رویت ہلال کا مسئلہ


اللہ تعالیٰ نے روزوں کے لیے رمضان اور حج کے لیے ذوالحجہ کا مہینا مقرر فرمایا ہے۔ یہ دونوں قمری مہینے ہیں، اِس لیے یہ سوال ابتدا ہی سے زیر بحث رہا ہے کہ اِن کی تعیین کس طرح کی جائے؟ علم فلکیات نے جو ترقی اِس زمانے میں کی ہے، اُس سے پہلے بھی لوگ اِس بات سے تو واقف تھے کہ قمری مہینے تیس دن سے زیادہ کے نہیں ہو سکتے، مگر عام مشاہدہ بتاتا تھا کہ یہ انتیس دن کے بھی ہو جاتے ہیں۔ قرآن نے جب لوگوں کو پورے مہینے کے روزے رکھنے کا حکم دیا تو اندیشہ ہوا کہ اُن میں سے کچھ لوگ اِس حکم کی تعمیل میں تیس دن پورے کرنے پر اصرار کریں گے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے متنبہ فرمایا کہ چاند نظر آجائے تو رمضان کا مہینا شروع کر لینا چاہیے اور نظر آجائے تو اُس کو ختم کر دینا چاہیے۔ اِس کے لیے تیس دن پورے کرنا ضروری نہیں ہے۔ ہاں، مطلع صاف نہ ہو تو تیس دن لازماً پورے کیے جائیں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی ارشاد ہے جسے راویوں نے اپنے تصرفات سے وہ صورت دے دی جس سے یہ تاثر عام ہو گیا کہ آپ نے مہینے کی تعیین کے لیے لوگوں کو چاند دیکھنے کا پابند کر دیا ہے۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ روایت کے ایک طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ہدایت اپنی اصل صورت میں بھی نقل ہو گئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

الشھر تسع وعشرون، فاذا رأیتم الھلال فصوموا، واذا رأیتموہ فافطروا، فان غم علیکم فاقدروا لہ.(مسلم، رقم ۱۰۸۰)

''مہینا انتیس دن کا بھی ہوتا ہے، اِس لیے چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور دیکھ لو تو افطار کرو۔ پھر اگر مطلع صاف نہ ہو تو دن پورے کر لو۔''

یہ عبداللہ بن عمر کی روایت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت کے ایک طریق میں بھی بعینہٖ یہی الفاظ ہیں۔ اِس سے واضح ہے کہ مہینے کی تعیین کے لیے چاند دیکھنے کو لازم نہیں کیا گیا، بلکہ چاند دیکھ لینے کے بعد مہینا شروع کر لینے کو لازم ٹھیرایا گیا ہے تاکہ لوگ یہ خیال کرکے کہ قرآن نے پورے مہینے کے روزے رکھنے کی ہدایت فرمائی ہے، تیس دن پورے کرنے پر اصرار نہ کریں۔ چنانچہ بات کی ابتدا ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ'الشھر تسع وعشرون'، مہینا انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔

چاند دیکھنے کی ضرورت اِسی بنا پر ہے۔ تیس دن پورے ہو جائیں تو یہ ضرورت باقی نہیں رہتی، اِس لیے کہ اِس معاملے میں ہمارا علم بالکل قطعی ہے۔ چاند نظر آئے یا نہ آئے، ہم جانتے ہیں کہ پچھلا مہینا ختم ہوا اوراگلا مہینا شروع ہو چکا ہے۔ علم کی ترقی نے یہی صورت انتیس کے بارے میں بھی پیدا کر دی ہے۔ اب ہم پوری قطعیت کے ساتھ بتا سکتے ہیں کہ دنیا کے لیے چاند کی پیدایش کب ہو گی۔ اِس لیے مکہ مکرمہ کو مرکز بنا کر اگر چاند کی پیدایش کے لحاظ سے قمری کیلنڈر بنا دیا جائے اور تمام مذہبی تہوار اُسی کے مطابق منائے جائیں تو اِس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔ دین کا منشا مہینے کی تعیین ہے۔ وہ اگر چاند دیکھنے سے ہو سکتی تھی تو اُس نے اُسے اختیار کیا اور اب اگر کسی دوسرے ذریعے سے ہو سکتی ہے تو اِس پر بھی اُسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ گھڑی ایجاد ہو جانے کے بعد ہم اپنی نمازوں کے لیے جس طرح سورج کا طلوع و غروب دیکھنے کے پابند نہیں رہے، اِسی طرح قمری مہینوں کی تعیین کے لیے رویت ہلال کے پابند بھی نہیں رہے۔ یہ مسئلہ محض ایک حدیث میں راویوں کے تصرفات سے پیدا ہوا ہے۔ روایت کے تمام طریقوں کو دیکھنے سے یہ حقیقت بادنیٰ تامل واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا بالکل دوسرا تھا۔ چاند دیکھنے پر اصرار کے لیے اِس کے بعد بھی کوئی وجہ باقی رہ جاتی ہے؟ ہمارے علما کو اب اِس پر غور کرنا چاہیے۔