مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ تنقیدی آرا کا جائزہ (1)


مسجد اقصیٰ کی تولیت کے حوالے سے ہماری جو تحریر کچھ عرصہ قبل ان صفحات میں شائع ہوئی تھی، ۱؂ اس میں چونکہ ایک نہایت حساس اور نازک معاملے پر عام رائے سے بالکل مختلف نقطۂ نظر اختیار کیا گیا تھا، اس لیے اس پر تیز وتند تنقیدوں کا سامنے آنا پوری طرح سے متوقع تھا۔ کسی بھی نقطۂ نظر کی جانچ پرکھ اور اس کی علمی قدروقیمت کے تعین میں تنقید کا کردار غیر معمولی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ خالصتاً علمی سطح پر مسئلے کی تنقیح کے لیے ایک ایسی سنجیدہ اور مفصل تنقید کی ضرورت ابھی باقی ہے جس میں ہمارے استدلال کے جملہ پہلووں کا مربوط انداز میں جائزہ لیا گیا ہو، تاہم اب تک سامنے آنے والی جزوی، غیر مربوط اور زیادہ تر جذباتی تنقیدیں بھی اس حوالے سے یقیناًمفید ہیں کہ انھوں نے ذہنوں میں موجود بہت سے ایسے اشکالات کی ترجمانی کی ہے جن سے تعرض کرنا ہمارے نقطۂ نظر کی توضیح وتکمیل کے لیے ناگزیر ہے۔ چنانچہ تمام ناقدین اس لحاظ سے ہمارے شکریے کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس بحث کو آگے بڑھانے اور اس کے تنقیح طلب پہلووں پر اپنی معروضات کو مزید وضاحت کے ساتھ پیش کرنے کا موقع ہمیں فراہم کیا ہے۔

زیر نظر سطور میں، جو کہ اصل تحریر کے تتمہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ناقدین کی جانب سے اٹھائے گئے انھی نکات کو ایک مناسب ترتیب کے ساتھ زیر بحث لانا مقصود ہے۔

یہود کے حق تولیت کی شرعی حیثیت

زیر بحث مسئلے کا بنیادی سوال، جیسا کہ ہم نے اصل تحریر میں واضح کیا تھا، مسجد اقصیٰ کی تولیت کی شرعی حیثیت کا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی، سید سلیمان ندوی اور مولانا قاری محمد طیب جیسے اکابر اہل علم کی رائے میں بنی اسرائیل کا حق اس عبادت گاہ سے ازروے شریعت، اسی طرح منسوخ کر دیا گیا ہے جس طرح کہ مشرکین بنی اسماعیل سے مسجد حرام کی تولیت کا حق چھین لیا گیا تھا۔ یہ رائے، ہمارے علم کی حد تک، برصغیر کے مذکورہ اہل علم سے پہلے امت مسلمہ کی پوری علمی تاریخ میں کسی نے ظاہر نہیں کی، تاہم کوئی نئی بات نہ محض اس وجہ سے رد کی جا سکتی ہے کہ وہ اس سے پہلے کسی کے احاطۂ خیال میں نہیں آئی اور نہ صرف اس وجہ سے اسے قبول کیا جا سکتا ہے کہ اس کو بعض جلیل القدر اصحاب علم نے پیش کیا ہے۔ علمی آرا کے رد وقبول کے لیے واحد معیار کی حیثیت دلیل کو حاصل ہے اور اس معیار پر کمزور ثابت ہونے والی کسی بھی رائے کو، چاہے وہ قدیم ہو یا جدید، شرف قبولیت نہیں بخشا جا سکتا۔ یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کے حوالے سے مذکورہ رائے، جہاں تک ہم غوروفکر کر سکے ہیں، اسی زمرے میں آتی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ان اہل علم نے معاملے کے اصل پس منظر کو ملحوظ رکھے اور جملہ علمی پہلووں پر مناسب غوروخوض کیے بغیر ایک نتیجہ اخذ کر لیا، ورنہ آل ابراہیم کی تاریخ اور اسلامی شریعت کے واضح احکام وہدایات، جن میں سے بیشتر کی تشریح وتفصیل خود انھی اہل علم کی تحریروں میں موجود ہے، علمی بنیادوں پر اس تصور کی صاف نفی کرتے ہیں۔ ہم نے اصل تحریر میں اس رائے کے ضعف کے بعض نمایاں پہلووں کی طرف اشارہ کیا تھا، لیکن فقہ وشریعت کے مباحث سے مناسب واقفیت نہ رکھنے کے باعث بعض اصحاب قلم ہماری تنقید کو پوری طرح سے سمجھ نہ سکے اور انھوں نے جواب میں اسی استدلال کو دوبارہ پیش کر دیا، چنانچہ اس بات کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے کہ اس مسئلے کو تمام متعلقہ تفصیلات کی روشنی میں پورے علمی استدلال کے ساتھ واضح کیا جائے۔

سب سے پہلے تو اس معاملے کے تاریخی پس منظر کو سامنے رکھیے:

صحف سماوی یہ بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے رشد وہدایت کا سلسلہ تو آغاز ہی سے جاری فرما دیا تھا، البتہ نسل انسانی کے معاشرتی وتمدنی ارتقا کے لحاظ سے اس کے عملی طریقے میں مرحلہ وار تبدیلی کی جاتی رہی۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے پہلے تو اس بات کا اہتمام کیا گیا کہ بنی آدم مختلف معاشرتی وتمدنی تقاضوں کے تحت قبیلوں اور گروہوں میں تقسیم ہو کر جہاں جہاں بھی آباد ہیں، وہاں وہاں ان میں انبیا بھیجے جائیں جو انھیں کائنات کے ابدی حقائق سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ ان میں اپنے رب کے حضور جواب دہی کا احساس پیدا کریں ۔ ۲؂ انبیا کی بعثت کا یہ سلسلہ رکے بغیر جاری رہا۔ ۳؂ لیکن سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بعد یہ اسکیم بدل دی گئی اور تمام اقوام اور علاقوں میں الگ الگ رسول مبعوث فرما نے کے بجاے نبوت ورسالت کو آل ابراہیم کے لیے خاص فرما کر ۴؂ انھیں پہلے خود دین حق پر عمل پیرا ہونے اور اس کے بعد دنیا کی باقی اقوام تک اس کے ابلاغ ودعوت کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔

آل ابراہیم کے لیے اس ذمہ داری کی ادائیگی کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا:

پہلے مرحلے میں سیدنا یعقوب علیہ السلام کی اولاد یعنی بنی اسرائیل کو اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے انھیں فلسطین کا علاقہ بطور وراثت وملکیت عنایت کیا گیا، ۵؂ تورات کی صورت میں احکام وقوانین کا ایک جامع مجموعہ عطا کیا گیا، ۶؂ اس کے بعد ان میں انبیا کا غیر منقطع سلسلہ جاری کیا گیا ۷؂ اور دین ودنیا کی نعمتیں ان پر نچھاور کی گئیں۔ ۸؂ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنے زمانے میں 'ہیکل سلیمانی' کے نام سے ایک نہایت پرشکوہ عبادت گاہ یروشلم میں تعمیر کی اور اسے بنی اسرائیل کا قبلہ اور ان کے مذہبی وروحانی جذبات کا مرکز قرار دیا۔ ۹؂ بنی اسرائیل کا رویہ اس ذمہ داری کے حوالے سے مختلف ادوار میں مختلف رہا۔ بعض ادوار میں وہ اس ذمہ داری کو پوری شان سے ادا کرتے رہے ۱۰؂ جبکہ اکثر وبیشتر وہ خود دین وشریعت کی بتائی ہوئی راہ پر چلنے کے بجائے اس سے منحرف اور گریزاں رہے۔ ۱۱؂ ایک لمبے عرصے کی آزمایش کے بعد جب بنی اسرائیل مذہبی واخلاقی لحاظ سے اس سطح پر پہنچ گئے کہ من حیث القوم اس ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوئی توقع ان سے باقی نہ رہی تو ان کے اندر جاری سلسلۂ نبوت کو سیدنا مسیح علیہ السلام کی بعثت پر تمام کرتے ہوئے ملت ابراہیمی کی دعوت کو اقوام عالم تک پہنچانے کی ذمہ داری آل ابراہیم کی دوسری شاخ یعنی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ ۱۲؂

بنی اسمٰعیل کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے حجاز کے علاقے میں آباد کیا تھا ۱۳؂ اور انھیں ملت ابراہیمی کی اعتقادی اساسات کے علاوہ عبادات، سنن اور شعائر پر مبنی عملی تعلیمات کا ایک مجموعہ آغاز ہی سے عنایت کر دیا گیاتھا۔ ۱۴؂ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے سرزمین عرب میں خداے واحد کی عبادت کے لیے جو سب سے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا، اس کی تولیت ودربانی کے فرائض بھی آل ابراہیم کی اسی شاخ کے سپرد کیے گئے۔ بنی اسماعیل اپنی تاریخ کے بیشتر حصے میں اصل ملت پر قائم رہے، تاہم رفتہ رفتہ ان میں بھی انحراف پیدا ہوتا گیا اور شرک وبدعت ان کے مابعد الطبیعیاتی تصورات، مناسک عبادت اور معاشرتی رسم ورواج میں سرایت کرتے چلے گئے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے کے چھ صدیاں بعد بنی اسمٰعیل میں اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔ آپ نے ملت ابراہیمی کی اصل تعلیمات کا احیا کرتے ہوئے اس کی طرف انتساب کا دعویٰ کرنے والے دونوں گروہوں یعنی مشرکین بنی اسماعیل اور اہل کتاب کے اختیار کردہ انحرافات کی اصلاح کی اور ان دونوں گروہوں کے اس دعوے کا ابطال کیا کہ وہ ملت ابراہیمی کے حقیقی پیروکار ہیں۔ ۱۵؂ ان دونوں گروہوں پر اتمام حجت اور جزیرۃ العرب کے بڑے حصے میں دین اسلام کو اپنی حیات ہی میں غالب کر دینے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ کے بعد آپ کی نیابت میں اس دین کو اقوام عالم تک پہنچانے کی ذمہ داری صحابہ اور پھر نسلاً بعد نسلٍ امت مسلمہ پر عائد کر دی گئی۔

آل ابراہیم کی ان دونوں شاخوں کے مابین پائی جانے والی ضلالت وانحراف کی یہی مماثلت وہ بنیاد ہے جس پر یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کے قائل اہل علم نے اپنے استدلال کی عمارت کھڑی کی ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی فرماتے ہیں:

''یہ دونوں ہی گروہ خدا کے دین کے دو سب سے بڑے مرکزوں پر قابض تھے اور ان کو انھوں نے، ان کے بنیادی مقصد کے بالکل خلاف، نہ صرف شرک وبت پرستی کا اڈا بلکہ، جیسا کہ سیدنا مسیح نے فرمایا ہے کہ 'تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے، ان کو انھوں نے چوروں اور خائنوں کا بھٹ ہی بنا ڈالا تھا۔ یہ دونوں ہی مقدس گھر بالکل خائنوں اور بے ایمانوں کے تصرف میں تھے اور یہ ان میں اس طرح اپنی من مانی کر رہے تھے گویا ان گھروں کا اصل مالک کانوں میں تیل ڈال کر اور آنکھوں پر پٹی باندھے سو رہا ہے اور اب کبھی وہ اس کی خبر لینے کے لیے بیدار ہی نہیں ہوگا۔ معراج کا واقعہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے، اس بات کی تمہید تھا کہ اب ان گھروں کی امانت اس کے سپرد ہونے والی ہے جو ان کے اصلی مقصد تعمیر کو پورا کرے گا۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۷۱۷، ۷۱۸)

قائلین تنسیخ کے استدلال کی تشریح کے بعد اب ہم اس ضمن میں اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کریں گے۔ ہمارے نزدیک قرآن مجید کے صریح نصوص کی روشنی میں اس امر میں بھی کوئی کلام نہیں کہ آل ابراہیم کے یہ دونوں حصے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اصل ملت سے منحرف اور اس کے مقاصد ومطلوبات کو پورا کرنے میں ناکام ہوئے، اور یہ بات بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اس انحراف کی پاداش میں بنی اسماعیل کے مشرکین کو بیت الحرام جبکہ بنی اسرائیل کو مسجد اقصیٰ کے حق تولیت سے محروم کیا گیا، البتہ ان دونوں گروہوں کے حق تولیت سے محروم کیے جانے کی نوعیت میں، ہمارے نزدیک، ایک بنیادی فرق ہے، اور وہ یہ کہ مشرکین بنی اسماعیل کا حق تولیت تو ازروے شریعت ابدی طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دوبارہ بیت اللہ پر متصرف ہونے کا کوئی امکان باقی نہیں رہا۔ اس کے برعکس بنی اسرائیل کو شرعی طور پر نہیں ، بلکہ محض تکوینی طور پر مسجد اقصیٰ کی تولیت سے محروم کیا گیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ ا س عبادت گاہ کے دوبارہ ان کے زیرتصرف آنے میں اسلامی شریعت کا کوئی حکم مانع نہیں اور اللہ تعالیٰ جب چاہیں، ایسے حالات واسباب پیدا فرما سکتے ہیں کہ یہ امکان حقیقت کا روپ دھار لے۔

