سر کی اوڑھنی


اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے ہاتھ، پاؤں اور چہرے کے سوا جسم کے کسی حصے کی زیبایش، زیورات وغیرہ اجنبی مردوں کے سامنے نہیں کھولیں گی۔ قرآن نے اِسے لازم ٹھیرایا ہے۔ سر پر دوپٹا یا اسکارف اوڑھ کر باہر نکلنے کی روایت اِسی سے قائم ہوئی ہے اور اب اسلامی تہذیب کا حصہ بن چکی ہے۔ عورتوں نے زیورات نہ پہنے ہوں اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو وہ اِس کا اہتمام کرتی رہی ہیں۔ یہ رویہ بھی قرآن ہی کے اشارات سے پیدا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دوپٹے سے سینہ اور گریبان ڈھانپ کر رکھنے کاحکم اُن بوڑھیوں کے لیے نہیں ہے جو نکاح کی امید نہیں رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ زینت کی نمایش کرنے والی نہ ہوں۔ قرآن کا ارشاد ہے وہ اپنا یہ کپڑا مردوں کے سامنے اتار سکتی ہیں، اِس میں کوئی حرج نہیں ہے، مگر ساتھ ہی وضاحت کر دی ہے کہ پسندیدہ بات اُن کے لیے بھی یہی ہے کہ احتیاط کریں اور دوپٹا سینے سے نہ اتاریں۔ اِس سے واضح ہے کہ سر کے معاملے میں بھی پسندیدہ بات یہی ہونی چاہیے اور بناؤ سنگھار نہ بھی کیا ہو تو عورتوں کو دوپٹا سر پر اوڑھ کر رکھنا چاہیے۔ یہ اگرچہ واجب نہیں ہے، لیکن مسلمان عورتیں جب مذہبی احساس کے ساتھ جیتی اور خدا سے زیادہ قریب ہوتی ہیں تو وہ یہ احتیاط لازماً ملحوظ رکھتی ہیں اور کبھی پسند نہیں کرتیں کہ کھلے سر اور کھلے بالوں کے ساتھ اجنبی مردوں کے سامنے ہوں۔

نیل پالش

عورتیں اپنے ناخن کسی نہ کسی چیز سے رنگتی رہی ہیں۔ ہمارے زمانے میں اِس کے لیے مختلف اقسام کی نیل پالش ایجاد ہو گئی ہیں۔ مہندی وغیرہ کے برعکس اِس کی موٹی تہ چونکہ ناخن پر جما لی جاتی ہے، اِس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ اِس کے ساتھ وضو کا کیا کیا جائے؟ اِس کے تین جواب دیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ نیل پالش پر وضو نہیں ہوتا، اِس لیے ہر وضو سے پہلے اِسے لازماً اتارنا چاہیے۔

دوسرا یہ کہ نیل پالش لگانے کے بعد بھی ہاتھ ہاتھ ہی ہوتا ہے، اِس لیے وضو ہو جائے گا۔ اِسے اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

تیسرا یہ کہ اِسے جرابوں کے مسح پر قیاس کرنا چاہیے۔ چنانچہ نیل پالش اگر وضو کر کے لگائی گئی ہے تو اتارنے کی ضرورت نہیں ہے، اِس کے اوپر ہی وضو کر لیا جائے گا، لیکن وضو کے بغیر لگائی گئی ہے تو اِسے اتار کر وضو کرنا چاہیے۔

ہمارے نزدیک یہی تیسرا مسلک قابل ترجیح ہے۔ یہ احتیاط کا مسلک ہے، اِس میں کوئی مشقت بھی نہیں ہے اور تزکیہ و تطہیر کے مقصد سے بھی یہ زیادہ قریب ہے۔ اِس لیے بہتر یہی ہے کہ عورتیں اپنے پروردگار کے حضور میں حاضری کے لیے اِس کا اہتمام کر لیں۔

