نہی عن المنکر


ایمان کا ایک لازمی تقاضا یہ بھی ہے کہ لوگوں کو بھلائی کی تلقین کی جائے اور برائی سے روکا جائے۔ یہ تلقین کرنا اور روکنا، دونوں حکمت و موعظت کے ساتھ اور دعوت و نصیحت کے اسلوب میں ہونے چاہییں۔ لوگوں کی ہدایت اور گمراہی کا معاملہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ وہ اُن کو بھی جانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور اُن کو بھی جو ہدایت پانے والے ہیں، اِس لیے حق و انصاف کی دعوت کے لیے نہ کسی شخص کو داروغہ بننا چاہیے اور نہ اپنے مخاطبین کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے صادر کرنے چاہییں۔ قرآن اِس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ داعی حق کی حیثیت سے خدا کے کسی پیغمبر کو بھی تذکیر و نصیحت اور بلاغ مبین سے آگے کسی اقدام کی اجازت نہیں دی گئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَکِّرٌ، لَسْتَ عَلَیْھِمْ بِمُصَیْطِرٍ.(الغاشیہ ۸۸: ۲۱۔۲۲)

''تم نصیحت کرنے والے ہو، تم اِن پر کوئی داروغہ نہیں ہو۔''

دائرۂ اختیار کا معاملہ، البتہ مختلف ہے۔ سن رشد کو پہنچنے کے بعد آدمی کسی عورت کا شوہر اور اِس کے نتیجے میں بچوں کا باپ بنتا ہے۔ بنی آدم کی یہ دونوں حیثیتیں دین و فطرت کی رو سے اُن کا ایک دائرۂ اختیار پیدا کرتی ہیں۔ یہی صورت اداروں اور حکومتوں کی ہے۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہیں تو اِن کے سربراہوں کے لیے بھی ایک دائرۂ اختیار پیدا ہو جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی دائرے کے اندر ہونے والی برائیوں کے بارے میں فرمایا ہے:

من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ، فان لم یستطع فبلسانہ، فان لم یستطع فبقلبہ،وذلک اضعف الایمان.(مسلم، رقم ۱۷۷)

''تم میں سے کوئی شخص برائی دیکھے تو اُسے چاہیے کہ ہاتھ سے اُس کا ازالہ کرے۔ پھر اگر اِس کی ہمت نہ

ہو تو زبان سے اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو دل سے اُسے ناگوار سمجھے اور یہ ایمان کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔''

برائی کے لیے اِس روایت میں 'منکر' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد وہ برائیاں نہیں ہیں جو خالص مذہبی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں، بلکہ وہ برائیاں ہیں جنھیں پوری انسانیت بلا امتیاز مذہب و ملت برائی سمجھتی ہے۔ چوری، جھوٹ، بددیانتی، غبن، خیانت، ناپ تول میں کمی، ملاوٹ، حق تلفی، فواحش، جان، مال اور آبرو کے خلاف زیادتی اور اِس نوعیت کی دوسری برائیوں کوعربی زبان میں لفظ 'منکر' سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اِنھی برائیوں سے متعلق ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا جو حکم قرآن میں بیان ہوا ہے، یہ اُسی کی فرع ہے۔ آپ نے تنبیہ فرمائی ہے کہ اِن برائیوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں دل سے بھی برا نہیں سمجھو گے تو اِس سے آگے پھر ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے۔

'ان لم یستطع' کے جو الفاظ اِس روایت میں آئے ہیں، اُن کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ اُن سے مراد وہ استطاعت نہیں ہے جو آدمی کو کسی چیز کا مکلف ٹھیراتی ہے، اِس لیے کہ اُس کے نہ ہونے سے وہ اگر کسی حکم پر عمل نہیں کرتا تو ایمان کے کسی نچلے درجے میں نہیں آجاتا۔ روایت میں یہ الفاظ ہمت اور حوصلے کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں جو ایمان کی قوت اور کمزوری سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ یہ صرف دائرۂ اختیار ہے جس میں کوئی شخص اگر برائی کو ہاتھ سے نہیں روکتا تو اُس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایمان کے پہلے درجے پر نہیں رہا، اِس لیے کہ اختیار و اقتدار کے باوجود اُس نے برائی کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ اِس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہیں کہ ایمان کے اِس درجے کو پانے کے لیے لوگ اپنے پیرووں کے جتھے منظم کریں اور ازالۂ منکر کی غرض سے نکل کھڑے ہوں۔ اِس طرح کا اقدام اگر کیا جاتا ہے تو یہ بدترین فساد ہو گا جس کی دین میں کوئی گنجایش نہیں ہے۔ دین کے تمام احکام انسان کے اختیار اور اُس کی استطاعت کے لحاظ سے دیے گئے ہیں۔ 'لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا' * ایک قطعی اصول ہے جو دین و شریعت کے سارے احکام میں ملحوظ ہے۔ نہی عن المنکر کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کو اِسی اصول کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔

__________

* البقرہ ۲:۲۸۶۔ ''اللہ (اپنے احکام میں) کسی جان پر اُس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔''