موسیقی کی حرمت کے استدلال کا جائزہ (حصہ دوم)


گھنٹی سے فرشتوں کی کراہت [۱]

۱

۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال الجرس مزامیر الشیطان.(ابوداؤد، رقم ۲۵۵۶)

۲۔ عن ابی ھریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تصحب الملائکۃ رفقۃ فیھا کلب ولاجرس.(ابوداؤد، رقم ۲۵۵۵)

۱۔''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گھنٹی شیطان کا ساز ہے ۔ ''

۲۔ ''ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے (مسافروں کی) اس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو یا کتا ہو۔'' ۵۳؂

ان روایتوں میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o گھنٹی شیطان کے سازوں میں سے ہے۔

o فرشتے مسافروں کی اس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو۔

o وہ اس جماعت کے ساتھ بھی نہیں ہوتے جس میں کتا ہو۔

الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ اس موضوع کی متعدد ر وایتیں حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں۔ ہمارے نزدیک حسب ذیل نکات کی بنا پران سے حرمت موسیقی پر استدلال درست نہیں ہے:

اولاً ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب میں' جرس' (گھنٹی) کو بالعموم آلات موسیقی میں شمار ہی نہیں کیا جاتاتھا۔ ''المفصل فی تاریخ العرب'' میں ڈاکٹر جواد علی نے 'آلات الطرب' کے زیر عنوان جہاں عرب کے آلات موسیقی کے بارے میں بیان کیا ہے،وہاں جرس کا کوئی حوالہ مذکور نہیں ہے:

وآلات الطرب عند العرب ثلاثۃ: آلات ذات اوتار کالعود وآلات نفخ، وآلات ضرب کالصنوج والطبل والدف. (۵/ ۱۰۸)

''عرب کے آلات موسیقی تین قسم کے تھے : ایک تار والے جیسا کہ ستار ، دوسرے پھونک سے بجانے والے اور تیسرے ضرب لگا کر بجانے والے جیسے ڈھول ، طبل اور دف وغیرہ ۔ ''

اس کے ذیل میں مصنف نے دف، بربط، صنج، ون، ونج، معزف،طبل، طنبور ، کوبہ، قنین، اور مزمار کا ذکر کیا ہے، مگر جلجل یا جرس کا ذکر نہیں کیا۔ تاہم برسبیل تنزل اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس سے مراد آلۂ موسیقی ہے، تب بھی روایات میں یہ جس طریقے سے مذکور ہے ، اس سے آلۂ موسیقی کا مفہوم کسی طور اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ روایتوں میں اس کا ذکر اونٹوں کے گلے میں لٹکائی جانے والی گھنٹی ہی کے حوالے سے آیا ہے:

عن ام سلمۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رای ابعرۃ فی بعضھا جرس فلما سمع صوتہ قال ما ھذا قال رجل ھذا الجلجل فقال رسول اللّٰہ وما الجلجل قال الجرس قال نعم فاذھب فاقطعہ ثم ارم بہ ففعل ثم رجع الرجل فقال یا رسول اللّٰہ ما لہ فقال رسول اللّٰہ ان الملائکۃ لا تصحب رفقۃ فیھا جرس. (المعجم الکبیر ، رقم ۱۰۰۱)

''ام سلمہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ اونٹ دیکھے ان میں سے بعض کے (گلے میں) گھنٹی تھی۔ جب آپ نے اس کی آواز سنی توپوچھا: یہ کیا ہے؟ ایک آدمی نے عرض کیا: یہ جلجل ہے۔ آپ نے پوچھا جلجل کیا ہے؟اس نے کہا: گھنٹی۔ آپ نے فرمایا:اچھا تم جاؤ اور اسے کاٹ کر پھینک دو۔ اس نے آپ کے ارشاد کی تعمیل کی۔ پھر اس آدمی نے واپس آ کر عرض کیا:یا رسول اللہ، یہ حکم آپ نے کس وجہ سے دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں گھنٹی ہو ، فرشتے اس کے ہم راہ نہیں ہوتے۔''

عن خالد بن معدان قال مروا علی النبی بناقۃ فی عنقھا جرس فقال ھذہ مطیۃ شیطان.(ابن ابی شیبہ ،رقم ۳۲۵۹۹)

''خالد بن معدان بیان کرتے ہیں: (کسی سفر کے دوران میں) کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے ایک ایسی اونٹنی کے ساتھ گزرے جس کی گردن میں گھنٹی تھی۔ آپ نے فرمایا: یہ شیطان کی سواری ہے۔''

اس تناظر میں دیکھا جائے تویہ درحقیقت اس گھنٹی کا بیان ہے جو اونٹوں یا دوسرے جانوروں کے گلے میں لٹکائی جاتی تھی۔جانوروں کی گردنوں میں گھنٹی باندھنے کا مقصدانھیں آراستہ کرنا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راعی یا ساربان اپنے جانوروں سے باخبر رہیں اور اگر وہ کہیں کھو جائیں تو اس کی آواز کے ذریعے سے انھیں ڈھونڈنے میں مدد مل سکے ،مگر یہ بہرحال نہیں ہو سکتا کہ اس سے موسیقی کا حظ اٹھایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل آلات موسیقی بھی اسی صورت میں موثر ہوتے ہیں جب انھیں خاص ترتیب سے بجایا جائے ۔ یہ ترتیب ہی انھیں زمرۂ موسیقی میں داخل کرتی ہے۔ اناڑی کا بے تال انداز سے طبلے کوبجانا موسیقی نہیں ہے اور ماہر فن کاتال کے ساتھ تختے کو بجانا بھی موسیقی ہے۔ چنانچہ یہ بات قطعی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ روایت میں 'جرس' کا ذکر آلۂ موسیقی کے طور پر نہیں آیا ہے ،اس لیے اس کی بنا پر آلات موسیقی کے بارے میں کوئی حکم اخذ کرنا ہر گز درست نہیں ہے۔

ثانیاً، ان روایتوں میں فرشتوں کے حوالے سے صرف گھنٹی ہی کی کراہت مذکور نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ کتے کی کراہت کا ذکر بھی ہے۔ اس کے برعکس متعدد روایات میں نہ صرف کتا رکھنے، بلکہ اس کا پکڑا ہوا شکار کھانے کی اجازت موجود ہے ۔ ۵۴؂ چنانچہ اس روایت سے حرمت کا مفہوم اخذ کرنے سے ظاہر ہے کہ روایتوں کے باہمی تناقض کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔

ثالثاً ، اگر اس روایت سے مجرد طور پر گھنٹی کی کراہت کا مفہوم اخذ کیا جائے تو یہ ان روایتوں سے متناقض قرار پائے گی جن کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نزول وحی کے وقت گھنٹیوں کی سی آواز محسوس ہوتی تھی۔ ۵۵؂

درج بالا نکات سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ گھنٹی کے بارے میں مسلم کی مذکورہ روایتوں سے موسیقی کی حرمت کا مفہوم اخذ کرنا درست نہیں ہے۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس شناعت کا کیا محل ہے جوگھنٹی کے حوالے سے ان روایتوں سے واضح ہوتی ہے؟ ہمارے نزدیک یہ ممانعت درحقیقت ان قافلوں کے حوالے سے ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں مختلف مقاصد کے تحت سفروں پر نکلتے تھے۔اس زمانے میں مسلمان پورے عرب سے برسرجنگ تھے۔ ان کے اطراف میں مشرکین ، یہود اور منافقین پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ہر وقت اس تاک میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح زک پہنچائی جائے۔جنگی قافلے کے لیے یہ صورت حال اور بھی نازک ہوتی تھی ۔ اس تناظر میں غالب امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں کسی جنگی کارروائی کو خفیہ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہوگاجو دشمن کو متوجہ کرنے کا باعث بن سکیں۔ کتوں کا شوروغل اور جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں دشمن کو باخبر کرنے کی صورت پیدا کر سکتی ہیں۔چنانچہ آپ نے کتوں کو ہم راہ نہ رکھنے ۵۶؂ اور گھنٹیوں کو اتارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ بعض روایتوں میں گھنٹی کی کراہت اسی پہلو سے معلوم ہوتی ہے:

عن عائشہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم امر بالاجراس ان تقطع من اعناق الابل یوم بدر.(احمد بن حنبل ، رقم ۲۵۲۰۷)

'' سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے دن یہ حکم دیا کہ اونٹوں کے گلوں سے گھنٹیاں کاٹ دی جائیں ۔ ''

