مسجد اقصیٰ، یہود اور امت مسلمہ  تنقیدی آرا کا جائزہ (2) حصہ اول


چند مزید استدلالات اور ان کا جائزہ

اگرچہ سابقہ بحث کی روشنی میں مسئلے کا بنیادی اور فیصلہ کن پہلو ہمارے نقطۂ نگاہ سے منقح ہو چکا ہے، تاہم مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بحث کی تکمیل کے لیے ان جزوی اور ثانوی نوعیت کے استدلالات پر بھی یہاں تبصرہ کر دیا جائے جو اس حوالے سے مختلف ناقدین کی جانب سے سامنے آئے ہیں۔

اس ضمن میں واقعۂ اسرا اور تحویل قبلہ کے واقعات کے حوالے سے جو استدلال بالعموم پیش کیا جاتا ہے، اس پر ہم اصل تحریر میں تنقید کر چکے ہیں۔ بعض ناقدین نے اگرچہ ان واقعات کو دوبارہ بطور دلیل پیش کر دیا ہے ، لیکن ہمارے اٹھائے ہوئے تنقیدی نکات سے، سردست، کسی ناقد نے تعرض کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ ان کے علاوہ جو مزید دلائل وقرائن اس سلسلے میں سامنے آئے ہیں، انھیں ایک مناسب ترتیب کے ساتھ ہم یہاں زیر بحث لائیں گے:

۱۔ 'تکوینی مشیت' اور 'تشریعی حکم' میں فرق

تورات اور قرآن ، دونوں کے بیانات کی رو سے یہ بات بالکل قطعی ہے کہ ہیکل سلیمانی کی بربادی اور یہود کے اس سے بے دخل کیے جانے کے واقعات اللہ تعالیٰ کی مشیت سے بنی اسرائیل کی بد کرداری کی پاداش میں رونما ہوئے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے بعض ناقدین نے یہ کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کا اہتمام فرمایا ہے کہ یہود اپنے قبلے کی تولیت سے محروم رہیں تو امت مسلمہ انھیں یہ حق کیونکر دے سکتی ہے؟

یہ استدلال اللہ تعالیٰ کی 'تکوینی مشیت' اور 'شرعی حکم' کے مابین اس نازک فرق کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے جس کا ہم نے اصل تحریر میں اشارتاً ذکر کیا تھا۔ سطور بالا میں ہم اپنے اس نقطۂ نظر کے دلائل تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ مسجد اقصیٰ کے حق تولیت سے یہود کا محروم کیا جانا سراسر ایک تکوینی معاملہ ہے جسے امت مسلمہ کسی بھی اصول کی رو سے اپنے طرز عمل کا ماخذ نہیں بنا سکتی۔ اللہ تعالیٰ کی 'تکوینی مشیت' اور 'شرعی حکم' کے مابین یہ فرق اہل علم کے ہاں مسلم ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کسی گروہ کے مواخذہ کے لیے تکوینی لحاظ سے اس کے ساتھ جو مخصوص معاملہ فرماتے ہیں، وہ نہ صرف یہ کہ شریعت کی واضح ہدایات کے بغیر ہمارے لیے واجب الاتباع نہیں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات اس نوعیت کے کسی فیصلے کو اپنے طرز عمل کا ماخذ بنانا شریعت کی رو سے حرمت کے درجے میں ممنوع ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر قرآن مجید نے بخت نصر اور طیطس کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے بندے تھے جنھوں نے اس کی تکوینی مشیت کے تحت مسجد کی بے حرمتی کی، بنی اسرائیل کا قتل عام کیا اور ہر چیز کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا۔ ظاہر ہے کہ اللہ کی یہ تکوینی مشیت کسی بھی طرح ہمارے لیے شرعی ماخذ نہیں بن سکتی اور نہ کوئی مسلمان اس کی بنیاد پر مسجد اقصیٰ کے ساتھ اس سلوک کو جائز قرار دے سکتا ہے۔ خود اللہ تعالیٰ نے یہاں جس بات کو اپنی تکوینی مشیت کا نتیجہ قرار دیاہے، دوسرے مقام پر اسی طرز عمل کو اختیار کرنے پر نصاریٰ کی مذمت کی ہے۔ چنانچہ سورۂ بقرہ کی آیت ۱۱۴ میں یہ ارشاد : 'ومن اظلم ممن منع مساجد اللّٰہ ان یذکر فیہا اسمہ وسعی فی خرابہا' نصاریٰ کے اس طرز عمل ہی کے حوالے سے وارد ہوا ہے جو انھوں نے مسجد اقصیٰ کی توہین اور یہود کو اس میں عبادت سے روکنے کے حوالے سے اپنا رکھا تھا۔

یہی معاملہ اس تکوینی حکم کا بھی ہے جس کے نتیجے میں من حیث القوم جلا وطنی، ذلت ورسوائی اور اقوام عالم کے ہاتھوں اذیتیں سہنے کا انجام بنی اسرائیل کے لیے مقدر کر دیا گیا۔ اس کے باوجود کسی شرعی یا اخلاقی جواز کے بغیر محض اس بنیاد پر یہودیوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک روا رکھنا کہ یہ سزا اللہ تعالیٰ نے ان پر نافذ کر رکھی ہے، کسی صاحب علم کے نزدیک درست نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اپنی پوری تاریخ، بالخصوص اندلس کے عہد حکومت اور خلافت عثمانیہ کے دور میں یورپ کے عیسائیوں کے ہاتھوں ظلم وستم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو بھرپور مالی اور سیاسی پناہ فراہم کرتے رہے ہیں۔

سرزمین فلسطین پر یہودی ریاست کے قیام کو بھی بہت سے اہل علم نے اسی تناظر میں دیکھتے ہوئے اسے ایک سزا قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکوینی طور پر مسلمانوں پر نافذ کی گئی ہے ، ۴۸؂ لیکن اس کے باوجود وہ نہ قیام اسرائیل کو جائز تسلیم کرتے ہیں اور نہ اس بنیاد پر بیت المقدس سے دست برداری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، جس کی وجہ یہی ہے کہ وہ اللہ کی تکوینی مشیت کو قانونی وشرعی جواز کا ماخذ نہیں سمجھتے۔ اس سے واضح ہے کہ اللہ کی تکوینی مشیت، شرعی حکم کے مترادف نہیں ہوتی اور نہ اس سے کسی طرز عمل کے حق میں جواز اخذ کرنا درست ہے۔ ہمارے لیے ایسے امور میں بھی معیار اور ضابطے کی حیثیت انھی شرعی احکام اور اخلاقی مسلمات کو حاصل ہے جنھیں ہم باقی تمام امور میں اپنے طرز عمل کا ماخذ بناتے ہیں۔

۲۔ 'ماکان للمشرکین ان یعمروا مساجد اللّٰہ' کی تعمیم

سورۂ برأۃ کی آیت ۱۷ اور ۱۸ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مشرکین چونکہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں، اس لیے انھیں اللہ کی عبادت کے لیے قائم کردہ مساجد کی تولیت کا کوئی حق نہیں۔ ان کے اعمال اکارت ہیں اور یہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے۔ اللہ کی مساجد کی تولیت کا حق ان اہل ایمان کو حاصل ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، اقامت صلوٰۃ اور ایتاے زکوٰۃ کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

