احمدیت کی اشاعت اور بنیادی استدلالات کا مختصر جائزہ (1/2)


امت مسلمہ کی طرف سے احمدیت کی بھرپور مخالفت اور احمدیوں کے خلاف شدید پراپیگنڈا کے باوجود نہ صرف پاکستان، بلکہ پوری دنیا میں احمدی مذہب کے پیروکاروں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ احمدیت کا بیانیہ مضبوط کرنے میں 'اہل ایمان' نے جو کردار ادا کیا، وہ ناقابل فراموش تو ہے ہی، ناقابل معافی بھی ہے۔ دین حق کے تحفظ کے نام پر انھوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جو باطل کا طرۂ امتیاز رہا ہے۔ عام مسلمانوں کو اس معاملے میں اتنا بھڑکایا گیا ہے کہ وہ دین کا دفاع کرتے کرتے ابو جہل، ابو لہب، فرعون اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مخالف پروہتوں جیسے کردار بن گئے ہیں، اور یہی احمدیت کے لیے تقویت کا باعث بناہے۔ دلیل کے مقابلے میں گالیاں، جوابی استدلال پیش کرنے کے بجاے تمسخر اور حقارت آمیز القابات سے پکارنا،ہمیشہ سے باطل کے علم برداروں کا وتیرہ تھا، قرآن کے آئینے میں دیکھیے کہ ایسا کون کرتا تھا:

کَذٰلِکَ مَآ اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ. اَتَوَاصَوْا بِہٖ بَلْ ھُمْ قَوْمٌ طٰاغُوْنَ. (الذاریات ۵۱: ۵۲۔۵۳)

''اسی طرح ہوتا رہا ہے۔ اِن سے پہلوں کے پاس بھی جو رسول آیا، اُنھوں نے (اُس کو) یہی کہا کہ جادوگر ہے یا دیوانہ۔ کیا یہ ایک دوسرے کو یہی وصیت کرتے رہے ہیں۔ (نہیں)، بلکہ یہ ہیں ہی سرکش لوگ!''

اپنی ملت میں واپس شامل کرانے کے لیے زور زبردستی اور ڈرانا دھمکانا قوم شعیب کا جہالت آمیز شیوہ تھا:

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لَنُخْرِجَنَّکَ یٰشُعَیْبُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَکَ مِنْ قَرْیَتِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا قَالَ اَوَلَوْ کُنَّا کٰرِھِیْنَ.(الاعراف۷: ۸۸)

''اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، اس سے کہا کہ اے شعیب، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے، ورنہ تم لوگوں کو ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا، شعیب نے جواب دیا: کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا، خواہ ہم راضی نہ ہوں؟''

اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ایسی آیات اور ان سے پیدا ہونے والا تاثر کسی احمدی اور کسی متوقع احمدی، جس کی نظر دلائل کے بجاے محض رویوں پر ہو، کو احمدیت کے لیے قائل کرنے میں کتنا موثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی طرح سماجی مقاطعہ قریش کے کفار کا آئیڈیا تھا، یہ عہد جاہلیت کا ہتھکنڈا تھا، جسے آج مسلمانوں نے ''علی وجہ البصیرۃ'' اختیار کر رکھا ہے۔ اسی طرح دلیل کے مقابلے میں گھیراؤ، جلاؤ کرنا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مخالف ان پروہتوں کا رد عمل تھا جو دلیل کے میدان میں ان سے شکست کھا گئے تھے:

قَالُوْا حَرِّقُوْہُ وَانْصُرُوْٓا اٰلِھَتَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ.(الانبیاء ۲۱: ۶۸)

''انھوں نے کہا: جلا ڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے خداؤں کی اگر تمھیں کچھ کرنا ہے۔''

عقیدے کی تبدیلی پر سرکاری پابندی لگانا فرعون کا کام تھا، اسے اصرار تھا کہ اس سے پوچھے بغیر کوئی اپنا عقیدہ بھی تبدیل نہیں کر سکتا:

قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ.(طٰہٰ۲۰: ۷۱)

''فرعون نے (موسی پر ایمان لے آنے والے جادوگروں سے) کہا: تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمھیں اس کی اجازت دیتا؟''

