قانون معاشرت (حصہ اول / سوم)


انسان کے خالق نے اسے ایک معاشرت پسند حیوان کی فطرت عطا فرمائی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس طرح نہیں ہوتی کہ اس کا خالق اسے آسمان پر کہیں بنا کر بالکل عالم شباب میں براہ راست زمین پر نازل کرتا اور پھر ہرم وشیب کے مراحل سے گزارے بغیر اسی عالم شباب میں اسے واپس لے جاتا ہے ۔ اس کے برخلاف اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ تہ بر تہ ظلمتوں میں ایک ناتواں بچے کی حیثیت سے وجود پزیر ہوتا ہے ۔ آغوش مادر میں آنکھیں کھولتا ہے ۔ ہمکتا، کھیلتا، دوسروں کے ہاتھ سے کھاتا ، پیتا اور اپنی ضرورتیں پوری کرتا ہے ۔ وہ پہلے زمین پر گھسٹتا، گھٹنوں کے بل چلتا اور پھر بڑی مشکل سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کے قابل ہوتا ہے ۔ اس کے بعد بھی قدم قدم پر اسے سہارے کی ضرورت رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ بچپن اور لڑکپن کے کئی مراحل طے کر کے وہ پندرہ یا سولہ برس کے سن کو پہنچ کر کہیں جوان ہوتا ہے ۔ اس کا یہ دور شباب بھی بیس تیس برس سے زیادہ طویل نہیں ہوتا۔ اس کے بعد وہ دیکھتا ہے کہ بڑھاپے کے آثار نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور بارہا علم و معرفت کی انتہائی بلندیوں کو چھونے کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ناتواں بچوں ہی کی طرح دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی کے دن پورے کرنے کے لیے مجبور ہو جاتا ہے ۔

انسان کا یہ معاملہ لازماً تقاضا کرتا ہے کہ وہ ایک معاشرت پسند ہستی کی زندگی بسر کرے ۔ مردو عورت کی حیثیت سے یہ معاشرت خِلقت کی ابتدا ہی سے بہ تمام و کمال خود اس کے اندر چھپی ہوتی ہے ۔ اس کو تلاش کرنے کے لیے اسے اپنے وجود سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ وہ اس دنیا میں آتا ہے تو اپنا سازو برگ اور خیمہ و خرگاہ ساتھ لے کر آتا ہے اور وادی و کوہ سار ہو یا دشت و بیاباں ، ہر جگہ اپنی بزم خود آراستہ کر لیتا ہے ۔

انسان کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کی تخلیق میں پنہاں اسی اسکیم کے پیش نظر سیدنا آدم علیہ السلام جب پہلے انسان کی حیثیت سے اس دنیا میں تشریف لائے تو انھیں تنہا نہیں بھیجا گیا ، بلکہ ان کی رفاقت کے لیے اللہ تعالیٰ نے انھی کی جنس سے ان کا جوڑا بنایا ۔ پھر اس سے بہت سے مردو عورت دنیا میں پھیلا دیے ، یہاں تک کہ خاندان ، قبیلہ اور بالآخر ریاست کی سطح پر نظم معاشرت وجود میں آئے جن میں انسان کو وہ سب کچھ میسر ہو گیا جو اس کی مخفی صلاحیتوں کو روبہ عمل کرنے کے لیے ناگزیر تھا ۔ قرآن نے یہ حقیقت اپنے خاص اسلوب میں اس طرح بیان فرمائی ہے :

یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَبَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْراً وَّ نِسَآءً ، وَ اتَّقُواا للّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا. (النساء ۴ : ۱)

'' لوگو ، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور اُن دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں ، اور اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور رشتوں کے بارے میں بھی خبردار رہو۔ بے شک، اللہ تم پر نگران ہے ۔''

اس آیت میں ، اگر غور کیجیے تو وہ تمام اصول نہایت خوبی کے ساتھ بیان ہو گئے ہیں جن پر اس کائنات کے خالق نے انسانی معاشرت کی بنا قائم کی ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی کے الفاظ میں یہ اصول درج ذیل ہیں :

''ایک یہ کہ یہ دنیا کوئی بے راعی کا گلہ نہیں ہے ، بلکہ اس کو خدا نے وجود بخشا ہے جو سب کا پروردگار ہے ۔ اس وجہ سے کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس میں دھاندلی مچائے اور من مانی کرنے کی جسارت کرے ، بلکہ سب کو اس خداوند کی پکڑ سے ڈرتے رہنا چاہیے جو سب کا خالق و مالک ہے ۔

دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سب کو ایک ہی نفس حضرت آدم سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے نسب کے اعتبار سے سب ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ۔ کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے۔ عربی اور عجمی ، کالے اور گورے ، سب برابر ہیں ۔ ان میں کسی کو کسی پر ترجیح ہو گی تو اکتسابی صفات کی بنا پر ہو گی ۔ اس کے سوا شرف کے دوسرے معیارات ، سب باطل ہیں ۔

تیسرا یہ کہ جس طرح سب انسان ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ، اسی طرح سب کی ماں بھی اصلاً ایک ہی حضرت حوا ہیں ۔ اس اعتبار سے بھی کسی کو کسی پر کوئی ترجیح اور فوقیت حاصل نہیں ہے ۔ ایک ہی ماں باپ سے یہ پورا گھرانا وجود میں آیا ہے ۔ حضرت حوا، آیت سے واضح ہے کہ حضرت آدم ہی کی جنس سے ہیں ۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ عورت مرد کے مقابل میں کوئی حقیر اور فروتر مخلوق نہیں ہے ، بلکہ وہ بھی اس شرف میں برابر کی شریک ہے جو انسان کو بحیثیت انسان حاصل ہے۔

چوتھا یہ کہ انسانی معاشرے میں تعاون و تناصر کی بنیاد وحدت الہٰ، وحدت آدم اور اشتراک رحم کے عقیدے اور جذبے پر ہے ۔ ہر ایک پر واجب ہے کہ وہ اس اشتراک کا حق پہچانے اور اس کو ادا کرے اور ساتھ ہی اس امر کا اہتمام رکھے کہ کوئی ایسا نعرہ لوگوں پر غالب نہ ہونے پائے جو اس فطری اشتراکیت کو منہدم کر دینے والا اور اس کی جگہ کسی جاہلی جذبے کو ابھارنے والا ہو۔ اگر اس طرح کی کوئی چیز ابھرتی نظر آئے تو یہ پورے معاشرے کے لیے ایک شدید خطرے کا الارم ہے اور معاشرے کے ہر درد مند کا فرض ہے کہ وہ اس کو روکنے کے لیے اپنا زور صرف کرے ۔ آیت کے آخر میں 'واتقوا اللّٰہ الذی تساء لون بہ والارحام' (اور ڈرو اس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہم دگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے ) کے الفاظ سے اسی خطرے سے متنبہ کیا ہے ۔ اس لیے کہ حقیقت میں یہی ستون ہیں جن پر اسلام نے خاندان، معاشرے اور ریاست کی عمارت تعمیر کی ہے ۔ جب تک یہ ستون قائم ہیں ، یہ عمارت قائم رہے گی ۔ جب یہ کمزور پڑ جائیں گے ، عمارت خطرے میں پڑ جائے گی اور جب یہ گر جائیں گے ، عمارت بھی پیوند زمین ہو جائے گی ۔ '' (تزکیۂ نفس۲/ ۱۴۲ )

یہ اساسات ہیں جن پر معاشرت کی بنیاد قائم کرنے کے لیے انبیا علیہم السلام کے دین میں زوجین کی مستقل رفاقت کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس مقصد کے لیے تمام داعیات ازل ہی سے ان دونوں کے اندر ودیعت کر دیے گئے ہیں تاکہ وہ دو قالب یک جان ہو کر اس رفاقت کا حق ادا کر سکیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْکُنُوْآ اِلَیْھَا وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَّوَدَّۃً وَّ رَحْمَۃً ، اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ.(الروم ۳۰ : ۲۱)

''اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اُس نے تمھاری ہی جنس سے تمھارے لیے جوڑے بنائے تاکہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو ،اور (اِس مقصد کے لیے ) اُس نے تمھارے اندر محبت اور ہم دردی ودیعت فرمائی ۔ بے شک اس میں نشانیاں ہیں اُن کے لیے جو غور کرنے والے ہوں۔ ''

پورے انسان کو اس کے بچپن سے بڑھاپے تک سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اس کی حیاتی، نفسیاتی اور معاشرتی ضرورتوں کے لحاظ سے یہی طریقہ عقل و فطرت کے مطابق ہے ۔ چنانچہ اس سے جو معاشرت وجود میں آتی ہے ، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ایک مفصل قانون انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے بنی آدم کو دیا ہے ۔ ذیل میں ہم اس کے ان نصوص کی وضاحت کریں گے جو قرآن و سنت میں اب خدا کی ابدی شریعت کے طور پر بیان ہوئے ہیں ۔

نکاح

وَاَنْکِحُوا الْاَیَامٰی مِنْکُمْ وَالصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَاِمَآءِکُمْ ، اِنْ یَّکُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِھِمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ ، وَلْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِکَاحاً حَتّٰی یُغْنِیَھُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ .(النور ۲۴: ۳۲۔۳۳)

''اور تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمھارے لونڈی غلاموں میں سے جو صلاحیت رکھتے ہوں ، اُن کے نکاح کردو۔ اگر وہ غریب ہوں گے تو اللہ اُن کو اپنے فضل سے غنی کر دے گا اور اللہ بڑی وسعت اور بڑے علم والا ہے ۔ اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں ، اُنھیں چاہیے کہ عفت اختیار کریں ، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے ۔ ''

ان آیات میں یہ بات پوری قطعیت کے ساتھ واضح کی گئی ہے کہ جنسی جذبے کی تسکین کا ایک ہی طریقہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جائز ہے ، اور وہ نکاح ہے ۔ اس کی مقدرت نہ ہو تو یہ چیز بدکاری کے جواز کے لیے عذر نہیں بن سکتی۔ چنانچہ لوگوں کو تلقین کی گئی ہے کہ ان میں سے جو بن بیاہے رہ گئے ہوں ، ان کے نکاح کرائیں ۔ علانیہ ایجاب و قبول کے ساتھ یہ مردو عورت کے درمیان مستقل رفاقت کا عہد ہے جو لوگوں کے سامنے اور کسی ذمہ دار شخصیت کی طرف سے اس موقع پر تذکیر و نصیحت کے بعد پورے اہتمام اور سنجیدگی کے ساتھ باندھا جاتا ہے ۔ الہامی صحیفوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی آدم میں یہ طریقہ ان کی پیدایش کے پہلے دن ہی سے جاری کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ قرآن نازل ہوا تو اس کے لیے کوئی نیا حکم دینے کی ضرورت نہ تھی ۔ ایک قدیم سنت کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنی امت میں اسی طرح باقی رکھا ہے ۔ یہاں اس کی ترغیب کے ساتھ لوگوں کو مزید یہ بشارت دی گئی ہے کہ وہ اگر غریب بھی ہوں تو اخلاقی مفاسد سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے نکاح کریں ۔ اللہ نے چاہا تو یہی چیز ان کے لیے رزق و فضل میں اضافے کا باعث بن جائے گی ۔

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''آدمی جب تک بیوی سے محروم رہتا ہے ، وہ کچھ خانہ بدوش سا بنا رہتا ہے اوراس کی بہت سی صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں ۔ اسی طرح عورت جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے ، اس کی حیثیت بھی اس بیل کی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھولنے پھلنے سے محروم ہو ۔ لیکن جب عورت کو شوہر مل جاتا ہے اور مرد کو بیوی کی رفاقت حاصل ہو جاتی ہے تو دونوں کی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور زندگی کے میدان میں جب وہ دونوں مل کر جدوجہد کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی جدوجہد میں برکت دیتا ہے اور ان کے حالات بالکل بدل جاتے ہیں ۔ '' (تدبر قرآن ۵/ ۴۰۰)

محرمات

وَلَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اٰبَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً وَّمَقْتًا وَسَآءَ سَبِیْلًا . حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَ بَنٰتُکُمْ وَ اَخَوٰتُکُمْ وَ عَمّٰتُکُمْ و خٰلٰتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْ اَرْضَعْنَکُمْ وَاَخَوٰتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّھٰتُ نِسَآءِکُمْ وَرَبَآءِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآءِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّ ، فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ ، وَحَلَآءِلُ اَبْنَاءِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ ، اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. وَّالْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسآءِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، کِتٰبَ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ .(النساء ۴ : ۲۲۔ ۲۴)

