قانون عبادات (14)


حج وعمرہ کا طریقہ

حج وعمرہ کے لیے جو طریقہ شریعت میں مقرر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے:

عمرہ

اس عبادت کی نیت سے اس کا احرام باندھا جائے،

باہر سے آنے والے یہ احرام اپنی میقات سے باندھیں ؛مقیم خواہ وہ مکی ہوں یا عارضی طور پر مکہ میں ٹھیرے ہوئے ہوں، اسے حدودحرم سے باہر قریب کی کسی جگہ سے باندھیں ؛ اورجو لوگ ان حدود سے باہر، لیکن میقات کے اندر رہتے ہوں ، ان کی میقات وہی جگہ ہے ، جہاں وہ مقیم ہیں، وہ وہیں سے احرام باندھ لیں اور تلبیہ پڑھنا شروع کردیں،

بیت اللہ میں پہنچنے تک تلبیہ کا ورد جاری رکھا جائے،

وہاں پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا جائے،

پھر صفا و مروہ کی سعی کی جائے،

ہدی کے جانور ساتھ ہوں تو ان کی قربانی کی جائے،

قربانی کے بعد مرد سر منڈوا کر یا حجامت کر اکے اورعورتیں اپنی چوٹی کے آخر سے تھوڑے سے بال کاٹ کر احرام کھول دیں ۔

یہ احرام ایک اصطلاح ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب وہ شہوت کی کوئی بات نہیں کریں گے؛زیب وزینت کی کوئی چیز، مثلاً خوشبو وغیرہ استعمال نہیں کریں گے؛ ناخن نہیں تراشیں گے، نہ جسم کے کسی حصے کے بال اتاریں گے، نہ میل کچیل دور کریں گے، یہاں تک کہ اپنے بدن کی جوئیں بھی نہیں ماریں گے؛ شکار نہیں کریں گے؛ سلے ہوئے کپڑے نہیں پہنیں گے؛ اپنا سر، چہرہ اور پاؤں کے اوپر کا حصہ کھلا رکھیں گے، اورایک چادر تہ بند کے طور پر باندھیں گے اور ایک اوڑھ لیں گے۔

عورتیں ، البتہ سلے ہوئے کپڑے پہنیں گی، اور سراور پاؤں بھی ڈھانپ سکیں گی۔ ان کے لیے صرف چہر ہ اور ہاتھ کھلے رکھنے ضروری ہیں۔

تلبیہ سے مراد، 'لبیک اللّٰھم لبیک؛ لبیک لاشریک لک، لبیک؛ ان الحمد و النعمۃ لک، والملک؛ لاشریک لک'کا ورد ہے جو احرام باندھتے ہی شروع ہوتا اور بیت اللہ میں پہنچنے تک برابر جاری رہتا ہے۔ حج وعمرہ کے لیے تنہا یہی ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔

طواف ان سات پھیروں کو کہتے ہیں جو ہر طرح کی نجاست سے پاک ہو کر بیت اللہ کے گرد لگائے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر پھیرا حجراسود سے شروع ہوکر اسی پر ختم ہوتا ہے اور ہر پھیرے کی ابتدا میں حجر اسود کا استلام کیا جاتا ہے۔ یہ حجراسود کو چومنے یا ہاتھ سے اس کو چھو کراپنا ہاتھ چوم لینے کے لیے ایک اصطلاح ہے۔ ہجوم کی صورت میں ہاتھ سے یا ہاتھ کی چھڑی سے یا اس طرح کی کسی دوسری چیز سے اشارہ کردینا بھی اس کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔

سعی سے مراد صفا ومروہ کا طواف ہے۔ یہ بھی سات پھیرے ہیں جو صفا سے شروع ہوتے ہیں ۔ صفا سے مروہ تک ایک اور مروہ سے صفا تک دوسر ا پھیرا شمار کیا جاتا ہے۔ ان میں سے آخری پھیرا مروہ پرختم ہوتا ہے۔

قربانی کی طرح صفا ومروہ کی یہ سعی بھی بطور تطوع کی جاتی ہے۔ یہ عمرے کا کوئی لازمی حصہ نہیں ہے ۔ عمرہ اس کے بغیر بھی ہر لحاظ سے مکمل ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنَْ شعَآءِرِ اللّٰہِ ، فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِاعْتَمَرَ فَلاَجُنَاحَ عَلَیْہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَا، وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا ، فَاِنَّ اللّٰہََ شاکِرٌ عَلِیْمٌ .(البقرہ۲: ۱۵۸)