عن معمر قال بلغنی ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نھی ان تجعل الجلاجل علی الخیل.(عبدالرزاق، رقم ۱۹۷۰۰)

''معمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کو گھنٹیاں باندھنے سے منع فرمایا۔''

عن عبد الاعلی بن عامر الاسلمی قال سمعت مکحولا یقول ان الملائکۃ تمسح دواب الغزاۃ الا دابۃ علیھا جرس.(ابن ابی شیبہ ، رقم ۳۲۵۹۸)

''عبد الاعلی بن عامر الاسلمی مکحول سے روایت کرتے ہیں: فرشتے غازیوں کے جانوروں پر ہاتھ پھیرتے ہیں ، سوائے ان جانوروں کے جن کے گلے میں گھنٹی ہو۔''

ہمارے نزدیک درج بالا روایت کی یہی تاویل زیادہ قرین قیاس ہے۔ صاحب ''لسان العرب'' نے 'جرس' کا مفہوم بیان کرتے ہوئے مذکورہ روایت نقل کی ہے اور اس کی یہی تاویل اختیار کی ہے:

والجرس: الذی یضرب بہ. وروی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم انہ قال: لا تصحب الملائکۃرفقۃ فیہا جرس. ھو الجلجل الذی یعلق علی الدواب. قیل: انما کرھہ لانہ یدل علی اصحابہ بصوتہ، وکان علیہ السلام یحب ان لا یعلم العدو بہ حتی یاتیھم فجاۃ. (۶/ ۳۶)

''گھنٹی وہ ہے جسے بجایا جاتا ہے ۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس قافلے میں گھنٹی ہو فرشتے اس کے ہم راہ نہیں ہوتے۔ یہ جلجل (چھوٹی گھنٹی) ہے جسے جانوروں کے گلے میں باندھا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ، کیونکہ یہ اپنی آواز کے ذریعے سے آپ کے ساتھیوں کا پتا دیتی تھی او ر آپ یہ پسند فرماتے تھے کہ دشمن ان کے بارے میں بے خبر رہیں، یہاں تک کہ وہ اچانک ان کے پاس پہنچ جائیں۔ '' ۵۷؂

اس موضوع کی احادیث و آثار کی تاویل امام سرخسی نے بھی اسی پہلو سے کی ہے ۔ ''شرح السیر الکبیر'' میں لکھتے ہیں :

وتاویل ہذہ الاثآر عندنا انہ کرہ اتخاذ الجرس للغزاۃ فی دار الحرب فانہم اذا قصدوا ان یبیتوا العدو علم بہم العدو بصوت الجرس فیبدرون بہم فاذا کانوا سریۃ علم بہم العدو فاتوہم فقتلوہم فالجرس فی ہذہ الحالۃ یدل المشرکین علی المسلمین فہو مکروہ .(۱/ ۸۷۔۸۸)

''ہمارے نزدیک ان روایات کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دارالحرب میں مجاہدین کے لیے گھنٹی کے استعمال کو ناپسند فرمایا ، کیونکہ اگر مجاہدین دشمن پر شب خون مارنا چاہتے ہیں تو گھنٹی کی آواز سے دشمن چوکنا ہو جائے گا اور مجاہدین پر پیشگی حملہ کر دے گا اور اگر لشکر جا رہا ہو تو دشمن گھنٹی کی آواز سے ان کا پتا چلا کر ان پر حملہ آور ہو گا اور انھیں قتل کر دے گا ۔ تو چونکہ اس صورت حال میں گھنٹی مشرکین کو مسلمانوں کے بارے میں باخبر کر دیتی ہے ، اس لیے اس کا استعمال ناپسندیدہ ہے ۔ ''

[۲]

عن عائشۃ قالت بینما ھی عندھا إذا دخل علیھا بجاریۃ و علیھا جلاجل یصوتن فقالت لا تدخلنھا علی الا ان تقطعوا جلاجلھا وقالت سمعت رسول اللّٰہ یقول لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ جرس.(ابو داؤد، رقم ۴۲۳۱)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھابیان کرتی ہیں: ایک لونڈی میرے پاس لائی گئی ۔ اس کے پاؤں میں جھنکار والے گھنگرو بندھے ہوئے تھے۔ سیدہ نے کہا : گھنگرو کاٹے بغیر اسے میرے پاس مت لاؤ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس گھر میں گھنٹی ہو ، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔'' ۵۸؂

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o سیدہ عائشہ کے پاس ایک ایسی لونڈی لائی گئی جس کے پاؤں میں گھنگروتھے۔

o انھوں نے فرمایا: گھنگرو کاٹے بغیر اسے میرے پاس مت لاؤ۔

o دلیل کے طور پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان فرمایا:''جس گھر میں گھنٹی ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔''

اس روایت کے دو اجزا ہیں ۔ پہلا جز سید ہ عائشہ کی طرف سے گھونگرو اتارنے کا حکم ہے ، اس بنا پر اس کی حیثیت اثر کی ہے۔ دوسرا جز سیدہ ہی کی سند سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے اور اس بنا پر اس کی حیثیت حدیث کی ہے۔

پہلے جز کے حوالے سے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ سیدہ کا گھنگرو اتارنے کا حکم دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان سے استنباط ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہے کہ کسی لونڈی کے پاؤں میں گھنگرو دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اتارنے کا حکم دیا ہو اور اس موقع پر یہ فرمایا ہو کہ جس گھر میں گھنٹی ہو،وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے، بلکہ یہ اقدام سیدہ عائشہ نے کیا ہے اوراس کی دلیل کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ ارشاد بیان کیا ہے۔

روایت کا دوسرا جز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر مبنی ہے:''جس گھر میں گھنٹی ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔''

اوپر گھنٹی ہی کی روایات کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گھنٹی کی کراہت کا بیان کسی خاص موقع یااس کے استعمال کی کسی خاص صورت کے حوالے سے ہے۔۵۹؂ اب سوال یہ باقی رہتا ہے کہ اگر یہ ارشاد عام نہیں ہے تو پھر اس کی تخصیص کس پہلو سے ہے۔ اس ضمن میں ہمارے نزیک یہ بات بھی محل غور ہو سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد اور سیدہ عائشہ کے اقدام کو دو الگ الگ واقعات کے طور پر لیا جائے اور ان کے یک جا ہونے کو راوی کے سہو پر محمول کیا جائے ۔ اس صورت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب جملے کوعربوں کے مشرکانہ مراسم میں گھنٹی کے استعمال کے تناظر میں دیکھا جا سکتااور انھی باتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جوشرک کی شناعت کے حوالے سے آپ نے ارشاد فرمائیں۔ گھنگروکاٹ دینے کے حکم کے بارے میںیہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ انھیں چونکہ پیشہ ور مغنیات استعمال کرتی تھیں، اس لیے سیدہ نے ان سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس موضوع کی دوسری روایتیں مذکورہ روایت کو اسی زاویے سے سمجھنے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ۔ چنانچہ مصنف عبد الرزاق میں یہی واقعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جملے کے بغیر نقل ہوا ہے:

یحدث ھشام بن عروۃ قال دخلت جاریۃ علی عائشۃ وفی رجلھا جلاجل فی الخلخال فقالت عائشۃ اخرجوا عنی مفرقۃ الملائکۃ. (عبدالرزاق، رقم۱۹۶۹۹)

''ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس ایک لونڈی آئی۔ اس کے پاؤں کی پازیب میں گھنگرو لگے ہوئے تھے۔ سیدہ عائشہ نے فرمایا: اس فرشتوں کو ہٹانے والی کو مجھ سے دور کرو۔'' ۶۰؂

طبل کی حرمت

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: ان اللّٰہ حرم علی اوحرم الخمر والمیسر والکوبۃ وکل مسکر حرام. (ابو داؤد، رقم۳۶۹۶)

''حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ نے شراب، جوئے اورکوبہ کو حرام ٹھہرایا ہے۔ اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔'' ۶۱؂

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o اللہ تعالیٰ نے شراب کو حرام ٹھہرایا ہے۔

o اللہ تعالیٰ نے جوئے کو حرام قرار دیا ہے۔

o اللہ تعالیٰ نے کوبہ کو حرام قرار دیا ہے۔

o ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

شراب اور جوئے کی حرمت کے بارے میں قرآن مجید بالکل صریح ہے۔ ۶۲؂

جہاں تک کوبہ کا تعلق ہے تو لغات میں اس کے حسب ذیل معنی نقل ہوئے ہیں:

۱۔ طبل یا بربط

۲۔ نرد ۶۳؂

صاحب ''لسان العرب'' نے لکھا ہے:

الکوبۃ: الطبل و النرد ، وفی الصحاح : الطبل الصغیر المخصر. قال ابو عبید : اما الکوبۃ ، فان محمد بن کثیر اخبرنی ان الکوبۃ النرد فی کلام اھل الیمن ؛ وقال غیرہ، الکوبۃ: الطبل. و فی الحدیث: ان اللّٰہ حرم الخمر و الکوبۃ. قال ابن الاثیر : ھی النرد ؛ وقیل : الطبل ؛ وقیل : البربط. ( ۱/ ۷۲۹)

''کوبہ کے معنی طبل اور نرد کے ہیں ۔ صحاح میں اس کے معنی ہیں:چھوٹا اور باریک کمر والاطبل۔ ابوعبید کا کہنا ہے کہ محمد بن کثیر نے مجھے بتایا ہے کہ اہل یمن کے ہاں کوبہ سے مراد نرد ہے۔ ا س کے علاوہ (دوسرے لوگوں) نے اسے طبل کہا ہے ۔ حدیث میں ہے : اللہ نے شراب اور طبل حرام ٹھہرائے ہیں ۔ ابن اثیرنے کہا ہے کہ اس سے مراد نرد ہے اور اسے طبل اور بربط بھی کہا گیا ہے ۔ ''

بعض روایتوں میں بھی راویوں نے کوبہ کے یہ دونوں معنی نقل کیے ہیں:

اما الکوبۃ یعنی المذکورۃ فی خبر آخر مرفوع فان محمد بن کثیر اخبرنی ان الکوبۃ النرد فی کلام اھل الیمن وقال غیرہ الطبل.(سنن البیہقی الکبری ، رقم ۲۰۷۹۰)

''جہاں تک لفظ کوبہ کا تعلق ہے جس کا ذکر پیچھے مرفوع روایت میں ہوا ہے تواس کے بارے میں محمد بن کثیر نے مجھے بتایا ہے کہ کوبہ کو اہل یمن نرد کہتے ہیں اور باقی لوگوں نے اسے طبل کہا ہے۔''

اس سے واضح ہے کہ کوبہ کا لفظ طبل اور نرد کے دو معنوں کے لیے مستعمل ہے۔ عام طور پر اس سے طبل ہی مراد لیا گیا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ معنی لائق ترجیح نہیں ہیں۔ عقل و نقل کے قرائن کی رو سے نرد کا مفہوم زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔

اس پہلو سے دیکھا جائے تویہ روایت قرآن مجید کی ان آیات کی شرح ہے جو شراب اور جوئے کی حرمت بیان کرتی ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ یہاں کوبہ کالفظ 'الخمر والمیسر' کے الفاظ سے متصل ہو کر آیا ہے ۔ قرآن مجیدمیں میسر (جوا)کا ذکر جہاں بھی آیا ہے خمر(شراب) کے ساتھ آیا ہے۔ ۶۴؂ سورۂ مائدہ میں ارشاد فرمایا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.(۵: ۹۰)

''ایمان والو ،یہ شراب اور جوا اور تھان اور قسمت کے تیر، سب گندے شیطانی کام ہیں، اس لیے ان سے الگ رہو تاکہ تم فلاح پاؤ۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عربوں کے ہاں شراب اور جوا لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے ۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی لکھتے ہیں:

''جوئے کے بارے میں ایک دل چسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اسلام سے پہلے کے عرب معاشرے میں یہ امیروں کی طرف سے فیاضی کے اظہار کا ایک طریقہ اور غریبوں کی مدد کا ایک ذریعہ بھی تھا ۔ ان کے حوصلہ مند لوگوں میں یہ روایت تھی کہ جب سرما کا موسم آتا ،شمال کی ٹھنڈی ہوائیں چلتیں اور ملک میں قحط کی سی حالت پیدا ہو جاتی تو وہ مختلف جگہوں پر اکٹھے ہوتے ، شراب کے جام لنڈھاتے اور سرور و مستی کے عالم میں کسی کا اونٹ یا اونٹنی پکڑتے اور اسے ذبح کر دیتے ۔ پھر اس کا مالک جو کچھ اس کی قیمت مانگتا ، اسے دے دیتے اور اس کے گوشت پر جوا کھیلتے ۔اس طرح کے موقعوں پر غربا و فقرا پہلے سے جمع ہو جاتے تھے اور ان جوا کھیلنے والوں میں سے ہر شخص جتنا گوشت جیتتا جاتا ،ان میں لٹاتا جاتا ۔ عربِ جاہلی میں یہ بڑی عزت کی چیز تھی اور جو لوگ اس قسم کی تقریبات منعقد کرتے یا ان میں شامل ہوتے ، وہ بڑے فیاض سمجھے جاتے تھے اور شاعر ان کے جودوکرم کی داستانیں اپنے قصیدوں میں بیان کرتے تھے ۔ اس کے برعکس جو لوگ ان تقریبات سے الگ رہتے ، انھیں 'برم' کہا جاتا تھا جس کے معنی عربی زبان میں بخیل کے ہیں ۔ ''(میزان ۱۵۱)

جوئے کی جو صورتیں روایات سے معلوم ہوتی ہیں ، ان میں نرد کا کھیل نمایاں ہے۔بعض روایتوں میں نرد کو جوئے ہی کی ایک شکل کے طور پر بیان کیا گیا ہے:

عن زبید بن الصلت انہ سمع عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ وھو علی المنبر یقول یا أیھا الناس ایاکم والمیسر یرید النرد فانھا قد ذکرت لی انھا فی بیوت ناس منکم فمن کانت فی بیتہ فلیحرقھا اوفلیکسرھا قال عثمان رضی اللّٰہ عنہ مرۃ اخری وھو علی المنبر یا ایھا الناس انی قد کلمتکم فی ھذا النرد ولم ارکم اخرجتموھا ولقد ھممت ان آمر بحزم الحطب ثم ارسل الی بیوت الذین ھی فی بیوتھم فاحرقھا علیھم.(سنن البیہقی الکبری ، رقم ۲۰۷۴۵)

''زبید بن صلت سے روایت ہے: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ اعلان کیا: لوگو، جوئے سے بچو۔ اس سے ان کی مراد نرد تھی ، اس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ تم میں سے بعض لوگوں کے گھروں میں ہے ۔ جس کے گھر میں وہ موجود ہے، اسے چاہیے کہ اسے جلا دے یا توڑ ڈالے۔اس کے بعد حضرت عثمان نے دوبارہ منبر پر چڑھ کر اعلان کیا :لوگو،میں نے تم سے نرد کے بارے میں بات کی تھی۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے ابھی تک اسے اپنے گھروں سے نہیں نکالا۔اب میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں لکڑیوں کے گٹھے ان لوگوں کے گھروں میں بھیجوں گا جن کے گھر میں یہ (نرد) ہے اور پھر حکم دوں گا کہ گھروں کو جلا دیا جائے۔''

عن نافع ان عبد اللّٰہ بن عمر کان یقول النرد ھی المیسر.(سنن البیہقی الکبری ، رقم ۲۰۷۴۶)

''نافع سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نرد کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ جوا ہے۔''

عن جعفر عن ابیہ قال قال علی النرد او شطرنج من المیسر.(ابن ابی شیبہ ، رقم ۲۶۱۵۰)

''جعفر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نرد یا شطرنج جوئے میں سے ہے۔''

ان روایتوں سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نردکا کھیل جوئے کے ساتھ مخصوص ہو چکا تھا۔ اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نرد کھیلنے کو اللہ کی نافرمانی سے تعبیر کیا:

عن ابی موسیٰ الاشعری ان رسول اللّٰہ قال من لعب بالنرد فقد عصی اللّٰہ ورسولہ.(ابو داؤد، رقم ۴۹۳۸)

''ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو نرد سے کھیلا ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔''

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذکورہ روایت میں کوبہ سے نرد مراد لینا زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس کی حرمت کا سبب اس کا جوئے کے لیے استعمال ہونا ہے۔