بعض ناقدین نے اس آیت کو تمام مساجد کی تولیت کے حوالے سے ایک اصولی اور عمومی حکم قرار دیتے ہوئے یہ استدلال کیا ہے کہ اس کی رو سے کوئی بھی مسجد ہدایت الٰہی سے منحرف کسی بھی گروہ کے زیر تولیت نہیں رہ سکتی، لیکن اصول استنباط کی روشنی میں یہ استدلال ایک بالکل ناپختہ اور خام استدلال ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اول تو یہ حکم اپنے الفاظ اور سیاق وسباق ہی کے لحاظ سے اس سے ابا کرتا ہے کہ اسے کوئی عام حکم قرار دیا جائے۔ آیت کے الفاظ اس باب میں بالکل صریح ہیں کہ یہاں زیر بحث صرف مشرکین اور مسجد حرام پر ان کا حق تولیت ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے نبیوں کی قائم کردہ مساجد کے حق تولیت کا مسئلہ قرآن مجید میں صرف ایک جگہ یعنی زیر بحث آیت میں بیان نہیں ہوا اور نہ اس آیت کی نوعیت اس حکم کے واحد ماخذ کی ہے۔ قرآن مجید میں ان مساجد کے حق تولیت کی بحث، جیسا کہ ہم پوری تفصیل سے بیان کر چکے ہیں، ہجرت مدینہ کے بعد ایک مسلسل مضمون کے طور پر بیان ہوئی ہے اور اس بحث میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ محل نزاع صرف مسجد حرام کو قرار دیا ہے، بلکہ وقتا فوقتاً یہ بات بھی واضح فرما دی ہے کہ مسجد اقصیٰ کی تولیت کسی بھی درجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امت مسلمہ کے مشن کا ہدف نہیں۔ زیر بحث حکم اسی تناظر میں ان احکام کے ضمن میں وارد ہوا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے تکمیلی مرحلے میں خاص طور پر صرف مشرکین عرب کے بارے میں دیے گئے، چنانچہ اپنے الفاظ، سیاق وسباق اور پس منظر کے لحاظ سے یہ حکم اس کا متحمل ہی نہیں کہ اس کی تعمیم کر کے یہود اور مسجد اقصیٰ کو اس کے دائرۂ اطلاق میں شامل کیا جا سکے۔

ناقدین کے لیے غلط فہمی کا سبب غالباً یہ بات ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں مشرکین کے حق تولیت کی تنسیخ کی علت ان کے 'کفر' کو قرار دیا ہے اور کفر کی علت یہود میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن اول تو، جیسا کہ ہم اکابر مفسرین کے حوالے سے واضح کر چکے ہیں، اس آیت میں 'کفر' سے مراد مشرکین کا 'شرک' ہی ہے۔ دوسرے یہ کہ بالفرض یہ مان لیا جائے کہ 'کفر' کا لفظ یہاں اپنی تمام صورتوں کے لیے عام ہے تو بھی اس نوعیت کے احکام میں ان کے اصل پس منظر کو ملحوظ رکھے بغیر محض کسی ایک آیت کے ظاہری الفاظ پر حکم کے عموم یا خصوص کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسا کیا جائے گا تو نتیجہ متکلم کے منشا کے صریح منافی نکلے گا۔ مثال کے طور پر سورۂ بقرہ میں مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح کی ممانعت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:

وَلَاتَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ، وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ...اُولٰٓءِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ.(البقرہ: ۲۲۱)

''مشرک عورتوں کے ساتھ نکاح نہ کرو ، یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں۔ صاحب ایمان لونڈی بھی ایک مشرک عورت سے بہتر ہے، اگرچہ اس کا حسن تمھیں لبھائے ... یہ اہل شرک تو جہنم کی آگ کی طرف دعوت دیتے ہیں۔''

یہاں مشرک عورت سے حرمت نکاح کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ ''مشرکین آگ کی طرف بلاتے ہیں''۔ اگر اس معاملے میں وارد دیگر نصوص کو نظر انداز کر دیا جائے تو آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی غیر مسلم عورت سے، چاہے وہ اہل کتاب میں سے ہو، نکاح جائز نہیں ، کیونکہ جہنم کی طرف بلانے کی علت ان میں بھی پائی جاتی ہے، لیکن جیسا کہ واضح ہے، یہ متکلم کا منشا نہیں ہے اور خود قرآن مجید نے دوسرے مقام پر صراحتاً اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کو حلال قرار دیا ہے۔ ۴۹؂ بالکل اسی طریقے سے سورۂ برأۃ کی مذکورہ آیت کے ظاہری الفاظ کی بنیاد پر حق تولیت کی تنسیخ کو مسجد اقصیٰ کے لیے عام قرار دینا علمی لحاظ سے ایک بالکل فاسد استدلال ہے، کیونکہ اس معاملے سے متعلق دیگر نصوص میں، جن کی تفصیلی وضاحت ہم اوپر کر چکے ہیں، حق تولیت کے حوالے سے مشرکین اور اہل کتاب کے مابین ایک واضح امتیاز قائم کر دیا گیا ہے۔

اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ سورۂ برأۃ کا مذکورہ حکم یہود کو مشرکین پر 'قیاس' کرنے کے لیے بھی بنیاد نہیں بن سکتا۔ کسی صریح نص کے بغیر یہود کے حق تولیت کا حکم 'قیاس' کے اصول پر ان نصوص سے اخذ کرنے میں جن میں مشرکین کے حق تولیت کا حکم بیان ہوا ہے، تین باتیں مانع ہیں: ایک یہ کہ حق تولیت کی تنسیخ ایک بے حد نازک اور اہم معاملہ ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے 'نص' کا متقاضی ہے، اس لیے اس بارے میں نص صریح سے کم تر کوئی چیز، خواہ وہ قیاس ہو یا عقلی استدلال کی کوئی اور قسم، قبول نہیں کی جا سکتی۔ دوسرے یہ کہ قیاس سے رجوع صرف اس معاملے میں کیا جا سکتا ہے جو غیرمنصوص ہو، جبکہ زیر بحث مسئلے میں نصوص خاموش نہیں ہیں ، بلکہ صریحاً اس تصور کی نفی کرتی ہیں۔ تیسرے یہ کہ اس معاملے کو غیر منصوص فرض کر لیا جائے تو بھی مقیس علیہ اور مقیس کے مابین جس نوعیت کی مماثلت قیاس کی بنیاد بن سکتی ہے، وہ زیر بحث صورت میں مفقود ہے اور ملت ابراہیمی سے انحراف کی ظاہری مماثلت سے مذکورہ نتیجہ اخذ کرنا ان دونوں گروہوں اور عبادت گاہوں کے مابین فرق وامتیاز کے ان غیر مبہم (Unmistakable) وجوہ کو نظر انداز کیے بغیر ممکن نہیں جو آل ابراہیم کی تاریخ اور اسلامی شریعت کے قطعی دلائل سے ثابت ہیں اور جن کی پوری تفصیل ہم اوپر کی سطور میں بیان کر چکے ہیں۔

۳۔ ہیکل پر 'مسجد' کے لفظ کا اطلاق

یہ استدلال بھی سامنے آیا ہے کہ یہودی حضرت سلیمان کی قائم کردہ عبادت گاہ کو 'ہیکل' کہتے ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے 'مسجد' کے نام سے یاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا اس کو 'مسجد' قرار دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہود اس پر کوئی حق نہیں رکھتے، اس لیے کہ 'مسجد' کا لفظ صر ف مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لیے بولا جاتا ہے۔

یہ استدلال بدیہی طور پر غلط ہے، اس لیے کہ 'مسجد' کا لفظ یقیناًاپنے اصطلاحی اور عرفی مفہوم کے لحاظ سے مسلمانوں کی مخصوص عبادت گاہوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، لیکن اپنے اصل لغوی مفہوم کے لحاظ سے یہ مطلقاً 'عبادت گاہ' کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے، چاہے وہ مسلمانوں کی ہو یا اہل کتاب کی۔ قرآن وحدیث میں اس استعمال کے نظائر موجود ہیں۔ مثال کے طور پر سورۂ بقرہ کی آیت ۱۱۴ میں اللہ تعالیٰ نے یہود ونصاریٰ کے اس طرز عمل کی مذمت کی ہے کہ وہ مذہبی اختلاف کی بنا پر ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر تعدی کرتے اور عبادت گزاروں کو ان میں جا کر اللہ کو یاد کرنے سے روکتے ہیں۔ یہاں اہل کتاب کی عبادت گاہوں کے لیے 'مساجد اللہ' کا لفظ استعمال ہوا ہے:

وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّہِ أَن یُذْکَرَ فِیہَا اسْمُہُ وَسَعَي فِی خَرَابِہَا.

''اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ کی مساجد میں اللہ کا نام یاد کرنے سے روکے اور ان کو ویران کرنے کی سعی کرے۔''

سورۂ کہف میں اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا، جو مسیحی مذہب کے پیروکار تھے، ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے ہم مذہب لوگوں نے ان کی یاد میں ایک عبادت گاہ تعمیر کر لی۔ یہاں گرجے کے لیے 'مسجد' کا لفظ استعمال ہوا ہے:

قَالَ الَّذِینَ غَلَبُوا عَلَي أَمْرِہِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَیْہِم مَّسْجِدًا.(۱۸: ۲۱)

''جو لوگ ان کے معاملے میں غالب آ گئے، انھوں نے کہا کہ ہم تو ان کی نسبت سے اس جگہ پر ایک عبادت گاہ قائم کریں گے۔''

ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنھا اور ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنھا نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان گرجوں کا اور ان میں موجود تصویروں کا تذکرہ کیا جو انھوں نے سرزمین حبشہ میں دیکھی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تصویروں کا پس منظر واضح کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ:

ان اولٰئک اذا کان فیہم الرجل الصالح فمات بنوا علی قبرہ مسجدا وصوروا فیہ تلک الصور. (بخاری، الصلاۃ، رقم ۴۰۹)

''ان لوگوں میں جب کوئی نیک آدمی فوت ہو جاتا تو یہ اس کی قبر پر عبادت گاہ تعمیر کر لیتے اور اس میں ان کی یہ تصویریں سجا لیتے (جو تم نے دیکھی ہیں)۔''

یہاں بھی دیکھ لیجیے، نصاریٰ کی عبادت گاہوں کے لیے 'مسجد' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اب اگر ہیکل سلیمانی کو 'مسجد' کے نام سے ذکر کرنا یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کی دلیل ہے تو اہل کتاب کی باقی تمام عبادت گاہوں سے بھی ان کا حق تولیت اسی بنیاد پر منسوخ قرار پانا چاہیے، حالانکہ کوئی شخص اس کا قائل نہیں۔

۴۔ بیت المقدس میں یہود کا قیام

فتح بیت المقدس کے موقع پر سیدنا عمر اور اہل بیت المقدس کے مابین جو معاہدہ طے پایا، اس میں یہ شرط شامل تھی کہ :

ولا یسکن بایلیاء معہم احد من الیہود. (طبری، الکامل فی التاریخ ۳/ ۶۰۹)

''بیت المقدس کے مسیحی باشندوں کے مابین کسی یہودی کو قیام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔''

اس سے بعض ناقدین نے یہ استدلال کیا ہے کہ جب یہودیوں کو اس شہر میں رہنے تک کی اجازت نہیں تو ہیکل کی تعمیر نو یا احاطۂ ہیکل کے حق تولیت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن غور کیجیے تو یہ شرط سرے سے زیر بحث نکتے سے متعلق ہی نہیں۔ اہل تاریخ بتاتے ہیں کہ دراصل یہودیوں کے اس شہر میں ٹھہرنے پر پابندی رومی شہنشاہ ہیڈرین نے دوسری صدی عیسوی میں عائد کی تھی جسے بعد میں مسیحیوں نے بھی برقرار رکھا۔ یروشلم کے مسیحی بطریق نے مسلمان فاتحین سے اسی قدیم شرط کو برقرار رکھنے کی درخواست کی تھی جسے منظور کر لیا گیا۔ اس سے ظاہر ہے کہ اس شرط کے پس منظر میں مسجد کی تولیت کا معاملہ نہیں تھا، کیونکہ نصاریٰ نہ خود اس مسجد کی تولیت کے مدعی تھے اور نہ انھیں اس بات سے کوئی دلچسپی ہو سکتی تھی کہ اس کی تولیت کی ذمہ داری یہود کے بجائے مسلمان سنبھالیں۔ علاوہ ازیں تاریخی شواہد یہ بتاتے ہیں کہ یہ کوئی لازمی اور بے لچک شرط نہیں تھی اور نہ اس پر عمل درآمد میں کسی قسم کی کوئی سختی روا رکھی گئی۔ خود سیدنا عمر نے طبریہ کے ستر یہودی خاندانوں کو یروشلم میں آکر آباد ہونے اور احاطۂ ہیکل سے بالکل متصل ایک جگہ پر رہایش اختیار کرنے کی اجازت دی۔ ۵۰؂

مورخین بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے صدیوں سے عائد پابندی کے بعد پہلی مرتبہ یہودیوں کو اس شہر میں رہنے کی اجازت دی۔ 'دی انسائیکلو پیڈیا آف ریلی جن' میں لکھا ہے:

''۶۳۸ء کے بعد کچھ یہودی بھی یروشلم میں آ کر بسنے لگے ، کیونکہ مسلمانوں نے انھیں اس شہر میں، جہاں ان کا رہنا پانچ صدیوں سے ممنوع چلا آ رہا تھا، دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دے دی تھی۔ یہودی بڑے اشتیاق کے ساتھ یہاں آئے اور انھوں نے اپنی مذہبی تعلیم کا مرکزی مدرسہ بھی طبریہ سے یروشلم میں منتقل کر لیا۔ غالباً وہ احاطۂ ہیکل میں کسی جگہ پر دعا اور عبادت بھی کیا کرتے تھے۔'' (The Encyclopedia of Religion, article:"Jerusalem", 8/12.1987)

اموی خلیفہ عبد الملک نے ساتویں صدی میں قبۃ الصخرہ تعمیر کرایا تو اس کی تعمیر اور انتظام وانصرام کے لیے دس یہودی خاندانوں کی خدمات حاصل کی گئیں اور انھیں جزیہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔ بعد میں عمر بن عبد العزیز نے اپنے عہد خلافت میں انھیں یہاں سے نکال دیا۔ ۵۱؂

صلیبی جنگوں کے دور میں بیت المقدس کو فتح کرنے کے بعد صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے ظلم وستم کا شکار ہونے والے یہودیوں کو یہاں آباد ہونے کی دعوت دی اور بہت سے یہودی یہاں آکر رہنے لگے۔ ۵۲؂