دونوں عبادت گاہوں کے مابین اس فرق کی دلیل، ہمارے نزدیک یہ ہے کہ قرآن مجید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت اور آپ کی جدوجہد کے اہداف میں ان دونوں عبادت گاہوں کے حوالے سے ایک بالکل واضح امتیاز قائم کر دیا ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی روشنی میں عملی لحاظ سے جو رویہ اختیار فرمایا، وہ ان دونوں عبادت گاہوں کے حوالے سے قطعی مختلف اور متباین ہے۔

پہلے مسجد حرام کے معاملے کو دیکھیے:

قرآن مجید نے یہ بات نہایت اہتمام کے ساتھ ایک مسلسل مضمون کے طور پر بیان کی ہے کہ مسجد حرام کو مشرکین کے قبضے سے چھڑانا اور اس کو شرک وبدعت کے آثار سے بالکل پاک کر کے اصل حیثیت میں دوبارہ توحید کی دعوت کا عالمی مرکز بنا دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ چنانچہ مشرکین پر اتمام حجت کے مرحلہ میں مسلمانوں پر یہ بات پور ے تسلسل کے ساتھ واضح کی جاتی رہی کہ مسجد حرام پر مشرکین کا کوئی حق نہیں، اس کے اصل حق دار اہل ایمان ہیں اور اگر مشرکین انھیں اس مسجد میں آنے اور وہاں عبادت کرنے سے روکیں تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس حق کے حصول کے لیے مشرکین کے ساتھ قتال کریں۔ اس ضمن میں قرآن مجید میں مرحلہ وار نازل ہونے والی تاکیدات حسب ذیل ہیں:

o ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو مشرکین کے ساتھ قتال کی اجازت سب سے پہلے جس آیت میں دی گئی، وہ بیت اللہ پر مشرکین کے قبضہ اور ان کے طرز عمل کے تناظر میں وارد ہوئی ہے۔ سورۂ حج میں اس سلسلۂ بیان کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے :

إِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیلِ اللّٰہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنَاہُ لِلنَّاسِ سَوَاءً الْعَاکِفُ فِیْہِ وَالْبَادِ وَمَنْ یُرِّدْ فِیہِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْہُ مِنْ عَذَابٍ أَلِیمٍ.(الحج۲۲: ۲۵)

''جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکنے لگے اور اس حرمت والی مسجد سے بھی جسے ہم نے تمام لوگوں کے لیے مساوی کر دیا ہے، وہیں کے رہنے والے ہوں یا باہر کے ہوں، جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے، ہم اسے دردناک عذاب چکھائیں گے۔''

اس کے بعد مشرکین کے الحاد اور کفر کو واضح کرنے کے لیے آیت ۲۶ سے ۳۸ تک بیت اللہ کی ابتدائی تاریخ اور اس کی تعمیر کے اصل مقصد کو واضح کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس گھر کے لیے جگہ خود متعین فرما کر حضرت ابراہیم کو اس کی تعمیر کا حکم دیا اور انھیں اس کا متولی بنا کر ہدایت کی کہ وہ اس کو خداے واحد کی عبادت کرنے والوں کے لیے کفر وشرک کی آلودگیوں سے پاک رکھیں۔ اسی ضمن میں قربانی کی رسم کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ملت ابراہیمی میں قربانی صرف اللہ کے نام پر مشروع کی گئی تھی اور اس کے پیروکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ خداے واحد ہی کے حضور قربانی گزرانیں اور اصنام واوثان کی نجاست سے دور رہیں۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ چونکہ مشرکین نے ملت ابراہیمی کے اصل پیروکاروں یعنی اہل ایمان کو محض اس وجہ سے مکہ مکرمہ سے نکال دیا ہے کہ وہ توحید کے قائل ہیں، اس لیے انھیں اجازت ہے کہ اس ظلم کا بدلہ لینے کے لیے مشرکین سے جہاد کریں:

أُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقَاتَلُوْنَ بِأَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَإِنَّ اللّٰہَ عَلیٰ نَصْرِہِمْ لَقَدِیرٌ. الَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ إِلَّا أَنْ یَّقُولُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ .(الحج۲۲: ۳۹۔۴۰)

''جن مسلمانوں سے کافر جنگ کر رہے ہیں، انھیں بھی مقابلے کی اجازت دی جاتی ہے ، کیونکہ وہ مظلوم ہیں۔ بے شک اللہ ان کی مدد پر قادر ہے۔ یہ وہ ہیں جنھیں ناحق اپنے گھروں سے نکالا گیا، صرف یہ کہنے پر کہ ہمارا پروردگار فقط اللہ ہے۔''

o ۲ ہجری میں غزوۂ بدر کے موقع پر سورۂ انفال میں جو ہدایات نازل کی گئیں، ان میں مسلمانوں کو اس حقیقت کی دوبارہ یاد دہانی کرائی گئی۔ فرمایا گیا کہ جب تک پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں ان مشرکین کے مابین مقیم تھے، اس وقت تک اللہ کے ضابطے کی رو سے ان پر عذاب نہیں آ سکتا تھا، لیکن آپ کی ہجرت کے بعد اس عذاب کے نازل ہونے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہی:

وَمَا لَہُمْ أَلَّا یُعَذِّبَہُمُ اللّٰہُ وَہُمْ یَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُوْا أَوْلِیَاآ ہُ إِنْ أَوْلِیَآؤُہُ إِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ. (الانفال۸: ۳۳)

''اور ان میں کیا بات ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ سزا نہ دے حالانکہ یہ مسجد حرام سے روکتے ہیں جبکہ وہ اس کے متولی نہیں۔ اس کی تولیت کے حق دار تو صرف اہل تقویٰ ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔''

اس کے بعد چند آیات میں مشرکین کے طرز عمل کی قباحت وشناعت کو بیان کیا گیا ہے اور پھر اہل ایمان کو مخاطب کر کے یہ حکم دیا گیا ہے کہ:

وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ کُلُّہُ لِلّٰہِ فَإِنِ انتَہَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. (الانفال۸: ۳۹)

''او ر تم ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کا ہو جائے۔ پھر اگر یہ باز آجائیں تو اللہ ان کے اعمال کو خوب دیکھ رہا ہے۔''

o ۶ہجری میں معاہدۂ حدیبیہ کے قریبی زمانے میں حج اور عمرے کی رسوم کے حوالے سے بعض اہم احکام قرآن مجید میں نازل ہوئے جن کا ذکر سورۂ بقرہ کی آیات ۱۸۹ تا ۲۰۳میں ہے۔ اس سلسل�ۂبیان کا آغاز اس آیت سے ہوا ہے:

یَسْأَلُوْنَکَ عَنِ الْأَہِلَّۃِ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ. (البقرہ۲ : ۱۸۹)

''وہ تم سے محترم مہینوں کے متعلق سوال کرتے ہیں ۔ کہہ دو یہ لوگوں کے فوائد اور حج کے اوقات ہیں ۔''

بیت اللہ پر اس وقت مشرکین قابض تھے، اور اس بات کا پور ا امکان موجود تھا کہ وہ مسلمانوں کو مسجد حرام میں داخل ہونے سے روکیں گے۔ چونکہ اس صورت حال میں مسلمانوں کو جہاد کا حکم پہلے سے دیا جا چکا تھا، اس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ حرمت والے مہینوں میں تو قتال مشروع نہیں، پھر مشرکین سے جہاد کیسے کیا جائے؟ چنانچہ حج کے متعلق ہدایات کے اصل سلسلے کو روک کر قرآن مجید نے یہاں اس سوال سے تعرض کیا اور فرمایا کہ اگر مشرکین مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکنے کی کوشش کریں تو ان کے ساتھ قتال لازماً کیا جائے۔ حرام مہینوں میں قتال سے متعلق اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

وَاقْتُلُوْہُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْہُمْ وَأَخْرِجُوْہُمْ مِنْ حَیْثُ أَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ أَشَدُّ مِنْ الْقَتْلِ وَلَا تُقَاتِلُوْہُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقَاتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَإِنْ قَاتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْہُمْ کَذَلِکَ جَزَاءُ الْکَافِرِیْنَ.فَإِنِ انتَہَوْا فَإِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(بقرہ۲: ۱۹۱۔۱۹۲)

''اور انھیں جہاں بھی پاؤ، مار ڈالو اور جیسے انھوں نے تمھیں نکالا ہے، تم بھی انھیں نکال دو۔ اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین جرم ہے۔ اور مسجد حرام کے پاس ان سے لڑائی نہ کرو جب تک کہ یہ خود تم سے نہ لڑیں۔ پھر اگر یہ تم سے لڑیں تو تو ان کو مار ڈالو۔ ان کافروں کا بدلہ یہی ہے۔ ہاں اگر باز آ جائیں تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔''

مولانا امین احسن اصلاحی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''اس سورہ میں قبلہ کی بحث سے لے کر یہاں تک کے مباحث پر اگر آپ کی نظر ہے تو یہ حقیقت آپ سے مخفی نہیں ہو سکتی کہ یہ ساری بحث عام کفار سے متعلق نہیں ہے ، بلکہ اس کا خاص تعلق کفار قریش سے ہے۔ ان کی اور مسلمانوں کی نزاع کسی جزوی معاملے کے لیے محض ایک وقتی نزاع نہیں تھی ، بلکہ اصلاً یہ نزاع بیت اللہ کی تولیت کے لیے تھی۔ قرآن کا دعویٰ یہ تھا کہ حضرت ابراہیم کے بنائے ہوئے گھر کی تولیت کے اصلی حق دار اہل ایمان ہیں نہ کہ کفار ومشرکین جنھوں نے اس گھر کو اس کے بنیادی مقاصد کے بالکل برخلاف شرک وکفر کا ایک گڑھ بنا کے رکھ دیا ہے۔ قرآن کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ حضرت ابراہیم کی دعا اور وعدۂ الٰہی کے بموجب جس آخری نبی کے ذریعہ سے اس گھر کے مقاصد کی تجدید وتکمیل ہونی تھی، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور قدسی نے اس وعدے کی تکمیل کر دی اور اب یہ لازمی ہے کہ یہ گھر کفار ومشرکین کے تسلط سے آزاد اور کفر وشرک کی نجاستوں سے پاک ہو کر ملت ابراہیم اسلام کا مرکز اور تمام اہل ایمان کا قبلہ بنے۔ یہ دعویٰ جن دلائل وبراہین اور جس زور وقوت کے ساتھ اس پوری سورہ میں پیش ہوا ہے، اس میں کہیں کسی لچک اور کسی نرمی کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے، بلکہ واضح الفاظ میں بات یوں کہی جا سکتی ہے کہ بیت اللہ کو کفار کے قبضہ سے چھڑانا اور اس کو شرک وکفر کی تمام آلایشوں سے پاک کر کے ازسر نو اس کو توحید واسلام اور ملت مسلمہ کا مرکز بنانا رسالت محمدی کا اصلی نصب العین تھا اور اس نصب العین کا حصول ہی گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس مشن کا آخری کام تھا۔'' (ایضاً، ۴۷۶)

احکام شریعت کے اسی سلسلۂ بیان میں آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ مقصد کے حصول کے لیے مسلمانوں پر قتال کی فرضیت کے حکم کا اعادہ کیا ہے اور مسلمانوں کو تاکید کی ہے کہ وہ اس باب میں کسی قسم کی مداہنت کا شکار نہ ہوں:

کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ وَعَسیٰٓ أَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ وَعَسَیٰٓ أَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَأَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ.(۲: ۲۱۶)

''تم پر قتال فرض کیا گیا ہے، حالانکہ وہ تمھیں ناپسند ہے۔ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو نا پسند کرو اور وہی تمھارے لیے بہتر ہو۔ اور ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو اور وہ تمھارے حق میں بہتر نہ ہو۔ اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔''

o بیت اللہ پر قابض مشرکین کے خلاف جہاد وقتال کی ان مسلسل تاکیدات کے بعد جب ۶ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عمرے کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو مشرکین نے انھیں حدیبیہ کے مقام پر روک دیا۔ سابقہ ہدایات کی رو سے اس موقع پر جہاد مسلمانوں پر لازم تھا، چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض اہم تر مصالح کے پیش نظر مشرکین سے صلح کا معاہدہ کر لیا تو اس کو ذہنی طور پر قبول کرنا صحابہ کے لیے ایک آزمایش بن گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس صلح کی حکمت اور اس کے پوشیدہ فوائد پر باقاعدہ ایک سورت نازل فرمائی جس میں انھیں یہ بتایا گیا کہ اگرچہ مشرکین ان کو مسجد حرام سے روکنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں، لیکن چونکہ مکہ میں ابھی بہت سے ایسے اہل ایمان موجود ہیں جو اپنے ایمان کو مخفی رکھے ہوئے ہیں اور ان کے اور مشرکین کے مابین واضح امتیاز نہ ہونے کی وجہ سے خدشہ ہے کہ وہ بھی لڑائی میں تہ تیغ ہو جائیں گے، اس لیے اس موقع پر قتال کو موخر کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی انھیں فتح مکہ کی بشارت اس وضاحت کے ساتھ دی گئی کہ مسجد حرام کا مسلمانوں کے تصرف میں آنا چونکہ 'اظہار دین' کا لازمی تقاضا ہے، اس لیے یہ وعدہ یقیناًپورا ہو کر رہے گا:

لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّؤْیَا بِالْحَقِّ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِنْ شَاآ اللّٰہُ آمِنِیْنَ مُحَلِّقِیْنَ رُءُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ لَا تَخَافُوْنَ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوْا فَجَعَلَ مِنْ دُوْنِ ذَلِکَ فَتْحًا قَرِیْبًا. ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہُ بِالْہُدَیٰ وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا.(الفتح۴۸: ۲۷۔۲۸)

''یقیناً اللہ نے اپنے رسول کو سچا خواب دکھایا کہ اللہ نے چاہا تو تم یقیناًپورے امن وامان کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہوگے، سر منڈواتے ہوئے اور سر کے بال کترواتے ہوئے، تمھیں کوئی خوف لاحق نہیں ہوگا۔ وہ ان باتوں کو جانتا ہے جن کو تم نہیں جانتے، پس اس نے اس کے بعد ایک قریبی فتح تمھارے لیے مقدر کر دی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اسے ہر دین پر غالب کر دے۔ اور اللہ کافی ہے گواہی دینے والا۔''

o یہ بشارت معاہدۂ حدیبیہ کے دو ہی سال بعد ظہور پزیر ہو گئی۔ چنانچہ مشرکین کی طرف سے نقض عہد کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مشن کی تکمیل کے لیے دس ہزار صحابہ کے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے اور مکہ مکرمہ کو فتح کر لیا۔ اس موقع پر آپ نے بیت اللہ کو تمام اصنام واوثان اور مشرکانہ رسوم کے تمام آثار سے پا ک کر کے اس کو دین ابراہیمی کی اصل اساس یعنی توحید کا عالمی مرکز ہونے کی حیثیت سے بحال کر دیا۔ ۱۶؂ تاہم بیت اللہ کے ظاہری انتظام وانصرام کو آپ نے سردست سابقہ طریقے پر قائم رہنے دیا ۱۷؂ اور مشرکین کو بھی فی الحال بیت اللہ میں آنے اور اس میں عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔ ۱۸؂

o اس مشن کے آخری مرحلہ کے طور پر ۹ ہجری میں قرآن مجید کی سورہ برأ ۃ میں یہ اعلان کیا گیا کہ چونکہ مشرکین پر اتمام حجت کا مرحلہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اس لیے اب ان کو جان کی امان حاصل نہیں رہی۔ انھیں یا تو اسلام قبول کرنا ہوگا اور یا مرنے کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ ۱۹؂ اسی حکم کی ایک فرع یہ بھی ہے کہ ۹ ہجری کے بعد مشرکین بیت اللہ کی تولیت اور اس میں عبادت تو کجا، اس کے قریب آنے کے حق دار بھی نہیں ہیں۔ ۲۰؂ اس سال حج کے موقع پر اس حکم کی باقاعدہ منادی کی گئی۔ ۲۱؂ ۱۰ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے لیے مکہ مکرمہ میں تشریف لائے اور دین ابراہیمی کی روایات کے مطابق مناسک حج کی تعلیم لوگوں کو دی۔ ۲۲؂ اس کے ساتھ ہی کفر وشرک سے بیت اللہ کی تطہیر اور اس کو توحید کا عالمی مرکز بنانے کا مشن مکمل ہو گیا، چنانچہ آپ نے اس موقع پر یہ اعلان فرمایا کہ:

ان الشیطان قد ایس من ان یعبد فی بلادکم ہذہ ابدا . (ترمذی، الفتن، ۳۰۸۵)

''شیطان کو اب اس بات کی کوئی امید نہیں رہی کہ جزیرۃ العرب میں دوبارہ کبھی اس کی پوجا کی جائے گی۔

''

اب اس کے مقابلے میں اس رویے کو ملاحظہ فرمائیے جو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اختیار کیا گیا:

۱۔ مکی عہد نبوت میں سورۂ بنی اسرائیل کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر اسرا کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کرایا گیا۔ ا س سلسلۂ بیان میں اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ کی تباہی وبربادی اور اس سے یہود کی بے دخلی کے دو معروف واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے بنی اسرائیل کو یاد دلایا ہے کہ یہ ان کی سرکشی اور فساد کے نتیجے میں رونما ہوئے تھے۔ مسجد اقصیٰ کے بارے میں یہ بات معلو م ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت وہ یہود کے زیر تصرف نہیں تھی ، بلکہ تباہ شدہ کھنڈرات (Ruins) کی صورت میں ویران پڑی تھی۔ یہ بات بھی، ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی کہ مستقبل قریب میں اس عبادت گاہ کو آباد کرنے کا شرف عملاً مسلمانوں کو حاصل ہونے والا ہے۔ اگر یہود کے حق تولیت کی شرعی بنیادوں پر قطعی تنسیخ مقصود ہوتی تو یہاں یہود سے صاف صاف یہ کہہ دینا چاہیے تھا کہ فساد اور سرکشی کے نتیجے میں اس مسجد سے بے دخلی کے بعد اب تمھارے اس پر دوبارہ متصرف ہونے کا کوئی امکان نہیں اور اس عبادت گاہ کی آبادی اور تولیت کا حق اب تمھارے بجائے ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے سپرد کر دیا جائے گا، لیکن اس کے برعکس قرآن مجید صاف لفظوں میں یہ فرماتا ہے کہ اللہ کی رحمت سے پہلے کی طرح اب بھی اس مسجد کے دوبارہ بنی اسرائیل کے تصرف میں آنے کا امکان موجود ہے:

عَسَي رَبُّکُمْ أَنْ یَرْحَمَکُمْ وَإِنْ عُدْتُمْ عُدْنَا. (بنی اسرائیل۱۷: ۸)

''توقع ہے کہ تمھارا رب تم پر پھر رحمت کرے گا۔ اور اگر تم نے دوبارہ یہی روش اختیار کی تو ہم بھی تمھارے ساتھ یہی سلوک کریں گے۔''

امام بقاعی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

ولما انقضی ذلک کان کانہ قیل: اما لہذہ المرۃ من کرۃ کالاولی؟ فاطمعہم بقولہ سبحانہ وتعالیٰ: (عسی ربکم) ای الذی عودکم باحسانہ (ان یرحمکم) فیتوب علیکم ویکرمکم ثم افزعہم بقولہ تعالیٰ: (وان عدتم) ان بما نعلم من دبرکم الی المعصیۃ مرۃ ثالثۃ فما فوقھا (عدنا) ای بما تعلمون لنا من العظمۃ الی عذابکم فی الدنیا. (البقاعی، نظم الدرر، ۴/۳۶۳)

''جب یہ بات مکمل ہو گئی تو اب گویا یہ سوال سامنے آیا کہ کیا پہلے کی طرح بنی اسرائیل پر دوبارہ اللہ کی رحمت کے متوجہ ہونے کا کوئی امکان ہے یا نہیں؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ توقع دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ، جو پہلے بھی ان پر انعام واحسان کرتا رہا ہے، اب بھی تم پر رحم کر سکتا اور تم پر نظر عنایت کر کے تمھاری عزت افزائی کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہہ کر ان کو متنبہ بھی کر دیا گیا کہ اگر تم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ پھر نافرمانی کی طرف پلٹ جانے کا وتیرہ اختیار کیا تو ہم بھی اپنی اس عظمت و قدرت کے ساتھ جسے تم خوب جانتے ہو، دنیا ہی میں تمھیں دوبارہ عذاب کا نشانہ بنا دیں گے۔''

امام صاحب نے اس کے بعد اس وعدے کی تفسیر میں تورات کا حسب ذیل بیان نقل کیا ہے:

''اور جب یہ ساری باتیں یعنی برکت اور لعنت جن کو میں نے آج تیرے آگے رکھا ہے، تجھ پر آئیں اور تو ان قوموں کے بیچ جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو ہنکا کر پہنچا دیا ہو، ان کو یاد کرے اور تو اور تیری اولاد دونوں خداوند اپنے خدا کی طرف پھریں اور اس کی بات ان سب احکام کے مطابق جو میں آج تجھ کو دیتا ہوں، اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان سے مانیں تو خداوند تیرا خدا تیری اسیری کو پلٹ کر تجھ پر رحم کرے گا اور پھر کر تجھ کو سب قوموں میں سے جن میں خداوند تیرے خدا نے تجھ کو پراگندہ کیا ہو، جمع کرے گا۔ اگر تیرے آوارہ گرد دنیا کے انتہائی حصوں میں بھی ہوں تو وہاں سے بھی خداوند تیرا خدا تجھ کو جمع کر کے لے آئے گا اور خداوند تیرا خدا اسی ملک میں تجھ کو لائے گا جس پر تیرے باپ دادا نے قبضہ کیا تھا اور تو اس کو اپنے قبضہ میں لائے گا۔'' (استثنا ۳۰: ۱۔۵)

اس سے واضح ہے کہ ۷۰ء میں بنی اسرائیل کو تکوینی طور پر اس مسجد کی تولیت سے محروم کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا تھا، اس کو تشریعی حکم میں تبدیل کر کے یہود کے اس حق کو قطعی اور حتمی طور پر منسوخ کر دینا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں ہے۔

بعض اہل علم کا یہ کہنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد یہود کے حق میں اس وعدے کا پورا ہونا آپ پر ایمان لانے کے ساتھ مشروط ہو گیا تھا اور چونکہ آپ کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود وہ ایمان نہیں لائے، اس لیے اس وعدے کے پورا ہونے کا امکان اب ان کے حق میں باقی نہیں رہا، ۲۳؂ دو وجوہ سے بالکل بے معنی ہے:

ایک تو یہ کہ جب اسلامی شریعت میں یہود کو ایک مذہبی گروہ کے طور پر باقی رہنے اور اپنے مذہب پر پوری آزادی کے ساتھ عمل کرنے کا حق دیا گیا اور ان کے مذہبی مقامات وشعائر کے احترام کی تلقین کی گئی ہے تو ان کو اپنے قبلے سے محروم کرنے کی کیا تک ہے؟ کسی مذہبی گروہ سے یہ کہنا کہ تمھیں اپنے مذہب پر قائم رہنے کا تو پورا پورا حق ہے اور ہماری طرف سے تمھارے مذہبی شعائر ومقامات کو بھی پوری طرح تحفظ حاصل ہوگا ، لیکن اگر تم اپنے قبلے کے ساتھ کوئی تعلق باقی رکھنا اور اس میں عبادت کا حق حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے تمھیں اپنے مذہب سے دست برداری اختیار کر کے ہمارے مذہب میں آنا ہوگا، آخر ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟

دوسرے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت، بدیہی طور پر، صرف جزیرۂ عرب کے یہود پر ہوا تھا نہ کہ پوری دنیا کے یہودیوں پر۔ جزیرۂ عرب کے یہود دنیا کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے بنی اسرائیل کا صرف ایک حصہ تھے۔ اب یہ بات کیسے معقول اور مبنی بر انصاف ہو سکتی ہے کہ جزیرۂ عرب کے یہود پر اتمام حجت کی بنیاد پر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مختلف خطوں میں پھیلے ہوئے ان سارے یہودیوں پر بھی تنسیخ تولیت کا فیصلہ صادر کر دیا جائے جن پر اتمام حجت تو درکنار، ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر بھی نہیں پہنچی تھی؟

۲۔ مسجد اقصیٰ کا ذکر دوسری مرتبہ ہجرت مدینہ کے بعد تحویل قبلہ کے تناظر میں سورۂ بقرہ میں ہوا ہے۔ سورۂ بقرہ کے نظم کی روشنی میں دیکھیے تو اللہ تعالیٰ نے یہاں حق تولیت کے حوالے سے مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے فرق کو بہت نمایاں طریقے سے واضح فرمایا ہے۔ سورۂ بقرہ کے پہلے تہائی حصے میں بنی اسرائیل کی تاریخ کے بعض اہم واقعات کے تذکرہ کے بعد سورہ کے باقی حصے میں ملت ابراہیمی میں مسجد حرام کی حیثیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے ساتھ اس کے تعلق کو ایک مربوط طریقے سے واضح کیا گیا ہے، چنانچہ بیت اللہ کی ابتدائی تاریخ کے ساتھ بعثت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سیدنا ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی دعا کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس اصل مشن کو واضح کرتا ہے جس کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ اسی ضمن میں تحویل قبلہ کا واقعہ بیان کر کے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ملت ابراہیمی کے اصل مرکز اور مرجع کی حیثیت مسجد حرام کو حاصل ہے نہ کہ مسجد اقصیٰ کو۔ آگے چل کر شرعی احکام وہدایات کے سلسلۂ بیان میں مشرکین کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا ہے جو اس مرکز توحید کو کفر وشرک کا گڑھ بنائے ہوئے تھے اور اہل توحید کو اس میں داخل ہونے سے روکتے تھے۔ احکام وہدایات کے اس سلسلے کے مکمل ہونے کے بعد مسلمانوں میں فتح مکہ کے لیے جہاد کا جذبہ بیدار کرنے کی غرض سے بنی اسرائیل کی تاریخ سے ایک گہری مماثلت رکھنے والا واقعہ ذکر کیا گیا ہے جس میں انھوں نے طالوت اور سیدنا داؤد کی قیادت میں فلسطین کو فتح کیا۔ اس کے بعد سورہ کے آخر تک اس جہاد ہی کے تعلق سے انفاق فی سبیل اللہ کے احکام اور اس کے آداب وشرائط کو بیان کیا گیا ہے۔ گویا بیت اللہ کی ابتدائی تاریخ سے لے کر سورہ کے آخر تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ابراہیمی مشن اور اس میں مسجد حرام کی اہمیت ایک مسلسل اور مربوط مضمون کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھ لیجیے، حق تولیت کے حوالے سے صرف مسجد حرام زیر بحث آئی ہے اور اسی کے لیے جہاد وقتال کی ترغیب دی گئی ہے۔ مسجد اقصیٰ کا ذکر ہوا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تعلق سے اس کی اہمیت بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ، اس کے برخلاف، یہ واضح کرنے کے لیے کہ اس کو ملت ابراہیمی کے اصل مرکز کی حیثیت حاصل نہیں۔ اس کو عارضی طور پر قبلہ مقرر کرنا محض بعض وقتی مصالح کے تحت تھا، ورنہ مسلمانوں کے لیے قبلے اور مرکز کی حیثیت اول وآخر مسجد حرام کو حاصل ہے اور اسی کو مشرکین کے قبضے سے چھڑا کر توحید کا عالمی مرکز بنا دینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا سب سے بڑا ہدف ہے۔

