اہل سیاست اور سیاسی استحکام


ہم نے بعض گزشتہ شذرات میں فوج کی سیاست میں مداخلت کو قومی استحکام کے لیے ضرر رساں قرار دیا تھا اور اہل سیاست کی اصلاح کو سیاسی عمل کے تسلسل سے مشروط کیا تھا ۔ ہم نے اس بات پر اصرار کیا تھا کہ سیاست دانوں اور سیاسی اداروں میں مثبت تبدیلی صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ سیاسی عمل کو اس کی فطری رفتار کے ساتھ جاری رہنے دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں اگر بدعنوان لوگ بھی منصب اقتدار تک پہنچتے ہیں، تب بھی اس میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔

ہماری اس بات سے مرادیہ ہر گز نہیں ہے کہ ہم سیاست دانوں کو ملک کے سیاسی خلفشار سے بری الذمہ سمجھتے ہیں ۔ ہمارا مقدمہ صرف یہ ہے کہ سیاسی عمل کا تسلسل ہی سیاسی نظام کو آلودگیوں سے پاک کرنے کا باعث بنتا ہے۔بہرحال، ہمارے نزدیک پاکستان میں جمہوری اقدار کو غیر مستحکم کرنے کا الزام جس قدر فوج اور بیوروکریسی پر عائد کیا جاتا ہے، اسی قدر اس کے مستحق اہل سیاست بھی ہیں۔ جتنی یہ بات درست ہے کہ اگر فوج اور بیوروکریسی کے ادارے اپنے دائرۂ کار تک محدود رہتے تو ملک سیاسی خلفشار سے محفوظ رہتا، اتنی ہی یہ بات بھی صحیح ہے کہ اگر سیاست دان اپنے فرائض بخوبی انجام دیتے تو سیاسی استحکام کی منزل زیادہ مشکل نہ ہوتی۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاست دانوں نے نہ صرف یہ کہ اپنے فرائض سے غفلت برتی ہے، بلکہ مجرمانہ افعال کا ارتکاب کیا ہے۔ گزشتہ پچاس برسوں میں انھوں نے جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے ، اس کے بعد عوام کی لغت میں دھوکا اور سیاست ہم معنی الفاظ کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ لوگوں کے لیے اب اس کا تصور ہی محال ہے کہ کوئی سیاست دان ہوس اقتدار سے بالاتر ہو کر ان کی ترقی کے لیے سرگرم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اس جمہوریت پسند دور میں بھی بعض سادہ لوح لوگوں کی زبان پر یہ بات آ جاتی ہے کہ ان جیسے سیاست دانوں کے اقتدار سے تو فوجی حکومت ہی بہتر ہے ۔

ان دنوں جبکہ ان اہل سیاست کی اکثریت اقتدار سے محروم ہے اور انتخابات کی آمد نے انھیں عوام سے رجوع پر آمادہ کر رکھا ہے ، یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ انھیں ان غلطیوں کے بارے میں متوجہ کیا جائے جو ان کے طرز عمل میں نمایاں طور پر پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے عوام ان سے مایوس ہو چکے ہیں۔

ان کے طرز عمل کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے حصول اقتدار کی جدوجہد کرتے ہوئے دین و اخلاق، اصول و قانون اور جمہوری اقدار کی کبھی پروا نہیں کی۔ مناصب کے حصول کے لیے اگر انھیں جھوٹ بولنا پڑا ہے تو انھوں نے بولا ہے، خوشامد کرنی پڑی ہے تو کی ہے، رشوت دینی پڑی ہے تو دی ہے، وقار کو داؤ پر لگانا پڑا ہے تو لگایا ہے، یہاں تک کہ اقتدار کے قیام و دوام کے لیے اگر انھیں آمروں کے ہاتھ بھی مضبوط کرنے پڑے ہیں تو انھوں نے اس سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی میدان میں یہ لوگ فوج اور بیوروکریسی کے اشاروں پر حرکت کرنے والے کھلونوں سے زیادہ کوئی حیثیت کبھی اختیار نہیں کر سکے۔ ہماری سیاسی تاریخ کا یہ کوئی معمولی المیہ نہیں ہے کہ جب بھی کوئی غیر جمہوری اور غیر آئینی حکمران مسنداقتدار پر فائز ہوا ہے ، ان اہل سیاست کی معتد بہ تعداد نے اپنی خدمات اسے پیش کر دی ہیں۔ ایسے موقعوں پر اگر کسی کی طرف سے کوئی مزاحمت بھی سامنے آئی ہے تو کسی اصول اور آدرش کی بنا پر نہیں، بلکہ محض مفادات اور تعصبات ہی کی بنا پر سامنے آئی ہے۔