خلافت عثمانیہ کے دور میں بھی اسپین کی مسیحی حکومت کی ایذا رسانی سے بھاگنے والے بہت سے یہودیوں کو یروشلم میں بسایا گیا۔ ۵۳؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ معاہدۂ بیت المقدس کی مذکورہ شرط محض وقتی نوعیت کی ایک سیاسی شرط تھی جس کا نہ مسجد اقصیٰ کی تولیت سے کوئی تعلق تھا اور نہ اسلامی تاریخ میں اس پر عمل درآمد کو لازم ہی سمجھا گیا۔ چنانچہ میثاق عمررضی اللہ عنہ کے حوالے سے یاسر عرفات کا درج ذیل دعویٰ بھی، جو انھوں نے ۲۴ ستمبر ۱۹۹۶ کو ایک نشریاتی خطاب میں کیا، دوسرے بہت سے دعووں کی طرح تاریخی لحاظ سے بالکل بے بنیاد ہے:

''میثاق عمر کے مطابق (جو عمر اور صفرونیوس کے مابین طے پایا تھا) ایک شرط ایسی تھی جو تمام مسیحیوں نے مسلمانوں کے لیے مانی تھی، یعنی یہ کہ یروشلم میں کوئی یہودی کسی صورت میں نہیں رہے گا۔ یہ معاہدہ ۱۹۱۷ء میں برطانوی انتداب کے آغاز سے پہلے تک نافذ العمل رہا۔ ''(Middle East Digest, February 1997, http://christianactionforisrael.org/)

۵

۔ 'شروط عمریہ' سے استدلال

محترم ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب نے مسجد اقصیٰ کی تولیت کے معاملے میں امت مسلمہ کے فقہی اور آئینی موقف کی بنیاد 'شروط عمریہ' کو قرار دیا ہے۔ 'شروط عمریہ' سے مراد وہ شرائط ہیں جن کے مطابق، مبینہ طور پر، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بازنطینی سلطنت کے مختلف صوبوں اور شہروں کو فتح کرنے کے بعد وہاں کے مسیحی باشندوں سے معاہدے کیے تھے۔ ۵۴ ؂ ان شروط کے بارے میں سب سے پہلی بات تو یہ واضح رہنی چاہیے کہ اگرچہ دور متوسط کے فقہا اور مورخین ان شروط کو بالعموم مستند تسلیم کرتے اور کلاسیکل فقہی لٹریچر میں ان شرائط کو اہل ذمہ کے حقوق وفرائض اور ان پر لازم پابندیوں کے حوالے سے معیار مانا جاتا ہے، ۵۵؂ لیکن بہت سے معاصر ناقدین نے ان کے تاریخی ثبوت اور استناد کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر چیلنج کیا ہے۔ ان کی بناے استدلال متعدد امور ہیں:

ایک یہ کہ یہ شرائط جن سندوں سے مروی ہیں، وہ تمام کی تمام منقطع اور ضعیف ہیں۔

دوسری یہ کہ ابتدائی دور کے مستند ماخذوں میں ان شروط کا تذکرہ اس شکل میں بالکل نہیں ملتا۔

تیسری یہ کہ ان شروط کے متن میں استعمال ہونے والے بعض الفاظ، مثلاً 'زنار' کا لفظ، سیدنا عمر کے عہد میں عربی زبان میں مستعمل ہی نہیں تھے۔

چوتھی یہ کہ ان میں سے بیشتر شرائط اہل کتاب کے ساتھ مسامحت اور رواداری کے اس رویے کے بالکل منافی ہیں جو دور صحابہ میں ان کے ساتھ عمومی طور پر اختیار کیا گیا۔

بہت سے مستشرقین نے بھی، جو بالعموم اسلامی تاریخ کا مطالعہ معاندانہ نقطۂ نظر سے کرتے ہیں، اسی بنیاد پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف ان شرائط کی نسبت کے درست ہونے میں شک وشبہے کا اظہار کیا ہے۔ ۵۶ ؂

جہاں تک زیر بحث مسئلے میں 'شروط عمریہ' سے استدلال کا تعلق ہے تو کم از کم ہمارا ناقص فہم ان میں کسی معقول بناے استدلال کا سراغ نہیں لگا سکا۔ اتنی بات تو واضح ہے کہ ان شروط میں مسجد اقصیٰ کی تولیت کا معاملہ صراحتاً کہیں زیر بحث نہیں آیا۔ اس لیے غالباً ڈاکٹر صاحب ان میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ مخصوص دفعات سے مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حکم 'استنباط' کرنا چاہتے ہیں۔ بہت غور کرنے اور طائر تخیل کو پرواز کی پوری آزادی دینے کے بعد ہمیں ان شروط میں صرف ایک بات ایسی محسوس ہوئی ہے جس سے ممکنہ طور پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔ وہ یہ کہ سیدنا عمر کے زمانے میں جب الجزیرہ کا علاقہ فتح ہوا تو دوسرے علاقوں کی طرح یہاں کے لوگوں اور مسلمان فاتحین کے مابین بھی صلح کا ایک معاہدہ ہوا۔ فقہ اور تاریخ کی اکثر کتابوں میں اس معاہدے کی تفصیلات منقول ہیں اور ان میں سے ایک دفعہ یہ ہے کہ:

ولا نجدد ما خرب من کنائسنا.

''ہم اپنے برباد/منہدم ہو جانے والے کلیساؤں میں سے کسی کو ازسرنو تعمیر نہیں کریں گے۔''

اس شرط سے استدلال، غالباً، یوں ہے کہ چونکہ یہودیوں کا ہیکل صدیاں پہلے تباہ وبرباد ہو چکا ہے، اس لیے اب انھیں اس کو دوبارہ تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ہمارے نزدیک اس استدلال کے بے جواز ہونے کے وجوہ حسب ذیل ہیں:

شروط عمریہ کے استناد کے بارے میں محققین کے عمومی تحفظات کا تو ہم اختصاراً تذکرہ کر چکے ہیں۔ اس ضمن میں بالخصوص زیر بحث شرط کے حوالے سے تاریخی مواد کا جائزہ لیجیے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اسلام کے ملکی قانون پر تصنیف کیے جانے والے اولین مآخذ، جن میں دور خلافت راشدہ اور بالخصوص سیدنا عمررضی اللہ عنہ کے دور میں اہل ذمہ پر عائد کردہ شروط پر باقاعدہ بحث کی گئی ہے، اس شرط کے تذکرہ سے خالی ہیں۔ مثال کے طور پر امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے کتاب الخراج میں 'فصل فی الکنائس والبیع والصلبان' میں مختلف معاہدوں کے متن نقل کیے ہیں اور ان شرائط کی تفصیلاً وضاحت کی ہے جو اہل ذمہ پر ان کی عبادت گاہوں اور مذہبی شعائر کے حوالے سے نافذ کی گئیں، لیکن اس ساری بحث میں مذکورہ شرط کا کوئی ذکر نہیں۔ ۵۷ ؂ امام محمدرحمہ اللہ نے 'السیر الکبیر' میں عبادت گاہوں اور مذہبی شعائر کے حوالے سے اہل ذمہ کے حقوق اور ذمہ داریوں پر ایک مستقل باب میں بالتفصیل بحث کی ہے۔ اس میں نہ صرف یہ کہ اس شرط کا کوئی تذکرہ نہیں ، بلکہ اس کے برعکس یہ کہا گیا ہے کہ:

فان انہدمت کنیسۃ من کنائسہم القدیمۃ فلہم ان یبنوہا کما کانت. (سرخسی، شرح السیر الکبیر۱۵۳۵)

''اگر ان کی پرانی عبادت گاہوں میں سے کوئی منہدم ہو جائے تو انھیں پہلے کی طرح اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے۔''

