قانون عبادات (7)


نماز کی جماعت

نماز اگرچہ تنہا بھی ادا کی جاسکتی ہے، لیکن انبیا علیہم السلام کے دین میں یہ سنت ہمیشہ سے قائم رہی ہے کہ تزکیۂ اجتماعیت کی غرض سے اس کو جماعت کے ساتھ اور ممکن ہو تو کسی معبد میں جا کر ادا کیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مقصدسے یثرب پہنچ کر سب سے پہلے مسجد تعمیر کی اور مسلمانوں کی ہر بستی اور ہر محلے میں تعمیر مساجد کی روایت اس کے ساتھ ہی قائم ہو گئی۔ یہ مسجد یں اب دنیا میں ہر جگہ دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان کی تعمیر کے لیے دین میں کوئی خاص وضع متعین نہیں کی گئی۔ تاہم مسلمانوں نے بعض اختلافات کے ساتھ اسے کم وبیش متعین کر رکھا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات جب آپ کی امامت میں نماز ادا کرنے کے لیے اذان دی جاتی تھی تو ان سب لوگوں کے لیے مسجد میں حاضری ضروری تھی جن تک اذان کی آواز پہنچ جائے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کے مطابق مسلمانوں کی تطہیر کے موقع پر منافقین کو ان سے الگ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے تو یہ بھی ہوا کہ ایک نابینا نے مسجد کی حاضری سے رخصت چاہی تو آپ نے پہلے رخصت دے دی، پھر پوچھا کہ اذان سنتے ہو؟ اس نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا: پہنچنا ہو گا۔ ۱۹۴؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر تہدید فرمائی تھی کہ جو لوگ نماز میں نہیں پہنچتے ، چاہتا ہوں کہ ان کے گھر جلا کر ان پر پھینک دوں۔ ۱۹۵؂ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بیمار بھی اس زمانے میں دو آدمیوں کا سہارا لے کر جماعت میں حاضر ہوتے تھے۔ ۱۹۶؂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، ظاہر ہے کہ حکم کی یہ صورت تو باقی نہیں رہی ، لیکن مسجد کی حاضری اور نماز باجماعت کا اہتمام اب بھی بڑی فضیلت کی چیز ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کو بغیر کسی عذر کے اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس باب میں یہ ہیں:

''تنہا نماز پڑھنے سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا ۲۷ درجے زیادہ ہے۔'' ۱۹۷؂

'' اگر لوگ جانتے کہ اذان کے وقت پہنچنے اور پہلی صف میں کھڑے ہونے کا کیا اجر ہے، پھر اس کے لیے قرعہ ڈالنے کے سوا کوئی وجہ ترجیح نہ پاتے تو یہی کرتے۔ اور اگر جانتے کہ ظہر کی جماعت کے لیے سبقت کرنے میں کیا اجر ہے تو اس کے لیے ایک دوسرے سے سبقت کرتے۔ اور اگر جانتے کہ فجر اور عشا کے لیے حاضر ہونے میں کیا اجر ہے تو اس کے لیے گھسٹ کر بھی پہنچنا پڑتا تو پہنچتے۔ ''۱۹۸؂

'' جس نے عشا کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، اس نے گویا آدھی رات قیام کیا اور جس نے صبح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی، اس نے گویا پوری رات قیام میں گزاری ۔'' ۱۹۹؂

عورتیں، البتہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں ۔ ان کے معاملے میں سنت یہی ہے کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں آسکتی ہیں ، لیکن گھر کی نماز ان کے لیے اس کے مقابلے میں بہتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، لیکن ان پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ ان کے گھر اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں ہیں ۔۲۰۰؂؂

قیام جماعت کے لیے شریعت کا متعین کردہ طریقہ درج ذیل ہے:

۱۔ نماز سے پہلے اذان دی جائے گی تا کہ لوگ اسے سن کر جماعت میں شامل ہو سکیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جو کلمات مقرر فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:

اللّٰہ اکبر ؛ اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ؛ حی علی الصلوٰۃ ؛ حی علی الفلاح ؛ اللّٰہ اکبر ؛ لا الہٰ الا اللّٰہ.

