قانون عبادات (10)


نفل نمازیں

نماز کی صورت میں کم سے کم عبادت یہی ہے جس کا مسلمانوں کو مکلف ٹھیرایا گیا ہے۔ تاہم قرآن کا ارشاد ہے: ' ومن تطوع خیراً ، فإن اللّٰہ شاکر علیم' ۲۸۹؂ ( اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا، اللہ اسے قبول کرنے والا ہے، اس سے پوری طرح باخبر ہے)۔ اسی طرح فرمایا ہے کہ مصیبت کے موقعوں پر صبر اور نماز سے مدد چاہو، ' استعینوا بالصبر والصلوٰۃ'۔ ۲۹۰؂ چنانچہ ان ارشادات کے پیش نظر مسلمان اس لازمی نماز کے علاوہ بالعموم نوافل کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ اس طرح کے جو نوافل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھے ہیں یا لوگوں کو ان کے پڑھنے کی ترغیب دی ہے، ان کی تفصیلات یہ ہیں:

نماز سے پہلے

فجر سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بالعموم دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر نماز کے لیے نکلتے تھے۔ ۲۹۱؂ سیدہ حفصہ کا بیان ہے کہ آپ یہ رکعتیں فجر کا وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔ ۲۹۲؂ سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ میں نے آپ کو ان سے زیادہ کسی چیز پر مداومت کرتے نہیں دیکھا۔ ۲۹۳؂ انھی کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا: فجر کی یہ رکعتیں دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔ ۲۹۴؂

ظہر سے پہلے آپ کبھی دو اور کبھی چار رکعتیں پڑھتے تھے۔ ۲۹۵؂

مغرب سے پہلے غالباً آپ نے خود تو کوئی نماز نہیں پڑھی، لیکن لوگوں کو ترغیب دی ہے کہ اللہ توفیق دے تو وہ اس وقت بھی دو رکعت نماز پڑھیں۔ ۲۹۶؂ چنانچہ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ زمانۂ رسالت میں صحابۂ کرام بالعموم اس کا اہتمام کرتے تھے۔ ۲۹۷؂

نماز کے بعد

ظہر، مغرب اور عشا کے بعد آپ کا معمول تھا کہ نماز سے فارغ ہو کر گھر آتے تو دو رکعتیں پڑھتے۔ ۲۹۸؂ جمعہ کی نماز کے بعد بھی آپ کا عام طریقہ یہی تھا۔ ۲۹۹؂ ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ لوگوں کو آپ نے جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھنے کے لیے بھی کہا ہے۔ ۳۰۰؂ اسی طرح ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھنے کی فضیلت بھی روایتوں میں بیان ہوئی ہے۔ ۳۰۱؂

نماز سے پہلے اور بعد کی ان رکعتوں میں سے فجر کی دو، ظہر کی چھ اور مغرب اور عشا کے بعد کی دو رکعتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے ان بارہ رکعتوں کا اہتمام کیا، اللہ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا۔ ۳۰۲؂

ان کے علاوہ وضو اور اذان کے بعد دو رکعت نماز کی فضیلت بھی آپ سے منقول ہے۔ ۳۰۳؂ سفر سے واپسی پر آپ کے دو رکعت نماز پڑھنے کا ذکر بھی روایتوں میں ہوا ہے۔ ۳۰۴؂ گناہوں سے توبہ اور استخارے کی غرض سے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھ کر دعا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ۳۰۵؂ استخارے کی یہ دعا درج ذیل ہے:

اللّٰہم إنی أستخیرک بعلمک، وأستقدرک بقدرتک، وأسئلک من فضلک العظیم، فإنک تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغیوب. اللّٰہم إن کنت تعلم أن ہذا الأمر خیر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاقدرہ لی ویسرہ لی، ثم بارک لی فیہ، وإن کنت تعلم أن ہذا الأمر شر لی فی دینی ومعاشی وعاقبۃ أمری، فاصرفہ عنی واصرفنی عنہ، واقدر لی الخیر، حیث کان، ثم رضنی بہ. ۳۰۶؂

'' اے اللہ، میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے واسطے سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل عظیم کا سوال کرتا ہوں، اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، اور تو جانتا ہے، میں نہیں جانتا، اور تو علام الغیوب ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے بہتر ہے تو اسے میرے لیے مقدر کردے اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے دین اور میری زندگانی اور میرے انجام کار کے لحاظ سے برا ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ ( پروردگار)، میرے لیے خیر کو مقدر فرما، وہ جہاں کہیں بھی ہو، پھر مجھے اس سے راضی کر دے۔''

چاشت کے وقت

چاشت کے وقت بھی آپ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھنے کی ترغیب دی ہے ۔ ۳۰۷؂ ارشاد فرمایا ہے: صبح ہوتے ہی تم میں سے ہر ایک کے جوڑ بند پر صدقہ لازم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ آدمی کرنا چاہے تو ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، نیکی کی تلقین صدقہ ہے ، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور اگر چاشت کے وقت دو رکعتیں پڑھ لی جائیں تو وہ ان سب چیزوں سے کفایت کر جاتی ہیں۔ ۳۰۸؂

تاہم خود آپ نے یہ نماز پڑھی ہے یا نہیں؟ اس کی روایتیں باہم متضاد ہیں، لہٰذا ان کی بنیاد پر کوئی حتمی بات نہیں کہی جا سکتی۔

گرہن کے موقع پر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات سورج کو گرہن لگا تو اس موقع پر بھی آپ نے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی ہے۔ روایتوں میں ہے کہ اس نماز میں آپ نے بلند آواز سے قرآن پڑھا، بہت لمبے رکوع وسجود کیے اور قیام میں بھی بڑی دیر تک حمد و ثنا، تسبیح وتحلیل اور دعا ومناجات کرتے رہے، بلکہ گہن چھٹنے کے انتظار میں دونوں رکعتوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ رکوع اور قیام کیا۔ پھر نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: سورج او رچاند اللہ کی دو نشانیاں ہیں۔ یہ کسی کے جینے اور مرنے سے نہیں گہناتے، بلکہ اللہ اس طرح کی چیزوں سے اپنے بندوں کو متنبہ کرتا ہے۔ لہٰذا اسے دیکھو تو اللہ سے دعا کرو، اس کی بڑائی بیان کرو، نماز پڑھو اور اس کی راہ میں صدقہ کرو۔ ۳۰۹؂

بارش کی دعا کے لیے

بارش کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو رکعت نماز پڑھانے کا ذکر روایتوں میں ہوا ہے۔ اسے نماز استسقا کہا جاتا ہے۔ روایتوں میں ہے کہ یہ نماز بھی جہری قرأت کے ساتھ پڑھی گئی ، اور نماز سے پہلے آپ قبلے کی طرف منہ کرکے اور ہاتھ اٹھا کر دیر تک دعا کرتے رہے۔ ۳۱۰؂ اس موقع پر جو دعائیں آپ نے کی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:

اللّٰہم اسقنا غیثاً مغیثاً، مرئیاً مریعاً، نافعاً غیر ضار، عاجلاً غیر أجل. ۳۱۱؂

'' اے اللہ، ہمیں ایسی بارش سے سیراب کر جو ہماری فریاد رسی کرے؛ جس کا انجام اچھا ہو؛ جس سے ارزانی ہو جائے؛ جس سے نفع پہنچے، نقصان نہ پہنچے ؛ جلدی آنے والی ہو، دیر نہ کرے۔''

رات کی تنہائی میں

شب وروز کی پانچ نمازوں کے علاوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات میں ایک اور نماز بھی لازم کی گئی تھی۔ اسے بالعموم صلوٰۃ اللیل یا تہجد کی نماز کہا جاتا ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے ' نافلۃ لک' ۳۱۲؂ کے الفاظ سے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ پھر سورۂ مزمل میں مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آپ کو انذار عام کا حکم دیا تو اس کے لیے بطور خاص اس نماز کی ہدایت فرمائی۔ قرآن کا ارشاد ہے:

یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ، قُمِ الَّیْلَ اِلاَّ قَلِیْلاً، نِّصْفَہٗ اَوِ انْقُصْ مِنْہُ قَلِیْلاً، اَوْزِدْ عَلَیْہِ وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلاً، اِنَّا سَنُلْقِیْ عَلَیْکَ قَوْلاً ثَقِیْلاً، اِنَّ نَاشِءَۃَ الَّیْلِ ہِیَ اَشَدُّ وَطْاً وَّاَقْوَمُ قِیْلاً، اِنَّ لَکَ فِی النَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً، وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ وَتَبَتَّلْ اِلَیْہِ تَبْتِیْلاً. ( المزمل ۷۳: ۱۔۸)

