اگر زینب زندہ ہوتی


ہم تھوڑی دیر کے لیے تصور کر لیتے ہیں کہ زینب زندہ ہے ۔

وہ کوڑے دان کے پاس بے ہوش پڑی ملی تھی ۔اسے بروقت ہسپتال پہنچا دیا گیا ،اور یوں اس کی جان بچ گئی۔ چند ہفتوں بعد جب وہ چلنے کے قابل ہوئی تو عدالت نے اسے طلب کر لیا اور اس سے اس دعویٰ کے متعلق پوچھا گیا جو اس کی بے ہوشی کے دوران کیا گیا تھا۔زیر نظر کارروائی شریعی عدالت کی ہے جو فقہ اسلامی کی روشنی میں انصاف فراہم کرتی ہے ۔

قاضی: تمھارے والد نے رپورٹ لکھوائی ہے کہ تمھارے ساتھ زنا کیا گیا ہے۔

زینب: جی، مجھے زبردستی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

قاضی: کیا عمر ہے تمھاری؟

زینب: سات سال

قاضی: وکیل صاحب، آپ کو معلوم ہے بچے کا دعویٰ شریعت اسلامی میں معتبر نہیں۔وہ عاقل و بالغ نہیں، کیا آپ اس کے اس دعوے کا کوئی ثبوت پیش کرسکتے ہیں (التشریع الجنائی ۲/ ۳۹۷)۔

وکیل: جی ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ یہ ہے۔اس پر دو ''عاقل ،بالغ، مرد ڈاکٹروں'' نے سائن کر کے لکھا ہے کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

قاضی: کس شخص نے تمھارے ساتھ زنا کیا ہے؟

پولیس افسر: جی ہم نے cctv کی مدد سے اس درندے کو گرفتار کر لیا ہے، اور اس نے اقرار جرم بھی کر لیا ہے۔

قاضی: مجرم پیش ہو اور عدالت کے سامنے بتائے کہ کیا وہ زنا کا اقرار کرتا ہے؟

مجرم: نہیں، میں اقرار نہیں کرتا۔

پولیس افسر: کیمرے سے اس کے کپڑوں ،بالوں، قد سب کی شناخت ہوگئی ہے۔ دیکھیں ویڈیو میں نظر آرہا ہے یہی ہے، جو ہاتھ پکڑ کر لے جا رہا ہے۔

قاضی: حدود کے کیس میں گواہی کا معیار متعین ہے، لگتا ہے وکیل صاحب آپ شریعت اسلامی اور فقہ اسلامی سے واقف نہیں ہیں۔زنا کے معاملے میں ضروری ہے کہ عینی گواہوں کی تعداد چار ہو۔ اور یاد رہے گواہ مسلمان ہونے چاہییں، کسی غیر مسلم اور مشرک کی گواہی معتبر نہیں (المغنی۱۰/ ۱۷۶)۔

وکیل: آپ جو فرما رہے ہیں، ایسا ہی ہوگا، لیکن جی یہ زنا رضامندی کے ساتھ نہیں ہوا، یہ تو زنا بالجبر ہے، یعنی زبردستی زنا کیا گیا ہے، اور یہ بچی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس معصوم بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔

قاضی: فقہ اسلامی کی روشنی میں زنا بالجبر ،زنا کے علاوہ کوئی الگ جرم نہیں ہے۔زنا زنا ہی ہوتا ہے۔۔چاہے جبراً ہو یا باہمی مشاورت سے۔جوان سے ہو یا عجوزہ سے ۔البتہ اگر آپ یہ ثابت کر دیں کہ زینب بی بی مالکی فقہ کی پیرو ہیں اور چار مسلمان عاقل بالغ مردوں نے ملزم کو زبردستی زینب کو اپنے گھر میں لے جاتے دیکھا ہے تو ''جنسی استمتاع کے عوض'' مہر کی رقم کے جتنا معاوضہ مجرم سے دلوایا جا سکتا ہے،حد پھر بھی جاری نہیں ہوگی، کیونکہ مردوں کی گواہی زینب کو لے جانے کی ہے، زنا ہوتے ہوئے انھوں نے نہیں دیکھا (المدونۃ ۵/ ۳۲۲)۔

وکیل: کیا آپ نے ٹی وی دیکھا ہے؟ اس معصوم پھول جیسی بچی سے ہمدردی میں پورا ملک سڑکوں پر نکل آیا ہے، لوگ انصاف کا تقاضا کر رہے ہیں، ہمیں آپ سے انصاف کی توقع ہے ۔