''اور اُن عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمھارے باپ نکاح کر چکے ہوں ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا۔ بے شک ، یہ کھلی بے حیائی، نفرت انگیز فعل اور نہایت برا طریقہ ہے ۔ تم پر تمھاری مائیں ، تمھاری بیٹیاں ، تمھاری بہنیں ، تمھاری پھوپھیاں، تمھاری خالائیں ، تمھاری بھتیجیاں اور تمھاری بھانجیاں حرام کی گئی ہیں اور تمھاری وہ مائیں بھی جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی۔ (اِسی طرح ) تمھاری بیویوں کی مائیں اور اُن کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو ، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک ہی نکاح میں جمع کرو ، مگر جو ہو چکا سو ہو چکا ۔ اللہ یقیناًبخشنے والا ہے ، اس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی کے نکاح میں ہوں ، الاّ یہ کہ وہ ملک یمین ہوں ۔ یہ تم پر اللہ کا لکھا ہوا فریضہ ہے ۔''

یہ ان عورتوں کی فہرست ہے جن سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ اس کی تمہید سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کی حرمت سے اٹھائی گئی ہے اور خاتمہ ان عورتوں سے نکاح کی ممانعت پر ہوا ہے جو کسی دوسرے کے عقد میں ہوں ۔ اس تمہید و خاتمہ کے درمیان جو حرمتیں بیان ہوئی ہیں ، وہ رشتہ داری کے اصول ثلاثہ ، یعنی نسب ، رضاعت اور مصاہرت پر مبنی ہیں ۔

عرب جاہلی کے بعض طبقوں میں رواج تھا کہ باپ کی منکوحات بیٹے کو وراثت میں ملتی تھیں اور بیٹے انھیں بیوی بنا لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے ۔ قرآن نے فرمایا کہ یہ کھلی ہوئی بے حیائی ، نہایت قابل نفرت فعل اور انتہائی برا طریقہ ہے ، لہٰذا اسے اب بالکل ممنوع قرار دیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا، لیکن آیندہ کسی مسلمان کو اس فعل شنیع کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے ۔

یہی معاملہ اس عورت کا ہے جو کسی شخص کے نکاح میں ہو ۔ شوہر سے باقاعدہ علیحدگی کے بغیر کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کا حق نہیں رکھتا ۔ بالبداہت واضح ہے کہ نکاح کا طریقہ خاندان کے جس ادارے کو وجود میں لانے کے لیے اختیار کیا گیا ہے ، وہ اس کے نتیجے میں ہرگز وجود میں نہیں آ سکتا ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے ممنوع ٹھیرا یا ہے ۔ اس زمانے کی لونڈیاں ، البتہ اس سے مستثنیٰ تھیں ۔ اس لیے کہ کسی کی ملکیت میں آتے ہی ان کا پہلا نکاح آپ سے آپ کالعدم سمجھا جاتا تھا۔ 'الا ماملکت ایمانکم' کے الفاظ میں قرآن نے یہی استثنا بیان کیا ہے۔

اس کے بعد اب باقی حرمتوں کو لیجیے۔

نسب

پہلے نسبی حرمتیں بیان ہوئی ہیں ۔ ماں ، بیٹی، بہن ، پھوپھی ، خالہ ، بھانجی اور بھتیجی ؛ یہی وہ سات رشتے ہیں جن کی قرابت اپنے اندر فی الواقع اس نوعیت کا تقدس رکھتی ہے کہ اس میں جنسی رغبت کا شائبہ بھی ہو تو اسے فطرت صالحہ کسی طرح برداشت نہیں کر سکتی ۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ تقدس ہی درحقیقت تمدن کی بنیاد، تہذیب کی روح اور خاندان کی تشکیل کے لیے رأفت و رحمت کے بے لوث جذبات کا منبع ہے ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ماں کے لیے بیٹے ، بیٹی کے لیے باپ ، بہن کے لیے بھائی ، پھوپھی کے لیے بھتیجے ، خالہ کے لیے بھانجے ، بھانجی کے لیے ماموں اور بھتیجی کے لیے چچا کی نگاہ جنس و شہوت کی ہر آلایش سے پاک رہے اور عقل شہادت دیتی ہے کہ ان رشتوں میں اس نوعیت کا علاقہ شرف انسانی کا ہادم اور شرم و حیا کے اس پاکیزہ احساس کے بالکل منافی ہے جو انسانوں اور جانوروں میں وجہ امتیاز ہے ۔

ان کا جو حکم یہاں بیان ہوا ہے ، وہ ہر لحاظ سے بالکل متعین ہے ۔ تاہم یہ تین باتیں اس کے بارے میں واضح رہنی چاہییں :

ایک یہ کہ عربی زبان کے جو الفاظ اس حکم میں استعمال ہوئے ہیں ، ان میں سگے اور سوتیلے کے درمیان فرق کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ چنانچہ سگی اور سوتیلی ماں ، سگی بہن ، ماں شریک بہن اور باپ شریک بہن، یہ سب اس حکم میں یکساں ہوں گی ۔ اسی طرح ماں اور باپ کی بہن خواہ سگی ہو یا سوتیلی یا باپ شریک ، اس کا حکم بھی یہی ہو گا ۔ یہی معاملہ بھائی اور بہن کی بیٹیوں کا ہے ۔ وہ سگے ہوںیا سوتیلے ، ان کی بیٹیوں کو اسی کے تحت سمجھا جائے گا ۔

دوسری یہ کہ ماں کا لفظ باپ کی ماں اور ماں کی ماں کو اوپر تک شامل ہے اور بیٹی کا لفظ بھی پوتی اور نواسی کو نیچے تک شامل ہے ۔ ان میں حکم کے لحاظ سے ہر گز کوئی فرق نہ ہو گا ۔

تیسری یہ کہ نانا کی بہن اور دادی کی بہن بھی بالترتیب پھوپھی اور خالہ ہی ہیں ۔ لہٰذا وہ بھی اس حکم میں یکساں شامل ہوں گی۔

رضاعت

یہی تقدس رضاعی رشتوں میں بھی ہے ۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''رضاعت کے تعلق کو لوگ ہمارے ہاں اس گہرے معنی میں نہیں لیتے ، جس معنی میں اس کو لوگ عرب میں لیتے تھے۔ اس کا سبب محض رواج کا فرق ہے ۔ ورنہ حقیقت یہی ہے کہ اس کو مادرانہ رشتے سے بڑی گہری مناسبت ہے ۔ جو بچہ جس ماں کی آغوش میں ، اس کی چھایتوں کے دودھ سے پلتا ہے ، وہ اس کی پوری نہیں تو آدھی ماں تو ضرور بن جاتی ہے ۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ جس کا دودھ اس کے رگ و پے میں جاری و ساری ہے ، اس سے اس کے جذبات و احساسات متاثر نہ ہوں۔ اگر نہ متاثر ہوں تو یہ فطرت کا بناؤ نہیں ، بلکہ بگاڑ ہے اور اسلام جو دین فطرت ہے ، اس کے لیے ضروری تھا کہ اس بگاڑ کو درست کرے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۵)

یہ تعلق کس طرح دودھ پلانے سے قائم ہوتا ہے ؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہ تعلق مجرد کسی اتفاقی واقعے سے قائم نہیں ہو جاتا ۔ قرآن نے یہاں جن لفظوں میں اسے بیان کیا ہے ، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ یہ اتفاقی طور پر نہیں ، بلکہ اہتمام کے ساتھ، ایک مقصد کی حیثیت سے عمل میں آیا ہو، تب اس کا اعتبار ہے ۔ اول تو فرمایا ہے : ''تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہے ۔'' پھر اس کے لیے رضاعت کا لفظ استعمال کیا ہے ، ' واخواتکم من الرضاعۃ'۔ عربی زبان کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ ' ارضاع' باب افعال سے ہے جس میں فی الجملہ مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ اسی طرح رضاعت کا لفظ بھی اس بات سے ابا کرتا ہے کہ اگر کوئی عورت کسی روتے بچے کو بہلانے کے لیے اپنی چھاتی اس کے منہ میں لگا دے تو یہ رضاعت کہلائے۔''(تدبر قرآن ۲/ ۲۷۵)

قرآن کا یہ منشا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف مواقع پر واضح فرمایا ہے :

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا : ایک دو گھونٹ اتفاقاً پی لیے جائیں تو اس سے کوئی رشتہ حرام نہیں ہوجاتا۔ ۱؂

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک شخص بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ کو یہ ناگوار ہوا اور میں نے دیکھا کہ آپ کے چہرے پر غصے کے آثار ہیں ۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ، یہ میرے رضاعی بھائی ہیں ۔ آپ نے فرمایا : اپنے ان بھائیوں کو دیکھ لیا کرو، اس لیے کہ رضاعت کا تعلق تو صرف اس دودھ سے قائم ہوتا ہے جو بچے کو دودھ کی ضرورت کے زمانے میں پلایا جائے ۔ ۲ ؂

یہاں کسی شخص کو ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منہ بولے بیٹے سالم کی بڑی عمر میں رضاعت سے غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔ زیادہ سے زیادہ جو بات اس واقعے سے معلوم ہوتی ہے ، وہ یہ ہے کہ منہ بولے بیٹوں کے بارے میں قرآن کا حکم آ جانے کے بعد جو صورت حال ایک گھرانے کے لیے پیدا ہو گئی ، اس سے نکلنے کا ایک طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا ہے ۔ اسے کسی مستقل حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ واقعہ یہ ہے :

فجاء ت سھلۃ بنت سہیل بن عمرو القرشی ثم العامری وھی امراۃ ابی حذیفۃ فقالت : یا رسول اللّٰہ ، انا کنا نری سالماً ولداً ، و کان یأوی معی و مع ابی حذیفۃ فی بیت واحد و یرانی فضلاً، و قد انزل اللّٰہ عزوجل فیھم ما قد علمت ، فکیف تری فیہ ؟ فقال لھا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أرضعیہ.(ابوداؤد ، رقم ۱۷۶۴)

''ابو حذیفہ کی بیوی اور سہیل بن عمرو قرشی عامری کی بیٹی سہلہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : یارسول اللہ ، ہم تو سالم کو اپنا بیٹا ہی سمجھتے تھے۔ وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا تھا اور مجھے گھر کے کپڑوں میں دیکھتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے جو حکم ان لڑکوں کے متعلق نازل کیا ہے ، اس سے آپ واقف ہیں ۔ اب بتائیے ، اس معاملے میں آپ کا کیا ارشاد ہے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے اپنا دودھ پلادو ۔''

لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ رضاعت کے لیے دودھ کی عمر اور دودھ پلانے کا اہتمام ، دونوں ضروری ہیں اور اس سے وہ سب رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسبی تعلق سے حرام ہو تے ہیں ۔ قرآن کا مدعا یہی ہے ، لیکن اس کے لیے عربیت کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے کہ الفاظ و قرائن کی دلالت اورحکم کے عقلی تقاضے جس مفہوم کو آپ سے آپ واضح کر رہے ہوں ، اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا تا ۔ ۳ ؂ ارشاد فرمایا ہے : 'وامھاتکم التی ارضعنکم و اخواتکم من الرضاعۃ ' (اور تمھاری وہ مائیں بھی حرام ہیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور رضاعت کے اس تعلق سے تمھاری بہنیں بھی )۔ اس میں دیکھ لیجیے ، رضاعی ماں کے ساتھ رضاعی بہن کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے ۔ بات اگر رضاعی ماں ہی پر ختم ہو جاتی تو اس میں بے شک ، کسی اضافے کی گنجایش نہ تھی ، لیکن رضاعت کا تعلق اگر ساتھ دودھ پینے والی کو بہن بنا دیتا ہے تو عقل تقاضا کرتی ہے کہ رضاعی ماں کے دوسرے رشتوں کو بھی یہ حرمت لازماً حاصل ہو ۔ دودھ پینے میں شراکت کسی عورت کو بہن بنا سکتی ہے تو رضاعی ماں کی بہن کو خالہ ،ا س کے شوہر کو باپ ، شوہر کی بہن کو پھوپھی اور اس کی پوتی اور نواسی کو بھتیجی اور بھانجی کیوں نہیں بنا سکتی ؟ لہٰذا یہ سب رشتے بھی یقیناًحرام ہیں ۔ یہ قرآن کا منشا ہے اور 'اخواتکم من الرضاعۃ' کے الفاظ اس پر اس طرح دلالت کرتے ہیں کہ قرآن پر تدبر کرنے والے کسی صاحب علم سے اس کا یہ منشا کسی طرح مخفی نہیں رہ سکتا ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے :

یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من الولادۃ. (المؤطا ، رقم ۱۱۰۲)

''ہر وہ رشتہ جو ولادت کے تعلق سے حرام ہے ، رضاعت سے بھی حرام ہو جاتا ہے ۔ ''

مصاہرت

نسب اور رضاعت کے بعد وہ حرمتیں بیان ہوئی ہیں جو مصاہرت پر مبنی ہیں ۔ا س تعلق سے جو رشتے پیدا ہوتے ہیں ، ان کا تقدس بھی فطرت انسانی کے لیے ایسا واضح ہے کہ اس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہے ۔ چنانچہ باپ کے لیے بہو اور شوہر کے لیے بیوی کی ماں ، بیٹی ، بہن ، بھانجی اور بھتیجی، یہ سب حرام ہیں ۔ تاہم یہ رشتے چونکہ بیوی اور شوہر کی وساطت سے قائم ہوتے ہیں اور اس سے ایک نوعیت کا ضعف ان میں پیدا ہو جاتا ہے ، اس لیے قرآن نے یہ تین شرطیں ان پر عائد کر دی ہیں :

