نفاذ شریعت


بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جمہوریت اسلام کے لیے ایک اجنبی تصور ہے۔ حکومت قائم کرنے کا مثالی طریقہ اسلام کی رو سے وہی ہے جو طالبان نے افغانستان میں ملا عمر کی حکومت قائم کرنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ آئین، پارلیمان اور انتخابات، یہ سب دور جدید کے خرافات ہیں۔ اسلام اپنے نفاذ کے لیے اِن میں سے کسی چیز کا پابند نہیں ہے۔ اُس کی جو تعبیر فقہ حنفی میں ہو چکی ہے، ہمارے لیے وہی حتمی ہے۔ فقہا کے اجتہادات بھی مدون ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق فقہا نے اپنے فیصلے مرتب کر دیے ہیں۔ یہ سب قرآن، سنت، اجماع اور قیاس کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں اور فقہ و فتاویٰ کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اِنھیں نافذ ہونا چاہیے۔ اِس کے لیے کسی پارلیمان سے منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کا جو طریقہ یہ حضرات تجویز کرتے ہیں، وہ یہ ہے کہ ریاست کے تمام اداروں پر عدلیہ کی بالا دستی قائم ہو اور عدلیہ علما کے حوالے کر دی جائے، اِس لیے کہ اسلامی شریعت کے ماہرین وہی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گذشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ اُن کی پشت پر ہے۔ سلطنت عباسیہ کے قاضی القضاۃ (Chief Justice) کی حیثیت سے امام ابویوسف کے تقرر کے بعد ہر جگہ یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔ اِسے مغربی استعمار نے ختم کیا تھا۔ مسلمان اب آزاد ہیں، لہٰذا نظم ریاست کو شریعت کے مطابق چلانے کا یہ طریقہ بھی بحال ہونا چاہیے۔

اسلام کو جو کچھ میں نے سمجھا ہے، اُس کی بنا پر پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ قرآن اِس نقطۂ نظر کو قبول نہیں کرتا۔ نظم ریاست کو چلانے کا جو طریقہ اُس نے بتایا ہے، وہ جمہوریت ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے: 'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ'، ''مسلمانوں کے معاملات اُن کے باہمی مشورے سے چلائے جاتے ہیں۔'' سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اِسی کی وضاحت میں فرمایا ہے: ''جس نے مسلمانوں کی راے کے بغیر کسی کی بیعت کی، وہ اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کرے گا۔'' ہماری تاریخ میں اِس مقصد سے بادشاہت کا طریقہ بھی اختیار کیا گیا ہے اور آمریت کا بھی اور ہمارے بعض گروہ اِس بات کے بھی قائل رہے ہیں کہ حکومت کے سربراہ کو خدا کا مامور ہونا چاہیے، لیکن نظم ریاست کو چلانے کے لیے قرآن کا مقرر کردہ قاعدہ یہی ہے۔ اپنی نوعیت اور فطرت کے لحاظ سے یہ قاعدہ جن چیزوں کا تقاضا کرتا ہے، دور حاضر کے ایک جلیل القدر عالم مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی نے اپنی تفسیر میں بیان فرمائی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

''اول یہ کہ اجتماعی معاملات جن لوگوں کے حقوق اور مفاد سے تعلق رکھتے ہیں، اُنھیں اظہارراے کی پوری آزادی حاصل ہو اور وہ اِس بات سے پوری طرح باخبر رکھے جائیں کہ اُن کے معاملات فی الواقع کس طرح چلائے جا رہے ہیں اور اُنھیں اِس امر کا بھی پورا حق حاصل ہو کہ اگر وہ اپنے معاملات کی سربراہی میں کوئی غلطی یا خامی یا کوتاہی دیکھیں تو اُس پر ٹوک سکیں ، احتجاج کر سکیں اور اصلاح ہوتی نہ دیکھیں تو سربراہ کاروں کو بدل سکیں ۔ لوگوں کا منہ بند کر کے اور اُن کے ہاتھ پاؤں کس کر اور اُن کو بے خبر رکھ کر اُن کے اجتماعی معاملات چلانا صریح بددیانتی ہے، جسے کوئی شخص بھی 'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ' کے اصول کی پیروی نہیں مان سکتا ۔