۲۔ ایک ہی مقتدی ہو تو وہ امام کے دائیں جانب اس کے ساتھ کھڑا ہو گا اور زیادہ ہوں تو امام درمیان میں ہو گا او روہ اس کے پیچھے صف بنا کر کھڑے ہوں گے۔

۳۔ نماز کھڑی کرنے کے لیے اقامت کہی جائے گی۔ اس میں اذان ہی کے الفاظ دہرائے جائیں گے۔ اتنا فرق ، البتہ ہو گا کہ 'حی علی الفلاح 'کے بعد اقامت کہنے والا 'قد قامت الصلوٰۃ' بھی کہے گا۔

۴۔ اذان اور اقامت کے کلمات پیش نظر مقصد کے لیے ایک سے زیادہ مرتبہ دہرائے بھی جا سکتے ہیں۔

قیام جماعت کا یہ طریقہ اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہے۔ اس کی جو تفصیلات روایتوں میں بیان ہوئی ہیں،و ہ ایک ترتیب کے ساتھ ہم یہاں بیان کیے دیتے ہیں۔

اذان

اذان کی ابتدا کے بارے میں صحابہ کا جو خواب روایتوں میں نقل ہوا ہے اور جس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اذان اور اقامت کا حکم دیا ، اس میں اذان کے کلمات اس طرح دہرائے گئے ہیں : اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر ؛ اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ ، اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ، اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ؛ حی علی الصلوٰۃ ، حی علی الصلوٰۃ ؛ حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ؛ اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ؛ لا الہٰ الا اللّٰہ ۔ ۲۰۱؂

چنانچہ بیان کیا گیا ہے کہ زمانۂ رسالت میں اذان کے کلمات بالعموم دو دو مرتبہ کہے جاتے تھے۔ ۲۰۲؂

ابو محذورہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اذان سکھائی تو فرمایا: تم اس طرح کہو گے: اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر؛ اشہدان لاالہٰ الااللّٰہ ، اشہدان لاالہٰ الا اللّٰہ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ، اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ۔ پھر اسے دہراؤ گے : ' اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ ، اشہد ان لا الہ الا اللّٰہ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ، اشھد ان محمداً رسول اللّٰہ '۔ اس کے بعد کہو گے: 'حی علی الصلوٰۃ، حی علی الصلوٰۃ؛ حی علی الفلاح، حی علی الفلاح؛ اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر؛ لاالہٰ الا اللّٰہ'۔ ۲۰۳؂

انھی کا بیان ہے کہ آپ نے مجھے 'اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ، اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ' دو مرتبہ پست آواز میں اور اس کے بعد دو مرتبہ بلند آواز سے دہرانے کی ہدایت فرمائی۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ صبح کی نماز ہو تو اس میں 'حی علی الفلاح 'کے بعد ' الصلوٰۃ خیر من النوم، الصلوٰۃ خیر من النوم' بھی کہو گے۔ ۲۰۴؂

روایتوں میں ہے کہ بارش برستی یا سردی زیادہ ہوتی تو رات کی نماز کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے موذن سے اعلان کرا دیتے تھے کہ: 'الا صلوا فی الرحال'۲۰۵؂ ( لوگو، اپنے گھروں ہی میں نماز پڑھ لو۔)

اسی طرح یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ آواز بلند کرنے اور اسے ہر طرف پہنچانے کے لیے بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ہوئے اپنی انگلیاں کانوں میں رکھتے اور چہرہ دائیں اور بائیں پھیرتے تھے۔ ۲۰۶؂

