مرنے والے کی جبیں روشن ہے اس ظلمات میں


[دیو بند کے مدرسۂ فکر کے معروف عالم دین مولانا صوفی عبدالحمید سواتی ۶ اپریل ۲۰۰۸ کو قضاے الٰہی سے وفات پا گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ ہمارے رفیق جناب عمار خان ناصر کا تعلق انھی کے خانوادے سے ہے۔ زیر نظر تحریر میں عمار صاحب نے مولانا کی شخصیت اور طرز زندگی کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ قارئین ''اشراق'' امید ہے کہ اس سے مستفید ہوں گے۔ مدیر]

استاذ گرامی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی رحمۃ اللہ علیہ کا تعارف خاندان کے ایک بڑے بزرگ اور سرپرست کی حیثیت سے تو بچپن ہی سے تھا اور مجھے یاد ہے کہ بہت چھوٹی عمر میں والد محترم نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض مختصر احادیث کا متن اور ترجمہ یاد کرایا تو ایک موقع پر مجھے لے کر صوفی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میں نے ایک آدھ حدیث اور اس کا ترجمہ سنا کر ان سے برکت کی دعا حاصل کی، تاہم مجھے انھیں نسبتاً قریب سے دیکھنے اور ان سے باقاعدہ شرف تلمذ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی ذاتی شفقت اور عنایت سے بہرہ ور ہونے کا موقع ان کی آخری عمرمیں ہی ملا۔ ان کی حیات کا بڑا حصہ جو تعلیمی، تدریسی، تصنیفی اور سیاسی سرگرمیوں سے بھرپور رہا ہے، میرے براہ راست مشاہدے میں نہیں رہا۔ چنانچہ ان کے کمالات واوصاف کا کوئی جامع مرقع کھینچنا میرے لیے اپنے محدود اور جزوی مشاہدے کی بنا پر ممکن نہیں۔ البتہ ان کی غیر معمولی شخصیت کے بعض نہایت نمایاں نقوش یقیناًمیرے محسوسات وتاثرات میں مرتسم ہیں اور انھیں قارئین تک منتقل کرنا بھی شاید کسی حد تک ممکن ہے۔

صوفی صاحب چھوٹوں اور بڑوں، سب کے بزرگ تھے۔ ان کی بزرگانہ شفقت سے ہر شخص اپنا حصہ پاتا تھا اور میری طرح غالباً ہر شخص یہ محسوس کرتا تھا کہ اسے ان کی خاص توجہ اور عنایت حاصل ہے۔ ۱۹۹۱ء میں، میں نے مدرسہ نصرۃ العلوم کے درس نظامی کے شعبے میں درجۂ سادسہ میں داخلہ لیا تو صوفی صاحب پیرانہ سالی کے تقاضے سے تدریسی مصروفیات کو دورۂ حدیث اور موقوف علیہ کے دو تین اسباق تک محدود کر چکے تھے۔ والد گرامی سے سن رکھا تھاکہ صوفی صاحب عربی ادب کے ساتھ خاص شغف رکھتے ہیں اور ایک عرصے تک درسی وغیر درسی کتب ادب کی تدریس خاص ذوق کے ساتھ فرماتے رہے ہیں۔ میں نے اسی مناسبت سے فرمایش کی کہ میں آپ سے ''السبع المعلقات'' پڑھنا چاہتا ہوں۔ طبعی طور پر تدریس ان کے لیے اب کوئی خاص دل چسپی کی چیز نہیں رہ گئی تھی، لیکن انھوں نے کمال شفقت کا مظاہرہ کیا اور مدرسے کی تعطیلات کے دنوں میں صرف ایک طالب علم کو ادب جاہلی کے سات طویل قصیدے پڑھانے کی زحمت گوارا فرمائی۔ استاذ گرامی کی شفقت کا یہ سلسلہ اس کے بعد آخر دم تک قائم رہا۔ دورۂ حدیث کے سال وہ اپنی جیب خاص سے ہر ماہ مجھے تبرک عنایت فرماتے تھے۔ ایک موقع پر میں نے اس پر تردد ظاہر کیا تو فرمایا کہ ''جب تک پڑھ رہے ہو، تب تک ہی ملیں گے، پھر کون دے گا؟''

