قانون عبادات (9)


جمعہ کی نماز

جمعہ کے دن مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے کہ نماز ظہر کی جگہ وہ اسی دن کے لیے خاص ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں گے۔ اس نماز کے لیے جو طریقہ شریعت میں مقرر کیا گیا ہے، وہ یہ ہے:

یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی،

نماز ظہر کے برخلاف اس کی دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی،

نماز کے لیے تکبیر کہی جائے گی،

نماز سے پہلے امام حاضرین کی تذکیر ونصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔ یہ خطبے کھڑے ہو کر دیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا،

نماز کی اذان اس وقت دی جائے گی، جب امام خطبے کی جگہ پر آ جائے گا،

اذان ہوتے ہی تمام مسلمان مردوں کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس اگر کوئی عذر نہ ہو تو اپنی مصروفیات چھوڑ کر نماز کے لیے حاضر ہو جائیں،

نماز کا خطاب اور اس کی امامت مسلمانوں کے ارباب حل وعقد کریں گے اور یہ صرف انھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو ان کی طرف سے اس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا ان کا کوئی نمائندہ اس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔

قرآن میں اس نماز کا ذکر اس طرح ہوا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ، اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوۃِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِ، وَذَرُوا الْبَیْعَ، ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ. فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوۃُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ، وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِ، وَاذْکُرُوا اللّٰہَ، کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.(الجمعہ ۶۲: ۹۔۱۰)

'' ایمان والو، جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید وفروخت چھوڑ دو۔ یہ تمھارے لیے بہترہے، اگر تم جانتے ہو۔ پھر جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتے رہو تاکہ تمھیں فلاح نصیب ہو۔''

اس نماز کے ائمہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی ہے کہ نماز لمبی پڑھائیں اور خطبہ مختصر دیں۔ فرمایا ہے کہ یہ آدمی کے سمجھ دار ہونے کی علامت ہے۔ ۲۶۶؂

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تذکیر ونصیحت اور اجتماعی عبادت کے لیے انبیا علیہم السلام کے دین میں اصلاً یہی دن مقرر کیا گیا تھا۔ ۲۶۷؂ مؤرخین کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے کعب بن لوی یا قصی بن کلاب بھی اس روز قریش کے لوگوں کا اجتماع کیا کرتا تھا ۔ ۲۶۸؂ اس دن کے انتخاب کی وجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمائی ہے کہ آدم کی تخلیق اسی دن ہوئی ، اسی دن وہ باغ میں داخل کیے گئے، اسی دن اس سے نکالے گئے اور قیامت بھی اسی دن برپا ہو گی۔ ۲۶۹؂ آپ کا ارشاد ہے کہ اس میں ایک ایسی گھڑی بھی آتی ہے جس میں بندۂ مومن اگر اپنے پروردگار سے کسی خیر کا طالب ہو تو اسے وہ دے دیا جاتا ہے۔ ۲۷۰؂ چنانچہ لوگوں کو آپ نے متنبہ فرمایا ہے کہ وہ اگر جمعہ کے لیے نہیں آئیں گے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی جائے گی اور وہ غافل ہو کر رہ جائیں گے۔ ۲۷۱؂ اس کے برخلاف جو لوگ غسل کر کے، پاکیزہ ہو کر اور پوری تزیین کے ساتھ، نماز کے لیے پہنچیں گے، پھر دو آدمیوں کے درمیان میں گھس کر بیٹھنے کی کوشش نہیں کریں گے، اللہ تعالیٰ جتنی توفیق دے گا، اس کے لحاظ سے نماز پڑھیں گے اور خاموشی کے ساتھ امام کا خطبہ سنیں گے، انھیں آپ نے بشارت دی ہے کہ ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک جو گناہ انھوں نے کیے ہوں گے، اللہ انھیں معاف کر دے گا۔ ۲۷۲ ؂ نیز فرمایا ہے کہ جمعہ کے دن فرشتے مسجد کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور لوگ جس ترتیب سے آتے ہیں، اسی کے لحاظ سے ان کا نام لکھتے ہیں۔ چنانچہ بہت سویرے آنے والوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اونٹ قربانی کے لیے بھیجتا ہے، پھر جو گائے بھیجتا ہے، پھر جو مینڈھا بھیجتا ہے، پھر مرغی، پھر انڈا۔ اس کے بعد جب امام خطبے کے لیے آ جاتا ہے تو وہ اپنے دفتر لپیٹ کر اس کی نصیحت سنتے ہیں۔ ۲۷۳؂

