قربانی


متاع عزیز کو راہ خدا میں پیش کر دینا قربانی ہے۔مال و دولت، عزیز و اقارب اور مسکن و وطن انسان کے لیے متاع بے بہا کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کاہدیہ بھی وہ پادشاہ ارض و سما کی نذر کرتاہے ،مگردنیا میں اس کی سب سے بڑی متاع اس کی جان ہے۔بندگی رب کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس اثاثۂ گراں مایہ کوحقیر نذرانہ سمجھ کر اپنے پروردگار کے حضور میں پیش کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہے ۔ یہ تڑپ اگر ہے تو ایمان ہے ، اگر نہیں ہے تو گویا انسان ایمان سے محروم ہے۔ چوپائے کی گردن پر چھری پھیر کر ایک مسلمان اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ اگرمیرے پروردگار نے جان کا مطالبہ کیا تومیں اسی طرح بصد شوق اپنا سر تن سے جدا کر کے اس کے قدموں میں ڈال دوں گا۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے رویاے صادقہ پر بعینہٖ عمل کو منشاے خداوندی سمجھتے ہوئے اپنے عزیز از جان فرزند کی گردن پر چھری رکھ کر اور سیدنا اسماعیل علیہ السلام نے اپنی گردن اللہ کے لیے پیش کر کے قربانی کے تصور کو بالکل مجسم اور ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ عیدالاضحے کے روز ہر مسلمان اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ کرتا ہے اور اس کے تناظر میں گویا اپنے پروردگار سے یہ اقرار کرتا ہے کہ :'' میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ پروردگار عالم کے لیے ہے۔''

اس قربانی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

''اور ہم نے ہرامت کے لیے قربانی مشروع کی تاکہ اللہ نے ان کو جو چوپائے بخشے ہیں، ان پر وہ اس کا نام لیں۔ پس تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے تو اپنے آپ کو اسی کے حوالے کر دو۔ اور خوش خبری دو ان کو جن کے دل خدا کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے خدا کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ ان کو جو مصیبت پہنچتی ہے ، اس پر صبر کرنے والے، نماز کا اہتمام رکھنے والے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے، اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں۔''(الحج ۲۲: ۳۴۔۳۵)

ان آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قربانی من جملۂ عبادات ہے ۔ انبیا کی امتوں میں یہ ہمیشہ مشروع رہی ہے۔ یہ خالص اللہ کے لیے ہے ۔ اسے شرک کے شائبے سے بھی پاک ہونا چاہیے اور اسے اپنے آپ کو اپنے مالک کے حوالے کر دینے کے جذبے سے انجام دینا چاہیے۔ جو لوگ اپنے گلے میں اللہ کی غلامی کا کلادہ ڈال لیتے ہیں، روح اور قالب ، دونوں اپنے پروردگار کے سپرد کر دیتے ہیں، وہی مخبتین ہیں، وہی مومن ہیں اور انھی کے لیے اس جنت کی بشارت ہے جو خدا نے اپنے غلاموں کے لیے آباد کی ہے۔ ان لوگوں کا عام سلوک یہی ہے کہ یہ رنج و راحت میں اپنے مالک کی یاد تازہ رکھتے ہیں، اس کے آگے سربہ سجود ہوتے ہیں اور اس کا دیا ہوا مال اسباب اس کی راہ میں نثار کرتے ہیں۔

قربانی کی یہی روح ہے جو انسان کے اندر تقوے کو پروان چڑھاتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا منشا یہ نہیں ہے کہ محض جانور قربان کر کے گوشت اس کی نذر کر دیا جائے ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ اس عمل سے تقویٰ بیدار کیا جائے۔ ارشاد فرمایا ہے:

''اللہ کو تمھاری ان قربانیوں کا نہ گوشت پہنچے گا نہ خون، بلکہ صرف تمھارا تقویٰ پہنچے گا۔'' (الحج۲۲: ۳۷)

مولانا امین احسن اصلاحی لکھتے ہیں:

''یہ قربانی جو تمھیں پیش کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے ، وہ اس لیے نہیں ہے کہ خدا کو ان قربانیوں سے کوئی نفع پہنچتا ہے۔ خدا کو ان قربانیوں کا گوشت یا خون کچھ بھی نہیں پہنچتا۔تمھاری پیش کی ہوئی یہ چیز تمھی کو لوٹا دی جاتی ہے۔ تم خود اس کو کھاؤ اور بھوکوں اور محتاجوں کو کھلاؤ۔ قربانی کی مثال بالکل یوں ہے کہ کوئی اپنے سر کے تاج کو اصل بادشاہ کے قدموں پر رکھے اور بادشاہ اس تاج کو اپنے قدموں سے عزت دے کر پھر اس کے سر پر پہنا دے ۔۔۔ خدا قربانیوں کے خون سے محظوظ نہیں ہوتا ، بلکہ اس تقویٰ اور اس اسلام و اخبات سے خوشنود ہوتا ہے جو ان قربانیوں سے ان کے پیش کرنے والوں کے اندر پیدا ہوتا ہے۔'' (تدبر قرآن۵/ ۲۴۴، ۲۵۱)

چنانچہ قربانی کا اصل مقصدنہ احباب کو خوان نعمت میں شریک کرنا ہے، نہ تہوار کی تقریب کو دوبالا کرنا ہے اور نہ غریبوں کی مدد کرنا ہے، یہ فوائد ضمنی طور پر بلاشبہ اس سے حاصل ہو جاتے ہیں ، مگر اس کا اصل مقصد تقویٰ کی نشو و نما ہے ۔یہ مقصد اگر پیش نظر نہ رہے تو ہم بظاہر جانور ذبح کر کے فارغ ہو جاتے ہیں ، مگر قربانی کی اصل روح سے غافل رہتے ہیں اوراس طرح اس عبادت سے ہمارے اندر تقوے کی آب یاری نہیں ہوتی۔

____________