آج ہماری عدلیہ کا فیصلہ ہے کہ عقیدہ تبدیل کرنے سے پہلے مجاز اتھارٹی سے اجازت لینا پڑے گی۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مذہب تبدیل کرنے والے پر ارتداد کی سزا کا نفاذ کیا جائے۔ ہزاروں افراد نے نادرا کے ریکارڈ کے مطابق اپنا عقیدہ تبدیل کرکے احمدیت اختیار کی ہے۔ لمحۂ فکریہ تو یہ ہے کہ احمدیت کے خلاف اتنی گالم گلوچ، نفرت، ظلم و جبر اور سماجی مقاطعہ کے ہتھیار موثر کیوں نہ ہوئے، ہزاروں افراد نے احمدیت اختیار کیوں کی؟ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیاجبریہ ہتھکنڈے آج تک کسی بھی گروہ کو مٹانے میں موثر ہو سکے ہیں؟ کیا آپ کے پاس دلائل کا فقدان ہے کہ آپ کو جبر اور تشدد پر اترنا پڑا؟ کیا قانون سازی سے عقیدوں پر روک لگانا دلیل سے قائل کرنے کا متبادل ہو سکتا ہے؟ نظریات و عقائدکی تبدیلی قانون کی ہتھکڑیوں اور پراپیگنڈا کے شو ر سے روکی نہیں جا سکتی۔ کبھی مسلمانوں کا اخلاق دین کی ترویج میں معاون ہوا کرتا تھا، اب ان کا یہ انداز، دین کی تخریب میں سہولت کار بنا ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل سے آراستہ کرنا کافی ہوتاہے۔

مسلمانوں کا ایک بنیادی فریضہ سماج سے جبر کا خاتمہ بتایا گیا ہے۔ جس کے لیے مسلم حکمران کو جنگ تک کرنے کا حکم دیا گیا ہے:

وَقَاتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ.(الانفال ۸: ۳۹)

''(ایمان والو)، تم اِن سے برابر جنگ کیے جاؤ، یہاں تک کہ فتنہ، (یعنی دین میں جبر) باقی نہ رہے۔''

الٹا، یہاں مسلمان ہی جبر کا علم بردار بن گیا ہے۔ کسی کے عقیدے پر اثر انداز ہونے کے لیے مسلمانوں کو جو لائحۂ عمل بتایا گیا ہے، وہ علم و دلیل کے ساتھ دعوت، نصیحت اور شایستہ مباحثہ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْھُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوَ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ.(النحل۱۶: ۱۲۵)

''اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔ تمھارا رب ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہ راست پر ہے۔''

مزید ستم ان اہل علم نے ڈھایا جنھوں نے قلم کو تلوار، دلیل کو ہتھیار اور مکالمہ کو مناظرہ بنا دیا۔ استدلال کے بجاے پراپیگنڈا کو وتیرہ بنا لیا گیا۔ انھیں احساس نہیں ہوا کہ آواز بلند کرنے سے دلیل مضبوط نہیں ہو جاتی، بلکہ مضبوط دلیل بھی بلند آہنگی میں بھانڈ کا بے سر ا راگ بن جاتی ہے۔ اس روش سے دلیل اوردعوت سے بات کرنے والوں کی راہ مسدود ہوئی اور عام مسلمانوں کا مقدمہ کم زور ہوا۔

دلائل کے باوجود کوئی آپ کی بات سے قائل نہیں ہوتا، تو آپ کا کام ختم ہو گیا۔ زبردستی کسی کا عقیدہ تبدیل کرانا آپ کا کام نہیں۔ یہ اختیار تو خدا نے خود قدرت رکھنے کے باوجود استعمال نہیں کیا:

اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ اِمَّا شَاکِرًا وَّاِمَّا کَفُوْرًا.(الدھر۷۶: ۳)

''ہم نے اُسے خیر و شر کی راہ سجھا دی۔ اب وہ چاہے شکر کرے یا کفر کرے۔''

دین کے قبول و اختیار میں دین کا یہ اصل الاصول کیسے نظر انداز ہو گیا:

لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ.(البقرہ۲: ۲۵۶)