امام ابوعبیدرحمہ اللہ نے کتاب الاموال میں 'باب الشروط التی اشترطت علیٰ اہل الذمۃ حین صولحوا واقروا علی دینہم' کے تحت سیدنا عمر کی عائد کردہ ان شروط کا باقاعدہ تذکرہ کیا ہے، لیکن ان میں بھی اس شرط کا نام ونشان تک نہیں ملتا۔ ۵۸؂ یہی وجہ ہے کہ فقہا کے ہاں بھی یہ شرط متفق علیہ نہیں ، بلکہ مختلف فیہ ہے۔ بعض شافعی اور حنبلی فقہا اگرچہ اس شرط پر عمل درآمد کے قائل ہیں، ۵۹؂ لیکن امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور ایک رائے کے مطابق امام احمد اس قسم کی کوئی شرط اہل ذمہ پر عائد نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک اہل ذمہ کو اپنی جزوی یا کلی طور پر منہدم ہوجانے والی عبادت گاہوں کی مرمت اور تعمیر نو کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ ۶۰؂

تاہم، بر سبیل تنزل، ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ یہ شرط سیدنا عمررضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ ا س کے باوجود اس سے ہیکل سلیمانی کی تعمیر نو کی ممانعت پر استدلال کسی طرح بھی نہیں کیا جاسکتا۔

۶۔ فتح بیت المقدس کے موقع پر سیدنا عمر کا طرز عمل

ایک استدلال سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس طرز عمل کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے جو انھوں نے فتح بیت المقدس کے موقع پر مسجداقصیٰ کے معاملے میں اختیار کیا۔ سیدنا عمر جب یہاں تشریف لائے تو سب سے پہلے تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں پڑھیں۔ اگلے روز آپ نے صحابہ کی معیت میں یہاں فجر کی نماز باجماعت ادا کی۔ اس کے بعد کعب الاحبار سے دریافت کیا کہ صخرہ، جسے یہود کے قبلے کی حیثیت حاصل ہے، کس جگہ پر واقع ہے؟ کعب نے پیمایش کر کے اس کی جگہ متعین کی۔ اس جگہ کو نصاریٰ نے یہودیوں کے ساتھ اظہار نفرت کے لیے مزبلہ (Garbage Dump) میں تبدیل کر رکھا تھا۔ سیدنا عمر نے گندگی کو وہاں سے ہٹا کر صخرہ کو پاک صاف کرنے کا حکم دیا اور خود بھی اس کی صفائی میں شریک ہوئے۔ پھر آپ نے کعب سے مشورہ طلب کیا کہ مسلمانوں کے نماز پڑھنے کے لیے کون سی جگہ منتخب کی جائے؟ کعب نے کہا کہ نماز صخرہ کے پیچھے ادا کی جائے تاکہ بنی اسرائیل اور امت محمدیہ دونوں کے قبلوں کی تعظیم ہو جائے۔ سیدنا عمر نے یہ کہہ کر اس تجویز کو مسترد کر دیا :

''''اے ابو اسحاق، تم پر ابھی یہودیت کے اثرات باقی ہیں۔ مسجد کی بہترین جگہ اس کا اگلا حصہ ہوتی ہے۔'' اس کے بعد آپ نے مسجد کے اگلے حصے میں یعنی جنوبی دیوار کے قریب ایک جگہ کو مسلمانوں کی نماز کے لیے متعین کر دیا۔'' (ابو عبید، الاموال ۱۵۴۔ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ۷/ ۵۵۔۵۸)

اس طرز عمل سے وجہ استدلال یہ ہے کہ اگر سیدنا عمر مسجد اقصیٰ پر یہود کے حق کو باقی سمجھتے تو کلیساے قمامہ اور کلیساے قسطنطین کی طرح یہاں بھی نماز ادا نہ کرتے۔ ان کا یہاں نماز ادا کرنا اور ان کی اتباع میں مسلمانوں کا اس میں سلسلۂ عبادت کو جاری کرنا ناقدین کی رائے میں گویا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ یہود کا کوئی حق اس پر تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اس استدلال کو درست تسلیم کرنے میں پہلامانع تو یہ ہے کہ سیدنا عمر کے طرز عمل کو حق تولیت کی تنسیخ کا قرینہ قرار دینے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس تصور کی بنیاد قرآن وسنت میں ثابت کی جائے۔ ظاہر ہے کہ کسی عبادت گاہ کے حق تولیت کی تنسیخ کا فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ہی کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے، سیدنا عمر کسی شرعی بنیاد کے بغیر ازخود یہ فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ اگر قرآن وسنت سے اس تصور کا کوئی ثبوت نہیں ملتا تو پھر سیدنا عمر کے طرز عمل کی توجیہ بھی اس سے مختلف کرنی ہوگی جو ہمارے ناقدین نے کی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا عمر نے جو طرز عمل اختیار فرمایا، وہ داخلی شواہد کے لحاظ سے تمام تر تنسیخ تولیت کے تصور کی نفی کرتا ہے نہ کہ اس کی تائید۔ ان کے اس طرز عمل کی معنویت کو درست طور پر سمجھنے کے لیے تین پہلو بنیادی اہمیت کے حامل ہیں:

ایک یہ کہ جو عبادت گاہیں اللہ کے پیغمبروں نے اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ جگہوں پر اس کی ہدایات کے مطابق تعمیر فرمائی ہیں، ان کی اصل بنیادوں اور حدود کو، عام انسانوں کی قائم کردہ عبادت گاہوں کے برخلاف، ایک خاص شرعی تقدس حاصل ہے اور اسی بنیاد پر ان کی حفاظت کا اہتمام لازمی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ 'بیت اللہ' کی حیثیت اصلاً اسی حصے کو حاصل ہے جس کو بانیوں نے تعمیر کیا تھا۔ اس کے ساتھ ضرورت کے تحت مزید رقبے کا اضافہ تو کیا جا سکتا ہے ، لیکن بعد میں شامل کیا جانے والا تمام تر رقبہ اصل مسجد کے ساتھ اتصال کی وجہ سے محض توسیعاً اور ضمناً مسجد کے حکم میں آئے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام نے جن اصل بنیادوں پر کعبۃ اللہ کو تعمیر کیا تھا، ان کو بیت اللہ کی پوری تاریخ میں نہایت اہتمام کے ساتھ محفوظ رکھا گیا ہے۔ مسجد اقصیٰ کو بھی چونکہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے متعین کردہ جگہ پر الٰہی ہدایات کے مطابق تعمیر کیا تھا، اس لیے اس کی اصل بنیادوں کی حفاظت کا معاملہ بھی، ظاہر ہے، اس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اب اگر یہود کے حق تولیت کے امت مسلمہ کو منتقل ہونے کے تصور کو درست مان لیا جائے تو سیدنا عمر کو اس عبادت گاہ پر تصرف حاصل کرنے کے بعد اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے تھا کہ جس طرح انھوں نے کعب الاحبار کی رہنمائی میں صخرۂ بیت المقدس کو کوڑا کرکٹ اور ملبے کے نیچے سے دریافت کیا، اسی طرح 'مسجد' کی اصل بنیادوں کو تلاش کر کے ان کو محفوظ کرنے کا انتظام فرماتے، لیکن اس طرح کی کوئی کوشش انھوں نے نہیں کی، چنانچہ اصل مسجد کا رقبہ اور اس کی بنیادیں متعین طور پر آج بھی معلوم نہیں ہیں۔

