قانون عبادات (15)


حج وعمرہ کے احکام یہی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل سے جو رہنمائی، البتہ ان کے بارے میں حاصل ہوئی ہے، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

احرام

احرام باندھتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوشبو لگاتے تھے۔ سیدہ عائشہ کابیان ہے کہ میں نے احرام سے پہلے بھی آپ کو مشک کی خوشبو لگائی ہے اوریوم النحر کو احرام کا لباس اتار دینے کے بعد بھی، جب آپ طواف کے لیے مکہ روانہ ہوئے۔ فرماتی ہیں کہ اس خوشبو کی چمک میں آپ کی مانگ میں گویا آج بھی دیکھ رہی ہوں۔ ۴۱۷؂

احرام کی حالت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھنے لگوائے، بال جمائے اور سر بھی دھویا ہے۔ ۴۱۸؂ نیز لوگوں کواجازت دی ہے کہ ان کے پاس جوتے نہ ہوں تو اس مجبوری میں وہ ٹخنوں سے نیچے تک موزے کاٹ کر انھیں استعمال کر سکتے اورتہ بند کے طور پر باندھنے کے لیے ان سلا کپڑا نہ ہو تو شلوار یا پاجامہ بھی پہن سکتے ہیں۔ ۴۱۹؂

نکاح کرنے، کرانے یا نکاح کی بات طے کرنے کو، البتہ آپ نے احرام کی حالت میں پسند نہیں فرمایا۔ ۴۲۰؂

اس حالت میں کوئی شخص دنیا سے رخصت ہوجائے تو آپ کا ارشاد ہے کہ اسے احرام کے کپڑوں ہی میں دفن کردیا جائے اور تکفین کے موقع پر نہ اسے خوشبو لگائی جائے اورنہ اس کا سر اور منہ ڈھانپا جائے۔ فرمایا ہے کہ اللہ قیامت کے دن اس کو تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔ ۴۲۱؂

اسی طرح وضاحت فرمائی ہے کہ احرام کی حالت میں شکار تو بے شک ممنوع ہے ، لیکن احرام کے بغیر کسی شخص نے شکار کیا ہو تو محرم اسے کھا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کے ایما یا کسی اشارے کو اس میں کوئی دخل نہ ہو۔ ۴۲۲؂ نیز فرمایا ہے کہ شکار کی ممانعت کے اس حکم کا موذی جانوروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس طرح کے جانور حالت احرام میں بھی بغیر کسی تردد کے مارے جا سکتے ہیں۔ ۴۲۳؂

تلبیہ

تلبیہ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ حج کا شعار ہے ۴۲۴؂ اور جب کوئی مسلمان 'لبیک لبیک' پکارتا ہے تو اس کے دائیں اور بائیں سے شجر وحجر بھی زمین کے آخر تک یہی پکارتے ہیں۔ ۴۲۵؂ چنانچہ فرمایا ہے کہ جبریل امین نے مجھے ہدایت کی ہے کہ اسے بلند آواز سے کہا جائے۔ ۴۲۶؂

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ آپ اسی مفہوم کے بعض الفاظ کا اضافہ بھی کردیتے تھے۔ ابن عمر کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حج وعمرہ کے لیے نکلتے تو ذوالحلیفہ پہنچ کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر مسجد کے پاس اونٹنی پر سوار ہوتے، وہ کھڑی ہو جاتی تو تلبیہ کی ابتدا اس دعا سے کرتے تھے :

لَبَّیْکَ، اللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ ؛ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ؛ وَالْخَیْرُ فِی یَدَیْکَ ؛ لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَیْکَ وَالْعَمَلُ . ۴۲۷؂

''میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں؛ حاضر ہوں اور اسی سے خوش بختی حاصل کرتا ہوں ؛ اور بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے ؛ حاضر ہوں اوررغبت تیری ہی طرف ہے اورعمل بھی تیر ے ہی لیے ہے۔''

اسی طرح کے کسی موقع پر ' لَبَّیْکَ ، اِلٰہَ الْحَقِّ لَبَّیْکَ' کے الفاظ بھی روایت ہوئے ہیں ۔ ۴۲۸؂

