موسیقی کی حرمت کے استدلال کا جائزہ (حصہ اول)


گزشتہ مباحث سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ اسلام کی رو سے موسیقی اصلاً حرام نہیں ہے۔ یہ فن آلات کے ساتھ یا ان کے بغیر، دونوں حالتوں میں مباح ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں بدکاری اور شراب نوشی کے مفاسد کی وجہ سے اس کی بعض صورتوں کو شنیع قرار دیا تھا۔ آپ کے اس عمل سے یہ روشنی ملتی ہے کہ یہ اور اس نوع کے دوسرے غیراخلاقی عوارض اگر مباحات کے ساتھ وابستہ ہو جائیں تو سد ذریعہ کے اصول کے تحت ان سے پرہیز کی تلقین کی جا سکتی ہے۔

ان واضح نصوص کے باوجود ہمارے بعض جلیل القدر علما اور فقہا موسیقی کی حرمت کے قائل ہیں۔ فقہ کے چاروں مکاتب کا بالعموم اس بات پر اتفاق ہے کہ موسیقی اور آلات موسیقی مطلق طور پر حرام ہیں۔

احناف موسیقی اور آلات موسیقی اور پیشۂ موسیقی کو معصیت سے تعبیر کرتے ، اس کی تعلیم و تربیت کو ناجائز قرار دیتے اور مغنی یا مغنیہ کی شہادت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہیں:

ان الملاہي کلہا حرام حتی التغني بضرب القضیب وکذا قول أبيحنیفۃ رحمہ اللّٰہ ابتلیت لأن الابتلاء بالمحرم یکون. (الہدایۃ ۷/ ۱۷۸)

'' گانے بجانے کے تمام سازو سامان حرام ہیں ، یہاں تک کہ چھڑی سے بجانا اور اس کے ساتھ گانا بھی حرام ہے۔ یہی قول امام ابو حنیفہ کا ہے۔ انھوں نے کہا:'' (ایک مجلس میں) میں گانا سننے کی مصیبت میں مبتلا ہو گیا تھا۔'' ابتلا ظاہر ہے کہ حرام بات ہی پر ہوتی ہے ۔''

شيء من الغناء والنوح والمزامیر والطبل وشيء من اللہو لأنہ معصیۃ والاستئجار علی المعاصي باطل. (المبسوط ۱۶/ ۳۸)

'' موسیقی ، نوحہ گری ، مزامیر،طبل او رگانے بجانے کا دوسرا ساز و سامان گناہ ہے، اور گناہ کی چیزوں کو اجرت پر لینا باطل بات ہے۔''

ولا یجوز الاستئجارۃ علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھی لانہ استئجار علی المعصیۃ والمعصیۃ لاتستحق بالعقد. (الہدایہ۶/ ۲۹۷)

''موسیقی اورنوحہ گری کی اجرت جائز نہیں ہے اور اسی طرح آلات موسیقی کی بھی۔ اس لیے کہ یہ گناہ کی اجرت ہے اور گناہ کی اجرت باہم طے کر لینے کے باوجود جائز نہیں ہوتی۔''

ولاتجوزالاجارۃ علی تعلیم الغناء والنوح لأن ذلک معصیۃ. (المبسوط ۱۶/ ۴۱)

''موسیقی اور نوحہ گری کی تعلیم کی اجرت جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ گناہ ہے ۔ ''

لا تقبل شہادۃ مخنث ولا نائحۃ ولا مغنیۃ لأنہما یرتکبان محرما فانہ علیہ الصلاۃ والسلام نہی عن الصوتین الأحمقین النائحۃ والمغنیۃ. (الہدایۃ ۵/ ۴۳۹،۴۴۰)

''مخنث کی گواہی قبول نہ کی جائے اور نوحہ گر اور مغنیہ کی گواہی بھی قبول نہ کی جائے، کیونکہ یہ حرام فعل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو احمقانہ آوازوں سے منع فرمایا ہے ایک نوحہ گر کی آواز اور دوسری مغنیہ کی۔''

ولا شھادۃ صاحب الغناء الذی یخادن علیہ ویجمعہم. (المبسوط ۱۶/ ۱۳۲)

''اس مغنی کی گواہی قبول نہیں ہو گی جس کی لوگ مصاحبت اختیار کرتے ہیں اوروہ مجمع لگاتا ہے۔'' ۲۰؂

امام شافعی موسیقی کے پیشے کو باطل قرار دیتے ہیں۔ اسی بنا پر وہ پیشہ ور مغنی کی شہادت کو ناقابل قبول اورایسے شخص کو فاسق اور دیوث قرار دیتے ہیں جو اپنی لونڈی کا گانا دوسرے لوگوں کوسنوائے :

قال الشافعی رحمہ اللّٰہ فی الرجل یغني فیتخذ الغناء صناعۃ یؤتی علیہ ویأتي لہ ویکون منسوبا الیہ مشہورا بہ معروفا والمرأۃ لاتجوز شہادۃ واحد منہما وذلک أنہ من اللہو المکروہ الذی یشبہ الباطل.(الام ۶/ ۲۰۹)

''امام شافعی فرماتے ہیں کہ وہ مرد و عورت جو موسیقی کے پیشے سے وابستہ ہیں اور اسے صنعت بنا لیتے ہیں اور لوگ ان کے پاس آتے ہیں اور یہ بھی پیشہ ور مغنی یا مغنیہ کی حیثیت سے لوگوں کی محفلوں میں جاتے ہیں، اسی فن سے منسوب ہیں اور اسی کے حوالے سے مشہور و معروف ہیں ، ان کی گواہی قابل قبول نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایسے مکروہ لہو و لعب اور کھیل تماشے میں مشغول ہیں جو صاف اور صریح باطل سے مشابہ ہے۔

قال الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الرجل یتخذ الغلام والجاریۃ المغنین وکان یجمع علیہما ویغشی لذلک فہذا سفہ ترد بہ شہادتہ وہو في الجارۃ أکثر من قبل أن فیہ سفہا ودیاثۃ ... قال وہکذا الرجل یغشی بیوت الغناء ویغشاہ المغنون ان کان لذلک مدمنا وکان لذلک مستعلنا علیہ مشہودا علیہ فہي بمنزلۃ سفہ ترد بہا شہادتہ وان کان ذلک یقل منہ لم ترد بہ شہادتہ. (الام ۶ /۲۰۹)

امام شافعی بیان کرتے ہیں اگر کسی کے پاس مغنی غلام اور لونڈی ہوں اور اس کے ہاں اس مقصد کے لیے لوگوں کا مجمع لگتا ہو تو یہ ایک ایسی بداخلاقی ہے جس کی وجہ سے ایسے شخص کی گواہی قبول نہیں ہو گی۔ اس عمل کی شناعت اس صورت میں بڑھ جاتی ہے جب کہ گانے والی لونڈی ہو ، کیونکہ اس میں بداخلاقی کے ساتھ بے غیرتی بھی پائی جاتی ہے ... اسی طرح وہ شخص جو ان گانوں باجوں کی محفلوں میں اکثر آتا جاتا ہے اور اس قبیل کے لوگ اس کے پاس جمع ہوتے ہیں تو اگر وہ علانیہ ایسا کرتا ہے تو اس کی شہادت بھی رد ہو گی اور اگر وہ یہ عمل کبھی کبھار کرے تو اس کی شہادت رد نہیں ہو گی۔'' ۲۱؂

امام مالک موسیقی اور اس نوعیت کی ہر چیزکو مکروہ سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ ان کے نزدیک لحن کے ساتھ قرآن مجید کی قرأت بھی کراہت کے زمرے میں آتی ہے۔ ان کے حوالے سے یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ وہ آلات موسیقی کو عام مواقع کے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر بھی مکروہ سمجھتے تھے۔ اس کے علاوہ امام مالک اس مغنی یا مغنیہ کو شہادت کے لیے نااہل گردانتے ہیں جو اپنے شعر و نغمہ کے ذریعے سے دوسرے لوگوں کے لیے اذیت کا باعث ہو:

قلت أکان مالک یکرہ الغناء قال کرہ مالک قراء ۃ القرآن بلألحان فکیف لا یکرہ الغناء وکرہ مالک أن یبیع الرجل الجاریۃ ویشترط أنہ مغنیۃ فہذا مما یدلک علی أنہ کان یکرہ الغناء قلت فما قول مالک ان باعوا ہذہ الجاریۃ وشرطوا أنہا مغنیۃ ووقع البیع علی ہذا قال لا أحفظ من مالک فیہ شیئا الا انہ کرہہ. (المدونۃ الکبری ۱۱ / ۴۲۱)

''میں نے کہا : کیا امام مالک گانے کو مکروہ سمجھتے تھے تو (ابن قاسم) کہنے لگے کہ امام مالک تو قرآن مجید لحن کے ساتھ پڑھنے کو مکروہ سمجھتے تھے، گانے کو وہ کیوں کر مکروہ نہ سمجھیں گے ۔ امام مالک کے نزد یک یہ بھی مکروہ ہے کہ کوئی شخص کنیز خریدے اور اس میں یہ شرط لگائے کہ یہ کنیز مغنیہ بھی ہو ۔ چنانچہ یہ بات اس کی دلیل ہے کہ امام مالک گانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔میں نے کہا کہ اگر اس شرط کے ساتھ لونڈی کو بیچا جائے اور سودا طے پا جائے تو اس صورت میں امام مالک کی کیارائے ہے؟ انھوں نے کہاکہ مجھے اس بارے میں امام مالک کی رائے معلوم نہیں ہے ، لیکن اتنی بات واضح ہے کہ وہ اسے ناپسندکرتے تھے۔''