''(یہ جو رویہ چاہیں، اختیار کریں)، دین کے معاملے میں (اللہ کی طرف سے) کو ئی جبر نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہدایت (اِس قرآن کے بعد اب) گم راہی سے بالکل الگ ہو چکی ہے۔''

اور یہاں لوگ انسان ہو کر یہ اختیار استعمال کرنا چاہ رہے ہیں! یہ فرعون کی روش ہے، یہ رسولوں کا اسوہ نہیں، اور نہ ان کے پیروکار ایسا کر سکتے ہیں۔ اپنی روش پر نظر ثانی کیجیے، آپ کس کی راہ چل رہے ہیں؟

یہ امکان رد نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ لوگ مبینہ طور پر معاشی مفادات کی خاطر احمدی ہو جاتے ہوں گے، بیرون ملک سیاسی پناہ حاصل کرنا احمدیوں کے لیے سہل ہوتاہے۔ مگر اس پر بھی تو غور کیجیے کہ یہ ان کے لیے سہل کیوں ہوتا ہے؟ ملک میں احمدیوں کے لیے عدم تحفظ کی موجودہ صورت حال بھی تو عام مسلمانوں نے پیدا کر رکھی ہے، جس کی وجہ سے ان کے لیے بیرون ملک چلے جانا ایک بہتر انتخاب بن جاتا ہے۔

بہرحال، اس مضمون کے مخاطب وہ لوگ نہیں جو کسی لالچ میں احمدیت اختیار کر لیتے ہیں، ہمارے مخاطب احمدی اور احمدیت اختیار کرنے والے سنجیدہ افراد ہیں۔ احمدیت کے ساتھ مکالمہ کرنا ہی وہ واحد راستہ تھا جس سے جدا ہو جانے والے راستے واپس مل سکتے تھے۔

ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بنیادی استدلال کو طے کیے بغیر ہی تفصیلات میں پہنچ جاتے ہیں، جس سے بحث نتیجہ خیز ہونے کے بجاے بھول بھلیوں میں بھٹکتی پھرتی ہے۔ ہم یہاں اپنی بحث احمدیت کے بنیادی استدلالات تک کومحدود رکھیں گے۔

خواب و مکاشفات

احمدیت سے متاثر سنجیدہ افراد سے مکالمہ اورمباحثہ کے بعد راقم اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ ان کے ہاں احمدیت کی طرف مائل ہونے کی بڑی اور موثر وجہ خواب اور مکاشفات ہیں جو جماعت احمدیہ میں شامل ہونے والوں کو بقول ان کے ہوتے رہتے ہیں۔ ان مکاشفات کی ان کے ہاں بڑی اہمیت ہے۔ احمدیت، دراصل صوفیانہ مذہب ہے اور ہر صوفی فرقے یا حلقے کی طرح یہاں بھی خواب ہی عملی طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ تمام تر دلائل کے بعد آخر میں احمدی حضرات کی طرف سے گویا یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ ہمارے خواب کریں گے۔

خوابوں کا معاملہ چونکہ داخلی، ذاتی اور ما بعد الطبیعاتی نوعیت کا ہوتا ہے، اس لیے یہ کبھی دوسرے کے لیے حجت نہیں بن سکتے۔ ان خوابوں اور مکاشفات کا معاملہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ دراصل نفسیاتی اور نفسانی کیفیات ہیں۔ نوجوانی کے ایک دور میں ہم پر بھی جب زہد و تقویٰ نے غلبہ پا لیا تھا تو اپنی مرضی کے خواب ہم بھی دیکھ لیا کرتے تھے۔ خواب میں ہم اپنی مرضی کی شخصیات سے اپنی مرضی کے فتوے بھی حاصل کر لیا کرتے تھے۔ خود کو ولی بھی محسوس کرتے تھے، مگر شعور کی پختگی کے ساتھ معلوم ہوا کہ یہ محض اپنے نفس کا واہمہ اور اپنی ہی خواہشات کی صداے بازگشت تھی۔