عثمان بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امامت کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا: موذن کسی ایسے شخص کو مقرر کرنا جو اذان دینے کی اجرت نہ لے۔ ۲۰۷؂

اذان کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن ہی کے کلمات دہرانے اور اپنے اوپر رحمت بھیجنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ اس کے بعد میرے لیے مقام تقرب کی دعا کرو، اس لیے کہ یہ جنت میں ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے ایک ہی بندے کے لیے خاص کیا گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ میں ہوں گا۔ سو جس نے یہ دعا کی، وہ میری شفاعت کا مستحق ہو جائے گا۔ ۲۰۸؂

سیدنا عمر کی روایت میں مزید یہ وضاحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ' حی علی الصلوٰۃ' اور ' حی علی الفلاح' کے جواب میں ' لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ' کہنے کی ہدایت کی اور فرمایا کہ جس نے سچے دل سے اذان کا جواب دیا، ا س کے لیے جنت کی بشارت ہے۔ ۲۰۹؂

اذان کے بعد کی جو دعائیں آپ سے منقول ہیں، وہ یہ ہیں:

۱۔ اللّٰہم رب ہذہ الدعوۃ التامۃ، والصلوٰۃ القائمۃ، اٰت محمداً الوسیلۃ والفضیلۃ، وابعثہ مقاماً محموداً الذی وعدتہ. ۲۱۰؂

'' اے اللہ، اس دعوت کامل اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار، تو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو فضیلت دے اور مقام تقرب عطا فرما، اور انھیں قیامت کے دن اسی طرح ممدوح خلائق بنا کر اٹھا جس طرح تو نے اس کا وعدہ فرمایاہے ۔''

۲۔ اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ، وحدہ لا شریک لہ، وان محمداً عبدہ ورسولہ، رضیت باللّٰہ ربا، وبمحمد رسولاً، وبالاسلام دیناً . ۲۱۱؂

'' میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہٰ نہیں۔ وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس کے بندے او ررسول ہیں۔ میں راضی اور مطمئن ہوں کہ ا للہ میرا پروردگار ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اُس کے رسول ہیں او راسلام میرا دین ہے۔''

پہلی دعا کے بارے میں آپ کا ارشاد ہے کہ جس نے اس کا اہتمام کیا وہ میری شفاعت کا مستحق ہو گا، ۲۱۲؂ اور دوسری دعا کے بارے میں فرمایا ہے کہ اُس کے گناہ بخش دیے جائیں گے۔ ۲۱۳؂

اقامت

اقامت بالعموم اکہر ی کہی جاتی تھی۔ ۲۱۴؂ صحابہ کے جس خواب کا ذکر اوپر ہوا ہے ، اس میں اقامت کے کلمات اس طرح روایت کیے گئے ہیں: اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر؛ اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ؛ حی علی الصلوٰۃ ؛ حی علی الفلاح ؛ قد قامت الصلوٰۃ ، قد قامت الصلوٰۃ ؛ اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ؛ لا الہٰ الا اللّٰہ. ۲۱۵؂

ابو محذورہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اقامت کے یہ سترہ کلمات سکھائے تھے : اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ، اللّٰہ اکبر ؛ اشہد ان لا الہٰ الا اللّٰہ ، اشہد ان لا الہ اللّٰہ ؛ اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ، اشہد ان محمداً رسول اللّٰہ ؛ حی علی الصلوٰۃ ، حی علی الصلوٰۃ ؛ حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ؛ قد قامت الصلوٰۃ ، قد قامت الصلوٰۃ ؛ اللّٰہ اکبر، اللّٰہ اکبر ؛ لا الہ الا اللّٰہ . ۲۱۶ ؂