صوفی صاحب اپنے مزاج کے لحاظ سے تواضع اور انکسار کا پیکر تھے۔ وہ علمی وعملی مسائل کے حوالے سے سوچی سمجھی اور دوٹوک راے رکھتے تھے اور اس کے اظہار میں بھی کسی رو رعایت سے کام نہیں لیتے تھے، لیکن انھوں نے کبھی اپنی علمی حیثیت اور اپنا بزرگانہ استحقاق جتلانے یا اپنی راے دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش نہیں کی۔ مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ صوفی صاحب کی یادگار ہے۔ مدرسے کے قیام کے بعد جلد ہی اس کا انتظام وانصرام ان کے سپرد کر دیا گیا تھا اور ملک بھر، بلکہ دنیابھر میں اسے جو تعارف حاصل ہے، وہ بلاشبہ صوفی صاحب کے علم، استقلال، خلوص اور للہیت کا ثمر ہے، لیکن انھوں نے اسے اپنی ذات کو نمایاں کرنے کا ذریعہ نہیں بنایا، حتیٰ کہ اپنے علمی ذوق و رجحان اور تعلیمی تصورات کی تجربہ گاہ بنانے کی کوشش بھی نہیں کی جو ان کا ایک بالکل جائز حق تھا۔ دینی مدارس کے نصاب اور طرز تعلیم کے بارے میں ان کے خیالات و نظریا ت عام روش سے ہٹ کر تھے اور ''ہمارا تعلیمی وتبلیغی لائحۂ عمل'' کے عنوان سے انھوں نے مدرسہ نصرۃ العلوم کا جو بالکل ابتدائی تعارف لکھا، اس میں ان کی بھرپور عکاسی ہوئی ہے، لیکن مدرسہ کے عملی نظام کی تشکیل انھوں نے اپنے تصورات کے مطابق نہیں کی جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اپنے وژن کو عملی صورت میں متشکل کرنے کے لیے ہم خیال اور ہم ذوق رفقا کی جو ٹیم درکار تھی، وہ غالباً انھیں میسر نہیں آ سکی، جبکہ مختلف ذوق اور رجحانات کے حامل رفقا پر اپنے تصورات مسلط کرنا ان کے مزاج کے خلاف تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ اپنی علمی دلچسپیوں، تحقیقی ذوق، شخصی مزاج اور افکار و نظریات کے حوالے سے صوفی صاحب نے ایک تنہا فرد کی زندگی بسر کی ہے۔ مدرسے کے مزاج اور ماحول کو اپنے رنگ میں رنگنا تو کجا، جب نصف صدی تک مدرسے کی خدمت کرنے اور اپنی جوانی اور بڑھاپا اس کی ترقی میں صرف کر دینے کے بعد عمر کے آخری دور میں بعض مسائل کے حوالے سے مدرسے کی قدیمی انتظامیہ کے ساتھ اختلاف پیدا ہو گیا تو صوفی صاحب نے محاذ آرائی یا تنازع کی کوئی صورت پیدا کیے بغیر خاموشی کے ساتھ اپنے خاندان سمیت مدرسے کے انتظامی اور تعلیمی معاملات سے الگ ہو جانے کا فیصلہ کر لیا اور واقعہ یہ ہے کہ اگر شہر کے علما مدرسے کی بہی خواہی کے جذبے سے اس معاملے میں مداخلت کر کے معاملات کا رخ نہ موڑتے تو صوفی صاحب اپنے اس فیصلے پر عمل کر گزرتے۔

انھیں اکابر دیوبند کے ساتھ بے پناہ محبت تھی اور وہ موقع بہ موقع ان بزرگوں بالخصوص شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ اور مولانا سید حسین احمد مدنی کے تقویٰ، للہیت، خلوص اور کردار کا حوالہ دیتے نہیں تھکتے تھے۔ ایک موقع پر حدیث کے درس میں کسی مناسبت سے ان حضرات کا ذکر آ گیا تو گویا ان کے دل کے تار کسی نے چھیڑ دیے۔ اس دن کا سبق ان بزرگوں کی جدوجہد اور قربانیوں کے تذکرے کے لیے وقف رہا۔ گفتگو کرتے کرتے ان پر رقت طاری ہو گئی اور انھوں نے اپنی محبت اور جذبات کے اظہار کے لیے کسی عرب باندی کے اس شعر کا سہارا لیا کہ:

سادتی ان شرقوا او غربوا ویلی

وان عاشروا غیرنا ویل علٰی ویل

''میرے آقا (مجھے چھوڑ کر) مشرق کی طرف جائیں یا مغرب کی طرف، میرے لیے بربادی ہے۔ اور اگر وہ ہمارے علاوہ کسی اور کو اپنی رفاقت کے لیے منتخب کر لیں تو بربادی پر بربادی ہے۔''