ہر مسلک اور فرقے کے لوگوں کو اپنے ہی مسلک اور فرقے کے اکابرین سے ملاقات و تائید و نصرت کے خواب آتے ہیں۔ عالم رؤیا میں سنیوں کو اہل تشیع کے اماموں سے کبھی فیض نہیں ملتا اور شیعوں کو غوث اعظم کی تائید کبھی حاصل نہیں ہوتی، یعنی عالم بالا میں بھی گویا مسلکی تعصب اپنا کام دکھاتا ہے یا یہ مرید اور سالکِ سلوک کے اپنے لاشعور یا تحت الشعورکی کارستانی ہے۔ یہ روحانی مکاشفات جب بھی دنیا سے متعلق ہوئے ہیں، ان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ ماضی و حال کے کئی بزرگوں کے خواب و مکاشفات بالکل غلط نکلے ہیں۔

انسان کے لیے کچھ روحانی یا نفسانی طاقتوں کا حصول، البتہ ممکن ہے جن سے کچھ عجیب و غریب کام لیے جا سکتے ہیں اور کسی حد تک درست پیشین گوئیاں کرنا بھی ممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ روحانی یا نفسانی طاقتیں ہر مذہب و ملت کے نفسانی علوم کے ماہرین، بلکہ بعض اوقات عام افراد میں بھی پائی جاتی ہیں۔ ہندوؤں، بدھوں اور مسیحیوں میں تو یہ بہت عام ہیں۔ یہ در اصل روحانیت یا نفسانیت کی راہ سے بعض دنیوی امور میں تصرفات کرنے کی صلاحیت ہے، جیسے کہ ٹیلی پیتھی؛ حق و باطل کے فرق و امتیاز سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ معیار اگر یہی ہو تو آدمی کو سب سے پہلے ہندومت اوربدھ مت کو قبول کر لینا چاہیے یا پھر مسیحیت کو، نفسانی علوم کی اعلیٰ ترین مہارتیں ان تینوں مذاہب کے پیروکاروں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔

پیراسائیکالوجی کے نیم سائنسی مضمون کے تحت یہ اب مستقل مطالعہ کا موضوع ہے۔ امید کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں ان روحانی یا نفسانی مظاہر کے قوانین انسانی ادراک میں آ جائیں گے۔ اتنا بہرحال ہر ایک کے مشاہدے میں آتا ہے کہ انسان کی چھٹی حس اسے پیش آنے والے کچھ واقعات کے بارے میں کبھی کبھی قبل از وقت آگاہ کرتی ہے۔اسی طرح بعض خواب بھی لوگوں کو آ جاتے ہیں جو سچ ثابت ہو جاتے ہیں۔ ایسے تجربات تقریباً ہر ایک کو پیش آتے ہیں۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ یہ صلاحیت کسی شخص میں غیر معمولی حد تک موجود ہو سکتی ہے، مختلف روحانی یا نفسانی مشقو ں سے اسے بڑھایا بھی جا سکتا ہے، یوں ایسے لوگ کافی حد تک درست پیشین گوئی کرنے کی صلاحیت حاصل کر لیتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی ہر بات درست نہیں ہوتی۔

انبیا کو ملنے والی وحی اور غیر انبیا کے خواب و مکاشفات میں کوئی مماثلت نہیں۔ انبیا کی وحی کا قطعی اور متعین طور پر خدا کی طرف سے ہونا مصدقہ ہوتا ہے، یہ غیرمبہم ہوتی ہے، جب کہ عام لوگوں کے خواب و مکاشفات مبہم، ذو معنی اور ایک سے زیادہ تعبیرات و غیر متعین مصداقات رکھتے ہیں۔ ان کی کچھ باتیں درست اور کچھ غلط ہوتی ہیں۔

اتنی بات بہرحال طے ہے کہ یہ خواب و مکاشفات حق و باطل کا معیار بننے کے لائق نہیں، ہر مذہب و مسلک نے ان غیر معمولی صلاحیتوں کو اپنی اپنی صداقت کے معیار کے طور پر پیش کیا ہے۔ جس طرح کسی مذہب کا کوئی پیرو محض اس بنا پر سچا نہیں ہو سکتا کہ وہ جسمانی اور ذہنی طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہے، اسی طرح کسی فرد کا غیر معمولی روحانی یا نفسانی طاقت کا حامل ہونا بھی اس کے دین و مذہب اور اکتشافی دعاوی کی صداقت کا معیار نہیں بن سکتا۔

