عبدالستار ایدھی کا سانحۂ ارتحال


وہ فقیر دنیا سے رخصت ہو گیا جو ارضِ وطن میں اقلیم انسانیت کا فرماں روا تھا۔ عبدالستار ایدھی ۔۔۔۔ ناداروں کے لیے جھولی پھیلانے والا، بیماروں کو شفاخانوں میں لے جانے والا، بھوکوں کے آگے دسترخوان بچھانے والا۔ ۔۔۔۔ وہی جو بن باپوں کا باپ اور بے وارثوں کا وارث تھا۔ وہی جو غریبوں کا ہمدرد اور یتیموں کا رکھوالا تھا۔ جو کھو ئے ہوئے بچوں کو والدین تک پہنچاتاتھا ، بے آسرا بیٹیوں کو بیاہتا اور بوڑھوں اورمعذوروں کو رہنے کے لیے گھر دیتا تھا۔ اِس ملک میں خدمت خلق کے تمام حوالے اُسی سے شروع ہوتے اور اُسی پر ختم ہوتے ہیں۔

۱۹۲۸ء میں گجرات (انڈیا ) کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا ۔ ۱۱ سال کا ہوا تو ماں بیمار ہوگئی۔ اُسی کی خدمت کرتے کرتے انسانیت کی خدمت کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ اکثر شہر کی گلیوں میں نکل جاتااور جہاں بھی کوئی بوڑھا، کوئی معذور، کوئی ضرورت مند نظر آتا تو اُس کی مدد کے لیے کمر بستہ ہو جاتا۔ تقسیم ہوئی تو خاندان کے ساتھ پاکستان آ گیا۔ کراچی میں بسیرا کیا۔ نہ تعلیم تھی، نہ ہنر تھا اور مزید یہ کہ جیب بھی بالکل خالی تھی۔ اگر کچھ پاس تھا تو بس انسانی خدمت کا جذبہ ۔ بہت سے خواب دیکھے، کئی خیال بُنے، مگر وسائل آڑے رہے۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو بھکاری بن گیا۔ اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے۔ سڑک پر آ کر کھڑا ہو گیا اور صدا لگا دی کہ ہے کوئی جو اللہ کے نام پر بیماروں اور ناداروں کے لیے جھولی میں کچھ ڈال دے!

ذاتی ضرورتوں کے لیے ساتھ ساتھ محنت مزدوری بھی شروع کر دی۔ اُس سے کچھ نقدی جمع ہوئی تو کپڑے کی چھوٹی سی دکان کھول لی۔ مگر کاروبار تو اصل مقصد ہی نہیں تھا، اِس لیے اُسی کے ایک حصے میں ڈسپنسری قائم کر دی۔ دن بھی وہاں گزارتا اور رات کو بھی بینچ پر پڑا سو رہتا، مبادا کوئی دوا کا ضرورت مند واپس چلا جائے۔

۱۹۵۷ء میں کراچی میں فلو کی وبا پھیلی تو ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے جگہ ختم ہو گئی۔ اُس نے ٹینٹ لگا دیے اور زیرتربیت نوجوان ڈاکٹروں کو آمادہ کیا کہ وہ اِن ٹینٹوں میں آ کر بلامعاوضہ لوگوں کا علاج کریں۔ شہر میں جگہ جگہ جب ایسی خیمہ ڈسپنسریاں نظر آنے لگیں تو لوگ پہلی مرتبہ اُس سے متعارف ہوئے۔

پھر جلد ہی ایک دوست کے تعاون سے پرانی ایمبولینس خریدی اور مریضوں کو ہسپتال پہنچانے کی خدمت شروع کر دی۔ ۲۵ سال تک اُسے خود چلا کر مریضوں کو ہسپتالوں میں لاتا لے جاتا رہا۔ ایک ایمبولینس سے دو ہوئیں، دو سے تین اور پھر بڑھتے بڑھتے اُن کی تعداد سیکڑوں تک پہنچ گئی اور بالآخر ''ایدھی ایمبولینس'' کے نام سے دنیا کا سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک قائم ہو گیا۔

