’’عروج و زوال کا قانون اور پاکستان‘‘


مصنف: ریحان احمد یوسفی ،

ضخامت: ۱۷۶ صفحات ،

قیمت: ۱۲۰ روپے ،

ناشر: دارالتذکیر، رحمان مارکیٹ ، غزنی اسٹریٹ ، اردو بازار ، لاہور ۔

مسلمانوں کا قومی زوال اب ہر شخص کے لیے معلوم و معروف واقعہ ہے۔کچھ عرصہ پہلے تک اس کا مشاہدہ قوم کے ارباب نظر ہی کر رہے تھے،مگر قومی ہزیمت کے پے در پے واقعات نے اسے مشہود حقیقت کی حیثیت سے عوام الناس کے سامنے بھی عیاں کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملی حمیت رکھنے والا ہر فردصورت احوال سے دل گرفتہ اور قومی عظمت رفتہ کی بحالی کے لیے مضطرب نظر آتاہے۔ یہ دل گرفتگی اور اضطراب اس پہلو سے خوش آئند ہے کہ کارواں کے دل میں احساس زیاں پیدا ہو گیا ہے۔ اس احساس کے پیداہو جانے کی وجہ سے قوم اس سطح پر نظر آتی ہے کہ اگر اسے صحیح رہنمائی میسر ہو تو وہ اسباب زوال کو جان کر ان کے تدارک کی تدبیر کر سکتی اورتعمیر و ترقی کی راہوں پر گام زن ہو سکتی ہے۔مگر المیہ یہ ہے کہ قائدین کی اکثریت قوم کے شعور کو بیدار کرنے کے بجائے اس کے جذبات کو انگیخت کر رہی ہے اور اسے ان راستوں کی طرف دھکیل رہی ہے جو سرتاسر بربادی کی طرف لے جا نے والے ہیں۔ ان حالات میں جن معدودے چند لوگوں نے قوم کے شعور کو بیدار کرنے کا علم بلند کیا ہے، ان میں ایک نمایاں نام جناب ریحان احمد یوسفی کا ہے۔ ''عروج و زوال کا قانون اور پاکستان '' ان کی گراں قدر تصنیف ہے۔ اس میں انھوں نے اہل اسلام، بالخصوص اہل پاکستان کو ان حقائق سے آگاہ کرنے کی سعی کی ہے جوقوموں کے عروج وزوال اور ان کی فنا و بقا کے حوالے سے علوم قرآنی اور علوم تاریخ میں مسلم ہیں اور جن سے آگاہی کے بعد ہی کوئی قوم اپنی تعمیر و ترقی کے راستوں کو متعین کر سکتی ہے۔ یہ تصنیف جذبات کو انگیخت کرنے کی عام روش سے ہٹ کر قوم کے شعور کو بیدار کرنے کی کاوش ہے اور اس کے بارے میں مصنف کی یہ توقع بالکل بجا ہے کہ یہ فکری جمود کی فضا میں ارتعاش کا پہلا پتھر ثابت ہوگی:

'' مجھے یہ یقین ہے پچھلی دو صدیوں میں جو غیر علمی اور جذباتی فضا ہمارے ہاں پروان چڑھی ہے اس میں ایسی کسی تحریر سے قوم کی ذہنیت میں کسی انقلاب کے رونما ہونے کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔تاہم اتنی امید ضرور ہے کہ یہ تحریر جمود کی اس فضا میں ارتعاش کا پہلا پتھر ضرور ثابت ہوگی۔''(۱۲)

یہ کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے۔ہر حصے کو مصنف نے مختلف بنیادی اور ذیلی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ حصۂ اول کا عنوان ہے: ''عروج و زوال کا قانون تاریخ کی روشنی میں''۔ اس عنوان کے تحت پہلے عروج و زوال کا مفہوم اور اس کی اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ فرد اور قوم ،دونوں کواپنی زندگی میں عروج وزوال سے سابقہ پیش آتا ہے۔ فردجب شباب کے عروج اور پیری کے زوال سے گزرتا ہے تو گویا وہ زبان حال سے عروج و زوال کے ابدی قانون ہی کی داستان سناتا ہے ۔ قوم بھی اسی طرح طفولیت، شباب اور کہولت کے ادوار سے گزرتی ہے۔ اس بحث میں چند باتیں اساسی اصول کی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ عروج وزوال ایک تدریجی عمل ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ عمل اسباب و عوامل پر منحصر ہے اور تیسرے یہ کہ یہ ان قوانین سے متصل ہے جو اذن خداوندی سے دنیا میں جاری و ساری ہیں۔