دورۂ حدیث کے سال ہمیں ان سے صحیح مسلم اور جامع ترمذی کے ایک حصے کے علاوہ ''حجۃ اللہ البالغہ'' پڑھنے کاموقع ملا۔ وہ طول طویل مباحث سے گریز کرتے تھے اور حوالہ جات اور دلائل کا انبار لگانے کے بجاے زیر بحث مسئلے سے متعلق اصل نکتے کی مختصر اور جامع وضاحت پر اکتفا کرتے تھے۔ طول بیانی انھیں ویسے بھی پسند نہیں تھی اور وہ مختصر اور متعین طرز گفتگو کو پسند کرتے تھے۔ میں نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یونانی فلاسفہ کے طریق استدلال پر امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی نقد کیا ہے اور امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی، ان میں سے کس کا نقد زیادہ وزنی ہے؟ فرمایا کہ ابن تیمیہ کا غزالی کے ساتھ کوئی تقابل نہیں۔ میں نے عقل ونقل کے مابین تعارض کے موضوع پر ان کی طویل تصنیف پڑھی ہے۔ وہ تقریر لمبی چوڑی کرتے ہیں، لیکن اس میں مغز بہت تھوڑاہوتا ہے۔ مولانا حمید الدین فراہی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر ہوا تو فرمایا کہ وہ بڑے عالم تھے، لیکن مولانا امین احسن اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کی ''تدبر قرآن' 'میں الفاظ کا بے محابا استعمال کیا گیا ہے۔ بیرون ملک سے ایک بزرگ عالم پاکستان تشریف لائے اور صوفی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ خاصی دیر نشست رہی جس میں وہ عالم بے تکان بولتے اور صوفی صاحب خاموش سنتے رہے۔ بعد میں یہ بے تکلف تبصرہ کیا کہ ان کے بارے میں سنتے آ رہے تھے کہ بڑے فاضل شخص ہیں، لیکن یہ تو نری باتوں کی پٹاری ہیں۔

وہ اپنے اختلاف راے کا اظہار بالکل دوٹوک کرتے تھے اور اپنے احساس اور تاثر کا ابلاغ بھی کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر پوری وضاحت سے کر دیتے تھے۔ والد محترم کی روایت ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ 'وحدت الوجود' کے حوالے سے شیخ ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کے موقف سے شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے اختلاف کا ذکر کیا اور صوفی صاحب سے ان کی راے معلوم کرنا چاہی۔ صوفی صاحب نے بے تکلف فرمایا کہ ''بھئی! جس کی سمجھ میں بات نہیں آئے گی، وہ یہی کہے گا۔'' اپنی کتاب ''مولانا عبید اللہ سندھی کے علوم وافکار'' میں انھوں نے مولانا سندھی کے حوالے سے پائی جانے والی شدید مخالفانہ فضا میں ان کی ذات اور افکار و خیالات پر کیے جانے والے اعتراضات کا پورے اعتماد کے ساتھ سامنا کیا ہے اور مولانا سندھی کے موقف کی درست تفہیم کی کوشش کی ہے۔ اسی کتاب میں انھوں نے قیام پاکستان کے حوالے سے مسلم لیگ کے موقف کی تائید کرنے والے علما کے علم وتقویٰ کا پورا اعتراف کرتے ہوئے ان کے سیاسی موقف پر بے باک تبصرہ کیا ہے جس پر انھیں مخالف حلقے کی طرف سے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ نہ صرف خود علمی اختلاف کا حق پورے اعتماد سے استعمال کرتے تھے، بلکہ اس کی حوصلہ افزائی بھی فرماتے تھے۔ ۱۹۹۶ء میں مدرسہ نصرۃ العلوم کے شعبۂ نشر واشاعت نے ''امام ابوحنیفہؒ اور عمل بالحدیث'' کے عنوان سے میری اولین تصنیف شائع کی جس کا موضوع امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی آرا پر دوسری صدی ہجری کے مشہورمحدث امام ابوبکر ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ کے وہ اعتراضات تھے جو انھوں نے اپنی کتاب ''المصنف'' کے ایک مستقل باب میں درج کیے ہیں۔ اس کتاب کا نام بھی حضرت صوفی صاحب ہی کے مشورے سے تجویز ہوا تھا۔ میں نے ابن ابی شیبہ کے اعتراضات کے جواب میں اپنے فہم کی حد تک امام ابو حنیفہ کا نقطۂ نظر او ر استدلال واضح کرنے کی کوشش کی، تاہم بعض مقامات پر مجھے احناف کے استدلال پر اطمینان نہیں ہو سکا۔ اس ضمن میں حضرت صوفی صاحب سے بھی گفتگو ہوئی اور انھوں نے میرے اشکالات کے حوالے سے احناف کے استدلال کو واضح کیا، تاہم اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر کسی مسئلے میں تمھارا احناف کے موقف پر اطمینان نہیں ہوتا اور تم کسی دوسری راے کو ترجیح دیتے ہو تو ایسا کرنے سے تم حنفیت سے خارج نہیں ہوگے۔