دوسرے یہ کہ انھوں نے اس پورے احاطے کو، جو سارے کا سارا مسجد کا درجہ رکھتا تھا اور جس میں کسی بھی جگہ نماز ادا کی جا سکتی تھی، مسلمانوں کی عبادت کے لیے کھلا چھوڑ دینے کے بجائے اس میں ایک جگہ نماز کے لیے مخصوص کر دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ ساری عبادت گاہ حق تولیت کی منتقلی کے بعد مسلمانوں ہی کا حق بن چکی تھی تو اب وہ اس میں جہاں چاہتے، نماز ادا کرتے اور جس حصے میں چاہتے، عمارت کھڑی کر لیتے۔ پورے احاطے میں ایک مقام کو مخصوص کر دینے کا فائدہ اور حکمت آخر کیا تھی؟

تیسرے یہ کہ کعب الاحبار کی رہنمائی میں جب انھوں نے صخرہ کو، جسے یہود کے قبلے کی حیثیت حاصل تھی، دریافت فرما لیا تو اصل مسجد کا محل وقوع ان کے علم میں آ گیا۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کعب کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اس مقام کو نماز اور عبادت کے لیے منتخب فرماتے، اس لیے کہ اصل مسجد کی حیثیت اسی حصے کو حاصل تھی، لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا ، بلکہ مسلمانوں کی عبادت کے لیے ایک ایسی جگہ مخصوص فرمائی جو ہیکل کی چار دیواری کے اندر ، لیکن اس کی اصل عمارت سے بالکل ہٹ کر ہے۔ اس کی وہ وجہ بھی یقیناًدرست ہے جو روایات میں ان سے منقول ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ سیدنا عمر کی اس فراست اور دور بینی کی ایک اور مثال ہے جس کا اظہار انھوں نے کلیساے قمامہ میں نماز کا وقت آنے پر کیا تھا۔

ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے غور کیجیے تو سیدنا عمر کا یہ طرز عمل یہود کے حق تولیت کی تنسیخ کی دلیل نہیں ، بلکہ اس بات کا ثبوت قرار پاتا ہے کہ وہ عبادت گاہ پر یہود کے حق کو برقرار مانتے تھے، البتہ انھوں نے اپنے نہایت حکیمانہ فیصلے کے ذریعے سے یہود کے حق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دو مزید مقاصد بھی حاصل کر لیے: ایک یہ کہ اس قدر فضیلت رکھنے والی عبادت گاہ کو آباد کرنے کی سبیل پیدا کر دی جس میں صدیوں سے خداے واحد کی عبادت کا سلسلہ منقطع تھا، اور دوسرے یہ کہ مسلمانوں کے یہاں عبادت کرنے کے حق کو بھی اس طرح سے محفوظ کر دیا کہ مستقبل میں کسی بھی موقع پر یہود کے حق کے ساتھ تعارض پیدا ہونے اور نزاع کھڑی ہونے کی نوبت نہ آئے۔ ہم آیندہ سطور میں واضح کریں گے کہ سیدنا عمر کی یہی وہ فراست ہے جو آج چودہ صدیوں کے بعد بھی دنیا کے اس سنگین ترین مذہبی تنازع کے حل کے لیے ایک معقول اور قابل قبول بنیاد فراہم کرتی ہے، بلکہ اگر عبد الملک بن مروان نے سیدنا عمر کے طے کردہ حدود سے تجاوز کرتے ہوئے 'قبۃ الصخرۃ' کو تعمیر کر کے عاقبت نااندیشی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو غالب امکان یہ ہے کہ یہ نزاع سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی۔

۷۔ 'مسجد' محل کا نا م ہے یا عمارت کا؟

اس ضمن میں ایک اچھوتا نکتہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یہود کو تولیت کا حق تو صرف اس عمارت پر حاصل تھا جو کہ 'ہیکل' کے نام سے بنی اسرائیل کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ عمارت جس قطعہ زمین پر قائم کی گئی، وہ چونکہ حق تولیت میں شامل ہی نہیں تھا، اس لیے عمارت کے نیست ونابود ہو جانے کے بعد حق تولیت کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔

اس استدلال کی سطحیت کو واضح کرنے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ انھی ناقدین نے واقعۂ اسرا کو مسلمانوں کے حق تولیت کی دلیل قرار دیا ہے، حالانکہ یہ بات معلوم ہے کہ اس وقت یہاں کوئی عمارت، خاص طور پر مسلمانوں کی تعمیر کردہ کوئی عمارت موجود نہیں تھی۔ اگر حق تولیت کا تعلق صرف عمارت سے ہوتا ہے تو پھر وہ کون سی چیز تھی جس کا حق تولیت واقعۂ اسرا کے موقع پر امت مسلمہ کو عطا کیا گیا؟ واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک مضحکہ خیز استدلال ہے۔ دنیا کے مذاہب میں اس تصور کا ثبوت شاید ہی کہیں پیش کیا جا سکے کہ عبادت گاہ اصل میں عمارت کا نام ہے، نہ کہ اس قطعہ زمین کا جس پر وہ قائم ہے۔ کم از کم یہودیوں اور مسلمانوں کے مذہبی قوانین میں یہ ایک بالکل اجنبی تصور ہے۔ مولانا قاری محمد طیّب اس حوالے سے اسلامی تصور کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''کعبہ کی طرح اقصیٰ بھی درحقیقت فضا کی ایک جہت خاص ہے، کوئی حسی یا جسمانی مکان نہیں ہے۔ رہی عمارت کعبہ یا عمارت اقصیٰ، وہ ان وضعوں پر بطور حسی اور علامتی نشانات کے بنائے گئے ہیں جن کے اندر فضا کی یہ خاص جہت آئی ہوئی ہے۔'' (مقامات مقدسہ ۱۲۵)

''کعبہ کی طرح اقصیٰ بھی اسی محل ومقام کا نام ہوگا جس پر مسجد اقصیٰ کی عمارت بنی کھڑی ہے۔ اگر اس مسجد کی عمارت کسی وجہ سے باقی نہ رہے تو اقصیٰ کے وجود وبرکات میں کوئی فرق نہ آئے گا ، جبکہ وہ حصہ فضا ہے، عمارت نہیں۔'' (ایضاً۳۵۱)

جب عبادت گاہ عمارت کے بجائے دراصل اس مخصوص قطعے کا نام ہے جس پر عمارت قائم ہے تو ظاہر ہے کہ حق تولیت کا تعلق بھی قطعہ زمین ہی سے ہوگا۔ سرخسی رحمہ اللہ نے اہل کتاب کی منہدم ہو جانے والی عبادت گاہوں کی تعمیر نو کا حق اسی بنیاد پر ان کے لیے تسلیم کیا ہے:

فان انہدمت کنیسۃ من کنائسہم القدیمۃ فلہم ان یبنوہا کما کانت لان حقہم فی ہذہ البقعۃ قد کان مقررا لما کانوا اعدوہ لہ فلا یتغیر ذلک بانہدام البناء فاذا بنوہ کما کان فالبناء الثانی مثل الاول. (سرخسی، شرح السیر الکبیر۱۵۳۵)

''اگر ان کی پرانی عبادت گاہوں میں سے کوئی منہدم ہو جائے تو انھیں پہلے کی طرح اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا حق حاصل ہے، کیونکہ اس قطعۂ زمین پر حق تو انھیں اسی لیے حاصل تھا کہ وہ اس پر عبادت گاہ قائم کریں، چنانچہ عمارت کے گرنے سے یہ حق ساقط نہیں ہوگا ، بلکہ اگر وہ اسے دوبارہ تعمیر کریں گے تو اس کا حکم وہی ہوگا جو پہلی عمارت کا تھا۔''