دوسری بحث عروج و زوال کے ان مراحل کے بارے میں ہے جو قوموں کی زندگی میں پیش آتے ہیں۔ اس بحث کی تمہید میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اقوام خواہ سپر پاور کی حیثیت رکھتی ہوں یا کسی سپر پاور کے ماتحت ہوں، وہ بہرحال عروج و زوال کے عمل سے گزرتی ہیں، ماتحت اقوام کا یہ عمل البتہ بڑی طاقتوں ہی کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اس موقع پر مصنف نے عام طور پر پائے جانے والے اس تاثر کی نفی کی ہے کہ عالمی طاقتوں کا وجود کوئی حالیہ واقعہ ہے۔ لکھتے ہیں:

''ناواقف لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک یا ایک سے زیادہ سپر پاو رز کاموجودہ معاملہ صرف آج شروع ہوا ہے۔یہ بات درست نہیں ہے ۔یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا تھا جب انسانوں نے گروہوں کی شکل میں رہنا شروع کیا تھا اور آج کے دن تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مصری، ایرانی، یونانی، رومی ، عرب، ترک، یورپین، روسی اور اب امریکی سب اسی سلسلۂ عروج وزوال کی کڑیاں ہیں۔'' (۲۳)

قوموں کے عروج و زوال کو مصنف نے ۷ مراحل میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا مرحلہ ''دور تشکیل'' ہے۔ اس مرحلے میں کوئی قوم مختلف عوامل کے نتیجے میں معرض وجود میں آتی ہے۔ اسی موقع پر قوم کی نفسیات اور مزاج تشکیل پاتا ہے۔ یہی نفسیات اور یہی مزاج اگلے مراحل میں قوم کے رویوں کو متعین کرتا ہے۔دوسرا مرحلہ ''تعمیر و شناخت کا دور'' ہے۔ اس کا آغا ز اس وقت ہوتا ہے جب قوم کے مختلف گروہ باہمی طور پر اس قدر مربوط ہو جاتے ہیں کہ ان کی شناخت ایک ہو جاتی ہے۔اسی موقع پر قومی عصبیت جنم لیتی ہے جو یک جہتی کے لیے بنیادی کردار اداکرتی ہے۔اسی مرحلے میں مصلحین پیدا ہوتے ہیں اور ان کی رہنمائی میں قوم اپنے لیے ایک واضح لائحۂ عمل متعین کرتی ہے۔تیسرا مرحلہ ''دور ترقی و استحکام'' ہے۔تعمیر و شناخت کے کٹھن مرحلے سے گزرنے کے بعد ترقی اور استحکام کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔اس زمانے میں جدید ضرورتوں کے مطابق نظام وضع ہوتے اور ادارے فروغ پاتے ہیں اور قوم معاشی استحکام اور فلاح و بہبود کے لحاظ سے عظمت کی بلندیوں کو چھونے لگتی ہے۔ اس مرحلے میں اگر قوم کے سامنے کوئی داخلی یا خارجی چیلنج نہ آئے تو وہ ایک لمبے عرصے تک ترقی کی پرسکون زندگی گزار کر دورانحطاط میں داخل ہو جاتی ہے ، لیکن اگر اسے کوئی چیلنج پیش آ جائے توپھر یہیں سے اس کے چوتھے مرحلے یعنی ''دور عروج و کمال'' کا آغاز ہو جاتا ہے۔خارجی یا داخلی چیلنج کے مقابلے میں قوم اپنی بھرپور توانائی کے ساتھ سرگرم عمل ہوتی ہے اور بالعموم کامیابی سے ہم کنار ہوتی ہے۔اس کامیابی کے بعد وہ قوموں کی حکمرانی کے منصب پر فائز ہو جاتی ہے اور عسکری، سیاسی، معاشی اور تہذیبی پہلووں سے اس کا غلبہ دوسری اقوام پر مسلم ہو جاتا ہے۔ پانچواں مرحلہ ''دور انحطاط'' ہے۔ یہ مرحلہ عروج کے مرحلے سے بالکل متصل ہوتا ہے۔ اس دور میں افراد قوم عیش و عشرت اور فارغ البالی کی زندگی اختیار کر لیتے ہیں اور قوم زوال کی طرف بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔ چھٹا مرحلہ ''دور زوال'' ہے۔ اس دور میں اندرونی خلفشار کا آغاز ہو جاتا ہے اور اس سے فائدہ اٹھا کر دیگر اقوام تاخت شروع کر دیتی ہیں۔ اسی موقع پر قوم دوسری اقوام کی محتاجی اختیار کرنا شروع کر دیتی ہے۔ ساتواں اور آخری مرحلہ ''تباہی اور خاتمہ'' ہے ۔ یہ دور زوال کا منطقی انجام ہے۔ اس مرحلے میں قوم اپنی شناخت کے لحاظ سے صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہے۔

