مولانا مفتی عبد الواحد کی تنقیدات کا ایک جائزہ (۲)


(گذشتہ سے پیوستہ)

''حدود وتعزیرات- چند اہم مباحث''کے عنوان سے ہماری جو تالیف چند ماہ قبل شائع ہوئی ہے، اہل علم کی طرف سے اس پر مختلف اور متنوع تبصرے سامنے آ رہے ہیں جو علمی وفکری بحثوں میں ایک فطری بات ہے۔ اس ضمن میں دار الافتاء جامعہ مدنیہ لاہور کے صدر جناب ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے ''مقام عبرت'' کے نام سے اپنی ایک تحریر میں کتا ب کے بعض مباحث کا ناقدانہ جائزہ لیا ہے۔ یہ تحریر ماہنامہ 'الشریعہ' میں چھپنے کے علاوہ ایک مستقل کتابچے کی صورت میں بھی شائع کی گئی ہے۔ آیندہ سطور میں ہم مولانا محترم کی اسی تنقید کے حوالے سے اپنی طالب علمانہ گزارشات پیش کریں گے''۔

اس اصولی نکتے کی وضاحت کے بعد اب ہم ان ذیلی تنقیدی نکات کا جائزہ لیں گے جو مولانا محترم نے ہماری آرا کے ضمن میں اٹھائے ہیں۔

دیت کی مقدار

ہم نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن مجید نے دیت کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی، بلکہ اس معاملے کو 'معروف' پر مبنی قرار دیا ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ہدایت کی پیروی میں اپنے دور میں دیت کی وہی مقدار یعنی سو اونٹ مقرر فرمائی ہے جو اسلام سے پہلے اہل عرب میں رائج تھی۔ چونکہ معروف سے متعلق دیگر تمام معاملات میں یہ بالکل واضح ہے کہ ہر معاشرہ اپنے ہی معروف کی پیروی کرنے کا پابند ہے نہ کہ عہد نبوی میں اہل عرب کے معروف کی، اس لیے دیت کی مقدار کی تعیین کے ضمن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کی حیثیت بھی ابدی تشریع کی نہیں، بلکہ ایک اصولی شرعی حکم کے، وقتی اور زمان ومکان میں محدود اطلاق کی ہے۔

مزید برآں دیت کا قانون جس حکمت پر مبنی ہے، وہ بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ اس کی مقدار اور ادائیگی کے طریقۂ کار وغیرہ امور کو کسی ایک یا چند مخصوص صورتوں میں منجمد کر دینے کے بجائے عرف وعادت اور حالات وزمانہ کے لحاظ سے ان میں تغیر کی گنجایش تسلیم کی جائے۔ یہ بات درست ہے کہ شرعی قوانین کے اطلاق کا مدار اصلاً حکمت پر نہیں، بلکہ علت پر ہوتا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ اگر کسی قانون کی حکمت اور مصلحت کا پہلو اس سے مستقل بنیادوں پر منفک ہو جائے تو اس کی ظاہری صورت کو برقرار رکھنے پر اصرار کرنا یقیناًشارع کا منشا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے اس مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات تو صاف لفظوں میں تسلیم کی ہے کہ سو اونٹ دیت کی ابدی شرعی مقدار کی حیثیت نہیں رکھتے، البتہ انھوں نے اس کے بجائے سونے اور چاندی کی مخصوص مقدار کو ابدی شرعی معیار کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

کان اہل الجاہلیۃ قدروہا بعشرۃ من الابل فلما رای عبد المطلب انہم لا ینزجرون بہا بلغہا الی ماءۃ وابقاہا النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی ذلک لان العرب یومئذ کانوا اہل ابل غیر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم عرف ان شرعہ لازم للعرب والعجم وسائر الناس ولیسو کلہم اہل ابل فقدر من الذہب الف دینار ومن الفضۃ اثنی عشر الف درہم ومن البقر مائتی بقرۃ ومن الشاء الفی شاۃ (حجۃ اللہ البالغہ ۲/۳۹۵)

''اہل جاہلیت نے دیت کی مقدار دس اونٹ مقرر کی تھی۔ پھر جب عبد المطلب نے دیکھا کہ یہ مقدار لوگوں کو قتل کرنے سے نہیں روک سکتی تو انھوں نے اس کی مقدار سو اونٹ مقرر کر دی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی کو قائم رکھا، کیونکہ اہل عرب اس وقت عام طور پر اونٹوں کے مالک ہوا کرتے تھے۔ تاہم ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا ہے کہ آپ کی شریعت عرب اور عجم کے تمام انسانوں کے لیے لازم ہے اور چونکہ سب معاشروں میں اونٹ نہیں پائے جاتے، اس لیے آپ نے سونے کے ایک ہزار دینار، چاندی کے بارہ ہزار درہم، دو سو گایوں اور دو ہزار بکریوں کی صورت میں بھی دیت کی مقدار مقرر فرما دی۔''

تاہم شاہ صاحب عرب وعجم کے لیے دیت کی مقدار کے موزوں ہونے کی جس حکمت کے پیش نظر درہم ودینار یا گایوں اور بکریوں کی متعین تعداد کو مستقل شرعی معیار قرار دے رہے ہیں، وہ حکمت پھر بھی قائم نہیں رہتی، اس لیے کہ شاہ صاحب اپنے دور کے تناظر میں غالباًیہ تصور کر رہے ہیں کہ سونے اور چاندی پر مبنی نظام زر ہمیشہ کے لیے قائم رہے گا اور اگر کسی دور میں لوگ اونٹوں کی صورت میں دیت نہ دے سکیں تو سونے اور چاندی کی صورت میں دیت ادا کرنا بہرحال ہر زمانے میں ممکن رہے گا۔ انسانی تمدن کے ارتقا نے واضح کر دیا ہے کہ شاہ صاحب کا یہ مفروضہ درست نہیں، اس لیے کہ دنیا دھاتی زر (Metallic money) کے بعد کاغذی زر (Paper money) کے دور سے گزرتی ہوئی بتدریج اعتباری زر (Credit money) کے دور میں داخل ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں جدید شہری تمدن میں مواشی یا سونے اور چاندی کی صورت میں دیت کی ادائیگی ممکن نہیں رہی۔ چنانچہ درہم ودینار یا گایوں اوربکریوں کی صورت میں مقرر کی جانے والی مذکورہ مقداروں کو اگر شرعی مقداریں مان لیا جائے تو بھی کاغذی کرنسی کو ان کے ساتھ نتھی کرنا ضروری نہیں۔ اس طرح یہ ایک منصوص نہیں ،بلکہ اجتہادی معاملہ قرار پاتا ہے۔

اس تناظر میں دیکھیے تو قرآن مجید کی اس ہدایت کی حکمت اور معنویت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ اولیاے مقتول کی طرف سے معافی کے فیصلے کے بعد 'اتباع بالمعروف' کیا جائے، یعنی معاشرے کی معقول اور منصفانہ روایات کے مطابق دیت کی رقم مقتول کے وارثوں کو ادا کی جائے۔

اس وضاحت کے بعد اب ان اعتراضات کا جائزہ لیجیے جومولانا محترم نے ہمارے نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اٹھائے ہیں:

۱۔ مولانا نے ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریعی حیثیت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، جبکہ یہ اعتراض بدیہی طور پر بے بنیاد ہے۔ یہ بات اس صورت میں درست ہو سکتی تھی اگر ہم نے یہ کہا ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرے سے کوئی تشریعی اختیار ہی نہیں رکھتے، یا یہ کہ اگرچہ آپ نے تو دیت کی مقدار بطور تشریع مقرر کی ہے، لیکن ہم اسے اس حیثیت سے تسلیم نہیں کرتے۔ العیاذ باللہ من ذلک۔ خود مولانا محترم نے ہمارا یہ موقف اپنی تنقید میں نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے تشریعی بھی ہو سکتے ہیں اور قضا وسیاسہ کی نوعیت کے بھی، اور اس کا فیصلہ دلائل وقرائن کی روشنی میں کیا جا تا ہے۔ ہم قرآن مجید کے نصوص کی روشنی میں یہ راے رکھتے ہیں کہ دیت کی مقدار کا معاملہ تشریع کے دائرے سے نہیں، بلکہ سیاسہ کے دائرے سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی یہ نوعیت خود قرآن مجید نے متعین کی ہے۔ اس لیے مولانا محترم کا یہ اعتراض، درحقیقت ایک سنگین الزام کا درجہ رکھتا ہے اور ایسا اگر اعتراض کا وزن بڑھانے کے لیے دانستہ کیا گیا ہے تو انھیں خدا کے حضور میں اس کی جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

