تعلیمی نظام


ہماری قوم کا ایک بڑا مسئلہ اُس کے تعلیمی نظام کی آفات ہیں۔ اِن میں تین چیزیں بالخصوص قابل توجہ ہیں:

ایک یہ کہ ہماری تہذیبی روایت سے یہ نظام ہمارا رشتہ بتدریج منقطع کر رہا ہے۔ نئی نسلوں سے ملیے تو صاف واضح ہوتا ہے کہ اگلے دس بیس سال میں قومی حیثیت سے ہم اپنی یادداشت شاید کھو چکے ہوں گے۔ اِس سے پہلے عربی زبان سے بے گانگی نے چودہ سو سال اور فارسی سے بے گانگی نے گذشتہ بارہ سو سال ہماری یادداشت سے محو کر دیے ہیں۔ اب یہی معاملہ اردو کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ہماری تہذیبی روایت کے تین سو سال اِس زبان سے وابستہ ہیں۔ اِس سے ہمارا رشتہ کمزور ہوا تو کچھ بھی باقی نہ رہے گا۔ یہ صرف زبان ہے جو تہذیبی روایت کو قائم رکھتی اور پوری حفاظت کے ساتھ اُسے آگے منتقل کرتی رہتی ہے۔ اِس سے محرومی کوئی معمولی حادثہ نہیں ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ہماری آیندہ نسلیں اپنے اساطین علم و ادب کو پڑھنا تو ایک طرف، اُن کے ناموں سے بھی غالباً واقف نہیں ہوں گی۔ یہ کتنا بڑا نقصان ہے؟ اِس کا اندازہ وہی لوگ کر سکتے ہیں جو قومی شخصیت کی تعمیر میں اُن عوامل کی اہمیت کو سمجھتے ہیں جو تہذیبی روایت سے پیدا ہوتے ہیں۔

دوسرے یہ کہ بارہ سال کی عمومی تعلیم ہر شعبۂ زندگی میں اختصاصی تعلیم کے لیے بنیادی مہارت فراہم کرتی ہے، مگر دین کا عالم بننے کے لیے اِس طرح کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرتی۔ دینی مدارس اِس کوتاہی سے پیدا ہوئے ہیں اور جب تک یہ باقی رہے گی، اِسی طرح پیدا ہوتے رہیں گے۔ سوسائٹی کو جس طرح سائنس دانوں، ادیبوں، شاعروں، ڈاکٹروں اور انجینئروں کی ضرورت ہے، اِسی طرح دین کے جید علما کی بھی ضرورت ہے۔ اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے اختصاصی تعلیم کی درس گاہیں قائم کی جائیں تو اِن میں داخلے کے لیے بنیادی اہلیت کہاں پیدا ہوگی؟ اِس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

تیسرے یہ کہ ہم کسی شخص کو یہ اجازت تو نہیں دیتے کہ بارہ سال کی عمومی تعلیم کے بغیر وہ بچوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا کسی دوسرے شعبے کا ماہر بنانے کے ادارے قائم کرے، مگر دین کا عالم بننے کے لیے اِس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ اِس مقصد کے لیے طلبہ ابتدا ہی سے ایسے مدرسوں میں داخل کر لیے جاتے ہیں، جہاں اُن کے مستقبل کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ قدرت نے، ہو سکتا ہے کہ اُنھیں ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان یا شاعر و ادیب اور مصور بننے کے لیے پیدا کیا ہو، مگر یہ مدارس اُن کی اہلیت، صلاحیت اور ذوق و رجحان سے قطع نظر اُنھیں عالم بناتے اور شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد زندگی کے کسی دوسرے شعبے کا انتخاب کر لینے کے مواقع اُن کے لیے ختم کر دیتے ہیں۔ پھر جن کو عالم بناتے ہیں، بارہ سال کی عمومی تعلیم سے محرومی کے باعث اُن کی شخصیت کو بھی ایک ایسے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں جس سے وہ اپنے ہی معاشرے میں اجنبی ہو کر رہ جاتے ہیں۔

یہ صورت حال اپنی اصلاح کے لیے غیرمعمولی اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمارے ارباب حل و عقد اِس کی توفیق پائیں تو اِس کے لیے ہماری تجاویز درج ذیل ہیں:

۱۔ مذہبی اور غیرمذہبی اور اردو اور انگریزی ذریعۂ تعلیم کی ہر تفریق ختم کر دی جائے۔ تمام معاشرتی علوم اردو میں، سائنس اور ریاضی انگریزی زبان میں اور دینیات براہ راست عربی زبان میں پڑھائی جائے۔

۲۔ دینی تعلیم کے لیے پہلی پانچ جماعتوں میں صرف نماز کی دعائیں، حج کا تلبیہ اور ق (۵۱) سے الناس (۱۱۴) تک قرآن مجید کے آخری دو باب یاد کرائے جائیں۔ عربی زبان کی تعلیم چھٹی جماعت سے شروع کی جائے، زبان کے ضروری قواعد سکھانے کے بعد قرآن مجید کو ریڈر بنا دیا جائے جسے طلبہ بارھویں جماعت تک پورا ختم کر لیں۔ مطالعۂ پاکستان اور اسلامیات کا جو مضمون اِس وقت شامل نصاب ہے، اُسے ختم کر دیا جائے۔ اِس کی جگہ تاریخ پڑھائی جائے جس میں طلبہ دنیا کی تاریخ بھی پڑھیں اور اِس کے ساتھ پاکستان سمیت مسلمانوں کی پوری تاریخ کا مطالعہ بھی کر لیں۔

۳۔ فارسی اردو کے نہایت قریب ہے۔ اِس کے ضروری قواعد زیادہ سے زیادہ تین ماہ میں پڑھے جا سکتے ہیں۔ آٹھویں سال میں اِسے بھی اردو زبان کی تعلیم ہی کا ایک حصہ بنا کر پڑھا دیا جائے۔

۴۔ سائنس اور آرٹس کے ساتھ نویں سال سے دینیات گروپ شروع کیا جائے جس میں عربی زبان و ادب، تاریخ، فلسفہ، عالمی ادبیات اور دین و شریعت کی مختلف تعبیرات کا مطالعہ اِن مضامین کے ابتدائی تعارف کی حد تک کرادیا جائے۔ جو طلبہ دین کے عالم بننا چاہیں، اُنھیں موقع دیا جائے کہ وہ اِس گروپ کا انتخاب کریں اور اِس شعبے کی اختصاصی تعلیم کے اداروں میں داخلے کی اہلیت اپنے اندر پیدا کر لیں۔

۵۔ طب اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے اداروں کو بھی اختصاصی تعلیم کے اداروں کی حیثیت سے قومی تعلیمی نظام کا حصہ بنایا جائے۔ نیز پابند کیا جائے کہ بارہ سال کی عمومی تعلیم کے بغیر وہ کسی طالب علم کو اپنے اداروں میں داخل نہیں کریں گے۔ اِن میں سے جو ادارے اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلمہ معیارات کے مطابق ہوں، اُن کی ڈگریاں اِن اصلاحات کے بعد بی اے، ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے تسلیم کر لی جائیں۔