ایک عورت نے اپنے چھ بچوں سمیت سمندر میں خود کشی کی تو اُسے بہت رنج ہوا، اُن کی لاشوں کو غسل دیا اور دفن کیا اور اُسی دن سے لاوارث لاشوں کو دفنانے کا ایک عظیم سلسلہ شروع ہو گیا۔ جن میتوں کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیا، اُن کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ میتیں اٹھاتے ہوئے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ یہ کسی واقف کی ہے یا ناواقف کی، پارسا کی ہے یا کسی ڈاکو یا دہشت گرد کی ۔اِس کا نقطۂ کمال یہ تھا کہ جب ایک مرتبہ ڈاکوؤں نے گاڑی روکی اور نقدی اور سامان لوٹ کر فرار ہونے لگے تو اُن میں سے ایک نے ایدھی کو پہچان لیا اور ساتھیوں سے کہا کہ سامان واپس کر دو۔ اُنھوں نے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس کے ساتھ تم اِس قدر مہربان ہو؟ اُس نے جواب دیا کہ یہ وہ شخص ہے کہ جب ہم پولیس مقابلے میں مارے جائیں گے اور گھر والے بھی ہماری لاشیں لینے کے لیے نہیں آئیں گے تو اُس وقت یہی ہمارے کفن دفن کا بندوبست کرے گا۔

پھر معاملہ یہ ہوگیا کہ وہ سڑک پر، چوراہے پر، بس میں ، جہاز میں، جہاں کھڑا ہوتا عطیات کے انبار لگ جاتے۔ اُس نے نہ حکومتوں سے کچھ مانگا اور نہ غیر ملکی امداد پر نظر رکھی ۔ ہر پیش کش کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میرے لیے میرا اللہ اور میرے عوام ہی کافی ہیں۔ وہ اِس بات پر یقین رکھتا تھا کہ پاکستانی قوم انسانیت کی خدمت کے معاملے میں دنیا کی بہترین قوم ہے۔ وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے اُس نے کہا کہ:

''میں ۷۳ ملکوں میں گیا ہوں۔ تمام چھوٹی بڑی قوموں کو دیکھا ہے، مگر پاکستانیوں جیسی مدد کرنے والی قوم کہیں نہیں دیکھی۔ اِس ملک کو اگر اچھے حکمران مل جائیں تو دنیا میں اِس کا شمار امداد لینے والوں میں نہیں، بلکہ دینے والوں میں ہوگا۔''

اُس نے ڈسپنسریاں کھولیں، ہسپتال بنائے، ایمبولینسیں فراہم کیں، بلڈ بنک تشکیل دیے، بیواؤں اور معذوروں کے لیے گھر تعمیر کیے، یتیم خانے چلائے، تعفن زدہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے والی لاشوں کو غسل دیا، قبرستان قائم کیے، نومولودوں کو سنبھالا، بھولی بھٹکی بیٹیوں کے سروں پر ہاتھ رکھا، ۔۔۔۔ دکھی انسانیت کی خدمت کا شاید ہی کوئی زمرہ ہو جو اُس کے نام اور اُس کے کام کے بغیر مکمل ہوتا ہو۔ وہ اِس ملک میں امن اور انسانیت کا سب سے بڑا علم بردار تھا ۔ جاتے جاتے بھی اُس نے امن اور انسانیت ہی کا درس دیا اور اپنے آخری انٹرویو میں یہ پیغام دے کر دنیا سے رخصت ہو گیا:

''انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے۔ امن، محبت، شانتی ہی اللہ کا درس ہے۔ جو لوگ اسلحہ اٹھا کر دہشت گردی کرتے ہیں ، اُنھیں میں اپیل کرتا ہوں کہ اسلحہ پھینک دیں۔ اپنے دل میں انسانیت کا جذبہ پیدا کریں۔ انسان بنیں اور انسان بنائیں۔مجھے انسان چاہییں، انسانیت چاہیے۔ یہی میری منزل اور یہی میرا راستہ ہے۔''

____________