۲۔ سورۂ نساء کی آیت ۹۲ میں 'دیۃ مسلمۃ الی اہلہ' کے تحت امام جصاص نے یہ استدلال پیش کیا ہے کہ دیت کا لفظ اپنے مفہوم اور مقدار کے اعتبار سے قرآن کے مخاطبین کے لیے پہلے سے واضح اور معروف تھا، اس لیے جب قرآن مجید نے قتل خطا کی صورت میں 'دیت' ادا کرنے کا حکم دیا تو اس کا مطلب یہی تھا کہ اہل عرب کے ہاں دیت کی جو بھی مقدار معروف ہے، اس کی پیروی کی جائے۔ ہم نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے لکھا کہ یہ بات ''عربیت کی رو سے قابل اشکال ہے۔ یہ بات اس کے لغوی مفہوم یعنی ''وہ مال جو خوں بہا کے طور پر ادا کیا جائے'' کی حد تک درست ہے، لیکن اگر اس کی اس مخصوص مقدار کی طرف اشارہ پیش نظر ہوتا جو مخاطب کے نزدیک معروف تھی تو عربیت کی رو سے لفظ 'دیۃ' کو معرف باللام ہونا چاہیے تھے، کیونکہ اسم نکرہ کسی لفظ کے سادہ لغوی مفہوم سے بڑھ کر اس کے کسی مخصوص ومتعین مصداق پر دلالت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ چنانچہ قرآن مجید کا یہاں لفظ 'دیۃ' کو نکرہ لانا درحقیقت اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس کی کسی مخصوص مقدارکی تعیین یا اس کی طرف اشارہ سرے سے اس کے پیش نظر ہی نہیں ہے۔ ''

مولانا محترم نے اس کے جواب میں فرمایا ہے کہ :

''محمد عمار صاحب کا جصاص رحمہ اللہ پر اعتراض بے بنیاد ہے کیونکہ:

۱۔ نکرہ کبھی تعظیم کے لیے ہوتا ہے، اس لیے دیۃ سے مراد ہے وہ بڑی اور عظیم رقم جو خون بہا کے طور پر دی جائے اور چونکہ وہ رقم معاشرے میں متعین اور مروج تھی، اس لیے جصاص رحمہ اللہ نے اس کو متعین مقدار سے تعبیر کیا۔

۲۔ عرب معاشرے میں دیت کی صرف ایک مقدار متعین نہیں تھی بلکہ مردوں کی علیحدہ مقدار تھی اور عورتوں کی علیحدہ مقدار تھی۔ دیت کی مقدار معلوم ہونے کے باوجود چونکہ اس میں تعدد تھا اس لیے دیۃ کو نکرہ لائے۔'' (مقام عبرت، ص ۲۰)

مولانا محترم کا یہ استدلال کئی وجوہ سے محل نظر ہے۔ اول تو یہاں نکرہ کو تعظیم کے لیے ماننے کا کوئی قرینہ موجود نہیں۔ بالفرض یہ تعظیم کے لیے ہو تو بھی اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ دیت کے طور پر ایک بڑی رقم ادا کی جائے۔ یہ بات کہ وہ بڑی رقم متعین اورمعہود ہے، اس سے پھر بھی ثابت نہیں ہوتی۔ اسی طرح یہ نکتہ کہ چونکہ مرد وعورت کی دیت کی الگ الگ مقدار رائج تھی، اس لیے 'دیۃ' کے لفظ کو معرفہ لانا مناسب نہیں تھا، یہ بھی اسی صورت میں برمحل ہو سکتا ہے جب پہلے یہ فرض کر لیا جائے کہ قرآن کسی مخصوص مقدار ہی کی پابندی کو لازم قرار دینا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے لیے کوئی الگ دلیل چاہیے جو موجود نہیں۔ ان سب موانع سے صرف نظر کرتے ہوئے یہ مان لیا جائے کہ یہاں دیت کی کسی پہلے سے طے شدہ مقدار ہی کی طرف اشارہ ہے تو بھی اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن نے دیت کے طور پر اہل عرب کے عرف میں رائج مقدار ادا کرنے کی ہدایت کی ہے۔ رہی یہ بات کہ وہ اس مقدار کو ابدی شرعی معیار کے طور پر لازم کرنا چاہتا ہے تو اس کے اثبات کے لیے یہ نکتہ کافی نہیں، بلکہ کوئی زائد دلیل درکار ہے۔ ہمارے نزدیک چونکہ قرآن نے دوسرے مقام پر 'فاتباع بالمعروف' (البقرہ ۱۷۸) کے الفاظ میں اس کی تصریح کر دی ہے کہ اس باب میں اصل معیار کی حیثیت 'معروف' کو حاصل ہے، اس لیے اہل عرب کے معروف کی پابندی تاقیامت سارے انسانی معاشروں کے لیے لازم قرار نہیں دی جا سکتی۔

۳۔ مولانا محترم نے دیت کی مذکورہ مقدار کے ابدی طور پرلازم ہونے پر یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم بیان کرتے ہوئے 'من قتل خطا فدیتہ ماءۃ من الابل' (جو شخص بلا ارادہ قتل ہو جائے، اس کی دیت سو اونٹ ہے) کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور چونکہ ''اس حدیث میں 'من' عموم کا کلمہ ہے جو زمان ومکان کی قید سے خالی ہے، لہٰذا یہ حکم ہر زمان ومکان کے لیے ہوگا۔'' (مقام عبرت، ص ۱۷)

اصول فقہ کی درسی کتابوں میں 'من' اور 'ما' کے عموم کے بارے میں عام طو رپر جو کچھ بتایا جاتا ہے، اس کے حد تک مولانا محترم کا یہ استدلال درست ہے، تاہم فقہا اپنے استنباطات میں عملی طور پر اس نوعیت کے ظاہری عموم کو کوئی حتمی اور فیصلہ کن دلیل نہیں سمجھتے، اور ان کے ہاں دوسرے شرعی وعقلی دلائل کی روشنی میں اس کی تحدید وتخصیص کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر کتب حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل ہوا ہے کہ 'من قتل قتیلا لہ علیہ بینۃ فلہ سلبہ' (بخاری، رقم ۲۹۰۹) یعنی میدان جنگ میں جس شخص نے دشمن گروہ کے جس سپاہی کو قتل کیا ہو اور اس کے پاس ا س کا ثبوت بھی موجود ہو، اس سے چھینا ہوا سامان مشترکہ مال غنیمت کا حصہ نہیں، بلکہ خاص طور پر قاتل ہی کا حق ہوگا۔ جمہور فقہا اس ارشاد کو عمومی تشریع پر محمول کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ایک عام قاعدے کی حیثیت سے بیان فرمائی ہے ، تاہم فقہاے احناف نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بات کوئی عام ضابطہ نہیں، بلکہ ہر ہر جنگ کے موقع پر امیر لشکر کے صواب دیدی اختیار پر موقوف ہے۔ احناف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فیصلے کو بھی صرف اس خاص جنگ کی حد تک موثر سمجھتے ہیں جس میں آپ نے اس کا اعلان فرمایا۔ یہاں دیکھ لیجیے، حدیث میں 'من' کا لفظ آنے کے باوجود احناف اس حکم کو ابدی طور پر ہر زمان ومکان کے لیے تو کجا، خود عہد نبوی کی دوسری جنگوں کے لیے بھی عام تسلیم نہیں کرتے۔ اسی اصول پر ہمارا کہنا یہ ہے کہ اگر قرآن نے اصولی طور پر دیت کی مقدار وغیرہ معاملات کو ہر معاشرے کے معروف پر منحصر قرار دیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا 'من' کے لفظ سے اس کی ایک مخصوص مقدار کو بیان کرنا اہل عرب کے عرف پر مبنی اور اسی دائرے میں محدود ہے۔ کسی واضح مستقل دلیل کے بغیر اسے ابدی شرعی حکم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مرد اور عورت کی دیت میں فرق

۴۔ ہم نے لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول مستند ارشادات یا فیصلوں میں کہیں بھی مرد اور عورت کی دیت کے مابین تفریق نہیں کی گئی ،بلکہ ہر جگہ کسی فرق کے بغیر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہی بیان کی گئی ہے اور یہ کہ اس ضمن میں جو بعض روایات آپ کی طرف منسوب کی گئی ہیں، وہ سب کی سب ضعیف ہیں۔ البتہ ،صحابہ اور تابعین کے فیصلوں میں اس فرق کا ذکر ملتا ہے۔ ہم نے گزارش کی ہے کہ ان فیصلوں کو بھی اہل عرب کے عرف اور انھی کے معاشرتی تصورات پر مبنی سمجھنا چاہیے، کیونکہ نہ قرآن مجید نے انسانی حیثیت میں مرد اور عورت کے مابین کوئی فرق کیا ہے اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی اس تصور کی کوئی تائید کی ہے۔

مولانا محترم نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے دونکتے اٹھائے ہیں: ایک یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب احادیث کی سند اگرچہ ضعیف ہے،لیکن صحابہ وتابعین کے عمل سے ان کی تائید ہوتی ہے، اس لیے یہ روایات قابل استدلال ہیں، اور دوسرا یہ کہ صحابہ کے فتاویٰ بھی چونکہ 'مقادیر' سے متعلق ہیں، اس لیے یہ صحابہ کے اجتہاد پر نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع پر مبنی ہیں اور ان کا حکم بھی مرفوع احادیث کا ہے۔ (مقام عبرت، ص ۲۲، ۲۳)