حصۂ اول میں تیسری بحث کا عنوان ''عروج و زوال کے عمل میں مختلف گروہوں کی اہمیت'' ہے۔اس بحث میں مصنف نے قومی زندگی کے جملہ اجزاے ترکیبی کی نوعیت اور مختلف پہلووں سے ان کی اہمیت کو بیا ن کیا ہے۔ مصنف کے نزدیک یہ اجزاے ترکیبی قائدین، اشرافیہ، عوام الناس اور ادارے ہیں۔ ان میں سے اہم ترقائدین ہیں۔ یہ قائدین فکری، مذہبی اور سیاسی، تینوں دائروں میں ہوتے ہیں۔ مصنف کے نزدیک:

''کسی قوم کے عروج و زوال کا بہت حد تک انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے اچھے قائدین میسر ہیں یا نہیں۔قومی جسد میں قائدین کی حیثیت دماغ کی سی ہوتی ہے۔انسانی جسم میں دماغ پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں جسم کے عمل یا ردعمل کا تعین کرتا ہے۔ اسی طرح قائدین قومی زندگی کے ہر مرحلے پر قوم کے اندر اور باہر سے اٹھنے والے ہر چیلنج کے جواب میں قوم کا ردعمل متعین کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام حالات میں وہ قومی زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔'' (۴۱)

پہلے حصے کی چوتھی بحث کا موضوع ''عروج و زوال کے عوامل'' ہے۔اس بحث کو مصنف نے غیر اختیاری عوامل اور اختیاری عوامل کے عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔غیر اختیاری عوامل سے مراد وہ عوامل ہیں جو قوم کے ارادہ و اختیار کے ماتحت نہیں ہوتے۔ ان میں سے ایک قوم کی اندرونی توانائی ہے اور دوسراخارجی چیلنج ہے۔اختیاری عوامل بھی دو ہیں۔ ایک اخلاقی اقدار کی پابندی اور دوسرا جدید ٹیکنالوجی پر عبور ہے۔ اس بحث پر حصۂ اول مکمل ہو جاتا ہے۔

حصۂ دوم میں عروج و زوال کے قانون کو قرآن مجید کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔ اس حصے کے پانچ ذیلی مباحث ہیں۔ ان کے عنوان''قرآن اور عروج و زوال کا قانون''، ''رسولوں کی اقوام کے بارے میں عروج و زوال کا قانون'' ، ''امت مسلمہ سے متعلق عروج و زوال کا ضابطہ''، ''آل ابراہیم کا عروج و زوال تاریخ کی روشنی میں'' اور ''آل ابراہیم کے بعد'' ہیں۔ پہلی بحث مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے۔اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ قرآن مجید اصلاً تاریخ کی کتاب نہیں ہے۔ یہ انسانوں کی ہدایت کی کتاب ہے۔ اس میں اقوام عالم کے عروج و زوال کا ذکر ضرور آیا ہے، مگران کا تاریخی پہلو ضمنی ہے۔ اس ضمن میں بنیادی چیز اللہ کی براہ راست ہدایت پانے والی اقوام کے حوالے سے عروج و زوال کے ضوابط ہیں۔ مصنف کے نزدیک ان اقوام کی دو اقسام ہیں: ایک رسولوں کی مخاطب قومیں اور دوسری امت مسلمہ۔ ان اقوام کے عروج و زوال کا معاملہ عام قوانین سے بالکل مختلف ہے۔ اسے قرآن مجید نے بالتفصیل بیان کیا ہے۔ مصنف کے نزدیک ان اقوام کے حوالے سے عروج وزوال کا قانون اور اس کے اطلاقات ختم نبوت کے بعد ختم ہو چکے ہیں۔مصنف نے اس بحث کے اختتام پر اپنے نقطۂ نظر کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ مدرسۂ فراہی کے علما کی تحقیقات پر مبنی ہے۔ لکھتے ہیں:

''اس باب میں ہمارے نقطۂ نظر کی اساس قرآن پر غوروفکر کی اس روایت پر مبنی ہے جس کی طرح پچھلی صدی کے ایک جلیل القدر عالم حمید الدین فراہی نے ڈالی تھی۔پہلی تحقیق ان کے شاگرد امین احسن اصلاحی اوردوسری تحقیق اصلاحی کے شاگرد جاوید احمد غامدی کے قرآن پر غورو فکر کا نتیجہ ہے ۔ ہم نے قوموں کے عروج و زوال پر اس کا اطلاق کرکے ایک منطقی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔'' (۷۳)

اس حصے کی دوسری بحث میں رسولوں کی اقوام کے بارے میں عروج و زوال کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سب سے پہلے انبیا کا مقصد بعثت بیان کیا گیا ہے۔ یعنی وہ انذار اور بشارت کے منصب پر فائز ہوتے ہیں اور اہل ایمان کو جنت کی خوش خبری سناتے ہیں اور منکرین کو جہنم کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ انبیا میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ رسالت کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ نبی اور رسول میں فرق یہ ہوتا ہے کہ نبی کے مخاطبین کے انجام کا فیصلہ تو قیامت تک کے لیے موخر رہتا ہے، مگر رسول کے مخاطبین کا فیصلہ اسی دنیا میں برپا ہو جاتا ہے۔مصنف نے اس کی تفصیل اس طرح کی ہے:

''نبی اور رسول میں بنیادی فرق یہ ہے کہ نبی کے اتمام حجت کے بعد اس کا نتیجہ دنیا میں نکلنا ضروری نہیں ہوتا ، لیکن ایک رسول کے اتمام حجت کے بعد دنیا ہی میں اس کی مخاطب قوم کی مہلت عمر کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نبی لوگوں کو صرف حق پہنچانے تک محدود رہتا ہے۔ وہ آسمان سے وحی کی ہدایت پاتا ہے اور اہل زمین کو اس حق پر مطلع کرتا ہے۔ اس کا یہ ابلاغ حق اس قدر واضح ہوتا ہے کہ لوگ قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں یہ عذر پیش نہیں کرسکتے کہ صحیح بات ان پر واضح نہ تھی۔ تاہم ان کی تکذیب ونافرمانی کے نتیجے میں ان کی مخاطب قوم پر کوئی عذاب نہیں ٹوٹتا۔حتیٰ کہ ان کی قوم اگر انھیں قتل کرڈالے تب بھی ان پر سزا کا فوری نفاذ ضروری نہیں ہوتا۔

تاہم رسول کا معاملہ اس سے ایک قدم آگے ہوتا ہے۔قرآن سے ہمارے سامنے جو تصویر آتی ہے ، اس کے مطابق کسی قوم کی طرف ایک رسول کی بعثت کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی وہ عدالت جو دوسروں کے لیے قیامت کے دن لگنی ہے، اس رسول کی مخاطب قوم کے لیے دنیا میں لگ چکی ہے۔ رسول ، ایک نبی کی طرح نہ صرف اپنی قوم کو اخروی زندگی میں کامیابی اور ناکامی کے بارے میں بتاتے ہیں ، بلکہ اس دنیا میں اپنے پیروکاروں کو کامیابی کی بشارت دیتے اور کفر و نافرمانی پر دنیا میں ہی اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنے رب کا پیغام با صراحت لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور جب ان کی قوم ان کی بات نہیں مانتی تو لازماََ اس دنیا میں ہی خدا کے عذاب کا کوڑا اس قوم پر برس جاتا ہے اور وہ قوم ہلاک کردی جاتی ہے۔ تاہم اگر رسولوں کی بات مان لی جائے تو پھر دنیا میں ہی ان پر خدا کی رحمتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔گویا کہ دنیا میں قوم کا عروج و زوال اب صرف اس رسول سے وابستہ ہوجا تاہے۔ مختصر یہ کہ ایک رسول جب اپنی قوم کو حق سے آگاہ کرتا ہے تو اس کا کیا ہوا اتمام حجت اس درجہ کا قطعی ہوتا ہے کہ اس کے بعد قیامت کے انتظار کی ضرورت باقی نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ رسول کی مخاطب قوم کو دنیا میں ہی ان کے کفر کی پاداش میں فنا کردیتا ہے ۔'' (۷۷)