اس قوی رجحان کے باوجود اس امکان کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ یہاں کوبہ سے مراد طبل ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب اور جوئے کی انھی مجالس میں کیف و سرور کو بڑھانے کے لیے مغنیات اور ان کے ساتھ دف، طبل اور دیگر آلات موسیقی بھی فراہم رہتے تھے۔ تاہم اس امکان کو ماننے کے باوجود ہمارے اصل استدلال میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا، کیونکہ اگر دف کا جواز موجود ہے جو طبل ہی کی طرح بجانے کا آلۂ موسیقی ہے تو طبل کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ یہ عین ممکن ہے کہ اس کے جوئے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو۔ ۶۵؂

بانسری کی حرمت

عن نافع قال سمع ابن عمر مزمارا فوضع اصبعیہ علی اذنیہ و نای عن الطریق وقال لی: یا نافع ھل تسمع شیا؟ قال فقلت: لا. قال فوضع اصبعیہ من اذنیہ. وقال: کنت مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فسمع مثل ھذا فصنع مثل ھذا. (ابوداؤد ، رقم۴۹۲۴)

''حضرت نافع بیان کرتے ہیں:ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے (سر راہ) بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں پر انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے دور ہو گئے ۔ پھر انھوں نے مجھ سے پوچھا: نافع تمھیں کوئی آواز آ رہی ہے ؟ میں نے کہا :نہیں۔ انھوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں اٹھا لیں۔ پھر انھوں نے کہا: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ تھاتو آپ نے بانسری کی آواز سن کر ایساہی کیا تھا۔ '' ۶۶؂

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے راہ چلتے ہوئے بانسری کی آواز سن کر کان بندکر لیے ۔

oاس کے ساتھ انھوں نے راستہ بھی تبدیل کر لیا۔

oحضرت نافع بانسری کی آواز سنتے رہے۔

oابن عمر رضی اللہ عنہ نے کانوں سے ہاتھ اس وقت تک نہیں اٹھائے ، جب تک حضرت نافع نے انھیں بانسری کی آوازبند ہونے سے باخبر نہیں کر دیا۔

oاس موقع پر انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنا مشاہدہ بیان کیا کہ حضور نے بھی چرواہے کی بانسری کی آواز سن کرایسا ہی کیا تھا یعنی کانوں پر ہاتھ رکھ لیے تھے۔

اس روایت سے بھی موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا جاتا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ استدلال حسب ذیل پہلووں سے محل نظر ہے۔

ایک یہ کہ حضرت ابن عمر نے خو د کان بند کر لیے اور اپنے ہم راہی کو کان بند کرنے کے لیے نہیں کہا۔ صحابی رسول سے اس بات کی توقع محال ہے کہ وہ حرمت کے درجے کی چیز سے خود تو محفوظ ہو جائیں اور اپنے ساتھی کو اس کی ترغیب نہ دیں ۔

دوسرے یہ کہ انھوں نے نہ صرف حضرت نافع کو اس کی ترغیب نہیں دی، بلکہ عملاً انھیں اس کام پر مامور کر دیا کہ وہ بانسری کی آواز سنتے رہیں اور بند ہونے پر انھیں اس سے آگاہ کریں۔

تیسرے یہ کہ سیدنا ابن عمر نے اس موقع پر بانسری کی حرمت یا کراہت کے حوالے سے کوئی الفاظ نہیں کہے۔

چوتھے یہ کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اپنا ایک مشاہدہ نقل کیا ہے ۔ اس ضمن میں آپ کے حوالے سے نہ کراہت کا تاثر بیان کیا ہے اور نہ حرمت یا شناعت کا کوئی جملہ ہی آپ سے منسوب کیا ہے۔

چنانچہ اس روایت کی بنا پر اس امکان کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کی پیروی میں حضرت ابن عمر نے اظہار کراہت ہی کے لیے کانوں پر ہاتھ رکھے ہوں گے ، لیکن اس سے حرمت کا یقینی حکم اخذ کرنا روایت کے اسلوب بیان اور الفاظ سے تجاوز ہے۔

بانسری کی آواز سن کر کانوں پرہاتھ رکھنے کی ممکنہ وجوہ حسب ذیل ہو سکتی ہیں:

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ذاتی طور پربانسری ناپسند تھی۔ ۶۷؂

۲۔ اس کی آواز اس قدر قریب سے آئی کہ آپ کو الجھن محسوس ہوئی۔

۳۔ بجانے والے نے اسے بے ہنگم طریقے سے بجایا ۔

۴۔ اس نے کوئی ایسی دھن اختیار کی جوشرک کے حوالے سے معروف تھی ۔

۵۔ اس نے کوئی ایسی دھن اختیار کی جو فحش علائق رکھتی تھی ۔

۶۔ نبی کریم اس وقت کسی بات پر غور فرما رہے تھے۔

۷۔ آپ عبادت میں مشغول تھے۔

۸۔ آپ پر اس وقت وحی نازل ہو رہی تھی۔

۹۔ آپ بانسری کی آواز کو شرعی طور پر مکروہ سمجھتے تھے ۔

۱۰۔ آپ اسے شرعی طور پر علی الاطلاق حرام سمجھتے تھے۔

۱۱۔ آپ اس کی بعض مخصوص صورتوں کوحرام سمجھتے تھے۔

اس تفصیل سے فقط یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ چونکہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی نہ علت بیان ہوئی ہے اور نہ حرمت کے الفاظ نقل ہوئے ہیں، اس لیے اس سے حرمت کا یقینی مفہوم اخذ کرنا قطعاً درست نہیں ہے ۔

ضعیف روایات

ضعیف روایات حسب ذیل ہیں:

مزامیر کو مٹانے کا حکم

عن ابی امامۃ عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: قال ان اللّٰہ عز وجل بعثنی رحمۃ وھدی للعالمین وامرنی ان امحق المزامیر والکفارات یعنی البرابط والمعازف والاوثان التی کانت تعبد فی الجاھلیۃ وأقسم ربی عزوجل بعزتہ لا یشرب عبد من عبیدی جرعۃ من خمر ... ولایحل بیعھن ولا شراؤھن ولا تعلیمھن ولا تجارۃ فیھن واثمانھن حرام للمغنیات. (احمد بن حنبل ، رقم ۲۲۲۷۲)

'' ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے دونوں جہانوں کے لیے رحمت اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے اور مجھے مزامیر اور کفارات یعنی بربط اور باجوں اور ان بتوں کومٹانے کاحکم دیا ہے جن کی زمانۂ جاہلیت میں پرستش کی جاتی تھی ۔ اور میرے پروردگار نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ میرے بندوں میں سے کوئی شراب کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیتا، ... گانے والیوں کی خرید و فروخت، تعلیم، نفع اور تجارت حلال نہیں ہے۔''

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ چیزیں ختم کرنے کا حکم دیا:

مزامیرو کفارات یعنی آلات موسیقی

بت

جاہلیت کے کام

o اللہ کا بندہ شراب کا ایک گھونٹ بھی نہیں پیتا۔

o گانے والیوں کی خرید و فروخت، مخصوص تربیت، ان کی اجرت اور تجارت حرام ہے۔

محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ابن حجر کے مطابق محدثین نے اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف کہا ہے:

قال یعقوب علی بن یزید واھی الحدیث کثیر المنکرات.(تہذیب التہذیب۵/۷۵۴)

''یعقوب نے کہا ہے کہ علی بن یزید کی حدیث ناقابل اعتبار ہے ، وہ اکثر منکر حدیثیں بیان کرتا ہے۔''

امام بخاری ، ترمذی اور نسائی نے بھی اسے ضعیف اورغیر ثقہ قرار دیا ہے ۔ ۶۸؂

ابن حجر کہتے ہیں :''یہ روایت ضعیف ہے۔'' ۶۹؂

اس کے ایک اور راوی فرج بن فضالہ کو بھی محدثین نے ضعیف کہا ہے:

قال ابن خیثمۃ عن ابن معین ضعیف الحدیث.(تہذیب التہذیب ۶/ ۳۸۵)

''ابن خیثمہ نے ابن معین کا قول بیان کیا کہ وہ اسے ضعیف الحدیث کہتے ہیں ۔ ''

قال البخاری و مسلم منکر الحدیث.و قال النسائی: ضعیف.(تہذیب التہذیب ۶/ ۳۸۵)

''بخاری و مسلم نے اسے منکر الحدیث کہا ہے۔ نسائی نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے ۔ ''

اس کے ایک راوی عبید اللہ بن زجرمحدثین کے نزدیک منکر الحدیث ہیں۔ نیل الاوطار میں ہے :