پہلے نکتے کے جواب میں ہماری گزارش یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مذکورہ ضعیف احادیث کی نسبت کو درست ماننے میں ایک مضبوط مانع پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ آپ سے منقول مستند ارشادات میں مرد اور عورت میں کسی فرق کے بغیر دیت کی مقدار ایک ہی بیان کی گئی ہے۔ ہم نے اس ضمن میں دیت سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان ہدایات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے جو آپ نے یمن کے گورنر عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیں اور جن میں کسی فرق کے بغیر قتل خطا کی دیت مطلقاً سو اونٹ ہی بیان کی گئی ہے۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے لکھا ہے کہ ''یہ ہدایات ایک باقاعدہ سرکاری دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں اور قتل یا جراحات کے باب میں مرد اور عورت کی دیت میں شرعی طور پر فرق موجود ہونے کی صورت میں یہاں اس کا ذکر نہ کرنا کسی طرح قابل فہم نہیں۔'' گویا نہ صرف یہ کہ مرد وعورت کی دیت میں فرق کا ذکر کرنے والی روایات سنداً ناقابل اعتبار ہیں، بلکہ ان کے مقابلے میں مستند اور صحیح احادیث اس فرق کی نفی پر دلالت کرتی ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پھر اس مفہوم کی روایات کیا وضع کی گئی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ کسی حدیث کو ضعیف کہنے کا مطلب لازماً اس کو موضوع قرار دینا نہیں ہوتا، کیونکہ بعض دفعہ متن تو فی نفسہ ثابت ہوتا ہے، لیکن اس کی نسبت میں راویوں سے غلطی ہو جاتی ہے۔ زیر بحث روایات کے بارے میں بھی ہماری راے یہ ہے کہ ان میں صحابہ کے فتووں کو غلطی سے مرفوعاً بیان کر دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ فقہا یا محدثین اس فرق کو بیان کرتے ہوئے مرفوع روایات کو ماخذ استدلال نہیں بناتے، بلکہ اس کے حق میں صحابہ کے فتاویٰ ہی کو پیش کرتے ہیں۔

دوسرے نکتے کے جواب میں ہم مولانا محترم کی توجہ اس بات کی طرف مبذول کرانا چاہیں گے کہ خلاف قیاس امور میں صحابہ کی آرا کو سماع پر محمول کرنے کا اصول علمی وعقلی طور پر اسی صورت میں لاگو ہونا چاہیے جب دلائل وقرائن کی روشنی میں دوسرے تمام ممکنہ مآخذ کی نفی ہو جائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی صحابی اہل کتاب سے بھی روایت کرتے ہوں تو محدثین، سابقہ زمانوں سے متعلق ان کی نقل کردہ روایت کو 'مرفوع'قرار نہیں دیتے، کیونکہ اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ انھوں نے وہ بات اہل کتاب سے سنی ہو۔ ہمارے نزدیک زیر بحث مسئلے میں بھی اس نکتے کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ چونکہ اہل عرب کے عرف میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق پہلے سے رائج تھا، اس لیے اس امکان کو کسی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ صحابہ نے اسی کی رعایت کرتے ہوئے، نہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کی بنیاد پر، عورت کے لیے آدھی دیت کے فیصلے فرمائے ہوں۔ اس بات کاوزن اس تناظر میں بالخصوص نمایاں ہو جاتا ہے کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مستند ارشادات سے جو راہنمائی حاصل ہوتی ہے، وہ مرد وعورت کی دیت میں فرق کے حق میں نہیں بلکہ اس کے خلاف ہے۔ اس صورت حال میں صحابہ کے فتاویٰ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کے بجائے اس سوال پر غور کرنا چاہیے کہ :

''اگر قرآن نے اس تصور کی تائید نہیں کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کو سند جواز عطا نہیں کی تو اس پر مبنی ایک قانون کو چاہے وہ اہل عرب کے معروف اور دستور ہی کی صورت کیوں نہ اختیار کر چکا ہو، صحابہ اور تابعین کے ہاں کیوں پذیرائی حاصل ہوئی؟ کیا اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگرچہ عورت کے بارے میں جاہلی معاشرت کے بہت سے تصورات اور رسوم کی اصلاح کر دی گئی، تاہم بعض تصورات۔۔۔ جن میں عورت کی جان کی حرمت اور قدر و قیمت کے حوالے سے زیر بحث تصور بھی شامل ہے۔ کی اصلاح کی کوششیں نتیجہ خیز اور موثر نہ ہو سکیں اور صحابہ و تابعین کو معروضی معاشرتی تناظر میں ایسے قوانین تجویز کرنا پڑے جن میں انہی سابقہ تصورات کی عملی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہو؟'' (حدود وتعزیرات، ص ۱۰۴، ۱۰۵)

مولانا محترم نے ہمارے اٹھائے ہوئے اس سوال پر اعتراض کرتے ہوئے فرمایا ہے:

''محمد عمار صاحب نے غور نہیں کیا کہ اس الزام اور اعتراض کی زد کس پر پڑ رہی ہے۔ یہ زد پڑ رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور صحابہ رضی اللہ عنہم پر کہ صحابہ اپنے میں سے جاہلی معاشرت کے اس تصور کو دور نہ کر سکے اور اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بھی کوشش کی ہوگی، وہ سب غیر موثر اور بے نتیجہ رہی۔'' (مقام عبرت، ص ۲۴)

مولانا محترم کے اس ارشاد سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری محض یہ نہیں تھی کہ آپ جاہلیت کے غلط تصورات کو دین وشریعت کے دائرے میں اصولی طور پر واضح فرما دیں اور حتی الامکان ان کی اصلاح کی کوشش کریں، بلکہ آپ اس بات کے بھی مکلف تھے کہ ان تمام تصورات کو عملاً معاشرے سے پوری طرح ختم کر دیں۔ اگر ان کی بات کا مطلب یہی ہے تو ہم طالب علمانہ طور پر ان سے یہ سمجھنا چاہیں گے کہ قرآن وسنت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مفروضہ ذمہ داری کا ماخذ کیا ہے اور وہ کون سے دلائل ہیں جن کی بنا پر اس ہدف کے حاصل نہ ہونے کو آپ کے حق میں 'الزام' اور 'اعتراض' قرار دیا جا رہا ہے؟ پھر اس سوال کا جواب بھی مولانا محترم کے ذمے ہے کہ کیا فی الواقع نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرے سے جاہلیت کے تمام تصورات اور رسوم کا عملی سطح پر کلیتاً خاتمہ کر دیا تھا؟ مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کے مرنے پر نوحہ کرنے کو جاہلیت کا طریقہ قرار دیا (بخاری، رقم ۳۵۶۱) اور فرمایا کہ جس جنازے کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی ہو، اس کے ساتھ نہ قبرستان نہ جایا جائے۔ (مسند احمد، رقم ۵۴۱۰) آپ نے نوحہ کرنے والی عورت پر لعنت فرمائی (ابن ماجہ، رقم ۱۵۷۴) اور یہ وعید بھی بیان فرمائی کہ اگر ایسی عورت توبہ کیے بغیر مر جائے گی تو قیامت کے دن اسے قطران اور جرب کا لباس پہنایا جائے گا۔ (مسلم، رقم ۱۵۵۰) لیکن آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جاہلیت کے چار کام ایسے ہیں جنھیں میری امت نہیں چھوڑے گی اور ان میں سے ایک نوحہ کرنا بھی ہے۔ (مسلم، رقم ۱۵۵۰) ایک موقع پر آپ نے خواتین سے بیعت لیتے وقت نوحہ نہ کرنے کا وعدہ لینا چاہا تو ایک خاتون نے کہا کہ یا رسول اللہ، مجھے صرف فلاں خاندان کے لیے نوحہ کرنے کی اجازت دے دیجیے، کیونکہ انھوں نے زمانہ جاہلیت میں میرے چچا کے مرنے پر نوحہ کرنے میں میرا ساتھ دیا تھا اور میں ان کا بدلہ اتارنا چاہتی ہوں۔ آپ نے ابتدا میں اس کی اجازت نہیں دی، لیکن اس کے بار بار اصرار پر فرمایا کہ اچھا، 'الا آل فلاں'، یعنی ٹھیک ہے، ان کے لیے نوحہ کر سکتی ہو۔ (مسلم، رقم ۱۵۵۴۔ ترمذی، رقم ۳۲۲۹) دوسری روایت کے مطابق آپ نے کہا کہ جاؤ، پہلے اس کا بدلہ اتار لو، پھر بیعت کر لینا۔ چنانچہ وہ خاتون چلی گئی اور بعد میں دوبارہ آ کر بیعت کی۔ (نسائی، رقم ۴۱۰۸) جعفر طیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر مدینہ پہنچی تو ان کے خاندان کی عورتیں ان کے گھر میں جمع ہو گئیں اور نوحہ کرنا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ پیغام بھیج کر انھیں اس سے منع کیا، لیکن وہ باز نہ آئیں۔ آپ نے دوبارہ پیغام بھیجا، لیکن وہ باز نہ آئیں۔ آپ نے تیسری مرتبہ پیغام بھیجا تو بھی وہ نہ رکیں اور قاصد نے آ کر کہا کہ 'واللہ لقد غلبننا یا رسول اللہ'، یعنی وہ ہمارے قابو میں نہیں آ رہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ 'فاحث فی افواہہن التراب' یعنی پھر ان کے مونہوں میں مٹی بھر دو۔ (بخاری، رقم ۱۲۱۶) ام عطیہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خواتین سے بیعت لیتے وقت ان سے یہ عہد بھی لیتے تھے کہ وہ نوحہ نہیں کریں گی، لیکن پانچ خواتین کے علاوہ کوئی اپنے عہد پر قائم نہیں رہی۔ (بخاری، رقم ۱۲۲۳) سیدنا ابوبکر کا انتقال ہوا تو ام المومنین عائشہ کے حجرے میں مہاجرین اور انصار کی خواتین نوحہ کرنے کے لیے جمع ہو گئیں۔ سیدنا عمر کو اطلاع ہوئی تو وہ تشریف لائے اور خواتین کو اس سے روکا، لیکن وہ نہ رکیں۔ اس پر ہشام بن ولید، ام المومنین کے اجازت نہ دینے کے باوجود، سیدنا عمر کے حکم پر ان کے حجرے میں داخل ہوئے اور ایک ایک کرکے سب خواتین کو باہر نکالا اور انھیں درے لگائے۔ (ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۳/۲۰۸، ۲۰۹۔ طبری، تاریخ الامم والملوک ۲/۳۴۹، ۳۵۰۔ ابن حجر، الاصابہ، ۶/۵۴۴)

