سود کا مسئلہ


انسان کسی کو قرض دے اور اُس پر نفع کا مطالبہ کرے تو یہ سود ہے۔ اِس میں اور کرایے میں بظاہر کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا، لیکن دقت نظر سے دیکھا جائے تو صاف واضح ہو جاتا ہے کہ جو چیزیں کرایے پر اٹھائی جاتی ہیں، وہ اُن کے وجود کو برقرار رکھ کر استعمال کی جا سکتی ہیں، مگر روپیہ اِس طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ اُسے خرچ کر لینے کے بعد دوبارہ پیدا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ اُس پر اگر کسی اضافے کا مطالبہ کیا جائے تو یہ فی الواقع ظلم بن جاتا ہے۔ سود اور کرایے میں یہ فرق چونکہ باریک ہے اور انسان اِس کو سمجھنے میں غلطی کر سکتا تھا، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے انسان کو اپنی شریعت دی تو اُسے بتا دیا کہ قرض پر اضافے کا مطالبہ زیادتی ہے، اِسے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سود اِسی بنا پر اللہ تعالیٰ کی ہر شریعت میں اور ہمیشہ ممنوع رہا ہے۔ قرآن نے بھی پوری صراحت کے ساتھ اِسے ممنوع ٹھیرایا ہے، اِس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بنکاری کا جو نظام اِس زمانے میں رائج ہے ، اُس کے بارے میں یہ بحث، البتہ پیدا ہو گئی ہے کہ اِس میں تو بنک جس کاروبار کے لیے قرض دیتا ہے، اُس کی منفعت ہی سے حصہ وصول کرتا ہے۔ لہٰذا سود جس علت کی بنا پر ممنوع قرار دیا گیا ہے، وہ بنکاری کے نظام میں کیا ختم نہیں ہو جاتی؟ یہ استدلال مصر و شام کے بعض علما نے بھی پیش کیا ہے اور ہندوستان کے ایک جلیل القدر عالم اور داعی مولانا وحید الدین خان نے بھی اپنی کتاب ''فکر اسلامی'' میں کسی حد تک اِس کی تصویب فرمائی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ علما کا یہ استدلال معقول ہو سکتا ہے، مگر اِس کے لیے ضروری ہے کہ بنک اپنے نظام میں درج ذیل اصلاحات کر لیں:

اولاً، جس کاروبار کے لیے روپیہ دیا گیا ہے، اُس میں نقصان ہو جائے یا کاروبار کسی وجہ سے بند کرنا پڑے تو منفعت کا مطالبہ بھی اُسی دن سے بند کر دیا جائے۔ بنک اِس کے بعد صرف اصل زر کا مطالبہ کرے۔

ثانیاً، اشیا قسطوں پر فروخت کی جائیں تو جب تک قسطیں پوری نہ ہوں، بنک اُس شے کی ملکیت میں شریک رہے، ملکیت کے تقاضے پورے کرے اور اُن پر کرایہ لے۔

ثالثاً، روپیہ اگر غیر کاروباری ضرورتوں کے لیے قرض دیا گیا ہے تو افراط زر سے جو کمی واقع ہوتی ہے، اُس کی تلافی کے سوا کسی زائد رقم کا مطالبہ نہ کیا جائے۔

یہ اصلاحات کر لی جائیں تو بنکاری کا نظام بڑی حد تک منصفانہ ہو جاتا ہے۔ تاہم دو سوالات اور بھی ہیں:

ایک یہ کہ جو لوگ سود لیتے نہیں،مگر ذاتی اور کاروباری ضرورتوں کے لیے قرض لیتے اور اُن پر سود دیتے ہیں، اُن کا حکم کیا ہو گا؟