قال ابو مسھر انہ صاحب کل معضلۃ وقال بن معین ضعیف وقال مرۃ لیس بشی و قال ابن المدینی منکر الحدیث وقال الدار قطنی لیس بالقوی وقال ابن حبان روی موضوعات عن الاثبات واذا روی عن علی بن یزید اتی بالطامات.( ۸/ ۹۹۔۱۰۰)

''ابو مسہر نے کہا ہے کہ ہر قسم کی پیچیدگیاں اور مشکلات اس کی روایتوں میں پائی جاتی ہیں۔ ابن معین نے کہا ہے کہ وہ ضعیف ہے اور ایک مرتبہ کہا کہ وہ کوئی چیز نہیں ۔ ابن المدینی اسے منکر الحدیث کہتے ہیں ۔ دارقطنی نے کہا ہے کہ وہ قوی نہیں اور ابن حبان نے کہا ہے کہ وہ ثقہ آدمیوں کا نام لے کر موضوع ۷۰؂ حدیثیں روایت کرتا تھا اور جب وہ علی بن یزید سے روایت کرتا تھا تو وہ اور زیادہ موضوع ہوتی تھیں۔''

ابن حزم نے اس کے ایک راوی قاسم کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ۷۱؂

اس تفصیل سے واضح ہے کہ اس روایت سے استدلال کسی لحاظ سے موزوں نہیں ہے، تاہم جہاں تک اس کے معنی و مفہوم کا تعلق ہے تو ہمارے نزدیک شراب اور مغنیہ لونڈیوں کے ذکر کی وجہ سے اس میں وہی مفہوم نمایاں ہوتا ہے جو ترمذی کی روایت 'لاتبیعواالقینات' کے ذیل میں ہم آگے بیان کر رہے ہیں۔ یعنی یہاں مجرد طور پر آلات موسیقی کی شناعت بیان نہیں ہوئی، بلکہ یہ شراب نوشی اور فحاشی کے ساتھ مرکب ہے۔

مغنیات کی خرید و فروخت سے ممانعت

عن ابی امامۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تبیعوا القینات ولا تشتروھن ولاتعلموھن ولاخیر فی تجارۃ فیھن و ثمنھن حرام. (ترمذی ، رقم ۱۲۸۲)

''ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغنیات کی خرید و فروخت نہ کرو اور نہ انھیں (موسیقی کی) تربیت دو۔ ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ان کی قیمت لینا حرام ہے ۔''

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مغنیات کی خرید و فروخت سے منع فرمایا۔

o آپ نے انھیں موسیقی کی تربیت دینے سے منع فرمایا۔

o آپ نے ان کی کمائی کو حرام قرار دیا۔

اس کے علاوہ یہ روایت احمد، بیہقی، ابن ماجہ اور طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام ترمذی نے اسی روایت کے تحت اس کے ایک راوی علی بن یزید کو ضعیف قرار دیا ہے۔ امام بخاری نے اسے 'ذاھب' یعنی بھولنے والا کہا ہے۔ ۷۲؂ ابن حزم نے اس کے راوی اسماعیل بن عیاش کو متروک اور علی بن یزید اور قاسم بن عبد الرحمن کو ضعیف قرار دیا ہے۔ ۷۳؂

علامہ ناصر الدین البانی اس کے ان طرق کو تو ضعیف کے زمرے میں شامل کرتے ہیں جن کی سند میں علی بن یزید موجود ہے ، البتہ طبرانی کی معجم الکبیر میں نقل ایک طریق رقم ۷۷۹۴ کو حسن قرار دیتے ہیں ۔ اس طریق میں علی بن یزید کے بجائے الولید بن الولید ہے ۔ جوابن ابی حاتم کے قول کے مطابق ثقہ ہے ۔ اسی بنا پر انھوں نے ترمذی کی مذکورہ روایت کو اپنی تالیف ''الاحادیث الصحیحہ'' میں شامل کیا ہے ۔ ۷۴؂ ان کی رائے کی روشنی میں اگر اس روایت کو قبول کیا جائے تو اس کے مفہوم کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہاں ' قینات' سے مراد وہ لونڈیاں ہیں جنھوں نے موسیقی کو پیشے کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ 'بیع و شراء' اور 'تجارۃ' کے الفاظ سے واضح ہے کہ اس سے مراد عام آزاد خواتین ہر گز نہیں ہیں۔ اس زمانے کے عرب تمدن کا مطالعہ کیجیے تو معلوم ہوتاہے کہ لونڈیوں کا گانا، بالعموم شراب اور فحاشی کی مجالس سے منسلک تھا۔ عرب کے عیش پرست لوگ اکثر رقص و سرود اور شراب نوشی کی محفلیں سجائے رکھتے تھے۔ ان مجالس میں قینات رقص پیش کرتی، گانے گاتی اور شراب کے جام لنڈھاتی تھیں۔ گویا ان محفلوں کی نوعیت کم و بیش وہی تھی جو ہندوستانی معاشرت میں طوائفوں کی محفلوں کی رہی ہے۔ ان محفلوں میں ظاہر ہے کہ اس بات کا پورا امکان ہوتا تھا کہ معاملہ ناچ گانے اور شراب سے شروع ہو اور بدکاری تک جا پہنچے۔ بہرحال، اس صورت حال کا نتیجہ یہ تھاکہ قحبہ گری کا پیشہ انھی مغنیہ لونڈیوں سے وابستہ ہو گیا تھا۔ یہ لونڈیاں ان ذرائع سے خود بھی کسب معاش کرتی تھیں اور ان کے مالک بھی انھیں اس مقصد کے لیے استعمال کرتے تھے۔اس پس منظر کی وجہ سے ہمارے نزدیک مذکورہ روایت میں جن 'قینات' سے روکا گیا ہے، وہ وہی لونڈیاں ہیں جن کا وجود معاشرے میں فواحش کو پھیلانے کا باعث تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے معروف کاموںیا معروف ناموں کے حوالے سے ان کی مذمت فرمائی۔ اس ضمن میں آپ نے ان سے معاملہ کرنے ،ان کو مخصوص تربیت دلانے ، ان کی تجارت کرنے غرض یہ کہ ان سے متعلق اس نوعیت کے ہر معاملے سے منع فرمایا۔ روایات میں 'ثمن القینۃ سحت'، 'نھی عن کسب الامۃ' ،'نھی عن مھرالبغی' ، ' نھی عن المغنیات ، شراءھن وبیعھن'،' کسب الزانیۃ حرام' اور 'کسب الزانیۃ سحت ' کے اسالیب یہی مدعا بیان کرتے ہیں:

عن ابی مسعود انصاری رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب ومھر البغی وحلوان الکاہن.(بخاری، رقم۲۱۲۲)

''ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت ، فاحشہ کی خرچی اور نجومی کی اجرت سے منع فرمایا ہے۔''

عن عمر رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ قال ثمن القینۃ سحت وغناء ھا حرام والنظر الیھا حرام و ثمنھا مثل ثمن الکلب و ثمن الکلبسحت ومن نبت لحمہ علی السحت فالنار اولیٰ بہ.(المعجم الکبیر، رقم ۸۷)

''سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ گانے والی کی اجرت حرام ہے اور اس کا گانا اور اس کی طرف دیکھنا بھی حرام ہے۔ اس کی اجرت لینا اسی طرح حرام ہے جس طرح کتے کی قیمت لینا اور جو جسم حرام کمائی سے نشوونماپاتا ہے، اس کے لیے دوزخ کی آگ زیادہ بہتر ہے۔''

عن رافع بن رفاعۃ لقد نھانا نبی اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الیوم فذکر اشیاء ونھی عن کسب الامۃ الا ما عملت بیدھا وقال ھکذا باصابعہ نحو الخبز والغزل والنفش.(ابوداؤد ،رقم ۳۴۲۶)

''رافع بن رفاعہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لونڈی کی کمائی سے منع کیا، بجز اس کے جو وہ ہاتھ کی محنت سے حاصل کرے۔ اور آپ نے ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ یوں جیسے روٹی پکانا، سوت کاتنا یا اون اور روئی دھنکنا۔''

عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال نھی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن المغنیات والنواحات وعن شراءھن وبیعھن والتجارۃ فیھن قال وکسبھن حرام.(ابو یعلیٰ، رقم ۵۲۷)

''سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گانے والیوں اور نوحہ کرنے والیوں سے منع فرمایا ہے اور ان کی خرید و فروخت اور تجارت سے روکا ہے اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ان کی کمائی حرام ہے۔''