قاضی: اگر زینب حنفی ہے تو مجرم کے انکار کے بعد چار گواہوں نے اگر اسے اٹھا کر لے جاتے ہوئے بھی دیکھا ہو تو ''جنسی استمتاع کے عوض'' حق مہر جتنا معاوضہ ملنا نا ممکن ہے۔اس صورت میں حد بھی جاری نہیں ہو سکتی (سرخسی، المبسوط، ۹/ ۶۱)۔

حد جاری ہونے کے لیے ضروری ہے کہ چار گواہ اس بات کی گواہی دیں کہ انھوں نے مجرم کو زینب کے ساتھ زنا کرتے ہوئے پورے یقین سے دیکھا ہے اور وہ ہوش و حواس ، قطعیت اور پورے اذعان سے اس کی گواہی دیتے ہیں۔ وکیل صاحب، ان چار میں سے اگر دو یہ بھی کہہ دیں کہ زنا جبراً ہوا ہے، تو زینب سزا سے بچ جائے گئی اور مجرم پر حد نافذ ہوسکے گی (المغنی ۱۰/ ۱۸۵)۔

وکیل: زینب کو سزا سے کیا مطلب؟ زینب تو بے چاری وہ بچی ہے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔جبراً زیادتی کی گئی۔

قاضی: زینب اگر یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی تو وکیل صاحب اسے قذف کی سزا ہو سکتی ہے۔ہم آپ کو رعایت دے کر یہ بات کہہ رہے ہیں کہ آپ اگر چار گواہ لے آئیں، اور ان میں سے دو بھی یہ کہہ دیں کہ زنا جبراً کیا گیا تھا تو زینب سزا سے بچ جائے گی، اور مجرم کو سزا مل جائے ۔لیکن زینب کو قذف سزا سے بچانے کے لیے بھی دو لوگوں کو جبراً زنا کی گواہی دینا ہوگی۔

لہٰذا چار گواہ ہوں گے تو مجرم کو سزا ہوگی، ورنہ شریعی حد نافذ نہیں کی جا سکتی (الاستذکار ۷/ ۱۴۶)۔

زینب کے والد: اگر ہم چار گواہ پیش کردیں تو پھر کیا عدالت اس مجرم کو سزا دے دے گی اور زینب کو انصاف مل جائے گا؟ اس مجرم کو عبرت ناک سزا ملنی چاہیے ۔اس درندے کی کیا سزا ہوگی اسلامی قانون و فقہ کے تحت قاضی صاحب؟

قاضی: کیا مجرم شادی شدہ ہے؟

پولیس افسر: جی نہیں۔

قاضی: پھر سو کوڑے کی سزا دی جائے گی (سورۂ نور، آیت ۲)۔

پولیس: ہم نے چار گواہ تلاش کر لیے ہیں۔

قاضی: عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

فیصلہ :

''میڈیکل رپورٹ پر دو مرد مسلمان ڈاکٹرز کی تصدیق اور چار عاقل بالغ مسلمان مردوں کی عینی گواہی کے بعد فقہ اسلامی اور شریعت اسلامی کی روشنی میں زینب کے ساتھ زنا کے مجرم کو ''سو کوڑے '' مارنے کی سزا سنائی جاتی ہے، ان شرائط کے ساتھ کہ کوڑے اتنے سخت نہ ہوں کہ مجرم کو زخمی کر دیں یا جلد اکھڑ جائے، بلکہ متوسط ہوں اور ان میں گرہ بھی نہ لگی ہوئی ہو۔ کوڑے مختلف اعضا پر مارے جائیں گے، کیونکہ ایک عضو پر مستقل مارنا باعث ہلاکت ہو سکتا ہے، کوڑوں کا مقصد محض زجر ہے، مجرم کی شرم گاہ اور چہرے پر بھی کوڑے نہیں ماریں جائیں گے۔''(ہدایہ، کتاب الحدود، فصل فی کیفیۃ الحدود و اقامۃ)

مجرم کو ایک ہفتے میں سو کوڑے کی سزا پوری ہوجانے کے بعد رہا کردیا گیا۔

زینب کی طبیعت بحال ہو گئی، وہ اب تین ماہ بعد اسکول جانے کے لیے گھر سے نکلی تو اس نے دیکھا کہ گلی کے کونے میں کھڑا ایک شخص اس کی طرف نظریں جما کر زیر لب مسکرا رہا تھا .....۔

____________