موسیقی کی شناعت کے بعض پہلو


انسان کی اخروی فوزو فلاح کا انحصار اس کے تزکیۂ نفس پر ہے ۔ دین چاہتا ہے کہ انسان اپنے نفس کو فکر و عمل کی مختلف آلایشوں سے پاک رکھے اور اس جنت کا مستحق قرار پائے جو پاکیزہ نفوس کے لیے خاص ہے۔ فطرت کے حقائق ، سنت ابراہیمی کی روایت ، انبیا کی تعلیمات اور صحف سماوی کی صورت میں دین کے تمام ذرائع انسان کو ان اعمال کی ترغیب دیتے ہیں جو نفس انسانی کے لیے پاکیزگی کا سامان کریں اور ان سے روکتے ہیں جو اسے آلودہ کرنے کا باعث ہوں ۔ شریعت کے اوامر و نواہی بھی درحقیقت انسان کے انفرادی اور اجتماعی وجود کو اسی سواء السبیل پر گام زن کرتے ہیں جو تزکیۂ نفس کی منزل مقصود تک لے جاتی ہے۔ انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے اعمال کو قرآن ' فحشاء '، ' منکر ' اور ' بغی ' سے تعبیر کرتا ہے اور انھیں ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیتا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ وَاِیْتَآیئ ذِی الْقُرْبٰی وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِوَالْبَغْیِ یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ. (النحل۱۶: ۹۰)

''بے شک اللہ حکم دیتا ہے عدل کا ، احسان کا اور ذوی القربیٰ کو دیتے رہنے کا اور روکتا ہے بے حیائی ، برائی اور سرکشی سے ، وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔'' ۱۶؂

انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے یہ منکرات و فواحش اگر کسی مباح عمل سے منسلک ہو جائیں تو بعض اوقات اسے بھی دائرۂ شناعت میں داخل کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ شاعری اور موسیقی جیسی مباح چیزوں کے ساتھ شرک ، زنا اور شراب جیسے ممنوعات شریعت وابستہ ہو کر انھیں شنیع بنا سکتے ہیں ۔ اس اعتبار سے اگر موسیقی کا جائزہ لیا جائے اور اس ضمن میں دین کے مصادر سے رجوع کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل خاموش ہے، البتہ بائیبل کے بعض مندرجات اور بعض احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی غیر اخلاقی قباحت موسیقی کی کسی نوع کے ساتھ وابستہ ہو جائے تو موسیقی کی وہ نوعیت شنیع قرار پا سکتی ہے۔ بائیبل اور احادیث کے حوالے سے اس کا مختصر جائزہ حسب ذیل ہے ۔

بائیبل اورموسیقی کی شناعت

بائیبل میں بعض مقامات پرموسیقی کا ذکرشراب نوشی اور فحاشی کے مظاہر کے ساتھ آیا ہے ۔ ان مقامات سے اس کی شناعت کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے، مگرسیاق و سباق اور اسلوب بیان سے واضح ہے کہ ان جگہوں پرموسیقی کی نہیں، بلکہ رذائل اخلاق کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ان کی بنا پر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ موسیقی کی جو صورتیں اخلاقی قباحتوں کے ساتھ ملحق ہوں، وہ بہرحال شنیع قرار دی جا سکتی ہیں۔ شناعت کے پہلو سے چند مثالیں یہ ہیں۔

یسیعاہ کی رویا میں شب و روز شراب کے نشے میں غرق رہنے والوں پر افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ان کے حوالے سے آلات موسیقی کا ذکر بھی آیا ہے:

''ان پر افسوس جوصبح سویرے اٹھتے ہیں تاکہ نشہ بازی کے درپے ہوں اور جو رات کو جاگتے ہیں جب تک شراب ان کو بھڑکا نہ دے۔ اور ان کے جشن کی محفلوں میں بربط اور ستار اور دف اور بین اور شراب ہیں، لیکن وہ خدواند کے کام کو نہیں سوچتے اور اس کے ہاتھوں کی کاری گری پر غور نہیں کرتے۔''(یسعیاہ۵: ۱۲)