عورتوں کا سفر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے عورتوں کو محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا اور فرمایا ہے کہ اِس طرح کا سفر اُن کے لیے جائز نہیں ہے۔ اِس کی مدت بعض روایتوں میں ایک، بعض میں دو اور بعض میں تین شب و روز بیان ہوئی ہے۔* یہ سد ذریعہ کی ہدایت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جس چیز سے روکا گیا ہے ، وہ اصلاً ممنوع نہیں ہے، لیکن ممنوعات میں سے کسی چیز تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اِس کے مخاطبین بھی افراد بحیثیت افراد ہیں۔ اِس میں ریاست سے یہ تقاضا نہیں کیا گیا کہ وہ کسی عورت کو محرم کے بغیر سفر کی اجازت نہیں دے گی۔ پھر یہ بات بھی واضح ہے کہ اِس طرح کی ہدایات ہمیشہ حالات سے متعلق ہوتی ہیں۔ اسلام میں عورت کی عفت و عصمت کو جو اہمیت حاصل ہے، اُس کے پیش نظر ضروری تھا کہ زمانۂ رسالت کے حالات میں اُنھیں محرم کے بغیر سفر کرنے سے روکا جائے۔ اُس زمانے میں سفر پیدل یا اونٹ گھوڑوں پر کیا جاتا تھا۔ جن مقامات تک اب ہم گھنٹوں میں پہنچ جاتے ہیں، اُس وقت وہاں پہنچنے میں ہفتے، بلکہ مہینے لگ جاتے تھے۔ مسافر تنہا یا قافلوں میں سفر کرتے اور بعض اوقات جنگلوں اور بیابانوں سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتے تھے۔ رات آجاتی تو کھلے آسمان تلے قافلوں میں یا اجنبی شہروں کی سرایوں میں قیام کرنا پڑتا تھا۔ اِس طرح کے حالات میں اگر عورتوں کی حفاظت کے پیش نظر اور اُنھیں کسی تہمت سے بچانے کے لیے پابند کیا گیا کہ وہ محرم کے بغیر سفر نہ کریں تو اِس کی حکمت ہر سلیم الطبع آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے۔

دورِ حاضر نے اِس کے برخلاف سفر کے ذرائع میں حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیا ہے۔ مہینوں کا سفر اب گھنٹوں میں ہوتا ہے۔ ریل، جہاز اور بسوں میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات ہیں۔ ہوٹلوں اور سرایوں وغیرہ کا نظم بھی بالکل تبدیل ہو چکا ہے۔ آج سے سو سال پہلے اپنی بہن یا بیٹی کو تنہا ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں تک بھیجنے میں بھی تردد ہوتا تھا، لیکن اب یورپ اور امریکا کے سفر میں بھی اِس طرح کا کوئی تردد محسوس نہیں ہوتا۔ حج کا سفر بھی آخری درجے میں محفوظ ہو چکا ہے اور عورتیں اپنی شناسا عورتوں کی معیت میں نہایت اطمینان کے ساتھ حجاز مقدس جا سکتی اور حج و عمرہ کے مناسک ادا کر سکتی ہیں۔ حالات کی یہ تبدیلی تقاضا کرتی ہے کہ حکم کو دورِ حاضر کے سفروں سے متعلق نہ سمجھا جائے اور عورتوں کو اجازت دی جائے کہ خطرے کی کوئی جگہ نہ ہو تو اپنی ضرورتوں کے لحاظ سے وہ تنہا یا عورتوں کی معیت میں جس طرح چاہیں، سفر کریں، تاہم اتنی بات ملحوظ رکھیں کہ اُن کی عزت ہر حال میں محفوظ رہے اور گھروں سے نکلتے وقت اُن سے کوئی غفلت نہ ہو۔ وہ اگر اللہ اور اُس کے رسول کو ماننے والی ہیں تو اِس معاملے میں اُنھیں بے پروا نہیں ہونا چاہیے۔