عیدین کی نماز

عید الفطر اور عید الاضحی کے دن بھی مسلمانوں پر لازم ہے کہ طلوع آفتاب کے بعد اور زوال سے پہلے وہ جمعہ ہی کی طرح ایک اجتماعی نماز کا اہتمام کریں۔ اس کا طریقہ درج ذیل ہے:

یہ نماز دو رکعت پڑھی جائے گی،

دونوں رکعتوں میں قرأت جہری ہو گی،

قیام کی حالت میں نمازی چند زائد تکبیریں کہیں گے، ۷۴؂۲

نماز کے لیے نہ اذان ہو گی اور نہ تکبیر کہی جائے گی،

نماز کے بعد امام حاضرین کی تذکیر ونصیحت کے لیے دو خطبے دے گا۔ یہ خطبے کھڑے ہو کر دیے جائیں گے۔ پہلے خطبے کے بعد اور دوسرا خطبہ شروع کرنے سے قبل امام چند لمحوں کے لیے بیٹھے گا۔

اس نماز کا خطاب اور اس کی امامت بھی نماز جمعہ کی طرح مسلمانوں کے ارباب حل وعقد ہی کریں گے اور یہ صرف انھی مقامات پر ادا کی جائے گی جو ان کی طرف سے اس نماز کی جماعت کے لیے مقرر کیے جائیں گے اور جہاں وہ خود یا ان کا کوئی نمائندہ اس کی امامت کے لیے موجود ہو گا۔

نماز میں عورتیں بھی مردوں ہی کی طرح پورے اہتمام کے ساتھ شریک ہوں گی۔ ۲۷۵؂

جنازہ کی نماز

مرنے والوں کے لیے جنازہ کی نماز بھی انبیا علیہم السلام کے دین میں ضروری قرار دی گئی ہے۔ ۲۷۶؂

میت کو نہلانے اور اس کی تجہیز وتکفین کے بعد یہ نماز جس طریقے سے ادا کی جائے گی، وہ یہ ہے:

میت کو اپنے اور قبلہ کے درمیان رکھ کر مقتدی امام کے پیچھے صف بنا لیں گے،

رفع یدین کے ساتھ ' اللّٰہ اکبر' کہہ کر نماز شروع کی جائے گی،

عیدین کی طرح اس نماز میں بھی چند زائد تکبیریں کہی جائیں گی، ۲۷۷؂

قیام کی حالت ہی میں تکبیرات اور دعاؤں کے بعد سلام پھیر کر نماز ختم کر دی جائے گی۔

نماز جنازہ کا یہ طریقہ مسلمانوں کے اجماع اور تواتر عملی سے ثابت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کی جو روایتیں اس باب میں آئی ہیں، وہ ایک مناسب ترتیب کے ساتھ ہم یہاں نقل کیے دیتے ہیں۔

ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ جلدی لے جایا کرو، اس لیے کہ مرنے والا نیک ہے تو آگے بھلائی اس کی منتظر ہے جس کی طرف تم اسے بھیج رہے ہو، اور اگر ایسا نہیں ہے تو وہ ایک برائی ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے۔ ۲۷۸؂

ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: تم جب جنازہ دیکھو تو کھڑے ہوجاؤ اور جب تک وہ رکھا نہ جائے، اس کے ساتھ چلنے والے بھی اس وقت تک نہ بیٹھیں۔ ۲۷۹؂

ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جو شخص ایمان واحتساب کے ساتھ کسی مسلمان کے جنازے کے ساتھ چلتا ہے، پھر نماز جنازہ اور تدفین سے فراغت تک اس کے ساتھ رہتا ہے، وہ دو قیراط کے برابر ثواب حاصل کرکے لوٹتا ہے جن میں سے ہر قیراط اس طرح ہے، جیسے احد کا پہاڑ۔ اور جو نماز جنازہ تو پڑھتا ہے، مگر تدفین سے پہلے لوٹ آتا ہے، وہ بھی ان میں سے ایک قیراط لے کر واپس آتا ہے۔ ۲۸۰؂

انھی کی روایت ہے کہ جس دن نجاشی کا انتقال ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن اس کا اعلان کرایا، پھر لوگوں کے ساتھ نماز کی جگہ پہنچے، صفیں باندھیں اور نماز میں چار تکبیریں کہیں۔ ۲۸۱؂

ابن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پر بالعموم چار تکبیریں کہتے تھے۔ ایک جنازے پر انھوں نے پانچ تکبیریں کہیں۔ ہم نے پوچھا تو فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی بعض موقعوں پر یہی کرتے تھے۔ ۲۸۲؂

طلحہ بن عبد اللہ کی روایت ہے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پیچھے جنازے کی نماز پڑھی تو انھوں نے اس میں سورۂ فاتحہ کی تلاوت بھی کی، پھر فرمایا: میں نے یہ ( تم لوگوں کو سنا کر) اس لیے پڑھی ہے کہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ یہ حضور کا طریقہ ہے۔ ۲۸۳؂

ام المومنین سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: مرنے والوں کو برا نہ کہا کرو، اس لیے کہ وہ اپنے اعمال کے ساتھ جہاں پہنچنا تھا، پہنچ گئے۔ ۲۸۴؂

ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم کسی کا جنازہ پڑھو تو خاص اس کے لیے دعا کرو۔ ۲۸۵؂

اس نماز کی جو دعائیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، وہ یہ ہیں:

۱

۔ اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ، واعف عنہ وعافہ، واکرم نزلہ، ووسع مدخلہ، واغسلہ بماء و ثلج وبرد، ونقہ من الخطایا کما ینقی الثوب الابیض من الدنس، وابدلہ داراً خیراً من دارہ، واہلاً خیراً من اہلہ، وزوجاً خیراً من زوجہ، وقہ فتنۃ القبر وعذاب النار. ۲۸۶؂

'' اے اللہ اس کو بخش دے، اس پر عنایت فرما، اس کو معاف کر دے، (پروردگار) اور اسے عافیت دے، اس کی بہتر مہمانی کر، اس کی قبر کو کشادہ کر دے، اسے پانی اور برف اور اولوں کے ساتھ دھو ڈال، اسے گناہوں سے پاک کر دے، بالکل اسی طرح، جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے۔ ( پروردگار) ، تو اس کے گھر کو وہاں بہتر گھر سے، اور اس کے خاندان کو بہتر خاندان سے، اور اس کی بیوی کو بہتربیوی سے بدل دے، اور اسے قبر کی آزمایش اور آگ کے عذاب سے نجات عطا کر دے۔''

۲۔ اللّٰہم اغفر لحینا ومیتنا، وصغیرنا وکبیرنا، وذکرنا وانثانا، وشاہدنا وغائبنا. اللہم من احییتہ منا فاحیہ علی الایمان، ومن توفیتہ منا فتوفہ علی الاسلام، اللہم لا تحرمنا اجرہ، ولا تضلنا بعدہ . ۲۸۷؂

'' اے اللہ تو ہمارے زندوں کو بخش دے اور ہمارے مردوں کو بخش دے۔ اور ہمارے چھوٹوں اور بڑوں، اور مردوں اور عورتوں کو بخش دے۔ اور جو موجود ہیں، ان کو بخش دے اور جو موجود نہیں ہیں ، ان کو بھی بخش دے۔ اے اللہ، تو ہم میں سے جسے زندگی دے، اسے اسلام کی زندگی عطا کر اور جسے موت دے، اسے ایمان کی موت عطا کر۔ اے اللہ، تو اس مرنے والے کے اجر سے ہمیں محروم نہ کر اور اس کے بعد ہم کو کسی فتنے میں نہ ڈال۔''