>کان مالک یکرہ الدفاف والمعازف کلہا في العرس. (المدونۃ الکبری ۱۱/ ۴۲۱)

''امام مالک دف اورسازوں کے استعمال کو شادی بیاہ میں مکروہ سمجھتے تھے۔''

قال سالت مالکا عن الشاعر اتقبل شھادتہ؟ فقال أن کان ممن یؤذی الناس بلسانہ ویہجوہم اذا لم یعطوہ ویمدحہم اذا اعطوہ فلا أری أن تقبل شہادتہ قال مالک وان کان ممن لا یہجو الناس وہو ممن اذا اعطی شئیاأخذہ ولیس یؤذي بلسانہ أحدا وان لم یعط لم یہجہم فأری أن تقبل شہادتہ اذا کان عدلا. واما النائحۃ والمغنیۃ والمغنی فما سمعت فیہ شیاء الا أنی أری ان لا تقبل شھادتھم اذا کانوا معروفین بذلک. (المدونۃ الکبری ۱۳ /۱۵۳)

''وہ (ابن قاسم ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک سے پوچھا کہ کیا شاعر کی شہادت قبول ہو گی؟ انھوں نے فرمایا: جو شاعر ہجو بیان کر کے اپنی زبان سے ان لوگوں کو تکلیف پہنچاتا ہے جو اسے کچھ نہیں دیتے اور ان کی مدح سرائی کرتا ہے جو اسے کچھ دے دیتے ہیں ، میری رائے میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ اورامام مالک کا کہنا ہے کہ وہ جسے لوگ کچھ دیںیا نہ دیں، نہ لوگوں کی ہجو کرتا ہے اور نہ زبان سے انھیں تکلیف پہنچاتا ہے ، اس کی گواہی قبول کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ جہاں تک نوحہ گر ، مغنیہ اور مغنی کا تعلق ہے تو اس بارے میں میں نے (امام مالک سے) کچھ نہیں سنا۔ لیکن میرا خیال یہ ہے کہ اگر وہ اپنے فنون میں معروف ہوں تو ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔''

امام احمد بن حنبل موسیقی اور آلات موسیقی کو اصلاً حرام سمجھتے ہیں اور ان کے معاوضے یا کاروبار کو حرام قرار دیتے ہیں :

واکرہ الطبل وہو المنکر وہو الکوبۃ التي نہی عنہا النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم. (المغنی ۶/ ۵۳۸)

''امام احمد بن حنبل نے طبل بجانے کو ناپسند کیا ہے، یہ منکر ہے۔اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوبہ یعنی طبل سے منع فرمایا ہے ۔ ''

فصل فی الملاھی وہي علی ثلاثۃ اضرب محرم وہو ضرب الأوتار والنایات والمزامیر کلہا والعود والطنبور والمعزفۃ والرباب ونحوہا فمن أدم استماعہا ردت شہادتہ لأنہ یروي عن علي رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم أنہ قال اذا ظہرت في امتي خمس عشرۃ خصلۃ حل بہم البلاء فذکر فیہا اظہار المعازف والملاہي وقال سعید ثنا فرج بن فضالۃ عن علي بن یزید عن القاسم عن أبي أمامۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اللّٰہ بعثني رحمۃ للعالمین وامرني بمحق المعازف والمزامیر لا یحل بیعہن ولا شراؤہن ولا تعلیمہن ولا التجارۃ فیہن وثمنہن حرام یعني الضاربات. وروی نافع قال سمع ابن عمر مزمارا قال فوضع اصبعیہ في الیسری ونأی عن الطریق وقال لی یا نافع ہل تسمع شیئا قال فقلت لا فرفع أصبعیہ من الیسری وقال کنت مع النبي فسمع مثل ہذا فصنع مثل ہذا . (المغنی ۹/ ۱۷۳)

''فصل آلات موسیقی کے بارے میں: ان کی تین قسمیں ہیں ۔ پہلی وہ جن کا بجاناحرام ہے ۔ ان میں ستار ، بانسری ، شہنائی ، سارنگی ، ڈھول ، رباب اور اس طرح کے دوسرے آلات شامل ہیں۔ پس جو کوئی انھیں مسلسل سنے گا، اس کی گواہی رد کر دی جائے ۔ کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پیدا ہو جائیں گی توان پر بلاؤں کا نزول ہو گا۔ اسی ضمن میں آلات موسیقی کے ظہور کا ذکر فرمایا اور ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اللہ نے مجھے دونوں جہان کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے گانے بجانے کے آلات اور بانسریوں کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ مغنیات کی نہ خرید و فروخت اورتجارت حلال ہے اور نہ ان کو اس فن کی تعلیم دینا۔ ان کی قیمت بھی حرام ہے ۔ نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے (جہاں سے آواز آ رہی تھی) ایک طرف ہٹ گئے۔ پھر مجھ سے پوچھا : نافع تم کچھ سن رہے ہو۔ میں نے کہا نہیں تو انھوں نے انگلیاں اپنے کانوں سے ہٹائیں اور بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا کہ آپ نے اس جیسی آواز سن کر ایسے ہی کیاتھا۔''

ومالا یجوز أخذ الأجرۃ علیہ في الاجارۃ مثل الغناء والزمر وسائر المحرمات. (المغنی ۵/ ۷۲۶)

''اور یہ جائز نہیں ہے کہ گانا ، بانسری یا دیگر حرام چیزوں کو اجرت یا کرائے پر لیا جائے۔''

حرمت موسیقی کے حوالے سے یہ فقہ کے مکاتب اربعہ کی آرا کا خلاصہ ہے ۔ ان فقہا اور دیگر علما نے قرآن و حدیث کو بنیاد بنا کر یہ آرا قائم کی ہیں ۔ ذیل میں ہم قرآن و حدیث کے ان نصوص کو زیر بحث لائیں گے جنھیں موسیقی کی حرمت کے لیے بنائے استدلال بنایا گیا ہے۔

حرمت موسیقی کے لیے قرآن سے استدلال

موسیقی کی حرمت پر جن آیات قرآنی سے استدلال کیا جاتا ہے، ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

'لھو الحدیث ' کا مفہوم

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَھْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَھَا ھُزُوًا اُولٰٓءِکَ لَھُمْ عَذَابٌ مَّھِیْنٌ. وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا وَلّٰی مُسْتَکْبِرًا کَاَنْ لَّمْ یَسْمَعْھَا کَاَنَّ فِیْ اُذُنَیْہِ وَقْرًا فَبَشِّرْہُ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَھُمْ جَنّٰتُ النَّعِیْمِ . خٰلِدِیْنَ فِیْھَا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ . (لقمان ۳۱: ۶۔۹)

''اورلوگوں میں ایسے بھی ہیں جو 'لھو الحدیث' خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دیں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔یہی لوگ ہیں جن کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ اور جب ان کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تواس طرح متکبرانہ اعراض کرتے ہیں گویا ان کو سنا ہی نہیں۔ گویا ان کے کانوں میں بہرا پن ہے تو ان کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے، ان کے لیے نعمت کے باغ ہوں گے جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا وعدہ پورا ہو کے رہے گا اور وہ غالب و حکیم ہے۔''

یہ آیات حرمت موسیقی کے لیے دلیل کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ اس ضمن میں ان کے الفاظ 'لھو الحدیث' کو بناے استدلال بنایا جاتا ہے۔ یہ ترکیب 'لھو' اور 'حدیث' کے الفاظ سے مرکب ہے۔

'لھو' کے معنی کھیل تماشے اور غافل کر دینے والی چیز کے ہیں۔

''لسان العرب ''میں ہے:

لھو:ما لھوت بہ ولعبت بہ وشغلک من ھوی وطرب نحوھما. (۱۵/ ۲۵۸)

'''لہو' سے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ تم کھیلتے ہو یا ایسی خواہش یا خوشی یا کوئی بھی ایسی چیز جو تمھیں مشغول کردے یا ان دونوں جیسی کوئی چیز۔''

صاحب مفردات علامہ راغب اصفہانی بیان کرتے ہیں:

اللھو ما یشغل الإنسان عما یعنیہ ویھمہ. (المفردات فی غریب القرآن ۴۵۵)

''لہو وہ چیز ہے جو انسان کو اس سے غافل کردے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہو۔''

حدیث کے معنی نئی چیز یا خبر کے ہیں۔

''لسان العرب'' میں نقل ہوا ہے:

الحدیث: الجدید من الأشیاء. والحدیث : الخبر. (۴/ ۱۳۳)

''حدیث کا لفظ 'نئی چیز' کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے اور 'خبر' کے معنی میں بھی ۔''

''اقرب الموارد'' میں ہے:

الحدیث : الجدید والخبر . (۱/ ۱۷۰)

''حدیث کا مطلب 'نئی چیز' بھی ہے اور خبر بھی۔''

اہل لغت کی ان آرا کی روشنی میں 'لھو الحدیث' کے لغوی معنی حسب ذیل ہو سکتے ہیں:

۱۔ کھیل تماشے کی خبر

۲۔ غافل کر دینے والی بات

۳۔ باطل چیز

ان الفاظ کے مفہوم و مصداق کے بارے میں مفسرین کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے ۔ غنا ، مزامیر، شرک، باطل گفتگو اور اللہ کی راہ سے روکنے والی بات جیسے مختلف معنی روایتوں اور تفسیر کی بعض کتابوں میں نقل ہوئے ہیں۔

تفسیری اقوال کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ ابن مسعود اور عبداللہ ابن عباس کے نزدیک ان الفاظ سے مراد غنا ہے۔ ۲ ۲؂ ان کے علاوہ جابر، عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد، مکحول، عمروبن شعیب اور علی بن بذیمہ ان الفاظ کا مصداق 'غنا' ہی بیان کرتے ہیں۔ ۲۳؂ حسن بصری کے قول کے مطابق ان سے مراد مزامیر (ساز) ہیں۔ ۲۴؂ ضحاک اس کی تعبیر شرک کے مفہوم سے کرتے ہیں ۲۵؂ اور قتادہ نے اس کے معنی باطل بات کے لیے ہیں۔ ۲۶؂

ابن جریر طبری نے کم و بیش یہ تمام اقوال اپنی کتاب میں نقل کرنے کے بعد جب اپنی رائے کا اظہار کیا ہے تواس موقع پر غنا کے بجائے اللہ کی راہ سے غافل کرنے والی بات کا مفہوم بیان کیاہے :

و الصواب من القول فی ذلک ان یقال : عنی بہ کل ما کان من الحدیث ملھیا عن سبیل اللّٰہ ، مما نھی اللّٰہ عن استماعہ او رسولہ، لان اللّٰہ تعالٰی عم بقولہ (لھو الحدیث) ولم یخصص بعضاً دون بعض، فذلک علی عمومہ، حتی یاتی ما یدل علی خصوصہ، والغناء والشرک من ذلک. (التفسیر الطبری۲۱/ ۷۴)

''اور اس کے بارے میں صحیح بات یہ ہے کہ : اس سے مراد ہر وہ بات ہے جو اللہ کے راستے سے غافل کردے اور جس کے سننے سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کچھ مخصوص چیزوں کا ذکر کرنے کے بجائے مطلقاً 'لہو الحدیث' کا لفظ بولا ہے ۔ چنانچہ یہ ایک عام حکم ہے ، الا یہ کہ کوئی دوسری دلیل کسی چیز کو اس سے مستثنیٰ قرار دے ۔ گانا بجانا اور شرک بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔''

کم و بیش یہی رائے زمخشری اور رازی نے اختیار کی ہے:

اللھو کل باطل ألھی عن الخیر وعما یعني و(لھو الحدیث) نحو السمر بالأساطیر والأحادیث التي لا أصل لہا، والتحدث بالخرافات والمضاحیک وفضول الکلام، وما لا ینبغي من کان وکان، ونحو الغناء وتعلم الموسیقار، وما أشبہ ذلک. (الکشاف۳/ ۴۹۶۔۴۹۸)

'' ہر وہ باطل چیز ' لھو 'ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔ جیسے داستان گوئی، غیر حقیقی قصے، خرافات ہنسی مذاق ، فضول باتیں ، ادھر ادھر کی ہانکنا اور جیسے گانا، موسیقار کا موسیقی سیکھنااور اس طرح کی دوسری چیزیں۔''

أن ترک الحکمۃ والاشتغال بحدیث آخر قبیح. (التفسیر الکبیر۲۵/ ۱۴۰)

''اس سے مراد اچھی بات کو چھوڑکر کسی بری بات میں مشغول ہوجانا ہے۔''

زیادہ تراردو مفسرین نے بھی ان الفاظ کا مفہوم غنا کے پہلو سے بیان نہیں کیا۔ مفتی محمد شفیع نے ''معارف القرآن'' میں ان کے معنی ''کھیل کی باتیں'' درج کیے ہیں۔ ۲۷؂ مولانا ابو الکلام آزاد نے ''ترجمان القرآن'' میں ان کا ترجمہ ''غافل کرنے والا کلام'' کیا ہے، ۲۸؂ مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس سے مراد کھیل کی باتیں لیا ہے۔ ۲۹؂ اسی طرح صاحب ''تفہیم القرآن'' مولانا ابو الاعلیٰ مودودی نے بھی اسی عمومی مفہوم کو اختیار کرتے ہوئے اس کا ترجمہ ''کلام دل فریب'' کیا ہے۔ ۳۰؂ ان علما میں سے کسی نے بھی اپنی تفسیر میں ان الفاظ کا مصداق طے کرتے ہوئے غنا کی تخصیص نہیں کی۔

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان الفاظ کی بنا پر قرآن مجید کے حوالے سے حرمت غنا کی تعیین ہر گز درست نہیں ہے۔ قرآن مجید کا اپنا عرف بھی اس تعیین سے ابا کرتا ہے۔ 'لہو' کا لفظ سورۂ لقمان کے علاوہ دوسرے کئی مقامات پر نقل ہوا ہے۔ ان کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی ایک جگہ پر بھی سیاق کلام غنا کی تخصیص کو قبول نہیں کرتا۔

بعض مقامات پر 'لہو' کا لفظ اخروی زندگی کے مقابلے میں دنیوی زندگی کی کم مائیگی کو بیان کرنے کے لیے آیا ہے ۔سورۂ عنکبوت میں ہے:

وَمَا ہٰذِہِ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَھْوٌ وَّلَعِبٌ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ.( ۲۹: ۶۴)

''یہ دنیا کی زندگی تو بس لہو و لعب ہے ۔ اور دارآخرت ہی ہے جو اصل زندگی کی جگہ ہے ، اگر وہ اس کو جانتے ۔ ''

یہی بات سورۂ انعام میں قدرے تفصیل سے بیان ہوئی ہے:

وَقَالُوْآ اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ. قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ. قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰہِ حَتّٰی اِذَا جَآءَ تْہُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْھَا وَھُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُھُوْرِھِمْ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَھْوٌ وَلَلدَّارُ الاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ. (۶: ۲۹۔۳۲)

''کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے ، اور مرنے کے بعد ہم اٹھائے نہیں جانے کے ۔ اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے ، وہ ان سے پوچھے گا ، کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے ؟ وہ جواب دیں گے ، ہاں، ہمارے رب کی قسم ، یہ امر واقعہ ہے ! فرمائے گا :پس چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں ۔ گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنھوں نے اللہ سے ملاقات کو جھٹلایا ۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی آ پہنچے گی ، وہ کہیں گے کہ ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو اس باب میں ہم سے ہوئی! اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے ۔ جان رکھو کہ نہایت ہی برا ہو گا ۔ وہ بوجھ یہ اٹھائیں گے اور یہ دنیا کی زندگی تو بس کھیل تماشا ہے ۔ البتہ دارآخرت ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو تقویٰ رکھتے ہیں۔ تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟ ''

بعض مقامات پر یہ لفظ ناعاقبت اندیش لوگوں کے دین کو کھیل تماشا بنانے کے مفہوم میں آیا ہے:

وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَعِبًا وَ لَھْوًا وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا. (الانعام۶: ۷۰)

''ان لوگوں کو چھوڑو جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے ۔''

وَنَادآی اَصْحٰبُ النَّاِر اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْمِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ قَالُوْآ اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَھُمَا عَلَی الْکٰفِرِیْنَ. الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَھْوًا وَّلَعِبًا وَّغَرَّتْھُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا فَالْیَوْمَ نَنْسٰھُمْ کَمَانَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِھِمْ ھٰذَا وَمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ. (الاعراف ۷: ۵۰۔ ۵۱)

''اور دوزخ والے جنت والوں کو آواز دیں گے کہ پانی یا ان چیزوں میں سے ، جو اللہ نے تمھیں بخش رکھی ہیں ، کچھ ہم پر بھی کرم فرماؤ۔ وہ جواب دیں گے کہ اللہ نے یہ دونوں چیزیں کافروں کے لیے حرام کر رکھی ہیں ۔ ان کے لیے جنھوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنایا اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا، پس آج ہم ان کو نظر انداز کریں گے جس طرح انھوں نے اپنے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے ۔''

سورۂ جمعہ میں یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال ہوا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ وَذَرُو الْبَیْعَ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِیِ الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاذْکُرُو اللّٰہَ کَثِیرْاً لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَھْواً انْفَضُّوْا اِلَیْھَا وَ تَرَکُوْکَ قَآءِمًا قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّھْوِ وَ مِنَ التِّجَارَۃِ وَاللّٰہُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ . ( ۶۲: ۹۔۱۱)

'' ایمان والو، جب جمعہ کے دن کی نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف مستعدی سے چل کھڑے ہو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ پھر جب نماز ختم ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے فضل کے طالب بنو اور اللہ کو زیادہ یاد رکھو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب وہ کوئی تجارت یا دلچسپی کی چیز دیکھ پاتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑے چھوڑ دیتے ہیں ۔ کہہ دو، جو اللہ کے پاس ہے ، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے کہیں بہتر ہے ۔ اور اللہ بہترین روزی دینے والا ہے۔''

ان تمام مقامات پر اگر 'لہو' کے مفہوم میں کھیل تماشے کی جگہ موسیقی کا لفظ رکھ کر دیکھیں تو ہر صاحب نظر پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ آیات کا اسلوب اور سیاق و سباق اس تخصیص کو کسی طرح بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

