مولانا مودودی کی تعبیر جہاد (۱۳)


(گذشتہ سے پیوستہ )

دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا نے قرآن مجید کی آیات کی روشنی میں 'فساد' کی تشریح کرتے ہوئے ان پہلووں کو تو بیان کیا ہے جو ان کے پیش نظر نکتے کو واضح کرنے کے لیے مفید ہیں، لیکن قرآن ہی کے ایسے استعمالات سے صرف نظر کر لیا ہے جو ان کے اپنے قائم کردہ مقدمے، یعنی یہ کہ کفر اور شرک اور گمراہانہ اعتقادات جہاد کی مشروعیت کی وجہ نہیں ہیں، کی نفی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں 'فساد فی الارض' اصلاً خدا کی بندگی اور اطاعت کے مقابلے میں انحراف اور سرکشی کے مفہوم میں بولا جاتا ہے اور انبیا کی تعلیمات کے ساتھ کفر اور ان کی تکذیب کو بھی 'فساد' قرار دیا گیا ہے۔ مثلاً سورۂ یونس میں ہے:

بَلْ کَذَّبُواْ بِمَا لَمْ یُحِیْطُواْ بِعِلْمِہِ وَلَمَّا یَأْتِہِمْ تَأْوِیْلُہُ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ فَانظُرْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظَّالِمِیْنَ. وَمِنہُم مَّن یُؤْمِنُ بِہِ وَمِنْہُم مَّن لاَّ یُؤْمِنُ بِہِ وَرَبُّکَ أَعْلَمُ بِالْمُفْسِدِیْنَ.(۳۹۔ ۴۰)''بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلا دیا جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کر سکے اور جس کی اصل حقیقت ابھی تک ان کے سامنے نہیں آئی۔ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح جھٹلایا تھا تو دیکھو کہ ظالموں کا انجام کیسا ہوا۔ اور ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اس قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے اور تیرا رب مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔''

نمل کی آیت ۱۴ میں فرعون اور آل فرعون کو کھلی نشانیاں سامنے آجانے کے بعد ان کا انکار کرنے کی بنیاد پر 'مفسدین' کہا گیا ہے۔ سورۂ آل عمران میں سیدنا مسیح کی الوہیت کے حوالے سے نصاریٰ کے عقیدے کی تردید کرنے کے بعد ارشاد ہوا ہے:

إِنَّ ہَذَا لَہُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ وَمَا مِنْ إِلَہٍ إِلاَّ اللّہُ وَإِنَّ اللّہَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. فَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّہَ عَلِیْمٌ بِالْمُفْسِدِیْنَ.( ۶۲۔۶۳)''بے شک یہی (اس معاملے) کا مبنی بر حقیقت بیان ہے۔ اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور اللہ ہی غالب اور حکمت والا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر یہ منہ موڑیں تو اللہ مفسدوں کو خوب جاننے والا ہے۔''

سورۂ اعراف میں کہا گیا ہے کہ خدا کے ساتھ خلق وامر میں کسی کو شریک سمجھنا اور اس سے اپنی مرادیں مانگنا بھی 'فساد فی الارض' ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

أَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَکَ اللّہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ. ادْعُواْ رَبَّکُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ. وَلاَ تُفْسِدُواْ فِیْ الأَرْضِ بَعْدَ إِصْلاَحِہَا وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعاً إِنَّ رَحْمَتَ اللّہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ. ( ۵۴۔ ۵۶)''سن لو، کائنات کی تخلیق اور تدبیر امور اللہ ہی کے لیے ہے۔ بہت بابرکت ہے اللہ جو سب جہانوں کا پروردگار ہے۔ اپنے رب کو پکارو عاجزی سے اور چپکے چپکے۔ بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ کرو اور اللہ کو پکارو اس سے خوف کرتے اوراس سے توقع رکھتے ہوئے۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے۔''

اب اگر مولانا کے طریق استدلال کی رو سے یہ کہا جائے کہ قرآن جب قتال کی مشروعیت کی وجہ 'فساد' کو قرار دیتا ہے تو اس سے مراد بگاڑ کی ہر وہ صورت ہوتی ہے جس پر قرآن میں ''فساد'' کا اطلاق ہوا ہے تو یہ ماننا پڑے گا کہ خود کفر وشرک کاخاتمہ یا اس کے علم برداروں کو اس کی سزا دینا بھی جہاد کے محرکات میں شامل ہے، جبکہ مولانا کی ساری توجیہ کا مطمح نظر ہی یہ ہے کہ ایمان واعتقاد کی گمراہیوں کو جہاد کے محرکات اور اہداف سے الگ رکھا جائے۔

بالفرض یہ تسلیم کر لیا جائے کہ قرآن عمومی مفہوم میں فساد کی ہر صورت کے ازالے کے لیے قتال کو مسلمانوں پر فرض کرنا چاہتا ہے، تب بھی اس سے وہ نتیجہ کسی طرح نہیں نکلتا جو مولانا نکالنا چاہتے ہیں، یعنی یہ کہ دنیا کی تمام قوموں سے ان کا حق خود اختیاری چھین کر انھیں اسلامی اقتدار کے تابع کر دیا جائے۔ قرآن کی رو سے قتال کا ہدف یہ ہے کہ فتنہ اور فساد ختم ہو جائے۔ اگر مولانا کے مفروضے کے مطابق یہ تسلیم کر لیا جائے کہ دنیا کی تمام قومیں کسی نہ کسی صورت میں فتنہ وفساد میں مبتلا ہیں جس کے ازالے کے لیے قتال ضروری ہے تو بھی زیر بحث نصوص میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں کہ اس مقصد کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ جو قوم بھی اس کی مرتکب ہو، اسے حق خود اختیاری سے محروم کر دیا جائے۔ ۱؂

دفع فتنہ وفساد کے اصول سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قرآن مجید کی تصریحات کے برعکس ہے، اس لیے کہ قرآن نے اس اصول کے تحت قتال کے جو اطلاقی احکام بیان کیے اور جو تحدیدات عائد کی ہیں، وہ واضح طور پر یہ بتاتی ہیں کہ قرآن دنیا میں فساد کے وجود کو علی الاطلاق قتال کی مشروعیت کی وجہ قرار نہیں دینا چاہتا، بلکہ اس کے نزدیک یہ اجازت ایک مخصوص نوعیت کے فساد کے ازالے کے لیے اور ایک محدود دائرے میں دی گئی ہے اور وہ اس کا نتیجہ لازماً قوموں کے حق خود اختیاری کی نفی یا کسی عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کی صورت میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ چنانچہ سورۂ انفال کی آیات ۷۲، ۷۳ میں، جو اوپر نقل کی گئی ہیں، یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کچھ افراد دار الکفر میں مقیم ہوں اور اہل کفرکے ظلم وستم کا شکار ہوں تو ان کی امداد دو باتوں کوملحوظ رکھتے ہوئے دار الاسلام کے باسیوں پر فرض ہے: ایک یہ کہ وہ ان سے دین کے معاملے میں مدد کے طالب ہوں اور دوسری یہ کہ کافر قوم کے ساتھ مسلمانوں کا صلح کامعاہدہ نہ ہو۔