اگر مولانا محترم کا دعویٰ وہی ہے جو ان کے اعتراض سے مترشح ہوتا ہے تو پھر وہ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی کوششوں کے بے نتیجہ اور غیر موثر رہنے کی کیا توجیہ فرمائیں گے؟

۵۔ ہم نے لکھا ہے کہ مرد اور عورت کی دیت میں تفریق اس کے بغیر ممکن نہیں کہ خود انسانی حیثیت میں عورت کے وجود کو مرد سے فروتر اور اس کی جان کو مرد کے مقابلے میں کم قیمت قرار دیا جائے اور اہل علم نے بالعموم اس فرق کی بنیاد اسی نکتے کو قرار دیا ہے۔ مثال کے طور پر ابن القیم لکھتے ہیں کہ مرد، عورت کے مقابلے میں انسانی معاشرت اور تمدن کے لیے زیادہ نفع بخش کردار ادا کرتا ہے اور اجتماعی زندگی کی جن ذمہ داریوں، مثلاً دینی مناصب، حکومت واقتدار، جنگ وپیکار، کھیتی باڑی، صنعت وحرفت اور جان ومال کی محافظت وغیرہ سے مرد عہدہ برآ ہو سکتا ہے، عورت نہیں ہو سکتی، اس لیے عورت کی جان کی قیمت بھی مرد کی جان کے برابر نہیں ہو سکتی اور اسی لیے اس کی دیت بھی نصف رکھی گئی ہے۔ ہم نے اس استدلال پر تنقید کرتے ہوئے گزارش کی ہے کہ اگر عورت کی جان مرد کے مقابلے میں کم تر قیمت کی حامل ہے تو پھر قتل کی صورت میں مرد اور عورت کے باہمی قصاص کے معاملے میں اس فرق اور تفاوت کو کیوں نظر انداز کر دیا گیا ہے اور اگر کوئی مرد کسی عورت کو قتل کر دے تو جواب میں اسے کیوں قتل کیا جاتا ہے؟ دوسرے لفظوں میں مرد کا عورت کے قصاص میں قتل کیا جانا اس امر کی صریح دلیل ہے کہ شارع کے نزدیک دونوں کی جان کی قیمت ایک جیسی ہے، چنانچہ اگر قصاص کے معاملے میں مرد اور عورت کے مابین کوئی فرق نہیں تو دیت کی مقدار کے معاملے میں بھی کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔

شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے قصاص کے معاملے میں کوئی فرق نہ کرنے جبکہ دیت کی مقدار میں فرق کرنے کی توجیہ یہ کی ہے کہ یہاں دراصل دو متعارض قیاس کام کر رہے ہیں۔ ایک طرف مرد کو عورت پر حاصل فضیلت اور اس کی قوامیت کا تقاضا یہ ہے کہ مرد سے عورت کا قصاص نہ لیا جائے، لیکن دوسری طرف دونوں کے انسان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ قصاص لیا جائے، اس لیے ان دونوں قیاسوں کے مابین یوں تطبیق دی گئی ہے کہ قصاص کے معاملے میں تو دونوں کی یکساں انسانی حیثیت کا لحاظ رکھا جائے، جبکہ دیت کے معاملے میں مرد کی فضیلت کے پیش نظر عورت کی دیت میں کمی کر دی جائے۔ (حجۃ اللہ البالغہ ۲/۳۹۲) لیکن بدیہی طورپر یہ توجیہ اطمینان بخش نہیں، کیونکہ قصاص اور دیت کا تعلق انسانی جان پر تعدی سے ہے اور خود شاہ صاحب یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ انسان ہونے کی حیثیت میں مرد اور عورت میں کوئی فرق نہیں، چنانچہ مرد کو بعض دوسرے پہلووں سے جو فضیلت حاصل ہے، اسے انسانی جان کی حرمت اور اس پر تعدی سے متعلق قوانین کے دائرے میں موثر ماننے کی کوئی ضرورت نہیں۔

بہرحال مرد وعورت کی دیت میں فرق کی روایتی عقلی توجیہ پر وارد ہونے والے اعتراضات کا وزن محسوس کرتے مولانا محترم نے ایک مختلف اور دلچسپ استدلال پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

''عورت میں ایک حیثیت ہے جبکہ مرد میں دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت جو مرد وعورت دونوں میں یکساں طور پر مشترک ہے، وہ انسانی جان کی ہے۔ اس کے اعتبار سے مرد اور عورت دیت میں بھی برابر ہیں اور قتل کی صورت میں قصاص میں بھی برابر ہیں۔ دوسری حیثیت جو صرف مرد کو حاصل ہے، عورت کو نہیں، وہ اس کی معاشی ذمہ داری کی ہے۔ شریعت نے عورت کو اپنا خرچہ خود کمانے کا بھی مکلف نہیں بنایا ہے جبکہ مرد پر عام حالات میں عورتوں اور نابالغ بچوں کے خرچے رکھے ہیں۔ اس حیثیت کی وجہ سے مرد کی دیت کو دگنا کیا گیا ہے۔'' (ص ۲۵)

دوسرے لفظوں میں مولانا محترم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ عورت کی دیت آدھی نہیں، بلکہ مرد کی دوگنی ہے اور یہ اضافی دیت اس کے انسانی حیثیت میں عورت سے اشرف ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان عملی ذمہ داریوں کی وجہ سے ہے جو وہ خاندان کے تحفظ اور اس کی بقا کے لیے زائد طور پر انجام دیتا ہے۔

تاہم مولانا محترم کی یہ بات اول تو 'توجیہ القول بما لا یرضی بہ قائلہ' کے زمرے میں آتی ہے، اس لیے کہ فقہا بالاتفاق اس فرق کی وجہ عورت کی جان کی انسانی قدر وقیمت کا مرد سے کم تر ہونا ہی بیان کرتے ہیں اور اسی وجہ سے فقہاے احناف کا موقف یہ ہے کہ اگر مرد، عورت کے کسی عضو کو ضائع کر دے تو مرد اور عورت کے مابین مساوات نہ ہونے کی وجہ سے اس سے قصاص نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ یہاں مولانا محترم سے یہ سوال کرنے کو جی چاہتا ہے کہ وہ اس فرق کی توجیہ کے لیے سلف سے مختلف نقطۂ نظر اختیار کرنے کی جسارت کیوں کر رہے ہیں؟ کیا اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ماضی کے تمام علما وفقہا کی سمجھ میں تویہ بات نہ آ سکی اور وہ عورت کو انسانی حیثیت میں مرد سے کم تر قرار دینے کی ''گمراہی'' میں مبتلا رہے، جبکہ اس نکتے کو دریافت کرنے کا شرف چودہ صدیوں کے بعد پہلی مرتبہ مولانا محترم ہی کے ذہن رسا کے حصے میں آیا؟