سورۂ لقمان کی مذکورہ آیت میں 'لھو الحدیث' کا مفہوم اگر عربی لغت ، عرف قرآن اور سیاق کلام کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس سے مرادوہ گم راہ کن باتیں قرار پائیں گی جو مفسدین زمانۂ نزول قرآن میں لوگوں کو کتاب اللہ سے منحرف کرنے کے لیے پھیلا رہے تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

'''لھو الحدیث' اسی طرح کی ترکیب ہے جس طرح دوسرے مقام میں 'زخرف القول' کی ترکیب استعمال ہوئی ہے۔ یہاں یہ لفظ کتاب حکیم کی آیات کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ اس وجہ سے اس سے مراد وہ گم راہ کن باتیں ہیں جو وقت کے مفسدین لوگوں کو آیات الٰہی سے برگشتہ کرنے کے لیے پھیلاتے تھے۔ قرآن لوگوں کو زندگی کے اصل حقائق کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا تھا، لیکن مخالفین کی کوشش یہ تھی کہ لوگ انھی مزخرفات میں پھنسے رہیں جن میں پھنسے ہوئے ہیں۔ یہاں اسی صورت حال کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اسلوب بیان اظہار تعجب کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے تو لوگوں کی ہدایت کے لیے ایک پر حکمت کتاب اتاری ہے، لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان میں بہتیرے اس کے مقابل میں انھی فضول باتوں کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی خواہشوں اور بدعتوں کے لیے سند تصدیق فراہم کرتی ہیں... مفسدین کی یہ تمام سعی نامراد اس لیے ہے کہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکیں ، حالانکہ اللہ کی راہ کو چھوڑ کر جس راہ پر وہ چل رہے ہیں اور جس پر لوگوں کو بھی چلانا چاہتے ہیں، اس کے حق میں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود جسارت کا یہ عالم ہے کہ اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے اور اپنی بے سروپا باتوں کی تائید میں آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں... ان کے لیے ایک نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہو گا۔'' (تدبر قرآن ۶/ ۱۲۳)

مفسدین نے لوگوں کوقرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو و لعب کے جوذرائع اختیار کیے ہوں گے، وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے ، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرائع اگر لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں تو فی نفسہٖ مباح ہونے کے باوجوداپنے غلط استعمال کی وجہ سے شنیع قرار پائیں گے اور اہل ایمان کو ان سے گریز ہی کی تلقین کی جائے گی۔

'سامدون' کے معنی

اَزِفَتِ الْاٰزِفَۃُ. لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کَاشِفَۃٌ اَفَمِنْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ. وَ تَضْحَکُوْنَ وَ لَاتَبْکُوْنَ. وَاَنْتُمْ سٰمِدُوْنَ. فَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ وَاعْبُدُوْا. (النجم ۵۳: ۵۷۔۶۲)

''قریب آنے والی قریب آ گئی ہے۔اللہ کے سوا اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو سکتا۔تو کیا تم اس کلام پر متعجب ہوتے ہو۔ اور ہنستے ہو، روتے نہیں ۔اور تم 'سامد ' ہو۔ اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی کرو۔''

بعض مفسرین ان آیات سے بھی حرمت موسیقی کے لیے استدلال کرتے ہیں۔ یہاں لفظ 'سامدون' کا مفہوم ان کے نزدیک غنا ہے۔

لغت کی کتابوں میں ' سامد' کے حسب ذیل معنی نقل ہوئے ہیں:

سمد : السامد اللَّاہي الرافع رأسہ. من قولہم سمد البعیرفی سیرہ. (المفردات فی غریب القرآن۲۴۱)

''سمد (کے معنی تکبر سے سر اٹھانا ہے): سامد وہ غافل شخص ہے جو اپنا سر اونچا رکھے ۔ اصلاً یہ اونٹ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ اہل زبان کہتے ہیں : 'سمد البعیر' یعنی اونٹ نے چلتے ہوئے سر کو اٹھائے رکھا۔''

علا. وسمدت الابل تسمد سمودا: لم تعرف الاعیاء. وسمد سموداً : غنّی. وروي عن ابن عباس أنہ قال: السمود الغناء بلغۃ حمیر. (لسان العرب ۳/ ۲۱۹)

''وہ بلند ہوا اور اونٹ تیز چلے اس حال میں کہ وہ گردنیں اٹھائے ہوئے تھے اور انھوں نے تھکاوٹ محسوس نہ کی ۔ اور سمد کے معنی ہیں : اس نے گانا گایا اور ابن عباس سے مروی ہے : حمیری زبان میں سمود کے معنی گانے کے ہیں۔''

سمد: قام رافعا رأسہ ناصباً صدرہ فہوسامد، وغنی، وقام متحیراً. (اقرب الموارد۱/ ۵۳۹)

''جو شخص اپنا سر اٹھا کر اور سینہ تان کر کھڑا ہو وہ سامد ہے اور اس کے معنی گانا گانے کے بھی ہیں اور متحیر کھڑے ہونے کے بھی ہیں۔''

ان لغات کی روشنی میں 'سامد ' کے معنی یہ قرار پائیں گے:

۱۔متحیر یا حیران کھڑا ہونے والا۔

۲۔ تکبر سے سر اٹھانے والا۔

۳۔سر اٹھا کر اور سینہ تان کر کھڑا ہونے والا۔

۴۔ گانا گانے والا۔

'سامدون ' کے حوالے سے جب ہم تفسیری اقوال کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس سے تین مختلف قول مروی ہیں۔ ایک کے مطابق اس سے مراد 'لاہون' یعنی کھیلنے والے ہیں، دوسرے کے مطابق اس کا معنی غنا ہے اور تیسرے کے مطابق تکبر سے سینہ تان کر گزرنا ہے۔۳۱؂ قتادہ کے نزدیک اس سے مراد 'غافلون' یعنی غافل ہو جانے والے ہیں۔ ۳۲؂ ضحاک کی رائے میں اس سے مراد لہو و لعب میں مشغول ہونے والے کے ہیں۔۳۳؂

علماے تفسیر میں سے زمخشری کی رائے ہے :

وانتم سامدون:شامخون مبرطمون. وقیل: لاھون لاعبون. وقال بعضہم لجاریتہ: اسمدي لنا، أي غني لنا. (الکشاف ۴/۴۳۰)

''(سامدون کے معنی) مغرور اور غضب ناک ہونے کے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد لہو و لعب ہے ۔ اور اہل عرب یہ بھی کہتے ہیں: 'اسمدی لنا' یعنی ہمارے لیے گاؤ۔''

امام رازی کی تفسیرہے:

(وأنتم سامدون ) أي غافلون. (التفسیر الکبیر۲۹ / ۲۷)

''سامدون کے معنی ہیں تم غافل ہو۔''

blockquote

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہ>

ے کہ اگر چہ اس لفظ کا ایک معنی غنا بھی نقل ہوا ہے،مگر بیش تر مفسرین نے اس سے یہ مراد نہیں لیا۔ ہمارے نزدیک اگر سیاق کلام کو پیش نظر رکھیں تو اس سے غنا کا مفہوم مرادنہیں لیا جا سکتا ۔

یہ لفظ سورۂ نجم کی اختتامی آیات کا حصہ ہے۔ اس سورہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آخرت کی جزا اور سزا کے اثبات کو بیان کر رہی ہے۔ یہ اس پس منظر میں نازل ہوئی ہے کہ مشرکین عرب قرآن مجید کے الہامی ہونے پر بے سروپا اعتراضات اور شبہات کا اظہار کررہے تھے اور اس کے برعکس اپنے کاہنوں اور نجومیوں کی خرافات کو بے سوچے سمجھے مان رہے تھے ۔چنانچہ اس کی تمہیدمیں مخاطبین سے یہ کہا گیا ہے کہ قرآن مجید ایساکلام نہیں ہے جیسا تمھارے کاہن اور نجومی پیش کرتے ہیں۔یہ وحی الٰہی ہے، اس کے حق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس لیے اس پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے اسے شرح صدر سے قبول کرو۔ خاتمۂ سورہ میں بھی اسی بات کی تذکیر و تنبیہ کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ قیامت تمھارے بالکل قریب ہے اور تم اس سے غافل ہوکر مذاق میں پڑے ہوئے ہو، دراں حالیکہ یہ ہنسنے کا نہیں، بلکہ رونے کا مقام ہے۔چنانچہ یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس سیاق میں 'سامدون' سے غنا کے معنی مراد لینا کسی لحاظ سے بھی موزوں نہیں ہے، یہاں اس سے مراد مخاطبین کا غافل ہو جانا اورقرآن مجید سے بے اعتنائی برتنا ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی خاتمۂ سورہ کی ان آیات کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

''ان کے حال پر اظہار تعجب ہے کہ جو کتاب تمھیں اتنے بڑے عذاب کے قرب کی خبر دے رہی ہے، تم اس کے انداز پر تعجب کر رہے ہو کہ بھلا تم پر عذاب کدھر سے اور کیوں آ جائے گا ! آگاہ ہو جاؤ کہ یہ چیز ہنسنے اور مذاق اڑانے کی نہیں ، بلکہ رونے اور سر پیٹنے کی ہے ، لیکن تم رونے کی جگہ اس پر ہنس رہے ہو!

