قانون عبادات (11)


زکوٰۃ

وَاَقِےْمُواالصَّلٰٰوۃَ ، وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ، وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًاحَسَنًا، وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ مِّنْ خَےْرٍ، تَجِدُوْہُ عِنْدَ اللّٰہِ ، ھُوَخَےْرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا. (المزمل ۷۳: ۲۰)

'' اور اپنے (شب وروز میں) نماز کا اہتمام رکھو اورزکوٰۃ دیتے رہو اور(دین وملت کی ضرورتوں کے لیے ) اللہ کوقرض دو ، اچھا قرض اور (یاد رکھو کہ )جوکچھ بھلائی تم آگے بھیجوگے ، اسے اللہ کے ہاں اس سے بہتر اورثواب میں برتر پاؤ گے۔''

اس آیت میں اوراس کے علاوہ قرآ ن کے متعدد مقامات پرمسلمانو ں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اموال میں سے زکوٰۃ ادا کریں ۔نماز کے بعد یہ دوسری اہم ترین عبادت ہے ۔ اپنے معبودوں کے لیے پرستش کے جو آداب انسان نے بالعموم اختیار کیے ہیں ، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اپنے مال ، مواشی اورپیداوار میں سے ایک حصہ ان کے حضور میں نذر کے طور پر پیش کیا جائے ۔ اسے صدقہ ، نیاز ، نذرانے اوربھینٹ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔انبیا علیہم السلام کے دین میں زکوٰۃ کی حیثیت اصلاً یہی ہے اور اسی بنا پر اسے عبادت قرار دیا جاتاہے ۔ چنانچہ قرآن نے کئی جگہ اس کے لیے لفظ صدقہ استعمال کیا ہے اور وضاحت فرمائی ہے کہ اسے دل کی خستگی اورفروتنی کے ساتھ ادا کیا جائے ۔ ارشادفرمایا ہے :

الَّذِےْنَ ےُقِےْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ، وَےُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ، وَہُمْ رٰکِعُوْنَ. (المائدہ۵: ۵۵)

''جو نماز کا اہتمام کرتے اورزکوٰۃ دیتے ہیں ، اس طرح کہ (اندرسے )جھکے ہوئے ہوتے ہیں۔''

وَالَّذِےْنَ ےُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا ، وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ، اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ . (المومنون ۲۳: ۶۰)

''اور وہ لوگ کہ جوکچھ بھی دیتے ہیں ، اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل اس خیال سے کا نپ رہے ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹنا ہے۔''

یہ مال کا حق ہے جو خدا کے لیے خاص کیا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں' واتواحقہ یوم حصادہ' ۳۲۳؂ کا حکم اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے ۔اس کے بارے میں عام روایت یہ رہی ہے کہ نذر گزارنے کے بعد اسے معبد سے اٹھا کر اس کے خدام کو دیا جاتا تھا کہ وہ اس سے عبادت کے لیے آنے والوں کی خدمت کریں ۔ ہماری شریعت میں یہ طریقہ باقی نہیں رہا۔اس کی جگہ ہم کو ہدایت کی گئی ہے کہ نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے یہ مال ارباب حل وعقد کے سپر د کردیا جائے ۔تاہم اس کی حقیقت میں اس سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔یہ خدا ہی کے لیے خاص ہے اور اس کے بندے جب اسے ادا کرتے ہیں تو اس کی پزیرائی کا فیصلہ بھی اسی بارگاہ سے ہوتا ہے ۔ فرمایا ہے :

اَلَمْ ےَعْلَمُوْااَنَّ اللّٰہَ ھُوَ ےَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ ، وَےَاْخُذُالصَّدَقٰتِ. (التوبہ ۹: ۱۰۴)

''کیا یہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں سے آپ توبہ قبول کرتا اور ان کے صدقات کی پزیرائی فرماتا ہے۔''