قائد اعظم نے گورنر جنرل بننے کے بعد مسلم لیگ کی صدارت سے استعفیٰ دے کر جمہوری روایت کی بنا ڈالی ، مگر لیاقت علی خان نے اسے توڑکر جب وزارت عظمیٰ کے ساتھ مسلم لیگ کی صدارت بھی حاصل کرنا چاہی تو مسلم لیگی سیاست دانوں نے اسے خوش دلی سے قبول کیا ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے پارلیمانی روایات کے علی الرغم پارلیمنٹ کی اکثریتی جماعت کے سربراہ خواجہ ناظم الدین کو برطرف کیا تو اہل سیاست خاموش رہے ۔ اس کے بعد گورنر جنرل نے یکے بعد دیگرے محمد علی بوگرا اور چوہدری محمد علی جیسے غیر سیاسی افراد کو وزیر اعظم نامزد کیا تو مسلم لیگ کے اہل سیاست نے اس پر ا حتجاج کے بجائے انھیں اپنی جماعت کی صدارت بھی پیش کر دی۔ پھر گورنر جنرل نے منتخب دستور ساز اسمبلی توڑی تو اسے بھی کچھ احتجاج کے بعد قبول کر لیا گیا۔ بعد ازاں جب گورنر جنرل سکندر مرزاکے ایما پر مسلم لیگ کے مقابلے کے لیے ری پبلکن پارٹی تشکیل دی گئی جو نہ عوامی حمایت رکھتی تھی اورنہ مسلم لیگ کا مقابلہ کرنے کی اہل تھی تو مسلم لیگ کے بیشتر منتخب نمائندے اپنی جماعت چھوڑ کر اس میں شامل ہو گئے۔اسی طرح جنرل ایوب خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف نے جب غیر آئینی اور غیر جمہوری طریقے سے حکومت پر قبضہ کیا تو انھیں بھی سیاست دانوں کے طائفے سے بے شمار لوگ میسر آ گئے۔ تاریخ کے اس جائزے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے اہل سیاست نے محض اپنے اقتدار کے لیے ملک میں سیاسی استحکام کو داؤ پر لگائے رکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سیاست دان ہوس اقتدار سے بالاتر رہتے اور باہم متحد ہو کرغیر جمہوری حکمرانوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھتے تو یہ ملک اس وقت مستحکم سیاسی اقدار کا حامل ہوتا۔

اہل سیاست کی دوسری غلطی یہ ہے کہ انھوں نے عوام کے ساتھ سراسر غیر سیاسی طرز عمل اختیار کیا۔ انھوں نے نہ عوام کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کرنے کی طرف کبھی توجہ دی، نہ ان سے رابطے کا کوئی چینل قائم کیا اور نہ ان کی تنظیم سازی کی طرف مائل ہوئے ۔ انھوں نے عوام سے اگر کچھ ربط و تعلق قائم بھی کیا تو اسے بھی انتخابی جلسے جلوسوں تک محدود رکھا۔ عوام سے مینڈیٹ لینے کے بجائے اکثر ان کی یہی کوشش رہی کہ کسی شارٹ کٹ کے ذریعے سے ایوان اقتدار میں پہنچا جائے۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے ہمیشہ عوام کی ترجیحات اور امنگوں کے برعکس معاملہ کیا۔

جب کبھی برسر اقتدار آئے تو عوام سے اپنا تعلق یکسر ختم کر لیا۔ یہ تجربہ ہر شخص نے کیا کہ جو سیاسی لیڈر انتخابات کے دنوں میں اس کے ساتھ محبت سے ملتے تھے، اس کے دکھ درد کو سنتے تھے اوراس کی حاجت روائی کے وعدے کرتے تھے، انھوں نے کامیاب ہوتے ہی اسے پہچاننے سے انکا رکر دیا۔ ان سیاست دانوں نے اقتدار میں آ کر اگر کچھ پرواکی تو صرف اقربا، احباب اور قریبی کارکنان کی ۔ ترقی کے دروازے اگر کھولے گئے تو صرف قریبی لوگوں کے لیے اور اس ضمن میں میرٹ کا کوئی لحاظ نہ کیا گیا۔

جو سیاسی جماعتیں تشکیل دیں، انھوں نے اپنے کارکنوں میں سیاسی شعور بیدار کرنے کے بجائے ارادت کے جذبات کو پروان چڑھایا۔ انھیں اس بات کی ترغیب دی کہ قائد ہی کی بات حرف آخر ہے۔ آج اگر وہ کسی بات کو غلط کہتا ہے تو وہ سراسر باطل ہے اور کل اسی بات کو صحیح کہتا ہے تو وہ عین حق ہے۔ جماعت کے اندر اسی شخص کو ترقی کے مواقع فراہم کیے جو قائد کے اشارے پر بے بہا مال وزر لٹانے کے لیے تیار ہو یا اس کی مدح سرائی میں زمین وآسما ن کے قلابے ملانے والا ہو۔

