تہذیب مشرق


پیغمبر عربی کے پیرووں نے جب فارس و ہند کی سرزمین کو اسلامی سلطنت میں شامل کیا تواس خطۂ ارضی میں ایک نئی تہذیب کی بنیاد پڑی۔لوگ وشنو و شیوا اور یزداں و اہرمن کی رزم گاہوں سے نکل کر وحدہ لا شریک کے مامن میں داخل ہوئے۔ ''وید ''اور ''گیتا'' متروک ہوئیں اور''قرآن '' کتاب ہدایت کی حیثیت سے رائج ہوا ۔ رام و کرشن اور رستم و سہراب کے بجائے ابو بکر و عمر اور عثمان و علی ہیرو قرار پائے۔ ہم ساکنان عجم کی شایستگی اہل عرب کی صلابت سے، ہماری ندرت ان کی سادگی سے، ہماری کم آمیزی ان کی بے تکلفی سے ، ہماری وضع داری ان کی راست بازی سے ، اور ہماری دانش ان کی متانت سے ہم آہنگ ہوئی۔ عرب و عجم کی اس ہم آہنگی سے رسم و رواج بدلے، آداب معاشرت تبدیل ہوئے، لباس کی وضع قطع میں تبدیلی آئی، کھانے پینے اور رہنے بسنے کے انداز متغیر ہوئے ، زبانوں میں ارتقا ہوا اور بالآخر فارس و ہند کی تہذیب ایک نئی تہذیب کی صورت میں صفحۂ ہستی پر نمایاں ہوئی ۔ یہی تہذیب ہے جسے تہذیب مشرق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کے عناصر ترکیبی علامہ اقبال نے ان الفاظ میں بیان کیے ہیں:

طلوع ہے صفت آفتاب اس کا غروب

یگانہ اور مثال زمانہ گوناں گوں

نہ اس میں عصررواں کی حیا سے بے زاری

نہ اس میں عہد کہن کے فسانہ و افسوں

حقائق ابدی پر اساس ہے اس کی

یہ زندگی ہے، نہیں ہے طلسم افلاطوں

عناصر اس کے ہیں روح القدس کا ذوق جمال

عجم کا حسن طبیعت ، عرب کا سوز دروں

اس تہذیب کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ اس کی بنا خاندان کے استحکام پر استوار ہے۔اس میں رشتوں کا تقدس ہر حال میں قائم رکھا جاتا ہے۔ اگر کوئی اسے پامال کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف خاندان ، بلکہ معاشرہ اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ماں باپ، بہن بھائی ، بیٹا بیٹی اور میاں بیوی کے رشتوں کے علاوہ دادا، دادی، نانا ، نانی ، چچا، تایا ، ماموں، پھوپھی اور خالہ کے رشتے بھی اپنے انفرادی تشخص کے ساتھ ظہور پذیر ہوتے اور خاندان کے افراد کو رشتوں کی ایک مضبوط لڑی میں پرو دیتے ہیں۔اس تہذیب میں بزرگوں کے احترام کو ایک عظیم قدر مانا جاتا ہے۔اولاد جواں عمری میں بھی والدین کی تادیب و تنبیہ کو باعث افتخار سمجھتی ہے۔ گھر میں ، بازار میں، محفل میں بزرگوں کا وجود باعث رحمت تصور کیا جاتا ہے اور ان کی خدمت کے لیے مسابقت کو پسند کیا جاتا ہے۔اس تہذیب میں شوہر، باپ ، بھائی اور بیٹے کی حیثیت سے مرد کو خاندان کی کفالت کا ذمہ دارسمجھا جاتا ہے۔ اس کی یہ ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ عورت بیوی، ماں، بہن اور بیٹی کی حیثیت سے گھریلو ذمہ داریاں پوری یک سوئی سے انجام دیتی رہے۔ چنانچہ اس بات کو پسند نہیں کیا جاتا کہ کسی ناگزیر ضرورت کے بغیر خواتین معاشی جدوجہد کے لیے سرگرم ہوں۔ اس تہذیب میں عورت کا اصل دائرۂ عمل اس کا گھر قرار پاتا ہے۔ اس کی تمام توانائی اس کے بچوں کی نشو و نما اور اس کے خاندان کے استحکام پر صرف ہوتی ہے۔ وہ ماں، بہو اور بیوی کے روپ میں اپنا وجود خاندان کی بقا کے لیے وقف کر دیتی ہے ۔ ان حیثیتوں میں وہ ایثار و محبت کی لازوال داستانیں رقم کرتی ہے ۔ اس تہذیب میں استاد اپنے طلبہ کو محض علوم و فنون سے فیض یاب نہیں کرتا، بلکہ اس کے ساتھ ان کی اخلاقی تربیت کو اپنا مسئلہ بناتا ہے۔ وہ طلبہ کواپنے بچوں کی طرح انگلی پکڑ کر چلاتا ہے۔ بے دھیانی پر خفگی کا اظہار کرتا ہے اور توجہ پر سراپا شفقت ہو جاتا ہے۔ طلبہ خود رو پودوں کی طرح آپ سے آپ پروان نہیں چڑھتے ، بلکہ اپنی تراش خراش اور نشوو نما کی ذمہ داری پورے اعتماد کے ساتھ اپنے استاد کے سپرد کرتے ہیں۔ پہلے وہ پوری یک سوئی کے ساتھ استاد کے رنگ میں رنگتے ہیں اور پھر اسی کے رنگ سے اپنا نیارنگ نمایاں کرتے ہیں۔ اس تہذیب میں دن فجر سے طلوع ہوتا اور عشا پر مکمل ہو جاتا ہے۔ انسان فطرت کے مقرر کردہ اوقات میں معمولات زندگی انجام دیتے ہیں۔اس تہذیب میں لباس حیا اور عفت کو ملحوظ رکھ کر وضع کیا جاتا ہے ۔ یہ لباس محض تن ڈھاپنے کا سامان نہیں کرتا، بلکہ تہذیبی تشخص کی علامت قرار پاتاہے۔ بول چال اور میل جو ل میں شایستگی اس تہذیب کا طرۂ امتیاز ہے۔ تکریم، تکلف، رکھ رکھاؤ اوراپنائیت کے خاص اسالیب ہیں جو اس کی زبانوں میں نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔اس تہذیب میں کھانے پینے کے خاص آداب ہیں۔ کھانے سے پہلے ہاتھ دھونا، بسم اللہ پڑھ کر شروع کرنا،دائیں ہاتھ سے کھانا، مل جل کر کھانا، بڑوں کو پہلے پیش کرنا، یہ سب آداب دستر خوان پر اس تہذیب کو اجاگر کرتے ہیں۔اعزہ اور احباب کے لیے ایثار اور اخلاص کو اس تہذیب میں ایک لازمی قدر کی حیثیت حاصل ہے۔