علاوہ ازیں مسجد اقصیٰ کا ذکر کرتے ہوئے 'قبلتہم' کے الفاظ سے جس طرح اس کے ساتھ یہود کے قلبی تعلق اور وابستگی کو ایک مثبت جذبے کے طور پر نمایاں کیا گیا ہے، وہ بذات خود تنسیخ تولیت کے تصور کے خلاف ایک لطیف اشارے کی حیثیت رکھتا ہے۔

۳۔ اس باب کا سب سے اہم اور صریح بیان جو حق تولیت کے حوالے سے ان دونوں عبادت گاہوں کے فرق کو غیر مبہم طریقے سے واضح کر دیتا ہے، سورۂ برأ ۃ میں وارد ہوا ہے۔ سورۂ برأ ۃ کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ نزول کے لحاظ سے عہد نبوت کے بالکل آخری زمانے کی سورہ ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے مخالف دونوں بڑے گروہوں یعنی مشرکین عرب اور اہل کتاب کے بارے میں اس حتمی پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے جس کی پیروی اس کے بعد مسلمانوں کے لیے ضروری تھی۔ اس پالیسی کا بنیادی ہدف، جیسا کہ آیت ۳۳ میں بیان کیا گیا ہے، اس وعدۂ الٰہی کی تکمیل تھا کہ دین اسلام کو جزیرۂ عرب کے تمام ادیان پر غالب کر دیا جائے گا۔ گویا ان ہدایات کی نوعیت عبوری نہیں ، بلکہ حتمی اور جامع پالیسی کی ہے جس میں ان حدود (Parameters) کا پوری طرح تعین کر دیا گیا ہے جن سے کسی قسم کا کوئی تجاوز کیے بغیر مسلمانوں کو ان گروہوں کے ساتھ معاملہ کرنا ہوگا۔ اس تناظر میں اب ان ہدایات کا تقابلی جائزہ لیجیے جو مذکورہ دونوں گروہوں کے بارے میں اس سورہ میں دی گئی ہیں:

مشرکین کے حوالے سے بیان کردہ پالیسی تو تین نکات پر مبنی ہے:

۱۔ نئے معاہدات پر پابندی، چنانچہ جو مشرکین اس سے قبل معاہدے توڑتے رہے ہیں، اشہر حرم گزرنے کے بعد ان کے ساتھ کیے جانے والے تمام معاہدے منسوخ ہو جائیں گے۔ جبکہ جن مشرکین نے نقض عہد کا ارتکاب نہیں کیا، ان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے مقررہ مدت تک پورے کیے جائیں، لیکن اس کے بعد کوئی نیا معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔ (آیات ۱ ۔ ۴)

۲۔ اسلام یا تلوار میں سے ایک کا انتخاب، یعنی اس سے قبل مشرکین کے ساتھ 'فان قاتلوکم فاقتلوہم' اور 'فان اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ' کے اصول پر معاملہ کرنے کا جو حکم دیا گیا تھا، وہ اب منسوخ ہے، چنانچہ اشہر حرم گزرنے یا معاہدوں کی مدت مکمل ہو جانے کے بعد ان کے ساتھ صلح وسلامتی یا پرامن بقاے باہمی کا معاملہ نہیں ہوگا۔ ان کے پاس ایمان لانے اور یا پھر قتل ہو جانے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔ (آیت ۵)

۳۔ کعبۃ اللہ کی تولیت اور اس میں عبادت کے حق کی حتمی اور فیصلہ کن تنسیخ، کیونکہ مشرکین کو مسجد حرام کی تولیت اور آبادکاری کا کوئی حق نہیں۔ یہ حق اہل ایمان کو حاصل ہے۔ (آیت ۱۷) اسی حکم کی ایک فرع یہ ہے کہ ۹ ہجری کے بعد ان کو حج کے لیے، یا ایک رائے کے مطابق مطلقاً کسی بھی حالت میں، مسجد حرام میں داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ (آیت ۲۸)

ا س کے برخلاف اہل کتاب کے بارے میں بیان کردہ پالیسی صرف ایک نکتے تک محدود ہے، یعنی یہ کہ ان کے ساتھ قتال کر کے ان کو سیاسی لحاظ سے مطیع اور ذلت کے ساتھ جزیہ دینے پر مجبور کر دیا جائے۔ (آیت ۲۹) اس ایک نکتے پر اکتفا کرنا اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ قتال کے اس مشترک حکم کے علاوہ مشرکین کے بارے میں دی جانے والی باقی دو ہدایات یعنی معاہدات پر پابندی اور خانۂ خدا کے حق تولیت کی تنسیخ کا اطلاق اہل کتاب پر نہیں ہوتا۔

سورۂ برأ ۃ کی آیات سے یہ استدلال ہماری اصل تحریر میں چونکہ نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوا تھا، اس وجہ سے بعض ناقدین اس کو سمجھنے سے قاصر رہے اور انھوں نے اس کے جواب میں یہ نکتہ پیش کر دیا کہ ایک مقام پر کسی حکم کے عدم ذکر سے حکم کی بالکلیہ نفی لازم نہیں آتی، حالانکہ یہ بات سورۂ برأ ۃ کے نظم پر عدم تدبر اور زبان وبیان کے اسالیب سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ چنانچہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں سورہ براء ۃ میں اختیار کیے جانے والے اس اسلوب کی وضاحت کر دی جائے جس پر ہمارا استدلال مبنی ہے۔

زیر بحث سورہ کے نظم کو بیک نظر سامنے لائیے تو معلوم ہوگا کہ اس کے مضامین واضح طور پر تین حصوں میں تقسیم ہیں:

۱۔ سورہ کے آغاز سے آیت ۲۷ تک مشرکین کی فرد جرم اور ان پر نافذ کردہ سزا کی مختلف دفعات زیر بحث آئی ہیں۔

۲۔ آیت ۲۹ سے آیت ۳۵ تک اہل کتاب کے جرائم اور ان سے متعلق پالیسی کی وضاحت کی گئی ہے۔

۳۔ چونکہ مذکورہ دونوں گروہوں کے ساتھ جہاد وقتال کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے آیت ۳۸ سے سورہ کے آخر تک مسلمانوں کو جہاد وقتال کی ترغیب نیز کمزور مدعین ایمان اور منافقین کے جہاد سے اعراض اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے زجر وتوبیخ کے مضامین بیان ہوئے ہیں۔

نظم کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو مشرکین اور اہل کتاب کے بارے میں، ان کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے، الگ الگ ہدایات دینا مطلوب تھا، اس لیے اس نے ان کے احکام میں فرق کو واضح کرنے کے لیے 'تقابل' کے اسلوب میں انھیں بالترتیب دو الگ الگ اور متوازی گروہوں کے طور پر ذکر کیا ہے۔ امام رازی اس اسلوب کی معنویت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اعلم انہ تعالیٰ لما ذکر حکم المشرکین فی اظہار البراء ۃ عن عہدہم وفی اظہار البراء ۃ عنہم فی انفسہم وفی وجوب مقاتلتہم وفی تبعیدہم عن المسجد الحرام واورد الاشکالات التی ذکروہا واجاب عنہا بالجوابات الصحیحۃ ذکر بعدہ حکم اہل الکتاب وہو ان یقاتلوا الی ان یعطوا الجزیۃ.(مفاتیح الغیب، ۱۰/۲۷) والمقصود تمییزہم من المشرکین فی الحکم لان الواجب فی المشرکین القتال او الاسلام والواجب فی اہل الکتاب القتال او الاسلام او الجزیۃ .(۱۰/ ۳۰)

''جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے جب مشرکین کے بارے میں یہ احکام بیان کر دیے کہ ان کے ساتھ کیے گئے معاہدے منسوخ ہیں، ان کی جانوں کو کوئی امان حاصل نہیں، ان کے ساتھ لڑنا فرض ہے اور یہ کہ انھیں مسجد حرام سے دور کر دیا جائے، اور ان اشکالات کا ذکر کر کے جو انھوں نے وارد کیے تھے، ان کے ٹھیک ٹھیک جواب بھی دے دیے تو اس کے بعد اہل کتاب کے بارے میں یہ حکم دیا کہ ان سے لڑائی کی جائے یہاں تک کہ وہ جزیہ دینے پر آمادہ ہو جائیں۔ ..... اس اسلوب کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اور مشرکین کے حکم میں فرق کو واضح کیا جائے، کیونکہ مشرکین کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ اسلام لے آئیں ورنہ ان سے قتال کیا جائے گا، جبکہ اہل کتاب کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ جزیہ ادا کر دیں (اور اپنے مذہب پر قائم رہیں)۔''

مختلف افراد اور صورتوں کے احکام میں فرق کوتقابل کے اس اسلوب میں واضح کرنے کا بلاغت کے اعتبار سے ایک نمایاں فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں تکرار کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ چنانچہ اگر ایک صورت میں کسی حکم کااثبات اور دوسری صورت میں اس کی نفی مقصود ہو تو ایک جگہ اس کا ذکر کر کے دوسری جگہ سکوت اختیار کر لینا ہی وہاں اس کی نفی کی دلیل بن جاتا ہے اور صراحتاً اس کی نفی کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ مثال کے طور پر کوئی عدالت اگر کسی فوج داری مقدمے میں دو ملزموں کو سزا سناتے ہوئے یہ قرار دے کہ ان میں سے ایک مجرم کو پھانسی پر چڑھا دیا جائے، اس کی املاک وجائیداد ضبط کر لی جائے اور اس سے دس لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے، جبکہ دوسرے مجرم کی سزا میں صرف یہ بات بیان کرے کہ اس سے پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا جائے تو کسی عاقل کو یہ بات سمجھنے میں کوئی تردد نہیں ہوگا کہ پھانسی پر چڑھانے اور املاک وجائیداد کی ضبطی کا جو حکم پہلے مجرم کے لیے دیا گیا ہے، دوسرا مجرم اس سے مستثنیٰ ہے، اس لیے کہ تقابل کے اسلوب میں ایک کے لیے کسی سزا کا ذکر کرنا اور دوسرے کے لیے نہ کرنا اس استثنا کی قطعی دلیل ہے۔ اس اسلوب میں عدم ذکر سے مقصود ہی عدم حکم کو واضح کرنا ہوتا ہے ۔ ایسے موقع پر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ عدم ذکر سے عدم حکم لازم نہیں آتا تو ظاہر ہے کہ یہ صریح جہالت پر مبنی استدلال ہوگا۔

خود قرآن وحدیث میں اس اسلوب کی نہایت واضح مثالیں موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ نساء کی آیت ۹۲ میں قتل خطا کی مختلف صورتوں کے احکام بیان کرتے ہوئے قرآن مجید نے فرمایا ہے:

وَمَا کَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ وَّدِیَۃٌ مُسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ إِلَّا أَنْ یَصَّدَّقُوْا فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ.