مولانا کی اس توجیہ میں مرد کی مذکورہ ذمہ داری کا دیت کی مقدار کے ساتھ تعلق بھی واضح نہیں۔ اگر مولانا کی مراد یہ ہے کہ دیت کی رقم ، مقتول کے مرنے سے اس کے ورثا کو لاحق ہونے والے معاشی نقصان کی تلافی کے لیے دی جاتی ہے اور یہ معاشی نقصان مرد کی موت کی صورت میں زیادہ ہوتا ہے تو پھر اس فرق کو جوان اور کمانے والے مرد تک محدود رکھنا چاہیے جبکہ نابالغ لڑکوں، اور اپنی اولاد پر منحصر بوڑھے باپ کی دیت وہی ہونی چاہیے جو عورت کی ہے۔ پھر یہ کہ فی نفسہ انسانی جان کی قیمت کے علاوہ معاشی نقصان کا پہلو صرف مرد کی موت کے ساتھ نہیں ،بلکہ بعض پہلووں سے عورت کی موت کے ساتھ بھی وابستہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کسی کی بیوی تھی تو شادی بیاہ کے جو اخراجات اس کے والدین اور اس کے شوہر نے کیے ہوں، وہ ضائع ہو جاتے ہیں اور نئی شادی کے لیے مرد کو نئے اخراجات کرنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح اگر وہ چھوٹے بچوں کی ماں تھی تو اب ان کی پرورش اور نگہداشت کے لیے بھی باپ کو متبادل انتظامات کرنے ہوں گے۔ چنانچہ معاشی نقصان کا پہلو جس طرح مرد کی موت کی صورت میں پایا جاتا ہے، اسی طرح عورت کی موت کو بھی اس سے کلیتاً منفک نہیں کیا جا سکتا۔

مزید برآں دیت میں اضافے کے لیے گھر سے باہر کی معاشی ذمہ داری کے پہلو کو ملحوظ رکھنے اور گھر کے اندر کی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں۔ اگر عملی زندگی میں معاشی ذمہ داری کا بوجھ اٹھا کر مرد ایک ایسا کردار ادا کرتا ہے جو بالعموم عورت نہیں کرتی تو اس کے مقابلے میں بچوں کو جنم دینے اور ان کی پرورش کی صورت میں عورت بھی ایک ایسا کردار ادا کرتی ہے جس کی مرد سرے سے صلاحیت ہی نہیں رکھتا۔ چنانچہ اگر مرد کے ایک اضافی عملی کردار کی وجہ سے اس کی دیت میں اضافہ کرنا مناسب ہے تو عورت کی دیت کی مقدار مقرر کرتے ہوئے اس کے مخصوص اضافی کردار کو نظر انداز کرنے کا کیا جواز ہے، جبکہ انسانی زندگی کی بقا اور انسانی معاشرت کے تسلسل کے تناظر میں دونوں یکساں درجے کی اہمیت رکھتے ہیں؟

یہاں یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ مرد وعورت کی دیت میں فرق کے مسئلے پر معروف معنوں میں بھی کوئی اجماع نہیں پایا جاتا، اس لیے کہ صدر اول کے دو معروف اصحاب علم یعنی ابوبکر الاصم اور ابن علیہ اس فرق کے قائل نہیں اور فقہ حنبلی کی مستند کتاب 'کشاف القناع' کے مصنف نے اسی بنیاد پر اس مسئلے پر اجماع کے دعوے کو قبول نہیں کیا (کشاف القناع ۲۰/۲۴۵) جبکہ امام رازی نے ابوبکر الاصم اور ابن علیہ کے نقطہ نظر کو جس اسلوب میں بیان کیا ہے، اس سے مترشح ہوتا ہے کہ وہ بھی اس کے حق میں رجحان رکھتے یا کم از کم اسے قابل غور ضرور سمجھتے ہیں۔ لکھتے ہیں:

مذہب اکثر الفقہاء ان دیۃ المراۃ نصف دیۃ الرجل وقال الاصم وابن علیۃ دیتہا مثل دیۃ الرجل۔ حجۃ الفقہاء ان علیا وعمر وابن مسعود قضوا بذلک ولان المراۃ فی المیراث والشہادۃ علی النصف من الرجل فکذلک فی الدیۃ وحجۃ الاصم قولہ تعالیٰ ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اہلہ واجمعوا علی ان ہذہ الآیۃ دخل فیہا حکم الرجل والمراۃ فوجب ان یکون الحکم فیہا ثابتا بالسویۃ واللہ اعلم۔(التفسیر الکبیر ۵/۳۳۵)

''اکثر فقہا کا مذہب یہ ہے کہ عورت کی دیت مرد کی دیت کے نصف ہے، جبکہ اصم اور ابن علیہ کا کہنا ہے کہ عورت کی دیت مردکے برابر ہے۔ فقہا کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا علی، سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود نے اپنے فیصلوں میں عورت کی آدھی دیت دلوائی ہے۔ مزید یہ کہ عورت کی گواہی اور وراثت میں اس کا حصہ مرد سے آدھا ہے، اس لیے اس کی دیت بھی آدھی ہونی چاہیے۔ اصم کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ 'ومن قتل مومنا خطا فتحریر رقبۃ مومنۃ ودیۃ مسلمۃ الی اہلہ'۔ اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت میں مرد اور عورت، دونوں کی دیت کا حکم بیان ہوا ہے (اور چونکہ مقدار میں کسی فرق کا ذکر نہیں ہوا) اس لیے لازم ہے کہ اس کا حکم دونوں کے لیے ایک جیسا ہو۔ واللہ اعلم۔''

اسی طرح فقہ وقانون کے فاضل عراقی عالم الدکتور صلاح الدین الناہی نے معروف حنفی فقیہ ابواللیث سمرقندی کی کتاب ''خزانۃ الفقہ'' کے حاشیے میں اس مسئلے کو ایک قیاسی مسئلہ قرار دیا اور عرف میں تبدیلی کی بنیاد پر فقہا کی راے کو قابل نظر ثانی قرار دیا ہے۔ لکھتے ہیں:

سند الفقہ فی ذلک القیاس علی نصیب المراۃ فی المیراث وکونہ نصف میراث الرجل وفی الشہادۃ وہذا قیاس مقبول فی زمانہم اما فی زماننا ہذا فہو قیاس مع الفارق لان الدیۃ تعویض للمجنی علیہ من جنایۃ ولیست میراثا وفی التعویض عن الضرر تستوی المراۃ والرجل کما ان اعراف زماننا ہذہ سائرۃ نحو المساواۃ بین الرجل والمراۃ فی المراکز بحیث یمکن القول ان جراحات النساء واروشہن فی زماننا ہذا ینبغی ان تکون مثل جراحات الرجال واروشہم ودیاتہم (ہامش ''خزانۃ الفقہ''، ۱/۳۶۴)

''فقہا اس مسئلے کو وراثت میں عورت کے نصف حصے اور اس کی آدھی گواہی پر قیاس کرتے ہیں۔ یہ قیاس ان کے زمانے میں قابل قبول تھا، لیکن ہمارے زمانے میں یہ قیاس مع الفارق ہے، کیونکہ یہ وراثت کا معاملہ نہیں، بلکہ دیت کی صورت میں مظلوم کو اس پر ہونے والے ظلم کا عوض دلایا جاتا ہے، اور ضرر کا عوض دلائے جانے میں مرد اور عورت مساوی درجہ رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے زمانے کے عرف کا رجحان مراکز (؟) میں مرد اور عورت کو برابر تسلیم کرنے کی طرف ہے، چنانچہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے زمانے میں خواتین کی جراحات اور دیت کو مقدار کے اعتبار سے مردوں ہی کی جراحات اور دیت کے برابر ہونا چاہیے۔''

خود ہمارے ہاں قصاص ودیت سے متعلق نافذ کیے جانے والے قوانین میں مرد اور عورت کی دیت میں فرق کو تسلیم نہیں کیا گیا اور کسی امتیاز کے بغیر دیت کی کم از کم مقدار ۳۰۶۳۰ گرام چاندی مقرر کی گئی ہے۔

زنا کی سزا

اب آئیے ان اعتراضات کی طرف جو زنا کی سزا سے متعلق نصوص کی تاویل وتفسیر کے ضمن میں مولانا محترم نے ہماری راے پر وارد کیے ہیں۔ یہاں بنیادی طور پر دونکتے زیر بحث ہیں:

ایک یہ کہ سورۂ نساء کی آیات ۱۵، ۱۶ میں 'واللاتی یاتین الفاحشۃ' اور 'والذان یاتیانہا' کا مصداق کون سے زانی ہیں اور پہلی آیت میں خواتین کو الگ ذکر کر کے ان کی سزا الگ بیان کرنے کی وجہ کیا ہے؟