'' اے اوڑھ لپیٹ کر بیٹھنے والے، رات کو کھڑے رہو، مگر تھوڑا۔ آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس پر کچھ بڑھا دو، اور (اپنی اس نماز میں) قرآن کو ٹھیر ٹھیر کر پڑھو۔ اس لیے کہ عنقریب ایک بھاری بات کا بوجھ ہم تم پر ڈال دیں گے۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ رات کا اٹھنا دل کی جمعیت اور بات کی درستی کے لیے بہت موزوں ہے۔ اس لیے کہ دن میں تو (اس کام کی وجہ سے) تمھیں بہت مصروفیت رہے گی۔ (لہٰذا اس وقت پڑھو) اور اپنے رب کے نام کا ذکر کرو، اور (رات کی اس تنہائی میں) سب سے ٹوٹ کر اسی کے ہو رہو۔''

عام مسلمانوں کے لیے یہ ایک نفل نماز ہے او رجنھیں اللہ تعالیٰ توفیق دے، ان کے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں اس کا اہتمام کریں۔ بیان کیا گیا ہے کہ آپ اس نماز کی زیادہ سے زیادہ گیارہ رکعتیں پڑھتے اور اس میں بہت لمبا رکوع و سجود اور قیام کرتے تھے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض روایتوں میں تیرہ رکعتوں کا ذکر بھی ہوا ہے، لیکن اس کے بارے میں صحیح بات یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ نماز چونکہ فرض تھی، اس لیے آپ کبھی کبھی اس سے پہلے یا اس کے بعد اسی طرح دو رکعت نفل نماز پڑھتے تھے، جس طرح ہم ، مثلاً فجر سے پہلے یا مغرب کے بعد یہ نفل پڑھتے ہیں، لیکن بعض لوگوں نے غلطی سے اسے اصل کے ساتھ شامل سمجھ لیا۔ ۳۱۳؂ اس باب میں بنیادی حیثیت جس روایت کو حاصل ہے، وہ یہ ہے:

عن أبی سلمۃ بن عبد الرحمن أنہ أخبرہ أنہ سأل عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا: کیف کانت صلوٰۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی رمضان؟ فقالت: ما کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یزید فی رمضان، ولا فی غیرہ، علیٰ احدیٰ عشرۃ رکعۃ. (بخاری، رقم

۱۱۴۷)

'' عبد الرحمن کے بیٹے ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے سیدہ عائشہ سے پوچھا: رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیا ہوتی تھی؟ سیدہ نے جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ رمضان میں کبھی گیارہ رکعت سے زیادہ پڑھتے تھے او رنہ رمضان کے علاوہ دوسرے دنوں میں۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول وفعل سے اس نماز کے جو طریقے ثابت ہیں ، وہ یہ ہیں:

۱۔ دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر ایک رکعت سے یہ نماز وتر کر دی جائے۔ ۳۱۴؂

۲۔ دو دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا جائے، پھر پانچ رکعتیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ان میں قعدہ صرف آخری رکعت میں کیا جائے ۔ ۳۱۵؂

۳۔ چار چار رکعتیں عام طریقے سے پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر تین رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے اور اس کے بعد سلام پھیرا جائے۔ ۳۱۶؂

۴۔ دو یا چار یا چھ یا آٹھ رکعتیں قعدے کے بغیر مسلسل پڑھ کر آخری رکعت میں قعدہ کیا جائے، پھر سلام پھیرے بغیر اٹھ کر ایک رکعت پڑھی جائے اور قعدے کے بعد سلام پھیرا جائے ۔ ۳۱۷؂

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نماز میں پہلے سراً وجہراً، دونوں طریقوں سے قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی تھی، بعد میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ان کے بین بین کا لہجہ اختیار کیا جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَلَا تَجْہَرْ بِصَلَاتِکَ، وَلَا تُخَافِتْ بِہَا، وَابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً. ( بنی اسرائیل ۱۷: ۱۱۰)

'' اور اپنی اس رات کی نماز میں نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو ، اور نہ بہت پست آواز سے، بلکہ ان دونوں کے بین بین کا لہجہ اختیار کرو۔''