خوابوں اور مکاشفوں کے بھروسے پر حق و ناحق ہونے کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ اس بنا پر راقم مرزا غلام احمد سمیت تمام صوفیا اور ان کے پیروکاروں کو جھوٹا نہیں سمجھتا، بلکہ خود فریبی یا غلط فہمی کا شکار سمجھتا ہوں۔

استقامت

احمدی حضرات کی طرف سے ان کی صداقت کی دوسری شہادت یہ پیش کی جاتی ہے کہ پاکستان میں خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً مسلمانوں کی طرف سے احمدیت کی شدید مخالفت، بلکہ جارحیت کے باوجود ان کی استقامت اور تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ احمدیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی، بلکہ بعض جگہ غیر انسانی سلوک پر ہم نے ہر فورم پر بھرپور مذمت کی ہے، تاہم یہ چیز بھی معیار حق نہیں کہ مظلومیت اور اس پر اس گروہ کی استقامت ہمیشہ حق کا نشان ہی ہوتی ہے۔

ہر مظلوم اقلیتی گروہ میں ظلم کے خلاف رد عمل کی یہی نفسیات کارفرما ہوتی ہے اور ان میں ظلم کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت اور استقامت پیدا ہو جاتی ہے،ان کی گروہی عصبیت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں ہر مذہب و ملت میں ملتی ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ یہی گروہ جب امن اور طاقت حاصل کر لیتے ہیں تو انھیں بھی آپس کے اختلاف اور افتراق کے وہی مسائل پیش آتے ہیں جو ہر گروہ کو اپنے ارتقائی مراحل میں پیش آتے ہیں، طاقت ملنے پر یہ بھی اپنے سے کم زور گروہوں کے ساتھ اس سے مختلف رویہ نہیں دکھا پاتے جس کے شکار وہ خود رہے ہوتے ہیں۔ اس کی نہایت جامع اور دل چسپ مثال یہود ہیں۔

بنی اسرائیل جب تک مصر میں ایک کم زور اقلیت کی حیثیت میں حالت غلامی اور جبر کا شکار رہے، پکے موحد اور متحد رہے، یہاں تک کہ خدا نے ان کی استقامت کی تعریف کی۔ لیکن جیسے ہی یہ سمندر پار کر گئے، ان کا دشمن نابود ہو گیا، تو بغیر کسی تاخیر کے انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایش کر ڈالی کہ ان کے لیے بھی بت بنایا جائے، جس کی وہ پوجا کریں۔ اس پر موسیٰ نے انھیں ڈانٹ پلائی۔ قرآن مجید میں ان کی اس استقامت اور اس انحراف کو ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے:

فَانْتَقَمْنَا مِنْھُمْ فَاَغْرَقْنٰھُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّھُمْ کَذَّبُوْا بِاٰےٰتِنَا وَکَانُوْا عَنْھَا غٰفِلِیْنَ. وَاَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِیْنَ کَانُوْا یُسْتَضْعَفُوْنَ مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَھَا الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْھَا وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنٰی عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ بِمَا صَبَرُوْا وَدَمَّرْنَا مَاکَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہٗ وَمَا کَانُوْا یَعْرِشُوْنَ. وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتَوْا عَلٰی قَوْمٍ یَّعْکُفُوْنَ عَلٰٓی اَصْنَامٍ لَّھُمْ قَالُوْا یٰمُوْسَی اجْعَلْ لَّنَآ اِلٰھًا کَمَا لَھُمْ اٰلِھَۃٌ قَالَ اِنَّکُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ.(الاعراف۷: ۱۳۶۔ ۱۳۸)

