آفات روزہ اور ان کا علاج


روزے کی برکات میں سے یہ چند برکات ہم نے بیان کی ہیں، لیکن یہ برکتیں اس صورت میں ظاہر ہوتی ہیں جب آدمی اپنے روزے کو ان تمام آفتوں سے محفوظ رکھ سکے جو روزے کو خراب کر دینے والی ہیں۔ یہ آفتیں چھوٹی اور بڑی بہت سی ہیں۔ ہم تزکیۂ نفس کے طالبوں کی واقفیت کے لیے یہاں چند بڑی آفتوں کا ذکر کریں گے اور ساتھ ہی ان کے وہ علاج بھی بتائیں گے جو قرآن اور حدیث میں بیان ہوئے ہیں تاکہ جو لوگ اپنے روزوں کی حفاظت کرنا چاہیں، ان سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔

لذتوں اور چٹخاروں کا شوق

روزے کی عبادت، جیسا کہ اوپر واضح ہو چکا ہے، اس لیے مقرر کی گئی ہے کہ آدمی اپنی خواہشوں پر قابو پا سکے۔ یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہو سکتا ہے جب آدمی اس مقصد کو روزوں میں ملحوظ رکھے اور ان رغبتوں کو حتی الامکان دبائے جن کے آگے اپنی روز مرہ زندگی میں وہ اکثر بے بس ہو جایا کرتا ہے اور یہ بے بسی اس کو بہت سی اخلاقی اور شرعی کمزوریوں میں مبتلا کر دیتی ہے ،لیکن بہت سے لوگ اس مقصد کو بالکل ملحوظ نہیں رکھتے۔ ان کے نزدیک روزے کا مہینا خاص کھانے پینے کا مہینا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اس مہینے میں کھانے پینے پر جتنا بھی خرچ کیا جائے، خدا کے ہاں اس کا کوئی حساب نہیں ہو گا۔ اس خیال کے لوگ اگر — خوش قسمتی سے — کچھ خوش حال بھی ہوتے ہیں تو پھر تو فی الواقع ان کے لیے روزوں کا مہینا کام و دہن کی لذتوں سے متمتع ہونے کا موسم بہار ہی بن کے آتا ہے۔ وہ روزے کی پیدا کی ہوئی بھوک اور پیاس کو نفس کشی کے بجاے نفس پروری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ وہ صبح سے لے کر شام تک طرح طرح کے پکوانوں کے پروگرام بنانے اور ان کے تیار کرانے میں اپنے وقت صرف کرتے ہیں اور افطار سے لے کر سحر تک اپنی زبان اور اپنے پیٹ کی تواضع میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔ میں ایک ایسے بزرگ سے واقف ہوں جو ایک دین دار آدمی تھے، لیکن ان کا نظریہ یہ تھا کہ رمضان کا مہینا کھانے پینے کا خاص مہینا ہے۔ چنانچہ اس نظریہ کے تحت وہ رمضان کے مہینے کے لیے کھانے پینے کی مختلف چیزوں کا اہتمام بہت پہلے سے شروع کر دیتے تاکہ رمضان میں ان کی تنوعات سے متمتع ہو سکیں۔

ہر شخص جانتا ہے کہ روزہ کھانے پینے کے شوق کو اکسا دیتا ہے۔ لیکن روزے کا مقصود اسی اکساہٹ کو دبانا ہے نہ کہ اس کی پرورش کرنا، اس وجہ سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی قوت کار کو باقی رکھنے کے لیے کھائے پیے تو ضرور، لیکن ہرگز ہرگز کھانے پینے کو اپنی زندگی کا موضوع نہ بنا لے۔ جو کچھ بغیر کسی خاص سرگرمی اور بغیر کسی خاص اہتمام کے میسر آ جائے، اس کو صبر و شکر کے ساتھ کھا لے۔ اگر کوئی چیز پسند کے خلاف سامنے آئے تو اس پر بھی گھر والوں پر غصہ کا اظہار نہ کرے۔ اگر کسی کو خدا نے فراغت و خوش حالی دی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ خود اپنے کھانے پینے پر اسراف کرنے کے بجاے غریب اور مسکین روزہ داروں کی مدد اور ان کو کھلانے پلانے پر خرچ کرے۔ اس چیز سے اس کے روزے کی روحانیت اور برکت میں بڑا اضافہ ہو گا۔ رمضان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فیاضی کا جو حال ہوتا تھا، اس کے متعلق ایک حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ روزہ افطار کرانے کے ثواب سے متعلق ایک حدیث ملاحظہ ہو:

حضرت زید بن خالد جہنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ:

من فطّر صائمًا کان لہ مثل أجرہ غیر أنّہ لاینقص من أجر الصائم شیئًا. (ترمذی، رقم ۸۰۷)

'' جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر ہے۔ اور اس سے روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔''

اشتعال طبیعت

آدمی جب بھوکا پیاسا ہو تو قاعدہ ہے کہ اس کا غصہ بڑھ جایا کرتا ہے۔ جہاں کوئی بات ذرا بھی اس کے مزاج کے خلاف ہوئی فوراً اس کو غصہ آ جاتا ہے۔ روزے کے مقاصد میں سے یہ چیز بھی ہے کہ جن کی طبیعتوں میں غصہ زیادہ ہو، وہ روزے کے ذریعے سے اپنی طبیعتوں کی اصلاح کریں۔ لیکن یہ اصلاح اسی صورت میں ہو سکتی ہے جب آدمی روزے کو اپنی طبیعت کی اس خرابی کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ اگر وہ اس کو اپنی طبیعت کی اصلاح کا ذریعہ نہ بنائے تو اس بات کا بڑا اندیشہ ہے کہ روزہ اس پہلو سے اس کے لیے مفید ہونے کے بجاے الٹا مضر ہو جائے، یعنی اس کی طبیعت کا اشتعال کچھ اور زیادہ ترقی کر جائے۔ جو شخص اس کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنانا چاہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ جب اس کی طبیعت میں اشتعال پیدا ہو یا کوئی دوسرا اس کے اندر اس اشتعال کو پیدا کرنے کی کوشش کرے تو وہ فوراً اس بات کو یاد کرے کہ 'أَنَا صَائِمٌ' میں روزے سے ہوں اور یہ چیز روزے کے مقصد کے بالکل منافی ہے۔ یہ طریقہ اختیار کرنے سے آدمی کو غصہ پر قابو پانے کی تربیت ملتی ہے اور آہستہ آہستہ یہ تربیت اس کے مزاج کو بالکل بدل دیتی ہے، یہاں تک کہ اس کو اپنے غصہ پر اس حد تک قابو حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کو وہ وہیں استعمال کرتا ہے جہاں وہ اس کو استعمال کرنا چاہتا ہے۔

لیکن بہت سے لوگ اسلام کے بتائے ہوئے اس اصول کے بالکل خلاف روزے کو سپر کے بجاے تلوار کے طور پر استعمال کرنے کے عادی بن جاتے ہیں، یعنی روزہ ان کے لیے ضبط نفس کے بجاے اشتعال نفس کا بہانہ بن جایا کرتا ہے۔ وہ بیوی پر، بچوں پر، نوکروں پر اور ماتحتوں پر ذرا ذرا سی بات پر برس پڑتے ہیں، صلواتیں سناتے ہیں، گالیاں بکتے ہیں اور بعض حالات میں مارپیٹ سے بھی دریغ نہیں کرتے اور پھر اپنے آپ کو اس خیال سے تسلی دے لیتے ہیں کہ کیا کریں، روزے میں ایسا ہو ہی جایا کرتا ہے۔

جو لوگ اپنے نفس کو اس راہ پر ڈال دیتے ہیں، ان کے لیے روزہ اصلاح نفس کا ذریعہ بننے کے بجاے ان کے بگڑے ہوئے نفس کو بگاڑنے کا مزید سبب بن جایا کرتا ہے۔ جو روزہ بھی وہ رکھتے ہیں، وہ ان کے نفس مشتعل کے لیے چابک کا کام دیتا ہے جس سے ان کا نفس تیز سے تیز تر ہوتا جاتا ہے۔ جو شخص روزے کی برکتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ روزے کو اپنے نفس کے لیے ایک لگام کے طور پر استعمال کرے اور ہر اشتعال دلانے والی بات کو اسی سپر پر روکے جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگر روزے کے احترام کا یہ احساس طبیعت پر غالب رہے تو آدمی بڑی سے بڑی ناگوار بات بھی برداشت کر جاتا ہے اور اس پر کوئی احساس کم تری طاری نہیں ہوتا، بلکہ اس طرح کی آزمایش کے جتنے مواقع اس کے سامنے آتے ہیں، وہ ہر موقع پر یہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے شیطان پر ایک فتح حاصل کی ہے اور اس فتح کا احساس اس کے غصہ کو ایک راحت و اطمینان کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔

دل بہلانے والی چیزوں کی رغبت

روزے کی ایک عام آفت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ ،جن کے ذہن کی تربیت نہیں ہوئی ہوتی ہے، کھانے پینے اور زندگی کی بعض دوسری دل چسپیوں سے علیحدگی کو ایک محرومی سمجھتے ہیں اور اس محرومی کے سبب سے ان کے لیے دن کاٹنے مشکل ہو جاتے ہیں۔ اس مشکل کا حل وہ یہ پیدا کرتے ہیں کہ بعض ایسی دل چسپیاں تلاش کر لیتے ہیں جو ان کے خیال میں روزے کے مقصد کے منافی نہیں ہوتیں۔ مثلاً یہ کہ تاش کھیلتے ہیں، ناول، ڈرامے اور افسانے پڑھتے ہیں، ریڈیو پر گانے سنتے ہیں، دوستوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکتے ہیں اور بعض من چلے سینما کا ایک آدھ شو دیکھ آنے میں بھی کوئی قباحت نہیں خیال کرتے۔

ان سے زیادہ سہل الحصول دل چسپی بعض لوگ یہ پیدا کر لیتے ہیں کہ اگر ایک دو ساتھی میسر آ جائیں تو کسی کی غیبت میں لپٹ جاتے ہیں۔ روزے کی بھوک میں آدمی کا گوشت بڑا لذیذ معلوم ہوتا ہے اور تجربہ گواہی دیتا ہے کہ اگر روزہ رکھ کے آدمی کو یہ لذیذ مشغلہ مل جائے تو آدمی جھوٹ، غیبت، ہجو اور اس قسم کی دوسری آفتوں کا جن کو حدیث میں 'حصائد اللسان'* سے تعبیر کیا گیا ہے، ایک انبار لگا دیتا ہے اور اسی مشغلہ میں صبح سے شام کر دیتا ہے۔ یہ چیزیں آدمی کے روزے کو بالکل برباد کر کے رکھ دیتی ہیں۔

اس کا ایک علاج تو یہ ہے کہ آدمی خاموشی کو روزے کے ضروری آداب میں سے سمجھے۔ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں کہ پچھلے مذاہب میں چپ رہنا بھی روزے کے شرائط میں داخل تھا۔ چنانچہ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام روزہ کی حالت میں صر ف اشارہ سے بات کر تی تھیں۔ اسلام نے روزہ داروں پر یہ پابندی تو عائد نہیں کی ہے، لیکن اس پابندی کے نہ ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ آدمی روزے میں اپنی زبان کو چھوٹ دے دے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کوئی ضروری اور مفید بات کرنے کا موقع پیش آ جائے تو کر لے، ورنہ خاموش رہے۔ جو شخص ہر قسم کی اناپ شناپ اور جھوٹی سچی باتیں زبان سے نکالتا رہتا ہے، حدیث شریف میں آیا ہے کہ پھر اس کا محض کھانا پینا چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک بالکل بے نتیجہ کام ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:

من لم یدع قول الزور والعمل بہ فلیس للّٰہ حاجۃ في أن یدع طعامہ وشرابہ. (بخاری، رقم ۱۸۰۴)

''جو شخص جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔''

اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی کا جو وقت گھر کے کام کاج اور معاش کی مصروفیتوں سے فاضل بچے اس کو مفید چیزوں کے مطالعہ میں صرف کرے۔ روزے کے دنوں کے لیے قرآن شریف، حدیث شریف، سیرت نبوی، سیرت صحابہ اور تزکیۂ نفس کی کتابوں کے مطالعہ کا ایک باقاعدہ پروگرام بنا لے۔ خصوصیت کے ساتھ قرآن مجید کے تدبر پر پابندی کے ساتھ کچھ نہ کچھ وقت ضرور صرف کرے۔ قرآن مجید کو روزے کی عبادت کے ساتھ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، ایک خاص مناسبت ہے۔ اس مناسبت کے سبب سے روزہ دار پر قرآن مجید کی خاص برکتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ ہر روزہ دار کو ان برکتوں کے حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

