اہل دعوت کا مسئلہ


ہمارے اہل دعوت کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دین کواس کی کامل صورت میں پیش کرنے سے گریزاں ہیں۔ اس کے برعکس وہ اجزاے دین کو اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ عامۃ الناس کسی ایک جزکو مکمل دین تصور کرنے لگتے ہیں۔ ان کے طرز عمل کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دعوت، جہاد یا کسی دوسرے جزودین کو مخصوص زاویۂ نظر کے تناظر میں مرکزومحور بنایا جاتا ہے اور پھر فکروعمل اوردعوت وتربیت کی تمام سرگرمیاں اس سے وابستہ کر دی جاتی ہیں۔ علم وتحقیق کا کام اسی خاص جز کی تفصیل جاننے کے لیے کیا جاتا ہے، تصانیف اسی کی وضاحت کے لیے تالیف ہوتی ہیں، رسائل اسی کے ابلاغ کے لیے جاری ہوتے ہیں، درس گاہیں اسی کی تعلیم کے لیے قائم کی جاتی ہیں، جماعتیں اور تحریکیں اسی کے بارے میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے منظم ہوتی ہیں، غرضیکہ دعوت کے تمام مظاہر اسی جز کی تفصیل کر رہے ہوتے ہیں۔ دین کے باقی اجزا کو اول تو بیان ہی نہیں کیا جاتا اور اگر کبھی ضرورت پیش آجائے تو اس خاص جز کے لوازم کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

دعوت، دین کا ایک جزہے، مگر بعض اہل علم نے اسے اس طریقے سے پیش کیا ہے کہ یہ جز دین کے پورے وجود پر حاوی محسوس ہوتا ہے۔ ہر خاص وعام کو کار دعوت کا مکلف قرار دیا جاتا ہے۔ مگر ہر شخص، ظاہر ہے کہ اس کی صلاحیت اور استطاعت نہیں رکھتا کہ قرآن، سنت، حدیث، اور فقہ کے علوم پر دسترس حاصل کر سکے اور انھیں تدریس، تقریر یا تحریر کے پیرائے میں لوگوں کے مختلف طبقات تک پہنچا سکے۔ چنانچہ دین کے مشمولات میں سے چند نکات پر دعوت دین کا عنوان قائم کر کے انھیں ہر کس وناکس کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس صورت حال کی سب سے نمایاں مثال تبلیغی جماعت کا کام ہے۔ان کی دعوت چھ نکات پر مبنی ہے۔ ان میں سے 'تصحیح کلمہ' سے مراد الفاظ کو صحت کے ساتھ زبان سے ادا کرنا ہے، 'تصحیح نماز' سے مراد کلمات نماز کو یاد کرنا ہے، 'تصحیح علم وذکر' سے مراد فضائل کا مذاکرہ اور کلمات ذکر یاد کرنا ہے، 'تصحیح نیت' سے مراد چھ نکاتی پروگرام کی تبلیغ کے لیے نیت کرنا ہے، 'اکرام مسلم' سے مراد مسلمانوں کے ساتھ عزت واحترام سے پیش آنا ہے اور 'تفریغ وقت' سے مراد متعین ایام کے لیے چھ نکات کی دعوت لے کر لوگوں کے پاس جانا ہے۔ یہ اجزا اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہو سکتے ہیں، مگر انھیں اس طرح پیش کرنا کہ یہ دین کی کلی دعوت قرار پائیں، دین کے لیے فائدے کے بجائے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔

بعض علما جہاد کو دین کے اصل پیغام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دین کے اس جز کو وہ اس طریقے سے سامنے لاتے ہیں کہ ہر شخص جہادوقتال ہی کو مکمل دین تصور کرنے لگتا ہے۔ مسلمانوں کو یہ باور کرایا جاتاہے کہ دین کی بقا اور تبلیغ واشاعت اسی صورت میں ممکن ہے، جب دشمنان اسلام کے خلاف برسرپیکار ہوا جائے۔ اس راہ میں اگر دنیوی منزل نہ بھی حاصل ہو، تب بھی یہ خسارے کا سودا نہیں ہے، کیونکہ اخروی منزل تو بہر حال حاصل ہو کر رہے گی۔ اس تناظر میں عام آدمی کودین پر عمل کرنے کی بہترین صورت یہی نظر آتی ہے کہ وہ تمام معاملات زندگی کوترک کر کے میدان جہاد کا رخ کرے اور جام شہادت نوش کر کے جنت میں اپنا مقام محفوظ کر لے۔

اس میں شبہ نہیں کہ ان میں سے بعض اسالیب دین میں اپنی اصل ہی کے لحاظ سے بے بنیاد ہیں، مگر اس سے قطع نظر کرتے ہوئے ہم صرف اس پہلو کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں کہ دین کو اس کے اجزا کے لحاظ سے پیش کرنا اس کی دعوت کے لیے نہایت ضرر رساں ہے۔ اس طرز عمل سے یہ نتائج لازمی طور پر نکلتے ہیں:

اولاً، دین اپنی کامل صورت میں لوگوں کے سامنے نہیں آتا۔

ثانیاً،مسلم اور غیر مسلم، دونوں طبقات کسی خاص جز ہی کے پہلو سے دین سے متعارف ہوتے ہیں۔

ثالثاً، عامۃ الناس کی اکثریت مخصوص اجزاے دین ہی کو دینی اہداف سمجھ کر اختیار کرتی ہے۔

چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ دین کی دعوت پیش کرتے ہوئے دو امور کو ملحوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ ایک یہ کہ دین کو اپنی کامل صورت میں بحیثیت مجموعی پیش کیا جائے اور دوسرے یہ کہ دین کے ہر جز کو وہی وزن دیا جائے جو خود دین نے اسے دیا ہے۔ زمانی یا مقامی مصالح کا خیال کر کے بعض اجزا کو اس طرح پیش نہ کیا جائے کہ دین کا اپنا قائم کیا ہوا توازن بگڑ جائے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اہل علم ان امور کو ملحوظ رکھتے ہوئے دین کی دعوت پیش کریں۔ وہ لوگوں پر یہ واضح کریں کہ دین کی حقیقت اللہ کی بندگی ہے اور دینی زندگی سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے انفرادی اور اجتماعی وجود میں فکروعمل کی تمام جہتیں اصلاًبندگی رب کے لیے متعین کرے۔ انھیں بتائیں کہ دین کا مقصود ترکیۂ نفس ہے اور جنت کے انعام کے مستحق وہی لوگ ہیں جو دنیا میں اپنے نفوس کو شیطانی آلایشوں سے پاک رکھنے کے لیے سرگرم عمل رہیں۔ انھیں یہ تعلیم دیں کہ دین محض ازکار اور رسوم کا نام نہیں ہے، بلکہ اس نے شریعت کی صورت میں عبادت، معاشرت، سیاست، معیشت، دعوت، جہاد، حدودوتعزیرات، غرضیکہ ہر شعبۂ زندگی کے لیے اصول وقوانین وضع کیے ہیں۔ ان کی پاس داری ضروری ہے اور ان کا انکار دین کے انکار کے مترادف ہے۔ اسی جامع اسلوب میں دین کی دعوت دین ودانش کا تقاضا ہے۔ اہل علم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دین کو پوری بصیرت کے ساتھ سمجھیں اور اسے بہ تمام وکمال لوگوں کے سامنے پیش کریں۔

____________