قتال اور دین کے معاملے میں جبر و اکراہ


[''نقطۂ نظر''کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

(۸) (گذشتہ سے پیوستہ )

قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پیغمبر کی قوم کو مختلف جسمانی اور معاشی تکالیف میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ متنبہ ہو کر اللہ کی طرف رجوع کریں، لیکن جب وہ کوئی سبق نہیں سیکھتے تو ان پر مال ودولت اور سامان عیش کی فراوانی کر دی جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر اچانک خدا کا عذاب ان پر آن پڑتا ہے:

وَلَقَدْ أَرْسَلنَا إِلَی أُمَمٍ مِّن قَبْلِکَ فَأَخَذْنَاہُمْ بِالْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء لَعَلَّہُمْ یَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلا إِذْ جَاء ہُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَکِن قَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَزَیَّنَ لَہُمُ الشَّیْْطَانُ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُکِّرُواْ بِہِ فَتَحْنَا عَلَیْْہِمْ أَبْوَابَ کُلِّ شَیْْءٍ حَتَّی إِذَا فَرِحُواْ بِمَا أُوتُواْ أَخَذْنَاہُم بَغْتَۃً فَإِذَا ہُم مُّبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ.(الانعام ۶:۴۲ -۴۵)

''اور یقیناً ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے تو انھیں جسمانی اور مالی تکلیفوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔ تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تو وہ عاجزی کرتے۔ مگر ان کے دل سخت ہو گئے اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے سامنے خوب صورت بنا دیا۔ پھر جب انھوں نے یاد دہانی کی ان باتوں کو فراموش کر دیا جو انھیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے۔ یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں پر جو ان کو دی گئیں، خوش ہو گئے تو ہم نے اچانک ان کو آپکڑا اور پھر ناگہاں وہ مایوس ہو کر رہ گئے۔ پھر ان لوگوں کی جنھوں نے ظلم کیا، جڑکاٹ دی گئی اور تعریف کا سزاوار اللہ،جہانوں کا پروردگار ہی ہے۔''

قرآن کی رو سے عذاب الٰہی کے یہ واقعات عبرت کی غرض سے رونما کیے جاتے ہیں تاکہ دنیا کے باقی لوگ ان سے سبق سیکھیں اور الٰہی ہدایت کے انکار اور اس کو جھٹلانے سے باز رہیں، چنانچہ ان قوموں پر دنیا میں آنے والے عذاب کو وہ آخرت کے عذاب کی ایک نشانی اور یاد دہانی قرار دیتا ہے جس سے واضح ہے کہ دنیا کے عذاب کا باعث اور علت بھی وہی ہے جس کی بنیاد پر آخرت میں اہل کفر عذاب الٰہی کے سزاوار قرار پائیں گے:

وَکَذَلِکَ أَخْذُ رَبِّکَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَی وَہِیَ ظَالِمَۃٌ إِنَّ أَخْذَہُ أَلِیْمٌ شَدِیْدٌ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لآیَۃً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الآخِرَۃِ ذَلِکَ یَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّہُ النَّاسُ وَذَلِکَ یَوْمٌ مَّشْہُودٌ.(ہود ۱۱:۱۰۲، ۱۰۳)

''اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں کو اس وقت پکڑتا ہے جب وہ ظلم کرتی ہیں۔ بے شک اس کی گرفت بہت دردناک اور سخت ہے۔ اس میں نشانی ہے ان کے لیے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب میں سب لوگوں کو جمع کیا جائے گااور یہ وہ دن ہے جب سب (خدا کے سامنے) حاضر ہوں گے۔''

منکرین حق کے مواخذہ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کی مذکورہ تفصیلات پیش نظر رہیں تو وہ الجھن بالکل رفع ہو جاتی ہے جس کا سامنا زیر بحث زاویہ نگاہ کو ہے، یعنی یہ کہ جب دین کے معاملے میں جبر واکراہ درست نہیں تو پھر کفار کے خلاف قتال کا باعث ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لانے کو کیونکر قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم نے قرآن مجید میں ان آیات کے سیاق وسباق کی روشنی میں واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں اپنے لیے مقرر کردہ کسی قانون یا اپنے اوپر عائد کردہ کسی پابندی کا ذکر نہیں کیا جس سے یہ اخذ کیا جا سکے کہ وہ رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد ایمان نہ لانے والوں کو بھی اس دنیا میں کسی سزا کا مستوجب نہیں ٹھہرائے گا، بلکہ محض اس معیار کو بیان کیا ہے جو اس کے نزدیک تکوینی سطح پر ہدایت اور ایمان کی توفیق بخشنے کے لیے شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں اہل حق کی ذمہ داری کو 'بلاغ مبین' تک محدود قرار دینے کی جو بات بیان ہوئی ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ازخود اپنے اجتہاد سے کسی فرد یا گروہ کو سزا کا مستحق قرار دے کر اس کے خلاف کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔ کسی فرد یا قوم پر حجت کے تمام ہو جانے اور پھر اس کے بعد اس کو عذاب کا مستحق قرار دینے کا معاملہ سرتا سر خدا کے علم اور اس کے ارادے پر منحصر ہے اور کسی انسان، حتیٰ کہ کسی قوم کی طرف مبعوث کیے جانے والے پیغمبر کو بھی اس کا اختیار حاصل نہیں۔ پیغمبر سمیت ہر داعی حق کی ذمہ داری بس یہ ہے کہ وہ حق کا پیغام بے کم وکاست لوگوں تک پہنچا دے، الا یہ کہ خود اللہ تعالیٰ پیغمبر یا اس کے ساتھیوں کو کسی فرد یا گروہ کے خلاف اقدام کرنے کا حکم یا اجازت دے دیں۔ عذاب کے سزاوار قرار پانے والے گروہوں کی تحدید وتعیین سے لے کر ان کو دی جانے والی مہلت کے خاتمے اور ان پر سزا کے نفاذ تک کے تمام فیصلے براہ راست بارگاہ الٰہی سے صادر ہوتے ہیں جبکہ اہل ایمان اس حکم پر محض فرمان الٰہی کی تعمیل میں عمل پیرا ہوتے اور اللہ کے فیصلے کو اسی کے حکم سے اسی فرد یا گروہ پر نافذ کرنے کے پابند ہوتے ہیں جس پر نافذ کرنے کا انھیں اختیار دیا گیا ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ ایک خدائی فیصلہ ہوتا ہے جس کی تنفیذ کے لیے انسانی ہاتھ وہی کردار ادا کرتے ہیں جو تدبیر امور کے وسیع تر دائرے میں خدا کے فرشتے خدا کے فیصلوں کی تنفیذ کے لیے ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے 'لیس لک من الامر شئ او یتوب علیہم او یعذبہم' (آل عمران ۳:۱۲۸) اور 'انما علیک البلغ وعلینا الحساب' (الرعد ۱۳:۴۰) کے الفاظ میں اصولی طور پر بھی اس بات کو واضح فرمایا ہے اور منکرین حق کے خلاف قتال کے احکام کے ضمن میں بھی جگہ جگہ اس کی وضاحت کی ہے کہ یہ جنگ دراصل خدا کا عذاب ہے جسے ان پر نازل کرنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے سپرد کی ہے۔ یہ تصریحات حسب ذیل ہیں:

مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک دعوت وتبلیغ کے بعد بھی قریش من حیث القوم آپ پر ایمان نہ لائے تو اتمام حجت کے بعد ان پر عذاب نازل کرنے کا فیصلہ فرما دیا گیا۔ تاہم بہت سی حکمتوں اور مصلحتوں کے تحت ان کو کلیتاً نابود کر دینے کے بجائے ایک تدریج کے ساتھ ان کے ضدی اور معاند عناصر کا صفایا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ اس ضمن میں مکی دور میں ہی مشرکین کو عذاب الٰہی کی ممکنہ صورتوں میں سے ایک صورت یہ بتا دی گئی کہ اہل حق کی قوت بازو منکرین کو ان کے کفر کا مزہ چکھا دے:

قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلَی أَن یَبْعَثَ عَلَیْْکُمْ عَذَاباً مِّن فَوْقِکُمْ أَوْ مِن تَحْتِ أَرْجُلِکُمْ أَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَیُذِیْقَ بَعْضَکُم بَأْسَ بَعْضٍ انظُرْ کَیْْفَ نُصَرِّفُ الآیَاتِ لَعَلَّہُمْ یَفْقَہُونَ ۔ وَکَذَّبَ بِہِ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ قُل لَّسْتُ عَلَیْْکُم بِوَکِیْلٍ ۔ لِّکُلِّ نَبَإٍ مُّسْتَقَرٌّ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ.(الانعام ۶:۶۵۔۶۷)

''کہہ دو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ چاہے تو تم پر تمہارے اوپر سے یا نیچے سے تم پر کوئی عذاب مسلط کر دے یا تمہارے مختلف گروہ بنا کر تمھیں آپس میں بھڑا دے اور ایک دوسرے کی پکڑ کا مزہ چکھا دے۔ دیکھو ہم کس کس انداز سے نشانیوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ یہ سمجھ جائیں۔ اور تیری قوم نے اس عذاب کو جھٹلا دیا حالانکہ اس کا آنا لازم ہے۔ تم کہہ دو کہ میں اس کو منوانے کے لیے تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔ ہر عذاب کے آنے کا وقت بالکل مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے۔''

یہ عذاب ان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کے بعد مسلمانوں کے ہاتھوں قتل کی صورت میں نازل ہونا شروع ہوا۔ ہجرت مدینہ کے بعد اہل کفر کے خلاف لڑائی کے باقاعدہ آغاز سے پہلے سورۂ محمد میں مسلمانوں سے کہا گیا کہ جب میدان جنگ میں ان کا دشمن سے آمنا سامنا ہو تو وہ اچھی طرح ان کی گردنیں ماریں اور پھر خوب خون ریزی کے بعد ان کو باندھ کر قیدی بنا لیں۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کا انتقام ہوگا جو وہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے کفار سے لے گا:

فَإِذا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّی إِذَا أَثْخَنتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنّاً بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاء حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَہَا ذَلِکَ وَلَوْ یَشَاءُ اللَّہُ لَانتَصَرَ مِنْہُمْ وَلَکِن لِّیَبْلُوَ بَعْضَکُم بِبَعْضٍ وَالَّذِیْنَ قُتِلُوا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ فَلَن یُضِلَّ أَعْمَالَہُمْ.(محمد ۴۷:۴)

''پھر جب کفار کے ساتھ تمھاری مڈبھیڑ ہو تو خوب ان کی گردنیں مارو۔ یہاں تک کہ جب اچھی طرح ان کی خون ریز ی کر چکو تو انھیں مضبوط باندھ لو۔ پھر اس کے بعد یا تو احسان کر کے چھوڑ دینا ہے یا فدیہ لے کر رہا کر دینا۔ (ان کے ساتھ لڑائی جاری رکھو) یہاں تک کہ جنگ اپنے ہتھیار ڈال دے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے انتقام لے لیتا، لیکن (اس نے تمھیں اس کا حکم دیا ہے) تاکہ وہ تم میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائے۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں گے، اللہ ان کے اعمال کو ہرگز اکارت نہیں جانے دے گا۔''

مشرکین قریش پر یہ عذاب بالفعل غزوۂ بدر میں نازل ہوا۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ عذاب کے اس فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے تکوینی لحاظ سے مداخلت کرتے ہوئے ان تمام اسباب کو ختم کر دیا جو اس معرکے کے بپا ہونے میں رکاوٹ بن سکتے تھے۔ مثال کے طور پر ایسے حالات پیدا کر دیے گئے کہ بعض اہل ایمان کی خواہش کے برعکس، شام سے لوٹنے والے قریش کے تجارتی قافلے کے بجائے مکے سے آنے والے لشکر کے ساتھ مسلمانوں کا ٹکراؤ ناگزیر ہو گیا:

وَإِذْ یَعِدُکُمُ اللّہُ إِحْدَی الطَّاءِفَتِیْْنِ أَنَّہَا لَکُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَیْْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُونُ لَکُمْ وَیُرِیْدُ اللّہُ أَن یُحِقَّ الحَقَّ بِکَلِمَاتِہِ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکَافِرِیْنَ ۔ لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْ کَرِہَ الْمُجْرِمُونَ.(الانفال ۸:۷، ۸)

''اور جب اللہ تم سے وعدہ کر رہا ہے کہ دونوں گروہوں میں سے ایک سے تمھارا واسطہ پڑے گا، اور تم یہ پسند کرتے تھے کہ کیل کانٹے کے بغیر آنے والا قافلہ تمھیں ملے، لیکن اللہ کا ارادہ یہ تھا کہ وہ اپنے کلمات کے ذریعے سے حق کو سربلند کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

إِذْ أَنتُم بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَہُم بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوَی وَالرَّکْبُ أَسْفَلَ مِنکُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتَّمْ لاَخْتَلَفْتُمْ فِیْ الْمِیْعَادِ وَلَکِن لِّیَقْضِیَ اللّہُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً.