''صفا اور مروہ یقیناً اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔ چنانچہ وہ لوگ جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرنے کے لیے آئیں، اُن پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان کا طواف بھی کرلیں، (بلکہ یہ ایک نیکی کا کام ہے ) اور جس نے اپنے شوق سے نیکی کا کوئی کام کیا، اللہ اُسے قبول کرنے والا ہے، اُس سے پوری طرح باخبر ہے ۔''

ہدی کا لفظ ان جانوروں کے لیے بولا جاتا ہے جو حرم میں قربانی کے لیے خاص کیے گئے ہوں۔ دوسرے جانوروں سے ان کو ممیز رکھنے کے لیے ان کے جسم پر نشان لگائے جاتے اورگلے میں پٹے ڈالے جاتے ہیں۔ قرآن نے 'القلائد'۴۱۵؂ کی تعبیر ان کے لیے اسی بناپر اختیار کی ہے۔

حج

عمرے کی طرح حج کی ابتدا بھی احرام سے ہوتی ہے۔ چنانچہ پہلا کام یہی ہے کہ حج کی نیت سے اس کا احرام باندھا جائے،

باہر سے آنے والے یہ احرام اپنے میقات سے باندھیں؛ مقیم خواہ وہ مکی ہوں یا عارضی طور پر مکہ میں ٹھیرے ہوئے ہوںیا حدود حرم سے باہر، لیکن میقات کے اندر رہتے ہوں، ان کی میقات وہی جگہ ہے، جہاں وہ مقیم ہیں، وہ وہیں سے احرام باندھ لیں اور تلبیہ پڑھنا شروع کر دیں،

۸؍ذوالحجہ کو منیٰ کے لیے روانہ ہوں اوروہاں قیام کریں،

۹؍ذوالحجہ کی صبح عرفات کے لیے روانہ ہوں،

وہاں پہنچ کر امام ظہر کی نماز سے پہلے حج کا خطبہ دے، پھر ظہر اور عصر کی نماز جمع اور قصر کر کے پڑھی جائے،

نماز سے فارغ ہوکر جتنی دیر کے لیے ممکن ہو، اللہ تعالیٰ کے حضور میں تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل اور دعا ومناجات کی جائے،

غروب آفتاب کے بعد مزدلفہ کے لیے روانہ ہوں،

وہاں پہنچ کر مغرب اورعشا کی نماز جمع اورقصر کر کے پڑھی جائے،

رات کو اسی میدان میں قیام کیا جائے،

فجر کی نماز کے بعد یہاں بھی تھوڑی دیر کے لیے عرفات ہی کی طرح تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل اور دعا ومناجات کی جائے،

پھر منیٰ کے لیے روانہ ہوں اوروہاں جمرۂ عقبہ کے پاس پہنچ کر تلبیہ پڑھنا بند کر دیا جائے اور اس جمرے کو سات کنکریاں ماری جائیں،

ہدی کے جانور ساتھ ہوں یا نذر اور کفارے کی کوئی قربانی واجب ہوچکی ہو تو یہ قربانی کی جائے ،

پھر مر د سرمنڈوا کر یا حجامت کراکے اور عورتیں اپنی چوٹی کے آخر سے تھوڑے سے بال کاٹ کر احرام کا لباس اتار دیں،

پھر بیت اللہ پہنچ کر اس کا طواف کیا جائے،

احرام کی تمام پابندیاں اس کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گی، اس کے بعد اگر ارادہ ہو تو بطور تطوع صفا و مروہ کی سعی بھی کر لی جائے،

پھر منیٰ واپس پہنچ کر دو یا تین دن قیام کیا جائے اورروزانہ پہلے جمرۃالاولی، پھر جمرۃ الوسطیٰ اوراس کے بعد جمرۃ الاخریٰ کو سات سات کنکریاں ماری جائیں۔