'سمد' اور 'سمود' کے معنی مدہوش ہونے کے ہیں ۔ یعنی یہ کتاب تو تمھیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہی ہے ، لیکن تم غفلت کے بستروں پر پڑے سو رہے ہو ۔ خیریت چاہتے ہو تو جاگو اور دوسرے دیویوں اور دیوتاؤں کو چھوڑ کر اپنے رب ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی کرو ۔ اس کے سوا کوئی اور اس آفت سے نجات دینے والا نہیں بنے گا۔''(تدبرقرآن ۸/ ۸۰)

صوت شیطان کا مصداق

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْا اِلَّآ اِبْلِیْسَ قَالَ ءَ اَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًا. قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗ اِلَّا قَلِیْلاً. قَالَ اذْھَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا. وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْھِمْ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ وَ شَارِکْہُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْھُمْ وَمَایَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا . اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا. (بنی اسرائیل۱۷: ۶۱۔۶۵)

'' اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انھوں نے سجدہ کیا ،لیکن ابلیس نے نہیں کیا ۔ وہ بولا کہ کیا میں اس کو سجدہ کروں جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا۔ اس نے کہا ذرا دیکھ تو اس کو جس کو تو نے مجھ پر عزت بخشی ہے ، اگر تو نے مجھے روز قیامت تک مہلت دے دی تو میں ، ایک قدرے قلیل کے سوا، اس کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤں گا ۔ فرمایا: جا،جو ان میں سے تیرے پیرو بن جائیں گے تو جہنم تم سب کا پورا پورا بدلہ ہے۔ اور ان میں سے جن پر تیرا بس چلے، ان کو اپنی 'صوت' سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیدل چڑھا لا، مال اور اولاد میں ان کا ساجھی بن جا اور ان سے وعدہ کر لے اور شیطان ان سے محض دھوکے ہی کے وعدے کرتا ہے۔ بے شک، میرے اپنے بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا اور تیرا رب کارسازی کے لیے کافی ہے۔''

ان آیات میں 'واستفزز من استطعت منھم بصوتک' کے الفاظ آئے ہیں۔ یہاں 'صوت 'کا لفظ شیطان کی نسبت سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو راندۂ درگاہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ تو یہاں سے نکل جا اور اگر تیرا بس چلتا ہے تو اپنی 'صوت' سے انسانوں کو بہکا لے۔

'صوت' عربی زبان کا معروف لفظ ہے جس کے معنی آواز کے ہیں۔ تفسیری اقوال کی روشنی میں بعض مفسرین نے اس کا مصداق 'غنا' بیان کیا ہے۔تاہم اس ضمن میں محض غنا ہی کے بارے میں اقوال نہیں ہیں،بلکہ دیگر معانی کے حامل اقوال بھی روایتوں میں نقل ہوئے ہیں۔ کم و بیش ان تمام اقوال کو طبری اور ابن کثیر نے اپنی تفسیروں میں جمع کر دیا ہے۔ابن عباس کے قول کے مطابق ' واستفزز من استطعت منھم بصوتک' سے مراد' صوتہ کل داع دعا الی معصیۃ اللّٰہ' ہے۔ یعنی ہر اس داعی کی آواز جو اللہ کی نافرمانی کی طرف پکارے۔۳۴؂ مجاہد کے نزدیک یہاں صوت سے مراد لہو و لعب ہے۔ ۳۵؂ مجاہد ہی کے حوالے سے ابن کثیر نے اس کا مصداق لہو کے ساتھ غنا کو بھی قرار دیا ہے۔ ۳۶؂ قتادہ کی رائے میں صوت شیطان سے مراد شیطان کی دعوت ہے۔۳۷؂

ہمارے نزدیک صوت شیطان یعنی شیطان کی آواز کو غنا سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ اکثر جلیل القدر مفسرین نے اس نوعیت کی کوئی قید نہیں لگائی ۔ صاحب کشاف نے اسے ایک تمثیلی کلام قرار دیا ہے اور صوت شیطان سے مراد شیطان کا برائی کی طرف دعوت دینا بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

فإن قلت : ما معنی استفزاز إبلیس بصوتہ وإجلابہ بخیلہ ورجلہ؟ قلت : ہو کلام ورد مورد التمثیل، مثلت حالہ في تسلطہ علی من یغویہ بمغوار أوقع علی قوم فصوّت بہم صوتایستفزہم من أماکنہم ویقلقہم عن مراکزہم۔ وقیل : بصوتہ بدعاۂ إلی الشر. (۲/ ۶۳۳)

''اگر تم کہو کہ ابلیس کا اپنی آواز اور اپنے گھڑسواروں او رپیادوں (کی فوج) کے ساتھ حملہ آور ہونے کا کیا مطلب ہے تو میں کہوں گا کہ یہ کلام تمثیلی ہے اور شیطان کے مسلط ہونے کو بیان کررہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کس کس طرح ایک انسان کو بہکاتا ہے یا کسی قوم پر اپنی آواز سے مسلط ہو کر انھیں اپنے مکانوں اور ٹھکانوں سے باہر کھینچ لاتا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کی آواز سے مراد برائی کی طرف دعوت دینا ہے۔''

کم و بیش یہی مفہوم رازی نے ''التفسیر الکبیر'' میں درج کیا ہے:

صوتہ دعاؤہ إلی معصیۃ اللّہ تعالٰی. (۲۱/ ۶)

''اس(شیطان)کی آواز سے مراد اس کا اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانا ہے۔ ''

''روح المعانی'' میں آلوسی نے غنا سے متعلق قول کا حوالہ دینے کے باوجود اس سے اللہ کی نافرمانی کی طرف دعوت اور وسوسہ اندازی ہی کا مفہوم مراد لیا ہے:

(بصوتک ) أي بدعائک إلی معصیۃ اللّٰہ تعالٰی ووسوستک، وأخرج ابن المنذر وابن جریر وغیرہما عن مجاہد تفسیرہ بالغناء والمزامیر واللہو والباطل. (۱۵/ ۱۱۱)

'''بصوتک 'سے مراد اللہ کی نافرمانی کی طرف بلانا اور وسوسہ ڈالنا ہے ۔ ابن منذر ،ابن جریر اور ان کے علاوہ دیگر مفسرین نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ مجاہد کی رائے میں اس سے مرادگانا، مزامیر، باطل اور لہو ہے۔''

مولانا مفتی محمد شفیع نے صوت کا مفہوم غنا کی تخصیص کے بغیر بیان کیا ہے اور اس سے شیطان کی ہر وہ پکار مراد لی ہے جو اللہ کی نافرمانی کی طرف دعوت دیتی ہے : ۳۸؂

''اور ان میں سے جس کو اپنی آواز سے بچلا سکے اس کو بچلا۔ یعنی جس طرح تو اللہ کی معصیت کی طرف بلا سکتا ہے بلا ، دنیا میں جو آواز اور پکار اللہ کی نافرمانی کی طرف دی جاتی ہے وہ درحقیقت شیطان کی آواز ہوتی ہے جیسے راگ اور باجے کی آواز۔ '' (۳۳۷)

ہمارے نزدیک قرآن مجید نے 'صوت 'کا لفظ استعمال کر کے ان تمام ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو شیطان صوت رحمان کے مقابل میں پیش کرتا اور ان کے ذریعے سے اللہ کے بندوں کو گم راہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ہر وہ چیز صوت شیطان ہے جو انسان کو اس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہے۔ یہ درس اگر کوئی تقریر،کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی دیتی ہے تو وہ بلا شبہ صوت شیطان ہے اور اسلام اسے کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں شیطان کا وہ پیغام شنیع قرار پائے گا نہ کہ تقریر، تحریر، تدریس ،شاعری اور موسیقی جیسی اصناف ہی اصلاً لغو ٹھہریں گی۔

مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

'''استفزاز'کے معنی گھبرا دینے اور پریشان کر دینے کے ہیں اور ' صوت' سے مرادیہاں شوروغوغا، ہنگامہ اور پروپیگنڈا ہے۔

ابلیس اور اس کی ذریات کو اضلال کی مہم چلانے کی جس حد تک مہلت ملی ہوئی ہے ، یہ اس کی طرف اشارہ ہے تاکہ لوگ اس کو کوئی آسان بازی نہ سمجھیں ، بلکہ جو اس کے فتنوں سے اپنے ایمان کو بچانا چاہتے ہوں ، وہ ہر وقت اس کا مقابلہ کرنے کے لیے چوکس رہیں ۔

'واستفزز من استطعت منھم بصوتک' یعنی جا، لوگوں کو صراط مستقیم سے ہٹانے کی مہم میں اپنے شوروغوغا، اپنے نعرے اور ہنگامے ، اپنے ریڈیو اور سینما، اپنے گانے بجانے ، اپنے جلسوں اور جلوسوں ، اپنی تقریروں اور اعلانات ، اپنے اخبارات و رسائل اور اس قبیل کی ساری ہی چیزوں سے جو فائدہ اٹھا سکتا ہے ، اٹھا لے اور جن کے قدم اکھاڑ سکتا ہے ، اکھاڑ دے ۔