یہ تہذیب جو ایک ہزار سال تک مشرق کے افق پر سورج کی طرح روشن رہی ، گزشتہ تین صدیوں سے روبہ زوال ہے۔ تہذیب مغرب کا استیلا لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں یہ تہذیب اپنا تشخص کھوتی چلی جا رہی ہے۔ خاندان کی بنیادیں کمزور ہو رہی ہیں، رشتوں میں فاصلے پیدا ہو رہے ہیں، بزرگوں کے احترام کی پہلی سی صورت باقی نہیں رہی، بچے عدم التفات کا شکار ہونے لگے ہیں،باحیا لباس متروک ہو تے جارہے، بول چال اور تعلقات میں شایستگی کا عنصر کم ہو رہا ہے ، آپس میں بے گانگی کی فضا قائم ہو نے لگی ہے، عفت اور حیا کے معاملے میں بے پروائی کا رویہ اختیار کیا جانے لگا ہے اور عربی، فارسی اور اردو کے بجائے انگریزی کو ذریعۂ اظہار بنایا جا رہا ہے ۔ تہذیب مشرق کے زوال کی یہ صورتیں ہمارے شہروں میں نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔زوال کا یہ سلسلہ جس سرعت سے جاری ہے، اگراس کی یہی رفتار قائم رہی تو وہ زمانہ دور نہیں جب ہماری یہ تہذیب خدانخواستہ ماضی کا افسانہ بن جائے گی۔

ہمارے ارباب دین و دانش مسلمانوں کی سیاسی ہزیمت پر نوحہ کناں ہیں، ان کے باہمی افتراق کے درد میں مبتلا ہیں، عامتہ الناس کی فقہ و قانون سے ناواقفیت پر رنجیدہ ہیں،دنیا پر مسلمانوں کے غلبے کے لیے تڑپ رہے ہیں، مگر جس تہذیبی زوال پر انھیں خون کے آنسو رونا چاہیے،وہ اس سے بالکل بے خبر محسوس ہوتے ہیں۔استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے یہ الفاظ شاید ان کی توجہ اس حادثے کی طرف مبذول کرا سکیں اوروہ ہماری تہذیب کو موت کے منہ میں جانے سے روک لیں :

''میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ اسلام کی جنگ اگر تہذیب کے میدان میں ہار دی گئی تو پھر اسے عقائد و نظریات کے میدان میں جیتنا بھی بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس وجہ سے میں اپنے ان دوستوں کی خدمت میں جو اُردو اور شلوارقمیص اور اس طرح کی دوسری چیزوں پر میرے اصرار کو دیکھ کر چیں بہ جبیں ہوتے ہیں، بڑے ادب کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ میں صرف فکر مغرب ہی کو نہیں، اس کی تہذیب کو بھی اپنے وجود کے لیے زہر ہلاہل سمجھتا ہوں۔ چنانچہ میں جس طرح اس کے فکری غلبہ کے خلاف نبرد آزما ہوں، اسی طرح اس کے تہذیبی استیلا سے بھی برسر جنگ ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ اس معرکہ میں فتح کس کی ہو گی، لیکن یہ میرے ایمان کا تقاضا ہے کہ میں اسی طرح پوری قوت کے ساتھ اس سے لڑتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جاؤں۔ میں نے جب اپنے زمانۂ طالب علمی میں پہلی مرتبہ ''ضرب کلیم'' کی لوح پر یہ جملہ لکھا ہوا دیکھا کہ: ''اعلان جنگ دور حاضر کے خلاف'' تو حقیقت یہ ہے کہ اس کی معنویت مجھ پر واضح نہیں ہوئی، لیکن اب میں جانتا ہوں کہ دورحاضر سے یہاں اقبال کی مراد کیا ہے، اور اس نے یہ کیوں ضروری سمجھا کہ وہ اس زمانے کے چند باطل نظریات ہی کے خلاف نہیں، بلکہ پورے دور حاضر کے خلاف اعلان جنگ کر دے۔ میں اپنے دوستوں کی خدمت میں بھی یہی عرض کروں گا کہ ہو سکے تو وہ بھی خلوت میں کبھی ''ضرب کلیم'' پڑھیں۔ اس لیے کہ:

فغان نیم شبی بے نواے راز نہیں''

(مقامات ۹۱)