طواف

حج کا طواف تو ایک ہی ہے جسے اصطلاح میں طواف افاضہ کہا جاتا ہے، لیکن حج وعمرہ سے فارغ ہوکر اپنے گھروں کے لیے رخصت ہونے والوں کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی ہے کہ جاتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر کے جائیں۔ابن عباس کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : رخصت سے پہلے تم میں سے ہر ایک کا آخری کام یہی ہونا چاہیے۔ ۴۲۹؂ حائضہ عورتوں کو، البتہ آپ نے ان کی مجبوری کے پیش نظر اس کے لیے نہیں کہا، بلکہ اجازت دی کہ وہ اس کے بغیر ہی مکہ سے چلی جائیں۔ ۴۳۰؂

طواف سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ہے۔ ۴۳۱؂ آپ کا ارشاد ہے کہ یہ نمازہی کی طرح ہے، لیکن اس کے دوران میں اگر کوئی بات کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ تاہم یہ بھلائی کی بات ہونی چاہیے۔ ۴۳۲؂

سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں کہ میں ایام سے تھی تو آپ نے فرمایا : تم اس حالت میں حج کے تمام مناسک ادا کرسکتی ہو، مگر طواف نہیں کرسکتی۔ ۴۳۳؂

ام سلمہ کہتی ہیں کہ میں بیمار تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر ہوا تو آپ نے مجھے سواری پر طواف کر لینے کی ہدایت فرمائی۔ ۴۳۴؂

جابر بن عبداللہ کی روایت ہے کہ مکہ پہنچ کر آپ نے پہلا طواف کیا تو اس میں تین پھیرے کندھے ہلا کر دوڑ تے ہوئے اور چار اپنی چال چلتے ہوئے لگائے۔ ۴۳۵؂ پھر مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اوراس کے پیچھے جاکر دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد حجر اسود کی طرف واپس آئے، اس کا استلام کیا اوردروازے سے صفا کی طرف نکل گئے۔ ۴۳۶؂

ابن عباس کا بیان ہے کہ اس طواف میں آپ کا دایاں کندھا برہنہ تھا اوراپنی چادر آپ نے دا ہنی بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالی ہوئی تھی۔ ۴۳۷؂

طواف میں رکن یمانی کے استلام کا ذکر بھی بعض روایتوں میں ہوا ہے۔ ۴۳۸؂

اسی طرح طواف کی یہ فضیلت بھی نقل ہوئی ہے کہ جس نے طواف کیا اوراس کے ساتھ دورکعت نماز پڑھی ، اس نے گویا ایک غلام اللہ کی راہ میں آزاد کردیا۔۴۳۹؂

سعی

سعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کی ہے کہ طواف سے فارغ ہو کر آپ صفا کی طرف نکلے اوراس کے اوپر تک چڑھ گئے، پھر قبلہ رو ہوئے، اللہ کی توحید اورکبریائی بیان کی اورفرمایا :

لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ، لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وھو علی کل شی قدیر، لا الٰہ الا اللّٰہ وحدہ، انجز وعدہ، ونصر عبدہ، وھزم الاحزاب وحدہ.۴۴۰؂

''اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اورحمد بھی اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں، وہ تنہا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے اوراپنے بندے کی مدد کی ہے اورمنکروں کی تمام جماعتوں کو تنہا شکست دے دی ہے۔ ''

یہی کلمات آپ نے تین مرتبہ دہرائے اوران کے درمیان میں دعا بھی کی۔ اس کے بعد مروہ کی طرف چلے۔ جب قدم نشیب میں پہنچے تو دوڑنے لگے۔ پھر جیسے ہی چڑھائی شروع ہوئی، اپنی چال چلنے لگے۔ مروہ پر پہنچ کر بھی آپ نے وہی کیا جو صفا پر کیا تھا اوراپنے سات پھیرے اسی طرح پور ے کر لیے۔۴۴۱؂

عرفات کا وقوف

منیٰ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۹؍ذوالحجہ کی صبح طلوع آفتاب کے بعد عرفات کے لیے روانہ ہوئے۔ وہاں آپ کے لیے وادی نمرہ میں خیمہ لگایا گیا تھا۔ سورج ڈھلنے تک آپ نے اس میں قیام فرمایا۔ پھر وادی کے نشیب میں آئے اورلوگوں کو خطبہ دیا۔ اس کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ایک اذان اوردو تکبیروں کے ساتھ پڑھی۔ ان کے آگے اورپیچھے کوئی نوافل نہیں پڑھے ۔ پھر جبل رحمت کے پاس قبلہ رو ہوکر غروب آفتاب تک کھڑے دعا ومناجات کرتے رہے۔ ۴۴۲؂ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس دن لوگ تلبیہ بھی پڑھتے رہے اور تکبیریں بھی کہتے رہے، لیکن کسی پرکوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ ۴۴۳؂