ایک یہ کہ بیٹی صرف اس بیوی کی حرام ہے جس سے خلوت ہو جائے ۔

دوسری یہ کہ بہو کی حرمت کے لیے بیٹے کا صلبی ہونا ضروری ہے ۔

تیسری یہ کہ بیوی کی بہن ، بھانجی اور بھتیجی کی حرمت اس حالت کے ساتھ خاص ہے ، جب میاں بیوی میں نکاح کا رشتہ قائم ہو ۔

پہلی بات قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے : 'وربائبکم التی فی حجو رکم من نسائکم التی دخلتم بھن، فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم' (اور تمھاری بیویوں کی لڑکیاں جو تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، ان بیویوں کی لڑکیاں جن سے تم نے خلوت کی ہو، لیکن اگر خلوت نہ کی ہو تو کچھ گناہ نہیں )۔ اس میں خلوت کی شرط کے ساتھ لڑکیوں کی ایک صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ تمھاری گودوں میں پلی ہیں ، لیکن صاف واضح ہے کہ اس کی حیثیت حرمت کے لیے شرط کی نہیں ہے۔

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں :

''عربی زبان میں ہر صفت کو لازماً قید و شرط کی حیثیت حاصل نہیں ہو جاتی کہ ان میں سے کوئی نہ پائی جائے تو وہ حکم کالعدم ہو جائے ، بلکہ اس کا انحصار قرینے پر ہوتا ہے ۔ قرینہ بتاتا ہے کہ کون سی صفت قید اور شرط کا درجہ رکھتی ہے اور کون سی صفت محض تصویر حال کے لیے ہے ۔ یہاں صرف قرینہ ہی نہیں ، بلکہ تصریح ہے کہ ربیبہ کی ماں اگر تمھاری مدخولہ نہ بنی ہو تو اس ربیبہ سے نکاح میں کوئی قباحت نہیں ۔ اس سے یہ بات صاف ہو گئی کہ ربیبہ کی حرمت میں اصل مؤثر چیز اس کی ماں کا مدخولہ ہونا ہے۔ اگر وہ مدخولہ ہے تو اس کی لڑکی سے نکاح ناجائزہو گا، قطع نظر ا س سے کہ وہ آغوش تربیت میں پلی ہے یا نہیں ۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اعلیٰ عربی ، بالخصوص قرآن حکیم میں اثبات کے بعد نفی کے اسلوب یانفی کے بعد اثبات کے اسلوب میں جو باتیں بیان ہوتی ہیں ، وہ محض سخن گسترانہ نہیں ہوتیں، بلکہ کسی خاص فائدے کے لیے ہوتی ہیں ۔ا ن سے مقصود اکثر صورتوں میں رفع ابہام ہوتا ہے ۔ اس وجہ سے ان لوگوں کا خیال قرآن کے خلاف ہے جو ربیبہ کے ساتھ نکاح صرف اس صورت میں حرام سمجھتے ہیں، جب وہ نکاح کرنے والے کے آغوش تربیت میں پلی ہو ۔ بصورت دیگر وہ اس کے ساتھ نکاح کو جائز سمجھتے ہیں ۔ ''(تدبر قرآن ۲/ ۲۷۶)

دوسر ی بات کے لیے قرآن کے الفاظ ہیں : 'وحلائل ابناء کم الذین من اصلابکم' (اور تمھارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی ) ۔ اس میں صلبی ہونے کی شرط بالخصوص اس لیے عائد کی گئی ہے کہ اس زمانے کے عرب میں لوگ اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کو ناجائز سمجھتے تھے ۔ قرآن نے اس شرط سے واضح کر دیا کہ کسی کو اپنا بیٹا کہہ دینے سے نہ وہ بیٹا بن جاتا ہے اور نہ اس سے کوئی حرمت قائم ہوتی ہے ۔ سورۂ احزاب میں یہ حقیقت قرآن نے اس طرح واضح فرمائی ہے :

وَمَاجَعَلَ اَدْعِیَآءَ کُمْ اَبْنَآءَ کُمْ، ذٰلِکُمْ قَوْلُکُمْ بِاَفْوَاھِکُمْ ، وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ، وَھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ. اُدْعُوْ ھُمْ لِاٰبَآءِھِمْ، ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ ، فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْآ ٰاٰبَآءَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیْکُمْ. (۳۳: ۴۔۵)

''اور نہ اُس نے تمھارے منہ بولے بیٹوں کو تمھارا بیٹا بنایا ہے ۔ یہ سب تمھارے منہ کی باتیں ہیں اور اللہ حق کہتا ہے اور وہی سیدھی راہ کے لیے رہنمائی کرتا ہے ۔ اِن کو تم اِن کے باپوں کی نسبت سے پکارو ۔ یہی اللہ کے نزدیک قرین انصاف ہے ۔ پھر اگر اِن کے باپوں کو نہیں جانتے تو یہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے رفیق ہیں۔''

تیسری بات 'وان تجمعوا بین الاختین ' (اور یہ کہ تم دو بہنوں کو ایک نکاح میں جمع کرو) کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اس میں بھی ، اگر غور کیجیے تو زبان کا وہی اسلوب ہے جس کا ذکر اوپر رضاعت کی بحث میں ہوا ہے ۔ قرآن نے 'بین الاختین' ہی کہا ہے ، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ زن و شو کے تعلق میں بہن کے ساتھ بہن کو جمع کرنا اسے فحش بنا دیتا ہے تو پھوپھی کے ساتھ بھتیجی اور خالہ کے ساتھ بھانجی کو جمع کرنا بھی گویا ماں کے ساتھ بیٹی ہی کو جمع کرنا ہے ۔ لہٰذا قرآن کا مدعا، لاریب یہی ہے کہ 'ان تجمعوا بین الاختین و بین المرأۃ و عمتھا و بین المرأۃ و خالتھا'۔ وہ یہی کہنا چاہتا ہے ، لیکن 'بین الاختین' کے بعد یہ الفاظ اس نے اس لیے حذف کر دیے ہیں کہ مذکور کی دلالت اپنے عقلی اقتضا کے ساتھ اس محذوف پر ایسی واضح ہے کہ قرآن کے اسلوب سے واقف اس کا کوئی طالب علم اس کے سمجھنے میں غلطی نہیں کر سکتا ۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

لا یجمع بین المرأۃ و عمتھا ولا بین المرأۃ وخالتھا.(المؤطا ، رقم ۹۷۷)

''عورت اور اس کی پھوپھی ایک نکاح میں جمع ہو سکتی ہے ، نہ عورت اور اس کی خالہ۔''

حدود و شرائط

وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِکُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ ، فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً، وَلاَ جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِہٖ مِنْ بَعْدِالْفَرِیْضَۃِ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا. (النساء ۴ : ۲۴)

''اور اِن کے ماسوا جوعورتیں ہیں ، وہ تمھارے لیے حلال ہیں ، اِس طرح کہ تم اپنے مال کے ذریعے سے اُنھیں طلب کرو ، اِس شرط کے ساتھ کہ تم پاک دامن رہنے والے ہو، نہ کہ بدکاری کرنے والے ۔ (چنانچہ اِس سے پہلے اگر مہر ادا نہیں کیا) تو جو فائدہ اُن سے اٹھایا ہے ، اُس کے صلے میں اُن کے مہر اُنھیں ادا کر دو، ایک فرض کے طور پر ۔ مہر ٹھیرانے کے بعد ، البتہ باہمی رضا مندی سے جو کچھ طے کر لو تو اِس میں کوئی حرج نہیں ۔ بے شک ، اللہ علیم و حکیم ہے ۔''

اس آیت میں نکاح کے لیے جو حدود و شرائط بیان ہوئے ہیں ، ان کی تفصیل یہ ہے :

پہلی بات یہ بیان ہوئی ہے کہ نکاح مال یعنی مہر کے ساتھ ہونا چاہیے ۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ ایک فریضہ کی حیثیت سے یہ نکاح کی ایک لازمی شرط ہے ۔ چنانچہ ہدایت فرمائی ہے کہ اس سے پہلے اگر کسی عورت کا مہر ادا نہیں کیا گیا تو اسے فوراً ادا کر دیا جائے ۔ مہر ٹھیرانے کے بعد ، البتہ اسے اپنے اوپر ایک فرض اور عورت کا حق مان کر آپس کی رضا مندی سے کوئی تقدیم و تاخیر یا کمی بیشی اگر کر لی جائے تو اس کی اجازت ہے ، لیکن اتنی بات ہر شخص پر واضح رہنی چاہیے کہ جس ہستی نے یہ قانون دیا ہے ، وہ علیم وحکیم ہے ۔ اس کی ہر بات بے خطا علم اورگہری حکمت پر مبنی ہے ۔ لہٰذا نہ اس قانون کی خلاف ورزی کسی کے لیے جائز ہے اور نہ اس میں کسی ترمیم و تغیر کی جسارت کسی شخص کو کرنی چاہیے ۔

یہ مہر کیا ہے ؟ مردو عورت نکاح کے ذریعے سے مستقل رفاقت کا جو عہد باندھتے ہیں ، اس میں نان و نفقہ کی ذمہ داریاں ہمیشہ سے مرد اٹھاتا رہا ہے ، یہ اس کی علامت (Token)ہے ۔ قرآن میں اس کے لیے 'صدقۃ' اور 'اجر'کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ۔ یعنی وہ رقم جو عورت کی رفاقت کے صلے میں اس کی ضرورتوں کے لیے دی جائے ۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ نکاح اور خطبے کی طرح یہ بھی ایک قدیم سنت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے عرب میں اسی طرح رائج تھی ۔ بائیبل میں بھی اس کا ذکر اسی حیثیت سے ہوا ہے ۔ ۴؂

اس کی یہ اہمیت کیوں ہے ؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے لکھا ہے :

''جس معاملے کے ساتھ اداے مال کی شرط لگی ہو اور اس اداے مال کی حیثیت محض تبرع اور احسان کی نہ ہو ، بلکہ ایک فریضہ کی ہو ، یہاں تک کہ اگر وہ مذکور نہ بھی ہو ، جب بھی لازماً مضمر سمجھاجائے اور عورت کی حیثیت عرفی کے اعتبار سے اس کی ادائیگی واجب قرار پائے ، شرعاً و عرفاً ایک اہم اور سنجیدہ معاملہ بن جاتا ہے ۔ کوئی بھی ذی ہوش آدمی ایسے معاہدے میں ایک پارٹی بننے کی جرأت نہ کرے گا ، جب تک وہ سو بار سوچ کر اس میں شرکت کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے اپنے آپ کو تیار نہ کرے ان مصالح سے مہر کی شرط ضروری ہوئی ۔ جن لوگوں کی نظر ان مصالح کی طرف نہیں گئی ، وہ سمجھتے ہیں کہ اس شرط نے عورت کو ایک خریدنی و فروختنی شے کے درجے تک گرا دیا ہے ۔ یہ خیال محض ناسمجھی کا نتیجہ ہے ۔ یہ شرط تو ایک آگاہی ہے کہ جو بھی عورت کے حرم میں قدم رکھنا چاہے ، وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر قدم رکھے ۔ نکاح و طلاق کے معاملے میں کسی مذاق کی گنجایش نہیں ہے ۔ یہاں مذاق بھی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے:

ہشدار کہ رہ بردم تیغ است قدم را

''(تدبر قرآن ۲/ ۲۷۸)

مہر کی کوئی مقدار مقرر نہیں کی گئی ۔ اسے معاشرے کے دستور اور لوگوں کے فیصلے پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ چنانچہ عورت کی سماجی حیثیت اور مرد کے معاشی حالات کی رعایت سے وہ جتنا مہر چاہیں ، مقرر کر سکتے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے۔