قرآن مجید اور ماثور دعاؤں کے یاد کرنے کے لیے بھی آدمی کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالے۔ اس طرح قرآن مجید اور مسنون دعاؤں کا آدمی کے پاس آہستہ آہستہ ایک ذخیرہ جمع ہو جاتا ہے، جو آدمی کے جمع کیے ہوئے مال و اسباب کے ذخیروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتاہے۔

ریا

ریا کا فتنہ جس طرح تمام عباتوں کے ساتھ لگا ہوا ہے، اسی طرح روزے کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے۔ بہت سے لوگ روزے تو رکھتے ہیں، بالخصوص رمضان کے روزے،لیکن ہو سکتا ہے کہ ان میں بہت کچھ دخل اس احساس کو بھی ہو کہ روزے نہ رکھے تو پاس پڑوس کے روزہ داروں میں نکو بننا پڑے گا یا لوگوں میں جو دین داری کا بھرم ہے، وہ جاتا رہے گا یا اپنے گھر اور خاندان والے ہی برا مانیں گے۔ اس طرح کے مختلف احساسات ہیں جو رمضان کے روزوں میں شریک بن جاتے ہیں اور اس طرح وہ خلوص نیت آلودہ اور مشتبہ ہو جایا کرتا ہے جو روزے کی حقیقی برکتوں کے ظہور کے لیے ضروری ہے، اس لیے کہ جس بندے میں خدا کی خوش نودی کے سوا کوئی اور محرک شریک ہو جائے، یہ روزہ وہ روزہ نہیں ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ:

یترک طعامہ و شرابہ و شہوتہ من أجلي. الصیام لي و أنا أجزي بہ. (بخاری، رقم ۱۷۹۵)

''بندہ میرے لیے اپنا کھانا پینا اور اپنی شہوت چھوڑتا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے اور میں اس کا بدلہ دوں گا۔''

بلکہ یہ روزہ اسی غرض کے لیے ہو جائے گا جس غرض کے لیے رکھا گیا ہے۔

اس آفت کا اول علاج تو یہ ہے کہ آدمی اپنی نیت کو ہر دوسرے شائبہ سے حتی الامکان پاک کرنے کی کوشش کرے۔ اسے ہر روز سوچنا چاہیے کہ اپنے روزے کو تمام برکتوں سے محروم کر کے فاقہ کے درجہ میں ڈال دینا انتہائی نادانی ہے، آخر یہ مشقت اٹھانے کا حاصل کیا ہوا، جبکہ یہ دنیا میں بھی موجب کلفت اور آخرت میں بھی موجب وبال بنے؟ اس طرح نفس کے سامنے بار بار روزہ کی قدر و قیمت واضح کرنی چاہیے تاکہ اس کی نگاہ دوسروں کی طرف سے ہٹ کر خدا کی طرف متوجہ ہو۔

اس کا دوسرا علاج یہ ہے کہ آدمی رمضان کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھے اور اس میں دو باتوں کا اہتمام کرے: ایک حتی الامکان اخفا کا، یعنی ان کا اشتہار دینے کی کوشش نہ کرے۔ دوسری اعتدال یا میانہ روی کا، یعنی نفلی روزے اسی حد تک رکھے جس حد تک خواہشات و شہوات کو حالت اعتدال پر لانے کے لیے ان کی ضرورت ہو۔ اگر اس حد سے آدمی بڑھ جائے گا تو وہ چیز خود بھی ایک فتنہ ہے اور اسلام نے اس سے بھی بڑی شدت کے ساتھ روکا ہے۔ روزے کی حیثیت ایک دوا کی ہے۔ دوا اگر ضرورت سے زیادہ استعمال کر لی جائے تو بسا اوقات یہ خود بھی ایک بیماری بن جاتی ہے۔

(تزکیۂ نفس ۲۴۸۔۲۵۳)

________

* ترمذی، رقم ۲۶۱۶۔

____________