یہ دونوں قیدیں بے حد اہم ہیں۔ ان میں سے پہلی قید یہ واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی، اہل کفر کے نظم اجتماعی کے تحت زندگی بسر کرنے والے مسلمانوں کو ظلم وستم سے بچانے کا فیصلہ ان کی نصرت اور ہمدردی کے جذبے سے ازخود نہیں، بلکہ مظلوم فریق کی طرف سے مدد طلب کیے جانے پر ہی کرے گا۔ یہ ایک بے حد حکیمانہ ہدایت ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مظلوم فریق صبر اور تحمل کے ساتھ اپنے حالات کا مقابلہ خود کرنا چاہتا اور اپنے لیے داخلی سطح پر کوئی حکمت عملی اختیار کرنا چاہتا ہے یا کسی وجہ سے بیرونی مداخلت کو قرین مصلحت نہیں سمجھتا یا مسلمانوں کے جس گروہ سے مدد کی توقع کی جا سکتی ہے، اس سے مدد لینے کو مناسب نہیں سمجھتا یا قومی اور قبائلی عصبیت کے زیر اثر اپنی قوم کے حق خوداختیاری کو زیادہ قابل ترجیح سمجھتا ہے تو اسے اس کا فیصلہ کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے جسے نظر انداز کرتے ہوئے اسے ظلم وستم سے بچانے کی کوئی ذمہ داری قرآن مجید مسلمانوں کے کسی آزاد اور با اختیار نظم اجتماعی پر عائد نہیں کرنا چاہتا۔

دوسری قید یہ واضح کرتی ہے کہ خود حفاظتی کے دائرے سے باہر اس اختیار کا توسیعی استعمال دنیا میں بسنے والی مختلف قوموں کے حق خود اختیاری اور قوموں کے باہمی تعلقات کی کلیتاً نفی کرتے ہوئے نہیں، بلکہ ان کالحاظ رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ یہ ہدایت اس تناظر میں بطور خاص قابل توجہ ہے کہ قرآن مجید نے سورۂ انفال کی آیت ۵۸ میں یہ اجازت دی ہے کہ اگر مسلمانوں کو اپنے ساتھ معاہدہ کرنے والے کسی غیر مسلم گروہ سے بد عہدی کا خدشہ بھی ہو تو اس کے ساتھ معاہد ہ توڑا جا سکتا ہے، جبکہ یہاں دار الکفر کے مسلمانوں کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان پر بالفعل ظلم ہو رہا ہو اور وہ مسلمانوں سے مدد کے طالب ہوں، تب بھی معاہدے کی پاس داری کی جائے گی اور مظلوموں کی مدد کے لیے کوئی جنگی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

پھر قرآن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فتنہ کے خاتمے کا طریقہ لازماً یہی نہیں کہ اہل کفر پر مسلمانوں کی حکومت قائم کر دی جائے، بلکہ اگر مظلوم مسلمانوں کو ان کے چنگل سے آزادی دلا کر کسی دوسرے علاقے کی طرف منتقل کر دیا جائے تو قرآن کا منشا اس صورت میں بھی پورا ہو جاتا ہے۔ سورۂ نساء میں ارشاد ہوا ہے:

وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ ہَذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ أَہْلُہَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ وَلِیّاً وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنکَ نَصِیْراً.( ۴:۷۵)''تمھیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کے راستے میں اور کفار کی چیرہ دستی کا شکار ان مردوں ، عورتوں اور بچوں کو چھڑانے کے لیے قتال نہیں کرتے جو یہ دعائیں مانگتے ہیں کہ یا اللہ، ہمیں اس بستی سے نکال جس کے رہنے والے ظالم ہیں اور اپنی جناب سے ہمارے لیے کوئی مددگار اور اپنے پاس سے ہمارے لیے کوئی حامی بھیج دے۔''

آیت سے واضح ہے کہ ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کی جو صورت اہل ایمان سے مطلوب تھی، وہ ظالموں سے حکومت چھین کر انھیں اسلامی اقتدار کا تابع بنا دینا نہیں، بلکہ مظلوموں کو اس علاقے سے نکال کر انھیں دارالامن تک پہنچانا تھا۔ یہی بات سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے بھی واضح ہوتی ہے جنھوں نے بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے سرزمین مصر پر اپنی حکومت قائم کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت اس سے صرف یہ مطالبہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے اس ملک سے جانے دے۔ یہ فرعون تھا جس نے اپنی قوم کی عصبیت کو ابھارنے کے لیے سیدنا موسیٰ کے پیغام کو سیاسی رنگ دیا اور کہا کہ موسیٰ دراصل مصر کے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ خود مولانا مودودی لکھتے ہیں:

''وہ حضرت موسیٰ کی معقول ومدلل تقریر اور پھران کے معجزے کو دیکھ کر یہ سمجھ گیا تھا کہ نہ صرف اس کے اہل دربار بلکہ اس کی رعایا کے بھی عوام وخواص اس سے متاثر ہوئے بغیرنہ رہ سکیں گے۔ اس لیے اس نے جھوٹ اور فریب اور تعصبات کی انگیخت سے کام نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس نے کہا یہ معجزہ نہیں جادو ہے اور ہماری سلطنت کا ہر جادوگر اسی طرح لاٹھی کو سانپ بنا کر دکھا سکتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو ذرا دیکھو، یہ تمہارے باپ دادا کو گمراہ اور جہنمی ٹھیراتا ہے۔ اس نے کہا کہ لوگو، ہوشیار ہو جاؤ، یہ پیغمبر ویغمبر کچھ نہیں ہے، اقتدارکا بھوکا ہے۔ چاہتا ہے کہ یوسف کے زمانے کی طرح پھر بنی اسرائیل یہاں حکمراں ہو جائیں اور قبطی قوم سے سلطنت چھین لی جائے۔ ان ہتھکنڈوں سے وہ دعوت حق کو نیچا دکھانا چاہتا تھا۔'' (تفہیم القرآن ۳/۱۰۰)