بہرحال 'لا تبیعوا القینات ' کی روایت اگر درست ہے تو ہمارے نزدیک یہ اور اس موضوع کی دوسری روایات قرآن مجید ہی کے حکم کی شرح ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَلاَتُکْرِھُوْا فَتَیٰتِکُمْ عَلَی الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَنْ یُّکْرِھْھُّنَّ فَاِنَّ اللّٰہَ مِنْ بَعْدِ اِکْرَاھِھِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (النور ۲۴: ۳۳)

''اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو ، جبکہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں ، اور جو کوئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد ان کے لیے اللہ تعالیٰ غفورو رحیم ہے ۔ ''

گانے کی احمقانہ آواز سے ممانعت

عن جابرعن عبدالرحمن بن عوف رضی اللّٰہ عنہ قال: اخذ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیدی . فانطلقت معہ الی ابراہیم ابنہ، وھو یجودبنفسہ، فاخذہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی حجرہ حتی خرجت نفسہ. قال فوضعہ وبکی، قال فقلت تبکی یا رسول اللّٰہ وانت تنھی عن البکاء؟ قال: انی لم انہ عن البکاء ولکنی نھیت عن صوتین احمقین فاجرین: صوت عند نغمۃ لھو و لعب ومزامیر الشیطان وصوت عند مصیبۃ لطم وجوہ وشق جیوب .(المستدرک علی الصحیحین، رقم ۶۸۲۵)

''جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ہم راہ آپ کے فرزند ابراہیم کی طرف چل دیا۔ وہ اس وقت حالت نزع میں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی گود میں اٹھا لیا، یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی۔پھر آپ نے انھیں اتارا اور رونے لگے۔ عبدالرحمن بن عوف کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی: آپ رو رہے ہیں، جبکہ آپ نے رونے سے منع فرمایا ہے! آپ نے فرمایا: میں نے رونے سے منع نہیں کیا، البتہ دو احمقانہ اور فاجرانہ آوازوں سے روکا ہے۔ ایک خوشی کے موقع پر لہو و لعب اور شیطانی باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان چاک کرنے کی آواز۔''

اس روایت میں حسب ذیل باتیں بیان ہوئی ہیں:

oنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشی کے موقع پرگانے بجانے سے منع فرمایا۔

oمصیبت کے وقت آپ نے نوحہ کرنے اور رونے پیٹنے سے منع فرمایا۔

یہ روایت سنن البیہقی الکبریٰ، شرح معانی الآثار اور مصنف ابن ابی شیبہ میں کم و بیش انھی الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ اس روایت کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔امام نووی نے اس کے ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کو ضعیف کہا ہے۔ ۷۵؂ کمال الدین اوفوی ابو لیلیٰ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

ان محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی قد انکر علیہ ھذا الحدیث وضعف لاجلہ وقال ابن حبان انہ کان ردی الحفظ کثیر الوھم فاحش الخطاء استحق الترک لو ترک احمد وقال انہ سیء الحفظ مضطرب الحدیث.(بحوالہ موسیقی کی شرعی حیثیت ۱۸)

''محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی اس روایت پر اعتراض کیا گیا ہے اور اس وجہ سے اسے ضعیف کہا گیا ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس کا حافظہ بہت ردی تھا، اسے وہم بہت ہوتا تھا اور وہ فاحش غلطیاں کرتا تھا۔ وہ اس کا مستحق ہے کہ اسے ترک کر دیا جائے، اسی لیے احمد بن حنبل نے اسے ترک کیا اور کہاکہ اس کا حافظہ ناقابل اعتبار ہے اور اس کی حدیثیں مضطرب ہوتی ہیں۔''

ہمارے نزدیک یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے لائق استدلال نہیں ہے۔ البتہ اس کا وہ طریق قابل اعتنا ہے جسے ترمذی نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے۔ جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں:

اخذ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بید عبدالرحمن بن عوف. فانطلق بہ الی ابنہ ابراہیم، فوجدہ یجودبنفسہ، فاخذہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فوضعہ فی حجرہ وبکی، فقال لہ عبدالرحمن: اتبکی اولم تکن نھیت عن البکاء؟ قال: لا ولکن نھیت عن صوتین احمقین فاجرین : صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب ورنۃ شیطان. (رقم۱۰۰۵)

'' نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اورانھیں اپنے فرزند ابراہیم کے پاس لے گئے۔ آپ نے انھیں حالت نزع میں پایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی گود میں اٹھا لیااور رونے لگے۔ عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا: آپ رو رہے ہیں، کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا ؟ آپ نے فرمایا: نہیں، میں نے تو دو احمق فاجر آوازوں سے منع کیا تھا:ایک مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے کی آواز اور دوسرے (نوحہ گری) کرتے ہوئے شیطان کی طرح چیخنے چلانے کی آواز۔''

اس طریق میں غنا یا لہوو لعب کا ذکر کسی پہلو سے موجود نہیں ہے۔ ۷۶؂ یہ روایت اگر درست ہے توہمارے نزدیک اس کا یہی طریق زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہاں نبی کریم نے آوازوں کے حسن و قبح کے بارے میں کسی مجرد سوال کا جواب نہیں دیا، بلکہ بیٹے کی وفات کے موقع پر اپنے رونے کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ دیکھیے عبدالرحمن بن عوف کا سوال ہی یہ ہے کہ آپ کیوں رو رہے ہیں، جبکہ آپ نے ایسے موقعوں پر رونے سے منع فرمایا ہے؟ اس کے جواب میں آپ نے یہ توضیح فرمائی ہے کہ میں نے آنسو بہانے سے نہیں روکا، یہ تو فطری امر ہے۔ میں نے تو جسم پیٹنے اورچیخنے چلانے سے منع کیا ہے۔ روایت کو اس زاویے سے سمجھا جائے تو اس سیاق و سباق میں گانے بجانے کا ذکر بالکل بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔

سازوں کا عام ہونا اور مصائب کا نزول

عن علی بن ابی طالب قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اذا فعلت امتی خمس عشرۃ خصلۃ حل بھا البلاء فقیل وماھن یا رسول اللّٰہ قال اذا کان... شربت الخمور ولبس الحریر واتخذت القینات والمعازف ولعن آخر ھذہ الامۃ اولھا فلیرتقبوا عند ذلک ریحا حمراء او خسفا و مسخا. (ترمذی ، رقم ۲۲۱۰)

''علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پیدا ہوں گی تو اس پر مصیبتیں نازل ہوں گی ۔سوال کیا گیا : یا رسول اللہ، یہ کون کون سی خصلتیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب ... شرابیں پی جائیں گی، ریشمی لباس پہنے جائیں گے،اور مغنیات اور ساز عام ہو جائیں گے اور آخری زمانے کے امتی پہلے زمانے کے امتیوں پر لعنت کریں گے۔ پس منتظر رہو اس وقت سرخ ہوا کے یا زمین میں دھنسنے کے اور شکلیں بگڑنے کے ۔ ''

اس روایت کو ترمذی نے غریب قرار دیا ہے۔ ابن حزم کے نزدیک یہ ضعیف ہے۔ المحلی میں اس کے راویوں کے بارے میں لکھتے ہیں:

لاحق بن الحسین و ضرار بن علی والحمصی مجھولون وفرج ابن فضالۃ حمصی متروک .(۹؍۵۶)

''(اس روایت کے راویوں میں سے) لاحق بن حسین، ضرار بن علی اور حمصی مجہول ہیں اور فرج بن فضالہ متروک ہیں۔''

علامہ ناصر الدین البانی کی تحقیق کے مطابق بھی یہ ضعیف روایت ہے۔ ۷۷؂

ہمارے نزدیک یہ روایت اسی مضمون کی حامل ہے جواوپر صحیح روایات کے ذیل میں بخاری ،رقم ۵۲۶۸ میں بیان ہوا ہے ۔ دونوں روایتوں میں خمر،حریر،معازف اور مسخ' کے الفاظ کا اشتراک اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔

گانے سے نفاق کی نشوو نما

قال ابو وائل: سمعت عبد اللّٰہ یقول سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول الغناء ینبت النفاق فی القلب. ( ابوداؤد، رقم۴۹۲۷)

'' ابووائل بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: گانا دل میں نفاق کو پروان چڑھاتا ہے ۔ ''