اس موقع پر جملۂ معترضہ کے طور پر قرآن میں لفظ ''رسول'' کے استعمال پر بھی بحث کی گئی ہے۔ اس کے بعد مختلف آیات کے حوالے سے رسولوں کے اتمام حجت اور اس کے نتیجے میں کفار پر نازل ہونے والے عذاب کو بیان کیا گیا ہے۔اس بحث کے اختتام پر یہ بات بیان کی گئی ہے کہ چونکہ نبوت و رسالت کا دور ختم ہو گیا ہے ، اس لیے رسولوں کے حوالے سے قوموں کے عروج و زوال کا باب اب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ مصنف نے لکھا ہے:

'' محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اب یہ قانون قیامت تک کے لیے ختم ہوگیا۔ اب کسی رسول نے آنا ہے نہ کسی نبی نے۔اس لیے دنیا میں کسی قوم کے عروج و زوال کے لیے اب اس قانون کے کسی پہلو کا کوئی اطلاق نہیں ہوسکتا۔''(۸۷)

حصۂ دوم کی تیسری بحث کا موضوع ''امت مسلمہ سے متعلق عروج و زوال کا ضابطہ'' ہے۔ اس بحث کے تحت پہلے امت مسلمہ کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ مصنف نے تحریر کیا ہے:

''آج سے تقریباََ چار ہزار سال قبل اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت ابراہیم کو کار رسالت کے ساتھ ایک دوسری ذمہ داری کے لیے قبول کیا۔ وہ ذمہ داری یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں مختلف آزمایشوں سے گزارا اور جب وہ ان میں کامیاب ہوگئے تو انھیں انسانیت کی امامت کے لیے منتخب کرلیا۔ اس امامت کے نتیجے میں نبوت و رسالت کا سلسلہ آپ کی اولاد میں خاص کردیا گیا اورآپ کی اولاد میں سے دو عظیم الشان امتیں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان امتوں کی تاسیس کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ وہ شرک کی ان زنجیروں کو بالجبر توڑ ڈالیں جنھوں نے انسانیت کو صدیوں سے جکڑ رکھا تھا۔دوسرے ان کی شکل میں ایک ایسا معاشرہ ہر دور میں انسانوں کے سامنے رہے جو توحید کی بنیاد پر قائم ہو اور جہاں اللہ کے نبیوں کی لائی ہوئی شریعت کے مطابق لوگ ایک خدا پرستانہ زندگی گزارتے ہوں۔اس طرح یہ لوگ نہ صرف انسانوں پر حق کی شہادت دیں بلکہ شمع حق کی صورت، تاریکی میں بھٹکے ہوؤں کے لیے منزل کی طرف رہنمائی کرنے والے بھی بن جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کے عروج کو اپنی فرماں برداری اور ان کے زوال کو اپنی نافرمانی سے مشروط کردیا۔اس طرح حق لوگوں کے لیے تاریخ کی ایک سنی سنائی داستان نہ رہا ، بلکہ حال کی ایک زندہ تصویر بن کر ان کے سامنے مجسم ہوگیا کہ کس طرح خدا اپنے فرماں برداروں پر رحمتیں اور غداروں پر عذاب نازل کرتا ہے۔'' (۹۰)