دین میں اس عبادت کی اہمیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نمازہی کی طرح اسے بھی آدمی کے مسلمان سمجھے جانے کی شرائط میں سے قرار دیا ہے ۔ارشادفرمایا ہے : 'فان تابوا ، واقاموا الصلٰوۃ ، واتوا الزکوٰۃ ، فاخوانکم فی الدین' ۳۲۴؂ ( پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو دین میں تمھارے بھائی ہوں گے )۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے بعد ایمان کا دوسرا ثمرہ یہی ہے ۔سورۂ مومنون اور سورۂ معارج کی جو آیات ہم نے اس سے پہلے نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نقل کی ہیں ، ان سے یہ بات پو ری طرح واضح ہے کہ اعمال صالح کی فہرست میں نماز کے بعد اسی کا درجہ ہے ۔ چنانچہ قرآن میں یہ اسی حیثیت سے مذکور ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک جگہ مشرکین کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ زکوٰۃ نہیں دیتے ،چنانچہ قیامت میں جواب دہی کے اصلی منکر بھی وہی ہیں:

وَوَےْلٌ لِّلْمُشْرِکِےْنَ ، الَّذِےْنَ لاَےُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ بِالْاٰخِرَۃِہُمْ کٰفِرُوْنَ.(حم السجدہ۴۱: ۶۔۷)

'' بربادی ہے اِن مشرکوں کے لیے ، یہ جوزکوٰۃ نہیں دیتے اوریہی ہیں جو آخرت کے منکر ہیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی یہ اہمیت اپنے ارشاد ات میں واضح فرمائی ہے۔

ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جسے اللہ نے مال دیا اوراس نے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی ، اس کا یہ مال اس کے لیے گنجاسانپ بنا دیا جائے گا جس کی آنکھوں پردو سیاہ نقطے ہوں گے اورقیامت کے دن وہ اس کی گردن میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا ۔ پھر وہ اس کی باچھیں پکڑ لے گا اورکہے گا : میں تیر ا مال ہوں ، میں تیرا خزانہ ہوں۔ ۳۲۵؂

ابو ذر غفار ی کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس اونٹ ، گائے اوربکریاں ہیں اور وہ ان کا حق ادا نہیں کرتا ، قیامت کے دن وہ اس طرح اس کے سامنے لائی جائیں گی کہ بہت بڑی اوربہت موٹی ہوں گی ۔اسے وہ اپنے پاؤ ں سے کچلیں گی اور سینگوں سے ماریں گی ۔پہلی گزر جائے گی تو دوسر ی ا س کی جگہ لے لے گی ۔لوگوں کے مابین فیصلہ ہوجانے تک اس کے ساتھ یہی ہوتا رہے گا ۔۳۲۶ ؂

قرآن میں بیان ہواہے کہ یہی معاملہ زکوٰۃکے علاوہ ان تما م حقوق ومطالبات اور مصارف خیر کابھی ہے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو خرچ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالَّذِےْنَ ےَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلَاےُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ ، فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِےْمٍ ، یَّوْمَ ےُحْمٰی عَلَےْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ، فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُہُمْ ، وَجُنُوْبُھُمْ وَظُھُوْرُھُمْ ، ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِکُمْ، فَذُوْقُوْا مَاکُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ .(التوبہ ۹: ۳۴۔۳۵)

'' اور جو لوگ سونا اور چاند ی ڈھیر کررہے ہیں اوراسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ، انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری دو ، اس د ن جب دوزخ میں اس پر آگ دہکائی جائے گی ، پھر اُن کی پیشانیاں ، اُ ن کے پہلو اور اُ ن کی پیٹھیں اس سے داغی جائیں گی۔یہ ہے جو تم نے اپنے لیے جمع کیا تھاتو اب چکھو اس کا مزہ جو تم جمع کرتے رہے ہو ۔''