اس روایت میں بیان ہوا ہے کہ گانا انسان کے دل میں نفاق کی نشوونما کرتا ہے۔

محدثین کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے۔ سید مرتضی زبیدی نے احیاء العلوم کی شرح میں اس روایت کے بارے میں محدثین کی تنقیدات کو جمع کر دیا ہے۔ بیان کرتے ہیں:

''بعض لوگوں نے اس روایت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دیا ہے ، لیکن یہ غلط ہے۔ ابو داؤد نے جس سند سے یہ روایت بیان کی ہے ، اس میں ایک شخص ایسا بھی ہے جس کا نام تک نہیں لیا گیا۔ بیہقی نے اسے مرفوعاً اور موقوفاً روایت کیا ہے، یعنی ایک روایت میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول بتایا ہے اور دوسری روایت میں صحابی کا۔ میں کہتا ہوں کہ اسے مختلف طریقوں سے مرفوعاً روایت کیا گیا ہے، لیکن یہ تمام طریقے ضعیف ہیں۔ بیہقی کہتے ہیں کہ یہ ابن مسعود کا قول ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں۔ نیز اس کے طرق میں بعض راوی مجہول الحال ہیں۔ امام نووی کہتے ہیں کہ اس کے ضعف پر اتفاق ہے۔ زرکشی کا بھی یہی خیال ہے۔ ابن طاہر کہتے ہیں کہ اسے ثقہ لوگوں(شعبہ عن مغیرہ عن ابراہیم) نے روایت کیا ہے اور ابراہیم کے آگے کسی کا نام نہیں لیا۔ لہٰذا یہ ابراہیم کا قول ہے۔ ابن ابی الدنیا ملاہی کی مذمت کے سلسلہ میں اسی روایت کو نقل کر کے لکھتے ہیں کہ یہ ابراہیم کا قول نہیں، بلکہ بات یوں ہے کہ ابراہیم کہتے تھے کہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ: ''گانا دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔'' میں کہتا ہوں کہ یہ نہ تو ابراہیم کا قول ہے اور نہ کسی ایسے آدمی کا جس سے ابی الدنیا نے مرفوعاً روایت کیا ہو۔ ابن عدی اور دیلمی نے ابو ہریرہ سے اور بیہقی نے جابرسے یہ مضمون یوں روایت کیا ہے کہ گانا قلب میں اسی طرح نفاق پیدا کرتا ہے، جس طرح پانی کھیتی پیدا کرتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ روایت بھی ضعیف ہے، کیونکہ اس میں ایک راوی علی بن حماد ہے جسے دارقطنی نے متروک قرار دیا ہے۔ دوسرا راوی ابن ابی ردا ہے جسے ابو حاتم نے منکر الحدیث کہا ہے۔ ابن جنید کہتے ہیں کہ ابن ابی ردا تو ایک ٹکے کا بھی نہیں ہے اور ابراہیم بن طہانی مختلف فیہ ہے۔''(شرح احیاء علوم الدین ۶/ ۴۶۶)

علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے اور اسے اپنے مجموعہ ''ضعیف سنن ابی داؤد'' میں شامل کیا ہے۔ ۷۸؂

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ' الغناء ینبت النفاق فی القلب'(گانا دل میں نفاق کو پروان چڑھاتا ہے ۔) کے الفاظ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ غنا کا لفظ ذکر الٰہی کے تقابل میں آیا ہے ۔چنانچہ اس سے جو بات ماخوذ ہوتی ہے ، وہ اشتغال بالادنیٰ کے مقابل میں اشتغال بالاعلیٰ کی ترجیح ہے۔ گویا یہاں غنا کی شناعت بیان نہیں ہو رہی، بلکہ تلاوت قرآن کی ترغیب کو نمایاں کیا جا رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ موسیقی اگر لوگوں کا اوڑھنا بچھونا بن جائے تو اس طرح کی ہدایت دین کا عین تقاضا ہے۔ زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک نوجوان گیت گاتا ہوا گزرا توآپ نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا:

یاشاب ھلا بالقرآن تغنی؟(الدیلمی)

''اے نوجوان تو قرآن کو غنا سے کیوں نہیں پڑھ لیتا؟ ''

____________

۵۳؂ محدثین نے ان دونوں روایتوں کو 'صحیح' قرار دیا ہے ۔

۵۴؂

عن عدی بن حاتم قال قلت یا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إنی ارسل الکلاب المعلمۃ فیمسکن علي وأذکر اسم اللّٰہ علیہ فقال إذا أرسلت کلبک المعلم وذکرت اسم اللّٰہ علیہ فکل قلت وإن قتلن قال وإن قتلن ما لم یشرکہا کلب لیس معہا. (مسلم ، رقم۱۹۲۹)

''عدی بن حاتم بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:یا رسول اللہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں۔ وہ جا کر شکار کو تھام لیتے ہیں۔ میں اس پر اللہ کا نام لیتا ہوں۔آپ نے فرمایا: جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑواور اس پر اللہ کا نام لو تواس (شکار)کو کھا لو۔ میں نے سوال کیا:اگر چہ کتا شکار کو مار ڈالے ؟آپ نے فرمایا : چاہے مار ڈالے، البتہ کوئی ایسا کتا اس کے ساتھ شریک نہ ہو جو اس کے ساتھ چھوڑا نہ گیا ہو۔''

عن أبي ہریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بینما کلب یطیف برکیۃ قد کاد یقتلہ العطش إذ رأتہ بغي بني اسرائیل فنزعت موقہا فاستقت لہ بہ فسقتہ إیاہ فغفر لہا بہ. (مسلم ، رقم۲۲۴۵)

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک مرتبہ ایک کتا ایک کنوئیں کے گرد پھر رہا تھا۔ پیاس کی وجہ سے وہ مرنے کے قریب تھا۔ بنی اسرائیل کی ایک بدکار عورت نے دیکھا تو اپنا موزہ اتارکر اسے پانی پلایا۔ اللہ تعالیٰ نے اس نیکی کے بدلے میں اس کو بخش دیا۔''

۵۵؂ ہمارے نزدیک اس استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ یہ باور نہیں کیا جا سکتا کہ نزول قرآن کے موقع پر اللہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مکروہ آواز کا تاثر ہو۔ بخاری کی روایت ہے :

عن عائشۃ ام المومنین رضی اللّٰہ عنھا ان الحارث بن ہشام سأل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: یا رسول اللّٰہ کیف یاتیک الوحی؟ فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : یاتیني احیانا مثل صلصلۃ الجرس و ھو اشدہ علی فیفصم عنی وقد وعیت عنہ ما قال. (بخاری،رقم۲)

''ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا:یا رسول اللہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ آ پ نے فرمایا: کبھی تو ایسے آتی ہے جیسے گھنٹی کی جھنکار ہو اور وحی کی یہ صورت مجھ پر سب سے زیادہ گراں گزرتی ہے۔ پھر جب فرشتے کا کہا مجھے یاد ہو جاتا ہے تو یہ موقوف ہو جاتی ہے۔''

۵۶ ؂ بعض روایتوں میں کتوں کو مارنے کا حکم بھی غالباً اسی پہلو سے ہے۔

۵۷؂ گھنٹی اور کتے سے کراہت کی مذکورہ روایتوں کی اس کے علاوہ دو مزید توجیہات بھی ہو سکتی ہیں:

ایک یہ کہ یہ حکم حدود حرم سے متعلق ہے۔ اور اس کا سبب یہ ہے کہ گھنٹیوں اور کتوں کی آوازیں حج و عمرہ کے مراسم عبودیت میں خلل انداز ہو سکتی ہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج و عمرہ کے مقصد سے آنے والے قافلوں میں ان کے شمول کو پسند نہیں فرمایا۔

دوسرے یہ کہ اس سے مخصوص گھنٹیاں مراد ہیں جو مشرکانہ رسوم میں استعمال ہوتی تھیں اور کتوں کی بھی بعض اقسام ایسی تھیں جن کی عرب کے نواح میں پرستش کی جاتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اسی مشرکانہ پہلو کے پیش نظر ان کی ممانعت فرمائی۔ مولانا عبدالماجد دریا بادی ''حیوانات قرآنی'' میں لکھتے ہیں :

'' قدیم اہل مصر، اہل حبشہ اوراہل شام کتے کی پرستش کرتے تھے۔''(۱۷۳)