یسیعاہ ہی کی رویا میں صور نامی ایک شہر کی مماثلت فاحشہ کے گیت سے بیان کی گئی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیقی کی بعض صورتیں فحاشی کے ساتھ بھی وابستہ تھیں:

''اور اس وقت یوں ہو گا کہ صور کسی بادشاہ کے ایام کے مطابق ستر برس تک فراموش ہو جا ئے گا او ر ستر برس کے بعد صور کی حالت فاحشہ کے گیت کے مطابق ہو گی۔ اے فاحشہ تو جو فراموش ہو گئی ہے بربط اٹھا لے اور شہر میں پھراکر۔ راگ کو چھیڑ اور بہت سی غزلیں گا کہ لوگ تجھے یاد کریں۔''(یسعیاہ،۲۳: ۱۵۔۱۶)

احادیث اور موسیقی کی شناعت

ذخیرۂ حدیث میں بھی موسیقی کی شناعت کے حوالے سے بعض روایتیں موجود ہیں ۔ ان سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی کی بعض اقسام کو ان کے غیر اخلاقی عوارض کی وجہ سے شنیع ٹھہرایا۔ تاریخ عرب اور احادیث میں ان علائق کا استقصا کیا جائے توبالعموم یہی تین چیزیں سامنے آتی ہیں:

۱۔ شرک

۲۔ شراب نوشی

۳۔ فحاشی

شرک کے حوالے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عرب جاہلیت اپنی عبادت کی مشرکانہ رسوم میں موسیقی استعمال کرتے تھے۔ ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

وقد کان الجاھلیون مثل غیرھم من السامیین یستخدمون الغناء فی عباداتہم، وربما استخدموا معہ بعض آلات الطرب وذلک تعبیر عن بھجتم و سرورھم بتعبدھم للآلھۃ وتقرباً الیھابہذا الغناء الذی یدخل السرور الی نفوسھا. وقد ذکر المفسرون ان اھل الجاھلیۃ کانوا یطوفون بالبیت یصفرون و یصفقون. واذا صح قولھم ھذا، فانہ یعنی استعمال نوع من الطرب فی حجھم و طوافھم بالبیت. (تاریخ العرب۵/ ۱۱۱)

''اور دور جاہلیت میں عرب دوسری سامی اقوام کی طرح اپنی عبادات میں گانے کو استعمال کرتے تھے ۔ اس طریقے سے ایک تو وہ اپنے معبودوں کی عبادت پر خوشی اور سرور کا اظہار کرتے تھے اور دوسرے ان گیتوں کے ذریعے سے جو ان کے معبودوں کے لیے باعث مسرت ہوتے تھے ، ان کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مفسرین کا کہنا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں لوگ بیت اللہ کا طواف سیٹیاں اور تالیاں بجا کر کرتے تھے۔ ان کی یہ بات اگر صحیح ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ان کے حج کرنے اوربیت اللہ کا طواف کرنے میں گانے کی کوئی قسم اختیار کی جاتی تھی۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم شرک کو بیخ و بن سے اکھاڑ دینا چاہتے تھے، اس لیے آپ نے ان تمام چیزوں کو کلی یا جزوی طور پر ممنوع فرمایا جو شرک یا اس کے مظاہر سے منسلک تھیں ۔ اس ضمن میں سب سے نمایاں چیز تصاویر و تماثیل تھیں، اس لیے آپ نے ان کی حرمت کا حکم صادر فرمایا۔ اسی طرح آپ نے موسیقی کی بھی ان اقسام کو منع فرمایا ہو گاجو مشرکانہ مراسم سے منسلک تھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیقی کی ان اقسام کو ممنوع فرمایاجو شراب نوشی کی مجالس کے ساتھ خاص تھیں۔ عربی شاعری، تاریخی کتب اور روایتوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کے ہاں شراب اور موسیقی کی بعض اقسام لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی تھیں۔