''سو ہم نے اُن (فرعونیوں) سے انتقام لیا اور اُنھیں سمندر میں غرق کر دیا، اِس لیے کہ اُنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور اُن سے بے پروا بنے رہے۔ اور اُن کو جو دبا کر رکھے گئے تھے، ہم نے اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جس میں ہم نے برکتیں رکھی تھیں۔ بنی اسرائیل پر تیرے پروردگار کا وعدۂ خیر اِس طرح پورا ہوا، کیونکہ وہ ثابت قدم رہے اور ہم نے فرعون اور اُس کی قوم کا سب کچھ برباد کر دیا جو وہ (اپنے شہروں میں) بناتے اور جو کچھ (دیہات کے باغوں اور کھیتوں میں ٹٹیوں پر) چڑھاتے تھے۔ (دوسری طرف) بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر کے پار اتار دیا۔ پھر اُن کا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جو (اِس قدر احمق تھی کہ) اپنے کچھ بتوں کی پرستش میں لگی ہوئی تھی۔ بنی اسرائیل نے (یہ دیکھا تو) کہا: اے موسیٰ، جس طرح اِن کے معبود ہیں، اُسی طرح کا ایک معبود ہمارے لیے بھی بنا دو۔ موسیٰ نے کہا: تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو۔''

امن و مان پا لینے کے بعد ان یہود کے آپسی جھگڑے موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ہی شروع ہو گئے۔ انھوں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ گائے والا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر سورۂ بقرہ میں آیا ہے۔ اسی طرح جب ان کے ایک اقلیتی گھرانے کے ایک فرد، طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کیا گیا تو انھوں نے اس کی مخالفت کی۔ انھوں نے اپنے ہی بھائیوں کے خلاف سازشیں کیں، ان کے خلاف دشمنوں کی مدد کی، اسرائیل اور یہودیہ کی دو سلطنتیں بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ جنگیں کیں، یعنی جب تک وہ بیرونی دشمن کے ظلم کے شکار رہے، وہ موحد بھی رہے اور متحد بھی، مگر امن پاتے ہی لڑنے جھگڑنے لگے، یہی نہیں، بلکہ تاریخ کے جس دور میں بھی یہ کسی بیرونی طاقت کے ظلم کا شکار ہوئے، یہ پھر موحد و متحد ہوتے رہے، یہاں تک کہ دور جدید میں دنیا بھر میں جب یہ ظلم کا شکار ہوئے تو متحد ہو کر انھوں نے اسرائیل جیسی ایک طاقت ور ریاست قائم کر لی۔

ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان کی استقامت ان کے برحق ہونے کی نشانی ہے۔ دنیا بھر میں صدیوں تک ان کو مٹانے کی کوششیں ہوئیں، مگر وہ آج بھی قائم و دائم ہیں، بلکہ ترقی کر رہے ہیں۔ احمدی حضرات ابھی پہلے دور سے گزر رہے ہیں، اس لیے ان کی استقامت اور یک جہتی مثالی ہے، لیکن یہ حق کا معیار نہیں۔ اگر ہے تو یہود اس کے زیادہ مستحق ہیں کہ انھیں برحق سمجھا جائے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی گروہ کے حق و صداقت کی پرکھ محض علمی و عقلی دلائل کی بنا پر ہی کی جا سکتی ہے۔

اس مضمون میں ہم منطقی دلائل زیر بحث نہیں لائیں گے، منطقی دلائل جیسے اثبات کے لیے دیے جا سکتے ہیں، نفی کے لیے بھی دیے جا سکتے ہیں۔ عقیدے کے اثبات کے معاملے میں منطقی دلائل بنیادی طور پر کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ علم الٰہی کا معاملہ ہے اوریہ علم الٰہی سے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے، اور علم الٰہی جاننے کا قطعی اور ابدی ذریعہ قرآن مجید ہی ہے۔ ہم اس بحث میں روایات کو بھی اصلاً زیر بحث نہیں لائیں گے، کیونکہ دین کا ہر ایسا معاملہ قرآن کی بنیاد پر ہی طے ہونا ضروری ہے، اور یہ معاملہ تو ہے ہی عقیدے کا، اس لیے فیصلہ کن اتھارٹی قرآن مجید ہی ہے، روایات کو اس کے تابع رکھ کر ہی دیکھا جا سکتاہے۔