سہل بن سعد کا بیان ہے کہ ایک عورت نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : یا رسول اللہ ، اس لیے حاضر ہوئی ہوں کہ اپنے آپ کو حضور کے لیے پیش کر دوں ۔ سہل کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا، اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی ، پھر سر جھکا لیا ۔ عورت نے محسوس کیا کہ آپ نے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو وہ بیٹھ گئی ۔ اتنے میں ایک شخص آپ کے صحابہ میں سے اٹھا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ ، آپ کو ضرور ت نہیں تو اسے میرے ساتھ بیاہ دیجیے ۔ آپ نے پوچھا : تمھارے پاس کچھ ہے ؟ اس نے کہا : بخدا ، نہیں ، یا رسول اللہ ۔ آپ نے فرمایا : اپنے گھر جاؤ اور دیکھو، شاید کچھ مل جائے ۔ وہ گیا، پھر لوٹ کے آیا اوربتایا کہ خدا کی قسم ، کوئی چیز نہیں ۔ فرمایا : دیکھو تو سہی ، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہو ۔ وہ دوبارہ گیا اور واپس آ کر عرض کی : اللہ گواہ ہے کہ وہ بھی نہیں ہے ۔ ہاں ، یہ تہ بند ضرور ہے سہل کہتے ہیں کہ اس کے پاس اوڑھنے کی چادر بھی نہیں تھی اس نے عرض کی : یہ تہ بند آدھا اسے دے دیجیے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ تیرا تہ بند لے کر کیا کرے گی ۔ تم پہنو گے تو اس پر کچھ نہیں ہو گا اور یہ پہنے گی تو تمھارے پاس کچھ نہ رہے گا ۔ اس پر وہ شخص بیٹھ گیا ۔ پھر کافی دیر ہو گئی تو جانے کے لیے اٹھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو بلانے کا حکم دیا۔ چنانچہ اسے بلایا گیا تو آپ نے پوچھا : تمھیں قرآن کتنا آتا ہے ؟ اس نے عرض کی : مجھے فلاں اور فلاں سورتیں آتی ہیں اور گن کر بتائیں ۔ آپ نے فرمایا : کیا زبانی یاد ہیں ؟ عرض کی : ہاں ۔ ارشاد فرمایا : میں نے اس قرآن کے صلے میں اسے تمھارے ساتھ بیاہ دیا ۔ ۵؂

دوسری بات آیۂ زیر بحث میں یہ بیان ہوئی ہے کہ نکاح کے لیے پاک دامن ہونا ضروری ہے ۔ کوئی زانی یہ حق نہیں رکھتا کہ کسی عفیفہ سے بیاہ کرے اور نہ کوئی زانیہ یہ حق رکھتی ہے کہ کسی مرد عفیف کے نکاح میں آئے ، الّا یہ کہ معاملہ عدالت میں نہ پہنچا ہو اور وہ توبہ و استغفار کے ذریعے سے اپنے آپ کو اس گناہ سے پاک کر لیں ۔ 'محصنین ، غیر مسافحین' کے الفاظ یہاں اسی شرط کے لیے آئے ہیں ۔ دوسری جگہ قرآن نے یہ بات اس طرح واضح فرمائی ہے :

اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃً وَّ الزَّانِیَۃُ لَایَنْکِحُھَآ اِلاَّ زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ، وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ .(النور ۲۴: ۳)

''یہ زانی نکاح نہ کرنے پائے ، مگر زانیہ اور مشرکہ کے ساتھ اور اس زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے ، مگر کوئی زانی یا مشرک ۔ اور اہل ایمان پر یہ بہرحال حرام ٹھیرایا گیا ہے۔''۶؂

اس آیت میں بھی صاف اشارہ ہے اور دوسرے الہامی صحائف سے بھی یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ زنا اور شرک بالکل مماثل ہیں ۔ جس طرح یہ بات گوارا نہیں کی جا سکتی کہ میاں اور بیوی میں سے کوئی کسی دوسرے کے بستر پر سوئے ، اسی طرح یہ بات بھی کسی مسلمان کے لیے قابل برداشت نہیں ہو سکتی کہ اس کے گھر میں خدا کے ساتھ کسی اور کی پرستش کی جائے ۔ بلکہ یہ اس کے نزدیک کسی اور کے بستر پر سونے سے زیادہ قابل نفرت چیز ہے ۔ زنا اور شرک کی یہ مماثلت سمجھی جا سکتی تھی ، لیکن قرآن نے دوسری جگہ اسے صراحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے :

وَلاَ تَنْکِحُواالْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ ، وَلَاَمَۃٌ مُّؤْمِنَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَّلَوْ اَعْجَبَتْکُمْ ، وَلَا تُنْکِحُوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوْا ، وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشْرِکٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکُمْ .(البقرہ ۲ : ۲۲۱)

'' اور مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ اور (یاد رکھو کہ) ایک مسلمان لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی بھلی لگے ۔ اور اپنی عورتیں مشرکین کے نکاح میں نہ دو ، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ اور (یاد رکھو کہ)ایک مسلمان غلام مشرک شریف زادے سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمھیں کتنا ہی بھلا لگے ۔ '' ۷؂

یہودو نصاریٰ بھی علم و عمل ، دونوں میں شرک جیسی نجاست سے پوری طرح آلودہ تھے ، لیکن اس کے باوجود وہ چونکہ اصلاً توحید ہی کے ماننے والے ہیں ، اس لیے اتنی رعایت اللہ تعالیٰ نے کی ہے کہ ان کی پاک دامن عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی ہے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَالْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ ، اِذَآ ٰاتَیْتُمُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ ، مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ ، وَلاَ مُتَّخِذِیْ اَخْدَانٍ .(المائدہ ۵ : ۵)

''اور تم سے پہلے کے اہل کتاب کی پاک دامن عورتیں بھی (حلال ہیں) ، جب تم اُن کے مہر ادا کرو ، اِس شرط کے ساتھ کہ تم بھی پاک دامن رہنے والے ہو، نہ بدکاری کرنے والے اور نہ چوری چھپے آشنا بنانے والے ۔''

آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اس وقت دی گئی ، جب توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا اور مشرکانہ تہذیب پر اس کا غلبہ ہر لحاظ سے قائم ہو گیا ۔ اس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ 'الیوم' کو پیش نظر رکھنا چاہیے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی یقینادخل تھا۔ لہٰذا اس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان ان عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ ان سے متاثر ہوں گی اور اس طرح شرک و توحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہو گا ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں ۔

چنانچہ اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت یہ چیز اس زمانے میں بھی لازماً ملحوظ رہنی چاہیے ۔

اسی طرح یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ نکاح خاندان کے جس ادارے کو وجود میں لانے کے لیے کیا جاتا ہے ، اس کی حرمت کا تقاضا ہے کہ یہ والدین اور سرپرستوں کو ساتھ لے کر اور ان کی رضا مندی سے کیا جائے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ نکاح میں فیصلہ اصلاً مردو عورت کرتے ہیں اور ان کے علانیہ ایجاب و قبول سے یہ منعقد ہو جاتا ہے ، لیکن اولیا کا اذن اگر اس میں شامل نہیں ہے تو اس کی کوئی معقول وجہ لازماً سامنے آنی چاہیے ۔ یہ نہ ہو تو معاشرے کا نظم اجتماعی یہ حق رکھتا ہے کہ اس نکاح کو باطل قرار دے ۔ ۸؂ 'لا نکاح الابولی' ۹؂ (سرپرست کے بغیر کوئی نکاح نہیں) اور اس طرح کی دوسری روایتوں میں یہی بات بیان ہوئی ہے ۔ عورت کی بغاوت چونکہ اس معاملے میں خاندان کے لیے غیر معمولی اختلال کا باعث بن جاتی ہے ، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول و فعل سے اولیا پر واضح کر دیا ہے کہ اس کے بارے میں وہ کوئی فیصلہ اس کی اجازت کے بغیر نہ کریں ، ورنہ عورت چاہے گی تو ان کا یہ فیصلہ رد کر دیا جائے گا ۔

ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیوہ کا نکاح اس سے مشورے کے بغیر نہ کیا جائے اور کنواری کی اجازت ضروری ہے ۔ لوگوں نے پوچھا : اس کی اجازت کیسے ہو ؟ آپ نے فرمایا: وہ خاموش رہے تو یہی اجازت ہے ۔ ۱۰؂

ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے : بیوہ اپنا فیصلہ خود کر سکتی ہے اور کنواری سے اجازت لینی چاہیے ۔ ۱۱؂

بنت خذام کہتی ہیں کہ وہ بیوہ ہوئیں تو ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا۔ انھیں یہ فیصلہ پسند نہیں آیا۔ چنانچہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے انھیں نکاح ختم کرنے کی اجازت دے دی۔ ۱۲؂

حقوق و فرائض [۱]

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰہُ بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍ وَّبِمَآ اَنْفَقُوْا مِنْ اَمْوَالِھِمْ ، فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ ، حٰفِظٰتٌ لِّلْغَیْبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰہُ ، وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَھُنَّ فَعِظُوْھُنَّ وَاھْجُرُوھُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْھُنَّ ، فَاِنْ اَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْھِنَّ سَبِیْلاً ، اِنَّ اللّٰہَ کاَنَ عَلِیًّا کَبِیْرًا . (النساء ۴ : ۳۴)

''مرد عورتوں پر قوام ہیں ، اِس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ، اور اِس لیے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں ۔ پھر جو نیک عورتیں ہیں ، وہ فرماں برادر ہوتی ہیں ، رازوں کی حفاظت کرتی ہیں ، اِس بنا پر کہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے ۔ اور جن سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو ، اُنھیں نصیحت کرو، اور اُن کے بستروں میں اُنھیں تنہا چھوڑ دو اور (اِس پر بھی نہ مانیں تو) اُنھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ اطاعت کریں تو اُن پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک ، اللہ بہت بلند ہے ، وہ بہت بڑا ہے ۔ ''

اس آیت سے اوپر کے پیرے میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ انسان کے لیے جدوجہد اور مسابقت کا اصلی میدان اس کی خلقی صفات نہیں ہیں ، اس لیے کہ خلقی صفات کے لحاظ سے بعض کو بعض پر فی الواقع ترجیح حاصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو ذہنی ، کسی کو جسمانی ، کسی کو معاشی اور کسی کو معاشرتی برتری کے ساتھ پیدا کیا اور دوسروں کو اس کے مقابلے میں کم تر رکھا ہے۔ مردو عورت کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ ان میں زوجین کا تعلق ایک کو فاعل اور دوسرے کو منفعل بنا کر پیدا کیا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ فعلیت جس طرح غلبہ ، شدت اور تحکم چاہتی ہے ، انفعالیت اسی طرح نرمی ، نزاکت اور اثر پزیری کا تقاضا کرتی ہے ۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ان میں سے ہر ایک کو دوسرے پر برتری حاصل ہے ۔ یہ ان کی خلقی صفات ہیں ۔ ان میں اگر مسابقت اور تنافس کا رویہ اختیار کیاجائے گا تو یہ فطرت کے خلاف جنگ ہو گی جس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا کہ بالآخر دونوں اپنی بربادی کا ماتم کرنے کے لیے باقی رہ جائیں ۔

اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس کے مقابلے میں ایک دوسرا میدان بھی ہے اور وہ اکتسابی صفات کا میدان ہے ۔ یہ نیکی ، تقویٰ، عبادت، ریاضت اور علم و اخلاق کا میدان ہے ۔ قرآن نے اس کے لیے جگہ جگہ ایمان اور عمل صالح کی جامع تعبیر اختیار فرمائی ہے ۔ مسابقت اور تنافس کا میدان درحقیت یہی ہے ۔ اس میں بڑھنے کے لیے کسی پر کوئی پابندی نہیں ، بلکہ مسابقت اس میدان میں اتنی ہی محمود ہے ، جتنی خلقی صفات کے میدان میں مذموم ہے ۔ مرد بڑھے تو اسے بھی اپنی جدوجہد کا پھل ملے گا اور عورت بڑھے تو وہ بھی اپنی تگ و دو کا ثمرہ پائے گی ۔ بانو ، باندی ، آزاد ، غلام ، شریف ، وضیع ، خوب صورت، بدصورت اور بینا و نابینا ، سب کے لیے یہ میدان یکساں کھلا ہو اہے ۔ دوسروں پر فضیلت کی خواہش ہو تو انسان کو اس میدان میں خدا کا فضل تلاش کرنے کے لیے نکلنا چاہیے ۔ اپنی محنت غلط میدان میں برباد کرنے سے لاحاصل تصادم اور بے فائدہ تنازعات کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔ حوصلہ آزمانے اور ارمان نکالنے کے لیے صحیح میدان یہ ہے ۔ جس کو اترنا ہو ، وہ اس میدان میں اترے ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ ، لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُوْا وَلِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ ، وَسْءَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْ ءٍ عَلِیْمًا.(النساء ۴ : ۳۲)

''اور جس چیز میں اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ، اُس کی تمنا نہ کرو۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے ، اُن کو بھی اُس میں سے حصہ ملے گا اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے ، وہ بھی اُس میں سے اپنا حصہ پائیں گی ۔ اور اللہ سے اُس کا فضل چاہو۔ یقیناً اللہ ہر چیز کو جانتا ہے ۔''