بخاری کی ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کسی مجلس میں شراب سے مخمور ہو کر مغنیہ لونڈی کا نغمہ سن رہے تھے ۔ ۱۷؂ نشے کی حالت میں ان پرنغمے کا اس قدر اثر ہوا کہ انھوں نے مغنیہ کے الفاظ کی پیروی میں سیدنا علی کی اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالا:

عن الزھری اخبرنا علی بن حسین ان حسین بن علی علیھم السلام اخبرہ ان علیا قال کانت لی شارف من نصیبی من المغنم یوم بدر و کان النبی اعطانی مما افاء اللّٰہ علیہ من الخمس یومئذ فلما اردت ان ابتني بفاطمۃ علیھا السلام بنت النبی واعدت رجلا صواغا فی بنی قینقاع ان یرتحل معی فنأتی بإذخر فاردت ان ابیعہ من الصواغین فنستعین بہ فی ولیمۃ عرسی فبینا انا اجمع لشارفی من الاقتاب والغرائر والحبال وشارفای مناخان الی جنب حجرۃ رجل من الانصار حتی جمعت ما جمعت فاذا أنا بشارفی قد اجبت أسنمتھا و بقرت خواصر ھما واخذ من اکبادھما فلم املک عینی حین رایت المنظرقلت من فعل ھذا قالوا فعلہ حمزۃ بن عبد المطلب وھو فی البیت فی شرب من الانصار عندہ قینۃ واصحابہ فقالت فی غناءھا: ''الا یا حمزہ للشرف النواء!'' فوثب حمزہ الی السیف فاجب اسنمتھما وبقر خواصر ھما واخذمن اکبادھما. ( بخاری ، رقم ۳۷۸۱)

''زہری علی بن حسین سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بتایا : بدر کے مال غنیمت میں سے ایک اونٹنی میرے حصے میں آئی۔ اس کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے بھی ایک اونٹنی مجھے عنایت فرمائی۔جب نبی کریم کی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے میری شادی قرار پائی تو میں نے قینقاع قبیلے کے ایک یہودی سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم اونٹنیوں پر اذخر ۱۸؂ لاد لائیں۔یہ گھاس سناروں کو بیچ کر میں اپنا ولیمہ کرنا چاہتا تھا ۔ میں نے اسی خیال سے اپنی اونٹنیوں کے لیے پالان اور رسیاں فراہم کیں۔ اونٹنیاں ایک انصاری کے گھر کے پاس بیٹھی تھیں۔ جب سامان اکٹھا کر کے میں اونٹنیوں کے پاس گیا تو میں نے دیکھا کہ کسی نے ان کے کوہان کاٹ لیے ہیں اور پیٹ چیر کر جگر نکال لیے ہیں ۔ یہ سماں دیکھ کر میں بے اختیار رو دیا۔ میں نے لوگوں سے پوچھا :یہ کس کا کام ہے؟ انھوں نے کہا: حمزہ بن عبد المطلب کا ۔ وہ اس گھر میں کئی انصاریوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔ ایک مغنیہ بھی وہاں موجودہے اور ان کے دوست بھی ہیں ۔ ہوا یہ کہ مغنیہ نے یہ شعر گایا : ''حمزہ ،اٹھو اور ان فربہ اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالو!'' یہ سنتے ہی حمزہ تلوار لے کر لپکے اور ان اونٹنیوں کے کوہان کاٹ لیے اور پیٹ پھاڑ کر ان کے جگر نکال لیے ۔'' ۱۹؂

جہاں تک بدکاری اور اس کے لوازم کا تعلق ہے تو روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب میں موسیقی کی بعض صورتیں فحاشی کے ساتھ وابستہ تھیں۔ قینات ایسی لونڈیاں تھیں جنھوں نے موسیقی کو بطور پیشہ اختیار کر رکھا تھا۔لونڈیوں کی اخلاقیات عام طور پر چونکہ پست ہوتی تھی ، اس لیے وہ قحبہ گری میں بھی ملوث ہو جاتی تھیں ۔ مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی نے ''تفہیم القرآن'' میں ان لونڈیوں کی قحبہ گری کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