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج وعمر ہ کے مناسک یہی ہیں۔ قرآن مجید نے ان میں کوئی تبدیلی نہیں کی، صرف اتنا کیا ہے کہ ان سے متعلق بعض فقہی مسائل کی توضیح فرما دی ہے۔

یہ پانچ احکام ہیں:

پہلا حکم یہ ہے کہ حج وعمرہ کے تعلق سے جو حرمتیں اللہ تعالیٰ نے قائم کردی ہیں، ان کی تعظیم ایمان کا تقاضا ہے، وہ ہر حال میں قائم رہنی چاہییں۔ تاہم کوئی دوسرا فریق اگر انھیں ملحوظ رکھنے سے انکار کردیتا ہے تو اس کے بدلے میں مسلمانوں کو بھی حق ہے کہ وہ برابر کا اقدام کریں، اس لیے کہ اس طرح کی حرمتیں باہمی طور پر ہی قائم رہ سکتی ہیں، انھیں کوئی فریق اپنے طور پر قائم نہیں رکھ سکتا :

اَلشَّھْرُالْحَرَامُ بِالشَّہْرِالْحَرَامِ ، وَالْحُرُمٰتُ قِصَاصٌ، فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ ، فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ.(البقرہ۲: ۱۹۴)

''ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہے اور (اِسی طرح) دوسری حرمتوں کے بدلے ہیں۔ لہٰذا جو تم پرزیادتی کریں، انھیں اس زیادتی کے برابر ہی جواب دو، اوراللہ سے ڈرتے رہو، اورجان لو کہ اللہ اُن کے ساتھ ہے جو اس کے حدود کی پابندی کرتے ہیں۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس حکم کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ اشہر حرم میں یا حدود حرم میں لڑائی بھڑائی ہے تو بہت بڑا گناہ ،لیکن جب کفار تمھارے لیے اس کی حرمت کا لحاظ نہیں کرتے تو تمھیں بھی یہ حق حاصل ہے کہ قصاص کے طور پر تم بھی ان کو ان کی حرمت سے محروم کردو ۔ ہر شخص کی جان شریعت میں محترم ہے ، لیکن جب ایک شخص دوسرے کی جان کا احترام نہیں کرتا، اس کو قتل کردیتا ہے تو اس کے قصاص میں وہ بھی حرمت جان کے حق سے محروم کرکے قتل کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح اشہر حرم اورحدود حرم کا احترام مسلم ہے بشرطیکہ کفار بھی ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان میں دوسروں کو ظلم وستم کا ہدف نہ بنائیں ، لیکن جب ان کی تلواریں ان مہینوں میں اور اس بلدامین میں بے نیام ہوتی ہیں تو وہ سزاوار ہیں کہ ان کے قصاص میں وہ بھی ان کے امن واحترام کے حقوق سے محروم کیے جائیں۔ مزید فرمایا کہ جس طرح اشہرحرم کا یہ قصاص ضروری ہے، اسی طرح دوسر ی حرمتوں کا قصاص بھی ہے۔ یعنی جس محترم چیز کے حقوق حرمت سے وہ تمھیں محروم کریں تم بھی اس کے قصاص میں اس کے حق حرمت سے انھیں محروم کرنے کا حق رکھتے ہو۔''(تدبر قرآن ۱/ ۴۷۹)

دوسرا حکم یہ ہے کہ اس اجازت کے باوجود مسلمان اپنی طرف سے کوئی پیش قدمی نہیں کرسکتے۔ یہ اللہ کی حرمتیں ہیں، ان کے توڑنے میں پہل ایک بدترین جرم ہے۔ اس کا ارتکاب کسی حال میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ بیت الحرام پر حملہ خدا کے گھر پر حملہ ہے، جن جانوروں کے گلے میں خدا کی تخصیص کے پٹے بندھ گئے ہیں اورجو اللہ کے بندے اس کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں رخت سفر باندھ کر نکلے ہیں، ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہونا خود اللہ ، پروردگار عالم سے تعرض کرنے کے مترادف ہے۔اس وجہ سے کسی قوم کی دشمنی بھی مسلمانوں کو اس بات پرآمادہ نہ کرے کہ وہ اس معاملے میں حدود سے تجاوز کریں۔ ان پر واضح رہنا چاہیے کہ جو پروردگار اپنے عہد ومیثاق سے قوموں پر کرم فرماتا اور انھیں سرفرازی بخشتا ہے، اس کے ہاں اس عہد و میثاق کے توڑنے کی پاداش بھی بڑی ہی سخت ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ، لاَتُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ، وَلاَالشَّھْرَالْحَرَامَ، وَلاَالْھَدْیَ، وَلاَالْقَلَآءِدَ، وَلاَاآمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ، یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرِضْوَانًا... وَلاَیَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِالْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُوْا، وَتَعَاوَنُوْا عَلیَ الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی، وَلاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ.(المائدہ۵ :۲)