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے صحابہ کو بھی اسی کا پابند کیا۔ ابو قتادہ کی روایت ہے کہ حضور نے صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمھارے پاس سے گزرا تو تم ( رات کی نماز میں) بہت پست آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے جواب دیا: میں اسے سناتا ہوں جو میری سرگوشی سنتا ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے کچھ بلند کر لو۔ پھر آپ نے عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تمھارے پاس سے گزرا تو تم بہت بلند آواز سے قرآن پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے جواب دیا: میں سوتوں کو جگاتا اور شیطان کو بھگاتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : اسے کچھ پست کر لو۔ ۳۱۸؂

اس نماز کا اصل وقت ، جیسا کہ قرآن مجید کی سورۂ بنی اسرائیل اور سورۂ مزمل سے واضح ہے، سو کر اٹھنے کے بعد ہی کا ہے اور اسی وجہ سے اسے نماز تہجد کہا جاتا ہے۔ قرآن نے اسے حضوری کا وقت قرار دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات ہماری اس دنیا کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے تو فرماتے ہیں: اس وقت کون ہے جو مجھے پکارے کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں، کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے عطا کردوں، کون ہے جو مجھ سے مغفرت چاہے کہ میں اسے بخش دوں۔ ۳۱۹؂

تاہم کوئی شخص اگر یہ سعادت حاصل کرنے میں کسی وجہ سے کامیاب نہ ہو سکے تو وہ یہ نماز سونے سے پہلے بھی پڑھ سکتا ہے۔ سورۂ مزمل میں اس نماز سے متعلق تخفیف کی آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

اِنَّ رَبَّکَ یَعْلَمُ اَنَّکَ تَقُوْمُ اَدْنٰی مِنْ ثُلُثَیِ اللَّیْلِ، وَنِصْفَہٗ، وَثُلُثَہٗ، وَطَآءِفَۃٌ مِّنَ الَّذِیْنَ مَعَکَ، وَاللّٰہُ یُقَدِّرُ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ، عَلِمَ اأنْ لَّنْ تُحْصُوْہُ، فَتَابَ عَلَیْکُمْ، فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ، عَلِمَ اَنْ سَیَکُوْنُ مِنْکُمْ مَّرْضٰی، وَاٰخَرُوْنَ یَضْرِبُوْنَ فِی الْاَرْضِ یَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ، وَاٰخَرُوْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَاقْرَءُ وْا مَا تَیَسَّرَ مِنْہُ. (۷۳: ۲۰)

'' ( ہم نے، اے پیغمبر، تم کو حکم دیا تھا کہ رات میں قیام کرو)۔ تمھارا پروردگار بے شک اس بات سے واقف ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب، کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات، اس کے حضور میں کھڑے رہتے ہو، اور تمھارے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ بھی۔ اور اللہ ہی (لوگوں کی ضرورت کے لحاظ سے) رات اور دن کی تقدیر ٹھیراتا ہے۔ اس نے جان لیا کہ تم اسے نباہ نہ سکو گے تو اس نے تم پر عنایت کی نظر کی۔ چنانچہ اب قرآن میں سے جتنا ممکن ہو، ( اس نماز میں) پڑھ لیا کرو۔ اس کے علم میں ہے کہ تم میں بیمار بھی ہوں گے، اور وہ بھی جو خدا کے فضل کی تلاش میں سفر کریں گے، اور وہ بھی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے اٹھیں گے۔ اس لیے جتنا ممکن ہو، اس میں سے پڑھ لیا کرو۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے:

أیکم خاف أن لا یقوم من اٰخر اللیل، فلیؤتر ثم لیرقد، ومن وثق بقیام من اللیل، فلیؤتر من اٰخرہ، فان قرأۃ اٰخر اللیل محضورۃ، وذٰلک أفضل. ( مسلم، رقم ۱۶۳)

'' تم میں سے جسے اندیشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا، اسے چاہیے کہ سونے سے پہلے اپنی نماز وتر کرلے، لیکن جو یہ سمجھتا ہو کہ وہ یقیناًاٹھے گا، اسے یہ نماز رات کے آخری حصے ہی میں پڑھنی چاہیے۔ اس لیے کہ آخر شب کی قرأت روبرو ہوتی ہے اور وہی افضل ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نماز ہمیشہ تنہا پڑھتے تھے۔ تاہم رمضان کے کسی مہینے میں جب آپ تہجد کے لیے اٹھے اور مسجد میں بوریے کا جو حجرہ آپ رمضان میں بنا لیتے تھے، اس سے نکل کر باہر مسجد میں نماز پڑھی تو آپ کی اقتدا کے شوق میں عام مسلمان بھی نماز کے لیے جمع ہونے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو چند دنوں کے بعد یہ سلسلہ اس اندیشے سے منقطع کر دیا کہ آپ کی طرح مبادا یہ عام مسلمانوں پر بھی فرض قرار دے دی جائے۔