ملکی سطح پر تو جمہوریت کے نعرے خوب بلند کیے، مگر اپنی جماعتوں کے اندر بدترین آمریت کا مظاہرہ کیا۔نہ کارکنوں کواپنے قائدین منتخب کرنے کا موقع فراہم کیا ،نہ نیچے سے اوپر تک مشاورت کا کوئی نظام وضع کیا اور نہ آزادیِ رائے کی گنجایش باقی رکھی۔ عوام کوجب بھی سڑکوں پر نکالا تو اس مقصد کے لیے نکالا کہ وہ اپنی جانوں ، اپنی املاک اوراپنے وقت کی قربانی دے کر ان کے اقتدار کی راہیں ہموار کریں۔

عوام کے ساتھ اس طرز عمل کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ وہ ان سے پوری طرح مایوس ہو گئے۔ ان اہل سیاست پر نہ انھیں اعتماد رہا اور نہ کوئی تعلق خاطروہ باقی رکھ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ہم انتخابات کے موقع پر ان سیاست دانوں کے لیے عوام کی حمایت کا تجزیہ کریں تو اس کی حقیقت صرف یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی دانست میں بڑی برائی کے مقابلے میں چھوٹی برائی کو ترجیح دے رہے ہوتے ہیں۔

ان اہل سیاست کی تیسری بڑی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے ان جمہوری اقدار کو بھی پامال کر ڈالاجو ان کی اپنی بقا کے لیے ضروری تھیں۔ وہ وعدے جن کی بنا پر انھوں نے عوام سے ووٹ لیے ، برسر اقتدار آ کر ان پر عمل تو کجا ،کسی کو یاد بھی نہیں رہے۔ وہ جماعتیں جن کی حمایت سے وہ ایوان حکومت میں پہنچے ، ان سے اپنی وفاداری تبدیل کر لینے میں انھیں کبھی تردد نہ ہوا۔ وہ آئین اور قوانین جنھیں انھوں نے خود تخلیق کیا اور جن کی حفاظت پر وہ مامور ہوئے ، ان کی خلاف ورزی کو سیاسی عمل کی ضرورت سمجھا۔ پارلیمنٹ میں اختلاف برائے اختلاف ہی کی روایت قائم کی۔ اگر حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھے توحکومت کے صحیح اقدامات کی بھی مخالفت کی اور اگرمسند حکومت پر فائز ہوئے تو حزب اختلاف کے وجود ہی کو برداشت کرنے سے انکار کر دیا۔ قوم کی معاشی بد حالی کے باوجود ایسی مراعات کو اپنے لیے مختص کیا جو دنیا کی بڑی ریاستوں کے اربابِ اقتدار کو بھی حاصل نہیں ہیں۔قومی خزانے میں مالی بدعنوانی کی ایسی داستانیں رقم کیں جنھیں سن کر راہزن بھی کانوں کا ہاتھ لگائیں۔اس کا نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلا کہ سیاسی جماعتیں ہوں یا مقننہ اور انتظامیہ کے جمہوری ادارے، سب تباہ و برباد ہو کر رہ گئے۔

یہ اس طرز عمل کی ایک جھلک ہے جو ہمارے سیاست دانوں نے گزشتہ پچاس برسوں میں پیش کیا ہے۔یہ تصویر سامنے لانے سے ہمارا مقصود یہ ہر گز نہیں ہے کہ لوگ ان کے بجائے کسی اور طرف رجوع کریں، بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ اہل سیاست اس آئینے کو اپنے سامنے رکھیں اور قومی تعمیر کے لیے اپنے کردار کو نئے سرے سے ترتیب دیں۔ اس موقع پر ان پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ان کی اور اس ملک کی ترقی و بقا کا سفر اس وقت تک شروع نہیں ہو سکتا، جب تک وہ ایک بنیادی فیصلہ نہیں کر لیتے۔ ایک ایسا فیصلہ جس سے ملک میں سیاسی استحکام کاآغازہو سکتا اور ان کا وقار بحال ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا فیصلہ جو رائے عامہ کا آئینہ دار اور جمہوری معاشرے کے قیام کا ضامن ہے۔ یہ فیصلہ اگر نہ کیا گیا تو آگے کی طرف اٹھایا جانے والا ہر قدم ہمیں کئی قدم پیچھے لے جاتا رہے گا۔ فیصلہ یہ ہے کہ اب اہل سیاست کسی غیر آئینی اور غیر جمہوری شخصیت کو نہ حکمرانی کے لیے آواز دیں گے، نہ اس کی حکومت کا ساتھ دیں گے اور نہ اس کے جبر کے خلاف خاموش رہیں گے۔

____________