دوم یہ کہ اجتماعی معاملات کو چلانے کی ذمہ داری جس شخص پر بھی ڈالنی ہو ، اُسے لوگوں کی رضا مندی سے مقرر کیا جائے اور یہ رضا مندی اُن کی آزادانہ رضا مندی ہو ۔ جبر اور تخویف سے حاصل کی ہوئی یا تحریص و اطماع سے خریدی ہوئی یا دھوکے اور فریب اور مکاریوں سے کھسوٹی ہوئی رضا مندی ، درحقیقت رضا مندی نہیں ہے ۔ ایک قوم کا صحیح سربراہ وہ نہیں ہوتا جو ہرممکن طریقے سے کوشش کر کے اُس کا سربراہ بنے، بلکہ وہ ہوتا ہے جس کو لوگ اپنی خوشی اور پسند سے اپنا سربراہ بنائیں ۔

سوم یہ کہ سربراہ کار کو مشورہ دینے کے لیے بھی وہ لوگ مقرر کیے جائیں جن کو قوم کا اعتماد حاصل ہو اور ظاہر بات ہے کہ ایسے لوگ کبھی صحیح معنوں میں حقیقی اعتماد کے حامل قرار نہیں دیے جا سکتے جو دباؤ ڈال کر یا مال سے خرید کر یا جھوٹ اور مکر سے کام لے کر یا لوگوں کو گمراہ کر کے نمائندگی کا مقام حاصل کریں۔

چہارم یہ کہ مشورہ دینے والے اپنے علم اور ایمان و ضمیر کے مطابق راے دیں اور اِس طرح کے اظہارراے کی اُنھیں پوری آزادی حاصل ہو ۔ یہ بات جہاں نہ ہو ،جہاں مشورہ دینے والے کسی لالچ یا خوف کی بنا پر یا کسی جتھا بندی میں کسے ہوئے ہونے کی وجہ سے خود اپنے علم اور ضمیر کے خلاف راے دیں ، وہاں درحقیقت خیانت اور غداری ہو گی ، نہ کہ 'اَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَھُمْ ' کی پیروی ۔

پنجم یہ کہ جو مشورہ اہل شوریٰ کے اجماع (اتفاق راے )سے دیا جائے یا جسے اُن کے جمہور (اکثریت) کی تائید حاصل ہو، اُسے تسلیم کیا جائے ۔ کیونکہ اگر ایک شخص یا ایک ٹولہ سب کی سننے کے بعد اپنی من مانی کرنے کا مختار ہو تو مشاورت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہا ہے کہ : ''اُن کے معاملات میں اُن سے مشورہ لیا جاتا ہے''بلکہ یہ فرما رہا ہے کہ: ''اُن کے معاملات آپس کے مشورے سے چلتے ہیں ۔''اِس ارشاد کی تعمیل محض مشورہ لے لینے سے نہیں ہو جاتی ،بلکہ اِس کے لیے ضروری ہے کہ مشاورت میں اجماع یا اکثریت کے ساتھ جو بات طے ہو، اُسی کے مطابق معاملات چلیں ۔'' (تفہیم القرآن ۴/۵۰۹)

اِس سے واضح ہے کہ ریاست سے متعلق دین نے بھی کوئی حکم اگر دیا ہے تو اُس کی تعبیر و تشریح کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ دینی علوم کے ماہرین اپنی اپنی تشریحات پیش کر سکتے ہیں۔ اُن کا حق ہے کہ اپنے موقف کا اظہار کریں، مگر اُن کے اِس موقف کو لوگوں کے لیے واجب الاطاعت قانون کی حیثیت اُسی وقت حاصل ہو گی، جب اُن کے منتخب نمائندوں کی اکثریت اُسے قبول کر لے گی۔ جدید ریاست میں پارلیمان کا ادارہ اِسی مقصد سے قائم کیا جاتا ہے۔ ریاست کے نظام میں آخری فیصلہ اُسی کا ہے اور اُسی کا ہونا چاہیے۔ لوگوں کا حق ہے کہ پارلیمان کے فیصلوں پر تنقید کریں اور اُن کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کرتے رہیں، لیکن اُن کی خلاف ورزی اوراُن سے بغاوت کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہے۔علما ہوں یا ریاست کی عدلیہ، پارلیمان سے کوئی بالاتر نہیں ہو سکتا۔ ہر ادارہ پابند ہے کہ اُس کے فیصلوں سے اختلاف کے باوجود عملاً اُن کے سامنے سرتسلیم خم کر دے۔