زکوٰۃ کی تاریخ

زکوٰ ۃ کی تاریخ وہی ہے جو نماز کی ہے ۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازکی طرح اس کا حکم بھی انبیاعلیہم السلام کی شریعت میں ہمیشہ موجود رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے جب مسلمانوں کو اس کے ادا کرنے کی ہدایت کی تو یہ ان کے لیے کوئی اجنبی چیزنہ تھی۔ دین ابراہیمی کے تمام پیرو اس کے احکام سے پور ی طرح واقف تھے ۔ قرآ ن نے اسی بنا پراسے 'حق معلوم ' ۳۲۷؂ (ایک متعین حق) سے تعبیر کیا ہے ۔لہٰذا یہ پہلے سے موجود ایک سنت تھی جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا کے حکم سے اور ضرور ی اصلاحات کے بعد مسلمانوں میں جاری فرمایا ہے ۔قرآن کا ارشادہے کہ سیدنا اسمٰعیل علیہ السلام اپنے گھر والوں کو جس طرح نماز کی تاکید کرتے تھے ، اسی طرح زکوٰ ۃ اداکرنے کی تلقین بھی فرماتے تھے : ' کان ےأمراھلہ بالصلوٰۃ والزکوٰۃ، وکان عند ربہ مرضیاً'۳۲۸؂ (وہ اپنے لوگوں کونماز اور زکوٰۃ کی تلقین کرتا تھا اور اپنے پروردگار کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا )۔ بنی اسرائیل کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے نماز اور زکوٰۃ ، دونوں کی پا بندی کا عہد لیا ، ۳۲۹؂ ا وروعدہ فرمایا تھاکہ ' انی معکم لئن اقمتم الصلوٰۃ و اٰتیتم الزکوٰۃ' ۳۳۰؂ (میں تمھارے ساتھ ہوں ، اگرتم نماز پرقائم رہو گے اورزکوٰۃ ادا کرو گے )۔ ان کے جلیل القدر آبا کے متعلق قرآن کا بیان ہے : ' واوحینا الیھم فعل الخیرٰت واقام الصلوٰۃ وایتاء الزکوٰۃ '۳۳۱؂ (اورہم نے ان کو بھلائی کے کام کرنے ، نماز کا اہتمام کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی )۔ سیدنا مسیح علیہ السلام نے اپنے متعلق فرمایا ہے: 'واوصانی بالصلوٰۃ والزکوٰۃ مادمت حیا' ۳۳۲؂ (ا وراللہ نے مجھے زندگی بھر کے لیے نمازاور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا ہے)۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہے :

وَمَاتَفَرَّقَ الَّذِےْنَ اُوْتْوالْکِتٰبَ اِلَّامِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ تْھُمُ الْبَےِّنَۃُ ، وَمَآ اُمِرُوْا اِلَّا لِےَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِےْنَ لَہُ الدِّےْنَ ، حُنَفَآءَ، وَےُقِےْمُوا الصَّلٰوۃَ وَےُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ، وَذٰلِکَ دِےْنُ الْقَےِّمَۃِ. (البینہ۹۸: ۴۔۵)

'' اور(اِن میں سے وہ لوگ ) جنھیں (پہلے ) کتاب دی گئی ، وہ یہ واضح نشانی اپنے پاس آجانے کے بعد ہی تفرقے میں پڑے ۔ اور (اِ س میں بھی ) انھیں یہی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اللہ کی عبادت کریں ، اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے ، پوری یک سوئی کے ساتھ ، اورنمازقائم کریں اور زکوٰۃ اداکریں اور (حقیقت یہ ہے کہ ) سیدھی ملت کا دین یہی ہے ۔''

بائیبل میں بھی زکوٰۃ کا ذکر اسی طرح ہوا ہے ۔

احبار میں ہے:

'' اورزمین کی پیداوار کا سارا عشر ، خواہ وہ زمین کے بیج کا ہو یا درخت کے پھل کا ہو ، خداوند کا ہے اور خداوند کے لیے پاک ہے ۔ اوراگر کوئی اپنے عشرمیں سے چھڑانا چاہے تواس کا پانچوا ں حصہ اس میں اورملا کر اسے چھڑائے ۔اور گائے بیل اوربھیڑ بکری یا جو جانور چرواہے کی لاٹھی کے نیچے سے گزرتا ہو ، ان کا عشر، یعنی دس پیچھے ایک ایک جانور خداوند کے لیے پاک ٹھیرے ۔'' (۲۷: ۳۰۔۳۱)

گنتی میں ہے:

'' اورخداوند نے موسیٰ سے کہا : تو لاویوں سے اتنا کہہ دینا کہ جب تم بنی اسرائیل سے اس عشر کولو جسے میں نے ان کی طرف سے تمھار اموروثی حصہ کر دیا ہے تو تم اس عشر کا عشر خداوند کے حضور اٹھانے کی قربانی کے لیے گزراننا ۔'' (۱۸: ۲۵۔ ۲۶)

استثنا میں ہے:

'' تو اپنے غلے میں سے جو سال بہ سال تیرے کھیتوں میں پیدا ہو، عشر ادا کرنا ۔'' (۱۴: ۲۲)

'' تین تین برس کے بعد تو تیسرے بر س کے مال کا سارا عشر نکال کراسے اپنے پھاٹکوں کے اند راکٹھا کرنا ۔ تب لاوی جس کا تیرے ساتھ کوئی حصہ یا میراث نہیں اورپردیسی اوریتیم اور بیوہ عورتیں جو تیرے پھاٹکوں کے اندر ہوں ، آئیں اور کھا کر سیر ہوں تاکہ خداوند تیرا خدا تیرے سب کاموں میں ، جن کو تو ہاتھ لگائے ، تجھ کو برکت بخشے ۔'' (۱۴: ۲۸۔۲۹)

'' اور جب تو تیسرے سال جو عشرکا سال ہے ، اپنے سارے مال کا عشر نکال چکے تواسے لاوی اورمسافر اوریتیم اور بیوہ کو دینا تاکہ وہ اسے تیر ی بستیوں میں کھائیں اور سیر ہوں ۔'' (۲۶: ۱۲)

سیدنا مسیح علیہ السلام نے اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے :

'' اے ریا کار فقیہواور فریسیو، تم پرافسوس کہ پودینے اور سونف اورزیرے پرتو عشر دیتے ہو ۔ پرتم نے شریعت کی زیادہ بھار ی باتوں ، یعنی انصاف اوررحم اور ایمان کوچھوڑ دیا ہے ۔ لازم تھاکہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے ۔ اے اندھے راہ بتانے والو جومچھر کو چھانتے ہواور اونٹ کو نگل جاتے ہو ۔'' ( متی ۲۳: ۲۳۔۲۴)

زکوٰۃ کا مقصد

زکوٰۃ کا مقصد اس کے نام ہی سے متعین ہوجاتا ہے ۔ اس لفظ کی اصل نمو اورطہارت ہے۔ لہٰذا اس سے مرا د وہ مال ہے جو پاکیز گی اور طہارت حاصل کرنے کے لیے دیا جائے ۔ اس سے واضح ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد وہی ہے جو پورے دین کا ہے۔یہ نفس کو ان آلایشوں سے پاک کرتی ہے جو مال کی محبت سے اس پر آسکتی ہیں ، مال میں برکت پیدا کرتی ہے اور نفس انسانی کے لیے اس کی پاکیزگی کوبڑھانے کا باعث بنتی ہے ۔ اللہ کی راہ میں انفاق کا چونکہ یہ کم سے کم مطالبہ ہے جسے ایک مسلمان کو ہر حال میں پور ا کرناہے ، اس لیے اس سے وہ سب کچھ تو حاصل نہیں ہوتا جواس سے آگے انفاق کے عام مطالبات کو پورا کرنے سے حاصل ہوتا ہے اورجسے ہم اس سے پہلے انفاق فی سبیل اللہ کی بحث میں بیان کرآئے ہیں ،تاہم انسان کا دل اس سے بھی اپنے پروردگا ر سے لگ جاتا اور اللہ تعالیٰ سے وہ غفلت بڑی حد تک دورہوجاتی ہے جو دنیا اوراسباب دنیا کے ساتھ تعلق خاطر کی وجہ سے اس پرطاری ہوتی ہے ۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں : آدمی کا دل وہیں رہتاہے جہاں اس کا مال رہتا ہے ۔ ۳۳۳؂ یہ بات محتاج استدلال نہیں ہے ۔آدمی جب چاہے، اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرکے اس کا تجربہ کرسکتا ہے ۔

زکوٰۃ کا یہ مقصد قرآن مجیدنے نہایت خوبی کے ساتھ خود بھی واضح کردیا ہے ۔ ارشادہے :

خُذْ مِنْ اَمْوَالِھِمْ صَدَقَۃً تُطَھِّرُھُمْ وَتُزَکِّےْھِمْ بِھَا. (التوبہ ۹: ۱۰۳)

'' ان کے اموال میں سے زکوٰۃ لو ، اس سے تم انھیں پاکیز ہ بناؤ گے اور ان کا تزکیہ کروگے ۔''

وَمَآاٰتَےْتُمْ مِّنْ زَکوٰۃٍ تُرِےْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ ، فَاُٰولٰءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ.(الروم ۳۰: ۳۹)

'' اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو تواسی کے دینے والے ہیں جو اللہ کے ہاں اپنا مال بڑھاتے ہیں ۔

''

زکوٰۃ کا قانون

زکوٰۃ کا قانون مسلمانوں کے اجماع اورتواتر عملی سے ہم تک پہنچاہے ۔ اس کے سمجھنے میں فقہا کے اختلافات سے قطع نظر کر کے اسے اگر شریعت میں اس کی اصل کے لحاظ سے دیکھا جائے تواسے ہم اس طرح بیان کر سکتے ہیں:

۱۔ پیداوار ،تجارت اورکاروبار کے ذرائع ، ذاتی استعمال کی چیزوں اور حد نصاب سے کم سرمایے کے سوا کوئی چیزبھی زکوٰۃ سے مستثنیٰ نہیں ہے ۔ یہ ہرمال ، ہر قسم کے مواشی اور ہر نوعیت کی پیداوارپر عائد ہوگی اور ہر سال ریاست کے ہر مسلمان شہر ی سے لازماً وصول کی جائے گی ۔

۲۔ اس کی شرح یہ ہے :

مال میں ۲ /۱ ۲ فی صدی سالانہ ۔

پیداوار میں اگر وہ اصلاً محنت یا اصلاً سرمایے سے وجود میں آئے تو ہر پیداوارکے موقع پراس کا ۱۰فی صدی ، اور اگر محنت اورسرمایہ ، دونوں کے تعامل سے وجود میں آئے تو۵ فی صدی ، اور دونوں کے بغیر محض عطےۂ خداوندی کے طور پر حاصل ہو جائے تو ۲۰ فی صدی ۔

