹ء میں مسجد اقصیٰ میں ہیکل سلیمانی کا دوبار سنگ بنیاد رکھا اور یہ دونوں مقام قبہ صخرہ سے کافی دور جبکہ موجودہ مسجد اقصیٰ سے ملحق تھے۔

۵۔ صہیونیوں نے ۴ بار جس مقام کو بم سے اڑانے کی کوشش کی ، وہ مقام بھی مسجد اقصیٰ ہے نہ کہ قبہ صخرہ!

۶۔ حالیہ شورشوں اور جارحیتوں کا مرکز باب المغاربہ ہے جو مسجد اقصیٰ کا براہِ راست دروازہ ہے، مزید برآں اسرائیلی تسلط کے فوراً بعد ۱۹۶۷ء میں اس سے ملحق محلہ حی المغاربہ ہی صہیونی جارحیتوں کا مرکز بناتھا،یہ شورشیں کبھی قبہ صخرہ کے براہ راست دروازوں اور محلوں پر نہیں ہوئیں۔ایسے ہی حالیہ جارحیت کا مقصد بھی اسی جنوب مغربی حصہ کو ہی مسمار کرنا ہے۔اس سے بھی بخوبی یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ یہودی مسجد اقصیٰ ہی کو نعوذ باللہ مسمار کرکے وہاں اپنا خود ساختہ ہیکل بنانے کا ارارہ رکھتے ہیں۔

۷۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ۱۱اپریل ۲۰۰۵ء کوایریل شیرون نے واشنگٹن میں جو منصوبہ امریکی حکومت کو پیش کیا ہے اورامریکی حکومت نے اس کی تائید کی ہے، وہ مسجداقصیٰ کے مقام پر ہیکل کی تعمیر کا ہے، نہ کہ قبہ صخرہ کی جگہ پر۔ ان کا منصوبہ ہے کہ وہ احاطہ قدس کو مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں یعنی جنوب مغربی حصہ (موجودہ مسجداقصیٰ) پر اپنے ہیکل کی تعمیر اور قبہ صخرہ کو مسلمانوں کے لیے چھوڑ دینا۔

مذکورہ بالا نکات کے بعد پورے وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ آپ کا یہ کہنا کہ یہود قبہ صخرہ پر ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، اور وہ اسے ہی قدیم مسجد اقصیٰ کا مصداق تصور کرتے ہیں ، اور یہی آپ کی نظر میں ممکنہ حل بھی ہے(جس میں آپ مجھے بھی اپنے تئیں شریک جرم ٹھہرا رہے ہیں) زمینی حقائق، ۴۰ سالہ واقعات اور اسرائیلی سرکاری منصوبوں سے نہ تو اس دعوے کی کسی طور تائید ہوتی ہے اور نہ ہی یہ کوئی قابل عمل حل قرار پاتا ہے۔اس کے بعد برادر موصوف کی یہ بے جا معصومیت ہے کہ وہ مسلم امہ کے حق اور زمینی حقائق سے بے پروا ہوکر ، ان غیروں کے حق کی جستجو میں اپنی اور دوسروں کی صلاحیتیں کھپا رہے ہیں جن کی مسلم دشمنی پر قرآن کریم میں کئی آیات شاہد ہیں۔ یہ بھی یادرہے کہ اپنے مضامین کے آغاز میں انھوں نے مسلمانوں کو اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے اپنے سارے استدلال کی بنیاد قانون کی بجائے اخلاقیات پر استوار کی ہے۔لیکن اسرائیل کے فلسطینیوں سے ظالمانہ رویہ سے چشم پوشی کرتے ہوئے ان کے پورے مضمون میں اخلاقیات کا یہ وعظ کہیں یہود کے لیے دکھائی نہیں دیتا۔