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے قریب ہوتے ہیں، فرشتوں کے روبرو ان پر فخر ومباہات کا اظہار کرتے ہیں اوراس سے زیادہ کسی دن اپنے بندوں کو آگ سے رہائی نہیں دیتے۔ ۴۴۴؂

مزدلفہ کا قیام

مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشا کی نماز عرفات ہی کی طرح ایک اذان اوردو تکبیر وں کے ساتھ پڑھی۔ پھر صبح تک آرام فرمایا اوراس دوران میں کوئی نوافل وغیرہ نہیں پڑھے۔ نماز فجر، البتہ ذرا سویرے ادا کی۔ اس کے بعد روشنی کے پوری طرح پھیل جانے تک مشعرالحرام کے پاس کھڑے دعا و مناجات کرتے رہے۔ طلوع آفتاب سے کچھ پہلے آپ یہاں سے روانہ ہوئے اوروادی محسر سے تیزی کے ساتھ گزرتے ہوئے منیٰ پہنچ گئے۔ ۴۴۵؂

رمی

رمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے د ن چاشت کے وقت اوربعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد کی ہے۔ ۴۴۶؂ اس کے لیے آپ جمرے کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوئے۔ بیت الحرام آپ کے بائیں جانب اور منیٰ دائیں جانب تھا۔ پھر آپ نے سات کنکریاں ماریں اورمارتے وقت ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہی۔ پہلے دو جمروں کے پاس آپ نے وقوف بھی فرمایا اوررمی کے بعدقبلہ رو ہو کر دیر تک تسبیح وتحمید، تکبیر وتہلیل اوردعاو مناجات کرتے رہے۔ جمرۂ عقبہ کے پاس، البتہ آپ بالکل نہیں ٹھیرے۔ ۴۴۷؂

اس موقع پر اوراس سے پہلے بھی جب ۸؍ذوالحجہ کو آپ مکہ سے منیٰ آئے تو جتنے دن قیام فرمایا، اس کے دوران میں تمام نمازیں قصر کر کے پڑھتے رہے۔ ۴۴۸؂

علاقے کے بعض چرواہوں نے رات منیٰ میں گزارنے کے بجائے اپنے ریوڑوں کے پاس چلے جانے کی اجازت چاہی تو آپ نے اجازت دے دی اورفرمایا : یوم النحر کوکنکریاں مارنے کے بعد باقی دو دن کی کنکریاں ایک ہی دن مارلینا۔ ۴۴۹؂

قربانی

قربانی عام طریقے سے ہوئی ، تاہم ایک اہم سوال اس کے بارے میں بھی پیدا ہوا کہ ہدی کے جانور اگر راستے ہی میں مرنے کے قریب پہنچ جائیں تو کیا کیا جائے؟ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے ، جسے آپ نے قربانی کے اونٹ دے کر بھیجا تھا، پوچھا تو آپ نے فرمایا: ذبح کرکے ان کے نعل خون میں ڈبونا اورکوہان کے قریب رکھ دینا، ۴۵۰؂ پھر ان کا گوشت نہ تم کھانا اورنہ تمھارے ساتھی کھائیں۔ ۴۵۱؂

حلق

حجۃ الوداع کے موقع پرحضور نے خود بھی حلق کرایا اورآپ کے بعض صحابہ نے بھی اسی کو ترجیح دی۔ ۴۵۲؂ ابن عمر کی روایت ہے کہ سر منڈوانے والوں کے لیے آپ نے تین مرتبہ اوربال کٹوانے والوں کے لیے ایک مرتبہ دعا فرمائی۔ ۴۵۳؂

یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ قصر کے مقابلے میں حلق کی فضیلت بہرحال زیادہ ہے۔

حج وعمرہ سے متعلق چند باتیں ان کے علاوہ بھی روایتوں میں نقل ہوئی ہیں۔

ایک یہ کہ ایک عورت نے اپنا بچہ آپ کی طرف اٹھایا اور پوچھا : کیا یہ بھی حج کر سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، لیکن اس کا اجر تمھارے لیے ہے۔ ۴۵۴؂

