قرآن مجید بطور کتاب تذکیر ۔ چند توجہ طلب پہلو


]الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر قرآن کے شرکا سے گفتگو[

(۲)

آپ متاخرین میں سے مثال کے طو رپر پانچویں صدی کے امام رازی کی تفسیر اٹھا کر دیکھ لیں۔ اس کے بعد پچھلے دور میں روح المعانی دیکھ لیں۔ آپ کو دنیا جہان کے علوم سے متعلق بحثیں ملیں گی۔ ایک آیت پر غور کرتے ہوئے اہل نحو نے کیا کیا بحثیں اٹھائیں، وہ سب آپ کو مل جائیں گی۔ فقہا نے اس کے تحت کیا کیا مسائل چھیڑے، وہ بھی آپ کو دستیاب ہوں گے۔ اہل تصوف نے اس سے کیا کیا نکات مستنبط کیے، وہ بھی آپ کی ضیافت طبع کے لیے مہیا ہوں گے۔ اب اس طرز تفسیر کا سلبی پہلو یہ ہے کہ قرآن کا مختصر سا متن علوم وفنون کے اتنے بڑے انبار کے نیچے دب کر رہ جاتا ہے۔ انسانی ذہن کی یہ محدودیت مسلمہ ہے کہ آپ اس کے سامنے بیک وقت جتنی زیادہ چیزیں رکھ دیں گے، اس کی توجہ اتنی ہی تقسیم ہوتی چلی جائے گی، جبکہ توجہ طلب چیزیں جتنی کم سے کم ہوں گی، اتنا ہی انسانی ذہن ان پر اپنی توجہ کو بہتر انداز میں مرکوز کر سکے گا۔ انسانی ذہن کی ساخت اور اس کی خصوصیات کا مطالعہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ انسانی توجہ کی مثال روشنی کی سی ہے۔ روشنی کو ایک خاص جگہ پر مرکوز کیا جائے تو جس جگہ پر روشنی براہ راست پڑ رہی ہوتی ہے، وہ زیادہ واضح ہوتی ہے جبکہ اس کے اطراف وجوانب میں جو چیز اس مرکز سے جتنا دور ہوتی چلی جاتی ہے، اتنا ہی بتدریج اندھیرے کی زد میں آتی چلی جاتی ہے۔ یہی معاملہ انسانی توجہ کا ہے۔ انسان بیک وقت اپنی مکمل توجہ ایک آدھ سے زیادہ چیزوں پر مرکوز نہیں کر سکتا۔ ایک وقت میں آپ کی توجہ جس چیز پر جتنی زیادہ مرکوز ہوگی، اتنی ہی وہ آپ کے سامنے واضح ہوگی، جبکہ باقی چیزیں درجہ بدرجہ توجہ کے دائرے میں تو ہوں گی، لیکن اس طرح سے آپ کے ذہن کے سامنے واضح نہیں ہوں گی۔ چنانچہ متنوع علوم وفنون سے پیدا ہونے والی مختلف بحثوں کو تفسیر کے دائرے میں لے آنے کا بڑا نقصان یہ ہو اہے کہ قرآن کا اصل موضوع اور اس کا اصل مقصد یعنی تذکیر بالکل دب جاتا ہے۔ اب ایک طالب علم جو مختلف علوم وفنون سے واقف ہے اور ان میں دلچسپی رکھتا ہے، وہ جب قرآن کی طرف آتا ہے تو اس کے اصل پیغام اور اس کے اصل فائدے کی طرف جو قرآن چاہتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے کو حاصل ہو، اس کا دھیان کم جاتا ہے جبکہ زوائد اور ضمنی بحثوں اور نکات کی طرف اس کی توجہ زیادہ مبذول ہو جاتی ہے۔ وہ یہ جاننے میں زیادہ دلچسپی محسوس کرتا ہے کہ یہاں علم نحو کا نکتہ کیا ہے، آیت کی شان نزول کیا ہے، علم کلام کا کون سا مسئلہ اس آیت سے متعلق ہے، قرآن نے جو بات اور جو واقعہ اجمال میں بیان کیا ہے، اس کی تفصیلات کیا ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ ایک پہلو ہے جس پر قرآن کے طلبہ کو متنبہ رہنا چاہیے اور خاص طو رپر میرے اور آپ جیسے طالب علموں کے لیے یہ بات خاص طو رپر توجہ کی محتاج ہے۔