اس کے بعد قرآنی آیات کے حوالے سے اس پس منظر کی تفصیل کی گئی ہے۔ پھر چوتھی بحث میں ''آل ابراہیم کا عروج و زوال تاریخ کی روشنی میں'' کے زیر عنوان بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کی امامت کی تفصیل کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان اقوام کو دنیا کی امامت کے منصب پر فائز کیااور ان کے عروج کو اپنی اطاعت سے مشروط رکھا۔ جب انھوں نے اللہ کی فرماں برداری کی تو سرفراز ہوئے اور جب نافرمانی کی تواللہ کی سزا کے مستحق ٹھہرے۔ حصۂ دوم میں پانچویں بحث کے تحت آل ابراہیم کو لاحق ہونے والے امراض کی نشان دہی کی گئی ہے۔مصنف کے نزدیک یہ امراض شرک اور ظاہرپرستی ہیں جن کا شکار پہلے بنی اسرائیل اورپھر بنی اسماعیل ہوئے۔ ان امراض کے باعث آل ابراہیم تقریباً تین ہزار سال کے بعد امامت سے معزول ہو گئے۔ یہ معزولی بغداد اور اسپین میں بنی اسمٰعیل کے اقتدار کے خاتمے کے ساتھ عمل میں آئی۔ اس حصے کے اختتام پر مصنف نے یہ مقدمہ قائم کیا ہے کہ بنی اسماعیل کی معزولی کے باوجود امت مسلمہ ہی وہ امت ہے جو اللہ کی آخری شریعت کی حامل ہے ۔ اس بنا پر اس پر دنیا میں خدا پرستانہ معاشرے کے قیام کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لیے دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز ہونے کا انحصار اس عہد و پیمان پر ہے جو یہ بحیثیت مجموعی یا اس کا کوئی حصہ خود آگے بڑھ کر خدا سے باندھ لے۔ مصنف کے نزدیک اہل ترک اور اہل پاکستان نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد باندھا ہے۔ اس بات کی تفصیل مصنف نے ان الفاظ میں بیان کی ہے:

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کل عالم کے لیے ہے اور آپ کی شریعت قیامت تک کے لیے آخری شریعت ہے ، اس لیے بہرحال اس کے وارث بنی اسماعیل کے خاتمہ کے بعد بھی باقی رہے۔اسی طرح امت مسلمہ پر ایک خدا پرستانہ معاشرے کے قیام کی غیر مشروط ذمہ داری بھی اپنی جگہ باقی ہے۔ جہاں تک امت مسلمہ کی قیادت کا تعلق ہے تو آل ابراہیم کے بعد اس کا انحصار اس عہد و پیما ن پر ہے جو کو ئی قوم خود آگے بڑھ کر خدا سے باندھ لے ۔ بنی اسماعیل کے بعد اب تک دو قوموں نے آگے بڑھ کر یہ عہد باندھا ہے۔ پہلی قوم ترک تھی۔ سلطان سلیم نے سن ۱۵۱۷ء میں مصر فتح کیا اور رسمی طور پر خلافت کا بار اپنے سر پر لے لیا۔ عثمانیوں نے خود کو شریعت کا محافظ قرار دیا۔جس کے بعد وہ سیاسی اور روحانی طور پر امت مسلمہ کے امام قرار پائے۔ یہ ان کا عہد تھا جو انھوں نے خدا سے باندھا تھا۔جب تک انھوں نے اس کا حق ادا کیا عروج ان کا مقدر رہا اور جب کوتاہی کی تو زوال کی کھائی میں انھیں گرناپڑا۔ کئی صدیوں تک یہ بار اٹھانے کے بعد کمال اتاترک کی قیادت میں ترکوں نے خلافت کا خاتمہ کرکے اس عہد کو ختم کردیا۔

جس وقت ترکی میں اتا ترک اسلام اور خلافت کو دیس نکالا دے رہے تھے، ہزاروں میل کے فاصلے پر واقع ہندوستان میں امت مسلمہ کاایک غلام گروہ ، خلافت کی بقا کے لیے اپنے انگریز آقاؤں کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا۔ایسی جنگ کے لیے جس میں انھیں کچھ نہیں ملنا تھا ، ان لوگوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیا۔خلافت ختم ہوگئی۔ ان لوگوں کے ہاتھ عالم اسباب میں کچھ نہ آیا۔ مگر شاید ان کی بے پناہ قربانیوں کا اثر تھا کہ یہ قوم خدا کی نگاہ میں آگئی۔