'' کھلی قحبہ گری ، تمام تر لونڈیوں کے ذریعے سے ہوتی تھی ۔ اس کے دو طریقے تھے۔ ایک یہ کہ لوگ اپنی جوان لونڈیوں پر ایک بھاری رقم عائد کر دیتے تھے کہ ہر مہینے اتنا کما کر ہمیں دیا کرو، اور وہ بے چاریاں بدکاری کرا کر یہ مطالبہ پورا کرتی تھیں ۔ اس کے سوا نہ کسی دوسرے ذریعے سے وہ اتنا کما سکتی تھیں ، نہ مالک ہی یہ سمجھتے تھے کہ وہ کسی پاکیزہ کسب کے ذریعے سے یہ رقم لایا کرتی ہیں، اور نہ جوان لونڈیوں پر عام مزدوری کی شرح سے کئی کئی گنی رقم عائد کرنے کی کوئی دوسری معقول وجہ ہی ہو سکتی تھی۔ دوسراطریقہ یہ تھا کہ لوگ اپنی جوان جوان اور خوب صورت لونڈیوں کو کوٹھوں پر بٹھا دیتے تھے اور ان کے دروازوں پر جھنڈے لگا دیتے تھے جنھیں دیکھ کر دور ہی سے معلوم ہو جاتا تھا کہ ''حاجت مند'' آدمی کہاں اپنی حاجت رفع کر سکتا ہے ۔ یہ عورتیں ''قلیقیات'' کہلاتی تھیں اور ان کے گھر ''مواخیر'' کے نام سے مشہور تھے۔ بڑے بڑے معزز رئیسوں نے اس طرح کے چکلے کھول رکھے تھے ۔ خود عبد اللہ بن ابی (رئیس المنافقین وہی صاحب جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانا طے کر چکے تھے اور وہی صاحب جو حضرت عائشہ پر تہمت لگانے میں سب سے پیش پیش تھے) مدینے میں ان کا ایک باقاعدہ چکلہ موجود تھا جس میں چھ خوب صورت لونڈیاں رکھی گئی تھیں ۔ ان کے ذریعے سے وہ صرف دولت ہی نہیں کماتے تھے ، بلکہ عرب کے مختلف حصوں سے آنے والے معزز مہمانوں کی تواضع بھی انھی سے فرمایا کرتے تھے اور ان کی ناجائز اولاد سے اپنے خدم و حشم کی فوج بھی بڑھاتے تھے۔ '' ( ۳/ ۴۰۳)

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قدیم عرب میں موسیقی کی بعض صورتیں شراب کی مجالس اور فواحش کے ساتھ خاص ہو چکی تھیں اور ''قینات'' یعنی پیشہ ور مغنیات کی شہرت بھی انھی پہلووں سے تھی ۔ قدیم عربی شاعری کے معروف مجموعے ''المعلقات السبع'' کے دوسرے معلقے میں طرفہ کے بعض اشعار اسی صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں :

نداما بیض کالنجوم و قینۃ

تروح الینا بین برد و مجسد

''میرے دوست شریف النسب اور اپنی قوم کے سردار ہیں ، اور ایک مغنیہ لونڈی ہے جو ہماری مجلس میں عمدہ اور رنگین کپڑوں میں آتی ہے ۔''

رحیب قطاب الجیب منھا رقیقۃ

بجس الندامی بضۃ المتجرد

''اس کی قمیص کا گلا کھلا ہے (جو ہاتھ ڈالے ، اسے روکتی نہیں )، ٹٹولنے والوں کے لیے نرمی سے پیش آتی ہے ، اس کا چمڑا نرم ہے ۔ ''

اذا نحن قلنا اسمعینا انبرت لنا علی رسلھا مطروقۃ لم تشدد

''جب ہم نے اسے کہا کہ گانا سناؤ تو وہ ہمیں تاکتی ہوئی سامنے آئی، آہستگی سے او رجلدی نہ کی (جیسے کہ آقا کا حکم مانتے ہوئے غلام کرتے ہیں)۔''