مواشی میں

ا۔ اونٹ

۵سے ۲۴تک ،ہر پانچ اونٹوں پر ایک بکر ی

۲۵سے ۳۵تک ، ایک یک سالہ اونٹنی اور اگر وہ میسر نہ ہو تو دوسالہ اونٹ

۳۶ سے ۴۵تک ، ایک دو سالہ اونٹنی

۴۶سے ۶۰تک ، ایک سہ سالہ اونٹنی

۶۱ سے ۷۵تک ، ایک چار سالہ اونٹنی

۷۶سے ۹۰تک ، دو ، دوسالہ اونٹنیاں

۹۱سے ۱۲۰تک ، دو، سہ سالہ اونٹنیاں

۱۲۰سے زائد کے لیے ہر ۴۰ہر ایک دوسالہ اورہر ۵۰ پرایک سہ سالہ اونٹنی ۔

ب۔ گائیں

ہر ۳۰ پرایک یک سالہ اورہر ۴۰پرایک دو سالہ بچھڑا ۔

ج۔ بکریاں

۴۰سے ۱۲۰ تک ،ایک بکری

۱۲۱سے ۲۰۰ تک ، دوبکریاں

۲۰۱ سے ۳۰۰ تک ، تین بکریاں

۳۰۰ سے زائد میں ہر ۱۰۰ پرایک بکری ۔

۳۔زکوٰۃ کے مصارف سے متعلق کوئی ابہام نہ تھا۔یہ ہمیشہ فقراومساکین اور نظم اجتماعی کی ضرورتوں ہی کے لیے خرچ کی جاتی تھی ، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب منافقین نے اعتراضات کیے تو قرآن نے انھیں خود پور ی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ۔ارشاد فرمایا ہے :

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ، وَالْمَسٰکِےْنِ، وَالْعٰمِلِےْنَ عَلَےْھَا، وَالْمُؤَلَّفَۃِ قُلُوْبُھُمْ ، وَفِیْ الرِّقَابِ، وَالْغٰرِمِےْنَ، وَفِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ ، وَابْنِ السَّبِےْلِ ، فَرِےْضَۃً مِّنَ اللّٰہِ ، وَاللّٰہُ عَلِےْمٌ حَکِےْمٌ. (التوبہ ۹: ۶۰)

'' یہ صد قات تو بس فقیروں اورمسکینوں کے لیے ہیں، اور ان کے لیے جو ان پر عامل بنائے جائیں ، اوران کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو ، اوراس لیے کہ گردنوں کے چھڑانے اور تاوان زدوں کی مد د کرنے میں ، راہ خدا میں اور مسافر وں کی بہبود کے لیے خرچ کیے جائیں ۔ یہ اللہ کا مقرر کردہ فریضہ ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے ۔''

اس آیت میں جو مصارف بیان کیے گئے ہیں، ان کی تفصیل یہ ہے :

فقرا و مساکین کے لیے ۔

' العاملین علیھا ' ، یعنی ریاست کے تمام ملازمین کی خدمات کے معاوضے میں ۔۳۳۴؂

'المؤ لفۃ قلوبھم '، یعنی اسلام اور مسلمانوں کے مفادمیں تمام سیاسی اخراجات کے لیے ۔

' فی الرقاب ' ، یعنی ہر قسم کی غلامی سے نجات کے لیے ۔

' الغارمین' ، یعنی کسی نقصان ، تاوان یا قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے لوگوں کی مدد کے لیے ۔

' فی سبیل اللّٰہ ' ، یعنی دین کی خدمت اورلوگوں کی بہبود کے کاموں میں ۔

' ابن السبیل' ،یعنی مسافروں کی مد داوران کے لیے سڑکوں ، پلوں ، سراؤں وغیرہ کی تعمیر کے لیے ۔

۴۔زکوٰۃ کی ایک قسم صدقۂ فطر بھی ہے ۔ یہ ایک فرد کے لیے صبح وشام کا کھانا ہے جو چھوٹے بڑے ہرشخص کے لیے دینا لازم کیا گیا ہے اور رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے دیا جاتا ہے ۔ابن عباس رضی اللہ کی روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ لغو اورشہوانی باتو ں کے اثرات سے روزوں کی تطہیر اورغریبوں کے لیے عید کے کھانے کی غرض سے عائد کیا ہے ۔۴۳۵؂ حضور کے زمانے میں اسے بالعموم اناج کی صورت میں ادا کیا جاتا تھا ۔چنانچہ آپ نے اس کی مقدار ایک صاع ، یعنی کم و بیش ڈھائی کلو گرام مقرر کردی تھی :

فرض رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم زکوٰۃ الفطر صاعاً من تمر، اوصاعاً من شعیر، علی العبدوالحر، والذکر والانثی، والصغیروالکبیر من المسلمین ، وامربھا ان تودی قبل خروج النا س الی الصلوٰۃ. (بخاری، رقم ۱۵۰۳)