''کسی مومن کے لیے روا نہیں کہ وہ دوسرے مومن کو قتل کر دے، الاّ یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ جو شخص کسی مومن کو بلاارادہ مار ڈالے تو اس پر لازم ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرے اور مقتول کے عزیزوں کو دیت ادا کرے، الاّ یہ کہ وہ معاف کر دیں۔ اور اگر مقتول کا تعلق کسی دشمن قوم سے ہے اور وہ خود مومن تھا تو قاتل کے ذمے صرف ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہے۔ اور اگر اس کا تعلق ایسی قوم سے ہے جس کے ساتھ تمھارا عہد وپیمان ہے تو پھر اس کے عزیزوں کو دیت بھی ادا کی جائے اور ایک مسلمان غلام کو بھی آزاد کیا جائے۔''

یہاں قتل خطا کی تین صورتیں بیان ہوئی ہیں: ایک یہ کہ مقتول دار الاسلام کا باشندہ ہو۔ دوسری یہ کہ وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کا فرد ہو جس کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی معاہدہ نہیں۔ تیسری یہ کہ اس کا تعلق کسی ایسی غیر مسلم قوم سے ہو جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ ہے۔ پہلی اور تیسری صورت میں اللہ تعالیٰ نے کفارۂ قتل میں دو چیزیں لازم قرار دی ہیں، ایک دیت کی ادائیگی اور دوسرے ایک مومن غلام کو آزاد کرنا، جبکہ دوسری صورت میں صرف ایک چیز کا ذکر کیا ہے یعنی ایک مسلمان غلام کی آزادی۔ یہاں دیکھ لیجیے، اس صورت میں دیت کا ذکر نہ کرنا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس صورت میں دیت کی ادائیگی لازم نہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

البکر بالبکر جلد ماءۃ ونفی سنۃ والثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم . (مسلم، الحدود، ۳۱۹۹)

''کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے تو سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، جبکہ شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت سے زنا کرے تو سزا سو کوڑے اور سنگسار کرنا ہے۔''

یہاں بھی دیکھ لیجیے، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانیوں کی سزا میں فرق بیان کرنا مقصود ہے، اور اس کے لیے تقابل کا یہی اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ چنانچہ کنوارے زانی کی سزا میں 'تغریب عام' کا ذکر ہے، لیکن شادی شدہ کی سزا میں اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح شادی شدہ زانی کی سزا میں 'رجم' کا ذکر ہے جس کا کنوارے زانی کی سزا میں ذکر نہیں کیا گیا۔ دونوں جگہ عدم ذکر ہی اس بات کی صریح دلیل ہے کہ تغریب عام کی سزا شادی شدہ زانی کو جبکہ رجم کی سزا غیر شادی شدہ زانی کو دینا مقصود نہیں۔

اسلوب کی اس وضاحت کے بعد اب اس کی روشنی میں سورۂ برأۃ کی زیر بحث آیات کا مطالعہ کیجیے تو صاف واضح ہوگا کہ مشرکین کے بارے میں معاہدات پر پابندی، قبول اسلام تک قتال اور کعبۃ اللہ کے حق تولیت وعبادت کی تنسیخ پر مبنی تین نکاتی پالیسی بیان کرنے کے بعد اہل کتاب کے بارے میں صرف ایک حکم یعنی جزیہ کی ادائیگی تک قتال پر اکتفا کرنے کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا کہ قتال کے اس مشترک حکم کے علاوہ معاہدات پر پابندی اور خانۂ خدا کے حق تولیت کی تنسیخ کے جو دو حکم مشرکین کے لیے بیان کیے گئے ہیں، اہل کتاب ان کے دائرۂ اطلاق سے خارج ہیں۔

—————

سطور بالا میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس سے یہ بات تو بالکل مبرہن ہو جاتی ہے کہ ملت ابراہیمی سے انحراف کی مماثلت کے باوجود قرآن مجید نے خانۂ خدا کی تولیت کے حوالے سے مشرکین اور یہود کے ساتھ ایک جیسا معاملہ نہیں کیا، تاہم ہمارا خیال ہے کہ اس فرق کی نظری اور عملی حکمتوں کی وضاحت کے بغیریہ بحث، غالباً، مکمل نہیں ہوگی۔ ذیل میں ہم ان متعلقہ نکات کی تفصیل کریں گے جن کی طرف ہم نے اصل تحریر میں محض اشارہ کر دینے پر اکتفا کیا تھا۔

ہماری رائے میں بیت الحرام سے مشرکین بنی اسماعیل کے حق تولیت کی تنسیخ کے حکم کو محیط تین پہلو ایسے ہیں جو مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے مابین قرآن مجید کے قائم کردہ مذکورہ امتیاز کے لیے بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں :

ایک، ملت ابراہیمی میں کعبۃ اللہ کا مقام اور حیثیت،

دوسرے، ملت ابراہیمی سے بنی اسماعیل کے انحراف کی نوعیت،

اور تیسرے، بنی اسماعیل پر اتمام حجت کی نوعیت۔

پہلے نکتے کو لیجیے:

'مسجد حرام' وہ سب سے پہلا گھر ہے جسے خداے واحد کی عبادت کے لیے اس سرزمین پر تعمیر کیا گیا۔ ۲۴؂ اس کی تعمیر ملت ابراہیمی کے بانی سیدنا ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے خود کی ۲۵؂ اور اس کے اندر نماز، اعتکاف، قربانی اور حج جیسی عبادات کے تمام رسوم بھی انھوں نے اللہ کی راہنمائی میں خود متعین فرما ئے۔ ۲۶؂ اللہ تعالیٰ نے اس عبادت گاہ کو آل ابراہیم کے لیے ایک روحانی مرکز اور مرجع قرار دیا ۲۷؂ اور اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دور ونزدیک علاقے کے لوگوں کو سفر کر کے اس میں حاضر ہونے اور مختلف عباداتی رسوم ادا کرنے کی دعوت دی۔ ۲۸؂ ملت ابراہیمی کی اساس پر بننے والی دنیا کی تمام عبادت گاہوں کی اصل اور ان کے قبلہ کی حیثیت اسی مسجد کو حاصل ہے۔ ۲۹؂ مولانا حمید الدین فراہی کی تحقیق کے مطابق بنی اسرائیل کے عارضی قبلہ یعنی 'خیمۂ اجتماع' اور مستقل قبلہ یعنی 'مسجد اقصیٰ' دونوں کو 'مسجد حرام' کے تابع قرار دے کر ان کے نقشۂ تعمیر میں یہ بات ملحوظ رکھی گئی تھی کہ ان کا رخ جنوب یعنی مکہ مکرمہ کی جانب ہو۔ خیمۂ اجتماع اور مسجد اقصیٰ کے مقدس ترین مقام یعنی 'قدس الاقداس' کا رخ بھی جنوب کی جانب تھا۔ علاوہ ازیں یہود کو یہ حکم تھا کہ ان کی بڑی قربانیوں کا رخ بھی جنوب ہی کی طرف ہونا چاہیے۔ ۳۰؂ خود انبیاے بنی اسرائیل کی وابستگی بھی مسجد حرام کے ساتھ باقاعدہ قائم رہی، چنانچہ سیدنا موسیٰ اور سیدنا یونس علیہما السلام کے بارے میں تو مستند روایات میں یہ ذکر ہے کہ وہ بیت اللہ کے حج کے لیے حاضر ہوئے، ۳۱؂ جبکہ بعض غیر مستند روایات یہ بھی بتاتی ہیں کہ بیت اللہ کی تعمیر کے بعد دنیا میں کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جو اس کی زیارت وطواف کے لیے حاضر نہ ہوا ہو۔ ۳۲؂ گویا اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں یہ بات روز اول سے طے شدہ تھی کہ توحید کی دعوت کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے مرکز کی حیثیت اسی عبادت گاہ کو حاصل ہوگی۔ چنانچہ اس کی تولیت بنی اسماعیل کے سپرد کی گئی جن میں سیدنا ابراہیم واسماعیل علیہما السلام کی دعا کے مطابق اس آخری پیغمبر کو مبعوث ہونا تھا جو ملت ابراہیمی کی دعوت توحید کو آل ابراہیم کے محدود دائرے سے نکال کر اقوام عالم تک پہنچانے کے سلسلے کا آغاز فرمائے۔ ۳۳؂ قرآن مجید نے بیت اللہ کی تاریخ کے یہ تمام پہلو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیے ہیں۔

اس کے برعکس مسجد اقصیٰ کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکز عبادت کی تھی۔ ۳۴؂ مسجد حرام کے بالکل برعکس، دعوت توحید کے عالمی سطح پر ابلاغ میں اس مسجد کا کوئی بنیادی کردار نہ اللہ تعالیٰ کی اسکیم میں مقرر کیا گیا تھا، نہ اس کے بنانے والوں کے ذہن میں اس کا کوئی تصور موجود تھا اور نہ عملاً اس کو ایسا کوئی مقام تاریخ میں کبھی حاصل ہوا۔ مولانا قاری محمد طیب اس نکتے کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''حق تعالیٰ کی حکمت وقدرت کا کرشمہ تھا کہ یہ دعوت گو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانۂ خیر وبرکت میں عرفی اور تبلیغی انداز سے پوری دنیا تک نہ پہنچ سکی ، لیکن حکمت الٰہی نے انھیں کے ذریعہ اس دعوت کو ایک خاص تکوینی انداز سے عالمگیر بنا دینے کی صورت میں انھیں کے ہاتھوں سے قائم فرما دی اور وہ یہ کہ انھوں نے بامر خداوندی اس دنیا میں وہ مرکز رشد وہدایت قائم فرما دیا جو اس دعوت عامہ کے لیے مرکز نشر واشاعت اور مرکز توحید واتحاد بننے والا تھا۔ اور وہ کعبۂ مقدسہ تھا جس کی تعمیر کا انھیں امر دیا گیا اور اس طرح اس دعوت کے عموم کی اساس وبنیاد قائم ہو گئی۔ دوسرا مرکز آپ ہی نے فلسطین میں (ارض مقدسہ میں) قائم فرمایا یعنی مسجد اقصیٰ کی بنیاد ڈالی تاکہ بنی اسرائیل ملت ابراہیمی سے ہٹنے نہ پائیں۔ اور اگر وہ اسے آگے نہ بھی بڑھا سکیں تو کم سے کم اس عبادت گاہ کی بدولت خود تو اس ملت پر جمے رہیں اس لیے مسجد اقصیٰ کی خدمت اور تولیت ان ہی کی اولاد میں بنی اسرائیل کے حصہ میں آئی جو فلسطین میں آباد ہوئے۔ مگر یہ اک حقیقت ہے کہ حضرت خلیل اللہ کو اس دعوت ابراہیمی یا ملت ابراہیمی کو عالمی انداز سے پھیلانے کی جو توقعات بیت اللہ کے راستے سے حجاز مقدس اور بنی اسماعیل سے قائم ہوئیں، وہ مسجد اقصیٰ کے راستے فلسطین میں بنی اسرائیل سے قائم نہیں ہوئیں۔ یعنی ان کے ذہن مبارک میں حقیقی مرکز ارشاد وہدایت کعبۂ مقدس تھا، مسجد اقصیٰ نہ تھی۔ '' (مقامات مقدسہ اور اسلام کا اجتماعی نظام ۷۲، ۷۳)

''کعبہ واقصیٰ کو برکت وہدایت کا گھر بھی ایک ہی انداز سے بتایا گیا۔ فرق اتنا ہے کہ کعبہ کی برکت وہدایت 'ہدی للعالمین' سے عالم گیر بتلائی گئی جس سے برکت وہدایت کی لا تحدیدی نمایاں ہے، اور اقصیٰ کی برکت وہدایت کے ساتھ 'الذی بارکنا حولہ' فرمایا گیا جس میں ہمہ گیری کا ذکر نہیں بلکہ ماحول کی قید سے مقامیت عیاں ہے۔'' (ایضاً ، ۳۶۰)

دونوں عبادت گاہوں کے مقام اور حیثیت میں یہ فرق اسلامی شریعت کے عملی احکام میں بھی پوری طرح نمایاں ہے:

o مسجد حرام کو تو اسلامی شریعت میں نماز کے لیے قبلہ بھی مقرر کیا گیا ہے اور حج اور قربانی جیسی عبادات کے لیے مرکز بھی، جبکہ مسجد اقصیٰ کو ان میں سے کوئی ایک شرف بھی حاصل نہیں۔ اس ایک فرق کے سوا کہ اس میں عبادت کا ثواب عام مساجد سے ڈھائی سو گنا زیادہ ہے، اس میں اور باقی مساجد میں درجے یا احکام کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں۔

o مسجد حرام کے ارد گرد ایک مخصوص علاقے کو اسی خصوصی حیثیت کی وجہ سے شریعت میں 'حرم' کی حیثیت حاصل ہے جہاں مخصوص پابندیوں کا اہتمام لازمی ہے اور جس میں غیر مسلموں کا قیام عارضی وجوہ کے علاوہ جائز نہیں، جبکہ مسجد اقصیٰ اور اس کے ارد گرد علاقے کو اس طرح کا کوئی خصوصی امتیاز حاصل نہیں۔

o مسجد حرام کے مقام ومرتبہ، اس کی خصوصی حیثیت اور اس میں عبادت کی فضیلت سے، ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان ناواقف نہیں ہو سکتا، اس لیے کہ قرآن وسنت کے نصوص اور دین کے تواتر عملی سے یہ چیز کسی شک وشبہے کے بغیر ثابت ہے۔ ا س کے برخلاف مسجد اقصیٰ میں عبادت کے اجروثواب کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کے سامنے محض انفرادی طور پر کیا۔ آپ کا یہ ارشاد امت تک تواتر کے طریقے سے نہیں ، بلکہ اخبار آحاد کے ذریعے سے نقل ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اکابر صحابہ بھی، جن کا ذکر ہم اصل تحریر میں باحوالہ کر چکے ہیں، اس مسجد کی کسی خصوصی فضیلت اور اہمیت سے آشنا نہیں تھے۔

o روایات کی رو سے عبادت کی نیت سے باقاعدہ سفر کر کے جانا تو ان دونوں عبادت گاہوں کی طرف مشروع ہے، لیکن اگر آدمی مسجد حرام یا مسجد نبوی میں نماز ادا کر سکتا ہو تو مسجد اقصیٰ کے سفر کی منت مان لینے کے باوجود اس کو پورا کرنا لازم نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن ایک شخص سے ، جس نے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی نذر مانی تھی، فرمایا کہ تم یہیں مسجد حرام میں نماز پڑھ لو، تمھاری منت پوری ہو جائے گی۔ ۳۵؂ اسی طرح ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک خاتون کو جو بیت المقدس کے سفر کے لیے تیار تھی، روک دیا اور فرمایا کہ یہیں مسجد نبوی میں نماز ادا کر لو۔ ۳۶؂