دوسرے یہ کہ حکومتیں بالعموم بچت کی مختلف اسکیمیں بنا کر اپنی ضرورتوں کے لیے لوگوں سے قرض لیتی اور اُس پر کچھ منفعت بھی دیتی ہیں۔ اُس کا کیا حکم ہے؟ کیا اُسے بھی ممنوع قرار دیا جائے گا؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ سوددینے پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا، اِس لیے کہ سود کی حرمت اکل الاموال بالباطل کے اصول پر ہے اور سود دینے والا کسی کا مال باطل طریقے پر نہیں کھاتا، بلکہ اپنی جائز کمائی کا ایک حصہ قرض کے معاوضے میں قرض دینے والے کو ادا کرتا ہے۔ سود کا مسئلہ قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر زیر بحث آیا ہے، مگر ہر جگہ دیکھ لیجیے، اُس نے ایک لفظ بھی سود دینے والوں کی مذمت میں نہیں کہا، بلکہ اُنھیں مظلوم قرار دیا اور تنگ دست ہوں تو اصل زر کی واپسی کے لیے مہلت دینے کی تلقین فرمائی ہے۔ جو لوگ اِسے ممنوع قرار دیتے ہیں، اُن کے استدلال کی بنیاد قرآن کی کوئی آیت یا اُس کا اقتضا یا اشارہ نہیں ہے، بلکہ ایک حدیث ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے اور کھلانے والے ، دونوں پر لعنت کی ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں:لعن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ... اٰکل الربٰووموکلہ*'۔اِس میں کھلانے والے کے لیے لفظ 'موکل' آیا ہے۔ لغت کے اعتبار سے اِس لفظ کا مصداق سود دینے والے بھی ہو سکتے ہیں اور سودی کاروبار کرنے والوں کے ایجنٹ بھی جو اُن کے لیے گاہک ڈھونڈ کر لاتے اور قرض لینے والوں سے مقرر وقت پر سود وصول کرکے اُن تک پہنچاتے ہیں۔ سود پر قرض کے معاملات اگر باقاعدہ کاروبار کی صورت اختیار کر لیں تو اِس طرح کے ایجنٹوں کا وجود ناگزیر ہے۔ اِن کے بغیر سودی کاروبار نہیں چلایا جا سکتا۔ حدیث میں اگر یہی لوگ مراد ہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے، اِس لیے کہ یہ صریح تعاون علی الاثم ہے۔سودی کاروبار کرنے والوں کے کارکنوں کی حیثیت سے جو لوگ اُن کے لیے سودی دستاویزات تیار کرتے اور اُن پر گواہ بنتے ہیں، اُن کا معاملہ بھی اِسی طرح کا ہے۔ موجودہ بنکاری نظام کا عملہ یہی خدمات انجام دیتا ہے۔ لیکن سودی قرض لینے والوں کو کسی طرح بھی تعاون علی الاثم کا مرتکب قرار نہیں دے سکتے۔ یہ تعبیر اُسی عمل کے لیے موزوں ہو سکتی ہے جو کسی گناہ کے مرتکبین کی طرف سے اور گناہ کے ثمرات میں شرکت کے لیے کیا جائے۔ سودی قرض لینے والے سود خواروں کی معاونت کے لیے نہیں، اپنی ذاتی اور کاروباری ضرورتوں کے لیے اُن سے قرض لیتے ہیں۔ یہ اگر تعاون ہے تو اُس سے زیادہ نہیں ہے جو اِس وقت علما اور صلحا بھی اپنی اور اپنے اداروں کی رقوم بنکوں میں جمع کرا کے کر رہے ہیں۔ سود کو ریاست کی سطح پر ممنوع قرار دے کر ہر نوعیت کا سودی کاروبار بند کرا دیا جائے تو یہ، البتہ قانون کی خلاف ورزی کے مجرم ٹھیرائے جا سکتے ہیں۔ حدیث میں اگر اِنھی کا ذکر ہے تو اُس کو پھر اُس موقع سے متعلق ماننا چاہیے، جب سودی کاروبار زمانۂ رسالت میں اِسی طریقے سے بند کرا دیا گیا تھا۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ بچت کی مذکورہ اسکیمیں عام سودی معاملات کی طرح نہیں ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِن اسکیموں کے ذریعے سے حکومتیں قرض دینے والوں کی شرائط پر نہیں، بلکہ اپنی شرائط پر قرض لیتی ہیں۔ پھر یہی نہیں، اُس کے لیے منفعت کی شرح بھی خود طے کرتی اور اپنی صواب دید سے اُسے کم و بیش بھی کر دیتی ہیں۔ یہ اگرچہ بعینہٖ وہ چیز تو نہیں ہے کہ کسی سے قرض لے کر اُس کی طرف سے کسی مطالبے کے بغیر کچھ اضافے کے ساتھ واپس کر دیا جائے، مگر اُس کے قریب ضرور ہے۔ سود کی ممانعت جس زیادتی کو روکنے کے لیے ہوئی ہے، اُس کی شناعت کو معاملے کی یہ صورت بڑی حد تک کم کر دیتی ہے۔ اہل تقویٰ کے لیے تو موزوں یہی ہے کہ اِن سے بھی اجتناب کریں، لیکن عام لوگ، خاص طور پر یتامیٰ، بیوائیں اور ریٹائرڈ ملازمین جو اپنی پونجی کاروباری تجربات کی نذر کرتے ہوئے گھبراتے ہیں، اگر اپنی ناگزیر ضرورتوں کے لیے اِن اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں تو امید کی جا سکتی ہے کہ اِس پر وہ کسی مواخذہ سے دوچار نہیں ہوں گے۔

__________

* بخاری، رقم ۵۳۴۷۔