'واجلب علیھم بخیلک و رجلک '۔'خیل ' سواروں کی جماعت اور 'رجل'پیادوں کی ٹولی ۔ یعنی اپنے لشکر ضلالت کے سواروں اور پیادوں کو بھی ان پر چڑھا لا اور اس طرح بھی اگر تیرا بس چلے تو ان کو ایمان سے پھیرنے کی کوشش کر دیکھ۔ یہ ملحوظ رہے کہ سوار اور پیادے چڑھالانا محض استعارہ ہی نہیں ہے، بلکہ امر واقعی بھی ہے۔ وہ تمام جنگیں جو دشمنان اسلام نے اہل ایمان کو دین حق سے پھیرنے کے لیے برپاکی ہیں ، وہ سب اس میں داخل ہیں ۔ '' (تدبرقرآن ۴/ ۵۲۰)

'لایشھدون الزور 'کی تفسیر

وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا.(فرقان۲۵: ۷۲)

''اور جو لوگ کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی بے ہودہ چیز پر سے ان کا گزر ہوتاہے تووقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔''

بعض مفسرین نے اس آیت کے لفظ ' الزور 'سے مراد غنا لیا ہے اور اس بنا پر موسیقی کو باطل قرار دیا ہے۔

لغت میں اس کے معنی جھوٹ اور باطل کے بیان کیے گئے ہیں۔

''لسان العرب'' میں ہے:

والزور: الکذب والباطل ، وقیل شہادۃ الباطل.(۴/ ۳۳۶)

'''زور' کے معنی جھوٹ اور باطل کے ہیں اور باطل گواہی کو بھی 'زور' کہا گیا ہے۔''

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں:

قیل للکذب زور لکونہ مائلا عن جہتہ، قال : ظلما وزورا. (المفردات فی غریب القرآن۲۱۷)

''(زور کا معنی ہے منحرف ہونا) اور جھوٹ کے لیے 'زور' کا لفظ اس لیے استعمال ہوتا ہے کہ جھوٹی بات بھی راہ حق سے منحرف ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (کفار کا دعویٰ ) ظلم اور جھوٹ ہے ۔''

یہ رائے روایات میں منقول مجاہد اور محمد بن حنفیہ کے ا قوال پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق 'زور' سے مراد غنا ہے۔۳۹؂ امام ابو حنیفہ کے حوالے سے بھی جصاص نے اس کے معنی غنا ہی نقل کیے ہیں۔ ۴۰؂

اس کے برعکس ضحاک سے 'شرک' کے معنی منقول ہیں۔ ۴۱؂ ابن جریج سے اس کا مفہوم 'کذب' نقل ہوا ہے۔۴۲؂

کشاف، تفسیر الکبیر اور روح المعانی میں 'زور' سے مراد باطل اور کذب ہی لیا گیا ہے اور 'یشہدون الزور' کے معنی جھوٹی گواہی کے نقل ہوئے ہیں۔ ۴۳؂

ہمارے نزدیک اس آیت میں ' زور'اپنے لغوی مفہوم ہی کے لحاظ سے آیا ہے، اسے غنا، شرک یا کسی دوسرے مفہوم کا حامل قرار دیناہر گز موزوں نہیں ہے۔ طبری بیان کرتے ہیں:

فاذا کان ذلک کذلک فاولی الاقوال بالصواب فی تاویلہ ان یقال : والذین لا یشہدون شیئا من الباطل ولا شرکا ولا غناء ولا کذبا ولا غیرہ وکل ما لزمہ اسم الزور. (تفسیر طبری ۱۹/ ۵۸)

''اس تفصیل کی روشنی میں اس آیت کا صحیح ترین مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ باطل کے کسی کام میں شریک نہیں ہوتے ۔ چاہے وہ شرک ہو یا گانا بجانا یا جھوٹ یا اس کے علاوہ کوئی بھی ایسا کام جس پر 'زور' کا اطلاق ہوتا ہو۔''

اس آیت کو اس کے سیاق و سباق کے لحاظ سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کی صفات کے ذیل میں جہاں فروتنی،عبادت گزاری، عمل صالح اور توبہ و انابت کے اوصاف بیان کیے ہیں، وہاں یہ وصف بھی بیان کیا ہے کہ وہ کسی جھوٹ اور باطل میں شریک نہیں ہوتے اور لغویات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

'''زور ' کذب و باطل کو کہتے ہیں اور 'لغو' سے مراد وہ باتیں اور کام ہیں جو ثقہ و سنجیدہ لوگوں کے شایانِ شان نہ ہوں ۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے کسی باطل کام میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی لغو چیز کے پاس سے گزرنا ہی پڑ جائے تو نہایت وقار و شرافت سے وہاں سے گزر جاتے ہیں جس طرح ایک گندی جگہ سے ایک صفائی پسند آدمی گزر جاتا ہے ۔ سورۂ قصص کی آیت ۵۵ میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے :

وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَاَعْرَضُوْا عَنْہُ وَ قَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجٰھِلِیْنَ . (۵/ ۴۸۹)

''اور جب وہ لغو باتیں سنتے ہیں تو ان سے اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہمارے اعمال ہیں اور تمھارے ساتھ تمھارے اعمال ، ہمارا سلام لو، ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے ۔ '' '' (تدبرقرآن ۵/ ۴۸۹)

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہے کہ باعتبار لغت مذکورہ بالا الفاظ و تراکیب سے غنا کے معنی اخذ کرنا عربی زبان کے مسلمات کے خلاف ہے ۔ تاہم اس کے باوجود اگر ان سے غنا ہی کا مفہوم مراد لینے پر اصرار کیا جائے تب بھی سیاق وسباق اور اسلوب بیان اس کی قطعاً اجازت نہیں دیتے کہ انھیں موسیقی کی حرمت کے بارے میں کسی حکم کی بنیاد بنایا جائے ۔

حرمت موسیقی کے لیے روایات سے استدلال

موسیقی کی حرمت پر جن روایتوں سے استدلال کیا جاتا ہے،ان میں صحیح، حسن اور ضعیف ۴۴؂ تینوں طرح کی روایات موجود ہیں۔ ان پر غور کرنے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ تدبر حدیث کے بنیادی اصولوں کو مختصر طور پر جان لیا جائے۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی نے اپنی کتاب ''میزان'' میں حدیث کے ردو قبول اور اس کے فہم کے حوالے سے حسب ذیل اصول بیان کیے ہیں۔ ۴۵؂

ردوقبول کے حوالے سے یہ دو باتیں بیان کی ہیں:

اولاً یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کسی مشتبہ بات کی روایت، چونکہ دنیا اور آخرت ، دونوں میں بڑے سنگین نتائج کاباعث بن سکتی ہے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ سند کی تحقیق کے لیے جو معیار محدثین نے قائم کیا ہے، اس کا اطلاق آپ سے متعلق ہر روایت پر بغیر کسی رو رعایت کے اور نہایت بے لاگ طریقے پر کیا جائے اور صرف وہی روایتیں قابل اعتنا سمجھی جائیں جو اس پر ہر لحاظ سے پوری اترتی ہوں۔

ان اصولوں کی روشنی میں اب ہم ان نمائندہ روایتوں کو زیر بحث لائیں گے جن سے موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ اس ضمن میں پہلے صحیح اور حسن روایتوں کی توضیح کی جائے گی اور پھر ضعیف روایتوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

صحیح او ر حسن روایات

صحیح اور حسن روایات حسب ذیل ہیں :

سازوں کی حرمت

حدثنی ابو عامر او ابومالک الاشعری واللّٰہ ما کذبنی سمع النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لیکونن من امتی اقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف. ( بخاری ،رقم ۵۲۶۸)

''ابو عامر یا ابو مالک اشعری بیان کرتے ہیںکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جوشرم گاہ( زنا)، ریشم، شراب اور سازوں کو حلال کر لیں گے ۔ '' ۴۷؎

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ زنا ، ریشم، شراب اور سازوں کو حلال تصور کریں گے۔

o ' یستحلون' (حلال کر لیں گے) کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ چیزیں درحقیقت حرام ہیں۔

اس روایت سے بظاہر چار چیزوں کی حرمت معلوم ہوتی ہے:

۱۔ زنا

۲۔ شراب

۳۔ ریشم

۴۔ ساز

ان چیزوں کے حوالے سے جب ہم ماخذ دین سے رجوع کرتے ہیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے زناکی حرمت کے بارے میں شریعت نہایت واضح ہے۔ قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ اس کی حرمت کا ذکر آیا ہے۔ ۴۸ ؎

شراب کو قرآن مجید نے بھی حرام قرار دیا ہے اور روایتوں میں بھی اس کی حرمت بیان ہوئی ہے۔ ۴۹؎

ریشم کی حلت و حرمت کے حوالے سے قرآن مجید میں کوئی بات مذکور نہیں ہے ، البتہ جنت کے حوالے سے مثبت طریقے سے ریشم کا ذکر ہوا ۔ ۵۰؎ جہاں تک روایات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حلت و حرمت ،دونوں طرح کی روایتیں موجود ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو بالکلیہ حرام قرار نہیں دیا۔ آپ نے اس کے مکمل لباس کو عورتوں کے لیے جائز قرار دیا ہے اور مردوں کے لیے ناجائز۔ مردوں کو البتہ ، اس کا کچھ حصہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ مردوں کے لیے اس کی ممانعت کے اسباب یہ ہیں کہ اس کے استعمال سے عورتوں سے مشابہت کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور اسراف اور تکبر کا اظہار ہو سکتا ہے۔ ۵۱؎

چنانچہ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا، بلکہ اس کے استعمال کی بعض نوعیتوں کو اپنے زمانے کے لحاظ سے ممنوع ٹھہرایا ہے۔

بعینہٖ یہ معاملہ معازف یعنی آلات موسیقی کا ہے۔ گزشتہ باب میںقرآن مجید کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس کے بین الدفتین موسیقی کے بارے میں کوئی حکم موجود نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے تو ہم اوپر وہ صحیح روایتیں نقل کر چکے ہیں جن سے آلات موسیقی کے جواز کا حکم مستنبط ہوتا ہے۔

موسیقی اور آلات موسیقی کے جواز کی روایتوں کے ہوتے ہوئے بخاری کی مذکورہ روایت کی بنا پر سازوں کو علی الاطلاق حرام قرار دینا ، ظاہر ہے کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ تاہم یہ سوال ابھی باقی ہے کہ روایتوں کے اس ظاہری تناقض کے باوصف اس روایت کا مدعا کیسے سمجھا جائے۔ اس مقصد کے لیے یہ مناسب ہو گا کہ مذکورہ روایت کے دیگر طرق اور اس موضوع کی دوسری روایتوں کا مطالعہ کر لیا جائے۔ اس ضمن میں چند روایتیں حسب ذیل ہیں:

عن ابی مالک الاشعری قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیشر بن ناس من امتی الخمر یسمونھا بغیر اسمھا یعزف علی رؤوسھم بالمعازف والمغنیات یخسف اللّٰہ بھم الارض ویجعل منھم القردۃ والخنازیر. (ابن ماجہ، رقم۴۰۲۰)

''ابو مالک اشعری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے کئی لوگ شراب کو کسی اور نام سے موسوم کر کے پئیں گے۔ ان کے سروں پر ساز بجائے جائیں گے اور گانے والی عورتیں گائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ انھیں زمین میں دھنسا دے گا اور ان میں سے بعض کو بندر اور سور بنا دے گا۔''

عن انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ قال دخلت علی عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ورجل معھا فقال الرجل یا ام المومنین حدثینا حدیثا عن الزلزلۃ فاعرضت عنہ بوجھھا قال انس فقلت لھا حدثینا یا ام المؤمنین عن الزلزلۃ فقالت یا انس ان حدثتک عنھا

''حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھاتشریف لائیں تو ایک شخص ان کے ہم راہ تھا۔ اس نے پوچھا: ام المومنین ، ہمیں(قیامت کے) زلزلے کے بارے میں بتائیے ۔ سیدہ نے اپنا رخ اس کی طرف سے پھیر لیا ۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے پھر کہا : اے ام المومنین ، ہمیں (قیامت کے) زلزلے کے بارے میں بتائیے۔

عشت حزینا و بعثت حین تبعث وذلک الحزن فی قلبک فقلت یا اماہ حدثینا فقالت ان المراۃ اذا خلعت ثیابھا فی غیربیت زوجھا ھتکت ما بینھا و بین اللّٰہ عزوجل من حجاب وان تطیبت لغیر زوجھا کان علیھا نارا و شنارا فاذا استحلوا الزنی و شربوا الخمور بعد ھذا وضربوا المعازف غار اللّٰہ فی سمائہ فقال للارض تزلزلی بھم.(المستدرک علی الصحیحین، رقم۸۵۷۵)

سیدہ عائشہ نے فرمایا: انس، اگر میں نے تمھیں اس سے آگاہ کر دیا تو تم غمگین ہو جاؤ گے اور جب تم قیامت میں اٹھائے جاؤ گے تو اس وقت بھی یہ غم تمھارے دل پر طاری ہو گا۔انس کہتے ہیں کہ میں نے پھرکہا کہ اے ماں، اس کے باوجود آپ ہمیں بتائیے۔ سیدہ نے فرمایا: جب عورتیں اپنے شوہروں کے گھروں کے علاوہ دوسرے گھروں میں لباس اتاریں گی (یعنی جب زنا عام ہو جائے گا) تو ان کے اور اللہ کے مابین شرم و حیا کا پردہ تار تارہو جائے گا۔ اور جب وہ غیر مردوں کو مائل کرنے کے لیے خوش بو لگائیں گی تو یہ بات ان کے لیے آگ کے عذاب اور عیب و عار کا سبب بنے گی ۔ پھر جب لوگ زنا کو حلال سمجھ لیں گے اور اس کے بعد شرابیں پئیں گے اور ساز بجائیں گے تو آسمان پر اللہ کی غیرت کو جوش آئے گا اور وہ زمین سے فرمائے گا کہ ان کو ہلا کر رکھ دے۔''

عن عبد اللّٰہ بن مسعود قلت یا رسول اللّٰہ ھل للساعۃ من علم تعرف بہ الساعۃ فقال لی یا بن مسعود ان للساعۃ اعلاما وان للساعۃ اشراطا الا وان من اعلام الساعۃ واشراطھا... ان تظھر المعازف وتشرب الخمور. (المعجم الکبیر، رقم۱۰۵۵۶)

''عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،کیا قیامت کی کوئی نشانی ہے جس سے اس کے بارے میں جان لیا جائے؟ آپ نے فرمایا : اے ابن مسعود، بے شک قیامت کی نشانیاں ہیں۔ ان میں سے بعض نشانیاں یہ ہیں ...کہ آلات موسیقی نمایاں ہوں گے اور شرابیں پی جائیں گی۔''

ان روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ عرب میں ناچ گانا اور شراب لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے اور آلات موسیقی درحقیقت عریانی اور فحاشی کی محفلوں ہی کے ساتھ مخصوص تھے۔ عرب میں ایسی مجالس عام تھیںجن میں امرا ریشم جیسے متکبرانہ لباس میں ملبوس ہو کر شریک ہوتے، سازوں کے ساتھ ناچ گانے کا اہتمام کیا جاتا ، خوب شراب نوشی کی جاتی اوران کا اختتام فواحش پر ہوتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے توکوئی بھی مباح چیز ان مجالس کے ساتھ مخصوص ہو کر دائرۂ حرمت میں داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ روایت سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ اگر شاعری کی کوئی قسم، کوئی لباس، کوئی برتن، کوئی مقام یا کوئی تہوار ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے وابستہ ہو جاتاہے تو وقتی طور پراس کی ممانعت کا حکم لگانا شریعت کے منشا کے عین مطابق ہے۔ ۵۲؎

____________

۲۰؎ بعض علماے احناف موسیقی کو مجرد طور پر حرام قرار نہیں دیتے ، بلکہ اسی موسیقی کو حرام قرار دیتے ہیںجس کے اشعارغیر اخلاقی مضامین پر مبنی ہوں۔

علامہ ابن ھمام لکھتے ہیں:

'' ایسے اشعار گانا حرام ہے ، جن کا مضمون حرام باتوں پر مشتمل ہو ۔ مثلاً ایسے شعر جن میں کسی زندہ اور معروف آدمی یا عورت کے حسن و جمال کی تعریف کی گئی ہو ، یا شراب کی خوبیاںبیان کر کے شراب نوشی پر ابھارا گیا ہو ، یاجن میں گھر اور چار دیواری کا تجسس پیدا کیا گیا ہو ، یا کسی ذمی یا مسلمان کی ہجو کی گئی ہو ۔ البتہ وہ اشعار جو ان برائیوں سے پاک ہوں اور جن میں بادوبہار ، برگ و گل اور آب رواں کے حسن و جمال کو بیان کیا گیا ہو ، مباح ہیں ۔ محض شعر ہونے کی وجہ سے وہ حرام نہیں ہیں۔ البتہ یہ اشعار بھی آلات موسیقی کے ساتھ گائے جائیں تو ممنوع ہیں ۔ '' (فتح القدیر ۶ /۳۶)

علامہ ابن عابدین اسی مضمون کو ان الفاظ میں ادا کرتے ہیں :

'' آلۂ لہو فی نفسہٖ حرام نہیں ہے، بلکہ ارادۂ لہو کی وجہ سے ہے ۔خواہ یہ ارادہ سننے والے کا ہو یا گانا گانے والے کا۔ گویا یہ ایک اضافی چیز ہے ۔ کیا آپ دیکھتے نہیںکہ یہی ساز ایک موقعے پر حرام ہوتا ہے اور دوسرے موقع پر حلال۔ یہ فرق محض نیت کی وجہ سے ہوتا ہے یا ان باتوں کی وجہ سے جو اس کے مقصد سے متعلق ہوں ۔ '' (رد المحتار۵/ ۲۲۱)

علامہ علاؤ الدین کاسانی تنہائی میں گانے کو ناجائز نہیں سمجھتے، مگر اس کے مظاہرے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔لکھتے ہیں:

''جس مغنی کے گرد لوگ گانے سے محظوظ ہونے کے لیے جمع ہو جاتے ہیں ۔ وہ عادل نہیں ہے خواہ شراب نہ پیتا ہو، کیوں کہ وہ بدکاروں کا سرغنہ ہے ۔ البتہ اگر وہی تنہائی میں وحشت دور کرنے کے لیے گا لے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ سماع سے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے ۔ البتہ فاسقانہ انداز میں اس سے حظ اٹھانے کو حلال نہیں کہا جا سکتا۔''(بدائع الصنائع ۶/ ۲۶۹)

اسی طرح وہ تمام آلات موسیقی کو حرام قرار نہیں دیتے، بلکہ بانس اور دف کا استثنا بیان کرتے ہیں :