اذا رجعت فی صوتھا خلت صوتھا

تجاوب اطآر علی ربع رد

''وہ جب اپنی آواز دہراتی ہے تو ایسا خیال ہوتا ہے کہ ہرنیاں مرے ہوئے بچے پر رو کر ایک دوسری کا جواب دے رہی ہیں۔''

وما زال تشرابی الخمور و لذتی

و بیعی وانفاقی طریفی و متلدی

''میں ہمیشہ شراب پیتا رہا ، اس سے لطف اٹھاتا رہا اور اس کی خرید کرتا رہا ، اور اپنا پرانا اور نیا مال اس راہ میں صرف کرتا رہا۔ ''

اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خرید و فروخت اور تجارت سے منع فرمایا:

عن ابی امامۃ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تبیعوا القینات ولا تشتروھن ولاتعلموھن ولاخیر فی تجارۃ فیھن و ثمنھن حرام. (ترمذی ، رقم ۱۲۸۲)

''ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مغنیات کی خریدو فروخت نہ کرو اور نہ انھیں (موسیقی کی) تربیت دو۔ ان کی تجارت میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔ان کی قیمت لینا حرام ہے ۔''

اس تفصیل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کی رو سے موسیقی کی وہ اصناف شنیع قرار پائیں گی جن سے منکرات و فواحش وابستہ ہو جائیں یا جو انسان کے اندر ہیجان پیدا کرنے اور سفلی اور شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے کا باعث بنیں ۔ عامۃ الناس کو بہرحال ان سے اجتناب کی تلقین کی جائے گی۔

____________

۱۶؎ یہ قرآن کے اوامرو نواہی کی اساسات ہیں ۔ ان کی تفصیل سورۂ بنی اسرائیل (۱۷) کی آیات ۲۲ تا ۳۹ میں بیان ہوئی ہے ۔ ان آیات میں شرک ، قتل ، تکبر ، خیانت اور بے حیائی سے منع کیا گیا ہے ۔ کم و بیش یہی باتیں ہیں جو احکام عشرہ کے طور پر تورات میں بیان ہوئی ہیں۔

۱۷؎ ظاہر ہے کہ اس وقت شراب کو قانونی طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا تھا۔

۱۸؎ یہ گھاس کی ایک خاص قسم ہے جو اس زمانے میں سناروں کے کام آتی تھی۔

۱۹؎ روایت کا باقی حصہ یہ ہے:

''سیدنا علی کہتے ہیں میں وہاں سے چلا آیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپ کے پاس زید بن حارثہ بیٹھے ہوئے تھے۔حضور نے میرا چہرہ دیکھ کر پہچان لیا کہ میں سخت رنجیدہ ہوں۔ آپ نے پوچھا: خیریت تو ہے؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ آج کی سی مصیبت میں نے کبھی نہیں دیکھی ۔حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ستم کیا اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے ، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اوراس وقت ایک گھر میں بیٹھے شرابیوں کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اسے اوڑھ کرپیدل چلے ۔ میں اور زید بن حارثہ ، دونوں آپ کے پیچھے چلے ۔ آپ اس گھر پر پہنچے جس میں حمزہ تھے ۔آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، اجازت دی گئی۔ آپ نے حمزہ کوملامت کی کہ یہ تم نے کیا کیا۔ دیکھا تو حمزہ نشے میں تھے ۔ ان کی آنکھیں سرخ تھیں۔ سیدنا حمزہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر ڈالی۔ پھر اوپر سے نیچے تک آپ کو دیکھا۔ پھر انھوں نے کہا: تم لوگ میرے باپ کے غلام معلوم ہوتے ہو ۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اندازہ ہو گیا کہ حمزہ بہت نشے میں ہیں۔ چنانچہ آپ مڑے اور گھر سے باہر نکلے آئے۔ ہم لوگ بھی آپ کے ساتھ نکل آئے۔''