(الانفال ۸:۴۲)

''اور اگر تم باہم طے کر کے لڑائی کے لیے نکلتے تو مقررہ وقت یا جگہ پر اکٹھے نہ پہنچتے ، لیکن اللہ نے یہ اس لیے کیا کہ ایک طے شدہ فیصلے کو نافذ کر دے۔''

اسی طرح دونوں گروہوں کو میدان جنگ میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لیے دونوں کی تعداد کو بھی ایک دوسرے کی نگاہ میں کم کر کے دکھایا گیا:

إِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلاً وَلَوْ أَرَاکَہُمْ کَثِیْراً لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَلَکِنَّ اللّہَ سَلَّمَ إِنَّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ۔ وَإِذْ یُرِیْکُمُوہُمْ إِذِ الْتَقَیْْتُمْ فِیْ أَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَیُقَلِّلُکُمْ فِیْ أَعْیُنِہِمْلِیَقْضِیَ اللّہُ أَمْراً کَانَ مَفْعُولاً وَإِلَی اللّہِ تُرْجَعُ الأمُورُ.(الانفال ۸:۴۳، ۴۴)

''جب اللہ نے خواب میں تمھیں ان کی تعداد تھوڑی دکھائی۔ اگر وہ تمھیں ان کی تعداد زیادہ دکھاتا تو تمھاری ہمت پست ہو جاتی اور تم اس معاملے میں باہم نزاع کرنے لگ جاتے، لیکن اللہ نے (تمھیں اس آزمائش سے) بچا لیا۔ بے شک وہ دلوں کیفیت کو خوب جانتا ہے۔ اور وہ وقت بھی یاد کرو کہ تمہارا آمنا سامنا ہوا تو اللہ انھیں تمہاری نگاہوں میں تھوڑا کر کے اور ان کی نظروں میں تمھاری تعداد کو کم کر کے دکھا رہا تھا تاکہ اللہ اس فیصلے کو رو بہ عمل کر دے جس کو بہرحال ہونا ہی تھا۔''

بدر کے معرکے میں قریش کے بڑے بڑے سردار مسلمانوں کے ہاتھوں تہ تیغ ہوئے۔ اگرچہ عام انسانی اخلاقیات کے لحاظ سے بھی مسلمانوں کے پاس اس جنگ کا پورا پورا جواز موجود تھا، لیکن قرآن مجید نہایت اصرار کے ساتھ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ یہ درحقیقت اللہ کا عذاب تھا جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے نتیجے میں اہل ایمان کے ہاتھوں قریش پر نازل کیا گیا:

ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ شَآقُّواْ اللّہَ وَرَسُولَہُ وَمَن یُشَاقِقِ اللّہَ وَرَسُولَہُ فَإِنَّ اللّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ ذَلِکُمْ فَذُوقُوہُ وَأَنَّ لِلْکَافِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ.(الانفال ۸:۱۳، ۱۴)

''اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کی راہ اختیار کی اور جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دشمنی کرے گا تو بے شک اللہ نہایت سخت سزا دینے والا ہے، سو اب اس عذاب کو چکھو۔ اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بے شک منکروں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔''

قرآن نے اسی پہلو سے غزوۂ بدر میں مشرکین کی ذلت اور رسوائی کو فرعون اور دوسرے منکرین حق پر نازل ہونے والے عذاب کے مثل قرار دیا ہے:

کَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِمْ کَفَرُواْ بِآیَاتِ اللّہِ فَأَخَذَہُمُ اللّہُ بِذُنُوبِہِمْ إِنَّ اللّہَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ. (الانفال ۸:۵۲)

''ان کا حال بھی وہی ہے جو آل فرعون اور ان سے پہلی قوموں کا تھا۔ انھوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تو اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر گرفت کی، اور اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔''

اس واقعے کے بعد اس حوالے سے قریش کو بالواسطہ مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

وَإِذْ قَالُواْ اللَّہُمَّ إِن کَانَ ہَذَا ہُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِکَ فَأَمْطِرْ عَلَیْْنَا حِجَارَۃً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ اءْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ ۔ وَمَا کَانَ اللّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ وَمَا کَانَ اللّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُونَ ۔ وَمَا لَہُمْ أَلاَّ یُعَذِّبَہُمُ اللّہُ وَہُمْ یَصُدُّونَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَمَا کَانُواْ أَوْلِیَاء ہُ إِنْ أَوْلِیَآؤُہُ إِلاَّ الْمُتَّقُونَ وَلَکِنَّ أَکْثَرَہُمْ لاَ یَعْلَمُونَ.(الانفال ۸:۳۲۔۳۴)

''اور یاد کرو جب انھوں نے کہا کہ اے اللہ، اگر یہی دین تیری طرف سے برحق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا کوئی اور دردناک عذاب ہم پر مسلط کر دے۔ (اس سے پہلے تو) اللہ ان پر عذاب نازل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ تم ان کے مابین موجود تھے اور نہ اللہ انھیں اس حال ہی میں سزا دے سکتا تھا کہ وہ گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں۔ (لیکن اب ہجرت کے بعد) اس میں کیا رکاوٹ تھی کہ اللہ ان پر عذاب نازل کرتا، جبکہ وہ مسجد حرام سے بھی روکتے ہیں حالانکہ وہ اس کی تولیت کے حقدار بھی نہیں۔ اس کے حقیقی متولی تو صرف پرہیز گار ہیں، لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے۔''

قرآن مجید نے غزوۂ بدر کے تناظر میں یہ بات بھی واضح فرمائی ہے کہ چونکہ اس بات کا علم اللہ ہی کو ہے کہ منکرین میں سے کن کی صلاحیت ایمان بالکل سلب ہو چکی ہے اور کن کے حق میں ابھی ایمان لانے کا امکان موجود ہے، اس لیے قریش کے لشکر میں سے کچھ لوگ تو تہ تیغ کر دیے گئے لیکن باقی کو بچ کر واپس جانے کا موقع دیا گیا ہے:

لِیَقْطَعَ طَرَفاً مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوا أَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنقَلِبُواْ خَآءِبِیْنَ ۔ لَیْْسَ لَکَ مِنَ الأَمْرِ شَیْْءٌ أَوْ یَتُوبَ عَلَیْْہِمْ أَوْ یُعَذَّبَہُمْ فَإِنَّہُمْ ظَالِمُونَ.(آل عمران ۳:۱۲۸

