وصیت کا حق


تقسیم وراثت کا جو قانون قرآن میں بیان ہوا ہے، اُس میں بار بار تاکید کی گئی ہے کہ یہ تقسیم اُس وصیت کے بعد ہے جو مرنے والا کسی کے لیے کرتا ہے۔ اِس پر دو سوالات پیدا ہوتے ہیں:

ایک یہ کہ وصیت کے لیے کوئی حد مقرر کی گئی ہے یا آدمی جس کے لیے جتنی چاہے وصیت کر سکتا ہے؟

دوسرا یہ کہ وصیت کیا اُن لوگوں کے حق میں بھی ہو سکتی ہے جنھیں اللہ تعالیٰ نے میت کا وارث ٹھیرایا ہے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں کسی تحدید کے لیے کوئی گنجایش نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق فرمایا ہے کہ یہ تقسیم مرنے والے کی وصیت پوری کرنے کے بعد کی جائے گی۔ زبان و بیان کے کسی قاعدے کی رو سے اِس اطلاق پر کوئی پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے جو روایت اِس معاملے میں نقل ہوئی ہے، اُس کی نوعیت بالکل دوسری ہے۔ آپ کے ایک صحابی نے آپ کے سامنے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں دینا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ زیادہ ہے، آدمی کے پاس مال ہو تو اُسے اپنے وارثوں کو محتاج چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے۔اُنھوں نے دو تہائی اور پھر آدھا مال دینے کے لیے پوچھا۔ اِس پر بھی آپ نے وہی بات فرمائی۔ اُنھوں نے پوچھا کہ ا ا ایک تہائی دے دوں۔ آپ نے فرمایا: یہی بہت ہے۔* ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ خاص صورت حال میں ایک خاص شخص کے فیصلے پر آپ کا تبصرہ ہے۔ اِس کا کسی قانونی تحدید سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ وارثوں کے حق میں خود اللہ تعالیٰ نے وصیت کر دی ہے۔ اللہ کی وصیت کے مقابلے میں کوئی مسلمان اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا یہ بات تو بالکل قطعی ہے کہ اُن کے لیے کوئی وصیت بربناے رشتہ داری نہیں ہو سکتی، مگر اِنھی وارثوں کی کوئی ضرورت یا اِن میں سے کسی کی کوئی خدمت یا اِسی نوعیت کی کوئی دوسری چیز تقاضا کرے تو وصیت یقیناًہو سکتی ہے۔ چنانچہ کسی کا کوئی بچہ اگر زیر تعلیم ہے، دوسرے بچے برسرروزگار ہیں اور وہ ابھی اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکا یا بچوں میں سے کسی نے والدین کی زیادہ خدمت کی ہے یا کسی کو اپنی بیوی کے معاملے میں اندیشہ ہے کہ اُس کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اُس کا کوئی پرسان حال نہ ہو گا تو وہ اِن کے حق میں وصیت کر سکتا ہے۔ یہ وصیت جس طرح دوست احباب کے لیے ہو سکتی ہے، صدقہ و خیرات کی غرض سے ہو سکتی ہے، اِسی طرح اِن وارثوں کے حق میں بھی ہو سکتی ہے۔ اِس میں کوئی چیز مانع نہیں ہے۔

__________

*۔ بخاری، رقم ۲۷۴۲۔ مسلم، رقم ۱۶۲۸۔