قرآن کی بیان کردہ مذکورہ تحدیدات فتنہ وفساد کی اس صورت یعنی مذہبی ایذا رسانی کے خاتمے حوالے سے ہیں جسے وہ قتل سے بھی زیادہ سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مولانا مودودی نے فتنہ وفساد کی ایسی صورتوں کے خاتمے کے لیے جو اس سے کئی درجہ کم سنگین ہیں—مثلاً رعایا میں نسلی امتیاز قائم کرنا اور ان میں پھوٹ ڈالنا، ناجائز اور غلط قوانین جاری کرنا، تجارتی کاروبار میں بے ایمانی کرنا اور شاہراہوں پر ڈاکے ڈالنا، ان روابط وتعلقات کو خراب کرنا جو انسانی تمدن کی بنیاد ہیں، اور حاکمانہ طاقت کو ظلم وستم اور غارت گری کے لیے استعمال کرنا وغیرہ قوموں کے حق خود اختیاری کی نفی اور عالمگیر اسلامی حکومت کے قیام کا جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ قرآن کے مدعا سے کس قدر متجاوز ہے۔

۳۔ مولانا کو اس بات کا احساس ہے کہ ان کا بیان کردہ یہ مقدمہ کہ دنیا کے باطل نظام ہا ے حکومت اسلام کی نظر میں فی نفسہٖ اپنا کوئی قانونی جواز نہیں رکھتے، جہاد سے متعلق نصوص میں تصریحاً بیان نہیں ہوا۔ چنانچہ انھوں نے اس مقدمے کو قرآن مجید کی چند دیگر آیات سے ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے درج ذیل نصوص سے استدلال کیا ہے:

وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ.(محمد ۴۷:۳۸)''اگر تم حق سے منہ پھیرو گے تو اللہ تمھارے بدلے دوسری قوم کو کھڑا کرے گا اور وہ لوگ تم جیسے نہیں ہوں گے۔''

إِلاَّ تَنفِرُواْ یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً.(التوبہ ۹:۳۹)''اگر تم راہ الٰہی میں جہاد کے لیے نہ نکلو گے تو اللہ تمھیں دردناک مصائب میں مبتلا کرے گا اور تمھارے بدلے دوسری قوم کو کھڑا کر دے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔''

إِن یَشَأْ یُذْہِبْکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ وَیَأْتِ بِآخَرِیْنَ.(النساء ۴:۱۳۳)''لوگو! اگر خدا چاہے تو تمھیں ہٹا دے اور دوسرے لوگوں کو تمھاری جگہ لے آئے۔''

وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِیْ الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُونَ.(الانبیاء ۲۱:۱۰۵)''ہم نے زبور میں نصیحت کے بعد لکھ دیا کہ ''زمین'' کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔''

مذکورہ آیات سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اس معنی کی آیات قرآن میں بکثرت آئی ہیں او ران سب کا منشا یہ ہے کہ حکومت اور بادشاہی کا حق صلاحیت کے ساتھ مشروط ہے۔ جو قوم صلاحیت کھو دیتی ہے، وہ اس حق کو بھی کھو دیتی ہے، اور جو صلاحیت اپنے اندر پیدا کر لیتی ہے، وہ اس حق کو بھی حاصل کر لیتی ہے۔ '' (الجہادفی الاسلام ۱۴۷)

تاہم، یہ تمام آیات زیر بحث نکتے سے قطعاً غیر متعلق ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی مولانا کا دعویٰ، یعنی یہ کہ اگر دنیا میں کوئی قوم فساد اور بگاڑ کا شکار ہو جائے تو وہ اپنا آزادانہ نظم حکومت قائم کرنے کے حق سے محروم ہو جاتی ہے، نہ تو تصریحاً بیان ہوا ہے اور نہ وہ استنباطاً اس مقدمے کے لیے ماخذ بن سکتی ہیں۔ ان میں سے سورۂ نساء کی آیت 'ان یشا یذہبکم ایہا الناس ویات بآخرین'جس سلسلہ بیان میں آئی ہے، وہ یوں ہے:

وَلَقَدْ وَصَّیْْنَا الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَإِیَّاکُمْ أَنِ اتَّقُواْ اللّہَ وَإِن تَکْفُرُواْ فَإِنَّ لِلّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَانَ اللّہُ غَنِیّاً حَمِیْداً. وَلِلّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَمَا فِیْ الأَرْضِ وَکَفَی بِاللّہِ وَکِیْلاً. إِن یَشَأْ یُذْہِبْکُمْ أَیُّہَا النَّاسُ وَیَأْتِ بِآخَرِیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلَی ذَلِکَ قَدِیْراً.(۴:۱۳۱ ۔۱۳۳)''اور یقیناًہم نے ان لوگوں کو بھی جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، یہ تاکید کی تھی اور تمھیں بھی کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اور اگر تم کفر کرو گے تو (اللہ کا کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ) اللہ ہی کے لیے جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ بے نیاز، تعریف کا سزاوار ہے۔ اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی بطور کارساز کافی ہے۔ اے لوگو، اگر وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور (تمھاری جگہ) دوسروں کو لے آئے اور اللہ اس پر پوری طرح قادر ہے۔''

آیت سے واضح ہے کہ یہاں نہ تو سیاسی معنوں میں کسی قوم سے دنیوی اقتدار چھین کر صالحین کے سپرد کیے جانے کا مسئلہ زیر بحث ہے اور نہ امت مسلمہ کے لیے اس ضمن میں کوئی قانونی اختیار بیان کیا گیا ہے۔ مقصود کلام یہ واضح کرنا ہے کہ خدا اپنی بادشاہی میں کسی قوم یا گروہ کا محتاج نہیں، بلکہ زمین وآسمان کا مالک اور سب سے بے نیاز ہے۔ وہ اگر کسی قوم کو کسی مقصد کے لیے منتخب کرتا ہے تو اس سے مقصود اس کو آزمانا اور کامیابی کی صورت میں اپنے انعام کا مستحق بنانا ہوتا ہے اور اگر وہ قوم راہ راست سے انحراف کا طریقہ اختیار کرے تو خدا بڑی بے نیازی سے اسے ہٹا کر کسی دوسری قوم کو اس کی جگہ دے دیتا ہے۔ مولانا مودودی 'تفہیم القرآن' میں اس کی تشریح میں لکھتے ہیں:

''تمھیں اور تمھاری طرح پچھلے تمام انبیا کی امتوں کو ہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی رہی ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ کام کرو۔ اس ہدایت کی پیروی میں تمھاری اپنی فلاح ہے، خدا کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر تم اس کی خلاف ورزی کرو گے تو پچھلی تمام امتوں نے نافرمانیاں کر کے خدا کا کیا بگاڑ لیا ہے جو تم بگاڑ سکو گے۔ اس فرماں رواے کائنات کو نہ پہلے کسی کی پروا تھی نہ اب تمہاری پروا ہے۔ اس کے امر سے انحراف کرو گے تو وہ تم کو ہٹا کر کسی دوسری قوم کو سربلند کر دے گا اور تمہارے ہٹ جانے سے اس کی سلطنت کی رونق میں کوئی فرق نہ آئے گا۔'' (تفہیم القرآن ۱/۴۰۵)