امام

نماز ہر نیک وبد مسلمان کے پیچھے پڑھی جائے گی۔ تاہم اس کی امامت کے لیے کسی کا انتخاب پیش نظر ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ہے کہ یہ ذمہ داری اس شخص کودی جائے جو لوگوں میں زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔ پھر اگر وہ قرآن پڑھنے میں برابر ہوں تو جو ان میں سنت کا زیادہ جاننے والاہو، اگر سنت کے جاننے میں برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو، اور اگر اس میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو۔ نیز فرمایا کہ کوئی شخص کسی کے دائرۂ اختیارمیں امامت نہ کرے، بلکہ جس کے ہاں جائے اس کی امامت میں نماز پڑھے۔ ۲۱۷؂

آپ کا ارشاد ہے کہ امام کو ہلکی نماز پڑھانی چاہیے۔ اس لیے کہ اس کے پیچھے بیمار بھی ہو سکتے ہیں، کمزور بھی اور بوڑھے بھی۔ ۲۱۸؂ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کامل، مگر ہلکی نماز پڑھاتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا۔ آپ کا معاملہ تو یہ تھا کہ کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو اس کی ماں کی تشویش کے خیال سے نماز مزید ہلکی کر دیتے تھے ۔ ۲۱۹؂

امام کو نماز کی صفیں خاص اہتمام کے ساتھ سیدھی کرانی چاہییں۔ نعمان بن بشیر کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں اس طرح سیدھی کراتے تھے، گویا ان سے تیر سیدھے کر رہے ہوں ۔ ۲۲۰؂

مقتدی

امام کے پیچھے جو لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوں ، انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی ہے کہ اپنے امام سے سبقت کرنے کی کوشش نہ کریں ، بلکہ اس کی تکبیر کے پیچھے تکبیر کہیں ، اس کے 'سمع اللّٰہ لمن حمدہ' کہنے کے بعد ' ربنا، ولک الحمد' کہیں اور نماز کے اعمال میں بھی ہر موقع پر اس کی پیروی کریں ۔ ۲۲۱؂ انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن نماز کے بعد آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : لوگو، میں تمھارا امام ہوں ۔ مجھ سے نہ رکوع میں آگے بڑھو ، نہ سجدے میں، نہ قیام میں او ر نہ نماز ختم کرنے میں ۔ ۲۲۲؂

اسی طرح تاکید فرمائی ہے کہ نماز کی صفیں سیدھی رکھی جائیں ، ۲۲۳؂ مونڈھے برابر ہوں ، درمیان میں خلل نہ ہو، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہوں ۔ ۲۲۴؂ عاقل و بالغ آگے آئیں ، پھر ان سے چھوٹے اور اس کے بعد ان سے چھوٹے۔ ۲۲۵؂

پہلی صف پہلے پوری کی جائے ، اس کے بعد دوسری ، پھر تیسری ۔ ۲۲۶؂ صفیں برابر رکھنے کو آپ نے نماز کی اقامت کا تقاضا قرار دیا ۲۲۷؂ اور فرمایاکہ لوگو، اپنے بھائیوں کے لیے نرم رہو اور صفوں میں شیطان کے لیے جگہیں نہ چھوڑو، اور یاد رکھو کہ جس نے صف ملائی، اسے اللہ ملائے گا اور جس نے صف توڑی ، اس کا رشتہ اللہ لوگوں سے توڑ دے گا۔ ۲۲۸؂ اسی طرح فرمایا کہ تم بھی فرشتوں کی طرح صف بندی کرو، وہ اپنے پروردگار کے حضور میں ہمیشہ مل کر کھڑے ہوتے ہیں اور آگے کی صفوں کو پہلے پورا کرتے ہیں ۔ ۲۲۹؂

نماز کے لیے پہلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے ، روایتوں میں اس کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ۲۳۰؂ تاہم کسی وقت دیر ہو رہی ہو تو چاہیے کہ آدمی اطمینان اور وقار کے ساتھ آئے اور جتنی نماز ملے ، اسے پڑھ کر باقی خود پوری کر لے ۔ ۲۳۱؂