دوسری یہ کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے پوچھا : یارسول اللہ، میرے باپ پر حج فرض ہے، مگر وہ اتنا بوڑھا ہے کہ سواری پر ٹھیر بھی نہیں سکتا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کرسکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : کرسکتی ہو۔ ۴۵۵؂

تیسری یہ کہ جہینہ کی ایک عورت نے حضور سے پوچھا : میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی، اب وہ دنیا سے رخصت ہوگئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرمایا : ضرور کرو، کیا اس پر قرض ہوتا تو تم ادا کرتیں؟ یہ اللہ کا قرض ہے، اسے بھی ادا کرو، اس لیے کہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے۔ ۴۵۶؂

چوتھی یہ کہ ایک شخص نے آپ کے سامنے 'لبیک عن شبرمۃ' کہا۔ آپ نے پوچھا: یہ شبرمہ کون ہے ؟ اس نے کہا : میرا بھائی ہے۔ آپ نے پوچھا : اپنا حج کرچکے ہو؟ اس نے کہا : نہیں۔ فرمایا : پہلے اپنا حج کرلو، اس کے بعد شبرمہ کی طرف سے کرلینا۔ ۴۵۷؂

پانچویں یہ کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور منیٰ میں لوگوں کے سوالوں کا جواب دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو کسی نے پوچھا: مجھے معلوم نہ تھا، میں نے قربانی سے پہلے بال منڈوا لیے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اب قربانی کرلو، کوئی حرج نہیں ۔ کسی نے پوچھا : مجھے معلوم نہ تھا، میں نے رمی سے پہلے قربانی کر لی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اب رمی کر لو ، کوئی حرج نہیں ۔ غرض یہ کہ کسی بھی چیز کی تقدیم و تاخیر کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہی کہا کہ اب کر لو ، کوئی حرج نہیں۔ ۴۵۸؂

چھٹی یہ کہ حرم مدینہ کے بارے میں آپ نے لوگوں کو متنبہ فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نے جس طرح مکہ کو حرام ٹھیرایا ہے، میں نے اسی طرح مدینہ کو حرام ٹھیرایا ہے۔ لہٰذا اس کے دونوں کناروں کے درمیان میں کوئی شخص نہ کسی کا خون بہائے، نہ شکار کرے، نہ قتال کے لیے ہتھیار اٹھائے اور نہ کسی درخت کے پتے جھاڑے، الاّ یہ کہ جانوروں کو کھلانا پیش نظر ہو۔ ۴۵۹؂

اسی طرح فرمایا کہ جس نے مدینہ میں کوئی بدعت پیداکی یا بدعت پیدا کرنے والوں کو جگہ دی، اس پراللہ اوراس کے فرشتوں اورتمام انسانوں کی لعنت ہے۔ ۴۶۰؂

ساتویںیہ کہ اپنی مسجد میں نماز کو آپ نے بیت الحرام کے سوا باقی سب مسجدوں میں ہزارنمازوں سے بہتر قرار دیا، ۴۶۱؂ اوراپنے گھر اورمنبر کے درمیان کی جگہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اورمیرا منبر ٹھیک اس مقام پر ہے، جہاں قیامت میں میرا حوض ہوگا۔ ۴۶۲؂

[باقی]