یہی معاملہ سورۂ محمد کی آیت ۳۸ اور سورۂ توبہ کی آیت ۳۹ کا ہے۔ یہاں بھی نہ تو نافرمان اور بدکار قومیں مخاطب ہیں اور نہ دنیوی حکومت واقتدار کی اہلیت کا مسئلہ زیر بحث ہے۔ توبہ میں اس آیت کا سیاق یہ ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَا لَکُمْ إِذَا قِیْلَ لَکُمُ انفِرُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَی الأَرْضِ أَرَضِیْتُم بِالْحَیَاۃِ الدُّنْیَا مِنَ الآخِرَۃِ فَمَا مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فِیْ الآخِرَۃِ إِلاَّ قَلِیْلٌ. إِلاَّ تَنفِرُواْ یُعَذِّبْکُمْ عَذَاباً أَلِیْماً وَیَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ وَلاَ تَضُرُّوہُ شَیْْئاً وَاللّہُ عَلَی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْر.(۹:۳۷۔ ۳۸)''اے ایمان والو، تمھیں کیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتاہے کہ اللہ کے راستے میں نکلو تو تم بوجھل ہو کر زمین کے ساتھ چپک رہتے ہو! کیا تم آخرت کو چھوڑ کر دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے ہو؟ تو پھر آخرت میں دنیا کی زندگی کا سامان بہت ہی تھوڑی وقعت رکھے گا۔ اگر تم نہیں نکلو گے تو اللہ تمھیں دردناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدل دے اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔''

سورۂ محمد میں ارشاد ہوا ہے:

ہَاأَنتُمْ ہَؤُلَاء تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ فَمِنکُم مَّن یَبْخَلُ وَمَن یَبْخَلْ فَإِنَّمَا یَبْخَلُ عَن نَّفْسِہِ وَاللَّہُ الْغَنِیُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ.(۴۷:۳۸)''سو دیکھو، تم تو یہ ہو کہ تمھیں اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے بلایا جاتا ہے تو تم میں سے کچھ بخل کرتے ہیں۔ اور جو بخل کرتا ہے، وہ اپنے ہی نقصان کے لیے کرتا ہے۔ اللہ تو بے نیاز ہے اور تم ہی محتاج ہو۔ اور اگر تم منہ موڑ لو گے تو اللہ تمھاری جگہ کسی دوسری قوم کو بدل دے گا، پھر وہ تمھارے جیسے نہیں ہوں گے۔''

صاف واضح ہے کہ دونوں مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی اہل ایمان کو مخاطب کر کے انھیں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ جہاد سے اعراض اختیار کریں گے تو خدا ان کی جگہ کسی اور گروہ کو اس خدمت کے لیے منتخب کرلے گا۔ مولانا مودودی لکھتے ہیں:

''یعنی خدا کا کام کچھ تم پر منحصر نہیں ہے کہ تم کرو گے تو ہوگا ورنہ نہ ہوگا۔ درحقیقت یہ تو خدا کا فضل واحسان ہے کہ وہ تمھیں اپنے دین کی خدمت کا زریں موقع دے رہا ہے۔ اگر تم اپنی نادانی سے اس موقع کو کھو دو گے تو خدا کسی اور قوم کو اس کی توفیق بخش دے گا اور تم نامراد رہ جاؤ گے۔'' (تفہیم القرآن ۲/۱۹۵)

جہاں تک سورۂ انبیاء کی آیت: 'ان الارض یرثہا عبادی الصلحون' کا تعلق ہے تو تفہیم القرآن میں اس آیت کے تحت مولانا مودودی نے ہی ان لوگوں کے نقطۂ نظر کی واضح تردید کی ہے جو اس آیت سے دنیوی حکومت و اقتدار کے حوالے سے خدا کے قانون اور ضابطے کو اخذ کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

''ہر آیت کے صحیح معنی صرف وہی ہو سکتے ہیں جو سیاق وسباق سے مناسبت رکھتے ہوں۔ اگر یہ غلطی نہ کی جاتی تو آسانی کے ساتھ دیکھا جا سکتا تھا کہ اوپر سے جو مضمون مسلسل چلا آ رہا ہے، وہ عالم آخرت میں مومنین صالحین اور کفار ومشرکین کے انجام سے بحث کرتا ہے۔ اس مضمون میں یکایک اس مضمون کے بیان کرنے کا آخر کون سا موقع تھا کہ دنیا میں وراثت زمین کا انتظام کس قاعدے پر ہو رہا ہے۔ تفسیر کے صحیح اصولوں کو ملحوظ رکھ کر دیکھا جائے تو آیت کا مطلب صاف ہے کہ دوسری تخلیق میں، جس کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں ہوا ہے، زمین کے وارث صرف صالح لوگ ہوں گے اور اس ابدی زندگی کے نظام میں موجودہ عارضی نظام زندگی کی سی کیفیت برقرار نہ رہے گی کہ زمین پر فاسقوں اور ظالموں کو بھی تسلط حاصل ہو جاتا ہے۔'' (۳/۱۹۰۔ ۱۹۱)

مولانا نے بعض آیات سے یہ استدلال بھی کیا ہے کہ قرآن مجید نے ہلاک کی جانے والی قوموں کے جرائم میں ایک جرم یہ بھی شمار کیا ہے کہ وہ جابر اور سرکش حکمرانوں کی پیروی کیا کرتی تھیں۔ مثال کے طور پر قوم عاد کے بارے میں فرمایا گیا ہے:

وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ.(ہود ۱۱:۵۹)''اور انھوں نے ہر سرکش اور ہٹ دھرم کی پیروی اختیار کر لی۔''

اسی طرح حضرت صالح نے اپنی قوم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

وَلَا تُطِیْعُوا أَمْرَ الْمُسْرِفِیْنَ. الَّذِیْنَ یُفْسِدُونَ فِیْ الْأَرْضِ وَلَا یُصْلِحُونَ.(الشعراء ۲۶:۱۵۲)''اور تم حد سے بڑھ جانے والوں کے معاملے کی اطاعت نہ کرو، جو زمین میں فساد مچاتے ہیں اور اصلاح نہیں کرتے۔''

سورۂ کہف میں ارشاد ہوا ہے:

وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَن ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ أَمْرُہُ فُرُطاً.(۱۸:۲۸)''اور تم اس کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے۔''

