تقلید اور اجتہاد


موجودہ زمانے میں مسلمان علما کی غالب اکثریت تقلید جامد کو بطور اصول اختیار کیے ہوئے ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ احکام دینیہ کی تعبیر و تشریح کے حوالے سے قدیم علما کا کام ہر لحاظ سے مکمل ہے۔ ان کے کام کی تفہیم اور شرح و وضاحت تو ہو سکتی ہے، مگر اس پر نظر ثانی کی کوئی گنجایش نہیں ہے ۔ دور اول کے فقہا نے جو اصول و قوانین مرتب کیے ہیں، وہ تغیرات زمانہ کے باوجود قابل عمل ہیں۔ اس ضمن میں تحقیق و اجتہاد کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس بات کااب کوئی امکان ہے کہ کوئی شخص مجتہد کے منصب جلیلہ پر فائز ہو سکے۔اس نقطۂ نظر اور اس پر اصرار کے باوصف واقعہ یہ ہے کہ یہ اہل علم فکر اسلامی کے بارے میں پیدا ہونے والے متعدد شکوک و شبہات رفع کرنے اورنفاذ شریعت کے حوالے سے بعض سوالات کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت مسلمانوں میں ایک طرف ایسے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو ان علما کے زیر اثر تقلید جامد کے اسیر ہیں اور دوسری طرف وہ نسل پروان چڑھ رہی ہے جو رد عمل کے طور پراسلام کو ایک قصۂ پارینہ قرار دے کر جدیدفلاسفہ سے کسب فیض کرنے کے لیے بے تاب ہے ۔

ہمارے اہل دانش علما کے اس رویے کو غلط قرار دیتے ہیں ۔ اس پر تنقید کرتے ہوئے ان کی تقریر بالعموم یہ ہوتی ہے کہ علماے امت صدیوں سے تقلید کے طریقے پر گام زن ہیں۔ وہ ماضی بعید کے اہل علم کی تحقیقات اور آرا ہی کو حرف آخر سمجھتے اور قرآن و سنت پر ازسرنو غور کرنے کے خلاف ہیں۔مگر موجودہ زمانے میں تمدن کے ارتقا نے جو مسائل پیدا کر دیے ہیں، وہ ان سے صرف نظر کرتے ہوئے قدیم علما ہی کی دینی توضیحات کو اختیار کرنے پر مصر ہیں۔ چنانچہ اس امر کی ضرورت ہے کہ اجتہاد کے بند دروازے کو کھولا جائے اور اہل علم دور جدید کے تقاضوں کے پیش نظر قرآن و سنت کے احکام کی تعبیر و تشریح کریں۔

اس تصور کے تناظر میںیہ سوالات عام طور پر ذہن میں پیدا ہوتے ہیں کہ کیاقرآن و سنت کے احکام میں مرور زمانہ کے ساتھ ترمیم و تغیر ہو سکتا ہے، کیا ان معاملات میں بھی اجتہاد ہو سکتا ہے جن میں قرآن و سنت نے نہایت واضح احکام دیے ہیں، کیا قرآن و سنت کی شرح و وضاحت کے بارے میں ہم علما کی تحقیقات کو اجتہاد ہی سے تعبیر کریں گے؟ ان سوالات کے حوالے سے یہ مناسب ہے کہ یہاں مختصر طور پر اجتہاد کا مفہوم اور اس کا دائرۂ کار بیان کر دیا جائے۔

اجتہاد کا لغوی مفہوم کسی کام کو پوری سعی و جہد کے ساتھ انجام دینا ہے۔ اس کا اصطلاحی مفہوم یہ ہے کہ جس معاملے میں قرآن و سنت خاموش ہیں ، اس میں نہایت غورو خوض کر کے دین کے منشا کو پانے کی جد و جہد کی جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام سے منسوب روایات کی روشنی میں اجتہاد کا دائرۂ کار حسب ذیل نکات کی صورت میں متعین کیا جا سکتا ہے:

۱۔اجتہاد کا تعلق انھی معاملات سے ہے جو کسی نہ کسی پہلو سے دین و شریعت سے متعلق ہیں۔

۲۔انسانوں کو انفرادی یا اجتماعی حوالے سے جب بھی قانون سازی کی ضرورت پیش آئے تو انھیں چاہیے کہ وہ سب سے پہلے قرآن و سنت سے رجوع کریں ۔

۳۔ جن معاملات میں قرآن و سنت کی رہنمائی موجود ہے، ان میں قرآن و سنت کی پیروی لازم ہے ۔

۴۔ جن معاملات میں قرآن و سنت خاموش ہیں ،ان میں انسانوں کو چاہیے کہ اپنی عقل و بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے آرا قائم کریں ۔