مجھے بخوبی احساس ہے کہ ایک حساس علمی اور تاریخی موضوع کے نتائج کو دلائل و حقائق سے صرف نظر کرتے ہوئے جس طرح میں نے قارئین کی غیرمعمولی استعداد کے سہارے پرذکر کردیا ہے، اس سے استفادہ کافی مشکل ہوگا۔ لیکن برادر محترم نے ہی ایک ایسے مسئلہ میں مجھے الجھا کر جو ابھی مستقلاً موضوع بحث نہیں تھا، ہمیں اس مشترکہ الجھن سے دوچار کیا ۔ ان کا اپنے دعویٰ پر لگاتار اصرار ہی اس تحریر کا باعث بنا ہے، وگرنہ میں اب بھی اس پوری بحث کو مستقل طورپر کتاب وسنت، تعامل صحابہؓ اور ائمہ اسلاف کے دلائل وبراہین سے مزین کرکے کسی اور موقعہ پر نکات وار تفصیلاً پیش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔واضح رہے کہ میرے اس مراسلے کا تمام تر دارومدار بھی حقائق وواقعات ہی ہیں نہ کہ شرعی استدلال! جناب عمار کو میری تحریر میں سے اپنے مطلوبہ نکات کشید کرنے کی بجائے میرے مرکزی استدلال پراپنی توجہ صرف کرنی چاہیے۔ مذکورہ بالا واقعاتی تفصیلات میرے حالیہ مضمون میں موجود ہیں جس سے مزعومہ اشتراک کشید کرنے کی بجائے کہیں بہتر ہوتا کہ وہ اپنے 'ممکنہ حل' کا میرے پیش کردہ واقعات کی روشنی میں جائزہ لے لیتے تو اپنے موقف پر مجھے گھسیٹنے کی بجائے، اس درست موقف کی طرف رجوع کرلیتے جو صدیوں سے امت مسلمہ کا رہا ہے اور اپنے اس 'ممکنہ حل' پر بھی اصرار نہ کرتے جس کی تردید یہود کے ۴۰ سالہ مسلسل عمل سے ہوتی ہے۔ واللہ الموفق!

مخلص

حافظ حسن مدنی

——- ۵——-

برادرم حافظ حسن مدنی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ مزاج گرامی؟

میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث ہے کہ آخرکار آپ کو اپنے اس اقتباس کی، جس سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ آپ قبۃ الصخرۃ وغیرہ کی کوئی شرعی فضیلت واہمیت نہ ہونے کے باعث امت مسلمہ کے لیے اس کی تولیت کے دعوے دار نہیں ہیں، ایک تاویل سوجھ گئی ہے، یعنی یہ کہ یہ سارا اقتباس آپ کی حقیقی رائے کا ترجمان نہیں، بلکہ محض ایک ''مفروضے'' پر مبنی تھا۔ میرا خیال ہے کہ اس صورت حال میں قارئین بہترین منصف ہوتے ہیں، اس لیے میں مزید بحث میں اپنا اور آپ کا وقت ضائع کرنے کے بجائے یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس نکتے کا فیصلہ ''الشریعہ'' اور ''محدث'' کے قارئین پر چھوڑ دیا جائے۔ ۲؂

البتہ میں یہ ضرور واضح کرنا چاہوں گا کہ ''محدث'' کی یہ روش نئی نہیں ہے۔ اس سے قبل جب میری رائے ۲۰۰۳ء میں پہلی مرتبہ ''الشریعہ'' اور ''اشراق'' میں شائع ہوئی تھی تو ''محدث'' کے غالباً نومبر اور دسمبر ۲۰۰۳ کے شماروں میں اس پر ایک ''بلند پایہ علمی تنقید'' شائع ہوئی تھی۔ اس کی پہلی قسط میں 'فاضل' مضمون نگار (جناب عطاء اللہ صدیقی) نے موجودہ عرب زعما کے اس موقف کی پرزور تائید کی تھی کہ بیت المقدس میں ہیکل سلیمانی کا تاریخ میں کبھی کوئی وجود نہیں رہا اور یہ محض ایک صہیونی مفروضہ ہے، لیکن مضمون کی دوسری قسط میں، سابقہ رائے میں کسی قسم کی تبدیلی کا کوئی تاثر دیے بغیر، اس کے بالکل برعکس یہ موقف سامنے آگیا کہ حضرت سلیمان کی تعمیر کردہ مسجد اقصیٰ یعنی ہیکل سلیمانی پر یہود کا حق تولیت شریعت اسلامی کی رو سے منسوخ کر دیا گیا ہے۔ میں نے ایک خط میں مضمون نگار سے دریافت کیا تھا کہ اگر ہیکل سلیمانی کا کبھی کوئی وجود ہی نہیں تھا تو شریعت اسلامی نے یہود کا حق تولیت آخر کس چیز سے منسوخ کیا ہے؟ تاہم انھوں نے اس کا کوئی جواب دینا پسند نہیں کیا۔ مجھے نہیں معلوم کہ انھیں ازخود اپنے پہلے موقف کے ناقابل دفاع ہونے کا احساس ہوا اور انھوں نے چپکے سے پینترا بدل لیا یا ادارہ ''محدث'' نے اعلیٰ صحافیانہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا موقف مضمون نگار کی طرف منسوب کر دیا۔ یہ خط آپ کی دلچسپی کے لیے منسلک ہے۔

بہرحال اس سارے معاملے پر مجھے کوئی حیرت نہیں۔ آپ کے لیے 'عالم عرب' کے موقف سے کھلا اختلاف نہ کر سکنا پوری طرح قابل فہم ہے۔ میں آپ کے شرعی موقف اور اس کے دلائل پر مبنی مقالہ کا شدت سے منتظر رہوں گا۔

محمد عمار خان ناصر

۲۶ مارچ ۲۰۰۶

جناب عمار خان ناصر کا جناب عطاء اللہ صدیقی کے نام مکتوب

مکرمی عطاء اللہ صدیقی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔

مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنے نقطۂ نظر پر آپ کی تنقید میں نے بغور پڑھی ہے۔ یہ نقطۂ نظر ظاہر ہے، اسی لیے پیش کیا گیا تھاکہ اہل قلم اس پر تنقید کریں تاکہ معاملہ ہر پہلو سے منقح ہو سکے۔ یہ عریضہ ا س بات پر آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں کہ آپ نے اپنے علم وفہم اور افتاد طبع کے مطابق اس بحث میں حصہ لیا اور گو بنیادی مسئلے پر میری رائے میں سردست کوئی تبدیلی نہیں آئی، تاہم آپ کی تنقید میں بعض نئے نکات اٹھائے گئے ہیں اور بعض جزوی چیزوں کے حوالے سے مجھے اپنے مضمون کے مندرجات کا ازسرنو جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔

اس ضمن میں آپ کے نقطۂ نظر کے حوالے سے ایک بات البتہ وضاحت طلب ہے۔ عالم عرب کے موجودہ رہنما اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ہیکل سلیمانی موجودہ 'الحرم الشریف' کی چار دیواری کے اندر کہیں واقع تھا، چنانچہ وہ یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کی بحث سے بھی کوئی تعرض نہیں کرتے، اس لیے کہ یہ بحث 'relevant 'ہی اس صورت میں قرار پاتی ہے جب تباہ شدہ ہیکل کا مقام اس احاطۂ مقدسہ کے اندر تسلیم کیا جائے جو اس وقت مسلمانوں کے زیرتصرف ہے۔ لیکن آپ نے اپنے مضمون کے پہلے حصے میں تو عالم عرب کے نقطۂ نظر کا دفاع کیا ہے، لیکن دوسرے حصے میں حق تولیت کی تنسیخ کے نقطۂ نظر کے حق میں بھی دلائل فراہم کر دیے ہیں۔ میں، فی الواقع، نہیں سمجھ سکا کہ اگر ہیکل موجودہ احاطہ مقدسہ کے اندر تھا ہی نہیں تو پھر یہود کا حق تولیت آخر کس چیز پر سے منسوخ کیا گیا ہے؟ اگر آپ اپنے موقف کی وضاحت فرما سکیں تو ممنون ہوں گا۔

عمار ناصر

۱۱ دسمبر ۲۰۰۳

———————-

۱؂ ان سوالات میں [ ] میں درج الفاظ کی تقسیم جناب عمار ناصر صاحب کی ہے، محض تعین کے لیے ان کو استعمال کیا گیا ہے۔

۲؂ قارئین فیصلہ کرتے وقت یہ نکتہ بالخصوص ملحوظ رکھیں کہ میں نے اپنے پہلے خط میں برادرم حسن مدنی صاحب کے دو اقتباسات نقل کیے تھے جن میں سے دوسرے اقتباس کو تو انھوں نے 'اگر' کے لفظ کا سہارا لیتے ہوئے ''مفروضہ'' قرار دیا ہے، لیکن پہلے اقتباس پر نظر ڈالنے کی زحمت نہیں کی۔ حضرت عمر کے ہاتھوں موجودہ مسجد اقصیٰ کی تاسیس اور اس پر مسلمانوں کے استحقاق کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے: ''خلیفۂ راشد حضرت عمر کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ آپ جیسا عادل حکمران کسی اور قوم کی عبادت گاہ پر اسلامی مرکز تعمیر کر کے کسی دوسری قوم کا مذہبی حق غصب کرے گا'' جس کا مطلب یہ ہے کہ جس جگہ حضرت عمر نے مسجد قائم کی، وہ یہود کی عبادت گاہ کا محل وقوع نہیں تھی، ورنہ حضرت عمر کا یہ اقدام 'غصب' قرار پاتا۔ حسن اتفاق سے یہ اقتباس 'اگر' سے شروع نہیں ہوتا، لیکن اب وہ اپنے خطوط میں فرماتے ہیں کہ موجودہ مسجد اقصیٰ ہی حقیقی مسجد اقصیٰ (یعنی حضرت سلیمان کا تعمیر کردہ ہیکل) ہے اور اس پر مسلمانوں کا حق جتانا 'غصب' نہیں بلکہ ان کا شرعی وتاریخی 'حق' ہے۔ (عمار)