۸۔ 'جزاء سیءۃ سیءۃ مثلہا' کا اصول

عالم عرب کے حالیہ رویے کا جواز ثابت کرنے کے لیے یہ استدلال بھی سامنے آیا ہے کہ چونکہ یہودیوں نے فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ سیاسی، معاشی اور معاشرتی سطحوں پر ظلم وستم، نا انصافی اور حق تلفی کا رویہ اختیار کر رکھا ہے، اس لیے اصولی طور پر وہ احاطۂ ہیکل پر کوئی حق رکھتے بھی ہوں تو انھیں عملاً اس سے محروم رکھنا 'Tit for Tat' یا 'جزاء سیءۃ سیءۃ مثلہا' کے اصول پر جائز ہے۔

اس کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اگر امت مسلمہ کے طرز عمل کا ماخذ سیکولر اخلاقیات ہیں تو ممکن ہے ان کی روشنی میں یہ استدلال اپنے اندر کوئی وزن رکھتا ہو، لیکن جہاں تک ان اخلاقی تعلیمات کا تعلق ہے جو عبادت گاہوں کے حوالے سے قرآن مجید نے بیان کی ہیں، تو ان میں اس استدلال کے لیے ذرہ برابر بھی گنجایش نہیں۔ قرآن مجید نہ صرف یہ کہ مذہبی و سیاسی اختلافات کی بنا پر لوگوں کو ان کی عبادت گاہوں میں عبادت سے روکنے کو ایک بہت بڑا ظلم قرار دیتا ہے ، ۶۱؂ بلکہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ اگر ایک گروہ دوسرے گروہ کو کسی عبادت گاہ سے روکنے کے جرم کا مرتکب ہوا ہو تب بھی دوسرے گروہ کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ جوابی کارروائی کے طور پر پہلے گروہ کو اس عبادت گاہ میں جانے سے روکے۔ چنانچہ مشرکین عرب کے بارے میں یہ بات آغاز ہی سے مسلمانوں پر واضح کی جا چکی تھی کہ وہ مسجد حرام کی تولیت کے حق دار نہیں۔ اس کے باوجود جب انھوں نے مسلمانوں کو مسجد حرام سے روکا اور یہ خدشہ پیدا ہوا کہ مسلمان بھی جواب میں ان کے عازمین حج کو مکہ مکرمہ جانے سے روکنے لگیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ایک واضح اخلاقی اصول کی روشنی میں ان کو ایسا کرنے سے روک دیا۔ سورۂ مائدہ میں ارشاد ہے:

یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ وَلاَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْہَدْیَ وَلاَ الْقَلَآءِدَ وَلاآاآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا وَاِذَا حَلَلْتُمْ فاَصْطَادُوْا وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ. (المائدہ ۵: ۲)

'' ایمان والو، اللہ کے شعائر اور حرام مہینوں اور قربانی کے جانوروں اور ان کے پٹوں اور بیت الحرام کا قصد کرنے والوں کی بے حرمتی نہ کرو جو اللہ کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ اور جب تم احرام سے نکل آؤ تو شکار کر سکتے ہو۔ اور اگر کسی گروہ نے تمھیں مسجد حرام سے روکا ہے تو ان کے ساتھ دشمنی تمھیں اس پر آمادہ نہ کرے کہ تم بھی ان کے ساتھ زیادتی کرو۔ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تو ایک دوسرے کی مدد کرو ، لیکن گناہ اورزیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ نہایت سخت سزا دینے والا ہے۔''

۹

۔ قانونی اور اخلاقی حق میں فرق

متعدد ناقدین کے لیے ہماری یہ بات بھی اچنبھے کا باعث بنی ہے کہ احاطۂ ہیکل کی تولیت کے واقعاتی تسلسل کی بنیاد پر اگرچہ امت مسلمہ بلاشرکت غیرے اس عبادت گاہ کی مالک ہونے کے دعوے میں قانونی طور پر حق بجانب ہے، لیکن اخلاقی لحاظ سے اس کا یہ موقف درست نہیں۔ ناقدین کا خیال یہ ہے کہ کسی معاملے کے قانونی اور اخلاقی پہلووں میں اس طرح کی کوئی تفریق نہیں کی جا سکتی۔ گویا جو چیز قانونی لحاظ سے ایک فریق کا حق ہے، لازم ہے کہ اخلاقی لحاظ سے بھی وہ ہر طرح سے اسی کا حق قرار پائے اور دوسرے فریق کو اس سے بالکل لا تعلق قرار دے دیا جائے۔

ناقدین کے لیے اس بات کا موجب حیرت ہونا خود ہمارے لیے بھی موجب حیرت ہے۔ ہم نے جو بات کہی، وہ عقل عام کے دائرے کی ایک بالکل سادہ سی بات ہے۔ اخلاقی اصولوں کے بارے میں ہر شخص یہ بات جانتا ہے کہ وہ درجے اور اہمیت کے لحاظ سے یکساں نہیں ، بلکہ متفاوت ہوتے ہیں۔ اخلاقیات کا ایک درجہ یہ ہے کہ انسان کسی معاملے میں صرف اس حق کو پیش نظر رکھے جو اسے بعض عملی پہلووں کی بنا پر حاصل ہے اور جس کے تحفظ کی ضمانت اسے 'قانون' دیتا ہے، لیکن اس سے بلند تر درجہ یہ ہے کہ وہ اپنے حق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ دوسرے فریق کے جذبات واحساسات کو بھی ہمدردی کی نگاہ سے دیکھے اور کوئی قانونی جبر نہ ہو تو بھی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حق میں دوسرے فریق کو شریک کر لے۔

قانون کی غرض اعلیٰ اخلاقیات کے فروغ سے نہیں ، بلکہ نزاعات کے تصفیے سے ہوتی ہے۔ اس عملی زاویۂ نگاہ کے باعث بعض دفعہ ایک قانونی فیصلے میں ان بلند تر اور آئیڈیل اخلاقی تصورات کو نظر انداز کرتے ہوئے، جن کی پاس داری ایک فریق کو محض یک طرفہ طور پر (Unilaterally) کرنی چاہیے، اخلاقیات کے اس کم سے کم درجے کو بنیاد بنا لیا جاتا ہے جس کی پابندی پر فریقین کو مجبور کیا جا سکے، اور یہ صورت محض اس لیے اختیار کی جاتی ہے تاکہ کم سے کم عملی الجھنوں کو سلجھانا پڑے۔

یہی صورت حال احاطۂ ہیکل کی تولیت کے معاملے کی ہے۔ مسلمانوں کا یہ موقف کہ چونکہ انھوں نے یہ عبادت گاہ یہود سے چھینی نہیں تھی ، بلکہ ان کی غیر موجودگی میں اسے آباد کیا تھا اور کئی صدیوں سے وہی اس کی تولیت کے ذمہ دار چلے آ رہے ہیں، یقیناًاخلاقیات کے ایک درجے کے لحاظ سے اس بات کا جواز فراہم کرتا ہے کہ وہ یہود کو اس کی تولیت کے حق میں اپنے ساتھ شریک نہ کریں، لیکن اخلاقیات کا اس سے ایک برتر درجہ بھی ہے جس کی تعلیم قرآن مجید نے خاص طور پر عبادت گاہوں کے حوالے سے دی ہے، اور وہ یہ کہ خدا کی عبادت چونکہ نیکی اور تقویٰ کا عمل ہے، اس لیے کسی گروہ کو اس کی عبادت گاہ میں جو اس کے روحانی وقلبی جذبات کا مرکز ہے، عبادت کرنے سے نہ روکا جائے ، بالخصوص جب کہ وہاں سے اس کی بے دخلی ظلماً وقہراً اور مذہبی واخلاقی اصولوں کی پامالی کے نتیجے میں عمل میں آئی ہو۔