اسی ہدایت کو رہنما اصول قرار دے کر اللہ تعالیٰ نے آیۂ زیر بحث میں خاندان کی تنظیم کے لیے اپنا قانون بیان فرمایا ہے ۔ خاندان کا ادارہ بھی ، اگر غور کیجیے تو ایک چھوٹی سی ریاست ہے ۔ جس طرح ہر ریاست اپنے قیام و بقا کے لیے ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے ، اسی طرح یہ ریاست بھی ایک سربراہ کا تقاضا کرتی ہے ۔ سربراہی کا مقام اس ریاست میں مرد کو بھی دیا جا سکتا تھا اور عورت کو بھی ۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ مرد کو دیا گیا ہے ۔ آیت میں اس کے لیے 'قوامون علی النساء' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ عربی زبان میں 'قام' کے بعد 'علی' آتاہے تو اس میں حفاظت ، نگرانی ، تولیت اور کفالت کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے ۔ سربراہی کی حقیقت یہی ہے اور اس میں یہ سب چیزیں لازم و ملزوم ہیں ۔ اپنے اس فیصلے کے حق میں قرآن نے دو دلیلیں دی ہیں ۔ استاذ امام ان کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کوعورت پر فضیلت بخشی ہے ۔ مرد کوبعض صفات میں عورت پر نمایاں تفوق حاصل ہے جس کی بنا پر وہی سزاوار ہے کہ قوامیت کی ذمہ داری اسی پر ڈالی جائے ۔مثلاً محافظت و مدافعت کی جو قوت وصلاحیت یا کمانے اور ہاتھ پاؤں مارنے کی جو استعداد و ہمت اس کے اندر ہے ، وہ عورت کے اندر نہیں ہے ۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ یہاں زیر بحث کلی فضیلت نہیں ہے ، بلکہ صرف وہ فضیلت ہے جو مرد کی قوامیت کے استحقاق کو ثابت کرتی ہے ۔ بعض دوسرے پہلو عورت کی فضیلت کے بھی ہیں ، لیکن ان کو قوامیت سے تعلق نہیں ہے ۔ مثلاً عورت گھر در سنبھالنے اور بچوں کی پرورش و نگہداشت کی جو صلاحیت رکھتی ہے ، وہ مرد نہیں رکھتا۔اسی وجہ سے قرآن نے یہاں بات ابہام کے انداز میں فرمائی ہے جس سے مرد اور عورت ، دونوں کا کسی نہ کسی پہلو سے صاحب فضیلت ہونا نکلتا ہے، ۱۳؂ لیکن قوامیت کے پہلو سے مرد ہی کی فضیلت کا پہلو راجح ہے ۔

دوسری یہ کہ مرد نے عورت پر اپنا مال خرچ کیا ہے ۔ یعنی بیوی بچوں کی معاشی اور کفالتی ذمہ داری تمام اپنے سر اٹھائی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ذمہ داری مرد نے اتفاقیہ یا تبرعاً نہیں اٹھائی ہے ، بلکہ اس وجہ سے اٹھائی ہے کہ یہ ذمہ داری اسی کے اٹھانے کی ہے ۔ وہی اس کی صلاحیتیں رکھتا ہے اور وہی اس کا حق ادا کر سکتا ہے ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۲۹۱)

میاں اور بیوی کے تعلق میں شوہر کو قوام قرار دینے کے بعد خاندان کے نظم کو صلاح و فلاح کے ساتھ قائم رکھنے کے لیے عورتوں سے جس چیز کا تقاضا کیا گیا ہے ، وہ یہ ہے :

۱۔ انھیں اپنے شوہر کے ساتھ موافقت اور فرماں بر

پہلی بات تو محتاج وضاحت نہیں ، اس لیے کہ نظم خواہ ریاست کا ہو یا کسی ادارے کا ،اطاعت اور موافقت کے بغیر ایک دن کے لیے بھی قائم نہیں رہ سکتا ۔ یہ نظم کی فطرت ہے ۔ اسے نہ مانا جائے تو وہ نظم نہیں ،بلکہ اختلال و انتشار ہو گا جس کے ساتھ کوئی ادارہ بھی وجود میں نہیں آتا۔

رہی دوسری بات تو اس کے لیے قرآن نے 'حٰفظت للغیب'کی تعبیر اختیار کی ہے ۔ عام طور پر اس کے معنی پیٹھ پیچھے کی حفاظت کے لیے گئے ہیں ۔ ہم نے اسے رازوں کی حفاظت کرنے والی کے معنی میں لیا ہے ۔ اس کا یہی مفہوم ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یہ معنی لینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ 'غیب' کا لفظ راز کے مفہوم کے لیے مشہور ہے ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں ترکیب کلام ایسی ہے کہ پیٹھ پیچھے کے معنی لینے کی گنجایش نہیں ۔ تیسری یہ کہ عورت اور مرد کے درمیان رازوں کی امانت داری کا مسئلہ سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا مسئلہ ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قدرتی امین ہیں ۔ بالخصوص عورت کامرتبہ تو یہ ہے کہ وہ مرد کے محاسن و معائب، اس کے گھر در ، اس کے اموال و املاک اور اس کی عزت و ناموس ، ہر چیز کی ایسی رازدان ہے کہ اگر وہ اس کا پردہ چاک کرنے پر آ جائے تو مرد بالکل ہی ننگا ہو کر رہ جائے ۔ اس وجہ سے قرآن نے اس صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ۔ اس کے ساتھ 'حفظ اللّٰہ' کا جو اضافہ ہے ، اس سے اس صفت کی عالی نسبی کا اظہار مقصود ہے کہ ان کی اس صفت پر خدا کی صفت کا ایک پرتو ہے ، اس لیے کہ خدا نے بھی اپنے بندوں اور بندیوں کے رازوں کی حفاظت فرمائی ہے ۔ ورنہ وہ لوگوں کا پردہ چاک کرنے پر آ جاتا تو کون ہے جو کہیں منہ دکھانے کے قابل رہ جاتا ۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۹۲)

قرآن نے فرمایا ہے کہ صالح بیویوں کا رویہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ جو عورتیں سرکشی اور تمرد اختیار کریں یا گھر کے راز دوسروں پر افشا کرتی پھریں ،وہ خدا کی نگاہ میں ہرگز صالحات نہیں ہیں ۔

لیکن کوئی عورت اگر اس طرح کی سرکشی پر اتر ہی آئے تو مرد کیا اس کی تادیب کر سکتا ہے ؟ قرآن نے اس کا جواب اثبات میں دیا ہے ۔ آیۂ زیر بحث میں اس سرکشی کے لیے 'نشوز' کا لفظ آیا ہے ۔ اس کے معنی سر اٹھانے کے ہیں ، مگر اس کا زیادہ استعمال اس سرکشی اور شوریدہ سری کے لیے ہوتا ہے جو کسی عورت کی طرف سے اس کے شوہر کے مقابل میں ظاہر ہو۔ یہ لفظ عورت کی ہر کوتاہی ، غفلت یا بے پروائی یا اپنے ذوق اور رائے اور اپنی شخصیت کے اظہار کی فطری خواہش کے لیے نہیں بولا جاتا ، بلکہ اس رویے کے لیے بولا جاتا ہے ، جب وہ شوہر کی قوامیت کو چیلنج کر کے گھر کے نظام کو بالکل تلپٹ کر دینے پر آمادہ نظر آتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ معاملہ یہاں تک پہنچ رہا ہو تو مرد تین صورتیں اختیار کر سکتا ہے ۔

پہلی یہ کہ عورت کو نصیحت کی جائے ۔ آیت میں اس کے لیے 'وعظ' کا لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اس میں کسی حد تک زجرو توبیخ بھی ہو سکتی ہے ۔

دوسری یہ کہ اس سے بے تکلفانہ قسم کا خلا ملا ترک کرد یا جائے تاکہ اسے اندازہ ہو کہ اس نے اپنا رویہ نہ بدلا تو اس کے نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں ۔

تیسری یہ کہ عورت کو جسمانی سزا دی جائے ۔ یہ سزا، ظاہر ہے کہ اتنی ہی ہو سکتی ہے جتنی کوئی معلم اپنے زیرتربیت شاگردوں کو ، یا کوئی باپ اپنی اولاد کو دیتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حد 'غیر مبرح' ۱۴ ؂ کے الفاظ سے متعین فرمائی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی سزا نہ دی جائے جو کوئی پائدار اثر چھوڑے ۔

آیت کے انداز بیان سے واضح ہے کہ ان تینوں میں ترتیب و تدریج ملحوظ ہے ۔ یعنی پہلی کے بعد دوسری اور دوسری کے بعد تیسری صورت اسی وقت اختیار کرنی چاہیے ، جب آدمی مطمئن ہو جائے کہ بات نہیں بنی اور اگلا قدم اٹھانے کے سوا چارہ نہیں رہا۔ مرد کے تادیبی اختیارات کی یہ آخری حد ہے ۔ قرآن نے فرمایا ہے کہ اگر اس سے اصلاح ہو جائے تو عورت کے خلاف انتقام کی راہیں نہیں ڈھونڈنی چاہییں ۔ چنانچہ 'ان اللّٰہ کان علیاً کبیراً'کے الفاظ میں تنبیہ کی گئی ہے کہ سب سے بلند اور سب سے بڑا خدا ہے۔ وہ جب آسمان و زمین کا مالک ہو کر بندوں کی سرکشی سے درگزر فرماتا ہے اور توبہ واصلاح کے بعد نافرمانیوں کو معاف کر دیتا ہے تو اس کے بندوں کو بھی دوسروں پر اختیار پا کر اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے ۔

[۲]

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْھاً، وَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْھَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ، وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ، فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَھُوْا شَیْءًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰہُ فِیْہِ خَیْرًا کَثِیْرًا . (النساء ۴ :۱۹)

''ایمان والو، تمھارے لیے جائز نہیں کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ اُنھیں دیا ہے ، اُس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے اُ نھیں تنگ کرو ۔ ہاں ، اُس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کریں ۔ اور اُن سے بھلے طریقے کا برتاؤ کرو ، اِس لیے کہ تمھیں وہ پسند نہیں ہیں تو ہو سکتا ہے کہ تم کوئی چیز ناپسند کرو اور اللہ اُسی میں تمھارے لیے بہت بڑی بہتری پیدا کر دے ۔ ''

یہ عورتوں کے حقوق اور ان سے متعلق صحیح رویے کا بیان ہے ۔

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ عورتیں کوئی مال مواشی نہیں ہیں کہ جس کو میراث میں ملیں ، وہ انھیں لے جا کر اپنے باڑے میں باندھ لے ۔ ان کی حیثیت ایک آزاد ہستی کی ہے ۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں اور حدود الہٰی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقوں میں یہ رواج تھا کہ مرنے والے کی جائداد اور اس کے مال مواشی کی طرح اس کی بیویاں بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتی تھیں اور وہ اگر اس کے بیٹے بھی ہوتے تو بغیر کسی تردد کے ان کے ساتھ زن و شو کا تعلق قائم کر لیتے تھے ۔ قرآن نے اس قبیح رسم کا خاتمہ کر دیا اور واضح فرمایا کہ عورتیں اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں ۔ ان کی مرضی کے بغیر کوئی چیز ان پر مسلط نہیں کی جا سکتی ۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ بیوی اگر ناپسند بھی ہو تو اس سے اپنا دیا دلایاواپس لینے کے لیے اس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش کسی بندۂ مومن کے لیے جائز نہیں ہے ۔ اس طرح کا رویہ صرف اس صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے ، جب وہ کھلی ہوئی بدکاری کرنے لگے ۔ اس قسم کی کوئی چیز اگر اس سے صادر نہیں ہوئی ہے ، وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے تو محض اس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے ، اس کو تنگ کرنا عدل و انصاف اور فتوت و شرافت کے بالکل منافی ہے ۔ اخلاقی فساد ، بے شک قابل نفرت چیز ہے ،لیکن محض صورت کے ناپسند ہونے یا کسی ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر اسے شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود ان کے ساتھ ا س طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان ہو ، عقل و فطرت کے مطابق ہو ، رحم و مروت پر مبنی ہو ، اس میں عدل و انصاف کے تقاضے ملحوظ رہے ہوں ۔ اس کے لیے آیت میں 'وعاشروھن بالمعروف' کے الفاظ آئے ہیں ۔ 'معروف' کا لفظ قرآن مجید میں خیر وصلاح کے رویوں اور شرفا کی روایات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ یہاں بھی یہ اسی مفہوم میں ہے ۔ مدعا یہ ہے کہ بیوی پسند ہو یا ناپسند ، بندۂ مومن سے اس کے پروردگار کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہرحال میں نیکی اور خیر کا رویہ اختیار کرے اور فتوت و شرافت کی جو روایت انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے ، اس سے سرمو انحراف نہ کرے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ ناپسندیدگی کے باوجود شوہر اگر اس سے اچھا برتاؤ کرتا ہے تو ہو سکتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی برکتوں کے بہت سے دروازے اسی کے ذریعے سے اس کے لیے کھول دیے جائیں ۔

اس آخری بات کے لیے جو الفاظ آیت میں آئے ہیں ، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے ان کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یہاں لفظ اگرچہ 'عسٰی' استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہار امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے ، لیکن عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع میں ، جیسا کہ یہاں ہے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے ، و ہ یہی ہے کہ جو لوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلیٰ اخلاقی اور انسانی اقدار کو اہمیت اور ان کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے ، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے ۔ جن لوگوں نے ا س وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں ، وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے ۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۰)

اس سے واضح ہے کہ جب ناپسندیدگی کے باوجود اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے تو عام حالات میں بیوی کے ساتھ کوئی غلط رویہ اللہ کی کس قدرناراضی کا باعث ہو گا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا ہے :

