قانون عبادات (8)


نماز میں غلطی

نماز کے لیے جو اعمال و اذکار شریعت میں مقرر کیے گئے ہیں ، ان میں کوئی غلطی ہوجائے یا شبہ ہو کہ غلطی ہوئی ہے تو یہ سنت قائم کی گئی ہے کہ غلطی کی تلافی کرنا ممکن ہو تو تلافی کے بعد اور ممکن نہ ہو تو اس کے بغیر ہی نماز کے آخر میں دو سجدے زیادہ کرلیے جائیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیا ت اس طرح کے جوواقعات ہوئے اور آپ نے جس طریقے سے سہو کے یہ سجدے کیے، ان کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

ابن بحینہ کہتے ہیں کہ حضور نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی ، لیکن پہلی دو رکعتوں کے بعد قعدہ نہیں کیا اوراس کے بغیر ہی تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ لوگ بھی آپ کے ساتھ ہی کھڑے ہوئے ، یہاں تک کہ نماز پوری ہونے کو تھی اور لوگ سلام کے منتظر تھے کہ آپ نے تکبیر کہی اور سلام سے پہلے د و سجدے کیے ، پھر سلام پھیر دیا ۔ ۲۴۳؂

ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نمازپانچ رکعت پڑھادی ۔عرض کیا گیا :کیانماز میں اضافہ کردیا گیا ہے ؟فرمایا : کیو ں ، کیا ہوا ؟ لوگو ں نے عر ض کیا :آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں ۔ اس پر حضور نے وہیں بیٹھے ہوئے پاؤ ں موڑے ، قبلہ کی طرف منہ کیا اور دو سجدے کرکے سلام پھیر دیا ۔پھر لوگو ں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :نماز کے معاملے میں کوئی نیا حکم ہوتا تو میں تمھیں بتا دیتا ۔ بات یہ ہے کہ میں بھی تمھار ی طرح ا نسان ہی ہوں۔ جس طرح تم بھولتے ہو ، میں بھی بھول جاتا ہوں ۔ لہٰذا بھول جاؤں تو یا د کرا دیا کرو ۔ اوریا د رکھو کہ تم میں سے کسی کو نماز میں شبہ ہو تو وہ صحیح بات کا اندازہ کرے ، پھر اسی کے لحاظ سے نماز پوری کرے ، پھر سلام پھیر ے اوراس کے بعد دو سجد ے کرلے ۔ ۲۴۴؂

ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز دورکعت پڑھی اورسلام پھیر دیا ۔ مسجد کے اگلے حصے میں ایک لکڑی رکھی ہوئی تھی ۔آپ گئے اور کچھ غصے کے عالم میں اس پر ٹیک لگادی ۔ لوگوں میں ابوبکر و عمر بھی تھے ، لیکن آپ کی ہیبت سے بات نہیں کرسکے ۔اتنے میں کچھ جلد باز لوگ مسجد سے نکلے اور کہنا شروع کردیا کہ نماز کم ہوگئی ہے ۔ اس پر ایک صاحب جنھیں ذوالیدین کہا جاتا تھا ، اٹھے اور انھوں نے ہمت کرکے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا :آپ بھول گئے یا نمازکم کر دی گئی ہے ؟آپ نے فرمایا :نہ بھولا ہو ں اور نہ نماز کم ہوئی ہے ۔ انھو ں نے عرض کیا :کچھ تو ہوا ہے ،یا رسول اللہ ۔ آپ نے لوگو ں سے تصدیق چاہی ۔ انھوں نے بھی یہی کہا تو آپ نے دو رکعتیں او رپڑھیں ، پھر سلام پھیر ا ، پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے مطابق یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا ۔پھر سراٹھایا اور تکبیر کہی ۔ پھر تکبیر کہی اور اپنے معمول کے مطابق یا اس سے کچھ لمبا سجدہ کیا۔ پھر سر اٹھایا اور تکبیر کہی ۔ ۲۴۵؂

عمران بن حصین کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور تین رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا ، پھر اپنے حجر ے میں چلے گئے ۔ ایک شخص جسے خرباق کہتے تھے اور جس کے ہاتھ بہت لمبے تھے ،اس نے آپ کو بتایا۔ آپ غصے میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا :یہ سچ کہتا ہے؟انھوں نے تصدیق کی تو آپ نے ایک رکعت پڑھی ، پھر سلام پھیر ا ، پھر دو سجدے کیے اور اس کے بعد دوبارہ سلام پھیردیا ۔ ۲۴۶؂