استاذ گرامی اور جد مکرم شیخ الحدیث مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے اپنی تدریسی وتصنیفی زندگی کے بالکل آخری دورمیں حیات و نزول مسیح علیہ السلام کے موضوع پر ''توضیح المرام'' تصنیف فرمائی۔ میں ان دنوں مدرسہ نصرۃ العلوم میں تدریس کے فرائض انجام دیا کرتا تھا۔ ایک دن مدرسے پہنچا تو صوفی صاحب اپنے معمول کے مطابق دفتر انتظام کے باہر چارپائی پر تشریف فرما تھے اور مدرسے کے سینئر استاذ مولانا عزیز الرحمن مرحوم ومغفور کے ساتھ تبادلۂ خیال کر رہے تھے۔ میں نے سلام کیا تو مجھے بھی پاس بٹھا لیا اور فرمایا کہ بھئی! ہم شیخ الحدیث صاحب کی کتاب ''توضیح المرام'' کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ تم بتاؤ، تمھاری اس کے بارے میں کیا راے ہے؟ میں نے اپنے تاثر کے اظہار میں ذرا جھجک محسوس کی تو وہ سمجھ گئے اور فرمایا کہ کھل کر اپنی راے بتاؤ، اس سے تمھارے دادا کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ میں نے عرض کیا کہ ان کی سابقہ تصنیفات سے جو علمی وتحقیقی معیار سامنے آتا ہے، اس کتاب میں وہ ملحوظ نہیں رکھا جا سکا۔ صوفی صاحب نے اس سے اتفاق کیا اور فرمایا کہ ہم بھی یہی بات کر رہے تھے۔

فقہی مسائل اور جزئیات کو دیکھنے کا بھی ان کا ایک اپنا زاویۂ نگاہ تھا اور وہ فقہی کتابوں میں درج جزئیات کی لفظی پابندی کے بجاے فقہی اصولوں کی رعایت کا زیادہ اہتمام کرتے تھے۔ مثلاً ان کی راے یہ تھی کہ روزے کی حالت میں انجکشن لگوایا جائے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس پر انھوں نے مفصل مقالہ بھی لکھا جس میں فقہی اصولوں اور طبی معلومات کی روشنی میں اپنے نقطۂ نظر کو استدلال سے واضح کیا ہے۔ اسی طرح فقہی کتابوں میں نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق کو اس شرط کے ساتھ جائز بتایا گیا ہے کہ اگر معاملہ طے کرتے وقت فریقین کے مابین ایک متعین قیمت طے پا جائے جس میں کمی بیشی کا امکان نہ رہے تو نقد کے مقابلے میں ادھار قیمت میں اضافہ کرنا درست ہے۔ معاصر اسلامی بنکنگ میں اسی بنیاد پر ''مرابحہ''کے عنوان سے چیزوں کو ادھار فروخت کر کے نقد کے مقابلے میں زیادہ قیمت لینے کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ صوفی صاحب کی راے یہ تھی کہ فقہا نے جس تناظرمیں اس معاملے کو جائز قرار دیا ہے، وہ مختلف ہے، جبکہ معاصر تناظرمیں یہ طریقہ سودی کاروبار کو جواز فراہم کرنے کے لیے ایک حیلے کے طورپر استعمال ہو رہا ہے، اس لیے محض فقہی کتابوں میں مذکور جواز کو بنیاد بنانے کے بجاے موجودہ معاشی عرف کو بھی ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ برادرم مولانا محمد یوسف کی روایت ہے کہ انھوں نے ایک موقع پر جبراً لی جانے والی طلاق کے واقع ہو جانے سے متعلق احناف کے موقف پر اپنا اشکال صوفی صاحب کی خدمت میں پیش کیا اور کہا کہ جب قرآن مجید نے جبر واکراہ کے تحت کہے گئے کلمۂ کفر کو بھی موثر تسلیم نہیں کیا تو دل کے ارادے اور مرضی کے خلاف دی جانے والی طلاق کیونکر موثر قرار دی جا سکتی ہے؟ صوفی صاحب نے فرمایا کہ اس جزئیے کا صحیح محل یہ ہے کہ قاضی یا حاکم کسی شرعی مصلحت کے تحت اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے کسی شخص کو اپنی بیوی کو طلاق دینے پر مجبور کرے تو ایسی طلاق نافذ مانی جائے گی۔