دونوں عبادت گاہوں کے درجے اور احکام میں پائے جانے والے ان اصولی اور فروعی فروق کو حق تولیت کے معاملے میں کسی طرح سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ وہ اس پر بھی نہایت گہرے طور سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مسجد حرام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت خاصہ اور بعثت عامہ دونوں کے مقاصد اور اہداف کے مرکز ومحور کی حیثیت حاصل تھی۔ آپ کی بعثت خاصہ بنی اسماعیل کی طرف ہوئی تھی اور آپ کا اصل مشن بنی اسماعیل میں توحید کا احیا اور شرک کی بیخ کنی تھا۔ بعثت عامہ کے لحاظ سے آپ کی ذمہ داری یہ تھی کہ ابراہیمی مرکز توحید کو اپنی اصل حیثیت میں بحال کر کے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے مشن کا عالمی سطح پر احیا فرما دیں۔ چونکہ اس مرکز یعنی مسجد حرام پر مشرکین قابض تھے اور ان کے قبضے سے اس کو واگزار کرائے بغیر ان دونوں بعثتوں کے اہداف کی تکمیل کی کوئی صورت ممکن نہیں تھی، اس لیے مشرکین کے حق تولیت کا ابطال اس سارے معاملے میں ایک ناگزیر اقدام کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کے مقابلے میں اس طرح کی کوئی اہمیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے حوالے سے، مسجد اقصیٰ کو حاصل نہیں تھی، چنانچہ اس کے حق تولیت سے یہود کو محروم کرنے کا کوئی عملی محرک اور ضرورت بھی موجود نہیں تھی۔

اب دوسرے نکتے کو لیجیے:

آل ابراہیم کی دونوں شاخیں، جیسا کہ اوپر واضح ہوا، ملت ابراہیمی کی اصل تعلیمات وہدایات سے منحرف ہو گئی تھیں، تاہم دونوں گروہوں کے انحراف میں ایک واضح فرق تھا۔ مشرکین بنی اسمٰعیل کا انحراف تو جیسا کہ قرآن مجید کے نصوص سے واضح ہے، یہ تھا کہ وہ ملت ابراہیمی کی اصل اساس یعنی توحید ہی کے صاف منکر ہو چکے تھے اور 'شرک' کو باقاعدہ اعتراف واقرار کے ساتھ بطور مذہب اختیار کر چکے تھے۔ وہ ایک 'الہٰ' کی نہیں بلکہ متعدد 'آلہہ ' کی عبادت کے قائل تھے اور صرف خداے واحد کی عبادت کا تصور ان کے لیے اچنبھے کا باعث تھا:

إِنَّہُمْ کَانُوْا إِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یَسْتَکْبِرُوْنَ. وَیَقُوْلُوْنَ أَءِنَّا لَتَارِکُوْا آلِہَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ. (الصافات۳۷: ۳۵۔ ۳۶)

''ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں، کیا ہم ایک دیوانے شاعر کے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں؟''

أَجَعَلَ الْآلِہَۃَ إِلٰہًا وَاحِدًا إِنَّ ہَذَا لَشَیْءٌ عُجَابٌ. ( ص۳۸: ۵)

''کیا اس (پیغمبر) نے سب خداؤں کی جگہ ایک ہی خدا کو مان لیا؟ یہ تو ایک بڑی ہی انوکھی بات ہے۔''

ان کے 'شرک' کے اسی پہلو کو قرآن مجید نے 'شاہدین علی انفسہم بالکفر' کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ مولانا اصلاحی اس کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''کفر سے مراد یہاں ان کا شرک ہی ہے۔ شرک کو کفر سے تعبیر کر کے دین کی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ خدا کا ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو، بالخصوص اس شرک کے ساتھ تو ایمان باللہ کے جمع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جس کا کھلم کھلا اقرار واظہار ہو۔ مشرکین عرب کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ہاں شرک کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ ان کے کسی قول یا عمل سے شرک ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتا ہو ، بلکہ شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے انھوں نے اختیار کیا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۵۴۹)

اس کے برخلاف اہل کتاب یعنی یہود ونصاریٰ بے شمار اعتقادی اور عملی گمراہیوں میں مبتلا ہونے اور بہت سے مشرکانہ تصورات واعمال سے آلودہ ہونے کے باوجود اصولی طور پر 'توحید' ہی کے علم بردار تھے اور اپنے مشرکانہ تصورات واعمال کو مختلف تاویلات کے ذریعے سے 'توحید' کے منافی تصور نہیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے مسلمانوں اور اہل کتاب کے مابین 'توحید' کو ایک مشترک اساس کے طور پر تسلیم کیا اور اسی کی بنیاد پر انھیں اپنے مشرکانہ تصورات واعمال کو چھوڑ دینے کی دعوت دی:

یَاأَہْلَ الْکِتَابِ تَعَالَوْا إِلَی کَلِمَۃٍ سَوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہِ شَیْءًا وَلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ. (آل عمران۳ : ۶۴)

''اے اہل کتاب، آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمھارے مابین یکساں مسلم ہے، یعنی یہ کہ ہم نہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت کریں، نہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرایں اور نہ ہم میں سے کچھ لوگ دوسرے لوگوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیں۔''

مولانا امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اہل کتاب آسمانی صحیفوں کے حامل ہونے کے سبب سے توحید کی تعلیم سے اچھی طرح آشنا بھی تھے اور اس کے علم بردار ہونے کے مدعی بھی۔ ان کے صحیفوں میں نہایت واضح الفاظ میں توحید کی تعلیم موجود تھی۔ انھوں نے اگر شرک اختیار کیا تھا تو اس وجہ سے نہیں کہ ان کے دین میں شرک کے لیے کوئی گنجایش تھی ، بلکہ اپنے نبیوں اور صحیفوں کی تعلیمات کے بالکل خلاف محض بدعت کی راہ سے انھوں نے یہ چیز اختیار کی اور پھر متشابہات کی پیروی کرتے ہوئے، جیسا کہ ہم اوپر اشارہ کر آئے ہیں، اس کے حق میں الٹی سیدھی دلیلیں گھڑنے کی کوشش کی۔ قرآن نے ان کو دعوت دی کہ یہ بات ہمارے اور تمھارے درمیان یکساں مسلم ہے کہ اللہ کے سوا نہ کسی کی بندگی کی جائے، نہ اس کا کسی کو ساجھی ٹھہرایا جائے اور نہ ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو رب ٹھہرائے، پھر اس مسلم ومشترک حقیقت کے برخلاف تم نے خدا کی عبادت میں دوسروں کو شریک کیوں بنا رکھا ہے اور اپنے احبار ورہبان اور فقیہوں صوفیوں کو ' اربابا من دون اللّٰہ 'کا درجہ کیوں دے دیا؟'' (تدبر قرآن ۲/ ۱۱۲)

چنانچہ قرآن مجید نے دونوں گروہوں کے انحراف وگمراہی کو واضح کرتے ہوئے یہ بات تو واشگاف انداز میں بیان فرمائی کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ نسبت قائم کرنے اور ان کی ملت پر عمل پیرا ہونے کے دعوے میں دونوں گروہ جھوٹے ہیں، ۳۷؂ لیکن انحراف کی نوعیت میں مذکورہ فرق کی بنا پر دونوں کے ساتھ عملی معاملہ میں چند واضح امتیازات بھی قائم کر دیے:

۱۔ ایک یہ کہ وہ 'مشرکین' کا لقب خاص طور پر بنی اسمٰعیل ہی کے لیے استعمال کرتا اور 'اہل کتاب' کو مشرکین کے زمرے میں شمار کرنے کے بجائے ہر جگہ اہتمام کے ساتھ ان کا ذکر 'مشرکین' سے الگ ایک مستقل گروہ کے طور پر کرتا ہے۔ ۳۸؂

۲۔ مشرکین کے حوالے سے تو، ان کے عقیدۂ شرک کی نجاست کو واضح کرنے لیے، یہ حکم دیا گیا کہ ان کا ذبیحہ کسی حال میں جائز نہیں، چاہے وہ اللہ کا نام لے کر جانور کو ذبح کریں۔ اس کے برخلاف اہل کتاب کے ان ذبائح کو جنھیں وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کریں، مسلمانوں کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ ۳۹؂

۳۔ اسی بنیاد پر مشرک عورتوں سے نکاح تو مسلمانوں کے لیے حرام ، ۴۰؂ لیکن اہل کتاب کی پاک دامن عورتوں کے ساتھ نکاح مسلمانوں کے لیے حلال قرار دیا گیا۔ ۴۱؂

ان دونوں حوالوں سے اہل کتاب اور مشرکین کے مابین امتیاز کی وجہ واضح طور پر 'شرک' تھی، اسی وجہ سے فقہا یہ کہتے ہیں کہ چونکہ مجوس بھی مشرکین عرب کی طرح 'شرک' کے صریحاً اور اعترافاً قائل ہیں، اس لیے ان کے ذبیحہ اور ان کے ساتھ نکا ح کا حکم بھی وہی ہے جو مشرکین کا ہے۔ سرخسی اہل کتاب اور مجوس میں اس فرق کی علت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وہذا لان المجوس یدعون الاہین فلا یصح منہم تسمیۃ اللّٰہ علی الخلوص وہو شرط حل الذبیحۃ واہل الکتاب یظہرون التوحید وان کانوا یضمرون فی ذلک شرکا. (شر ح السیر الکبیر، ۱/ ۱۴۶)

''اس کی وجہ یہ ہے کہ مجوسی دو خداؤں کے قائل ہیں لہٰذا وہ ذبیحہ پر خالص اللہ کا نام نہیں لے سکتے جو کہ ذبیحہ کے حلال ہونے کی شرط ہے۔ اس کے برخلاف اہل کتاب اصولاً توحید کے قائل ہیں اگرچہ اس میں وہ شرک کی ملاوٹ کر دیتے ہیں۔''

اسی فرق پر یہ فقہی جزئیہ بھی مبنی ہے کہ اگر کوئی بت پرست 'لا الہ الا اللہ' کا کلمہ کہہ دے تو یہ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کافی ہوگا، لیکن اگر کوئی یہودی یا عیسائی 'لا الٰہ الا اللہ' کہہ دے تو اس کے مسلمان ہونے کے لیے اتنا کافی نہیں ہوگا۔ فقہا نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اہل کتاب چونکہ قبول اسلام سے پہلے ہی توحید کے قائل ہیں، اس لیے ان کے دائرۂ اسلام میں داخل ہونے کے لیے کلمہ توحید کا اقرار کافی نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ انھیں 'محمد رسول اللہ' کا بھی اقرار کرنا ہوگا۔ ۴۲؂

اس تفصیل کے بعد اب یہ دیکھیے کہ قرآن مجید نے مسجد حرام سے مشرکین کے حق تولیت کی تنسیخ کی بنیادی علت ان کے 'شرک' کو قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کے نصوص سے یہ علت اتنے غیر مبہم طریقے سے واضح ہے کہ حکم کے پس منظر پر روشنی ڈالنے والے کم وبیش تمام مفسرین نے اس کو نمایاں کیا ہے۔

ابوبکر الجصاص فرماتے ہیں:

المومنون .... اولی بالمسجد الحرام من الکفار لقولہ انما یعمر مساجد اللّٰہ من آمن باللّٰہ والیوم الآخر فاعلمہم اللّٰہ ان الکفر باللّٰہ وبالمسجد الحرام وہو ان اللّٰہ جعل المسجد للمومنین ولعبادتہم ایاہ فیہ فجعلوہ لاوثانہم ومنعوا المسلمین منہ فکان ذلک کفرا بالمسجد الحرام. (احکام القران، ۱/ ۴۴۰)

''اہل ایمان مسجد حرام پر کفار سے زیادہ حق رکھتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کی مساجد کو آباد کرنے کا حق انھی لوگوں کو حاصل ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو بتایا ہے کہ وہ اللہ اور مسجد حرام دونوں کے ساتھ کفر کے مرتکب ہیں، کیونکہ اللہ نے تو مسجد اہل ایمان کے لیے بنائی تھی تاکہ وہ اس میں خالص اللہ کی عبادت کریں جبکہ ان مشرکین نے اس کو ایک بت کدہ بنا کر مسلمانوں کو اس میں عبادت کرنے سے روک دیا ہے اور اس طرح مسجد حرام کی حرمت کو بٹہ لگا دیا ہے۔''

بقاعی لکھتے ہیں:

(شاہدین علی انفسہم) ای التی ہی معدن الارجاس والاہویۃ (بالکفر) ای باقرارہم لانہ بیت اللہ وہم یعبدون غیر اللّٰہ وقد نصبوا فیہ الاصنام بغیر اذنہ وادعوا انہا شرکاؤہ فاذن عمارتہم تخریب لتنافی عقدہم وفعلہم.(نظم الدرر، ۳/ ۲۸۲)

''ان کے نفوس جو کہ نجاستوں اور خواہشات کی آماج گاہ ہیں، یوں اپنے کفر کی گواہی خود دیتے ہیں کہ یہ اقرار کرنے کے بعد کہ یہ 'اللہ کا گھر' ہے، یہ اس میں غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور اللہ کی اجازت کے بغیر انھوں نے اس میں بت نصب کر رکھے ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں۔ ان کا اس مسجد کو آباد کرنا درحقیقت اس کو ویران کرنا ہے، کیونکہ ان کا قول اور ان کا فعل باہم بالکل متضاد ہیں۔''