ان نکات کی بنا پر یہ بات بطور اصول بیان کی جا سکتی ہے کہ شریعت محل اجتہاد نہیں ہے، بلکہ محل اتباع ہے۔ محل اجتہاد صرف وہی امور ہیں جن کے بارے میں شریعت خاموش ہے۔ چنانچہ اجتہاد ی قانون سازی کرتے ہوئے، مثال کے طور پر عبادات کے باب میں، یہ قانون نہیں بنایا جا سکتا کہ تمدن کی تبدیلی کی وجہ سے اب نماز فجر طلوع آفتاب کے بعد پڑھی جائے گی؛ معیشت کے دائرے میں یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ اب زکوٰۃ ڈھائی فی صد سے زیادہ ہو گی؛سزاؤں کے ضمن میں یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ مثلاً قتل کے بدلے میں قتل کے بجائے عمر قید کی سزا دی جائے گی۔گویا شریعت کے دائرے میں علما اور محققین کا کام صرف اور صرف یہی ہے کہ احکام کے مفہوم و مدعا کواپنے علم و استدلال کے ذریعے سے متعین کرنے کی کوشش کریں۔اس میں ان کے لیے کسی تغیر و تبدل کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔البتہ ،جس دائرے میں شریعت خاموش ہے، اس میں وہ دین و مذہب، تہذیب و تمدن اور عرف و رواج کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہر طرح کی قانون سازی کر سکتے ہیں۔

اس باب میں جس طرز عمل کی اصلاح کی ضرورت ہے ، وہ مخصوص علماے سابق کی تحقیقات یا اجتہادات پر عمل درآمد کے لیے اصرار ہے۔ اس طرح کی کوئی پابندی اسلام نے عائد نہیں کی۔ اس نے ہر زمانے کے ہر شخص کو اس بات کا حق دیا ہے کہ وہ تحقیق و اجتہاد کی صلاحیت بہم پہنچانے کے بعد دینی احکام کے حوالے سے اپنی آرا پیش کرے اور ان کے لیے رائے عامہ کو ہموار کرے۔

________

ایک ضروری وضاحت

ہمارے ممدوح و مخدوم اور مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگرد رشید علامہ خالد مسعود کی یاد میں سہ ماہی ''تدبر'' کا خصوصی شمارہ شائع ہوا ہے۔ اس میں ''ایک پرعزم محقق'' کے زیر عنوان ڈاکٹر منصور الحمید صاحب کا مضمون شامل ہے ۔ اس مضمون کے بعض مندرجات کے بارے میں جناب خالد مسعود کے داماد نعیم احمد بلوچ صاحب نے مدیر ''اشراق'' جناب جاوید احمد غامدی سے استفسار کیا ہے ۔ مدیر ''اشراق'' نے اس کا جوجواب دیا ہے ، وہ من و عن حسب ذیل ہے :

۲۰ مارچ ۲۰۰۴ء

محترمی ومکرمی نعیم احمد بلوچ صاحب

السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔عنایت نامہ ملا ۔آپ نے رسالہ ''تدبر ''میں منصور الحمید صاحب کے مضمون کے بعض مندرجات کے بارے میں پوچھا ہے ۔آپ جانتے ہیں کہ میں اس طرح کی چیز وں پربالعموم کوئی تبصرہ کرنا پسند نہیں کرتا ۔تاہم ریکارڈکی درستی کے لیے یہ چند باتیں عرض کررہا ہوں ۔

اولاً،میرے کسی ادارے کے ساتھ ''جماعت اسلامی ''نے کسی نوعیت کا کوئی مالی تعاون کبھی نہیں کیا ۔منصور صاحب نے جس ادارے کا ذکر کیا ہے ،وہ میں نے مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی کے ایما سے اور ان کی ہدایت کے مطابق ان کے گھرکے پاس ۱۔اے ذیلدار پارک اچھرہ میں انھی کی دی ہوئی عمارت میں قائم کیا تھا ۔میر ی عمر اس وقت کم و بیش چوبیس سال تھی ۔اس کے معاملات کو چلانے کے لیے میرے اور مولانا کے نام سے ایک مشترک اکاؤنٹ حبیب بنک اچھرہ میں کھولا گیا جس میں مولانا اپنی جیب سے ایک ہزار روپے ماہانہ جمع کراتے تھے ۔اس سے آپ مجھ پرمولانا کے اعتماد اوراس ادارے کے ساتھ مولانا کے تعلق کا اندازہ کر سکتے ہیں ۔

ثانیاً،''ادارہ تدبر قرآن وحدیث''بھی میر ی جدوجہد سے قائم ہوا ۔اس کا دستور میر ے ہی قلم کا لکھا ہوا ہے ۔اس زمانے میں جناب خالد مسعود صاحب اوران کے رفقا کا رویہ میرے ساتھ کیا رہا ،اس کے متعلق نہ میں نے اس سے پہلے کبھی کچھ کہا ہے اورنہ اب کہوں گا ،اس لیے کہ وہ میرے بزرگ تھے اوراس طرح کے معاملات میں میں اس بات کا قائل ہوں کہ خطائے بزرگاں گرفتن خطاست ۔

ثالثاً،میں نے اپنے مخاطبین کے لیے ایک خاص سطح ہمیشہ سے طے کررکھی ہے ۔اس سے نیچے اتر کر کوئی شخص گفتگو کرے تو میں کبھی اس کا جواب نہیں دیتا ۔اس طرح کے لوگوں کے لیے یہ دعا ،البتہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ انھیں اختلاف کے ساتھ اعتراف کا حوصلہ اوردوسروں کی مذمت کیے بغیر اپنے ممدوحین کو خراج تحسین پیش کرنے کا سلیقہ عطافرمائے۔ —- جاوید

______________