استوصوا بالنساء خیراً ، فإنھن عندکم عوان ، لیس تملکون منھن شیئاً غیر ذلک، إلاّ أن یاتین بفاحشۃ مبینۃ ، فإن فعلن فاھجروھن فی المضاجع ، واضربوھن ضرباًغیر مبرح، فإن اطعنکم فلا تبغواعلیھن سبیلاً ، إن لکم من نسائکم حقاً ، و لنسائکم علیکم حقاً، فأما حقکم علی نسائکم فلا یوطئن فرشکم من تکرھون، ولایأذن فی بیوتکم لمن تکرھون ، ألا وحقھن علیکم أن تحسنوا إلیھن فی کسوتھن و طعامھن۔(ابن ماجہ ، رقم ۱۸۴۱)

''عورتوں کے لیے اچھے برتاؤ کی نصیحت قبول کرو ، اس لیے کہ (حقوق زوجیت کے لیے) وہ تمھاری پابند ہیں ۔ تم ان پر اس کے سوا کوئی اختیار نہیں رکھتے ۔ ہاں اگر وہ کھلی ہوئی بدکاری کریں تو تم کو حق ہے کہ ان کے بستروں میں انھیں تنہا چھوڑ دو اور(اس پر بھی نہ مانیں تو) انھیں پیٹو ، مگر اتنا جو کوئی نشان نہ چھوڑے ۔ پھر اگر وہ اطاعت کریں تو ان پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو ۔ بے شک، عورتوں پر تمھارا حق ہے اور تم پر بھی ان کے حقوق ہیں۔ تمھارا حق تو یہ ہے کہ تمھارے ناپسندیدہ کسی شخص کو وہ نہ تمھارا بستر پامال کرنے دیں نہ تمھارے گھر میں آنے کی اجازت دیں ۔ سنو ! اور ان کا حق یہ ہے کہ (اپنی استطاعت کے مطابق) انھیں اچھے سے اچھاکھلاؤ اور اچھے سے اچھا پہناؤ۔''

تعدد ازواج

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنیٰ وَ ثُلٰثَ وَرُبٰعَ، فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، ذٰلِکَ اَدْنٰی اَلَّا تَعُوْلُوْا. وَاٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِھِنَّ نِحْلَۃً فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْ ءٍ مِّنْہُ نَفْسًا فَکُلُوْہُ ہَنِیْءًا مَّرِیٓءًا.(النساء ۴ :۳۔۴ )

''اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کی ) جو (مائیں) تمھارے لیے جائز ہوں ، اُن میں سے دو دو ، تین تین ، چار چار عورتوں سے نکاح کر لو ۔ پھر اگر اِس بات کا ڈر ہو کہ (اِن کے درمیان ) انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی یا پھر وہ جو ملک یمین کی بنا پر تمھارے قبضے میں ہوں ۔ یہ اِس بات کے زیادہ قرین ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو ۔ اور اِن عورتوں کو بھی اِن کے مہر دو اُسی طرح جس طرح مہر دیا جاتا ہے ۔ پھر اگر وہ اپنی خوشی سے کچھ چھوڑدیں تو اُسے شوق سے کھالو۔ ''

اس آیت کے مخاطب یتیموں کے سرپرست ہیں ۔ اس میں انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ یتیموں کے اموال و املاک اور حقوق کی نگہداشت جیسی کچھ ہونی چاہیے ، وہ کوئی آسان کام نہیں ہے اور وہ تنہااس ذمہ داری سے حسن و خوبی کے ساتھ عہدہ برآ نہیں ہو سکتے تو انھیں چاہیے کہ ان کی ماؤں میں سے جو ان کے لیے جائز ہوں ، ان کے ساتھ نکاح کر لیں ۔ وہ اگر اس ذمہ داری میں شریک ہو جائیں گی تو وہ زیادہ بہتر طریقے پر اسے پورا کر سکیں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یتیموں کے ساتھ جو دلی تعلق ان کی ماؤں کو ہو سکتا ہے اور ان کے حقوق کی نگہداشت جس بیداری کے ساتھ وہ کر سکتی ہیں ، وہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا ۔

اس سے واضح ہے کہ یہ آیت اصلاً تعدد ازواج سے متعلق کوئی حکم بیان کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی ، بلکہ یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر تعدد ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب کے لیے نازل ہوئی ہے جو عرب میں پہلے سے موجود تھا۔ قرآن نے دوسرے مقامات پر صاف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے ، اس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مردو عورت میں رشتۂ نکاح سے قائم ہوتا ہے ۔ چنانچہ جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسانیت کی ابتدا سیدنا آدم سے ہوئی ہے اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی بیوی پیدا کی تھی ۔ یہ تمدن کی ضروریات اور انسان کے نفسی ، سیاسی اور سماجی مصالح ہیں جن کی بنا پر تعدد ازواج کا رواج کم یا زیادہ ، ہر معاشرے میں رہا ہے اور انھی کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کسی شریعت میں اسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ یہاں بھی اسی نوعیت کی ایک مصلحت میں اس سے فائدہ اٹھانے کی طرف رہ نمائی فرمائی گئی ہے ۔ تاہم اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ دو شرطیں اس پر عائد کر دی ہیں :

ایک یہ کہ یتیموں کے حقوق کی نگہداشت جیسی مصلحت کے لیے بھی عورتوں کی تعداد کسی شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے ۔ ۱۵؂

دوسری یہ کہ بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ آدمی اگر اسے پورا نہ کرسکتا ہو تو اس طرح کی کسی اہم دینی مصلحت کے پیش نظر بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہے ۔

اس انصاف کے حدود کیا ہیں ؟ اس سے مراد اگر دل کے میلان اور ظاہری برتاؤ میں پوری مساوات ہے تو یہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے ۔ کوئی شخص اگر اپنی ایک پسندیدہ بیوی رکھتے ہوئے کسی عورت سے صرف اس لیے نکاح کرتا ہے کہ اس کے یتیم بچوں کے حقوق صحیح طریقے پر ادا ہو سکیں تو یہ ناممکن ہے کہ وہ ان دونوں بیویوں سے یکساں محبت اور یکساں برتاؤ کا رویہ اختیار کر سکے ۔ یہ سوال زمانۂ نزول قرآن ہی میں پیداہو گیا تھا۔ چنانچہ قرآن نے آگے اسی سورۂ نساء کی آیات ۱۲۷ ۔ ۱۳۰ میں اس کا جواب دیا ہے ۔

اس میں پہلے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ نکاح یتیموں کے حقوق کی نگہداشت کے لیے کیا گیا ہو یا کسی اور مقصد سے ، مہر اور عدل عورت کا حق ہے اور یہ ، جس طرح کہ آیت ۳میں تاکید کی گئی ہے ، نہایت خوش دلی کے ساتھ ادا ہونا چاہیے ۔ پھر عورت کو نصیحت کی ہے کہ اگر اسے یہ اندیشہ ہو کہ بیویوں میں برابری کے حقوق پر اصرار کے نتیجے میں مرد اس سے بے پروائی برتے گا یا پیچھا چھڑانے کی کوشش کرے گا تو اس میں حرج نہیں کہ دونوں مل کر آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَاِنِ امْرَاَۃٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِھَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضاً فَلَا جُنَاحَ عَلَیْھِمَآ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَھُمَا صُلْحًا ، وَالصُّلْحُ خَیْرٌ، وَاُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ ، وَاِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا ، فَاِنَّ اللّٰہ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا .(۴: ۱۲۸)

''اور اگر (اِن میں سے ) کسی عورت کو اپنے شوہر سے زیادتی یا بے رخی کا خطرہ ہو تو اِس میں حرج نہیں کہ دونوں آپس میں کوئی سمجھوتا کر لیں ، اور (سمجھیں کہ اِس معاملے میں) سمجھوتا ہی بہتر ہے ۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) حرص لوگوں کی سرشت میں ہے ۔ اور اگر تم اچھا رویہ اختیار کرو گے اور اللہ سے ڈرو گے تو (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ) جو کچھ تم کرو گے ، اللہ اُس سے پوری طرح واقف ہے ۔ ''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے :

''یعنی عورت اپنے حق مہر ، عدل اور نان نفقے کے معاملے میں ایسی رعایتیں شوہر کو دے دے کہ قطع تعلق کا اندیشہ رفع ہو جائے ۔ فرمایا کہ صلح اور سمجھوتے ہی میں بہتری ہے ، اس لیے کہ میاں اور بیوی کا رشتہ ایک مرتبہ قائم ہو جانے کے بعد فریقین کی فلاح اسی میں ہے کہ یہ قائم ہی رہے ، اگرچہ اس کے لیے کتنا ہی ایثار کرنا پڑے ۔ فرمایا کہ حرص طبائع کی عام بیماری ہے جو باہمی تعلقات پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کا علاج یہی ہے کہ یا تو دونوں فریق ایثار پر آمادہ ہوں اور اگر ایک فریق کا مرض لاعلاج ہے تو دوسرا قربانی پر آمادہ ہو ۔ غرض رشتۂ نکاح کو برقرار رکھنے کے لیے اگر عورت کو قربانی بھی دینی پڑے تو بہتری اس کے برقرار رہنے ہی میں ہے ۔ اس کے بعد 'وان تحسنوا و تتقوا'کے الفاظ سے مرد کو ابھارا ہے کہ ایثار و قربانی اور احسان و تقویٰ کا میدان اصلاً اسی کے شایان شان ہے ۔ وہ اپنی فتوت اور مردانگی کی لاج رکھے اور عورت سے لینے والا بننے کی بجائے اس کو دینے والا بنے ۔ اللہ ہر ایک کے عمل سے باخبر ہے اور ہر نیکی کا وہ بھرپور صلہ دے گا۔'' (تدبر قرآن ۲/ ۳۹۹)

اس کے بعد عدل کے حدود اس طرح واضح فرمائے ہیں:

وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ،فَلاَتَمِیْلُوْا کُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْھَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ، وَاِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰہُ کُلًّا مِّنْ سَعَتِہٖ ، وَکَانَ اللّٰہُ وَاسِعًا حَکِیْمًا. (۴: ۱۲۹۔۱۳۰)

''اورتم اگر چاہو بھی تو عورتوں کے درمیان پورا پورا عدل تو کر ہی نہیں سکتے ۔ اِس لیے یہی کافی ہے کہ کسی ایک کی طرف بالکل نہ جھک جاؤ کہ دوسری اَدھر میں لٹکتی رہ جائے۔ اور اگر اصلاح کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو گے تو اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور اگر (میاں اور بیوی) ، دونوں (بالآخر) جدا ہی ہو جائیں گے تو اللہ اُن میں سے ہر ایک کو اپنی وسعت سے بے نیاز کر دے گا ، اور اللہ بڑی وسعت رکھنے والا ، بڑا صاحب حکمت ہے ۔ ''

اس سے معلوم ہوا کہ بیویوں کے درمیان جس عدل کا تقاضا قرآن نے کیا ہے ، اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ظاہر کے برتاؤ اور دل کے لگاؤ میں کسی پہلو سے کوئی فرق باقی نہ رہے ۔ اس طرح کا عدل کسی کی طاقت میں نہیں ہے اور کوئی شخص یہ کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔ دل کے میلان پر آدمی کو اختیار نہیں ہوتا ، لہٰذا قرآن کا تقاضا صرف یہ ہے کہ شوہر ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جائے کہ دوسری بالکل معلق ہو کر رہ جائے گویا کہ اس کا کوئی شوہر نہیں ہے ۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ برتاؤ اور حقوق میں اپنی طرف سے توازن قائم رکھنے کی کوشش کرو، اگر کوئی حق تلفی یا کوتاہی ہو جائے تو فوراً تلافی کر کے اپنے رویے کی اصلاح کر لو اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ تمھاری اس کوشش کے باوجود اگر کوئی فروگزاشت ہو جاتی ہے تو اللہ بخشنے والا ہے ۔ اس کی رحمت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔

اس کے بعد آخر میں یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ گھر بچانے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہی مطلوب ہے، لیکن اگر حالات مجبور کر دیتے ہیں اور علیحدگی ہو ہی جاتی ہے تو اللہ سے اچھی امید رکھنی چاہیے ۔ وہی رزق دینے والا ہے اور مصیبتوں اور تکلیفوں میں اپنے بندوں کا ہاتھ بھی وہی پکڑتا ہے ۔ میاں اور بیوی ، دونوں کو وہ اپنی عنایت سے مستغنی کر دے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