۳۔ اللّٰہم ان فلان بن فلان فی ذمتک وحبل جوارک، فقہ من فتنۃ القبر وعذاب النار، وانت اہل الوفاء والحمد، اللّٰہم فاغفرلہ وارحمہ، انک انت الغفور الرحیم. ۲۸۸؂

'' اے اللہ ، فلاں کا بیٹا فلاں اب تیری امان میں اور تیری پناہ کے عہد میں ہے۔ اس لیے ،( پروردگار) تو اسے قبر کی آزمایش اور آگ کے عذاب سے بچا لے۔ تو حمد کا سزاوار ہے اور اس کا بھی کہ تیرے وعدے پورے ہوں۔ اِس لیے، اے اللہ، تو اس کو بخش دے اور اس پر عنایت کر۔ بے شک، تو بخشنے والا ہے، تیری شفقت ابدی ہے۔''

[باقی]

____________

۲۶۶؂ مسلم، رقم ۸۶۹۔

۲۶۷؂ مسلم، رقم ۸۵۵۔

۲۶۸؂ لسان العرب ۲/ ۳۵۹۔

۲۶۹؂ مسلم، رقم ۸۵۴۔

۲۷۰؂ بخاری، رقم ۸۹۳۔ مسلم، رقم ۸۵۲۔

۲۷۱؂ مسلم، رقم ۸۶۵۔

۲۷۲؂ بخاری، رقم ۸۴۳۔

۲۷۳؂ بخاری، رقم ۸۸۷۔ مسلم، ۹۴۴۔

۲۷۴؂ ان تکبیروں کی کوئی تعداد مقرر نہیں کی گئی ۔ مسلمان اپنی سہولت کے مطابق قرأت سے پہلے یا اس کے بعد جتنی تکبیریں چاہیں، کہہ سکتے ہیں اور ان کے ساتھ رفع یدین بھی کر سکتے ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض موقعوں پر پہلی رکعت میں سات، دوسری میں پانچ، اور بعض موقعوں پر دونوں رکعتوں میں چار چار تکبیریں کہی ہیں۔ (ابوداؤد ، رقم ۱۱۴۹۔ ۱۱۵۳ )

۲۷۵؂ ام عطیہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کے بارے میں فرمایا : وہ نماز نہ پڑھیں، لیکن مسلمانوں کی جماعت اور ان کی دعا میں ضرور شامل ہو جائیں۔ (بخاری، رقم ۹۳۱)

۲۷۶؂ یہ عام حالات کا قانون ہے۔ کسی غیر معمولی صورت حال میں اگر نماز جنازہ کا اہتمام باعث زحمت ہو جائے تو میت کو اس کے بغیر بھی دفن کیا جا سکتا ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ احد کے شہدا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر غسل اور نماز جنازہ کے بغیر ہی دفن کر دیا، اور پھر کئی برس کے بعد کسی وقت ان کے مقابر پر جا کر ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ (بخاری، رقم ۱۲۷۸، ۱۲۷۹)

۲۷۷؂ ان تکبیروں کا حکم بھی وہی ہے جو اوپر عیدین کی تکبیروں کے متعلق بیان ہوا ہے۔

۲۷۸؂ بخاری، رقم ۲۵۲۔ مسلم، رقم ۹۴۴۔

۲۷۹؂ بخاری، رقم ۱۲۴۸۔

۲۸۰؂ مسلم، رقم۹۴۵، ۹۴۶۔

۲۸۱؂ بخاری، رقم ۱۱۸۸ ۔ مسلم، رقم ۹۵۱۔

۲۸۲؂ ابو داؤد، رقم ۳۱۹۷۔

۲۸۳؂ بخاری، رقم ۱۲۷۵ ۔

۲۸۴؂ بخاری، رقم ۱۳۲۹ ۔

۲۸۵؂ ابو داؤد، رقم ۳۱۹۹۔

۲۸۶؂ مسلم، رقم ۹۶۳۔

۲۸۷؂ ابو داؤد، رقم ۳۲۰۱

۲۸۸؂ ابوداؤد، رقم ۳۲۰۲۔