'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۂ فطر ہر مسلمان پر لازم ٹھیرایا ہے ۔ایک صاع کھجور یا ایک صاع جوہرفرد کے لیے ، غلام ہویا آزاد ،مرد ہو یا عورت ، چھوٹا ہویا بڑا اور حکم دیا ہے کہ یہ نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔''

ریاست زکوٰۃ لے گی تواس کے دینے والے بھی ہوں اوروصول کرنے والے بھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ دینے والے اپنے اوپر زیادتی کے باوجود ان لوگوں کو راضی کرنے کی کوشش کریں جوان کے پاس زکوٰ ۃ وصول کرنے کے لیے آئیں ۳۳۶؂ اور وصول کرنے والے خیانت نہ کریں ،۲۳۷؂ زکوٰۃ دینے والوں کو اپنے پاس بلانے کے بجائے ان کی جگہ پر پہنچ کر ان سے زکوٰۃ وصول کریں،۳۳۸؂ زکوٰۃ میں ان کا بہترین مال سمیٹ لینے کی کوشش نہ کریں اور مظلوم کی بدعا سے بچیں ، اس لیے کہ اس کے اوراللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہوتا ۔۳۳۹؂

زکوٰۃکا قانون یہی ہے ۔تاہم اس معاملے میں عام غلط فہمیوں کے باعث یہ چند باتیں مزید واضح رہنی چاہییں:

ایک یہ کہ زکوٰۃ کے مصارف پر تملیک ذاتی کی جو شرط ہمارے فقہانے عائد کی ہے ، اس کے لیے کوئی ماخذ قرآن وسنت میں موجود نہیں ہے ، اس وجہ سے زکوٰۃ جس طرح فرد کے ہاتھ میں دی جاسکتی ، اسی طرح اس کی بہبود کے کاموں میں بھی خرچ کی جاسکتی ہے ۔۳۴۰؂

دوسر ی یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے اور اپنے خاندان کے لوگوں کے لیے زکوٰۃ کے مال میں سے کچھ لینے کی ممانعت فرمائی تو اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ تھی کہ اموال فے میں سے ایک حصہ آپ کی اور آپ کے اعزہ واقربا کی ضرورتوں کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔۳۴۱؂ یہ حصہ بعدمیں بھی ایک عرصے تک باقی رہا ۔ لیکن اس طرح کا کوئی اہتمام ، ظاہر ہے کہ ہمیشہ کے لیے نہ ہوسکتا ہے اور نہ اسے کرنے کی ضرورت ہے ۔لہٰذا بنی ہاشم کے فقرا ومساکین کی ضرورتیں بھی زکوٰۃ کے اموال سے اب بغیر کسی تردد کے پور ی کی جاسکتی ہیں ۔

تیسری یہ کہ ریاست اگر چاہے توحالات کی رعایت سے کسی چیزکوزکوٰ ۃ سے مستثنیٰ قرار دے سکتی اورجن چیزوں سے زکوٰۃ وصول کرے ، ان کے لیے عام دستور کے مطابق کوئی نصاب بھی مقرر کرسکتی ہے ۔ روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقصد سے گھوڑوں اورغلاموں کی زکوٰۃ نہیں لی اور مال ، مواشی اورزرعی پیداوار میں اس کا نصاب مقرر فرمایا ۔یہ نصاب درج ذیل ہے :

مال میں۵اوقیہ /۶۴۲گرام چاندی

پیداوارمیں۵وسق /۶۵۳کلو گرام کھجور

مواشی میں ۵اونٹ ، ۳۰گائیں اور ۴۰ بکریاں ۔

آپ کا ارشادہے : 'قد عفوت عن الخیل والرقیق' ۳۴۲؂ (میں نے گھوڑوں اورغلاموں کی زکوٰۃ معاف کردی ہے )۔اسی طرح فرمایا ہے:

لیس فیما دون خمسۃ اوسق من التمر صدقۃ ،ولیس فیما دون خمس اواق من الورق صدقۃ، ولیس فیما دون خمس ذود من الابل صدقۃ. (الموطا ، رقم ۵۷۸)

'' ۵ وسق سے کم کھجور میں کوئی زکوٰۃنہیں ہے ، ۵اوقیہ سے کم چاندی میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے اور ۵ سے کم اونٹوں میں کوئی زکوٰۃ نہیں ہے ۔''

چوتھی یہ کہ جو کچھ صنعتیں اس زمانے میں وجود میں لاتیں اوراہل فن اپنے فن کے ذریعے سے پیدا کرتے اورجو کچھ کرایے ، فیس اورمعاوضۂ خدمات کی صورت میں حاصل ہوتا ہے ،وہ بھی اگر مناط حکم کی رعایت ملحوظ رہے تو پیداوار ہی ہے ۔اس وجہ سے اس کا الحاق اموال تجارت کے بجائے مزروعات سے ہونا چاہیے اوراس معاملے میں وہی ضابطہ اختیار کرنا چاہیے جوشریعت نے زمین کی پیداوار کے لیے متعین کیا ہے ۔

پانچویں یہ کہ اس اصول کے مطابق کرایے کے مکان ، جائدادیں اوردوسری اشیا اگر کرایے پراٹھی ہوں تو مزروعات کی اوراگر نہ اٹھی ہوں توان پرمال کی زکوٰۃ عائد کرنی چاہیے۔

[باقی]

____________

۳۲۳؂ الانعام ۶: ۱۴۱۔'' اوراس کی فصل کاٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو۔''

۳۲۴؂ التوبہ ۹: ۱۱۔

۳۲۵؂ بخاری ، رقم ۳۳۸ا۔

۳۲۶؂ بخاری ، رقم ۱۳۹۱۔

۳۲۷؂ المعارج ۷۰: ۲۴۔

۳۲۸؂ مریم ۱۹: ۵۵۔

۳۲۹؂ البقرہ ۲: ۸۳۔

۳۳۰؂ المائدہ ۵: ۱۲۔

۳۳۱؂ الانبیاء ۲۱: ۷۳۔

۳۳۲؂ مریم ۱۹: ۳۱۔

۳۳۳؂ متی ۶: ۲۱ ۔لوقا ۱۲: ۳۴۔

۳۳۴؂ اس لیے کہ ریاست کے تمام ملازمین درحقیقت 'العاملین علی اخذ الضرائب وردھا الی المصارف 'ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ یہ نہایت بلیغ تعبیر ہے جو قرآن نے اس مدعا کو ادا کرنے کے لیے اختیار کی ہے ۔اس میں شبہ نہیں کہ لوگ بالعموم اسے سمجھنے سے قاصر رہے ہیں ، لیکن اس کی جو تالیف ہم نے بیان کی ہے ، اس کے لحاظ سے دیکھیے تو اس کا یہ مفہوم بادنیٰ تامل واضح ہوجاتا ہے ۔

۳۳۵؂ ابوداؤد ، رقم ۱۶۰۹۔

۳۳۶؂ مسلم ،رقم ۔۹۸۹۔ابو داؤد،رقم ۱۵۸۹۔

۳۳۷؂ مسلم ،رقم ۱۸۳۳ ۔

۳۳۸؂ ابوداؤد ،رقم ۱۵۹۱۔

۳۳۹؂ مسلم ،رقم ۱۹۔

۳۴۰؂ اس موضوع پر مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو ،استاذ امام امین احسن اصلاحی کی کتاب '' توضیحات '' میں ان کا مضمون :''مسئلۂ تملیک''۔

۳۴۱؂ مسلم ،رقم ۱۰۶۹،۱۰۷۲۔

۳۴۲؂ ابوداؤ، رقم ۱۵۷۴۔