''مطلب یہ ہے کہ اس رشتے کو قائم رکھنے کے لیے میاں اور بیوی ، دونوں سے ایثار اور کوشش تو مطلوب ہے ، لیکن یہ غیرت اور خودداری کی حفاظت کے ساتھ مطلوب ہے ۔ میاں اور بیوی میں سے کسی کے لیے جس طرح اکڑنا جائز نہیں ہے ، اسی طرح ایک حد خاص سے زیادہ دبنا بھی جائز نہیں ہے ۔ اگرچہ الفاظ میں عمومیت ہے ، لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ اس میں عورتوں کی خاص طور پر حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ حتی الامکا ن نباہنے کی کوشش تو کریں اور مصالحت کے لیے ایثار بھی کریں ، لیکن یہ حوصلہ رکھیں کہ اگر کوشش کے باوجود نباہ کی صورت پیدا نہ ہوئی تو رزاق اللہ تعالیٰ ہے ۔ وہ اپنے خزانۂ جود سے ان کو مستغنی کر دے گا ۔ '' (تدبر قرآن ۲/ ۴۰۰)

یہاں یہ بات واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے آخری پیغمبر کی حیثیت سے اپنی منصبی ذمہ داریوں کے بعض تقاضوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے تعدد ازواج کی ان دونوں شرائط سے مستثنیٰ کر دیا تھا۔ چنانچہ معاشرے میں غلاموں کا رتبہ بڑھانے کے لیے جب آپ نے اپنی پھوپھی زاد بہن کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام اور منہ بولے بیٹے سیدنا زید سے کیا اور ان دونوں میں نباہ نہیں ہو سکا تو سیدہ کی دل داری اور متبنیٰ کی بیوی سے نکاح کی حرمت کے جاہلی تصور کو بالکل ختم کر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ سیدہ سے خود نکاح کر لیں ، دراں حالیکہ اس وقت چار بیویاں پہلے سے آپ کے نکاح میں تھیں ۔ سیدہ اور ان کے شوہر کے درمیان جو صورت حال پیدا ہو گئی تھی ، اس میں آپ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ یہی کرنا پڑے گا ، لیکن اسے ظاہر نہیں کر رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات کھول دی اور آپ کو توجہ دلائی کہ اللہ کے پیغمبر اپنی منصبی ذمہ داریوں کے معاملے میں لوگوں کے رد عمل کی پروا نہیں کرتے۔ لہٰذا سیدہ کے ساتھ آپ کے نکاح کا اعلان خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن مجید میں کر دیا گیا۔ سورۂ احزاب میں ہے :

وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاَنْعَمْتَ عَلَیْہِ : اَمْسِکْ عَلَیْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللّٰہَ ، وَتُخْفِیْ فِیْ نَفْسِکَ مَا اللّٰہُ مُبْدِیْہِ ، وَ تَخْشَی النَّاسَ ، وَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰہُ ، فَلَمَّا قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَراً زَوَّجْنٰکَھَا لِکَیْ لَایَکُوْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآءِھِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْھُنَّ وَ طَراً، وَکَانَ اَمْرُ اللّٰہِ مَفْعُوْلًا . (۳۳: ۳۷)

''اور یاد کرو ، (اے پیغمبر) جب تم اُس شخص سے بار بار کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تم نے بھی انعام کیا تھا کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو، اور اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنے والا تھا اور لوگوں سے ڈر رہے تھے ، دراں حالیکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو۔چنانچہ جب زید نے اُس (خاتون) سے اپنا تعلق توڑ لیا تو ہم نے تمھیں اُس سے بیاہ دیا، اِس لیے کہ مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی نہ رہے ، جب وہ اُن سے تعلق توڑ چکے ہوں ۔ اور اللہ کا یہ حکم تو عمل میں آنا ہی تھا۔ ''

یہ اعلان ہوا تو اس کے ساتھ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح و طلاق کا ایک مفصل ضابطہ بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سورہ میں بیان کردیا جس میں تعدد ازواج کے وہ شرائط تو اٹھا دیے گئے جو اوپر بیان ہوئے ہیں ، لیکن اس کے ساتھ بعض ایسی پابندیاں آپ پر عائد کر دی گئیں جو عام مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں ۔ ارشاد فرمایا ہے :

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ ، اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَ بَنٰتِ عَمِّکَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَ بَنٰتِ خَاِلکَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِکَ الَّتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ، وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ ، اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا ، خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ . قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْ اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ ، وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْراً رَّحِیْمًا . تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَ تؤْوِیْ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآءُ ، وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ. ذٰلِکَ اَدْنٰی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ ، وَاللّّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ ، وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا. لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْ بَعْدُ ، وَلَآ اَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ، وَکاَنَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ رَّقِیْبًا. (۳۳ : ۵۰۔ ۵۲)

''ہم نے تمھاری وہ بیویاں تمھارے لیے جائز ٹھیرائی ہیں ، اے پیغمبر، جن کے مہر تم دے چکے ہو اور (اِسی طرح) وہ (خاندانی) عورتیں جو (تمھارے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں) اللہ تمھارے قبضے میں لے آئے اور تمھاری وہ چچا زاد ، پھوپھی زاد ، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مسلمان عورت جو اپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کردے ، اگر نبی اُس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ حکم دوسرے مسلمانوں سے الگ صرف تمھارے لیے خاص ہے ۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے اُن کی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اُن پر فرض کیا ہے ۔ (اِس لیے خاص ہے ) کہ (اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں) تم پر کوئی تنگی نہ رہے ۔ اور (اگر کوئی کوتاہی ہو تو)اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ تمھیں اختیار ہے کہ اُن میں سے جسے چاہو الگ رکھو اور جسے چاہو ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلالو ۔ اِس معاملے میں تم پر کوئی مضایقہ نہیں۔ یہ (وضاحت) اِس کے زیادہ قرین ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی تم اُن سب کو دو گے ، اُس پر راضی رہیں گی ۔ اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اِن کے علاوہ کوئی عورت تمھارے لیے جائز نہیں ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی جگہ اور بیویاں لے آؤ ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی پسندہوں ۔ لونڈیاں ، البتہ (اِس کے بعد بھی) جائز ہیں اور (یہ حقیقت ہے کہ) اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ ''

یہ ضابطہ جن نکات پر مبنی ہے ، وہ یہ ہیں:

اولاً ، سیدہ زینب سے نکاح کے بعد بھی آپ اگر چاہیں تو درج ذیل تین مقاصد کے لیے مزید نکاح کر سکتے ہیں :

۱۔ ان خاندانی عورتوں کی عزت افزائی کے لیے جو آپ کے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں قیدی بن کر آپ کے قبضے میں آ جائیں ۔

۲۔ ان خواتین کی دل داری کے لیے جو محض حصول نسبت کی غرض سے آپ کے ساتھ نکاح کی خواہش مند ہوں اور آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ہبہ کر دیں ۔

۳۔ اپنی ان چچا زاد ، ماموں زاد ، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کی تالیف قلب کے لیے جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اس طرح اپنا گھر بار اور اپنے اعزہ و اقربا ،سب کوچھوڑ کر آپ کا ساتھ دیا ہے ۔

ثانیاً، یہ نکاح چونکہ ایک دینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کیے جائیں گے ، اس لیے اپنی ان بیویوں کے ساتھ بالکل یکساں تعلق رکھنے کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی ۔

ثالثاً، ان خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں اب آپ کے لیے حرام ہیں ۱۶؂ اور ان سے ایک مرتبہ نکاح کر لینے کے بعد انھیں الگ کر کے ان کی جگہ کوئی دوسری بیوی بھی آپ نہیں لا سکتے ، اگرچہ وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو۔

چنانچہ سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مقصد کے لیے نکاح کیا۔ سیدہ میمونہ دوسرے مقصد سے آپ کی ازواج میں شامل ہوئیں اور سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ آپ کا نکاح تیسرے مقصد کے پیش نظر ہو ا۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی اسی سورہ میں بیان کر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں ، لہٰذا ان کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے ۔ کسی مسلمان کو اس کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لانا چاہیے :

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗ اُمَّھٰتُھُمْ.(الاحزاب ۳۳: ۶)

''نبی مسلمانوں کے لیے خود اُن کی ذات پر مقدم ہیں اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔''

وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْآ اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖ اَبَداً ، اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا.(الاحزاب ۳۳: ۵۳)

'' اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی بیویوں سے تم اُن کے بعد بھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ہی سنگین بات ہے

۔''

اس سے واضح ہے کہ یہ ایک خالص دینی ذمہ داری تھی جو نبوت و رسالت کے منصبی تقاضوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر عائد ہوئی اور آپ نے اسے پورا کر دیا۔ بشری خواہشات سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اسے عام قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔

مباشرت کے حدود

وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْمَحِیْضِ ، قُلْ ھُوَ اَذًی ، فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِ ، وَلَاتَقْرَبُوْھُنَّ حَتّٰی یَطْھُرْنَ ، فَاِذَاتَطَھَّرْنَ فَاْتُوْھُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَکُمُ اللّٰہُ ، اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ . نِسَآؤُکُمْ حَرْثٌ لَّکُمْ فَاْتُوْا حَرْثَکُمْ اَنّٰی شِءْتُمْ ، وَقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِکُمْ ، وَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ مُّلٰقُوْہُ ، وَبَشِّرِالْمُؤْمِنِیْنَ . (البقرہ ۲: ۲۲۲۔ ۲۲۳)

''اور وہ تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں ، کہہ دو : یہ نجاست ہے ۔ چنانچہ حیض کی حالت میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ خون سے پاک نہ ہو جائیں ، اُن کے قریب نہ جاؤ ۔ پھر جب وہ نہاکر پاکیزگی حاصل کر لیں تو اُن سے ملاقات کرو ، جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ بے شک ، اللہ توبہ قبول کرنے والوں اورپاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ تمھاری یہ عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں ۔ لہٰذا تم اپنی اِس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ اور (اِس کے ذریعے سے دنیا اور آخرت، دونوں میں) اپنے لیے آگے بڑھاؤ، ۱۷؂ اور اللہ سے ڈرتے رہو اور خوب جان لو کہ تمھیں (ایک دن) لازماً اُس سے ملنا ہے ۔ اور ایمان والوں کو ، (اے پیغمبر، اس ملاقات کے موقع پر فلاح و سعادت کی) خوش خبری سنا دو۔''

مردو عورت کا جنسی تعلق تو انسان کی جبلت ہے اور وہ اس معاملے میں کسی ہدایت کا محتاج نہیں ہوتا ، لیکن حیض و نفاس کے جو دن عورتوں پر آتے ہیں ، ان میں بھی یہ تعلق کیا قائم رہنا چاہیے ؟ بالبداہت واضح ہے کہ دین جس کا مقصد ہی تزکیہ ہے ، وہ اسے گوارا نہیں کر سکتا۔ لہٰذا تمام الہامی مذاہب نے اس سوال کا جواب نفی میں دیا ہے اور ان ایام میں یہ تعلق ممنوع ٹھیرایا ہے ۔ دین ابراہیمی کے زیر اثر عرب جاہلیت بھی اسے ناجائز ہی سمجھتے تھے ۔ ان کی شاعری میں ا س کا ذکر کئی پہلووں سے ہوا ہے ۔ اس معاملے میں کوئی اختلاف نہ تھا ، لیکن عورت ان ایام سے گزر رہی ہو تو اس سے اجتناب کے حدود کیا ہیں ، اس میں ، البتہ بہت کچھ افراط و تفریط پائی جاتی تھی ۔ چنانچہ لوگوں نے پوچھا تو قرآن نے اس کے متعلق شریعت کا حکم سورۂ بقرہ کی ان آیات میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی ان کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

''اس زمانے میں عورت سے علیحدہ رہنے (اعتزال) کا جو حکم دیا ہے ، اس کی صحیح حد آگے کے الفاظ 'ولاتقربوھن حتی یطھرن، فاذا تطھرن فاتوھن من حیث امرکم اللّٰہ'(اور تم ان سے قربت نہ کرو، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں ، تو جب وہ پاکیزگی حاصل کرلیں تو ان کے پاس آؤ، جہاں سے اللہ نے تم کو حکم دیا ہے) سے خود واضح ہو رہی ہے کہ یہ علیحدگی صرف زن و شو کے خاص تعلق کے حد تک ہی مطلوب ہے ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ عورت کو بالکل اچھوت بنا کے رکھ دو، جیسا کہ دوسرے مذاہب میں ہے ۔ اس چیز کی وضاحت احادیث اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی ہوئی ہے ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۶)

روایات درج ذیل ہیں:

سیدہ عائشہ کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے اور وہ حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھیں ۔ ۱۸؂

سیدہ ہی کا بیان ہے کہ وہ حیض کی حالت میں ہوتی تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گود میں تکیہ کیے ہوئے قرآن پڑھتے تھے ۔۱۹؂

انھی سے روایت ہے کہ ہم میں سے کوئی حیض کی حالت میں ہوتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب آنا چاہتے تو ہدایت کرتے کہ حیض کی جگہ پر تہ بند باندھ لے ، پھر قریب آ جاتے ۔ ۲۰؂

وہ فرماتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں پانی پیتی، پھر وہی پانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیتی اور آپ اسی جگہ منہ رکھ کر پی لیتے جہاں میں نے رکھا ہوتا۔ اسی طرح ہڈی چوستی ، پھر آپ کو دے دیتی اور آپ اسی جگہ منہ رکھ کر کھا لیتے جہاں میں نے رکھا ہوتا۔ ۲۱؂