دوسرا یہ کہ قرآن مجید میں زانی مرد وعورت کی سزا، شادی شدہ اور غیر شادی شدہ کے فرق کے بغیر، مطلقاً سو کوڑے بیان کیے جانے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول احادیث میں ازدواجی حیثیت کے اعتبار سے مجرموں میں فرق کرتے ہوئے شادی شدہ مجرموں پر رجم کی سزا نافذ کرنے کے مابین بظاہر جو تعارض دکھائی دیتا ہے، اس کی توجیہ کیا کی جا سکتی ہے؟

پہلے نکتے کے ضمن میں ہم نے آیات کے داخلی قرائن کی روشنی میں اس راے کو ترجیح دی ہے کہ یہاں زنا کا اتفاقیہ ارتکاب کرنے والے عام مجرم نہیں، بلکہ اس کو پیشہ اور عادت کے طو رپر اختیار کر لینے والے مجرم زیر بحث ہیں اور قرآن نے پہلی آیت میں پیشہ ور بدکار عورتوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کی تدبیر بیان کی جبکہ دوسری آیت میں یاری آشنائی کا مستقل تعلق قائم کر لینے والے جوڑوں کی تادیب وتنبیہ کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ ہم نے اس آیت کو اس نوعیت کے مجرموں سے متعلق قرار دینے کے لیے آیات سے دو قرینے پیش کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آیت ۱۶ میں زانی مرد وعورت کو اذیت دینے کا حکم بیان کرنے کے بعد یہ ہدایت کی گئی ہے کہ 'فان تابا واصلحا فاعرضوا عنہما'، یعنی اگر وہ توبہ اور صلاح کی روش اختیار کریں تو ان سے درگزر کیا جائے جس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن انھیں سزا دے دینے کے بعد بھی ان کی روش پر نظر رکھنے کا حکم دے رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ان سے اعراض کا طریقہ اسی وقت اختیار کیا جائے جب وہ توبہ اور اصلاح کر لیں۔ یہ اس امر کا صاف قرینہ ہے کہ مذکورہ مرد وعورت کے مابین مستقل یاری آشنائی کا تعلق ہے، کیونکہ اگر یہ اتفاقیہ زنا کا مرتکب جوڑا ہو تو انھیں اس پر ایک مرتبہ سزا دے دینا کافی ہے اور اس کے بعد ان کی روش پر مستقل نظر رکھنے کی ضرورت نہیں۔ دوسرا یہ کہ اسی ہدایت کے متصل بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کے حوالے سے اپنا یہ قانون بیان کیا ہے کہ جو مجرم جذبات کے غلبے میں گناہ کے مرتکب ہوں اور پھر فوراً نادم ہو کر توبہ کر لیں، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتے ہیں، لیکن جو گناہوں کو مستقل روش کے طور پر اختیار کر لیں اور توبہ کا خیال انھیں موت کو دیکھ کر ہی آئے، ان کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے نہیں۔ یہاں یہ تنبیہ بھی اس صورت میں زیادہ بر محل لگتی ہے جب پیچھے زنا کے عادی مجرموں کو موضوع بحث مانا جائے۔

مولانا محترم نے ہماری اس راے پر تنقید کرتے ہوئے مذکورہ دونوں قرائن سے تو کوئی تعرض نہیں کیا، البتہ یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ اس توجیہ کو ماننے کی صورت میں یہ تصور کرنا پڑے گا کہ ''ایک انتہائی صالح مسلمان معاشرہ میں جس کی تربیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کر رہے ہوں، اس میں ایسے مسلمان افراد بھی ہوں جو بدکاری کے اڈے چلا رہے ہوں یا جن کا ناجائز تعلق یاری آشنائی کی صورت میں روز مرہ کے معمول کی صورت اختیار کر چکا ہو۔'' مولانا کا فرمانا ہے کہ ''کوئی بھی باغیرت مسلمان اس تصور کو اپنے دل ودماغ میں جگہ نہیں دے سکتا۔'' (مقام عبرت، ص ۳۰)

تاہم مولانا محترم نے یہ سامنے کی بات نظر انداز کر دی ہے کہ عہد نبوی کے معاشرے نے اخلاقی تزکیہ وتطہیر کے سارے مراحل ایک ہی جست میں طے نہیں کر لیے تھے، اور اس معاشرے میں آپ کے تربیت یافتہ اور بلند کردار صحابہ کے علاوہ منافقین اور تربیت سے محروم کمزور مسلمانوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود تھی جو مختلف اخلاقی اور معاشرتی خرابیوں میں مبتلا تھی اور ان کی اصلاح وتطہیر کا عمل، جتنا بھی ممکن تھا، ایک تدریج ہی کے ساتھ ممکن تھا۔ اس طرح کے گروہوں میں نہ صرف پیشہ ورانہ بدکاری اور یاری آشنائی کے تعلقات کی مثالیں پائی جاتی تھیں بلکہ اپنی مملوکہ لونڈیوں کو زنا پر مجبور کر کے ان کے ذریعے سے کسب معاش کا سلسلہ بھی جاری وساری تھا، چنانچہ قرآن مجید کو اس تناظر میں اس بات کی باقاعدہ وضاحت کرنا پڑی کہ جن لونڈیوں کو اپنی مرضی کے خلاف مجبوراً اس دھندے میں ملوث ہونا پڑتا ہے، اللہ تعالیٰ ان سے کوئی مواخذہ نہیں کرے گا۔ سورۂ نور میں ارشاد ہوا ہے:

وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُونَ الْکِتَابَ مِمَّا مَلَکَتْ أَیْْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوہُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْْراً وَآتُوہُم مِّن مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ وَلَا تُکْرِہُوا فَتَیَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَاء إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّناً لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَمَن یُکْرِہہُّنَّ فَإِنَّ اللّٰہَ مِن بَعْدِ إِکْرَاہِہِنَّ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔(النور ۳۳)

''اور تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتبت کا معاملہ کرنا چاہیں، اگر تم ان کے اندر بھلائی دیکھو تو ان کے ساتھ مکاتبت کر لو، اور (مکاتبت کی رقم ادا کرنے کے لیے) انھیں وہ مال بھی دو جو اللہ نے تمھیں دیا ہے۔ اور تمہاری لونڈیاں اگر پاک دامنی اختیار کرنا چاہتی ہیں تو دنیا کی زندگی کا سامان حاصل کرنے کے لیے انھیں بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اور جو شخص انھیں مجبور کرے گا تو بے شک اللہ ان لونڈیوں کے مجبور کیے جانے کے بعد بخشنے والا، مہربان ہے۔''

اس آیت کے تحت امام طبری اور دوسرے ''باغیرت'' مفسرین نے متعدد ایسے واقعات نقل کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ منورہ میں عین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ مکروہ کاروبار جاری تھا۔ مجاہدؒ بیان کرتے ہیں:

کانوا یامرون ولائدہم یباغین یفعلن ذلک فیصبن فیاتینہم بکسبہن فکانت لعبد اللہ بن ابی ابن سلول جاریۃ فکانت تباغی فکرہت وحلفت ان لا تفعلہ فاکرہہا اہلہا فانطلقت فباغت ببرد اخضر فاتتہم بہ فانزل اللہ تبارک وتعالیٰ ولا تکرہوا فتیاتکم علی البغاء (تفسیر طبری، ۱۹/۱۷۶)

''لوگ اپنی لونڈیوں کو مامور کرتے تھے کہ وہ بدکاری کریں اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی لا کر اپنے مالکوں کو دیں۔ اسی طرح عبد اللہ بن ابی سلول کی بھی ایک لونڈی تھی جو بدکاری کیا کرتی تھی، پھر اسے اس سے نفرت ہو گئی اور اس نے قسم کھا لی کہ وہ ایسا نہیں کرے گی، لیکن اس کے مالکوں نے اسے مجبور کیا۔ چنانچہ وہ گئی اور بدکاری کر کے اس کے عوض میں ایک سبز رنگ کی چادر لائی اور انھیں دے دی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری کہ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبورنہ کرو۔''

مولانا محترم نے اسی طرح کے تخیلات کا اظہار آگے چل کر عہد نبوی میں زنا بالجبر کے امکان کے حوالے سے بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست مدینہ میں سرے سے اس بات کا کوئی امکان ہی نہیں تھا کہ کوئی شخص زنا بالجبر کا ارتکاب کر سکے۔ فرماتے ہیں:

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت اتنی کمزور تھی اور یہ منافق اتنے جری نہیں تھے کہ اعلانیہ لوگوں کی عزت وآبرو پر ہاتھ ڈال سکیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کر سکیں۔ وہ تو بس دبے لفظوں میں کچھ بے حیائی کے کلمات کہہ دیتے تھے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معمولی بے حیائی کو بھی برداشت نہیں کیا اور تنبیہ فرما دی۔'' (مقام عبرت، ص ۴۲)