آنے والے سالوں میں حیرت انگیز طور پر حالات اس قوم کے سیاسی اقتدار کے حق میں ہموار ہوتے چلے گئے ...جب اس قوم کی فکری و سیاسی قیادت ، عوام الناس اور بڑی حد تک مذہبی قیادت نے یک سو ہوکر خدا سے یہ عہد کیا کہ اگر وہ انھیں زمین میں اقتدار دے گا تو وہ اسلام کا بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ یہ کم وبیش وہی صورت حال تھی جسے قرآن بنی اسماعیل کے حوالے سے یوں بیان کرتا ہے:

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰھُمْ فِی الْاَرْضِ اَقاَمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکوٰۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَھَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَلِلّٰہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ.(الحج۲۲: ۴۱)

''یہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو سر زمین میں اقتدار بخشیں گے تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے، زکوٰۃ ادا کریں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔''

اہل پاکستان کا معاملہ بھی یہی ہوگیا ۔صرف اس فرق کے ساتھ کہ اس دفعہ یہ بات خدا کی طرف سے نہیں کہی گئی ، بلکہ لوگ آگے بڑھے اور خدا سے یہ عہد کرلیا۔خدا نے ان کے قائدین کی درخواست قبول کرکے راہ کی ہر مشکل کو آسان کیا اور یوں دنیا کی سب سے بڑی مسلم حکومت اور پانچویں عظیم سلطنت کے طور پرپاکستان دنیا کے نقشے پر ظاہر ہوا۔اس طرح اہل پاکستان حضرت موسیٰ کی اس تنبیہ کا مصداق بن گئے جو انھوں نے اپنی غلام قوم یعنی بنی اسرائیل سے کہی تھی:

عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ. (الاعراف۷: ۱۲۹)

''امید ہے کہ تمھارا رب تمہارے دشمن کو پامال کرے گا اور تم کو ملک کا وارث بنائے گاکہ دیکھے تم کیا روش اختیار کرتے ہو''

۔''(۱۱۹)

حصۂ سوم اورچہارم میں پاکستانی قوم کے عروج و زوال کے حوالے سے بحث کی گئی ہے۔ اس ضمن میں جملہ مباحث کی اساس مصنف کا یہ نقطۂ نظر ہے کہ پاکستانی قوم ایک معاہد قوم ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ باقاعدہ ایک عہد میں بندھی ہوئی ہے۔ اس عہد کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں:

''وہ عہد یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ایک خود مختار خطۂ زمین دے تو ہم دنیا کے سامنے ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا نقشہ پیش کرکے دکھائیں گے۔ہم پچھلے باب میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو مسلمان پیدا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے محبوب ہیں، بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ ان کے ذریعے ایک خدا پرستانہ معاشرہ لوگوں کے سامنے قائم رہے۔اہل پاکستان دوسرے مسلمانوں کی طرح اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے پابند ہیں ، مگر انھوں نے ایک عام اسلامی ذمہ داری کو عہد کی شکل دے کر اپنے معاملے کو خاص کرلیا ہے۔ کوئی فرد یا طبقہ ہمارے اس مقدمے کو اگر نہیں مانتا تب بھی وہ اپنے مسلمان ہونے کا منکر تو نہیں ہوسکتا۔ اسلام کے اس اقرار کے بعد خداپرستانہ معاشرہ قائم کرنا،بہرحال، مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔البتہ ہمارے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ ''پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ '' کا نعرہ لگا کرجو ملک حاصل کیا گیا ، اس کے باسیوں کے لیے توحید شریعت سے بے وفائی کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔''(۱۲۳)