مولانا ان آیات سے یہ اخذ کرنا چاہتے ہیں کہ جابر وظالم حکمرانوں کی حکومت کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں رکھتی اور اس کی اطاعت پر قائم رہنا بھی فساد کے زمرے میں آتا ہے۔ (الجہاد فی الاسلام ۱۱۸۔ ۱۱۹) تاہم یہ تمام آیات بھی زیر بحث نکتے سے غیر متعلق ہیں اور ان میں سے کسی میں بھی حکومت اور نظام حکومت کا معاملہ سرے سے زیر بحث ہی نہیں۔ ان میں سے پہلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ قوم عاد نے واضح نشانیاں سامنے آ جانے کے باوجود اللہ کے رسولوں کی بات ماننے کے بجاے اپنے ضدی اور متکبر لیڈروں کی روش پر چلنے کو ترجیح دی اور اس کے نتیجے میں خدا کے عذاب کی مستحق قرار پائی۔ پوری آیت یوں ہے:

وَتِلْکَ عَادٌ جَحَدُواْ بِآیَاتِ رَبِّہِمْ وَعَصَوْاْ رُسُلَہُ وَاتَّبَعُواْ أَمْرَ کُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ.''اور یہ عاد تھے جنھوں نے اپنے رب کی آیات کا انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور ہر سرکش اور ہٹ دھرم کی پیروی اختیار کر لی۔''

صاف واضح ہے کہ 'اتباع امر' کی تعبیر یہاں نظام حکومت کی پیروی کے معنی میں نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت اختیار کرنے کے بالمقابل اپنے لیڈروں کی ہٹ دھرمی میں ان کا ساتھ دینے کے مفہوم میں استعمال ہوئی ہے۔

یہی معاملہ حضرت صالح سے متعلق آیات کا ہے۔ وہ سیاسی مفہوم میں قوم کو یہ دعوت نہیں دے رہے کہ وہ اپنے موجودہ سیاسی نظم کی اطاعت سے دست کش ہو کر ان کے ہاتھ پر سمع وطاعت کی بیعت کر لے، بلکہ نہایت دردمندی کے ساتھ یہ نصیحت کر رہے ہیں کہ انھوں نے ایمان واخلاق کی جو تعلیم خدا کے حکم سے ان کے سامنے پیش کی ہے، قوم اسے قبول کر لے اور اپنے سرکش اور خداکے باغی سرداروں کی پیروی میں اسے ٹھکرانے کی روش اختیار نہ کرے۔

جہاں تک سورۂ کہف کی آیت ۲۸ کا تعلق ہے تو اسے زیر بحث نکتے کے ضمن میں پیش کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مولانا اپنے مقدمے کی تائید کے لیے کوئی مضبوط نقلی دلیل نہ پا کر انتہائی غیر متعلق آیات کو بطور دلیل نقل کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ اس آیت میں نہ تو حکومت واقتدار کا مسئلہ زیر بحث ہے اور نہ کوئی غیر مسلم قوم مخاطب ہے جسے 'فاسد نظام حکومت ' کی اطاعت سے دست کش ہونے کا حکم دیا جا رہا ہو۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کرکے یہ ہدایت کی جا رہی ہے کہ آپ اپنے مدعوین میں سے ان لوگوں کو اپنی توجہ اور عنایت کا زیادہ مستحق سمجھیں جو خدا کی یاد میں مصروف رہتے ہیں اور ان کو نظر انداز کرتے ہوئے خداکی یاد سے غافل اور اپنی خواہشات میں مست ہو جانے والے بے پروا لوگوں کی زیادہ فکر نہ کریں۔ ارشاد ہوا ہے:

وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُونَ رَبَّہُم بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُونَ وَجْہَہُ وَلَا تَعْدُ عَیْْنَاکَ عَنْہُمْ تُرِیْدُ زِیْنَۃَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَہُ عَن ذِکْرِنَا وَاتَّبَعَ ہَوَاہُ وَکَانَ أَمْرُہُ فُرُطاً. (الکہف ۱۸:۲۸)''اور اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ وابستہ کیے رکھو جو اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کے لیے صبح اور شام اس کو پکارتے ہیں۔ اور تم دنیا کی زندگی کی زینت کی خواہش سے ان سے صرف نظر نہ کرو اور نہاس شخص کی بات نہ مانو جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہے اور اس کا معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے۔''

صاف واضح ہے کہ 'لا تطع من اغفلنا قلبہ' کا جملہ یہاں 'واصبر نفسک مع الذین یدعون ربہم' کے تقابل میں استعمال ہوا ہے اور 'لا تطع' کامفہوم یہاں کسی حکمران کی اطاعت کرنا نہیں، بلکہ کسی کی فکر میں مبتلا رہنا یا اس کی بات کو اہمیت دینا ہے۔ خود مولانا مودودی نے 'تفہیم القرآن' میں اس کی تشریح میں لکھا ہے کہ

''یعنی اس کی بات نہ مانو، اس کے آگے نہ جھکو، اس کا منشا پورانہ کرو اور اس کے کہے پر نہ چلو۔ یہاں ''اطاعت'' کا لفظ اپنے وسیع مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔'' (تفہیم القرآن ۳/۲۳)

اوپر کی سطور میں مولانا مودودی کے نقطہ نظر کا جو تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ مولانانے مستقل اور متباین نظری اساسات پر مبنی جہاد وقتال کی دو الگ الگ صورتوں کو گڈمڈ کر کے انھیں ایک ہی اساس یعنی فتنہ وفساد کے تحت واضح کرنے کی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جہادکا مبینہ مقصدحاصل کرنے کے لیے دنیا کی تمام غیر مسلم حکومتوں کا خاتمہ اور عالمگیر اسلامی حکومت کا قیام ضروری ہے۔ اس کے لیے ایک طرف انھیں ان نصوص کی غیر متبادر تاویل کرنی پڑی جو کفروایمان کے تناظر میں قتال کا حکم دیتی ہیں اور دوسری طرف فتنہ وفساد کے مفہوم میں ایسی وسعت پیدا کرنی پڑی جس کے نتیجے میں جہاد کی عالمگیریت کا اصول اخذ کیا جا سکے۔ تاہم جیسا کہ ہم نے واضح کیا، اعتقادی اساس کو چھوڑ کر مولانا نے فتنہ وفساد کے اخلاقی اصول پر جہاد کی تعمیم کرنے کی جو کوشش کی ہے، وہ منطقی استدلال کے لحاظ سے نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔

مزید برآں 'الجہاد فی الاسلام' چونکہ مولانا کی ابتدائی علمی کاوش ہے اور اس کا مطمح نظر بھی اسلام کے فلسفہ جہادکو عقلی لحاظ سے برتر ثابت کرنا ہے، اس وجہ سے اس کا انداز تحریر خطیبانہ ہے، حتیٰ کہ علمی استدلال پیش کرتے ہوئے ہوئے بھی منطقی معیار پر مقدمات کی توضیح کے بجاے زیادہ تر خطیبانہ طرز استدلال سے کام لیا گیا ہے۔ اسی رجحان کے زیر اثر مولانا بہت سے اہم پہلووں پر توجہ نہیں دے سکے۔ مثلاً ان کی تعبیر اعتراض کے اصل نکتے کا سرے سے کوئی جواب ہی نہیں دیتی، کیونکہ معترضین کا اصل اعتراض یہ نہیں کہ اقوام عالم کے خلاف جنگ کے لیے اسلام جو محرک اور داعیہ متعین کرتا ہے، وہ غیر اخلاقی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسلام دنیا کے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے لیے آزادی اور خود مختاری کا حق تسلیم نہیں کرتا، جبکہ مولانا کی توجیہ کی رو سے یہ نتیجہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے، اس لیے کہ ان کی پیش کردہ تعبیر اس نتیجے کو بعینہٖ تسلیم کرتے ہوئے صرف یہ واضح کرتی ہے کہ اسلام کے اس تصور کا محرک ہوس ملک گیری یا مذہبی جبر کا کوئی غیر اخلاقی جذبہ نہیں، بلکہ اقوام عالم کی اخلاقی حالت کو سدھارنے اور ان کے تمدن اور معاشرت کی اصلاح کا ایک نہایت اعلیٰ اور پاکیزہ اخلاقی جذبہ ہے۔

مزید برآں مولانا نے اپنی تعبیر پر پیدا ہونے والے بعض نہایت بنیادی سوالات سے یا تو تعرض ہی نہیں کیا اور یا اس طرح سرسری طورپر ان کا ذکر کیا ہے کہ اسے 'عدم تعرض' کہنا ہی زیادہ موزوں ہے۔

مثلاً ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی قوموں کی اصلاح کے لیے اگر امت مسلمہ کو یہ اختیار دیا ہے تو کیا وہ کوئی فرشتوں کی جماعت ہے جو بالکل بے غرضی کے ساتھ تاقیامت دوسری قوموں کی اصلاح کی یہ خدمت انجام دیتی رہے گی؟ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اہم سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اقوام عالم میں پیدا ہونے والے جس بگاڑ اور فساد کی اصلاح کی ذمہ داری مولانا کے نزدیک امت مسلمہ کو تفویض کی گئی ہے، کیا خود امت مسلمہ اس کا شکار ہونے سے محفوظ کر دی گئی ہے؟ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اقتدار پانے کے بعد انسان بے لگام ہو جاتا اور اس کی جبلت کے فسادات کو ظہور پذیر ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ یہ ایک مشترک انسانی کمزوری ہے جس سے دنیا کا کوئی گروہ، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو، مستثنیٰ نہیں۔ یہ صرف ایک نظری بات نہیں، بلکہ تاریخ کی عملی شہادت بھی یہی ہے اور نہ صرف بنی اسرائیل بلکہ خود بنی اسماعیل کی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ اب اگر کسی غیر مسلم گروہ کی حکومت کو، اقتدار سے منتج ہونے والے فساد کے پیش نظر ختم کرنا جائز ہے تو سوال یہ ہے کہ اس کی جگہ ایک مسلم حکومت کا قیام بھی تو انسانوں ہی کے ہاتھوں ہونا ہے۔ آخر اس کی کیا ضمانت ہے کہ الٰہی شریعت اور دین کی حامل قوم اقتدار پانے کے بعد انھی اخلاقی فسادات اور قبائح کا شکار نہیں ہوگی؟

اس سوال کا جو جواب مولانا نے دیا ہے، وہ دلچسپ ہے۔ لکھتے ہیں:

''اسلام کے اس عقیدہ کے مطابق حکومت کی اچھائی کا معیار نہ اس کا قومی اور خود اختیاری ہونا ہے اور نہ اس کی برائی کامعیار اجنبی یا غیر خود اختیاری ہونا۔ اصل سوال صرف یہ ہے کہ حکومت کا نظام عادلانہ اور حق پرستانہ ہے یا نہیں؟ اگر پہلی صورت ہے تو اسلام اس کومٹانے کی کوشش تو درکنار، ایسے ارادہ کو بھی گناہ اور ظلم عظیم سمجھتا ہے۔ لیکن دوسری صورت میں وہ ایک ظالمانہ نظام حکومت کو مٹا کر ایک سچا عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا اولین فرض قرار دیتا ہے۔ قومی اور اجنبی کے سوال سے اس نے نفیاً یا اثباتاً کوئی تعرض نہیں کیا ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے نزدیک حکومت کے اچھے یابرے ہونے کے سوال پر اس کے قومی ہونے یا نہ ہونے کا کوئی اثر نہیں ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ غیر قومی حکومت عموماً ظالم وجابر ہوتی ہے، کیونکہ ایک قوم دوسری قوم پر حکومت قائم ہی اس لیے کرتی ہے کہ اسے غلام بنا کر اپنی مصلحت کے لیے استعمال کرے اور اس کے برعکس قومی حکومت میں اصلاح پذیری کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن باوجود اس کے یہ ضروری نہیں ہے کہ قومی حکومت ہر حال میں بہتر ہو اور غیر قومی حکومت کسی حال میں عادل نہ ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایک قوم پر خود اس کے اپنے سرکش افراد شیطان کی طرح مسلط ہو جائیں اور اسے اپنی شخصی اغراض کا غلام بنا کر تباہ وبرباد کر دیں۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ ایک قوم کو غیر قوم کے نیک نفس اور بے غرض مصلحین ظلم واستبداد کے پنجہ سے رہائی دلائیں اور اس کے لیے مادی واخلاقی ترقی کی راہیں کھول دیں۔ پس حکومت کی خوبی کا اصلی معیار اس کا عادل وصالح ہونا ہے اور اس کی برائی کا اصلی معیار غیر عادل اور غیر صالح ہونا۔ '' (الجہاد فی الاسلام ۱۴۵۔ ۱۴۶)

بدیہی طور پر مولانا کی اس نکتہ آفرینی سے حقیقی اور عملی سوال کا جواب نہیں ملتا، اس لیے کہ اصل سوال یہ ہے کہ آیا امت مسلمہ فرشتوں کی جماعت ہے جو جہاد کی اصل اسپرٹ کے ساتھ بالکل بے غرضی سے اقوام عالم کی یہ خدمت انجام دیتی رہے گی؟ اگر ایسا نہیں ہے تو قرآن وحدیث کی اخلاقی نصیحتوں کے علاوہ اسے کشور ستانی اور جہانگیری کے جذبے سے دنیا کی اقوام کو تاراج کرنے سے روکنے کا عمل اور حقیقت کی دنیا میں کیا بندوبست کیا جائے گا؟