''تاکہ اللہ کافروں کی جماعت کے ایک حصے کو کاٹ ڈالے یا ان کو بری طرح رسوا کر دے تاکہ وہ نامراد واپس پلٹ جائیں۔ (اے پیغمبر) اس معاملے میں تمھارے پاس کوئی اختیار نہیں۔ اللہ خود ہی یا ان پر نظر عنایت کرے گا اور یا انھیں عذاب دے گا، کیونکہ یہ ظالم ہیں۔

''

جہاد وقتال کے آخری مرحلے میں جب سورۂ توبہ میں مشرکین کو ایمان نہ لانے پر قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو اس موقع پر بھی اس اقدام کی یہ حیثیت واضح کی گئی۔ ارشاد ہوا ہے:

فَإِن تُبْتُمْ فَہُوَ خَیْْرٌ لَّکُمْ وَإِن تَوَلَّیْْتُمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّکُمْ غَیْْرُ مُعْجِزِیْ اللّہِ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ.(التوبہ ۹:۳)

''پھر اگر تم ایمان لے آؤ تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے، اور اگر اس سے گریز کرو گے تو جان لو کہ اللہ کی گرفت سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتے اور ان کافروں

کے ایک دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دو۔''

فرمایا:

قَاتِلُوہُمْ یُعَذِّبْہُمُ اللّہُ بِأَیْْدِیْکُمْ وَیُخْزِہِمْ وَیَنصُرْکُمْ عَلَیْْہِمْ وَیَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَیُذْہِبْ غَیْْظَ قُلُوبِہِمْ وَیَتُوبُ اللّہُ عَلَی مَن یَشَاءُ وَاللّہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(التوبہ ۹:۱۴، ۱۵)

''ان سے لڑو تاکہ اللہ تمھارے ہاتھوں انھیں عذاب دے اور انھیں رسوا کرے اور ان کے خلاف تمھیں فتح عطا فرمائے اور مومنوں کے دلوں کو تسکین بخشے اور ان (کافروں) کے دلوں کے غیظ کو بھی دور کر دے۔ ہاں اللہ جس پرچاہے گا، عنایت فرمائے گا اور اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔''

اکابر مفسرین نے بھی مشرکین عرب کے ساتھ کیے جانے والے جہاد وقتال کی تفسیر اسی مخصوص تناظر میں کی ہے۔ ابن زید فرماتے ہیں:

(فمہل الکافرین امہلہم رویدا) قال مہلہم فلا تعجل علیہم ترکہم حتی لما اراد الانتصار منہم امرہ بجہادہم وقتالہم والغلظۃ علیہم. (تفسیر الطبری، ۳۰/۱۵۰)

'''فمہل الکافرین امہلہم رویدا' کا مطلب یہ ہے کہ ان کو مہلت دو اور ان کے خلاف جلدی نہ کرو۔ اللہ نے ان کو چھوڑے رکھا، یہاں تک کہ جب ان سے انتقام لینا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے ساتھ جہاد کرنے اور سخت رویہ اپنانے کا حکم دیا۔''

امام رازی لکھتے ہیں:

فان قیل لما کان حضورہ فیہم مانعا من نزول العذاب علیہم فکیف قال قاتلوہم یعذبہم اللہ بایدیکم قلنا المراد من الاول عذاب الاستیصال ومن الثانی العذاب الحاصل بالمحاربۃ والمقاتلۃ. (مفاتیح الغیب، ۱۵/۱۵۸)

''اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قوم کے اندر موجود ہونا ان پر عذاب کے نازل ہونے میں رکاوٹ تھا تو پھر یہ کیوں کہا گیا کہ تم ان سے لڑو تاکہ اللہ تمھارے ہاتھوں سے ان پر عذاب نازل کرے؟ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ جس عذاب کی نفی کی گئی ہے، وہ قریش کو بالکلیہ نابود کر دینے کا عذاب ہے، جبکہ جس عذاب کا حکم دیا گیا ہے،اس سے مراد جنگ اور قتال کے ذریعے سے حاصل ہونے والا عذاب ہے۔''

انہ تعالی لما بین ما انزلہ باہل بدر من الکفار عاجلا وآجلا کما شرحناہ اتبعہ بان بین ان ہذہ طریقتہ وسنتہ فی الکل فقال کداب آل فرعون والمعنی عادۃ ہولاء فی کفرہم کعادۃ آل فرعون فی کفرہم فجوزی ہولاء بالقتل والسبی کما جوزی اولئک بالاغراق.(۱۵/۱۸۰)

''اللہ تعالیٰ جب اس عذاب کی وضاحت کر چکے جو انھوں نے اہل بدر پر فی الفور یا بالمآل نازل کیا تو اس کے بعد اب فرمایا کہ (حق کے منکر) ہر گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ 'کداب آل فرعون' جس کا معنی یہ ہے کہ انھوں نے بھی کفر میں وہی طریقہ اختیار کیا جو آل فرعون نے کیا تھا، اس لیے جیسے ان کو غرق کر دینے کی سزا دی گئی تھی، ان کو بھی قتل اور قید کی صورت میں سزا دی گئی ہے۔''

مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:

''قرآن کریم میں اقوام ماضیہ کے جو قصے بیان فرمائے ہیں، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب کوئی قوم کفر وشرارت اور انبیاء علیہم السلام کی تکذیب وعداوت میں حد سے بڑھ جاتی تھی تو قدرت کی طرف سے کوئی تباہ کن آسمانی عذاب ان پر نازل کیا جاتا تھا جس سے ان کے سارے مظالم اور کفریات کا دفعۃً خاتمہ ہو جاتا تھا۔ 'فکلا اخذنا بذنبہ فمنہم من ارسلنا علیہ حاصبا ومنہم من اخذتہ الصیحۃ ومنہم من خسفنا بہ الارض ومنہم من اغرقنا وما کان اللّٰہ لیظلمہم ولکن کانوا انفسہم یظلمون' (عنکبوت رکوع ۴) کوئی شبہ نہیں کہ عذاب کی یہ اقسام بہت سخت مہلک اور آیندہ نسلوں کے لیے عبرت ناک تھیں لیکن ان صورتوں میں معذبین کو دنیا میں رہ کر اپنی ذلت ورسوائی کا نظارہ نہیں کرنا پڑتا تھا اور نہ آیندہ کے لیے توبہ ورجوع کا کوئی امکان باقی رہتا تھا۔ مشروعیت جہاد کی اصلی غرض وغایت یہ ہے کہ مکذبین و متعنتین کو حق تعالیٰ بجائے بلاواسطہ عذاب دینے کے اپنے مخلص وفادار بندوں کے ہاتھ سے سزا دلوائے۔ سزا دہی کی اس صورت میں مجرمین کی رسوائی اور مخلصین کی قدر افزائی زیادہ ہے۔ وفادار بندوں کا نصرت وغلبہ علانیہ ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے دل یہ دیکھ کر ٹھنڈے ہوتے ہیں کہ جو لوگ کل تک انہیں حقیر وناتواں سمجھ کر ظلم وستم اور استہزا وتمسخر کا تختہ مشق بنائے ہوئے تھے، آج خدا کی تائید و رحمت سے انہی کے رحم وکرم یا عدل وانصاف پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ کفر وباطل کی شوکت ونمائش کو دیکھ کر جو اہل حق گھٹتے رہتے تھے یا جو ضعیف ومظلوم مسلمان کفا ر کے مظالم کا انتقام نہ لے سکنے کی وجہ سے دل ہی دل میں غیظ کھا کر چپ ہو رہتے تھے، جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے ان کے قلوب تسکین پاتے تھے اور آخری بات یہ ہے کہ خود مجرمین کے حق میں بھی سزا دہی کا یہ طریقہ نسبۃً زیادہ نافع ہے کیونکہ سزا پانے کے بعد بھی رجوع وتوبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ حالات سے عبرت حاصل کر کے بہت سے مجرموں کو توبہ نصیب ہو جائے، چنانچہ حضور پرنور صلعم کے زمانہ میں ایسا ہی ہوا کہ تھوڑے دنوں میں سارا عرب صدق دل سے دین الٰہی کا حلقہ بگوش ہو گیا۔'' (تفسیر عثمانی، ص ۲۵۰، ۲۵۱)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

''نزول توراۃ کے بعد دنیا میں ایسے غارت کے عذاب کم آئے۔ بجائے اہلاک سماوی کے جہاد کا طریقہ مشروع کر دیا گیا، کیونکہ کچھ لوگ احکام شریعت پر قائم رہا کیے۔'' (تفسیر عثمانی، ص ۵۱۹)

مولانا وحید الدین خان لکھتے ہیں:

''درحقیقت یہ اشاعت اسلام کی جدوجہد نہیں بلکہ منکرین رسالت کے اوپر اس خدائی فیصلہ کا ظہور تھا جس کو قرآن میں امر اللہ، حکم اللہ ، وعد اللہ وغیرہ الفاظ میں بیان کیا گیا ہے اور جو ''احقاق حق'' اور ''ابطال باطل'' کے لیے ہوتا ہے۔ یہ اپنی اصل نوعیت کے اعتبار سے اسلام کے اصولوں کو منوانے کی کوشش نہیں تھی، بلکہ حقیقۃً اسلام کے اصولوں کو نہ ماننے کی سزا تھی جو زمین وآسمان کے مالک کی طرف سے ایک مخصوص شکل میں ان کے اوپر نافذ کی گئی تھی۔ یہ سزا ہر اس انسان کو لازماً ملنے والی ہے جو خدا کی ہدایت کو ماننے سے انکار کر دے۔ فرق صرف یہ ہے عام انسانوں کو قیامت میں ملے گی اور رسول کے براہ راست مخاطبین کو دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی۔ 'ولنذیقنہم من العذاب الادنی دون العذاب الاکبر'(سجدہ ۲۱) یہ صحیح ہے کہ اس فیصلہ الٰہی کے نفاذ سے من جملہ اور فائدوں کے، اسلام کو تبلیغی اور توسیعی فائدے بھی حاصل ہوئے، مگر یہ اس کے دیگر نتائج تھے، جس طرح ہر واقعہ کے بہت سے دیگر نتائج واثرات ہوتے ہیں۔ جہاں تک حکم کی اصولی نوعیت کا تعلق ہے، وہ وہی تھی جو اوپر مذکور ہوئی۔'' (تعبیر کی غلطی، ص ۱۱۵، ۱۱۶)

قرآن مجید نے اسی پہلو سے انسانی دائرۂ اختیار کی تحدید عہد رسالت کے منافقین کے حوالے سے بھی واضح کی ہے۔ منافقین بھی منکرین حق کا ایک گروہ تھا جو بظاہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے گروہ میں شامل ہو کردرحقیقت ان کے خلاف سازشوں اور ریشہ دوانیوں میں مصروف تھا۔ بظاہر ایمان لے آنے کی وجہ سے انھیں دوسرے گروہوں کے مقابلے میں زیادہ مہلت دی گئی، تاہم اصولی طور پر وہ بھی خدا کے عذاب کے مستحق تھے اور قرآن مجید میں بار بار یہ دھمکی دی گئی کہ اگر وہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو خدا کے قانون کے مطابق وہ بھی اہل ایمان کے ہاتھوں خدا کے عذاب کی گرفت میں آ جائیں گے:

لَءِن لَّمْ یَنتَہِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوبِہِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُونَکَ فِیْہَا إِلَّا قَلِیْلاً ۔ مَلْعُونِیْنَ أَیْْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِیْلاً. سُنَّۃَ اللَّہِ فِیْ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِن قَبْلُ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّۃِ اللَّہِ تَبْدِیْلاً.(الاحزاب ۳۳:۶۲)

لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں سزا دینے کی کوئی صریح اجازت نازل نہیں ہوئی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت تک بطور ایک گروہ کے متحرک ہونے کے باوجود ان کے خلاف کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ اہل ایمان قرآن کے الفاظ میں 'وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِکُمْ أَن یُصِیْبَکُمُ اللّہُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِندِہِ أَوْ بِأَیْْدِیْنَا' (توبہ ۹:۵۲) کی کیفیت میں اس کے منتظر رہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کب اس کی اجازت ملتی ہے۔ چنانچہ آپ کی وفات کے موقع پر سیدنا عمر کو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں اسی لیے تردد پیش آیا تھا کہ منافقین کے اس گروہ پر عملاً یہ سزا ابھی تک نافذنہیں ہوئی تھی اور چونکہ اس کا فیصلہ وحی ہی کی بنیاد پر کیا جا سکتا تھا، اس لیے ان کے خیال میں منافقین کو ان کے انجام سے دوچار کیے بغیر نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے تشریف نہیں لے جا سکتے تھے۔