ابن کثیر فرماتے ہیں:

یقول تعالٰی: ما ینبغی للمشرکین باللّٰہ ان یعمروا مساجد اللّٰہ التی بنیت علی اسمہ وحدہ لا شریک لہ ومن قرا مسجد اللّٰہ فاراد بہ المسجد الحرام اشرف المساجد فی الارض الذی بنی من اول یوم علی عبادۃ اللّٰہ وحدہ لا شریک لہ واسسہ خلیل الرحمن ہذا وہم شاہدون علی انفسہم بالکفر .(تفسیر القرآن العظیم، ۲/ ۳۴۰)

''اللہ کا ارشاد ہے کہ مشرکین کو یہ حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو، جو اللہ وحدہ لا شریک کے نام پر بنائی گئی ہیں، آباد کریں۔ اگر اس لفظ کو 'مساجد اللہ' کے بجائے 'مسجد اللہ' پڑھا جائے تو اس سے مراد مسجد حرام ہوگی جو کہ روے زمین کی سب سے زیادہ محترم مسجد ہے اور جس کی تعمیر روز اول سے اللہ کے خلیل نے اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کے لیے کی تھی۔ لہٰذا شرک کے قائل ہونے کی وجہ سے مشرکین اس عبادت گاہ پر کوئی حق نہیں رکھتے۔''

آلوسی لکھتے ہیں:

وما کانوا اولیاء ہ ای وما کانوا مستحقین ولایۃ المسجد الحرام مع شرکہم .... ان اولیاؤہ ای ما اولیاء المسجد الحرام الا المتقون من الشرک الذی لا یعبدون فیہ غیرہ تعالٰی. (روح المعانی، ۹/ ۲۰۲)

''مشرکین اپنے شرک کے ساتھ مسجد حرام کی تولیت کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ یہ حق تو ان لوگوں کو حاصل ہے جو شرک سے بچیں اور اس مسجد میں اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔''

ابو حیان الاندلسی فرماتے ہیں:

ومعنی الآیۃ..... ان الکافرین باللّٰہ ہم الظالمون ظلموا انفسہم بترک الایمان باللّٰہ وبما جاء بہ الرسول وظلموا المسجد الحرام اذ جعلہ اللّٰہ متعبدا لہ فجعلوہ متعبدا لاوثانہم.(البحر المحیط، ۵/ ۲۰)

''آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا انکار کرنے والے ظالم ہیں۔ انھوں نے اللہ اور رسول پر ایمان نہ لا کر اپنے آپ پر بھی ظلم کیا ہے اور مسجد حرام کو، جو خالص اللہ کی عبادت کے لیے قائم ہوئی تھی، اپنے بتوں کی عبادت گاہ بنا کر اس پر بھی ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔''

ابو السعود لکھتے ہیں:

شاہدین علی انفسہم بالکفر ای باظہار آثار الشرک من نصب الاوثان حول البیت والعبادۃ لہا فان ذلک شہادۃ صریحۃ علی انفسہم بالکفر. (۲/ ۲۵۹)

''مشرکین اپنے کفر کے خود گواہ ہیں ، کیونکہ انھوں نے بیت اللہ کے ارد گرد بت نصب کر رکھے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ یہ ان کی طرف سے اپنے کفر کی کھلی گواہی ہے۔''

خود مولانا امین احسن اصلاحی نے 'ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللّٰہ' کی تشریح میں مشرکین سے مسجد حرام کی تولیت چھینے جانے کے حکم کی اس علت کو بہت خوبی سے واضح کیا ہے:

''مشرکین کا لفظ اگرچہ عام ہے ، لیکن یہاں اس عام سے مراد قریش ہیں جو بیت اللہ کی تولیت کے مدعی تھے۔ نام کے بجائے وصف سے ان کے ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حکم عام ہو جائے اور اس کی علت بھی واضح ہو جائے۔ مساجد اللہ سے مراد اگرچہ مسجد حرام ہی ہے، چنانچہ آیت ۱۹ میں اس کی وضاحت بھی ہو گئی ہے، لیکن اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر فرمایا اس لیے کہ مسجد حرام کا معاملہ تنہا مسجد حرام ہی کا معاملہ نہیں ہے ، بلکہ تمام مساجد الٰہی کا معاملہ ہے۔ یہی تمام مساجد کی اصل، سب کا مرکز ومحور اور سب کا قبلہ ہے۔ اس کے انتظام وانصرام، اس کے مقصد اور ا س کی دعوت میں کوئی فساد پیدا ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تمام ہدایت وسعادت اور ساری خیر وبرکت کا مرکز ہی درہم برہم ہو گیا۔ فرمایا کہ مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجد حرام کے، جو تمام مساجد الٰہی کا مرکز اور قبلہ ہے، منتظم بنے رہیں جبکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ کفر سے مراد یہاں ان کا شرک ہی ہے۔ شرک کو کفر سے تعبیر کر کے دین کی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ خدا کا ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ بالخصوص اس شرک کے ساتھ تو ایمان باللہ کے جمع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جس کا کھلم کھلا اقرار واظہار ہو۔ مشرکین عرب کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ہاں شرک کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ ان کے کسی قول یا عمل سے شرک ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتا ہو ، بلکہ شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے انھوں نے اختیار کیا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس کفر کے علم بردار ہوں، ان کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ اس گھر کی تولیت پر، جو دنیا میں توحید اور خالص خدا پرستی کا سب سے پہلا گھر اور تمام مساجد الٰہی کا قبلہ ہے، قابض رہیں۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۱۳۹، ۱۴۰)

شرک کی یہ علت جس کی بنا پر مسجد حرام کا حق تولیت مشرکین سے چھینا گیا، اہل کتاب ، بالخصوص یہود میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔ یہود من حیث القوم ایک سے زیادہ خداؤں کے قائل تو کبھی نہیں ہوئے، تاہم اپنی تاریخ کے ابتدائی اور متوسط دور میں وہ مشرکانہ اعمال ورسوم میں ملوث ہوتے رہے۔ ۵۸۶ ق م میں ہیکل سلیمانی کی تباہی اور بابل کی ۷۰ سالہ اسیری کے بعد وہ شرک کے معاملے میں نمایاں طور پر محتاط ہو گئے اور اس کے بعد نہ انھوں نے اجتماعی طور پر بت پرستی کو اختیار کیا اور نہ مسجد اقصیٰ کو کسی بھی دور میں بت پرستی اور شرک کا مرکز بننے دیا۔ چنانچہ مسجد اقصیٰ اور یہود کے معاملے کو مسجد حرام اور مشرکین کے معاملے کے کسی بھی طرح مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔ ۴۳؂

اب تیسرے نکتے کو دیکھیے:

اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ وہ افراد اور اقوام کے مواخذے میں جن امور کو ملحوظ رکھتا ہے، ان میں دو باتیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں: ایک یہ کہ ان کے جرم کی سنگینی اور شناعت کس درجے کی ہے اور دوسرے یہ کہ ان پر اتمام حجت کس درجے میں ہوا اور حق بات کو قبول نہ کرنے پر ان کے پاس کس نوعیت کا عذر موجود ہے۔ اس قانون کے مطابق جرم کی نوعیت کے لحاظ سے سزا کی سنگینی میں بھی تفاوت ہوتا ہے اور اگر اتمام حجت میں کسی پہلو سے کوئی کمی رہ جائے تو بھی مجرم کو اس کا فائدہ ضرور ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار اعتقادی اور عملی ضلالتوں میں پڑ جانے کے باوجود بنی اسرائیل چونکہ اصلاً توحید کے ساتھ وابستہ رہے، اس لیے ان کو صفحہ ہستی سے بالکل مٹا دینے کے بجائے ان پر قیامت تک کے لیے مغلوبیت کا عذاب مسلط کیا گیا ۴۴؂ اور

سیدنا یونس علیہ السلام کی قوم، عذاب آنے کا واضح اعلان ہو جانے کے باوجود صرف اس وجہ سے عذاب سے بچ گئی کہ اس کی طرف مبعوث کیے جانے والے پیغمبر اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے بغیر اس کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ ۴۵؂ اسی ضابطے کے مطابق، چونکہ مشرکین کا جرم سنگینی کے لحاظ سے اہل کتاب کے جرم سے شدید تر تھا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان دونوں گروہوں پر اتمام حجت کی نوعیت میں بھی ایک واضح فرق تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں گروہوں کے انجام کا فیصلہ بھی ایک دوسرے سے مختلف کیا۔ مشرکین کی طرف تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت، بعثت خاصہ تھی کیونکہ آپ کی ذات کی حد تک آپ کی ذمہ داری اصلاً یہ تھی کہ آپ بنی اسماعیل کو ملت ابراہیمی کی اصل تعلیمات پر دوبارہ قائم کر دیں، چنانچہ آپ نے اپنی جدوجہد اور مساعی کا اصل ہدف انھی کو بنایا۔ اس کے نتیجے میں جب حق کی دعوت مشرکین پر من حیث القوم آخری درجے میں واضح ہو گئی اور اس کے باوجود وہ ایمان لانے کے لیے تیار نہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی سزا بھی ان پر، کسی رعایت کے بغیر، آخری درجے میں نافذ کر دی گئی۔ اس کے برعکس اہل کتاب بھی اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب تھے اور آپ نے دلائل وبراہین کی بنیاد پر ان پر بھی حجت قائم کی، لیکن وہ آپ کی دعوت اور تبلیغی مساعی کا اس طرح ہدف نہیں تھے جس طرح کہ مشرکین بنی اسماعیل تھے، اس وجہ سے اس بات کا امکان موجود تھا کہ اہل کتاب کے علما واحبار اگرچہ اپنے علم کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعواے نبوت کی حقانیت کو جانتے ہوں لیکن من حیث القوم اہل کتاب پریہ بات اس طرح سے واضح نہ ہوئی ہو کہ ان کو کوئی رعایت دیے بغیر آخری درجے میں ان پر سزا نافذ کر دی جائے۔

آلوسی اس نکتے کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

وھی توخذ عند ابی حنیفۃ من اھل الکتاب مطلقا ومن مشرکی العجم والمجوس لا من مشرکی العرب لان کفرہم قد تغلظ لما ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نشا بین اظہرہم وارسل الیہم وہو علیہ الصلاۃ والسلام من انفسہم ونزل القرآن بلغتہم وذلک من اقوی البواعث علی ایمانہم فلا یقبل منہم الا السیف او الاسلام زیادۃ فی العقوبۃ علیہم. (روح المعانی، ۱۰/ ۷۹)

''امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جزیہ عرب وعجم کے اہل کتاب اور عجم کے مشرکین اور مجوس سے وصول کیا جائے گا ، لیکن عرب کے مشرکین سے قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ان کا کفر کئی وجوہ سے سنگین تر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی کے مابین زندگی کے مختلف مراحل گزارے، آپ انھی کا ایک فرد تھے اور انھی کی طرف مبعوث ہوئے تھے، اور قرآن مجید بھی انھی کی زبان میں نازل ہوا۔ یہ تمام امور ان کے ایمان لانے کے نہایت قوی محرکات کا درجہ رکھتے ہیں، اس لیے (انکار کی صورت میں) ان کو سزا بھی سنگین تر ملی ہے، چنانچہ ان سے تلوار یا اسلام کے علاوہ اور کوئی چیز قبول نہیں کی جائے گی۔''

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

''اہل کتاب کے ساتھ جو معاملہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، وہ اس سے مختلف ہے جس کی ہدایت اوپر مشرکین کے باب میں کی گئی ہے۔ مشرکین کے باب میں تو یہ حکم ہوا کہ جب تک یہ کفر سے توبہ کر کے اسلام نہ اختیار کر لیں، اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑو ، لیکن ان اہل کتاب کو جزیہ کی ادائیگی پر امان دے دینے کی ہدایت ہوئی۔ اس فرق کی وجہ وہی ہے جس کی وضاحت ہم پیچھے کر چکے ہیں کہ مشرکین عرب کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت براہ راست تھی، آپ انھی کے اندر سے اٹھائے گئے تھے، انھی کی زبان میں آپ پر اللہ کا کلام اترا اور انھی کو آپ نے اپنی دعوت کا مخاطب اول بنایا اور ہر پہلو سے انھی کے معروف ومنکر اور انھی کے مطالبات کے مطابق آپ نے ان پر اتمام حجت کیا۔ اس اہتمام کے بعد ان کے لیے کسی مزید مہلت کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چنانچہ مشرکین بنی اسمٰعیل ذمی نہیں بنائے جا سکتے ہیں ، لیکن دوسرے غیر مسلموں کو یہ موقع دیا گیا کہ وہ اسلامی حکومت میں ذمی بن کر رہ سکتے ہیں۔'' (تدبر قرآن ۳/ ۱۵۰)