معاویہ بن حدیج کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک موقع پر جب اس طرح چھوٹی ہوئی رکعت ادا کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ مسجد میں آئے توآپ کی ہدایت پر بلال نے اس کے لیے اقامت بھی کہی ۔ ۲۴۷؂

آپ کا ارشاد ہے :

''تم میں سے کسی کو نماز میں شبہ ہوجائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو اسے چاہیے کہ یقین پر بنا رکھے او رجس میں شبہ ہو ، اُسے چھوڑدے ، پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر لے ۔ اس نے پانچ رکعتیں پڑھ لیں تویہ سجدے انھیں جفت کردیں گے اورچارپوری کردیں تو شیطان کے لیے باعث ذلت ہو جائیں گے ۔'' ۲۴۸؂

اما م غلطی کر ے اور اس پر خود متنبہ نہ ہو تو مقتد ی اسے متنبہ کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ 'سبحا ن اللّٰہ ' کہیں گے ۔ عورتیں اپنی آواز بلند کرنا پسند نہ کریں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر متنبہ کردیں ۔۲۴۹؂ اسی طرح فرمایا ہے کہ قرأت میں غلطی ہوجائے تو سننے والے امام کو یاد دلادیں گے ۔۲۵۰؂

نماز کے آداب

نماز اللہ تعالیٰ کی پرستش اور اس کے حضور میں دعا ومناجات ہے ۔ چنانچہ قرآن نے جہاں اس کی حفاظت کا حکم دیا ہے ، وہاں یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ : 'وقوموا للّٰہ قانتین '۲۵۱؂ (اور اللہ کے حضور میں نہایت ادب کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ )۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہدایات اس حکم کی وضاحت میں نقل ہوئی ہیں ، وہ یہ ہیں :

۱۔ نماز میں کسی کے ساتھ کوئی بات نہ کی جائے ۔ فرمایا ہے :نماز تو صرف تسبیح وتکبیر اور قرآن کی تلاوت ہے ، اس میں لوگوں کی بات چیت کی قسم کی کوئی چیز جائز نہیں ہے ۔۲۵۲؂ زید بن ارقم کہتے ہیں کہ ہم پہلے نماز میں اپنے ساتھ کے نماز ی سے کوئی بات کرلیتے تھے ، لیکن 'وقوموا للّٰہ قانتین ' کا حکم نازل ہوا تو ہمیں اس سے رو ک دیا گیا او رخاموشی کے ساتھ نماز پڑھنے کی ہدایت کی گئی ۔ ۲۵۳؂ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتے تو آپ جواب دیتے تھے ، لیکن نجاشی کے ہاں سے واپسی پر ہم نے سلام کیا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔ ہم نے پوچھا :یارسول اللہ ، آپ نماز میں سلام کا جواب دیا کرتے تھے ۔ آپ نے فرمایا :نماز میں ایک ہی مشغولیت ہوسکتی ہے ۔ ۲۵۴؂

۲۔نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آ پ نے فرمایا :یہ شیطان کا بندے کی نماز میں سے جھپٹ لینا ہے ۔ ۲۵۵؂ اسی طرح آسمان کی طرف دیکھنے پر بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت تنبیہ فرمائی ہے ۔ آپ کا ارشاد ہے :لوگوں کا کیا معاملہ ہے کہ نماز میں اپنی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں ۔وہ اس سے بازآجائیں ، ورنہ اندیشہ ہے کہ ان کی نگاہیں اچک لی جائیں گی ۔ ۲۵۶؂

۳۔ نماز پورے سکون کے ساتھ پڑھی جائے ۔ ارشاد فرمایا ہے : یہ کیا بات ہے کہ میں تمھیں اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھتا ہوں جس طرح سرکش گھوڑوں کی دمیں اٹھتی ہیں ، نماز میں پرسکون رہا کرو ۔ ۲۵۷؂

۴۔ نماز کے دوران میں بال اور کپڑے نہ سمیٹے جائیں ۔ آپ کا ارشاد ہے :مجھے ہدایت کی گئی ہے کہ میں سات اعضا پر سجدہ کروں او رنمازکے دوران میں اپنے بال اور کپڑے نہ سمیٹوں ۔۲۵۸؂