صف بندی امام کے آنے پر کرنی چاہیے ۲۳۲؂ اور صف میں ایک ہی آدمی نہیں ہونا چاہیے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو اس طرح نماز پڑھتے دیکھا تو اسے نماز دہرانے کے لیے کہا۔ ۲۳۳؂ عورتوں کو البتہ آپ نے اس کا پابند نہیں کیا۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر نماز پڑھائی تو دو آدمی آگے تھے اور ام سلیم تنہا پچھلی صف میں کھڑی تھیں ۔ ۲۳۴؂

مسجدیں

دنیا کی مسجدوں میں قدیم ترین مسجد بیت الحرام ہے ۔ اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ یروشلم کی مسجد کے بانی سیدنا داؤد ہیں او ر یثرب کی مسجد خدا کے آخری پیغمبر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعمیر کی ہے ۔یہ تینوں مسجدیں خصوصی حیثیت کی حامل ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہی تین مسجدیں ہیں جن کی زیارت اور جن میں نماز ادا کرنے کے لیے لوگ سفر کر سکتے ہیں ۔ ۲۳۵؂ ان میں نماز کی بڑی فضیلت ہے ۔ چنانچہ اپنی مسجد کے بارے میں آپ کا یہ ارشاد روایتوں میں نقل ہوا ہے کہ اس کی نماز بیت الحرام کے سوا باقی سب مسجدوں میں ہزار نمازوں سے بہتر ہے ۔ ۲۳۶؂ ان کے علاوہ جتنی مسجدیں دنیا میں بنی ہیں یا آیندہ بنائی جائیں گی، ان کا درجہ بالکل یکساں ہے ۔ یہ بیع و شرا، میلے ٹھیلے اور تفریحات کے لیے نہیں ، بلکہ اللہ کی عبادت کے لیے بنائی جاتی ہیں ۔ اللہ کو زمین پر سب سے زیادہ پسند یہی عمارتیں ہیں ۔ ۲۳۷؂ ان میں بیٹھ کر نماز کا انتظار بھی نماز ہی ہے ۔ ۲۳۸؂ لوگ ان میں جتنی دور سے عبادت کے لیے آئیں گے ، ان کا اجر اتنا ہی زیادہ ہو گا ۔ ۲۳۹؂ ان میں آنے کے جو آداب شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں ، وہ یہ ہیں :

۱۔ مسجد میں آنے کے بعد ، اگر کوئی عذر مانع نہ ہو تو آدمی کو دو رکعت نماز پڑھ کر مسجد میں بیٹھنا چاہیے ۔

۲۔ آدمی نماز پڑھ کر بھی آیا ہو اور مسجد میں نماز کھڑی ہو جائے تو بغیر کسی عذر کے اسے جماعت سے الگ نہیں رہنا چاہیے ، بلکہ اس میں شامل ہو جانا چاہیے ۔

یہ دونوں باتیں روایتوں میں بھی بڑی تاکید کے ساتھ بیان ہوئی ہیں ۔ ۲۴۰؂ نیز یہ بات بھی نقل ہوئی ہے کہ مسجد میں داخل ہوتے وقت آپ اللہ سے تعوذ کرتے تھے ۔ اس تعوذ کے الفاظ درج ذیل ہیں :

اعوذ باللّٰہ العظیم ، و بوجھہ الکریم، وسلطانہ القدیم من الشیطان الرجیم. ۲۴۱؂

''میں شیطان مردود سے خداے عظیم، اس کی ذاتِ کریم اور سلطانیِ قدیم کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ''

اسی طرح یہ بھی منقول ہے کہ آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو اسے کہنا چاہیے : ' اللّٰھم افتح لی ابواب رحمتک ' (اے اللہ ، میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ) اور نکلے تو کہنا چاہیے : ' اللّٰھم انی اسئلک من فضلک'(اے اللہ ، میں تجھ سے تیری عنایت چاہتا ہوں ) ۔ ۲۴۲؂