اس فرق کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین کا تو بطور ایک مذہبی گروہ کے مکمل طور پر خاتمہ کر دیا گیا ، لیکن اہل کتاب کو ایک مستقل مذہبی گروہ کی حیثیت سے باقی رہنے اور اپنی مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی اجازت دی گئی۔ دونوں گروہوں کے انجام میں اس بنیادی فرق ہی کی وجہ سے مشرکین کی تمام عبادت گاہوں کو، جن میں وہ اصنام واوثان کی پوجا کیا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد ایک ایک کر کے ڈھا دینے کا حکم دیا، جس کی تفصیل ہم اصل تحریر میں بیان کر چکے ہیں، جبکہ اہل کتاب کی عبادت گاہوں کو 'مساجد اللہ' ۴۶؂ اور ذکر الٰہی کے مراکز قرار دیتے ہوئے نہ صرف انھیں پورا پورا تحفظ فراہم کیا گیا ، بلکہ اسلامی قانون جہاد کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد اس بات کو قرار دیا گیا کہ اگر مسلمانوں کے علاوہ اہل کتاب کی عبادت گاہوں کو بھی تباہی اور بربادی کا خطرہ درپیش ہو تو ان کے دفاع کے لیے مسلمانوں کی تلوار حرکت میں آئے گی۔ ۴۷؂

ہمارے نزدیک اس فرق کا بھی عبادت گاہ کے حق تولیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے، اس لیے کہ اگر ایک مذہبی گروہ کے کلی خاتمہ (Extermination) کا فیصلہ کر دیا جائے تو ان سے ان کے قبلہ کو چھین لینا اور ان کی تمام عبادت گاہوں کو ڈھا دینا اس فیصلے کا ایک منطقی تقاضا قرار پاتا ہے، لیکن کسی مذہبی گروہ کو وجود وبقا کا حق اور اس کی عبادت گاہوں کو تحفظ کی ضمانت دینے کے بعد اس سے قبلے کا حق تو لیت چھین لینا ایک لاینحل داخلی تضاد کی حامل بات ہے۔ ہم نے اصل تحریر میں اس نکتے کو ان لفظوں میں واضح کیا ہے:

''اس تضاد کا کیا حل ہے کہ جب اسلام میں اہل کتاب کی عام عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور ان پر اہل مذہب کی تولیت و تصرف کا حق تسلیم کیا گیا ہے تو ان کے قبلہ اور مرکز عبادت کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ وہ اس پر تولیت وتصرف یا اس کے اندر عبادت کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ؟ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب اور اس کے قبلے کو روحانی لحاظ سے لازم وملزوم کی حیثیت حاصل ہوتی ہے، اور اپنے قبلے پر اہل مذہب کے حق کی نفی کا سیدھا سیدھا مطلب خود اس مذہب کے وجود وبقا اور اس کے ماننے والوں کے مذہبی وروحانی بنیاد پر اتحاد واجتماع کے حق کی نفی ہے۔ علم ومنطق کی رو سے ان دونوں باتوں میں کوئی تطبیق نہیں دی جا سکتی کہ ایک مذہب کے لیے بطور مذہب تو وجود وبقا کا حق تسلیم کیا جائے اور اہل مذہب کے روحانی ومذہبی جذبات کے احترام کی تعلیم بھی دی جائے ، لیکن ساتھ ہی یہ کہہ دیا جائے کہ اپنے قبلے میں عبادت اور اس کی تولیت کا کوئی حق ان کو حاصل نہیں ہے۔ اگر آپ ماننا چاہتے ہیں تو دونوں باتوں کو ماننا ہوگا، اور اگر نفی کرنا چاہتے ہیں تو بھی دونوں باتوں کی کرنی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے مشرکین عرب سے محض کعبہ کی تولیت کا حق ہی نہیں چھینا، بلکہ اس کے ساتھ ان کے اپنے مذہب پر قائم رہنے کے اختیار کی بھی صاف طور پر نفی فرما دی اور کہا کہ ان کے لیے نجات کی راہ صرف یہ ہے کہ وہ دین حق کو قبول کر لیں۔''

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہود اور مشرکین کے مابین اور اسی طرح مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ کے مابین وہ مماثلت سرے سے پائی ہی نہیں جاتی جس کو فرض کر کے بعض اہل علم نے ایک گروہ اور اس کے زیر تولیت عبادت گاہ کے احکام کا اطلاق دوسرے گروہ اور اس کے زیر تولیت عبادت گاہ پر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مسجد حرام سے مشرکین بنی اسماعیل کے حق تولیت کی تنسیخ کی بنیادی وجہ، جیسا کہ ہم نے واضح کیا، یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس عبادت گاہ کو دین ابراہیمی کی عالمی دعوت کے لیے ایک مرکز قرار دیا تھا جبکہ یہ مشرکین ملت ابراہیمی کی اساس یعنی توحید کو چھوڑ کر شرک کو بطور مذہب اختیار کر چکے تھے، چنانچہ کسی بھی مذہبی یا اخلاقی اصول کے تحت وہ اس عبادت گاہ کی تولیت کا کوئی استحقاق نہیں رکھتے تھے۔ علاوہ ازیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ایک مذہبی گروہ کے طور پر ان کے خاتمے کا فیصلہ کر دیا گیا تھا جس کے بعد بیت اللہ کے ساتھ ان کے تعلق ووابستگی کا سوال ہی سرے سے ختم ہو گیا تھا۔ ان وجوہ میں سے کوئی ایک وجہ بھی مسجد اقصیٰ اور یہود میں ہرگز نہیں پائی جاتی، اور اشتراک علت کے بغیر دو گروہوں کے مابین اشتراک حکم ثابت کر دینے کی علمی لحاظ سے جو حیثیت ہو سکتی ہے، وہ محتاج بیان نہیں۔

[باقی]

____________

۱؂ دیکھیے: 'اشراق'، اگست، ستمبر ۲۰۰۳۔

۲؂ الفاطر :۲۴

۳؂ المومنون:۴۴۔

۴؂ المائدہ: ۲۰۔

۵؂ المائدہ: ۲۱۔

۶؂ الانعام: ۱۵۴۔

۷؂ البقرہ: ۸۷۔

۸؂ البقرہ: ۴۷۔

۹؂ ۱۔ سلاطین ۸: ۲۲۔۵۳۔

۱۰؂ المائدہ:۴۴۔

۱۱؂ المائدہ: ۱۳۔ مریم:۵۹۔

۱۲؂ الصف: ۶۔

۱۳؂ ابراہیم:۳۷۔

۱۴؂ الحج: ۲۶ تا ۳۸۔ ۷۸۔

۱۵؂ آل عمران: ۶۷، ۶۸۔

۱۶؂ مسلم، الجہاد والسیر، رقم ۳۳۳۱۔

۱۷؂ ابن ماجہ، الدیات، ۲۶۱۸۔

۱۸؂ ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۴/ ۷۰۔

۱۹؂ برأ ۃ: ۵۔

۲۰؂ برأ ۃ: ۱۷، ۲۸۔

۲۱؂ بخاری، تفسیر القرآن، ۴۲۹۰۔

۲۲؂ مسلم، الحج، ۲۲۸۶۔

۲۳؂ سید سلیمان ندوی، سیرت النبی، ۳/ ۲۵۴۔

۲۴؂ آل عمران: ۹۶۔

۲۵؂ البقرہ: ۱۲۷۔

۲۶؂ البقرہ: ۱۲۵ ۔ الحج: ۲۶ تا ۳۸۔

۲۷؂ البقرہ: ۱۲۵۔

۲۸؂ الحج: ۲۷۔

۲۹؂ البقرہ:۱۲۵، ۱۴۹۔

۳۰؂ رسالہ ذبیح۔

۳۱؂ مسلم، الایمان، ۲۴۲۔

۳۲؂ ازرقی، اخبار مکۃ، ۱/ ۷۲۔

۳۳؂ البقرہ: ۱۲۹۔

۳۴؂ البقرہ: ۱۴۵۔

۳۵؂ ابوداؤد، الایمان والنذور، ۲۸۷۵۔

۳۶؂ مسلم، الحج، ۲۴۷۴۔

۳۷؂ آل عمران: ۶۷، ۶۸۔

۳۸؂ البقرہ: ۱۰۵۔ المائدہ: ۸۲۔ البینہ: ۱۔

۳۹؂ المائدہ: ۵۔

۴۰؂ البقرہ: ۲۲۱۔

۴۱؂ المائدہ:۵۔

۴۲؂ سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۱۵۱۔ ابو اللیث السمرقندی، فتاویٰ النوازل، ۲۰۸۔

جمہور فقہا اسی نقطۂ نظر کے قائل ہیں جو ہم نے متن میں بیان کیا ہے، یعنی یہ کہ اگرچہ اہل کتاب کے ہاں ایسے اعتقادات پائے جاتے ہیں جو یا تو صریحاً شرک کے زمرے میں آتے ہیں اور یا شرک کو مستلزم ہیں، لیکن چونکہ وہ اصولاً خدائے واحد ہی کی عبادت کے قائل ہیں اور اپنے ان شرک آلود اعتقادات کو 'شرک' تسلیم کرتے ہوئے اقراری طور پر مشرک نہیں ہیں، اس لیے ان کا شمار 'مشرکین' میں نہیں ہوتا۔ ابو حیان لکھتے ہیں:

والجمہور علی ان المشرک من اتخذ مع اللّٰہ الہا آخر وعلی ان اہل الکتاب لیسوا بمشرکین . (ابو حیان، البحر المحیط، ۵/ ۲۷)

''جمہور کی رائے یہ ہے کہ 'مشرک' وہ ہوتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی اور ہستی کو اپنا الٰہ مان لے، اور اہل کتاب (چونکہ اس کے قائل نہیں، اس لیے وہ) مشرک نہیں ہیں۔''

تاہم بعض اہل علم کے نزدیک مشرکانہ اعتقادات کے حامل ہونے کی وجہ سے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کا شمار بھی 'مشرکین' میں ہوتا ہے، البتہ سابقہ صحف سماوی پر عمل پیرا ہونے کے دعوے اور انبیاے بنی اسرائیل کے ساتھ نسبت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے ان کو رعایت دیتے ہوئے بعض عملی احکام میں ان کے اور مشرکین کے مابین امتیاز قائم کر دیا ہے۔ (رازی، مفاتیح الغیب، ۱۰/ ۳۳)

اس رائے پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ اللہ کے نبیوں کے ساتھ نسبت اور ان کی ملت پر عمل پیرا ہونے کے مدعی تو مشرکین بنی اسمٰعیل بھی تھے، تو اس بنا پر یہی رعایت ان کو بھی کیوں نہیں دے دی گئی؟ تاہم اگر اس نقطۂ نظر کو برسبیل تنزل، درست مان لیا جائے تو بھی زیر بحث مسئلے میں نتیجے کے لحاظ سے کوئی فرق واقع نہیں ہوتا، اس لیے کہ مشرکین عرب اور اہل کتاب کے احکام میں عملی فرق اس رائے کے حاملین کے ہاں بھی مسلم ہے۔ یہ امتیاز جیسے باقی امور میں ملحوظ رکھا جاتا ہے، اسی طرح مسجد اقصیٰ کی تولیت کے معاملے میں بھی اس کو، لازماً، ملحوظ رکھا جانا چاہیے، کیونکہ باقی امور اور مسجد کی تولیت کے معاملے میں فرق کی کوئی نقلی یا عقلی دلیل موجود نہیں ہے۔

۴۳؂ 'توحید' کے معاملے میں یہود کی حساسیت کا اندازہ ایک روایت سے کیا جا سکتا ہے۔ قتیلہ بنت صیفی رضی اللہ عنھا روایت کرتی ہیں کہ یہود کے علما میں سے ایک عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے محمد، اگر آپ اور آپ کی قوم شرک کا ارتکاب نہ کریں تو آپ بہت اچھے لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ، ہمارے اندر شرک کی کون سی بات ہے؟ اس نے کہا کہ جب آپ لوگ قسم اٹھاتے ہیں تو کعبہ کی قسم بھی اٹھا لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر غور کیا اور پھر فرمایا کہ بھئی، اس نے بات تو ٹھیک کہی ہے، اس لیے جو شخص قسم اٹھائے تو صرف رب کعبہ کی قسم اٹھائے۔ یہودی عالم نے پھر کہا کہ اے محمد، اگر آپ اور آپ کی قوم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں تو آپ بہت اچھے لوگ ہیں۔ آپ نے فرمایا، سبحان اللہ، ہم کب ایسا کرتے ہیں؟ اس نے کہا کہ آپ لوگ کہتے ہیں: جو اللہ چاہے اور تم چاہو (یعنی اللہ کی مشیت اور انسان کے ارادے کو ایک ساتھ ذکر کر دیتے ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑی دیر کے لیے غور کیا اور پھر فرمایا کہ اس نے یہ بات بھی ٹھیک کہی ہے، اس لیے جو آدمی (کسی معاملے میں) اللہ کی مشیت کو بیان کرے تو (اس کے ساتھ متصلاً کسی انسان کے ارادے کا ذکر نہ کرے ، بلکہ دونوں کو جدا جدا ذکر کرے اور) یوں کہے کہ جو 'اللہ چاہے اور پھر جو تم چاہو'۔ (مسند احمد، ۲۵۸۴۵)

۴۴؂ جاوید احمد غامدی، 'قانون جہاد'، ماہنامہ اشراق، مئی ۲۰۰۳، ۳۸، ۳۹۔

۴۵؂ یونس: ۹۸۔ القلم: ۴۸۔۵۰۔

۴۶؂ البقرہ: ۱۱۴۔

۴۷؂ الحج: ۴۰۔