''ایمان والو، اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو، نہ حرام مہینوں کی ، نہ ہدی کے جانوروں کی، نہ (اُن میں سے بالخصوص) اُن جانوروں کی جن کے گلے میں نذر کے پٹے بندھے ہوئے ہوں، اور نہ بیت الحرام کے عازمین کی جو اپنے پروردگار کے فضل اوراس کی خوشنودی کی تلاش میں نکلتے ہیں ... اور کچھ لوگوں نے مسجد الحرام کا راستہ تمھارے لیے بند کردیا ہے تو اُن کے ساتھ اس بنا پر تمھاری دشمنی بھی تمھیں ایسا مشتعل نہ کردے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ (نہیں ، تم حدود الہٰی کے پابند رہو)، اورنیکی اورتقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، اور گناہ اورزیادتی میں تعاون نہ کرو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔''

جَعَلَ اللّٰہُ الْکَعْبَۃَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ، وَالشَّھْرَالْحَرَامَ، وَالْھَدْیَ، وَالْقَلَآءِدَ. ذٰلِکَ لِتَعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ، وَمَا فِی الْاَرْضِ، وَاَنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمٌ. اِعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ، وَاَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(المائدہ ۵: ۹۷۔۹۸)

''اللہ نے بیت الحرام کعبہ کو لوگوں کے لیے مرکز بنایا اور حرمت کے مہینوں، قربانی کے جانوروں اور(اُن میں سے بالخصوص) اُن جانوروں کو ( شعیرہ ٹھیرایا ہے) جن کے گلے میں نذر کے پٹے بندھے ہوئے ہوں ۔ یہ اس لیے کہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ زمین وآسمان میں ہے اوراللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ خبردار ہو جاؤ کہ اللہ سخت سزا دینے والا بھی ہے اور اللہ بخشنے والا اور مہربان بھی ہے۔''

تیسرا حکم یہ ہے کہ حالت احرام میں شکار کی ممانعت صرف خشکی کے جانوروں کے لیے ہے ، دریائی جانوروں کا شکار کرنا یا دوسروں کا کیا ہوا شکار کھا لینا، دونوں جائز ہیں۔ یہ رخصت اس لیے دی گئی ہے کہ خشکی کے سفر میں اگر زاد راہ تھڑ جائے تو اسے کسی نہ کسی طرح حاصل کیا جاسکتا ہے، لیکن دریا ئی سفر میں اس طرح کے موقعوں پر شکار کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ لوگ اس رخصت سے آگے بڑھنے کی کوشش کریں۔ خشکی کا شکار ہرحال میں ممنوع ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے اس گناہ کا ارتکاب کربیٹھتا ہے تواسے کفارہ ادا کرنا چاہیے۔

اس کی تین صورتیں ہیں :

جس طرح کا جانور شکار کیا گیا ہے، اسی قبیل کا کوئی جانور گھریلو چوپایوں میں سے قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجا جائے۔

اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس جانور کی قیمت کی نسبت سے مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے۔

یہ بھی دشوار ہو تو اتنے روزے رکھے جائیں، جتنے مسکینوں کو کھانا کھلانا کسی شخص پر عائد ہوتا ہے۔

رہی یہ بات کے جانوروں کا بدل کیا ہے یا اگر جانور کی قربانی متعذر ہے تو اس کی قیمت کیا ہوگی یا اس کے بدلے میں کتنے مسکینوں کو کھانا کھلایا جائے گا یا کتنے روزے رکھے جائیں گے تواس کا فیصلہ مسلمانوں میں سے دوثقہ آدمی کریں گے تاکہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اپنے نفس کی جانب داری کا کوئی امکان باقی نہ رہے:

یٰٓایُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَیَبْلُوَنَّکُمُ اللّٰہُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُہٗٓ اَیْدِیْکُمْ وَرِمَاحُکُمْ، لِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّخَافُہٗ بِالْغَیْبِ، فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِکَ، فَلَہٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لاَ تَقْتُلُواالصَّیْدَ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُتَّعَمِّدًا، فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ، یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَاعَدْلٍ مِّنْکُمْ، ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ، اَوْکَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ، اَوْعَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا، لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ. عَفَا اللّٰہُ عَمَّا سَلَفَ،وَمَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰہُ مِنْہُ، وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ ذُوانْتِقَامٍ. اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ، مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّیَّارَۃِ، وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ.(المائدہ ۵: ۹۴۔ ۹۶)

''ایمان والو، اللہ تمھیں اُس شکار کے ذریعے سے لازماً آزمائے گا جو تمھار ے ہاتھوں اورنیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون غائبانہ اُس سے ڈرتا ہے۔ پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد بھی حدود سے تجاوز کیا تو اُس کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ایمان والو، احرام کی حالت میں شکار نہ کرو، اور جو تم میں سے جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو اُس کا بدلہ اُس طرح کا جانور ہے، جیسا اُس نے مارا ہے۔ اس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے اوریہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا۔ یا نہیں تو اِس گناہ کے کفارے میں مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا یا اسی کے برابر روزے رکھنے ہوں گے تاکہ وہ اپنے کیے کی سزا چکھے ۔ پہلے جو کچھ ہو چکا، اسے اللہ نے معاف کردیا ہے، لیکن جو اِس کا اعادہ کرے گا، اللہ اُس سے انتقام لے گا (یہ اللہ کا فیصلہ ہے) اور اللہ زبردست ہے، وہ انتقام لینے والا ہے۔ دریا کا شکار اور اس کا کھانا تمھارے لیے حلال کیا گیا ہے، تمھارے لیے اور تمھارے قافلوں کے زادراہ کے لیے اورخشکی کا شکار بدستور حرام ہے، جب تک تم احرام کی حالت میں ہو۔ (اس کی پابندی کرو) اوراُس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور میں تم سب حاضر کیے جاؤ گے۔''

چوتھا حکم یہ ہے کہ حج وعمرہ کے لیے سفر کرنے والے اگر کسی جگہ گھر جائیں اوران کے لیے آگے جانا ممکن نہ رہے تو اونٹ، گائے، بکری میں سے جو میسر ہو، اس کی قربانی اسی جگہ کردیں اورسرمنڈوا کر احرام کھول دیں۔ ان کا حج وعمرہ یہی ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا تھا۔۴۱۶؂ اس معاملے میں یہ بات، البتہ واضح رہنی چاہیے کہ قربانی اس طرح کی کسی جگہ پر کی جائے یا مکہ اورمنیٰ میں، اس سے پہلے سر منڈوانا جائز نہیں ہے ، الاّ یہ کہ کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور وہ قربانی سے پہلے ہی سر منڈوانے پر مجبور ہوجائے۔ قرآن نے اجازت دی ہے کہ اس طرح کی کوئی مجبوری پیش آجائے تو لوگ سر منڈوا لیں، لیکن روزوں یا صدقے یا قربا نی کی صورت میں اس کا فدیہ دیں اور ان کی تعداد اور مقدار اپنی صواب دید سے جو مناسب سمجھیں طے کر لیں۔ روایتوں میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھاگیا توآپ نے فرمایا: تین دن کے روزے رکھ لیے جائیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلادیا جائے یا ایک بکری ذبح کردی جائے توکافی ہو جائے گا۔ ۴۱۷؂

وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ، فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ، وَلاَ تَحْلِقُوْا رُءُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْھَدْیُ مَحِلَّہٗ، فَمَنْکَانَ مِنْکُمْ مَّرِیْضًا اَوْبِہٖٓ اَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖ، فَفِدْیَۃٌ مِّنِْ صیَامٍ اَوْصَدَقَۃٍ اَوْنُسُکٍ. (البقرہ ۲: ۱۹۶)