اس نقطۂ نظر میں مصنف چونکہ بالکل منفرد ہیں، اس وجہ سے اس امر کی ضرورت تھی کہ اس مقدمے کے لیے وہ اپنے دلائل کو بالتفصیل بیان کرتے ۔ ہمارے نزدیک یہ ایک تشنہ بحث ہے جسے پڑھ کر قارئین کے ذہنوں میں بعض سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا واقعۃً''پاکستان کا مطلب کیا، لا الہٰ الا اللہ'' کا نعرہ سیاسی نہیں، بلکہ خالص مذہبی تھا اور مسلمانان ہند نے اسے اللہ کے ساتھ معاہدے کے شعور کے ساتھ لگایا تھا؟ یہ اگر خالص مذہبی نعرہ تھا تو قوم کی مذہبی قیادت نے اسے کیوں اختیار نہیں کیا؟ یہاں کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ کیا ۱۸۵۷ ء میں چھنے ہوئے اقتدار کی بحالی تو نہیں تھا؟ اور اگر ضمنی طور پر نفاذ اسلام کی تمنا موجود بھی تھی تو کیا اسی طرح کی ایک ضمنی تمنا معاشی ترقی بھی نہیں تھی؟ یہ اور اس نوعیت کے دیگر سوالوں کے جوابات ہی سے مصنف کا مذکورہ نقطۂ نظر موکد ہو کر سامنے آ سکتا ہے۔

مصنف نے عروج و زوال کے مختلف مراحل کو پاکستانی قوم پر منطبق کرتے ہوئے اس کے مختلف ادوار کا تعین کیا ہے۔ دور تشکیل ۷۱۱ء میں محمد بن قاسم کی آمد سے لے کر ۱۷۰۷ ء میں اورنگ زیب عالم گیر کے عہد تک ہے۔ مصنف کے نزدیک تقریباً ہزار سالہ دور میں بر صغیر میں ایک جدید قوم کا ظہور ہوا جو اپنے مذہب، تہذیب، تمدن، روایات، نظام ، اخلاق اور ثقافت کی بنیاد پر اپنی ایک الگ شناخت رکھتی تھی۔ ۱۷۰۷ء سے ۱۹۴۷ ء تک تعمیر و شناخت کا پہلا دور ہے۔ اس میں شاہ ولی اللہ، سرسید احمد خان اور علامہ اقبال نے اس قوم کو راہ عمل دی اور اس کے قومی مزاج کو تشکیل دیا۔ تعمیر و شناخت کا دوسرا دور ۱۹۴۷ء سے زمانۂ حال تک ہے۔ اس زمانے میں انتہا پسندی اور مغربیت کی لہر کی وجہ سے قومی تنزل کی صورت پیدا ہو گئی ہے۔

آخری حصے کا عنوان ''پاکستان کا مستقبل خدشات و امکانات'' ہے۔ اس حصے میں قومی امراض کا جائزہ لیا گیا ہے اور قومی تعمیر کا لائحۂ عمل تجویز کیا گیا ہے۔اس ضمن میں چار امراض کی نشان دہی کی گئی ہے۔ یہ امراض توحید سے اعراض، ظاہر پرستی، اخلاقی پستی اور علمی پس ماندگی ہیں۔کتاب کے آخر میں مصنف نے پاکستانی قوم سے اپنی توقعات کو نہایت دل سوزی کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

''ان مایوس کن حالات میں امید کی کوئی کرن اگر موجود ہے تو وہ یہ ہے کہ اس قوم کے ہر طبقہ میں ابھی تک زندہ لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہر میدان میں نئی قیادت وجود میں آسکتی ہے۔اس کتاب کے اصل مخاطب وہی لوگ ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو نفسانفسی اور خود غرضی کے اس دور میں قوم کے درد میں تڑپتے ہیں۔جو اپنے نقطۂ نظر کے علاوہ دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جو جذباتیت اور انتہا پسندی کے بجائے اصول پسندی کو اپنا معیار بناتے ہیں۔جو دنیاپرست الحادی تہذیب کے مقابلے میں نبیوں کی تہذیب کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ خدا ان کی نگاہ میں ایسا بڑا ہے کہ وہ کسی اور کی بڑائی کو دل میں جگہ نہیں دے سکتے ۔ جو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کواس طرح آخری نبی مان چکے ہیں کہ آپ کے بعد کسی اور کی بات کو وہ حرفِ آخر نہیں سمجھتے۔جو صحابۂ کرام کی طرح حق پر کسی اور چیز کو ترجیح نہیں دے سکتے اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جواس قوم کی تباہ حال تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی لوگ اس دھرتی پر ہماری واحد امیدہیں۔ ''(۱۵۳)

____________