ممکن ہے مولانا محترم کا یہ مفروضہ منافقین کے بارے میں درست ہو، لیکن جہاں تک مخلص اور خدا ترس اہل ایمان کا تعلق ہے تو مستند روایات کی رو سے وہ ایسا کرنے کی پوری پوری جرات رکھتے تھے۔ چنانچہ وائل بن حجر روایت کرتے ہیں کہ عہد نبوی میں ایک شخص نے نماز کے لیے مسجد جاتی ہوئی ایک خاتون کو راستے میں تنہا پا کر اسے پکڑ لیا اور زبردستی اس کے ساتھ بدکاری کر کے بھاگ گیا، تاہم بعد میں جب اس کے شبہے میں ایک دوسرے شخص کو پکڑ لیا گیا اوراس پر سزا نافذ کی جانے لگی تو اصل مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دے دیا۔ (ابوداؤد، قم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴)

جہاں تک بحث کے دوسرے نکتے یعنی قرآن کی بیان کردہ سزا پر جلا وطنی اور رجم کی سزا کے اضافے کا تعلق ہے تو مولانا محترم نے اس ضمن میں مختلف پہلووں سے ہماری راے میں آٹھ خرابیوں کی نشان دہی کی ہے۔ مولانا کے ارشادات کا بیشتر حصہ خلط مبحث اور سوء فہم پر مبنی ہے جس کی توضیح نہ صرف خاصی تطویل کی متقاضی ہے بلکہ اصل سوال یعنی قرآن اور سنت کے احکام میں تطبیق کے پہلو سے زیادہ مفید بھی نہیں، اس لیے یہاں ہم بحث کے اس حصے سے سردست صرف نظر کرتے ہوئے یہ دیکھتے ہیں کہ مولانا محترم نے اصل الجھن کا کیا حل پیش کیا ہے۔ مولانا محترم کی راے میں شریعت میں زنا کی سزا تین مرحلوں میں نازل کی گئی:

پہلے مرحلے میں سورۂ نساء کی آیات میں یہ کہا گیا کہ شادی شدہ عورتوں کو زنا کے ارتکاب پر گھروں میں محبوس کر دیا جائے، تاآنکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیا حکم آ جائے، جبکہ کنوارے زانیوں کو مناسب تعزیر کی جائے۔

دوسرے مرحلے میں عبادہ بن صامت کی روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی شدہ زانیوں کی سزا سو کوڑے اور رجم جبکہ کنوارے زانیوں کی سزا سو کوڑے اور جلا وطنی مقرر فرمائی۔

تیسر ے مرحلے پر سورۂ نور کی آیت نازل ہوئی جس میں کنوارے زانیوں کی سو کوڑے مقرر کرتے ہوئے جلاوطنی کی سزا کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی قرآن مجید میں رجم کی آیت بھی نازل کی گئی جس میں شادی شدہ زانیوں سے سو کوڑوں کی سزا کو منسوخ کر کے صرف رجم کی سزا برقرار رکھی گئی۔ بعد میں اس آیت کے الفاظ تو منسوخ کر دیے گئے، لیکن حکم باقی رکھا گیا۔

مولانا محترم کا ارشاد ہے کہ ان کی بیان کردہ اس توجیہ پر ان اعتراضات میں سے کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا جو ہم نے سابق اہل علم کی پیش کردہ مختلف توجیہات پر وارد کیے ہیں۔ (مقام عبرت، ص ۴۳) ان کے اس ارشاد سے ہمیں گمان ہوتا ہے کہ ہماری پیش کردہ معروضات ان کی سنجیدہ توجہ سے محروم رہی ہیں اور انھوں نے غالباً ان کا پوری طرح مطالعہ کیے بغیر ہی تنقید کے لیے قلم اٹھا لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا کی یہ توجیہ حسب ذیل مفروضات پرمبنی ہے:

۱۔ آیت نور صرف کنوارے زانیوں کی سزا بیان کرتی ہے۔

۲۔ رجم کی آیت قرآن میں نازل کیے جانے کے بعد اس کے الفاظ منسوخ کر دیے گئے جبکہ حکم برقرار رکھا گیا۔

ہم نے اپنی کتاب میں ان دونوں نکتوں کے حوالے سے اپنے اشکالات کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ قارئین کی دلچسپی کے لیے یہاں متعلقہ اقتباسات نقل کرنا مناسب ہوگا۔

پہلے نکتے پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے گزارش کی ہے کہ:

''اگر یہ کہا جائے کہ قرآن میں بیان ہونے والی سزا کے غیر شادی شدہ زانیوں کے ساتھ خاص ہونے کے لسانی یا عقلی قرائن خود قرآن میں موجود ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھی قرائن وشواہد سے یہ بات اخذ کی ہے تو زبان کی ابانت وبلاغت یہ تقاضا کرتی ہے کہ تخصیص کے ان قرائن کا فہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے ساتھ مخصوص نہ ہو بلکہ زبان کا معیاری اور عمدہ ذوق رکھنے والے اصحاب علم بھی ان قرائن کی مدد سے اسی نتیجے تک پہنچ سکیں، لیکن خود امام صاحب کے اعتراف کے مطابق یہ واضح ہے کہ ایسا کوئی قرینہ کلام میں موجود نہیں۔ ....

دوسری صورت یہ فرض کی جا سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اپنے کلام میں تو اس تخصیص کے قرائن نہ رکھے ہوں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی الگ سے یہ بتا دیا ہو کہ 'الزانیۃ والزانی' سے مراد صرف غیر شادی شدہ زانی ہیں۔ اس صورت میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کلام کے مدعا ومفہوم کے ابلاغ کے لیے یہ طریقہ اختیار کرنے کی آخر کیا ضرورت تھی؟ کیا قرآن کی زبان اس کی متحمل نہیں تھی کہ اس تخصیص کے قرائن کو اپنے اندر سمو سکتی؟ پھر یہ کہ جب قرآن نے زنا کی سزا کے بیان کو باقاعدہ موضوع بنایا ہے تو مجرم کے حالات کے لحاظ سے اس جرم کی جو مختلف سزائیں دینا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر تھا، ان کی وضاحت میں کیا چیز مانع تھی؟ قرآن کے اسلوب کا ایجاز مسلم ہے، لیکن عدت، وراثت اور قتل خطا وغیرہ کی مختلف صورتوں اور ان کے الگ الگ احکام کی تفصیل کا طریقہ خود قرآن میں اختیار کیا گیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ز

واقعہ یہ ہے کہ امام شافعی کا یہ نقطہ نظر قرآن مجیدکی زبان کی ابانت اور زبان وبیان کے اسالیب کے حوالے سے ایک عجیب الجھن پیدا کر دیتا ہے اور انھوں نے معاملے کو ضرورت سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کرنے (oversimplification) کی کوشش کی ہے جسے علمی بنیادوں پر قبول کرنا ممکن نہیں۔'' (حدود وتعزیرات، ص ۱۴۷، ۱۴۸)

دوسرے نکتے کے حوالے سے ہم نے عرض کیا ہے:

''ایک نقطہ نظر یہ پیش کیا گیا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی آیت خود قرآن مجید میں نازل ہوئی تھی جو بعد میں الفاظ کے اعتبار سے تو منسوخ ہو گئی، لیکن اس کا حکم باقی رہ گیا۔ اس موقف کے حق میں بناے استدلال بالعموم سیدنا عمر کی طرف منسوب ایک روایت کوبنایا جاتا ہے۔ ....سیدنا عمر کی طرف اس قول کی نسبت کے صحیح ہونے میں ایک اہم اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کے اس خطبے کے راوی عبد اللہ بن عباس ہیں، لیکن خود ان کی رائے قرآن مجید میں رجم کا کوئی باقاعدہ حکم نازل ہونے کے برعکس ہے۔ .... روایتوں سے واضح ہے کہ ابن عباس قرآن مجید میں واضح طور پر رجم کا حکم نازل ہونے کے قائل نہیں اور اس کے بجائے اسے اشارتاً قرآن میں مذکور مانتے اور اس کا اصل ماخذ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ فی الواقع سیدنا عمر کے مذکورہ خطبے کے راوی ہیں جس میں انھوں نے رجم کے قرآن مجید میں نازل ہونے کا ذکرکیا ہے تو پھر ان کا اس سے مختلف رائے قائم کرنا بظاہر سمجھ میں آنے والی بات نہیں۔