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ 'الجرس مزامیر الشیطان ' (گھنٹی شیطان کا ساز ہے)کے الفاظ میں لفظ مزامیر کی بنیاد پر 'جرس ' کو من جملۂ مزامیر تصور کرنا درست نہیں ہے۔مولانا مفتی محمد شفیع کی کتاب ''اسلام اورموسیقی'' میں حاشیہ نگار نے ان سے یہی مفہوم اخذ کیا ہے:

''جرس اس گھنٹی کو کہا جاتا ہے جو عموماً اونٹ وغیرہ کے گلے میں باندھی جاتی ہے ۔ احادیث میں ا س کے استعمال کی ممانعت آئی ہے اور مذکورہ حدیث میں اس کے لیے 'مزامیر الشیطان' کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں ۔ جس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اس کا استعمال بھی آلۂ موسیقی کے طور پر کیا جاتا ہے اور اس کی آواز بھی اپنے اندر حسن ، جاذبیت اور غفلت پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔''(۱۵۸)

ہمارے نزدیک ان الفاظ کی بنا پرجرس کو مزامیر کے زمرے میں داخل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ زبان کا عام اسلوب ہے ۔کسی چیز کے اوصاف کو نہایت درجہ بیان کرنے کے لیے تمثیل وتشبیہ اور مبالغے کے اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں۔ روایات میں اس طرح کی متعدد مثالیں مل سکتی ہیں۔ ذیل کی روایت میں حمام کو شیطان کا گھر، بازار کو اس کی مجلس ، شعر کو اس کا قرآن اور عورتوں کو اس کا جال کہا گیا ہے۔ حالانکہ حقیقت کے اعتبار سے نہ حمام گھرہے، نہ بازار مجلس ہے، نہ شعر قرآن ہے اور نہ عورتیں جال ہیں:

عن ابی امامۃ رضی اللّٰہ عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان ابلیس لما نزل الی الارض قال یا رب انزلتنی الی الارض وجعلنی رجیما أوکما ذکر فاجعل لی بیتا قال بیتک الحمام قال فاجعل لی مجلسا قال الاسواق و مجامع الطریق قال اجعل لي طعاما قال طعامک مالم یذکر اسم اللّٰہ علیہ قال اجعل لی شرابا قال کل مسکرقال اجعل لی مؤذنا قال المزامیر قال اجعل لی قرآنا قال الشعر قال اجعل لی کتاباً قال الوسم قال اجعل لی حدیثا قال الکذب قال اجعل لی مصائد قال النساء. (المعجم الکبیر ، رقم ۷۸۳۷)

''ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب ابلیس زمین پراترنے لگا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے کہا: پروردگار تو مجھے راندۂ درگاہ قرار دے کر زمین پربھیج رہا ہے، میرے لیے کوئی گھر بھی بنا دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تیرا گھر حمام ہے ۔ اس نے کہا :میرے لیے کوئی مجلس بنا دے۔ اللہ نے فرمایا :بازار اور راستے(تیری مجلس ہیں) ۔ اس نے کہا : میرے لیے کھانا بھی مقرر فرما دے ۔فرمایا : تیرا کھانا ہر وہ چیز ہے جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے ۔اس نے کہا : میرے پینے کی لیے بھی کوئی چیز بنا دے ۔ فرمایا : ہر نشہ آور چیز (تیرامشروب ہے) ۔اس نے کہا: میرے لیے کوئی اطلاع دہندہ بھی مقرر کر دے۔ اللہ نے فرمایا: مزامیرتیرے( اطلاع دہندہ) ہیں ۔اس نے کہا میرے لیے پڑھنے کی کوئی چیز بنا دے ۔ فرمایا : تیرے پڑھنے کی چیز شعر ہیں۔اس نے کہا:مجھے کچھ لکھنے کے لیے بھی دے دے۔ فرمایا: گودنا (تیری لکھائی ہے) ۔ اس نے کہا: میرے لیے کلام بھی مقرر فرمادے ۔ فرمایا : جھوٹ (تیرا کلام ہے)۔ اس نے کہا: میرے لیے جال بھی بنا دے ۔ اللہ نے فرمایا : عورتیں (تیرا جال ہیں)۔''

۵۸؂ اس روایت کو محدثین نے 'حسن' قرار دیا ہے۔

۵۹؂ اگر ہم اسے خاص تصور نہیں کرتے تومذکورہ روایت ان روایتوں سے متناقض ٹھہرتی ہے جن میں نزول وحی کے حوالے سے گھنٹی کا ذکر مثبت انداز سے ہوا ہے۔

۶۰؂ اس روایت کی بنا پر اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اصل روایت یہی ہواور 'جلجل' اور 'جرس' کے باہم مترادف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کسی دوسرے موقع کا ارشاد یہاں راویوں سے سہواً نقل ہو گیا ہو ۔

۶۱؂ محدثین نے اس روایت کو 'صحیح' قرار دیا ہے۔ اس روایت کے لفظ 'کوبہ' کا معنی 'طبل' بیان کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر اس سے موسیقی کی حرمت کے بارے میں استدلال کیا جاتا ہے۔

۶۲؂ المائدہ ۵: ۹۰۔

۶۳؂ یہ ایک کھیل ہے جو عام طو رپر جوا کھیلنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

۶۴؂ البقرہ ۲: ۲۱۹۔ المائدہ ۵: ۹۱۔

۶۵؂ ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ سلم نے کوبہ کا ذکر دف اور مزامیر کے ساتھ کیا ہے:

عن ابن عباس ان النبی حرم ستۃ الخمر والمیسر والمعازف والمزامیر والدف والکوبۃ. (المعجم الاوسط ، رقم ۷۳۸۸)

''ابن عباس سے روایت ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں :شراب ، جوا، باجے، مزامیر ، دف اور کوبہ۔''

اس روایت میں کوبہ کا ذکر چونکہ دیگر آلات موسیقی کے ساتھ آیا ہے، اس لیے یہاں اس سے نرد کے بجائے طبل مراد لینا زیادہ موزوں ہے۔

۶۶؂ اس روایت کو ابوداؤد نے منکر قرار دیا ہے۔یہ بات روایت کے اختتام پران الفاظ میں درج ہے:

قال ابو علی اللولوی سمعت اباداؤد یقول ھذا حدیث منکر.

''ابو علی اللولوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث منکر ہے۔''

علامہ ناصر الدین البانی کے نزدیک یہ روایت 'صحیح' ہے ۔ چنانچہ انھوں نے اسے اپنی کتاب ''صحیح سنن ابی داؤد '' میں درج کیا ہے۔

ابن ماجہ میں سیدنا ابن عمر ہی سے اسی مضمون کی روایت نقل ہوئی ہے۔ اس میں 'زمارۃ'(بانسری) کے بجائے 'طبل' (ڈھول) کے الفاظ آئے ہیں:

عن مجاھد قال کنت مع بن عمر فسمع صوت طبل فادخل اصبعیہ فی اذنیہ ثم تنحی حتی فعل ذلک ثلاث مرات ثم قال ھکذا فعل رسول اللّٰہ. (ابن ماجہ، رقم ۱۹۰۱)

''مجاہد بیان کرتے ہیں: میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہم راہ تھا۔ انھوں نے طبل کی آواز سنی تو اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کر لیں۔ پھر وہ وہاں سے ہٹ گئے۔ انھوں نے تین مرتبہ ایسا کیا۔ پھر انھوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا۔''

۶۷؂ گویا اس کا تعلق آپ کی ذاتی پسند و ناپسند سے تھا، نہ کہ حکم شرعی سے۔

۶۸؂ تہذیب التہذیب ۵/ ۷۵۴۔

۶۹؂ کف الرعاع، بحوالہ موسیقی کی شرعی حیثیت ۱۵۔

۷۰؂ وہ حدیث جسے از خود گھڑ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کیا جائے ۔

۷۱؂ المحلی ۹ /۵۹ ۔

۷۲؂ البانی، سلسلہ احادیث الصحیحہ۶/ ۱۰۱۶ ۔

۷۳؂ المحلی۹؍۵۸۔

۷۴؂ ۶/ ۱۰۱۵۔

۷۵؂ نصب الرایہ لاحادیث الہدایۃ ۴ /۸۴۔

۷۶؂ البانی نے اس طریق کو 'حسن' قرار دیا ہے : صحیح سنن الترمذی ۱/ ۵۱۳۔

۷۷؂ ضعیف سنن الترمذی ۲۳۹۔

۷۸؂ ۴۰۳۔