یہ سوال بھی مولانا کے سامنے ہے کہ جن منکرات کے خاتمے کے لیے وہ امت مسلمہ کو دنیا میں 'خدائی فوجدار' کی حیثیت دینا چاہتے ہیں، جب ان کی اخلاقی برائی کا شعور انسانوں میں عمومی طورپر موجود ہے اور ہر قوم مختلف سماجی اداروں کی مدد سے ان کے سدباب کا اہتمام کرتی ہے تو کیا اسلام کسی قوم کا یہ حق تسلیم نہیں کرتا کہ وہ اپنی اصلاح کی کوشش خود کرے؟ مولانا اس کے جواب میں لکھتے ہیں:

''اس سے یہ مطلب نکالنا صحیح نہیں ہے کہ اسلام قومی حکومت کا دشمن ہے۔ وہ ہر قوم کے اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنے احوال کی اصلاح خود کرے۔ مگر جب کسی قوم کے اعمال بگڑ جائیں، اس کی اخلاقی حالت خراب ہو جائے اور وہ اپنے شریر ومفسد لوگوں کی پیروی واطاعت اختیار کر کے ذلت ومسکنت کی پستیوں میں گر جائے تو اسلام کے نزدیک اس قوم کو حکومت خود اختیاری کا حق باقی نہیں رہتا اور دوسرے لوگوں کو جو اس کے مقابلہ میں اصلح ہوں، اس پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام ۱۴۶)

لیکن مولانا اس نکتے پرکوئی روشنی نہیں ڈالتے کہ اس امر کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا جائے گا کہ فلاں قوم اب اپنے احوال کی اصلاح خود کرنے کے قابل نہیں رہی اور امت مسلمہ کو اس پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہو گیا ہے؟

مولانا کے نقطہ نظر سے یہ سوال بھی تشنہ جواب رہتا ہے کہ نہی عن المنکر کے اصول کے تحت کیا ایک مسلم حکومت اس بات کا بھی حق رکھتی ہے کہ اگر کوئی دوسری مسلم حکومت اخلاقی بگاڑ کا شکار ہو تو اس کے خلاف جنگ کر کے اس سے حکومت واقتدار چھین لے؟

اس سوال کا بھی کوئی جواب مولانا نے نہیں دیا کہ ان کے تصور کی رو سے قانون بین الاقوام کی بنیاد کیا ہوگی؟ یہ سوال اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ اگر جنگ کا مقصد کسی مخصوص مذہب کی توسیع نہیں بلکہ دنیا سے فتنہ وفساد کا خاتمہ اور عدل کا قیام ہے جو ایک عام انسانی اخلاقی اصول ہے تو اس کے تحت اقوام عالم کی اصلاح کا حق دنیا کی ہر اس قوم کو حاصل ہونا چاہیے جو اس کا جذبہ اور اہلیت رکھتی ہو اور اس مشن کو لے کر دنیا کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ 'حق' قابل اعتماد صورت میں صرف مسلمانوں کے پاس ہے، اس لیے وہی یہ حق رکھتے ہیں تو ظاہر ہے کہ یہ نکتہ اقوام عالم کے مابین مسلمہ نہیں، بلکہ امت مسلمہ کا مذہبی عقیدہ ہے۔ پس اگر مسلمانوں کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اخلاقی تصور کے مطابق دنیا کی اصلاح کے لیے تلوار لے کر نکل کھڑے ہوں تو دنیا کی دوسری طاقتوں کو اسی بنیاد پر یہ حق کیوں حاصل نہیں؟ کیا اس صورت میں Might is right بین الاقوامی قانون کی بنیاد قرار نہیں پاتا؟ اگر مغرب اپنے اخلاقی و تہذیبی تصورات کو بزور قوت دنیا پر مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اسے کس بنیاد پر غیر اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے؟

مولانا اس بات کو ملحوظ نہیں رکھتے کہ ان کا بیان کردہ اصول ایک دو دھاری تلوار ہے جو خود مسلمانوں کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ یعنی اگر کوئی مسلم ریاست بھی جبر واستبداد کے نظام پر مبنی ہو تو کسی غیر مسلم ریاست کے لیے جو عدل وانصاف کا بول بالا کرنا چاہتی ہو، اسی اصول کی رو سے یہ جائز ہوگا کہ وہ مسلم حکومت کا خاتمہ کر کے اپنی سیاسی بالادستی میں عدل وانصاف کے قیام کی کوشش کرے۔ اگر یہ کہا جائے کہ نہیں، اس کے بجاے اسے صرف سیاسی اور اخلاقی ذرائع کو بروئے کار لانا چاہیے اور مسلم قوم کے لیے اپنی سیاسی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے داخلی طور پر اصلاح کا حق برقرار رہنے دینا چاہیے تو یہی بات غیر مسلم قوم کے بارے میں بھی کہنی چاہیے۔

یہ نہایت سنجیدہ اور عملی سوالات ہیں، لیکن مولانانے ان میں سے کسی کو سنجیدہ بحث کا موضوع نہیں بنایا۔

اس کے ساتھ مولانا کے موقف اور استدلال میں یکسوئی اور consistencyکا قابل لحاظ فقدان پایا جاتا ہے اور تضاد اور منطقی مغالطوں یا خلط مبحث کی مثالیں بھی پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طو رپر مولانا ایک طرف مذہبی عداوت اور کفر وایمان کو قتال کی مشروعیت کا باعث تسلیم نہیں کرتے اور فرماتے ہیں کہ جہاد کا مقصد تلوار کے زور پر اسلام کی توسیع واشاعت کرنا نہیں، لیکن دوسری طرف اسلام کی اشاعت اور تبلیغ کے حوالے سے تلوار کے کردار کو تسلیم بھی کرتے بلکہ اسے ضروری قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

''ہم یہ بتا دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ اسلام کی اشاعت کو تلوار سے ایک گونہ تعلق ضرور ہے۔ اس میں شک نہیں کہ جہاں تک تبلیغ دین الٰہی کی حد ہے، اس میں تلوار کا کوئی کام نہیں ہے۔ لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے، اور وہ یقیناًتلوار کی اعانت سے بے نیاز نہیں ہیں۔ ......اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یوم آخر اورملائکہ پر ایمان لانے کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا تو شاید شیطانی طاقتوں سے اس کو کچھ زیادہ جھگڑنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے، ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامر ونواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے، اس لیے اس کا کام صرف پند وموعظت ہی سے نہیں چل سکتا، بلکہ اسے نوک زبان کے ساتھ نوک سنان سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے عقائد سے سرکش انسان کو اتنا بعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے انکار ہے۔ وہ چوری کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے ہاتھ کاٹنے کی دھمکی دیتا ہے۔ وہ زنا کرنا چاہتا ہے اور اسلام اسے کوڑوں کی مار کا حکم سناتا ہے۔ وہ سود کھانا چاہتا ہے اور اسلام اس کو فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ کا چیلنج دیتا ہے۔ وہ حرام وحلال کی قیود سے نکل کر نفس کے مطالبات پورے کرنا چاہتا ہے اور اسلام ان قیود سے باہر نفس کے کسی حکم کی پیروی نہیں کرنے دیتا۔ اس لیے نفس پرست انسان کی طبیعت اس سے متنفر ہوتی ہے اور اس کے آئینہ قلب پر گناہ گاری کا ایسا زنگ چڑھ جاتا ہے کہ اس میں صداقت اسلام کے نور کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی۔ '' (الجہاد فی الاسلام ۱۷۳)