۱

۰۔ صلیبیوں سے مسجد اقصیٰ کی بازیابی

احاطۂ ہیکل کی تولیت کے مسئلے میں ایک غلط فہمی امکانی طور پر سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے طرز عمل سے بھی پیدا ہو سکتی ہے، کیونکہ سلطان نے ۱۱۸۷ء میں فتح بیت المقدس کے بعد اس عبادت گاہ پر نصاریٰ کے قبضے کو ختم کر کے انھیں یہاں سے بے دخل کر دیا تھا۔ سلطان یا ان کے ساتھیوں کا عمل اگرچہ اس معاملے کی شرعی نوعیت کی تعیین میں کسی طرح بھی ماخذ نہیں بن سکتا، تاہم چونکہ ان کا یہ اقدام بذات خود شریعت کے خلاف نہیں ، بلکہ اس کے عین مطابق تھا، اس لیے ہم اس کی صحیح نوعیت کو واضح کر دینا مناسب سمجھتے ہیں۔ نصاریٰ کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ مسجد اقصیٰ کی تعظیم وتقدیس اور اس کے ساتھ تعلق کے حوالے سے ان کا مذہبی نقطۂ نظر یہود سے بالکل مختلف ہے۔ وہ، یہود کے برخلاف، سرے سے اس مقام کی تقدیس وتعظیم کے قائل ہی نہیں اور نہ کبھی اس بنیاد پر انھوں نے اس کی تولیت کا دعویٰ کیا۔ رومی شہنشاہ قسطنطین کی والدہ ملکہ ہیلینا (Helena) نے ۳۳۵ء میں رومی دیوتا 'جیوپیٹر' کے معبد کو گرا کر اس جگہ کو کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینکنے کے لیے مخصوص کر دیا تھا۔ ۶۲؂ ۶۳۸ء میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو احاطۂ ہیکل ایک مزبلہ (Garbage Dump) کی صورت میں تھا جہاں نصاریٰ، یہودیوں اور ان کی عبادت گاہ سے نفرت کے اظہار کے لیے کوڑا کرکٹ اور گندگی پھینکا کرتے تھے۔ صلیبی دور میں جب انھوں نے اس جگہ کو اپنے تصرف میں لیا تو بھی اس کا محرک تقدس یا عظمت کا کوئی تصور نہیں تھا، جس کا اظہار اس بات سے ہوتا ہے کہ جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے یروشلم میں داخل ہونے سے پہلے یہاں کے باشندوں کو ہتھیار ڈالنے کی دعوت دی تو انھوں نے اس سے انکار کرتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو پامال کرنے کے لیے تمام عمارتوں کو جلا دیں گے اور قبۃ الصخرۃ کو گرا کر صخرہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔۶۳؂ احاطۂ ہیکل کے مسلمانوں کے زیرتصرف آنے کے بعد بھی مسیحیوں کی جانب سے اس عبادت گاہ کی توہین کا سلسلہ جاری رہا، چنانچہ سولہویں صدی میں سلطان سلیم عثمانی جب یہاں آئے تو احاطۂ ہیکل کی مغربی دیوار یعنی دیوار گریہ کوڑے کرکٹ اور گندگی کے نیچے،جسے نصاریٰ یہاں پھینک دیا کرتے تھے، دبی ہوئی تھی۔ سلطان نے اس جگہ کو صاف کرا کر یہودیوں کو اس کی زیارت کی اجازت عطا کی۔ ۶۴؂

اس پس منظر میں دیکھیے تو سلطان صلاح الدین کے صلیبیوں کو احاطۂ ہیکل سے بے دخل کرنے کی بنیاد نصاریٰ کا یہ مخصوص رویہ تھا نہ کہ اہل کتاب کے تعلق ووابستگی کی مطلقاً نفی کا کوئی تصور، اس لیے اس اقدام کو یہود کے معاملے میں، جو اس مقام کی تعظیم وتقدیس کے پوری طرح قائل ہیں، نظری یا عملی طور پر بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

[باقی]

__________

۴۸؂ مفتی محمد شفیع ، معارف القرآن ۵/ ۴۵۰۔

۴۹؂ المائدہ: ۵۔

۵۰؂ Encyclopaedia Judaica, "Jerusalem", vol. 9, p. 1410 - )Karen Armstrong, "The Holiness of Jerusalem", Journal of Palestine Studies, Vol. XXVII, Number 3, Spring

1998, p. 15) http://www.jstor.org۔

۵۱؂ قاضی مجیر الدین الحنبلی، الانس الجلیل بتاریخ القدس والخلیل ۲۸۱۔ ۲۸۲۔

۵۲؂ منشی عبد القدیر، بیت المقدس ۹۰۔ پندرہ روزہ تعمیر حیات، ۱۰ جون ۲۰۰۳ء، ۲۱ ۔ http://www.rabbiwein.com/)

۵۳؂ منشی عبد القدیر، بیت المقدس ۹۲۔

۵۴؂ ان کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ابو یوسف، کتاب الخراج ۱۴۸ ۔۱۶۱۔ ابن قدامہ، المغنی ۹/۲۸۲۔ بیہقی، السنن الکبریٰ ۹/ ۲۰۲۔

۵۵؂ ابن القیم: 'احکام اہل الذمہ' ، ۳/ ۱۱۶۴۔ ۱۱۶۵۔

۶ ۵؂ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: محمد حسین ہیکل، 'الفاروق عمر'، ۱/۲۴۱۔ ۲۴۲۔ الدکتور توفیق سلطان الیوزبکی، 'تاریخ اہل الذمۃ فی العراق'، ۱۲۷ ۔ ۱۳۷۔ سیدۃ اسماعیل کاشف، 'مصر الاسلامیۃ واہل الذمۃ' ۳۹ ۔ ۴۹۔ ابن القیم، 'احکام اہل الذمۃ'، ۳ / ۱۱۶۳ ۔۱۱۶۴ ہامش۔ ٹی ڈبلیو آرنلڈ، دعوت اسلام ۶۱۔ جیوش انسائیکلو پیڈیا، آرٹیکل 'Omar I' ۔ منشی عبد القدیر، بیت المقدس ۶۲۔

۵۷؂ الخراج ۱۴۸۔۱۶۱۔

۵۸؂ الاموال ۱۴۵۔

۵۹؂ کشاف القناع ۳/ ۱۳۳۔

۶۰؂ ابن قدامۃ، المغنی ۹/۲۸۴۔ ماوردی، الاحکام السلطانیۃ۱۸۶۔ مغنی المحتاج ۶/ ۷۸۔ سرخسی، شرح السیر الکبیر ۱۵۳۵۔

۶۱؂ البقرہ: ۱۱۴۔

۶۲؂ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، مقالہ ''قبۃ الصخرۃ'' ۱۶/۱/ ۲۳۳۔

۶۳؂ (Francesco Gabrielli, Arab Historians of the Crusades, p. 157) ۔

۶۴؂ سید ابو الاعلیٰ مودودی، سانحہ مسجد اقصیٰ، ۶۔ Ernest L. Martin: The Strange Story of the False Wailing Wall, http://www.askelm.com/۔