''اورحج وعمرہ (کی راہ اگر تمھارے لیے کھول دی جائے تو ان کے تمام مناسک کے ساتھ اُن ) کو اللہ ہی کے لیے پورا کرو، لیکن راستے میں گھر جاؤ تو ہدیے کی جو قربانی بھی میسر ہو، اُسے پیش کردو، اور اپنے سر اُس وقت تک نہ مونڈو، جب تک یہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ پھر جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اُسے چاہیے کہ روزوں یا صدقے یا قربانی کی صورت میں اُس کا فدیہ دے۔''

پانچواں حکم یہ ہے کہ باہر سے آنے والے اگر ایک ہی سفر میں حج وعمرہ ، دونوں کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے عمرہ کرکے احرام کھول دیں، پھر ۸؍ذوالحجہ کو مکہ ہی سے دوبارہ احرام باندھ کر حج کر لیں۔ یہ محض ایک رخصت ہے جو اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ سفر کی زحمت کے پیش نظر باہر سے آنے والے عازمین حج کو عطا فرمائی ہے۔ لہٰذا وہ اس کا فدیہ دیں گے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :

اونٹ، گائے اوربکری میں سے جو جانور بھی میسر ہو، اس کی قربانی کی جائے۔

یہ ممکن نہ ہو تو دس روزے رکھے جائیں: تین حج کے دنوں میں اورسات حج سے واپسی کے بعد۔

اس سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر یہی ہے کہ حج کے لیے الگ اور عمرے کے لیے الگ سفر کیا جائے۔ چنانچہ قرآن نے صراحت کردی ہے کہ یہ رعایت ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جن کے گھر در مسجد حرام کے پاس ہوں :

فَاِذَآ اَمِنْتُمْ، فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ، فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ، فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَۃِ اَیَّامٍ فِی الْحَجِّ، وَسَبْعَۃٍ اِذَاَ رجَعْتُمْ، تِلْکَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ. ذٰلِکَ لِمَنْ لَّمْ یَکُنْ اَھْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ ، وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ. (البقرہ۲: ۱۹۶)

''پھر جب امن کی حالت پیدا ہوجائے تو جو کوئی عمرے (کے سفر سے) یہ فائدہ اٹھائے کہ اس کے ساتھ ملا کر حج بھی کرلے تو اُسے قربانی کرنا ہوگی جیسی بھی میسر ہوجائے۔ اور اگر قربانی میسر نہ ہوتو روزے رکھنا ہوں گے، تین حج کے زمانے میں اور سات (حج سے)واپسی کے بعد۔ یہ پورے دس دن ہوئے۔(اس طریقے سے ایک ہی سفر میں عمرے کے ساتھ ملاکر حج کی) یہ (رعایت) صرف اُن لوگوں کے لیے ہے جن کے گھر در مسجدِ حرام کے پاس نہ ہوں۔ (اِس کی پابندی کرو) اور اللہ سے ڈرتے رہو، اورخوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔''

اس حکم کے بارے میں یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ جولوگ اس رعایت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہوں، ان کے لیے سہولت یہ ہے کہ وہ پھر ہدی کے جانور ساتھ نہ لائیں، بلکہ قربانی کے دن وہیں سے خرید لیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان جانور وں کی قربانی یوم النحر کو ہوگی اور جیسا کہ بیان ہوا ،قربانی سے پہلے وہ سر نہیں منڈواسکیں گے اور اس کے لازمی نتیجے کے طور پر احرام بھی نہیں کھول سکیں گے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی صورت پیش آگئی تھی ۔ چنانچہ آپ نے فرمایا :

لوانی استقبلت من امری ما استدبرت ما اھدیت، ولولا ان معی الھدی لاحللت .(بخاری، رقم ۲۵۰۵)

''مجھ پر وہ بات اگر پہلے واضح ہوجاتی جو اب ہوئی ہے تو میں ہدی کے جانور ساتھ نہ لاتا اور نہ لاتا تو میں بھی احرام کھول دیتا۔''

[باقی]

____________

۴۱۵؂ المائدہ۵: ۲، ۹۷۔

۴۱۶؂ بخاری،رقم ۱۸۰۷، ۱۸۱۱، ۱۸۱۲۔

۴۱۷؂ بخاری، رقم ۱۸۱۴۔ مسلم، رقم۱۲۰۱۔