انھوں نے اس موقع پر کہا:

واللّٰہ ما مات رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولا یموت حتی یقطع ایدی اناس من المنافقین کثیر وارجلہم.(دارمی، رقم ۱۶۱۶)

''بخدا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا اور جب تک آپ منافقین میں سے بہت کے ہاتھ پاؤں نہ کاٹ لیں، آپ کا انتقال نہیں ہو سکتا۔''

اس موقع پر سیدنا عمر اور عمومی طور پر صحابہ کی جماعت کو یہی اشکال اپنی اس ذمہ داری کے حوالے سے بھی پیش آیا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کر کے جزیرۂ عرب سے باہر کی اقوام پر اتمام حجت کرنے کے ضمن میں ان پر عائد کی تھی۔ طبری کی روایت ہے:

لما بویع ابوبکر فی السقیفۃ وکان الغد جلس ابوبکر علی المنبر فقام عمر فتکلم قبل ابی بکر فحمد اللّٰہ واثنی علیہ بما ہو اہلہ ثم قال ایہا الناس انی قد کنت قلت لکم بالامس مقالۃ ما کانت الا عن رایی وما وجدتہا فی کتاب اللّٰہ ولا کانت عہدا عہدہ الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولکنی قد کنت اری ان رسول اللّٰہ سیدبر امرنا حتی یکون آخرنا.(الکامل فی التاریخ ۳/۲۱۰) ''جب سقیفہ بنی ساعدہ میں ابوبکر کی بیعت کر لی گئی اور اگلا دن ہوا تو ابوبکر آکر منبر پر بیٹھ گئے۔ ابوبکر کے بات کرنے سے پہلے عمر اٹھے اور انہوں نے گفتگو کی۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرنے کے بعد انہوں نے کہا: اے لوگو، کل میں نے تم سے ایک بات کہی تھی جو سراسر میری اپنی رائے تھی۔ نہ میں نے اس کو کتاب اللہ میں پایا اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایسا کوئی وعدہ کیا تھا۔ بس میرا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے امور کی دیکھ بھال کرتے رہیں گے اور ہم سب کے دنیا سے جانے کے بعد ہی آپ کا انتقال ہوگا۔''

ابن حبان کی روایت ہے:

اما بعد فانی قد قلت لکم امس مقالۃ لم تکن کما قلت وانی واللّٰہ ما وجدتہا فی کتاب انزلہ اللّٰہ ولا فی عہد عہدہ الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولکنی کنت ارجو ان یعیش رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی یدبرنا یقول حتی یکون آخرنا فاختار اللّٰہ جل وعلا لرسولہ الذی عندہ علی الذی عندکم.(ابن حبان، رقم ۶۶۲۰۔ مصنف عبد الرزاق، رقم ۹۷۵۶) ''اما بعد! میں نے کل تم سے ایک بات کہی تھی جو حقیقت میں اس طرح نہیں تھی جیسے میں نے کہی۔ بخدا میں نے وہ نہ تو اللہ کی اتاری ہوئی کتاب میں پائی اور نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی ارشاد میں جو آپ نے مجھ سے فرمایا ہو۔ البتہ مجھے یہ توقع تھی کہ نبی صلی للہ علیہ وسلم ہمارے معاملات کی تدبیر کے لیے زندہ رہیں گے، یعنی ہم سب کے بعد دنیا سے رخصت ہوں گے، لیکن اللہ نے اپنے رسول کے لیے تمھارے قرب کے بجائے اپنے قرب کو پسند کیا۔''

بعد میں ایک موقع پر انھوں نے عبد اللہ بن عباس کے سامنے قرآن مجید میں اپنے اس استنباط کا ماخذ بھی بیان کیا۔ ابن عباس بیان کرتے ہیں:

واللّٰہ انی لامشی مع عمر فی خلافتہ وہو عامد الی حاجۃ لہ وفی یدہ الدرۃ وما معہ غیری قال وہو یحدث نفسہ ویضرب وحشی قدمہ بدرتہ قال اذ التفت الی فقال یابن عباس ہل تدری ما حملنی علی مقالتی ہذہ التی قلت حین توفی اللّٰہ رسولہ؟ قال قلت لا ادری یا امیر المومنین انت اعلم قال واللّٰہ ان حملنی علی ذلک الا انی کنت اقرا ہذہ الآیۃ (وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا) فو اللّٰہ انی کنت لاظن ان رسول اللّٰہ سیبقی فی امتہ حتی یشہد علیہا بآخر اعمالہا فانہ للذی حملنی علی ان قلت ما قلت.(الکامل فی التاریخ، ۳/۲۱۱)

''بخدا، ایک دن میں سیدنا عمر کی خلافت کے زمانے میں ان کے ساتھ چل رہا تھا اور وہ اپنے کسی کام سے جا رہے تھے اور درہ انہوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور

میرے علاوہ ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ سے باتیں کیے جاتے تھے اور اپنا درہ اپنے دائیں پاؤں پر مارتے جاتے تھے۔ اچانک میری طرف پلٹے اور کہنے لگے، اے ابن عباس! کیا تمھیں پتہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر میں نے جو بات کہی، اس کا سبب کیا تھا؟ میں نے کہا، اے امیر المومنین، مجھے پتہ نہیں، آپ بہتر جانتے ہیں۔ انہوں نے کہا، بخدا! اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ میں قرآن مجید میں جب یہ آیت پڑھتا تھا کہ 'وکذلک جعلناکم امۃ وسطا لتکونوا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیدا' تو اس کا مطلب میں یہ سمجھتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے مابین موجود رہیں گے اور اس بات کے گواہ بنیں گے کہ اس امت نے اپنی ذمہ داری کو پایہ تکمیل تک پہنچا دیا۔ بس یہی چیز تھی جس نے مجھے وہ بات کہنے پر آمادہ کیا جو میں نے اس موقع پر ہی۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر یہ رویہ نہ صرف سیدنا عمر کا تھا بلکہ صحابہ کا عمومی رد عمل بھی یہی تھا۔ ابوسلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں:

اقتحم الناس علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی بیت عائشۃ ینظرون الیہ فقالوا: کیف یموت وہو شہید علینا ونحن شہداء علی الناس فیموت ولم یظہر علی الناس؟ لا واللّٰہ ما مات ولکنہ رفع کما رفع عیسی بن مریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ولیرجعن وتوعدوا من قال انہ مات ونادوا فی حجرۃ عائشۃ وعلی الباب: لا تدفنوہ فان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یمت.(ابن سعد، الطبقات الکبری، ۲/۲۷۱)