ہماری علمی روایت میں جب مختلف علوم وفنون کا تفسیر کے ساتھ امتزاج ہوا اور تفسیر کے دائرے میں یہ سب چیزیں آتی چلی گئیں اور تفسیری مواد کا حجم بڑھتا چلا گیا، تفسیر کے نام پر ہر طرح کے علوم وفنون جمع کیے جانے لگے تو لازمی طور پر اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ قرآن کے طلبہ کی اور تفسیر کے عنوان سے قرآن پر غور کرنے والے لوگوں کی توجہات ان زوائد کی طرف زیادہ ہوتی گئیں اور اکابر اہل علم کو اس صورت حال پر بے اطمینانی کا اظہار کرنا پڑا۔ مثال کے طو رپر ہمارے قریب کے دور میں شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ نے 'الفوز الکبیر' میں اس پر باقاعدہ بحث کی ہے کہ یہ جو تفسیروں میں شان نزول کی روایات کا انبار لگا ہوا ہے، اس سے قرآن کے طالب علم کو خلاصی دلوانی چاہیے، کیونکہ ان میں سے بیشتر روایات کے متن کاقرآن کے فہم سے کوئی واسطہ نہیں۔ ان کا ایک بہت محدود حصہ ہے جس کا انسان کے علم میں ہونا قرآن کے متن کے فہم کے لیے ضروری ہے اور یہ قرآن کے وہ مقامات ہیں جہاں اس نے عہد نبوی کے بعض متعین واقعات کو سامنے رکھ کر ان پر تبصرہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ قرآن نے وہ سارا واقعہ اپنے متن میں بیان نہیں کیا۔ اس واقعے کی تفصیلات سے اس کے اولین مخاطبین پہلے سے واقف تھے۔ قرآن نے اس کو سامنے رکھ کر بس تبصرہ کر دیا ہے۔ اب اگر تاریخ وسیرت کا وہ حصہ آدمی کی نظر میں نہیں ہوگا جو ان آیات کے واقعاتی پس منظر پر روشنی ڈالتا ہے تو وہ قرآن کے تبصروں کی معنویت سے واقف نہیں ہو سکے گا۔ شاہ صاحب کا کہنا ہے کہ اس طرح کے چند مقامات کو چھوڑ کر، یہ جو ہر دوسری تیسری آیت کے تحت شان نزول کے نام سے دو چار واقعات درج کر دینے کا رجحان ہے، یہ تفسیر کے طالب علم کو ایک بے معنی مشغلے میں الجھا دینے کا ذریعہ ہے۔ وہ ساری زندگی اس طرح کی چیزیں جمع کرنے اور پڑھنے میں لگا رہتا ہے، جبکہ ان چیزوں کا قرآن کے متن کے فہم سے کوئی خاص واسطہ نہیں۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک دوسرے مقام پر غالباً شاہ صاحب نے ہی علم تجوید سے اشتغال پر بھی اسی نوعیت کا تبصرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ متاخرین کے ہاں قرآن کے الفاظ کی ادائیگی اور تلاوت میں لمبے چوڑے قواعد کی رعایت اور پابندی کا جو اہتمام دیکھنے کو ہے، اس کی وجہ سے لوگوں کی ساری توجہ تلفظ کی تصحیح اور تحسین صوت پر مرکوز ہو گئی ہے اور قرآن کے اصل مقصود سے ان کی توجہ ہٹ گئی ہے۔ شاہ صاحب کی اس بات میں بڑا وزن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کے ہاں تو اس معاملے میں بڑی سہولت اور تیسیر دکھائی دیتی ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر اللہ تعالیٰ سے باقاعدہ درخواست کی کہ قرآن تو بڑا اعلیٰ کلام ہے، بڑی فصیح وبلیغ عربی میں اترا ہے، جبکہ میری امت میں ہر طرح کے لوگ ہیں، سارے قرا نہیں ہیں۔ ان میں بوڑھے بھی ہیں اور ان پڑھ بھی ہیں۔ ان سب کو اس کا پابند نہیں کیا جا سکتا کہ وہ قرآن کو اس کے بالکل معیاری لہجے پر پڑھیں۔ ان کے لیے یہ رخصت ہونی چاہیے کہ جو شخص جس طرح بآسانی قرآن کو پڑھ سکے، پڑھ لے۔ صحابہ کے ہاں آپ دیکھیں، عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ لوگوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ ایک موقع پر وہ ایک عجمی بوڑھے کو سورۂ دخان پڑھا رہے تھے۔ اس میں 'طَعَامُ الْأَثِیْمِ' (الدخان: ۴۴) کے الفاظ آتے ہیں۔ یہ لفظ اس بوڑھے کی زبان پر نہیں چڑ ھ رہا تھا۔ عبد اللہ بن مسعود نے دو چار مرتبہ اسے کہلوانے کی کوشش کی، لیکن جب ناکامی ہوئی تو فرمایا کہ تم 'طعام الفاجر' پڑھ لو۔ دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ اگر 'أَثِیْمِ' زبان سے ادا نہیں ہوتا تو فاجر پڑھ لو۔

آج ہم قرآن کی تلاوت کے ایک معیاری لہجے کو کسوٹی بنا کر کہتے ہیں کہ ساری امت اسی کے مطابق پڑھے اور اگر کوئی نہیں پڑھے گا تو لفظوں کی ادائیگی میں معمولی فرق سے کفر وایمان کے اور نماز کے ادا ہونے یا نہ ہونے کے مسئلے پیدا ہوجائیں گے۔ یہ غلو کی بات ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کا انداز یہ نہیں ہے۔ قرآن کے الفاظ کو جس حد تک انسان کے لیے ممکن ہو، تجوید کے قواعد کے مطابق تحسین صوت اور تصحیح تلفظ کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش یقیناًکرنی چاہیے، لیکن آپ لوگوں کی محنت اور توجہ کا مرکز ہی اس چیز کو بنا دیں کہ قرآن کی تلاوت میں اصل کام تو بس اس کو تجوید کے مطابق پڑھنا ہی ہے تو یہ بات اعتدال سے ہٹی ہوئی ہے۔ اسی لیے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ تجوید پر بہت زیادہ توجہ دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اسی کو مقصود سمجھ لیتے ہیں اور قرآن کے معانی ومطالب سے ان کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ آدمی حسب استطاعت بہتر سے بہتر انداز میں پڑھنے کی کوشش کرے، لیکن محنت اور توجہ کا اصل مرکز یہ بات ہونی چاہیے کہ قرآن جن حقائق کی تذکیر کرنا چاہتا ہے، اللہ کی جن صفات کی اور اللہ کی جن سنن کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے، وہ کیا ہیں اور ان چیزوں کی تذکیر کی مدد سے مجھ سے کن تقاضوں کی تکمیل مطلوب ہے؟

یہاں میں اسی ضمن میں امام شاطبی کی ایک بات کا حوالہ بھی دینا چاہوں گا۔ امام شاطبی آٹھویں صدی ہجری کے ایک بڑ ے نامور مالکی عالم اور فقیہ ہیں۔ ''الموافقات فی اصول الشریعہ'' کے نام سے ان کی کتاب اصول فقہ اور فلسفہ دین میں ان چند اعلیٰ درجے کی کتابوں میں شمار ہوتی ہے جو اس موضوع پر علماے امت نے لکھیں۔ اس میں بے شمار مباحث ہیں۔ اس کی قسم ثالث 'کتاب المقاصد' کے عنوان سے ہے۔ اس میں انھوں نے ایک مستقل فصل قائم کی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ قرآن سے فائدہ حاصل کرنے اور اس کے پیغام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ایک خاص اصول ہے جسے صحابہ ملحوظ رکھتے تھے۔ وہ یہ کہ جب آپ کلام اللہ کو پڑھیں تو آپ کی توجہ اس کے ''مقصود اعظم'' کی طرف ہونی چاہیے۔ ظاہر ہے کہ کلام بہت سے الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ایک آیت میں مثال کے طو رپر دس پندرہ الفاظ ہوں گے۔ ہر لفظ کا اپنا ایک معنی ہوگا۔ پھر لفظوں سے جب تراکیب بنتی ہیں تو ان کے ساتھ کچھ مسائل وابستہ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کلام کے اجزا میں اور اس کے ایک ایک لفظ میں الجھے رہیں گے تو پورے کلام کا جو اصل نکتہ ہے جس کا متکلم ابلاغ کرنا چاہتا ہے، اس سے آپ کی توجہ ہٹ جائے گی۔ اگر آپ کو اجزاے کلام میں سے کسی جز کا انفرادی فہم نہ حاصل ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ پورے کلام کا حاصل اگر آپ تک منتقل ہو گیا ہے تو کلام کا اصل فائدہ آپ کو حاصل ہو گیا ہے۔ شاطبی کا مقصود اس بات سے اجزاے کلام سے کماحقہ واقفیت کی اہمیت کو کم کرنا نہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک ایک لفظ پر لغت اور نحو کے اعتبار سے اگر آپ کی گرفت مضبوط ہوگی تو آپ کے فہم کا درجہ اور سطح بہت بلند ہو جائے گی، تاہم قرآن کے اصل مقصد یعنی تذکیر کے پہلو سے شاطبی کا بیان کردہ یہ نکتہ بہت اہم اور مفید ہے کہ آپ کی نظر کلام کے مجموعی مفہوم پر رہنی چاہیے۔ اگر مجموعی طو رپر کلام کا مقصود آپ پر واضح ہو گیا ہے تو اجزا میں سے کسی ایک آدھ جز کا معنی معلوم نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اس بات کو واضح کرنے کے لیے شاطبی نے حضرت عمر کے ایک مشہور واقعے کا حوالہ دیا ہے۔ روایات میں بیان ہوا ہے کہ سیدنا عمر نے ایک موقع پر سورۂ عبس کی آیت 'وَفَاکِہَۃً وَأَبّا' (عبس: ۳۱) پڑھی اور لوگوں سے پوچھا کہ لفظ 'اب' کا کیا مطلب ہے؟ شاید ا س کا لغوی معنی انھیں معلوم نہیں تھا۔ پھر خود ہی فرمایا کہ 'ما کلفنا ہذا'۔ اگر نہیں پتہ تو ہمیں اس مشقت میں نہیں ڈالا گیا کہ ایک ایک لفظ کی پوری لغوی تحقیق ہمارے علم میں ہو۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ سوال کسی دوسرے شخص نے ان سے کیا تو انھوں نے جواب میں کہا کہ 'نہینا التکلف والتعمق'۔ ایک لفظ کا معنی اگر ہمیں معلوم نہیں تو ہمیں خواہ مخواہ تکلف کرنے اور تعمق میں پڑنے سے منع کیا گیا ہے۔

اب یہاں کلام کا جو اصل پیغام ہے، وہ بالکل واضح ہے۔وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سورۂ عبس کے اس حصے میں اپنی بہت سے نعمتوں کو گنوا کر انسان کو یاد دلا رہے ہیں کہ دیکھو، اللہ نے تم پر کیا کیا انعامات اور احسانات کیے ہیں اور ان کے اعتراف کے طو رپر تمھارا کیا فرض بنتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حقیقت پر نظر کرے کہ اسے کس چیز سے اور کیسے پیدا کیا گیا اور پھر یہ سوچے کہ اس جیسی حقیر اور بے حیثیت مخلوق کے لیے اللہ نے کیا کیا نعمتیں مہیا کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مثال کے طور پر پانچ سات نعمتوں کا ذکر کیا ہے۔ اب ان میں سے ایک لفظ کا معنی اگر کسی شخص کو معلوم نہیں تو اسے ایک ''علمی'' نقصان تو شمار کیا جا سکتا ہے، لیکن کلام کا مجموعی مفہوم اور اصل مقصود بالکل واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کے دل میں اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور قدر دانی اور اس کے مقابلے میں اپنی ناشکری کا احساس بیدار ہو۔ اگر ان آیات کو پڑھ کر یہ احساس انسان کے دل میں پیدا ہو گیا ہے تو قرآن کا مقصود حاصل ہو گیا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن مجید کو پڑھتے ہوئے اصل توجہ اس بات کی طرف ہونی چاہیے کہ قرآن کی آیات کو پڑھ کر دل میں خدا کا قرب حاصل کرنے کی، خدا کی عبادت کی اور خدا کی رضا کے حصول کی تڑپ پیدا ہو۔ اس بنیادی پہلو کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ جتنے چاہیں، ز وائد بھی حاصل کریں۔ آپ قرآن سے بلاغت کے نکتے بھی مستنبط کریں، نحو کے اسالیب پر بھی غور کریں، احکام وشرائع اور لطیف نکات بھی اخذ کریں، یہ سب کریں، لیکن اصل غرض کی قیمت پر نہیں۔ قرآن سے حاصل کرنے کی اصل چیز یہی تذکیر ہے۔ اگر یہ مجھے اور آپ کوحاصل نہیں ہو رہی تو باقی سب چیزیں درحقیقت ہماری توجہ کو بٹانے اور قرآن کے مقصد سے نظر ہٹانے کا کام کر رہی ہیں۔ کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ اس طرح کی باقی سب چیزوں سے کچھ عرصے کے لیے ''ایلا'' کر لیں۔ اپنے آپ کو اس بات کا عادی بنانے کی کوشش کریں کہ جو غذا آپ کو قرآن دینا چاہتا ہے، آپ کی طبیعت اس سے مانوس ہو جائے۔ جب یہ ہوجائے اور قرآن سے تذکیری غذا حاصل کرنے کا ذوق پختہ ہو جائے تو پھر باقی چیزیں بھی ان شاء اللہ قرآن کے طالب علم کے لیے مفید ہوں گی، لیکن اس کے بغیر یہ جو تفسیری نوعیت کی بحثیں ہیں، یہ آپ کی توجہ کو ہٹاتی رہیں گی۔ آپ کو تفسیری معلومات، نکات اور معارف تو بہت حاصل ہو جائیں گے، لیکن قرآن سے جو روحانی فائدہ آپ کو ملنا چاہیے، وہ ممکن ہے نہ ملے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس ضمن میں اس حد تک اہتمام فرمایا کہ عام دعوت وتبلیغ کے لیے او رمسلمانوں کی عمومی تعلیم کے لیے نصاب صرف قرآن کو قرار دیا اور اس کے علاوہ کسی اور چیز کو اس طرح مقصوداً واہتماماً تبلیغ اور تعلیم کا موضوع نہیں بننے دیا۔ چنانچہ ایک عرصے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے علاوہ خود اپنے ارشادات واقوال بھی لکھنے کی اجازت صحابہ کو نہیں دی۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن کے علاوہ کچھ نہ لکھو، بلکہ ایک روایت کے مطابق لوگوں نے جو کچھ لکھا ہوا تھا، اس کے متعلق بھی فرمایا کہ اسے مٹا دو۔ مقصد یہ تھا کہ قرآن ہی کو لکھا جائے، اسی کو یاد کیا جائے، اسی کو لوگوں تک پہنچایا جائے، اسی کو پڑھا اور اسی کو پڑھایا جائے۔ اس میں یہ حکمت بھی یقیناًملحوظ تھی کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات وفرمودات قرآن کے متن میں شامل نہ ہو جائیں، لیکن اصل مقصد یہ تھا کہ پڑھنے پڑھانے اور تعلیم وتبلیغ کا موضوع قرآن کے متن کے علاوہ اور کوئی چیز نہ بننے پائے۔ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب اپنے دور میں باقاعدہ تعلیمی پالیسی بنائی اور مختلف علاقوں میں نئے مسلمان ہونے والوں کی تعلیم وتربیت کے لیے اساتذہ اور معلمین کی تقرری کا ایک نظام وضع کیا تو انھیں یہ ہدایات دیں کہ جب تک لوگ قرآن سے مانوس اور واقف نہ ہو جائیں، انھیں احادیث سنا کر ان کی توجہ قرآن سے ہٹا نہ دینا۔ اس طرح انھوں نے واضح کیا کہ لوگوں کو اور خاص طو رپر نئے مسلمان ہونے والوں کے لیے نصاب تعلیم صرف قرآن ہونا چاہیے۔ قرآن کے علاوہ کوئی دوسری چیز ساتھ شامل ہوگی تو وہ ان کی توجہ قرآن سے ہٹا دے گی۔ ان کی توجہ صرف قرآن کی طرف رہے اور جب تک قرآن کے ساتھ ان کی واقفیت اور مناسبت گہری نہ ہو جائے اور وہ قرآن کے انداز کو سمجھنے کی صلاحیت بہم نہ پہنچا لیں، کسی اور چیز میں ان کی توجہ بٹائی نہ جائے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے اس کا اہتمام کیا کہ کسی دوسری چیز کے ساتھ، چاہے وہ دینی نوعیت رکھنے والی کیوں نہ ہو اور چاہے وہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہی کیوں نہ ہوں، ایسا اشتغال نہیں ہونا چاہیے جو قرآن کے متن کے ساتھ مسلمانوں کے تعلق کو کمزور کرنے کا ذریعہ بن جائے۔

قرآن کے ساتھ ہمارا تعلق زندگی بھر کا تعلق ہے۔ اس تعلق کے قائم ہونے ، اس کے نشوو نما پانے اور مضبوط سے مضبوط تر ہونے کا عمل ساری زندگی جاری رہتا ہے۔ کوئی مرحلہ ایسا نہیں آتا جس میں انسان یہ کہہ سکے کہ میں نے قرآن سے جو سیکھنا تھا، سیکھ لیا ہے اور اب میرے لیے اس کو پڑھنا محض تکرار ہے۔ قرآن کو روزانہ پڑھنا اور اس کے کسی نہ کسی حصے پر باقاعدہ غور کرنا، دین کے ایک طالب علم کو یہ چیز اپنے معمولات کا حصہ بنا لینی چاہیے۔ تلاوت تو ہر مسلمان کو کرنی چاہیے، وہ دینی زندگی کا ایک حصہ ہے۔ دین کے ایک طالب علم کو تلاوت کے ساتھ ساتھ قرآن کے کسی ٹکڑے پر روزانہ غور کرنے کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ اس غور وفکر کے دوران میں جو سوالات سامنے آئیں، ان کو باقاعدہ طالب علمانہ طریقے پر نوٹ کریں۔ جو خیالات پیدا ہوتے ہیں، ان کو نوٹ کریں۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی، کوئی نکتہ واضح نہیں ہوا تو اس کے لیے تفسیروں کی مراجعت کریں۔ قرآن کے علما اور اس پر غور وفکر کرنے والے محققین سے استفادہ کریں، لیکن اس ساری تگ ودو میں اگر دلچسپی کا محور زوائد بن جائیں تو قرآن کا اصل پیغام، جو وہ چاہتا ہے کہ اس کے پڑھنے والے تک پہنچے اور وہ روحانی اثر جو قرآن چاہتا ہے کہ اس کے قاری کے دل پر پڑے، خدشہ ہے کہ انسان اس سے محروم رہ جائے گا۔ اس لیے کوشش کر کے، تربیت کر کے اپنے اندر اس ذوق کی نشوونما کریں۔ اس کے لیے خاصی ریاضت کی ضرورت ہوگی۔جب تک آپ اپنی تربیت نہیں کریں گے اور ریاضت کر کے اپنے آپ کو اس کا عادی نہیں بنائیں گے، قرآن سے کماحقہ فائدہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔ قرآن سے حاصل ہونے والا اصل فائدہ عقلی اور فکری نہیں، بلکہ جذباتی، تاثراتی اور روحانی ہے۔ قرآن آپ کو اللہ کے قریب کرتا ہے، اللہ کی پہچان کراتا ہے اور اللہ کے ساتھ تعلق استوار کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ مجھے اور آپ کو اس بات کے لیے کافی ریاضت کرنا ہوگی کہ زوائد سے صرف نظر کرتے ہوئے اصل مقصود پر توجہ دیں اور قرآن کی آیات سے وہ روحانی غذا حاصل کریں جو قرآن چاہتا ہے کہ ہمیں حاصل ہو۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کا بہتر سے بہتر فہم حاصل کرنے اور اس کے تقاضوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ 'اللّٰہم اجعل القرآن ربیع قلوبنا ونور صدورنا وجلاء احزاننا وذہاب ہمومنا'۔ آمین