عروہ بن زبیر کی روایت ہے:

إن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا أخبرتہ أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم خرج لیلۃ من جوف اللیل، فصلی فی المسجد، وصلی رجال بصلوٰتہ، فأصبح الناس فتحدثوا، فاجتمع أکثر منہم فصلی فصلوا معہ، فأصبح الناس فتحدثوا، فکثر أہل المسجد من اللیلۃ الثالثۃ، فخرج رسول اللّٰہ فصلی بصلاتہ. فلما کانت اللیلۃ الرابعۃ، عجز المسجد عن أہلہ حتی خرج لصلوٰۃ الصبح، فلما قضی الفجر، أقبل علی الناس فتشہد، ثم قال: أما بعد، فإنہ لم یخف علی مکانکم، ولکن خشیت أن تفرض علیکم، فتعجزوا عنہا. (بخاری، رقم ۲۵۱۲)

'' سیدہ عائشہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت نکلے اور آپ نے مسجد میں نماز پڑھی۔ وہاں کچھ لوگ آپ کے ساتھ اس میں شریک ہو گئے۔ انھوں نے صبح اس کا ذکر کیا تو دوسرے دن زیادہ لوگ جمع ہو گئے۔ اس رات بھی آپ نے مسجد میں نماز پڑھی تو لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ نماز ادا کی۔ صبح پھر اس کا ذکر ہوا تو تیسری رات نمازیوں کی ایک بڑی تعداد مسجد میں آگئی۔ آپ اس رات پھر نکلے اور لوگوں نے آپ کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ پھر چوتھی رات ہوئی تو مسجد لوگوں سے اس طرح بھر گئی کہ اس میں کسی آنے والے کے لیے جگہ باقی نہ رہی۔ لیکن اس رات آپ صبح سے پہلے نہیں نکلے، بلکہ فجر ہی کے وقت باہر آئے۔ پھر فجر کی نماز کے بعد آپ نے اللہ کے ایک ہونے کی شہادت دی اور فرمایا: میں تم لوگوں کے آنے سے بے خبر نہ تھا، لیکن مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ کہیں تم پر فرض نہ کر دی جائے اور پھر تم اسے ادا نہ کر سکو ۔''

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت تک لوگ رمضان کے مہینے میں بھی گھروں اور مسجدوں میں اسے بالعموم اپنے طور پر ہی پڑھتے تھے، یہاں تک کہ وہ ایک دن مسجد کی طرف آئے تو انھوں نے دیکھا کہ لوگ مختلف ٹکڑیوں میں اس طرح یہ نماز پڑھ رہے ہیں کہ کوئی شخص تنہا تلاوت کر رہا ہے اور کچھ کسی امام کی اقتدا میں ہیں۔ اس نماز میں چونکہ تلاوت کچھ بلند آواز سے ہوتی ہے، اس وجہ سے مسجد میں عجیب بے نظمی کی کیفیت تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کے آداب کے لحاظ سے اسے پسند نہیں فرمایا اور ابی بن کعب کو اس نماز کے لیے لوگوں کا امام مقرر کر دیا۔ اس کے بعد ایک دوسری رات آپ پھر تشریف لائے، لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا تو فرمایا: یہ نئی چیز اچھی ہے، لیکن جس کو چھوڑ کر یہ سوئے رہتے ہیں، وہ اس سے بہتر ہے۔ ۳۲۰؂

روایت سے واضح ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نہ صرف یہ کہ لوگوں کے ساتھ اس نماز میں شامل نہیں ہوئے، بلکہ انھوں نے رات کے آخری حصے میں اٹھ کر تنہا یہ نماز پڑھنے کو اس سے بہتر قرار دیا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، کبھی گیارہ رکعتوں سے زیادہ نہیں پڑھی۔ تاہم اس کے لیے رکعتوں کی کوئی تعداد چونکہ متعین نہیں ہے، اس لیے جب ایک امام کا تقرر ہوا تو لوگ رمضان میں نماز تراویح کے نام سے اس نماز کی تئیس، بلکہ اس سے بھی زیادہ رکعتیں پڑھنے لگے۔ اس وقت سے اب تک مسلمانوں کا عام طریقہ یہی ہے اور ان میں سے زیادہ اب اس بات سے واقف بھی نہیں رہے کہ یہ درحقیقت تہجد ہی کی نماز ہے جسے وہ عشا کے ساتھ ملا کر پڑھ رہے ہیں۔