مطالعہ ان کا بے حد محبوب ذوق تھا اور جب تک ان کے لیے ممکن رہا، انھوں نے اپنی دلچسپی کے موضوعات پر مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھا۔ آخری دنوں کی شدید علالت سے پہلے تک میں جب بھی ان کے پاس حاضر ہوا، بالعموم انھیں اپنے پلنگ پر تکیہ لگائے ہوئے مطالعہ میں مصروف پایا۔ البتہ ان کے وسعت مطالعہ سے مستفید ہونے کے لیے ان کے خاص مزاج کا لحاظ رکھنا ضروری تھا۔ گفتگو میں بے تکلف بات سے بات پیدا ہوتی چلی جاتی تو وہ بھی سلسلۂ گفتگو کو جاری رکھتے، لیکن اگر اندازہ ہو جاتا کہ ان سے ''مستفید'' ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے تو وہ گریز کا طریقہ اختیار کر لیتے تھے۔ میرا تجربہ یہی ہے کہ میں نے اگر کبھی کسی مسئلے سے متعلق براہ راست ان کی راے دریافت کر لی تو انھوں نے مختصر جواب دے کر فرمایا کہ تم اصل مآخذ سے مراجعت کر کے خود تحقیق کرو۔ ذاتی یا خاندانی حالات پر گفتگو کرتے ہوئے یا کسی علمی مسئلے پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے انھوں نے کبھی مجھے اپنے بزرگ اور میرے طالب علم ہونے کا احساس نہیں ہونے دیا۔ وہ بات منوانے کی کوشش نہیں کرتے تھے اور نہ ان کا مطمح نظر اپنی راے یا تبصرہ سے آگاہ کرنا ہوتا تھا۔ وہ ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ''آپ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟'' یا ''آپ کی اس معاملے میں کیا راے ہے؟'' اگر ان کی راے وہی ہوتی جو میں عرض کرتا تو ''ہاں'' کہہ کر اطمینان ظاہر کر دیتے، ورنہ تردید کرنے کے بجاے اس کے حوالے سے اپنا سوال یا اشکال بیان فرما دیتے۔ وہ پوری توجہ سے بات سنتے تھے اور ان سے مکالمہ کرتے ہوئے اپنی ناچیز آرا کے بہت اہم اور قابل احترام ہونے کا احساس پیدا ہونے لگتا تھا۔

صوفی صاحب کے ساتھ خاندانی، فکری اور روحانی رشتہ وتعلق کی جہتیں متنوع ہیں اور ان میں سے ہر جہت افتخار و اعتزاز کا ایک الگ احساس پیدا کرتی ہے، لیکن ان کے ایک مشفق اور مہربان بزرگ ہونے کی جہت سب پر غالب ہے۔ میں جب بھی اپنے ذہن میں ان کی شخصیت کا کوئی تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو اس سے مختلف کوئی تاثر نہیں بن پاتا۔ ان کے الطاف وعنایات کی یاد اس دنیا میں بھی سرمایۂ حیات ہے اور یقین ہے کہ جب وہ جنت الفردوس کے بلند وبالا مقامات میں اپنے رب کی نعمتوں کے حق دار قرار دیے جائیں گے تو ہم جیسے کوتاہ عمل وہاں بھی ان شاء اللہ اس نسبت کی برکات سے محروم نہیں رہیں گے:

'وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ وَمَآ اَلَتْنٰہُمْ مِّنْ عَمَلِہِمْ مِّنْ شَیْْءٍ'۱؂ (الطور ۵۲: ۲۱):

دعا یہ کر کہ خداوند آسمان و زمیں

کرے پھر ان کی زیارت سے شادماں مجھ کو

__________

۱؂ '' اور جو لوگ ایمان لائے، اور ان کی اولاد نے بھی ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی ان کے ساتھ ہم ان کی اولاد کو بھی جمع کر دیں گے اور ان کے عمل میں سے ذرا بھی کمی نہیں کریں گے۔''