اس فلسفے کی رو سے اسلام کی اشاعت کے لیے کافرانہ سوسائٹی کے پورے اخلاقی اور معاشرتی نظام کو چیلنج کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ اس کے بغیر اسلام کی تخم ریزی کا عمل ہو ہی نہیں سکتا۔ مولانا بھی اس نتیجے کو تسلیم کرتے ہیں:

''جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے، جس طرح ہر تہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ تبلیغ کا کام تخم ریزی ہے اور تلوار کا کام قلبہ رانی۔ پہلے تلوار زمین کو نرم کرتی ہے تاکہ اس میں بیج کو پرورش کرنے کی قابلیت پیدا ہو جائے، پھر تبلیغ بیج ڈال کر آب پاشی کرتی ہے تاکہ وہ پھل حاصل ہو جو اس باغبانی کامقصود حقیقی ہے۔ ہم کو دنیا کی پوری تاریخ میں کسی ایسی تہذیب کا نشان نہیں ملتا جس کے قیام میں ان دونوں عناصر کا حصہ نہ ہو۔ تہذیب کی کسی خاص شکل کا کیا ذکر ہے، خود تہذیب کا قیام ہی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قلبہ رانی اور تخم پاشی کے یہ دونوں عمل اپنا اپنا حصہ ادا نہ کریں۔ کوئی شخص جو انسانی فطرت کا رمز شناس ہے، اس حقیقت سے ناآشنا نہیں ہے کہ جماعتوں کی ذہنی واخلاقی اصلاح کے سلسلے میں ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب کہ قلب وروح کو خطاب کرنے سے پہلے جسم وجان کو خطاب کرنا پڑتا ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام ۱۷۵)

تضاد اور پریشان خیالی ہی کی ایک مثال یہ ہے کہ مولانا نے انسان کی جان سے تعرض کرنے کا جواز 'قصاص' کے اصول کو قرار دیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو فرد یا گروہ دوسرے انسانوں کے جان ومال یا آزادی راے پر تعدی کرے، اس کو اس سے روکنے کے لیے یا اس سے بدلہ لینے کے لیے اس کے خلاف تلوار اٹھائی جا سکتی ہے۔ 'قصاص' کو جہاد کی مشروعیت کا بنیادی نکتہ ماننے کایہ نتیجہ بھی مولانا خود بیان کرتے ہیں کہ اس طرح کا کوئی ظلم وعدوان نہ پائے جانے کی صورت میں کسی گروہ کے خلاف تلوار اٹھانا بھی جائز نہیں۔ لکھتے ہیں:

''یہ تعلیم جنگ کو ہر قسم کے دنیوی مقاصد سے پاک کر دیتی ہے۔ شہرت وناموری کی طلب، عزت وفرمانروائی کی خواہش، مال ودولت اورحصول غنائم کی طمع، شخصی وقومی عداوت کا انتقام، غرض کوئی دنیوی غرض ایسی نہیں ہے جس کے لیے جنگ جائز رکھی گئی ہو۔ ان چیزوں کو الگ کر دینے کے بعد جنگ محض ایک خشک وبے مزہ اخلاقی ودینی فرض رہ جاتی ہے جس کے مہالک وخطرات میں مبتلا ہونے کی ازخود خواہش تو کوئی کر ہی نہیں سکتا، اور اگر دوسرے کی طرف سے فتنہ کی ابتدا ہو تب بھی صرف اس وقت مقابلہ کے لیے تلوار اٹھا سکتا ہے جب کہ اصلاح حال اور دفع ضرر کے لیے تلوار کے سوا کوئی دوسرا ذریعہ باقی نہ رہے۔''(الجہاد فی الاسلام ۲۲۱۔۲۲۲)

''اسلام کی تلوار ایسے لوگوں کی گردنیں کاٹنے کے لیے تو ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ وفساد پھیلاتے ہیں - اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس تیزی میں وہ حق بجانب نہیں ہے- لیکن جو لوگ ظالم نہیں ہیں، جو بدکار نہیں ہیں، جو صد عن سبیل اللہ نہیں کرتے، جو دین حق کو مٹانے اور دبانے کی کوشش نہیں کرتے، جو خلق خدا کے امن واطمینان کو غارت نہیں کرتے، وہ خواہ کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں اور ان کے دینی عقائد خواہ کتنے ہی باطل ہوں، اسلام ان کی جان ومال سے کچھ تعرض نہیں کرتا۔ ان کے لیے اس کی تلوار کند ہے اور اس کی نظروں میں ان کا خون حرام ہے۔'' (الجہاد فی الاسلام ۱۵۶)

لیکن اس کے بعد اسی اصول کی تفریع کرتے ہوئے مولانا اس سے 'مصلحانہ جنگ' کا جواز اخذ کر لیتے ہیں جو کسی ظلم وعدوان یا فتنہ وفساد کے خلاف نہیں، بلکہ عمومی سطح پر کسی معاشرے کی اخلاقی اصلاح اور اس میں نیکی کے تصورات و اقدار کو فروغ دینے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ نتیجہ کسی طرح ان کے بنیادی مقدمے پر متفرع نہیں ہوتا، کیونکہ خود مولانا کی توضیح کے مطابق رفع فساد اور قصاص کو انسانی جان سے تعرض کا بنیادی اصول ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ جو قومیں مسلمانوں کے خلاف فتنہ وفساد کی مرتکب نہ ہوں، ان کے خلاف تلوار اٹھانا حرام قرار پائے۔

[باقی]

۱؂ سورۂ توبہ کی آیت ۲۹ میں اہل کتاب کو محکوم بناکر ان پر جزیہ عائد کرنے کا جو حکم دیا گیا یا آیت ۳۵ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ہدف غلبہ اسلام کو قرار دیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ اس کا باعث اہل کتاب کا فتنہ وفساد نہیں، بلکہ ان کا کفر تھا۔ ہمارا اعتراض مولانا مودودی پر ہے جو 'کفر' کو فی نفسہٖ قتال کا باعث تسلیم نہیں کرتے اور اس حکم کی وجہ بھی کفار کے فتنہ وفساد کو قرار دیتے ہیں، حالانکہ یہ بات نہ عقلی اور منطقی لحاظ سے درست ہے اور نہ 'دفع فتنہ وفساد' کی غرض سے قتال کی مشروعیت کو بیان کرنے والے نصوص اس کی تائید کرتے ہیں۔