[باقی]

____________

۱۹۴؂ مسلم، رقم ۶۵۳۔

۱۹۵؂ بخاری، رقم ۶۱۸۔

۱۹۶؂ مسلم، رقم ۶۵۴۔

۱۹۷؂ بخاری، رقم ۶۱۹۔

۱۹۸؂ بخاری، رقم ۶۲۴۔

۱۹۹؂ مسلم، رقم ۶۵۶۔

۲۰۰؂ ابو داؤد، رقم ۵۶۷۔

۲۰۱؂ ابو داؤد، رقم ۴۹۹۔

۲۰۲؂ بخاری، رقم ۵۸۷۔ مسلم، رقم ۳۷۸۔

۲۰۳؂ ابو داؤد، رقم ۵۰۳۔

۲۰۴؂ ابو داؤد، رقم۵۰۰۔

۲۰۵؂ بخاری، رقم ۶۳۵۔ مسلم، رقم ۶۹۷۔

۲۰۶؂ ترمذی، رقم ۱۹۷۔

۲۰۷؂ ابو داؤد، رقم ۵۳۱۔

۲۰۸؂ مسلم، رقم ۳۸۴۔

۲۰۹؂ مسلم، رقم ۳۸۵۔

۲۱۰؂ بخاری، رقم ۵۸۹۔

۲۱۱؂ مسلم، رقم ۳۸۶۔

۲۱۲؂ بخاری، رقم۵۸۹۔

۲۱۳؂ مسلم، رقم۳۸۶۔

۲۱۴؂ بخاری، رقم ۶۰۳۔ مسلم،رقم ۳۷۸۔

۲۱۵؂ ابو داؤد ، رقم ۴۹۹۔

۲۱۶؂ ابو داؤد ، رقم ۵۰۲۔

۲۱۷؂ مسلم، رقم ۶۷۳۔

۲۱۸؂ بخاری، ۶۷۱۔

۲۱۹؂ بخاری، رقم ۶۷۶۔

۲۲۰؂ مسلم ، رقم ۶۳۶۔

۲۲۱؂ بخاری ، رقم ۷۰۰ ۔

۲۲۲؂ مسلم ، رقم ۴۲۶۔

۲۲۳؂ بخاری ، رقم ۶۸۷۔

۲۲۴؂ ابوداؤد، رقم ۶۶۶۔

۲۲۵؂ مسلم ، رقم ۴۳۲۔

۲۲۶؂ ابوداؤد، رقم ۶۷۱۔

۲۲۷؂ بخاری ، رقم ۶۹۰۔

۲۲۸؂ ابو داؤد، رقم ۶۶۶۔

۲۲۹؂ مسلم ، رقم ۴۳۰۔

۲۳۰؂ بخاری ، رقم ۵۹۰۔ مسلم ، رقم ۴۳۷۔

۲۳۱؂ بخاری ، رقم ۶۱۰۔

۲۳۲؂ بخاری ، رقم ۶۱۱۔

۲۳۳؂ ابوداؤد، رقم ۶۸۲۔

۲۳۴؂ بخاری ، رقم ۶۹۴۔

۲۳۵؂ بخاری ، رقم ۱۱۳۲۔ مسلم ، رقم ۱۳۹۷۔

۲۳۶؂ بخاری ، رقم ۱۱۳۳۔ مسلم ، رقم ۱۳۹۴۔

۲۳۷؂ مسلم ، رقم ۶۷۱۔

۲۳۸؂ بخاری ، رقم ۶۲۰۔

۲۳۹؂ مسلم ، رقم ۶۶۴، ۶۶۵۔

۲۴۰؂ بخاری ، رقم ۴۳۳،۸۸۹۔ ابوداؤد، رقم ۵۷۵، ۵۷۷۔

۲۴۱؂ ابوداؤد، رقم ۴۶۶۔

۲۴۲؂ مسلم ، رقم ۷۱۳۔