استاذ امام لکھتے ہیں:

''اس آیت میں 'طھر' اور 'تطھر' دولفظ استعمال ہوئے ہیں ۔ طہر کے معنی تو یہ ہیں کہ عورت کی ناپاکی کی حالت ختم ہو جائے اور خون کا آنا بند ہو جائے اور تطہر کے معنی یہ ہیں کہ عورت نہا دھو کر پاکیزگی کی حالت میں آ جائے ۔آیت میں عورت سے قربت کے لیے طہر کو شرط قرار دیا ہے اور ساتھ ہی فرمادیا ہے کہ جب وہ پاکیزگی حاصل کر لیں ، تب ان کے پاس آؤ۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ چونکہ قربت کی ممانعت کی اصلی علت خون ہے ، اس وجہ سے اس کے انقطاع کے بعد یہ پابندی تو اٹھ جاتی ہے ، لیکن صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب عورت نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کر لے ، تب اس سے ملاقات کرو۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۶)

اس کے ساتھ یہ بات بھی قرآن نے انھی آیات میں واضح کر دی ہے کہ نہا دھو کر پاکیزگی حاصل کر لینے کے بعد بھی عورت سے ملاقات لازماً اسی راستے سے ہونی چاہیے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر رکھا ہے ۔ چنانچہ فرمایاہے :'فاتوھن من حیث امرکم اللّٰہ' (تو ان سے ملاقات کرو، جہاں سے اللہ نے تمھیں حکم دیا ہے)۔یہ چیز بدیہیات فطرت میں سے ہے اور اس پہلو سے ، لاریب خدا ہی کا حکم ہے ۔ اگر کوئی شخص اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ ، درحقیقت خدا کے ایک واضح، بلکہ واضح تر حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے ، اور اس پر یقیناً اس کے ہاں سزا کامستحق ہو گا۔

قرآن نے یہی بات اس کے بعد کھیتی کے استعارے سے واضح فرمائی ہے ۔ استاذ امام لکھتے ہیں :

'' عورتوں کے لیے کھیتی کے استعارے میں ایک سیدھا سادہ پہلو تو یہ ہے کہ جس طرح کھیتی کے لیے قدرت کا بنایا ہو ایہ ضابطہ ہے کہ تخم ریزی ٹھیک موسم میں اور مناسب وقت پر کی جاتی ہے ، نیز بیج کھیت ہی میں ڈالے جاتے ہیں ، کھیت سے باہر نہیں پھینکے جاتے ، کوئی کسان اس ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کرتا، اسی طرح عورت کے لیے فطرت کا یہ ضابطہ ہے کہ ایام ماہواری کے زمانے میں یا کسی غیر محل میں اس سے قضاے شہوت نہ کی جائے، اس لیے کہ حیض کا زمانہ عورت کے جمام اور غیرآمادگی کا زمانہ ہوتا ہے ، اور غیر محل میں مباشرت باعث اذیت و اضاعت ہے ۔ اس وجہ سے کسی سلیم الفطرت انسان کے لیے اس کا ارتکاب جائز نہیں ۔ '' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۷)

اس کے بعد 'فاتواحرثکم انی شئتم'(لہٰذا تم اپنی اس کھیتی میں جس طرح چاہو، آؤ) کی وضاحت میں انھوں نے لکھا ہے :

''(اس) میں یہ بیک وقت دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک تو اس آزادی ، بے تکلفی ، خودمختاری کی طرف جو ایک باغ یاکھیتی کے مالک کو اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں حاصل ہوتی ہے ، اور دوسری اس پابندی ، ذمہ داری اور احتیاط کی طرف جو ایک باغ یا کھیتی والا اپنے باغ یا کھیتی کے معاملے میں ملحوظ رکھتا ہے ۔ اس دوسری چیز کی طرف 'حرث' کا لفظ اشارہ کر رہا ہے اور پہلی چیز کی طرف 'انی شئتم'کے الفاظ۔ وہ آزادی اور یہ پابندی ، یہ دونوں چیزیں مل کر اس رویے کو متعین کرتی ہیں جو ایک شوہر کو بیوی کے معاملے میں اختیار کرنا چاہیے ۔

ہر شخص جانتا ہے کہ ازدواجی زندگی کا سارا سکون و سرور فریقین کے اس اطمینان میں ہے کہ ان کی خلوت کی آزادیوں پر فطرت کے چند موٹے موٹے قیود کے سواکوئی قید ، کوئی پابندی اور کوئی نگرانی نہیں ہے ۔ آزادی کے اس احساس میں بڑا کیف اور بڑا نشہ ہے ۔ انسان جب اپنے عیش و سرور کے اس باغ میں داخل ہوتا ہے تو قدرت چاہتی ہے کہ وہ اپنے اس نشہ سے سرشار ہو، لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس کے سامنے قدرت نے رکھ دی ہے کہ یہ کوئی جنگل نہیں ، بلکہ اس کا اپنا باغ ہے اور یہ کوئی ویرانہ نہیں ، بلکہ اس کی اپنی کھیتی ہے ، اس وجہ سے وہ اس میں آنے کو تو سو بار آئے اور جس شان ، جس آن ، جس سمت اور جس پہلو سے چاہے آئے ، لیکن اس باغ کا باغ ہونا اور کھیتی کا کھیتی ہونا یاد رکھے ۔ اس کے کسی آنے میں بھی اس حقیقت سے غفلت نہ ہو ۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۷)

یہ ہدایات کس درجہ اہمیت رکھتی ہیں ؟ قرآن نے اسے ان آیتوں میں 'ان اللّٰہ یحب التوابین و یحب المتطھرین'(بے شک ، اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے) کے الفاظ میں بیان فرمایاہے۔آیت کے اس حصے کی وضاحت استاذامام امین احسن اصلاحی نے اس طرح کی ہے:

''توبہ اور تطہر کی حقیقت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ توبہ اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنے کا نام ہے اور تطہر اپنے ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا ہے ۔ اس اعتبار سے ان دونوں کی حقیقت ایک ہوئی اور مومن کی یہ دونوں خصلتیں اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں ۔ اس کے برعکس جو لوگ ان سے محروم ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں ۔ یہاں جس سیاق میں یہ بات آئی ہے ، اس سے یہ تعلیم ملتی ہے کہ جو لوگ عورت کی ناپاکی کے زمانے میں قربت سے اجتناب نہیں کرتے یا قضاے شہوت کے معاملے میں فطرت کے حدود سے تجاوز کرتے ہیں ، وہ اللہ کے نزدیک نہایت مبغوض ہیں ۔''(تدبر قرآن ۱ /۵۲۶)

ایلا

لِلَّذِیْنَ یُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآءِ ھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ اَشْھُرٍ، فَاِنْ فَآءُ وْفَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ . وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ ، فَاِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ . (البقرہ ۲: ۲۲۶۔۲۲۷)

''اُن لوگوں کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے جو اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھیں۔ پھر وہ رجوع کر لیں تو اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے ۔ اور اگر طلاق کا فیصلہ کر لیں تو (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ سمیع و علیم ہے۔''

سورۂ بقرہ کی اس آیت میں عورتوں سے 'ایلاء' کا حکم بیان ہوا ہے ۔ یہ عرب جاہلیت کی ایک اصطلاح ہے جس کا مفہوم بیوی سے زن و شو کا تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا لینا ہے ۔ اس طرح کی قسم اگر کھا لی جائے تو اس سے بیوی چونکہ معلق ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ چیز عدل و انصاف اور برو تقویٰ کے منافی ہے ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے چار مہینے کی مدت مقرر کر دی ہے۔ شوہر پابند ہے کہ اس کے اندر یا تو بیوی سے ازدواجی تعلقات بحال کر لے یا طلاق دینے کا فیصلہ ہے تو اس کو طلاق دے دے۔

پہلی صورت کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ غفورورحیم ہے ۔ یعنی اگرچہ یہ قسم حق تلفی کے لیے کھائی گئی تھی اور اس طرح کی قسم کھانا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ، لیکن اصلاح کر لی جائے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیں گے ۔

اس میں ، ظاہر ہے کہ شوہر قسم توڑنے کا کفارہ ادا کرے گا ۔

دوسری صورت کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ سمیع و علیم ہے ۔ یعنی اگر طلاق کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس میں اللہ کا قانون اور اس کے حدودوقیود ہر حال میں پیش نظر رہنے چاہییں ۔ اللہ ہر چیز کو سنتا اور جانتا ہے ۔ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہو گی تو وہ ہرگز اس سے چھپی نہ رہے گی ۔

اس سے معلوم ہوا کہ عذر معقول کے بغیر بیوی سے ازدواجی تعلق منقطع کر لینا کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ اس کے لیے اگر قسم بھی کھا لی گئی ہے تو اسے توڑ دینا ضروری ہے ۔ یہ عورت کا حق ہے اور اسے ادانہ کرنے پر دنیا اور آخرت ، دونوں میں شوہر کو مجرم قرار دیا جا سکتا ہے ۔

یہی معاملہ بیوی کا بھی ہو گا ۔ وہ بھی ، ظاہر ہے کہ کسی معقول وجہ کے بغیر شوہر کے ساتھ یہ تعلق قائم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

اذا دعا الرجل امرأتہ الی فراشہ فابت، فبات غضبان علیھا، لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح .(بخاری، رقم ۳۰۶۵)

''جب شوہر بیوی کو مقاربت کے لیے بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے اور شوہر غصے میں رات گزارے تو فرشتے صبح ہونے تک اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ ''

____________

۱؂ مسلم ، رقم ۲۶۲۸۔

۲؂ مسلم ، رقم ۲۶۴۲۔

۳؂ اس اسلوب کو سمجھنے کے لیے دیکھیے ، اسی کتاب میں : ''اصول و مبادی ''۔

۴؂ پیدایش ۳۴: ۱۲، خروج ۲۲: ۱۷۔

۵؂ بخاری ، رقم ۴۶۹۷۔ روایت کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ قرآن اسے پڑھا دو گے اور تمھاری طرف سے یہی اس کا مہر ہو جائے گا۔

۶؂ بعض روایتوں میں بھی یہ بات اسی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہے ۔ ملاحظہ ہو : ابوداؤد ، رقم ۲۰۵۱ ، ۲۰۵۲۔ مزید وضاحت کے لیے دیکھیے اسی کتاب میں : ''حدود و تعزیرات''۔

۷؂ سورۂ ممتحنہ (۶۰) کی آیت ۱۰ میں جن کافروں سے نکاح ممنوع قرار دیا گیا ہے ، اس کا باعث بھی ان کا شرک ہی ہے ۔ آیت سے واضح ہے کہ اس میں کافروں سے مراد مشرکین عرب ہیں ۔

۸؂ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اس دوران میں جو کچھ ہو چکا ہے ، اسے ناجائز قرار دیا جائے گا، بلکہ یہی ہیں کہ اسے آیندہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا ۔

۹؂ ابوداؤد ، رقم ۲۰۸۵۔

۱۰؂ بخاری، رقم ۴۷۴۱۔

۱۱؂ مسلم ، رقم ۲۵۴۵۔

۱۲؂ بخاری ، رقم۴۷۴۳۔

۱۳؂ چنانچہ اولاد اور والدین کے تعلق میں اسی بنا پر ماں کو باپ پر فضیلت دی گئی ہے ۔ اس معاملے میں قرآن کا نقطۂ نظر ہم آگے اس کے محل میں تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے ۔

۱۴؂ ابوداؤد ، رقم ۱۸۷۸۔

۱۵؂ چنانچہ قیس بن حارث کے بارے میں روایت ہے کہ ان کی آٹھ بیویاں تھیں ۔ وہ اسلام لائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر ان کو حکم دیاکہ چار بیویاں رکھ لیں اور باقی کو چھوڑ دیں ۔ ملاحظہ ہو : ابو داؤد، رقم ۲۲۴۱۔

۱۶؂ چنانچہ اسی پابندی کے باعث سیدہ ماریہ کے ساتھ آپ نکاح نہیں کر سکے اور وہ ملک یمین ہی کے طریقے پر آپ کے گھر میں رہیں ۔

۱۷؂ یعنی ایسی اولاد پیدا کرو جو دنیا اور آخرت ، دونوں میں تمھارے لیے سرمایہ بنے ۔ اس ہدایت کی ضرورت اس لیے ہوئی کہ لوگ بچوں کی پیدایش کے معاملے میں اپنے اقدام کی ذمہ داری سمجھیں اور جو کچھ کریں ، اس ذمہ داری کو پوری طرح سمجھ کر کریں ۔

۱۸؂ بخاری ، رقم ۲۹۶۔

۱۹؂ بخاری ، رقم ۲۹۷۔

۲۰؂ بخاری ، رقم ۳۰۲۔

۲۱؂ مسلم ، رقم ۳۰۰۔