''ام المومنین عائشہ کے حجرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ آپ کیسے انتقال کر سکتے ہیں جبکہ آپ ہم پر گواہ ہیں اور ہمیں لوگوں پر گواہ بنایا گیا ہے؟ تو کیا لوگوں پر غلبہ قائم ہونے سے پہلے ہی آپ وفات پا گئے؟ بخدا نہیں، آپ کا انتقال نہیں ہوا، بلکہ

آپ کو اسی طرح کچھ عرصے کے لیے اٹھایا گیا ہے جیسے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اٹھایا گیا، اور آپ لازماً واپس آئیں گے۔ اور انہوں نے ان لوگوں کو ڈانٹنا شروع کر دیا جو کہہ رہے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا ہے۔ انہوں نے ام المومنین کے حجرے میں اور دروازے پر یہ اعلان کیا کہ آپ کو دفنانا مت، کیونکہ آپ کا انتقال نہیں ہوا۔''

چونکہ 'شہادت علی الناس' کے منصب کی رو سے صحابہ کرام پر دنیا کی اقوام کے سامنے حق کی گواہی دینے اور ان پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے کی ذمہ داری عائد کی گئی تھی اور یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق ایک مخصوص جغرافیائی دائرے میں ایک محدود مدت کے اندر پایہ تکمیل کو پہنچنا تھا، اس لیے صحابہ کا خیال یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن قوموں کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر ان پر حجت تمام کر دی اور 'شہادت علی الناس' کی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے ان کے خلاف جنگ کا اقدام کرنے کی اجازت دے دی ہے، اسے خود اپنی زندگی میں اور اپنی نگرانی میں مکمل کرائیں گے، لیکن آپ کی وفات سے یہ بات ان پر واضح ہوئی کہ ان کا یہ استنباط درست نہیں تھا۔ اس سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کو بھی منکرین حق کے خلاف قتال کا حق انسانی دائرۂ میں اختیار میں نہیں، بلکہ خدا کے دیے ہوئے اذن کے تحت خدا ہی کے نامزد کردہ گروہوں کے خلاف دیا گیا تھا اور منکرین حق کے خلاف اقدام کے حوالے سے انسانی دائرۂ اختیار کی تحدید اور خدا کے اذن کی شرط صحابہ کرام پر پوری طرح واضح تھی۔

اوپر کی سطور میں ہم نے جو بحث کی ہے، اس سے فقہا اور مفسرین کے اس عام نقطہ نظر کی غلطی بھی واضح ہو جاتی ہے جس کی رو سے منکرین حق کے خلاف قتال کے احکام نازل ہونے کے بعد وہ تمام نصوص جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دینی ذمہ داری کو ابلاغ وتبلیغ تک محدود قرار دیا یا محارب وغیر محارب کفار کے مابین فرق کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، کالعدم اور منسوخ قرار پا گئی ہیں اور اب اہل ایمان کی دینی وشرعی ذمہ داری کی تعیین وتحدید میں ان کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی۔ ہم نے واضح کیا ہے کہ یہ ہدایات عام انسانی اخلاقیات کے دائرے میں اہل ایمان کی ذمہ داری اور اس کے حدود کا تعین کرتی ہیں اور اس دائرے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان اول وآخر اسی کے پابند تھے کہ دین کے معاملے میں کسی فرد یا گروہ تک حق کا پیغام پہنچا دینے کے بعد اس کے ساتھ جبر واکراہ کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کریں، نیز اہل ایمان کے دشمن گروہوں اور غیر جانب دار کفار کے مابین فرق کو ملحوظ رکھیں اور اگر کوئی گروہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے تو اس کے ساتھ بر وقسط ہی کا معاملہ کیا جائے، بلکہ اگر کوئی گروہ میدان جنگ میں آ جانے کے باوجود مسلمانوں کے خلاف قتال پر آمادہ نہیں بلکہ صلح کی طرف مائل ہے تو اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ عمومی انسانی اخلاقیات کے دائرے میں ان ہدایات میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا، بلکہ پوری طرح محکم اور قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں۔ صحابہ اور تابعین کے ہاں حکم کے اس تغیر کے لیے 'نسخ' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے جو لفظ کے لغوی اور ظاہری مفہوم کے لحاظ سے درست ہے، لیکن اس کو متاخرین کے اصطلاحی مفہوم یعنی ''حکم کے بالکلیہ ازالہ'' کے اعتبار سے نسخ نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ 'نسخ' کا معنی کسی حکم کو اپنی اصل اساس کے اعتبار سے کالعدم قرار دینے یا اس میں تخصیص وتحدید پیدا کر دینا ہے۔ اس اعتبار سے دین میں جبر واکراہ کی نفی کرنے اور کفارکے ساتھ مصالحانہ تعلقات کی اجازت دینے والے نصوص 'نسخ' کے دائرے میں آ ہی نہیں سکتے، اس لیے کہ وہ ایک اخلاقی اصول پر مبنی ہیں جن میں نسخ واقع نہیں ہو سکتا۔ یہ درحقیقت ایک مخصوص صورت حال میں ایک اخلاقی اصول پر دوسرے اخلاقی اصول کی ترجیح کا مسئلہ ہے جس سے پہلے اخلاقی اصول کے فی نفسہ کالعدم قرار پانے کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے مثال کے طور پر سیدنا خضر نے خدا کے حکم پر ایک بے گناہ بچے کو قتل کر دیا۔ جہاں تک عام انسانی اخلاقیات کا تعلق ہے، وہ اس کا فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں تھے اور سیدنا موسیٰ نے اسی بنا پر ان کے اس عمل پر اعتراض کیا تھا، لیکن خدا کی طرف سے اس لڑکے کو قتل کرنے کا حکم ملنے کے بعد ان کے لیے عام اخلاقی اصول کے بجائے خدا کے حکم کی پیروی کرنا لازم ہو گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے ایک عمومی اخلاقی اصول کے طور پر قتل نفس کی حرمت پر کوئی زد نہیں پڑی۔ یہ حرمت اپنی جگہ پہلے کی طرح برقرار رہی اور سیدنا خضر اس لڑکے کے علاوہ دوسرے انسانوں کے حوالے سے اسی کے پابند تھے۔ بالکل یہی معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد انکار حق پر قائم رہنے والے گروہوں کاتھا۔ عام انسانی اخلاقیات کی رو سے مسلمان ان میں سے صرف ان گروہوں کے خلاف جنگ کا اختیار رکھتے تھے جو فتنہ وفساد کے مرتکب ہوں۔ ان کے علاوہ باقی گروہوں کے خلاف انھیں کوئی اقدام کرنے کا حق حاصل نہیں تھا اور نہ صرف یہ کہ وہ اپنی مصلحت کے لحاظ سے ان میں سے جس گروہ کے ساتھ مصالحانہ تعلقات قائم کرنا چاہتے، کر سکتے تھے بلکہ ان میں سے جو گروہ ان کے ساتھ بر وقسط کا رویہ اپناتے، ان کے ساتھ بر وقسط ہی کا معاملہ کرنے کے پابند بھی تھے۔ تاہم جب اللہ تعالیٰ نے اپنے قانون کے تحت یہ فیصلہ فرمایا کہ پیغمبر کی طرف سے حجت تمام کر دیے جانے کے باوجود جن گروہوں نے کفر پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا ہے، وہ خدا کے عذاب کے مستحق ہیں جو خدا نے اہل ایمان کی تلواروں کے ذریعے سے ان پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو اب اہل ایمان خدا کے اس فیصلے کے تحت، نہ کہ عمومی اخلاقی اصولوں کے فی نفسہ منسوخ ہو جانے کی وجہ سے، اس کے پابند تھے کہ کفارکے ساتھ مصالحانہ تعلقات کوختم کر کے ان کے ساتھ جنگ کریں اور ان میں جس گروہ کے لیے خدا نے قتل یا محکومی کی صورت میں جو سزا مقرر کی ہے، وہ کسی رو رعایت کے بغیر اس پر نافذ کر دیں۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے ایک خصوصی قانون پر مبنی تھا جس کے مطابق وہ اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد منکرین حق کو قتل واسارت یا محکومی کی صورت میں ان کے کفر کی سزا دیتا ہے۔ یہ معاملہ سر تا سر اللہ کے فیصلے اور اس کے اذن پر منحصر ہوتا ہے اور اس میں کسی انسان کو اپنے تئیں کوئی فیصلہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس پرامن اور صلح جو کفار کے ساتھ مصالحانہ تعلقات کی اجازت عام انسانی اخلاقیات پر مبنی ہے اور اس دائرے میں اس میں کوئی نسخ واقع نہیں ہوا بلکہ وہ شریعت کے ایک محکم حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔

گزشتہ صفحات میں ہم نے عہد نبوی وعہد صحابہ میں جہاد وقتال کے مختلف پہلووں پر جو بحث کی ہے، اس کا حاصل درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱۔ منصب رسالت پر فائز کوئی ہستی جب کسی قوم میں مبعوث کر دی جاتی ہے تو اس فیصلے کے ساتھ کی جاتی ہے کہ رسول اور اس کے پیروکار اپنے مخالفوں پر بہرحال غالب آ کر رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جزیرہ نماے عرب میں مبعوث کیا گیا تو اس سنت الٰہی کے مطابق یہ دوٹوک اعلان کر دیا گیا کہ آپ کی مخالفت کرنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے مغلوبیت اور محکومیت مقدر ہو چکی ہے۔

۲۔ اس غلبے کے حصول کی حکمت عملی میں دعوت وتبلیغ کے ساتھ ساتھ 'جہاد وقتال' بھی ایک لازمی عنصر کے طور پر شامل تھا، چنانچہ یہ ہدف 'ویکون الدین للّٰہ' کے الفاظ میں آغاز ہی میں واضح کر دیا گیا تھا۔ البتہ اس وعدے کا عملی ظہور دو مرحلوں میں ہوا۔ جزیرۂ عرب کی حد تک تو اس دین کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں غالب کر دیا گیا، چنانچہ مدنی عہد نبوت میں غلبہ دین کی جدوجہد مختلف ادوار سے گزرنے کے بعد جب اپنے آخری مراحل کو پہنچی تو باطل ادیان پر دین حق کے غلبہ کی دو صورتیں متعین طور پر واضح کر دی گئیں۔ مشرکین کے لیے تو لازم کیا گیا کہ وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں، ورنہ انھیں قتل کر دیا جائے گا، جبکہ اہل کتاب سے کہا گیا کہ وہ جزیہ دے کر مسلمانوں کی محکومی اور زیردستی قبول کر لیں۔ جزیرۂ عرب سے باہر روم، فارس اور مصر کی سلطنتوں تک اس غلبے کی توسیع کی ذمہ داری صحابہ کرام پر عائدکی گئی جنھیں اس مقصد کے لیے 'شہادت علی الناس' کے منصب پر فائز کیا گیا تھا۔

۳۔ قانون رسالت کی رو سے پیغمبر کی مخاطب اقوام پر مذکورہ سنت الٰہی کا نفاذ خدا کے براہ راست اذن کے تحت کیا جاتا ہے اور اس میں انسانوں حتیٰ کہ پیغمبروں کے اجتہادی فیصلے کا بھی کوئی دخل نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ رسول اور اس کے پیروکاروں کا یہ غلبہ پوری دنیا کی قوموں پر نہیں، بلکہ ان مخاطبین پر ہوتا ہے جن پر اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا نافذ کرنے کا اذن مل جاتا ہے۔ اس اصول کے تحت نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے متبعین نے جو جہاد کیا، وہ غلبہ دین کے اسی وعدے کی تکمیل کے لیے اور انھی اقوام تک محدود تھا جن کے خلاف اقدام کی اجازت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی تھی اور جن کی تعیین نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سربراہوں کو خطوط لکھ کر، کر دی تھی۔ چنانچہ اسلامی تاریخ کے صدر اول میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے پیروکاروں کے ہاتھوں جزیرۂ عرب اور روم وفارس کی سلطنتوں پر دین حق کا غلبہ قائم ہو جانے کے بعد غلبہ دین کے لیے جہاد وقتال کے حکم کی مدت نفاذ خود بخود ختم ہو چکی ہے۔ یہ شریعت کا کوئی ابدی اور آفاقی حکم نہیں تھا اور نہ اس کا ہدف پوری دنیا پر تلوار کے سائے میں دین کا غلبہ اور حاکمیت قائم کرنا تھا۔ اس کے بعد قیامت تک کے لیے جہاد وقتال کا اقدام دین کے معاملے میں عدم اکراہ اور غیر محارب کفار کے ساتھ جنگ سے گریز کے ان عمومی اخلاقی اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی کیا جائے گا جو قرآن مجید کے نصوص میں مذکور ہیں۔ (باقی)