[باقی]

____________

۲۸۹ ؂ البقرہ ۲ : ۱۵۸۔

۲۹۰؂ البقرہ ۲: ۴۵۔

۲۹۱؂ بخاری، رقم ۵۹۳،۵۹۴۔ مسلم، رقم ۷۲۳۔

۲۹۲؂ مسلم، رقم ۷۲۳۔

۲۹۳؂ بخاری، رقم ۱۱۱۶۔ مسلم، رقم ۷۲۴۔

۲۹۴؂ مسلم، رقم ۷۲۵۔

۲۹۵؂ بخاری، رقم ۱۱۱۹۔ مسلم، رقم ۷۲۹، ۷۳۰۔

۲۹۶؂ بخاری، رقم ۱۱۲۸۔ ابو داؤد، رقم ۱۲۸۱۔

۲۹۷؂ بخاری، رقم ۱۱۲۹ ۔ مسلم، رقم ۸۳۶، ۸۳۷۔

۲۹۸؂ بخاری، رقم ۱۱۱۹۔مسلم، رقم ۷۳۰۔

۲۹۹؂ بخاری، رقم۸۹۵۔ مسلم، رقم ۸۸۲۔

۳۰۰؂ مسلم، رقم ۸۸۱۔

۳۰۱؂ ابو داؤد ، رقم ۱۲۶۹۔

۳۰۲؂ مسلم، رقم ۷۲۸۔

۳۰۳؂ بخاری، رقم ۱۰۹۸۔ مسلم، رقم۲۴۵۸۔ احمد، رقم ۸۳۸۴۔

۳۰۴؂ بخاری، رقم ۲۹۲۱، ۲۹۲۲۔ مسلم، رقم ۷۱۶۔

۳۰۵؂ ابو داؤد، رقم ۱۵۲۱۔ بخاری، رقم ۱۱۰۹۔

۳۰۶؂ بخاری، رقم ۱۱۰۹۔

۳۰۷؂ بخاری،رقم ۱۱۷۸۔ مسلم ،رقم ۷۲۱۔

۳۰۸؂ مسلم ، رقم ۷۲۰۔

۳۰۹؂ بخاری، رقم ۹۹۷، ۹۹۹، ۱۰۱۶۔ مسلم، رقم ۹۰۱۔

۳۱۰؂ بخاری، رقم ۹۷۸، ۹۷۹۔ مسلم، رقم ۸۹۴۔ روایتوں میں اس موقع پر تحویل ردا کا ذکر بھی ہوا ہے اور لوگوں نے بالعموم اسے عبادت کا حصہ قرار دیا ہے۔ لیکن اس طرح کی کسی چیز کو ، ظاہر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی صراحت کے بغیر یہ حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

۳۱۱؂ ابوداؤد، رقم ۱۱۶۹۔

۳۱۲؂ بنی اسرائیل ۱۷: ۷۹۔

۳۱۳؂ بخاری، رقم ۹۴۷، ۱۰۸۷۔ مسلم، رقم ۷۶۳۔

۳۱۴؂ بخاری، رقم ۹۴۶، ۹۵۰۔ مسلم، رقم ۷۳۶، ۷۴۹۔

۳۱۵؂ مسلم، رقم ۷۳۷۔ ابوداؤد، رقم ۱۳۵۹۔

۳۱۶؂ بخاری، رقم ۱۰۹۶۔ مسلم، رقم ۷۳۸۔

۳۱۷؂ مسلم، رقم ۷۴۶۔ نسائی، رقم ۱۷۱۰، ۱۷۱۴۔

۳۱۸؂ ابو داؤد، رقم ۱۳۲۹۔ ترمذی ، رقم ۴۴۷۔

۳۱۹؂ بنی اسرائیل ۱۷: ۷۹ ۔ بخاری، رقم ۱۰۹۴۔ مسلم، رقم ۷۵۸۔

۳۲۰؂ بخاری، رقم ۱۹۰۶۔