''اگر کوئی شخص کسی آلۂ موسیقی میںمشغول ہو تو یہ دیکھا جائے گا کہ وہ آلہ فی نفسہ شنیع ہے یا نہیں ۔اگر فی نفسہ شنیع نہ ہو ، جیسے کہ بانس اور دف تواس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ وہ شخص عادل ہی رہے گا اور اگر وہ آلہ شنیع ہو جیسے عود وغیرہ تو اس شخص کی عدالت ختم ہو جائے گی ۔ اس لیے کہ یہ عود (وغیرہ) کسی حالت میں بھی جائز نہیں ہیں ۔ '' (بدائع الصنائع ۶/ ۲۶۹)

۲۱؎ امام غزالی شافعی فقہ کے ممتاز عالم ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ''احیاء علوم الدین'' میں موسیقی کو مباح قرار دیا ہے،البتہ بعض عوارض کی بنا پر اس کی حرمت کو بیان کیا ہے۔ غنا کی اباحت کے حوالے سے تفصیلی بحث کے بعد ان عوارض کے بارے میں لکھتے ہیں :

''اگر آپ پوچھیں کہ سماع و غنا کبھی حرام بھی ہوتے ہیں ؟ تو میں کہوں گا کہ ہاں پانچ عوارض کی بنا پر یہ حرام ہوجاتے ہیں:

اول یہ کہ مغنی یا مغنیہ میں کوئی عارض ہو ، یعنی انھیں دیکھنے یا ان کی آواز سننے سے کسی فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو۔

دوم یہ کہ آلۂ غنا میں کوئی عارض ہو ، یعنی ایسے آلات ہوں جو مے خواروں یا مخنثوں کے شعار ہوں۔

سوم یہ کہ کلام میں کوئی عارض ہو، یعنی ایسی شاعری ہو جو فحش مضامین کی حامل ہو یا کسی کی ہجو کی گئی ہو یا جس میںاللہ تعالیٰ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ پر جھوٹ باندھا گیا ہو۔

چہارم یہ کہ سننے والے میں کوئی عارض ہو، یعنی وہ عنفوان شباب میں ہو اور ضبط نفس سے محروم ہو۔

پنجم یہ کہ کوئی عام آدمی اس کو شب و روز کی عادت بنا لے۔ ''(۲؍۲۸۱)

۲۲؎ تفسیر طبری۲۱/ ۷۲ ۔

۲۳؎ ابن کثیر ۳؍ ۴۴۲۔

۲۴؎ ابن کثیر۳؍۴۴۲۔

۲۵؎ تفسیر طبری ۲۱ ؍ ۷۴۔

۲۶؎ ابن کثیر۳/ ۴۴۲۔

۲۷؎ ۵/ ۴۲۱۔

۲۸؎ ۳/ ۱۷۴۔

۲۹؎ تفسیر عثمانی ، تفسیر سورۂ لقمان فائدہ : ۳۔

۳۰؎ ۴/ ۸۔

۳۱؎ تفسیر طبری ۲۷۔ ۲۸ / ۹۶ ۔ ۹۷۔

۳۲؎ تفسیر طبری ۲۷ ۔ ۲۸ /۹۷۔

۳۳؎ تفسیر طبری ۲۷ ۔ ۲۸/ ۹۷۔

۳۴؎ تفسیر طبری ۱۵/ ۱۳۶۔

۳۵؎ تفسیر طبری ۱۵/ ۱۳۶۔

۳۶؎ ۳/ ۴۹۔

۳۷؎ تفسیر طبری ۱۵/ ۱۳۶۔

۳۸؎ صاحب ''معارف القرآن'' مولانا مفتی محمد شفیع ''اسلام اور موسیقی'' کے مولف ہیں ۔ اس تالیف میں انھوں نے مذکورہ آیت کو غنا کی حرمت کے لیے بطور دلیل پیش کیا ہے ۔

۳۹؎ طبری۱۹/ ۵۸، ابن کثیر۳/ ۳۲۸۔۳۲۹۔

۴۰؎ احکام القرآن۵/ ۲۱۳۔

۴۱؎ طبری۱۹/ ۵۸۔

۴۲؎ طبری۱۹/ ۵۸۔

۴۳؎ الکشاف۳/ ۳۰۱، التفسیر الکبیر۲۴/ ۱۱۳، روح المعانی ۱۹/ ۵۱ ۔

۴۴؎ روایت کے اعتبار سے یہ علم حدیث کی بنیادی اصطلاحات ہیں ۔ ' صحیح' سے مراد وہ حدیث ہے جو ' مسند' ہو یعنی اپنے راوی سے لے کر آخر تک مربوط و متصل ہو اور اس میں کوئی کڑی ٹوٹی ہوئی نہ ہو؛ وہ 'شاذ' بھی نہ ہو یعنی اس میں کوئی ثقہ راوی اپنے سے زیادہ ثقہ راوی کی مخالفت نہ کرتا ہو؛ وہ 'معلل' بھی نہ ہو یعنی اس میں کوئی ایسی علت قادحہ نہ پائی جاتی ہو جس سے حدیث کی صحت مخدوش ہو جاتی ہے اور اس کے تمام راوی ضابط اور عادل ہوں یعنی حافظے میں نہایت قوی ہوں اور فرائض دینی بجا لانے والے اور منکرات و فواحش سے گریزاں رہنے والے ہوں ۔

'حسن' سے مراد وہ حدیث ہے جس کی سند متصل ہو ، جو شاذ اور معلل بھی نہ ہو اور جس کا راوی عادل تو ہو ، مگر اس کے ضبط میں کمی ہو یعنی حافظے کے اعتبار سے قوی نہ ہوں ۔ گویا 'صحیح' اور 'حسن' میں فرق راوی کے ضبط کے قوی اور کمزور ہونے کا ہے ۔

'ضعیف' سے مراد وہ حدیث ہے جس میں'صحیح' اور 'حسن' کی صفات نہ پائی جاتی ہوں ۔

۴۵؎ ص ۶۸۔

۴۶ ؎ صحابۂ کرام کی عدالت ،البتہ اس سے مستثنیٰ ہے ،اس لیے کہ اس کی گواہی خود اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ ملاحظہ ہو: البقرہ ۲: ۱۴۳،آلِ عمران ۳ :۱۱۰ ،الحج ۲۲ :۷۸۔

۴۷؎ بخاری کی مذکورہ روایت پر اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں۔ ابن حزم اس روایت کے بارے میں اپنی کتاب ''المحلی'' میں لکھتے ہیں:

ھذا منقطع و لم یتصل ما بین البخاری وصدقۃ بن خالد.

''یہ حدیث منقطع ہے اور بخاری اور صدقہ بن خالد کے مابین اتصال نہیں ہے۔''(۹/ ۵۹)

اس کے برعکس بعض علما مثلاً ابن حجر عسقلانی اور ابن قیم جوزی ابن حزم کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح متصل ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اسے 'صحیح' قرار دیا ہیـ ۔

۴۸ ؎ بنی اسرائیل میں ہے:

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنیٰٓ اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَسَآئَ سَبِیْلًا. (۱۷: ۳۲)

''اور زنا کے پاس بھی نہ پھٹکو، کیونکہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی اور نہایت بری راہ ہے۔''

۴۹؎؎ سورۂ مائدہ میں ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ . (۵: ۹۰)

''ایمان والو ،یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، سب گندے شیطانی کام ہیں، اس لیے ان سے الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

ابو داؤد میں سیدناابن عمر کی روایت نقل ہوئی ہے:

قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن اللّٰہ الخمر وشاربھا وساقیھا وبائعھا وعاصرھا ومعتصرھا وحاملھا والمحمولۃ الیہ.(ابوداؤد، رقم ۳۶۷۴)

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے، اس کے پلانے والے، بیچنے والے، خریدنے والے، کشید کرنے والے، کشید کرانے والے اور ڈھو کر لے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کر لے جائی گئی ہو۔''

۵۰؎ فاطر ۳۵: ۳۳۔ الدھر ۷۶: ۱۲۔

۵۱؎ ابن ماجہ ، رقم ۳۶۰۵۔ بخاری ، رقم ۵۵۴۶۔

ریشم چونکہ بہت قیمتی ہوتا تھا، اس لیے اس کا بے جا استعمال اسراف تھا۔ بادشاہ اور امرا اسے اپنے کروفر کے اظہار کے لیے پہنتے تھے، اس لیے اس پہلو سے اس کا پہننا تکبر کے زمرے میں شمار ہوتاتھا ۔ چنانچہ ریشم کی شناعت کے وجوہ اصل میں اسراف اور تکبر ہیں۔ یہ اگر ریشم کے ساتھ وابستہ نہیں رہتے تو وہ ہر لحاظ سے حلال ہے اور یہی اگر کسی اور لباس کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں تو وہ بھی کراہت کے دائرے میں آجائے گا۔

۵۲؎ ان روایتوںسے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ یہ درحقیقت قرب قیامت کی علامتوں کا بیان ہے ۔ اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اصلاً قرب قیامت کی نشانیوں کو بیان کر رہی ہیںنہ کہ ان کا اصل مقصود بعض اشیا کی حرمت واضح کرنا ہے۔ اس پہلو سے ان روایات پرمزید بحث ہو سکتی ہے، مگر چونکہ ان میں شراب اور آلات موسیقی کے باہم ذکر نے صورت واقعہ کو پوری طرح واضح کر دیا ہے، اس وجہ سے یہ بحث محض طوالت کا باعث ہو گی ۔