۵ ۔نماز ی کے سامنے کوئی ایسی چیزنہ ہو جس سے حضور قلب میں فرق آئے ۔ انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ نے گھر میں ایک پردہ لٹکا رکھا تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا :یہ پردہ ہٹا دو ، اس لیے کہ اس کی تصویریں نماز میں میرے سامنے آتی رہیں گی ۔۲۵۹؂

۶۔کھانا سامنے رکھا ہو تو اس سے فارغ ہو کر اطمینان کے ساتھ نماز پڑھی جائے تاکہ نماز میں کھانے کا خیا ل نہ ہو ، بلکہ کھانے کے دوران میںآدمی نماز کے دھیان میں رہے ۔ یہی ہدایت اس صورت میں بھی ہے ، جب پیشاب یا پاخانے کے لیے جانے کی ضرورت ہو ۔ ارشاد فرمایا ہے : کھانا سامنے ہو یا پیشاب یا پاخانہ لگ رہا ہو تو نماز نہیں پڑھنی چاہیے ۔۲۶۰؂

۷۔نماز کے دوران میں کوئی دوسرا کا م کرنا ہی پڑے تو اس میں افراط نہ ہو ۔ بیان کیا گیا ہے کہ ایک شخص سجدے کی جگہ مٹی برابر کررہا تھا ،آپ نے دیکھا توفرمایا :تمھیں کرنا ہی ہے تو ایک مرتبہ کرلو ۔ ۲۶۱؂

۸۔ قیام کی حالت میں کوئی شخص پہلو پرہاتھ رکھے ، نہ قعدے میں بغیر کسی ضرورت کے ہاتھوں کا سہارا لے کربیٹھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ ۲۶۲؂

۹۔نماز میں جماہی نہ لے ۔ آپ کا ارشادہے :تم میں سے کسی کو نماز میں جماہی آجائے تو جہا ں تک ممکن ہو ، اسے روکنے کی کوشش کرے ،ورنہ منہ پر ہاتھ رکھ لے ۔ ۲۶۳؂

۱۰۔شایستہ اورمناسب لباس پہن کرنماز پڑھے ۔ حضور کا ارشاد ہے کہ ایک ہی کپڑا ہوتو اس طرح نہیں اوڑھنا چاہیے کہ اس کا کچھ حصہ کند ھوں پرنہ ہو۔۲۶۴؂ اسی طرح فرمایا ہے کہ جو شخص متکبرانہ تہ بند لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا ہو ، اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرتے ۔ ۲۶۵؂

____________

۲۴۳؂ بخاری ، رقم ۱۱۶۶،۱۱۶۷۔

۲۴۴؂ بخاری ، رقم ۱۱۶۸،۳۹۲۔

۲۴۵؂ بخاری ، رقم ۱۱۷۲۔ مسلم ، رقم ۵۷۳۔

۲۴۶؂ مسلم ، رقم ۵۷۴۔

۲۴۷؂ نسائی ، رقم ۶۶۴۔

۲۴۸؂ مسلم ، رقم ۵۷۱۔

۲۴۹؂ بخاری ، رقم ۶۵۲ ، ۱۱۴۵ ۔ مسلم ، رقم ۴۲۲۔

۲۵۰؂ ابو داؤد ، رقم ۹۰۷۔

۲۵۱؂ البقرہ ۲:۲۳۸۔

۲۵۲؂ مسلم ، رقم ۵۳۷۔

۲۵۳؂ مسلم ، رقم ۵۳۹۔

۲۵۴؂ مسلم ، رقم ۵۳۸۔

۲۵۵؂ بخاری ، رقم ۷۱۸۔

۲۵۶؂ بخاری ، رقم ۷۱۷۔مسلم ، رقم ۴۲۹۔

۲۵۷؂ مسلم ، رقم ۴۳۰۔

۲۵۸؂ بخاری ، رقم ۷۸۳۔ مسلم ، رقم ۴۹۰۔

۲۵۹؂ بخاری ، رقم ۳۶۷۔

۲۶۰؂ مسلم ، رقم ۵۶۰۔

۲۶۱؂ بخاری ، رقم ۱۱۴۹۔مسلم ، رقم ۵۴۶۔

۲۶۲؂ بخاری ، رقم ۱۱۶۱۔مسلم ، رقم ۵۴۵۔ابو داؤ د ، رقم ۹۴۷۔

۲۶۳؂ مسلم ، رقم ۲۹۹۵۔

۲۶۴؂ مسلم ، رقم ۵۱۶۔

۲۶۵؂ ابوداؤد ، رقم ۶۳۸۔