____________

۴۱۷؂ بخاری، رقم ۱۵۳۸، ۱۵۳۹۔ مسلم، رقم۱۱۹۰، ۱۱۹۱۔

۴۱۸؂ بخاری، رقم ۱۸۳۵،۱۵۴۰، ۱۸۴۰۔ مسلم، رقم۱۲۰۲، ۱۱۸۴، ۱۲۰۵۔

۴۱۹؂ بخاری، رقم ۸۴۲، ۸۴۳۔ مسلم، رقم ۱۱۷۷، ۱۱۷۸، ۱۱۷۹۔

۴۲۰؂ مسلم، رقم ۱۴۰۹۔

۴۲۱؂ بخاری، رقم۱۲۶۸۔ مسلم، رقم۱۲۰۶۔

۴۲۲؂ بخاری، رقم۱۸۲۴۔ مسلم، رقم ۱۱۹۶۔

۴۲۳؂ بخاری ، رقم ۱۸۲۶، ۱۸۲۹۔ مسلم ، رقم ۱۱۹۹۔

۴۲۴؂ ابن ماجہ، رقم ۲۹۲۳۔

۴۲۵؂ ابن ماجہ، رقم۲۹۲۱۔

۴۲۶؂ ابوداؤد، رقم ۱۸۱۴۔

۴۲۷؂ مسلم، رقم۱۱۸۴۔

۴۲۸؂ ابن ماجہ، رقم۲۹۲۰۔

۴۲۹؂ مسلم، رقم۱۳۲۷۔

۴۳۰؂ بخاری، رقم۳۲۸، ۳۲۹۔ مسلم، رقم۱۲۱۱۔

۴۳۱؂ بخاری، رقم۱۶۱۴۔ مسلم، رقم۱۲۳۵۔

۴۳۲؂ ترمذی، رقم ۹۶۰۔

۴۳۳؂ بخاری، رقم۲۹۴۔ مسلم، رقم۱۲۱۱۔

۴۳۴؂ بخاری،رقم ۴۶۴۔ مسلم،رقم۱۲۷۶۔

۴۳۵؂ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی توجیہ یہ بیان فرمائی ہے کہ مسلمانوں کو مدینہ جاکر کمزور ہو جانے کا طعنہ دیا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں لوگوں کو ہدایت کی کہ وہ اس طرح دوڑتے ہوئے طواف کریں اورخود بھی اسی طریقہ سے طواف کیا۔

۴۳۶؂ مسلم، رقم۱۲۱۸۔

۴۳۷؂ ابوداؤد،رقم۱۸۸۴، ۱۸۸۹۔

۴۳۸؂ بخاری، رقم ۱۶۰۶، ۶۰۹۔ مسلم، رقم۱۲۶۷، ۱۲۶۸۔

۴۳۹؂ ابن ماجہ، رقم۲۹۵۶۔

۴۴۰؂ مسلم، رقم۱۲۱۸۔

۴۴۱؂ مسلم ، رقم۱۲۱۸۔

۴۴۲؂ مسلم، رقم۱۲۱۸۔

۴۴۳؂ بخاری، رقم۹۷۰۔ مسلم، رقم۱۲۸۵۔

۴۴۴؂ مسلم، رقم۱۳۴۸۔

۴۴۵؂ مسلم، رقم۱۲۱۸۔

۴۴۶؂ بخاری، رقم۱۷۴۶۔ مسلم، رقم۱۲۹۹۔

۴۴۷؂ بخاری، رقم۱۷۴۸، ۱۷۵۰، ۱۷۵۱، ۱۷۵۳۔ مسلم، رقم۱۲۱۸، ۱۲۹۶۔

۴۴۸؂ بخاری، رقم ۱۶۵۵، ۱۶۵۶۔

۴۴۹؂ ابوداؤد، رقم ۱۹۷۶۔

۴۵۰؂ یہ اس لیے فرمایا کہ بعد میں آنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ یہ مردار نہیں ، بلکہ قربانی کا گوشت ہے۔

۴۵۱؂ مسلم، رقم ۱۳۲۵۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہی پسند فرمایا کہ اس طرح کے جانوروں کا تمام گوشت صدقہ کر دیا جائے۔

۴۵۲؂ بخاری، رقم۱۷۲۹۔ مسلم، رقم۱۳۰۱۔

۴۵۳؂ بخاری، رقم۱۷۲۷۔مسلم، رقم ۱۳۰۳۔

۴۵۴؂ مسلم، رقم۱۳۳۶۔

۴۵۵؂ بخاری، رقم۱۵۱۳۔ مسلم، رقم۱۳۳۴۔

۴۵۶؂ بخاری، رقم۱۸۵۲۔

۴۵۷؂ ابوداؤد،رقم ۱۸۱۱۔

۴۵۸؂ بخاری، رقم۱۷۳۴، ۱۷۳۵۔ مسلم، رقم۱۳۰۶، ۱۳۰۷۔

۴۵۹؂ بخاری، رقم۱۸۶۹۔ مسلم، رقم۱۳۲۶، ۱۳۷۴۔

۴۶۰؂ بخاری، رقم۱۸۶۷۔ مسلم، رقم۱۳۶۶۔

۴۶۱؂ بخاری، رقم ۱۱۹۰۔ مسلم، رقم ۱۳۹۴۔

۴۶۲؂ بخاری،رقم۱۱۹۶۔ مسلم، رقم ۱۳۹۱۔