یہ روایات اس حوالے سے باہم متعارض ہیں کہ رجم کا حکم آیا قرآن مجید کی کسی باقاعدہ آیت کے طور پر نازل ہوا تھا یا قرآن سے باہر کسی الگ حکم کے طور پر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت باقاعدہ قرآن مجید کے ایک حصے کے طور پر نازل ہوئی تھی اور اسی حیثیت سے پڑھی جاتی تھی۔ .....اس کے برعکس بعض دوسری روایات یہ بتاتی ہیں کہ کہ یہ قرآن مجید سے الگ ایک حکم تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حین حیات میں اسے قرآن مجید میں لکھنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ .... بہرحال رجم کا حکم قرآن مجید میں نازل کیے جانے کے بعد اس سے نکال لیا گیا ہو یا ابتدا ہی سے اسے قرآن کا حصہ بنانے سے گریز کیا گیا ہو، دونوں صورتوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شارع کے پیش نظر اس کو ایک مستقل حکم کے طور پر برقرار رکھنا تھا تو مذکورہ طریقہ کیوں اختیارکیا گیا؟ اگر یہ مانا جائے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی آیت قرآن میں نازل ہونے کے بعد اس سے نکال لی گئی تو اس کی واحد معقول توجیہ یہی ہو سکتی ہے کہ اب یہ حکم بھی منسوخ ہو چکا ہے، ورنہ حکم کو باقی رکھتے ہوئے آیت کے الفاظ کو منسوخ کر دینے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی یہ حکم تو دیا گیا تھا لیکن اسے قرآن مجید کا حصہ بنانے سے بالقصد گریز کیا گیا تو بظاہر یہ اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ ایک وقتی نوعیت کا حکم تھا جسے ابدی شرعی احکام کی حیثیت سے برقرار رکھنا اللہ تعالیٰ کے پیش نظر نہیں تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں صرف اسی سزا کے بیان پر اکتفا کی جسے ابدی طور پر باقی رکھنا ضروری تھا۔'' (حدود وتعزیرات، ۱۵۶۔۱۵۹)

ان میں سے کوئی اشکال ایسا نہیں جو مولانا کی توجیہ سے حل ہوتا ہو یا انھوں نے اپنی تنقید میں اس سے کوئی تعرض ہی کیا ہو۔ اس وجہ سے مولانا محترم کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے اشکالات سے پاک کوئی توجیہ پیش کر دی ہے، ہماری لیے کسی طرح قابل فہم نہیں۔

مولانا محترم کی تنقید کے 'علمی' نکات کے حوالے سے تو ہمیں یہی گزارشات پیش کرنا تھیں، البتہ بحث کے آخر میں ، افسوس ہے کہ ہمیں ان کی ایک 'غیر علمی' بات پر بھی تبصرہ کرنا پڑ رہا ہے۔ مولانا محترم نے اپنی تنقید ہمیں بھجوائی اور اس سے اتفاق یا اختلاف کے ضمن میں ہماری راے بھی دریافت فرمائی۔ ہم نے ایک خط میں، جو 'الشریعہ' کے جنوری ۲۰۰۹ کے شمارے میں چھپ چکا ہے، اس بات پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ کہ انھوں نے ہماری آرا پرتنقید کرتے ہوئے علمی اسلوب اختیار کیا ہے، یہ گزارش بھی کی کہ ان کے اٹھائے ہوئے نکات فی نفسہ قابل قدر ہونے کے باوجود ایسے نہیں ہیں کہ ہم ان کی بنیاد پر سردست اپنی راے میں کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس کریں۔ مولانا محترم نے ہمارے اس جواب پر ''مایوس'' ہو کر اپنی یہ تحریر ایک کتابچے کی صورت میں شائع کی اور اس کی تقسیم کا اہتمام کیا جس کا انھیں پورا پورا حق ہے، تاہم اس کی ابتدا میں انھوں نے اپنی اس ساری کدوکاوش کا جو محرک اور مقصد بیان فرمایا ہے، وہ ہمارے نزدیک علمی، اخلاقی اور شرعی حدود سے متجاوز ہے۔ مولانا فرماتے ہیں:

''ہم نے فیصلہ کیا کہ قارئین کی خدمت میں اپنی بات رکھ دیں تاکہ وہ بھی ہماری ہم نوائی میں ہو کر خاندان صفدریہ کے ایک باصلاحیت فرد کو اپنی صلاحیتیں اور توانائیاں غلط راہوں میں صرف کرنے سے روکیں۔ ہم خاندان صفدریہ سے عموماً اور مولانا زاہد الراشدی مدظلہ سے خصوصاً مودبانہ درخواست کرتے ہیں کہ اصلاح احوال میں اپنی طرف سے کوئی کمی نہ کریں۔'' (ص ۲)

مولانا محترم کا یہ ارشاد اس بحث کو ایک علمی وفکری بحث نہیں رہنے دیتا، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ علمی وجمہوری اصولوں کے دائرے میں سوالات واشکالات کا سامنا کرنے کے بجائے جبر اور دباؤ کے ذریعے سے انھیں ''روکنے'' اور اختلافی آرا کے لیے اظہار وابلاغ کا حق تسلیم کرنے کے بجائے ان کی ''اصلاح احوال'' کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں۔ مزید ستم یہ ہے کہ وہ اسی طرز عمل کی توقع خاندان صفدریہ سے بھی فرما رہے ہیں، جس کے بزرگوں کی علمی وفکری کاوشوں کا طرۂ امتیاز ہی یہ ہے کہ فروعی فقہی مباحث تو کیا، ایمان واعتقاد کے دائرے میں بھی کسی بڑی سے بڑی غلطی پر تنقید کرتے ہوئے وہ علم واستدلال ہی سے کام لیتے اور استدلال کے ذریعے سے کسی بات کی غلطی واضح کر دینے تک ہی اپنے آپ کو محدود رکھتے ہیں۔ مولانا محترم جو طریقہ تجویز فرما رہے ہیں، اس کے پیچھے یقیناًان کا خلوص اور شریعت کی روایتی تعبیر کے درست ہونے پر کامل یقین کارفرما ہوگا، ا س لیے کہ مذہبی لوگوں کے ہاں یقین اور خلوص کا اعلیٰ ترین اظہار زبردستی اور دھونس ہی کی صورت میں ہوتا ہے، لیکن انھیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ دین وشریعت کا فہم اور اس کی تعبیر وتشریح انسانی عقل کا وظیفہ ہے، اس لیے جب تک انسان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی ہے اور صدیوں سے 'کشتہ سلطانی وملائی وپیری' ہونے کے باوجود بہرحال کچھ نہ کچھ باقی ہے علمی وفکری سوالات بھی پیدا ہوتے رہیں گے، آرا وتعبیرات پر نظر ثانی کی ضرورت بھی سامنے آتی رہے گی اور تقلیدی جمود کی عائد کردہ ساری قدغنوں کے علی الرغم علم وفکر بھی اپنے ارتقا کا سفر جاری رکھیں گے۔ اس سلسلے کو روکنے کی کوشش فطرت سے جنگ کے مترادف ہے، اس لیے ایسی کوئی کوشش نہ اس سے پہلے کبھی کامیاب ہوئی ہے اور نہ ان شاء اللہ آئندہ اس کے کامیاب ہونے کا کوئی امکان ہے۔

ہمیں اس سے انکار نہیں کہ پہلے کی طرح ان نئی آرا میں بھی راہ راست سے انحراف اور اختلاف کے جائز حدود سے تجاوز کی مثالیں پائی جائیں گی، لیکن یہ کوئی معقول طریقہ نہیں ہے کہ آپ جسم کو پھوڑے سے بچانے کے لیے خود جسم ہی کی فطری نشوونما کا راستہ روک دیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امت مسلمہ کی علمی روایت کی پختگی اور صلابت پر ہمارا یقین روایتی طرز فکر کے علما سے زیادہ ہے، اس لیے کہ علما کوئی بھی نئی راے سامنے آنے پر فوراً اس خوف کا شکار ہو جاتے ہیں کہ اس سے دین وشریعت کی تحریف کا راستہ کھل جائے گا، جبکہ ہمیں اس بات پر پورا اطمینان ہے کہ کوئی ایسی راے جو ہماری علمی روایت کے بنیادی مسلمات اور اس کے فکری مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو، اس روایت کے اندر اپنی جگہ بنا ہی نہیں سکتی۔ یہ روایت اتنی مستحکم اور مضبوط ہے کہ ہم جیسے طالب علموں کا تو کیا شمار، اگر ابن تیمیہ اور شاہ ولی اللہ کی سطح کے اکابر بھی ایسی کوئی بات کہیں گے تو علمی روایت اسے صاف صاف اگل دے گی۔ اس لیے صحیح ذہنی رویہ یہ ہے کہ آپ تحفظات اور خدشات کے خول سے باہر نکل کر علمی آرا اور افکار کی تنقیح وتہذیب کے اس عمل میں مثبت طور پر شریک ہو جائیں۔ کسی نئی بات میں وزن محسوس ہو تو کمزور نفسیات کا شکار ہو کر اسے قبول کرنے سے گریز نہ کریں، بات کمزور نظر آئے تو علمی طریقے پر اس کی غلطی واضح کریں، کوئی خلا ہو تو اس کی نشان دہی کریں، کوئی حقیقی علمی اصول پامال ہو رہا ہو تو نقد ومحاسبہ کا حق استعمال کریں یہ سب کریں، لیکن شکوہ، شکایت، جھنجھلاہٹ، بے چینی اور اضطراب میں مبتلا نہ ہوں اور نہ علم واستدلال کی میزان کی جگہ فتووں کا ہتھیار ہاتھ میں لے کر فکر ونظر کے ارتقا پر 'حکم' بننے کی کوشش کریں۔