پارلیمان کی یہ حیثیت تسلیم کر لی جائے تو ''اسلامی ریاست'' اور ''سیکولر ریاست'' کی تعبیرات بھی غیرمتعلق ہو جاتی ہیں۔ اِس طرح کی چیزیں شخصی حکومتوں کے لیے ضروری تھیں۔ ہماری جدوجہد کا محور ایک خالص جمہوری ریاست ہونا چاہیے۔ یہ ریاست اگر ایک مرتبہ قائم ہو جائے تو لوگ جتنے مسلمان ہوں گے، اسلام اُسی کے بقدر اُن کی ریاست کے نظام میں ظہورپذیر ہو جائے گا۔ اِس کا فطری طریقہ یہی ہے۔ اِس سے ہٹ کر جو کچھ کیا جائے گا، اُس کا نتیجہ منافقت ہوگی جس کا تجربہ ہم گذشتہ نصف صدی سے پاکستان میں کر رہے ہیں۔

علماا ور مصلحین کا اصلی کام یہ ہے کہ تعلیم و تعلم کے ذریعے سے وہ عوام و خواص کے اذہان اِس کے لیے تیار کریں۔ اُنھیں حکمت کے ساتھ اور موعظۂ حسنہ کے اسلوب میں اِس کی دعوت دیں، اُن کے سوالات کا سامنا کریں، اُ ن کے اشکالات دور کریں اور دلائل کے ساتھ اُنھیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت کیوں دی ہے؟ اجتماعی زندگی کے ساتھ اُس کا کیا تعلق ہے؟ اُس میں احکام کی بنیاد کیا ہے اور دورحاضر کا انسان اُس کو سمجھنے میں دقت کیوں محسوس کرتا ہے؟ اُس کی تفہیم و تبیین کے لیے ایسے اسالیب اختیار کریں جن سے اُس کی حکمت، معنویت اور اُس کے مقاصد لوگوں پر واضح ہوں اور اُن کے دل و دماغ پورے اطمینان کے ساتھ اُسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ قرآن میں اُن کا منصب دعوت و انذار قرار دیا گیا ہے، وہ اپنی قوم کے لیے داروغہ نہیں بنائے گئے کہ اپنے پیروکاروں کے جتھے منظم کر کے بندوق کے زور پر اُسے شریعت کا پابند بنانے کی کوشش کریں۔ علما تو ایک طرف، ریاست کا نظم اجتماعی بھی نماز اور زکوٰۃ کے سوا دین کے ایجابی تقاضوں میں سے کوئی چیز لوگوں پر قانون کی طاقت سے نافذ نہیں کر سکتا۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ آخرت میں جواب دہی کے لحاظ سے اسلام کے مطالبات اپنے ماننے والوں سے خواہ کچھ ہوں، اُن کی ریاست جو مطالبات اُن سے کر سکتی ہے، وہ یہی ہیں۔ اِن کے علاوہ یہ صرف تبلیغ و تلقین اور تعلیم و تدریس ہے جس کے ذریعے سے اُن کی اصلاح کی جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ علما اگر سیاست سے دل چسپی رکھتے ہوں تو سیاسی جماعتیں موجود ہیں، وہ اُن میں شامل ہو کر پارلیمان میں پہنچ سکتے اور قانون سازی کے لیے مقرر کردہ طریقوں کے مطابق قانون کی اسلامی تشکیل کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