علمی دلائل

احمدیت کا بنیادی استدلال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تسلسل نبوت کا ہے۔ دوسرا دعویٰ مرزا غلام احمد صاحب کے مسیح موعود ہونے کا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کمال نبوت کا اختتام ہوا ہے، نہ کہ سلسلۂ نبوت کا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبیوں کی تصدیق کرنے والے ہیں، نہ کہ ان نبوت کا سلسلہ ختم کرنے والے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد، آپ کے تابع، آپ سے کم تر درجے کے انبیا آتے رہیں گے جیسا کہ بنی اسرائیل میں موسیٰ علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل کی رہنمائی کے لیے آتے رہے تھے۔ ان کے مطابق مرزا غلام احمد صاحب سے پہلے بھی صاحبان وحی اس امت میں گزرے ہیں، مگر مرزا صاحب کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے باقاعدہ اس کا دعویٰ بھی کیا اور اپنے نہ ماننے والوں کی تکفیر بھی کی، تاہم یہ تکفیر کسی مسلمان کو اسلام کے دائرے سے خارج نہیں کرتی، لیکن احمدیت کے دائرے سے خارج کر دیتی ہے۔

نقد

ہم پہلے تسلسل نبوت کے تصور پر بات کرتے ہیں۔

احمدی حضرات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تسلسل نبوت کے ثبوت میں اثباتی دلائل بھی پیش کرتے ہیں اور منفی دلائل بھی۔ نفی میں سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۰ میں 'خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ' کا مفہوم وہ افضل الانبیا اور کمال نبوت کا اختتام لیتے ہیں اور یوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی تسلسلِ نبوت کو ثابت کرتے ہیں۔اس تصورکے اثبات میں درج ذیل آیات پیش کرتے ہیں۔ ہم ایک ایک کر کے ان آیات کا جائزہ لیتے ہیں:

۱۔ یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَّنَکُمْ رُسُلٌ مِّنْکُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْکُمْ اٰیٰتِیْ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ.(الاعراف۷: ۳۵)

''آدم کے بیٹو، (میں نے پہلے دن تمھیں بتا دیا تھا کہ) اگر تمھارے پاس خود تمھارے اندر سے پیغمبر آئیں، تم کو میری آیتیں سناتے ہوئے تو جو خدا سے ڈرے اور اُنھوں نے اپنی اصلاح کر لی تو اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ کبھی غم زدہ ہوں گے۔''

احمدی حضرات کا کہنا ہے کہ یہاں خدا تمام بنی آدم سے مخاطب ہو کر رسولوں کی آمدکی خبر دے رہا ہے۔ چنانچہ جب تک بنی آدم دنیا میں موجودہیں،رسول بھی آتے رہیں گے۔

اس آیت میں غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہے کہ رسول آتے رہیں گے، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اگر رسول آئے تو تمھارا رویہ کیا ہونا چاہیے۔ اگر یہ کہناہوتا ہے کہ رسول مسلسل آتے رہیں گے، تو اس کے لیے یہ اسلوب اختیار نہ کیا جاتا۔ چنانچہ جب خدا نے قرآن میں خود اعلان کر دیا کہ اب اور رسول اور نبی نہیں آئیں گے تو رسولوں کی آمد سے متعلق حکم بھی موقوف ہوگیا،جیسے ہر اس قوم کے لیے موقوف رہا جن پر کوئی نبی و رسول نہیں آیا۔ یہ ایسا ہی ہے، جیسے کہا جائے کہ اگر نماز کا وقت آجائے تونماز پڑھنا ہوگی، ورنہ گناہ گارہو جاؤ گے۔ اب اگر نماز کا وقت ہی نہ آئے تو نماز نہ پڑھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسی طرح نبی نہ آئے یا نبی کا آنا موقوف ہوجائے تو خدا کو اس آیت کے تحت اس کا پابند نہیں سمجھا جا سکتا کہ وہ کسی نبی کو بھیجنے کا امکان بنائے رکھے، جب کہ اس نے سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۴۰ میں واضح لفظوں میں اعلان بھی کر دیا ہو کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (خاتم النبیین پر بحث آگے آئے گی)۔

۲۔ وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ.(آل عمران۳: ۸۱)

''یاد کرو، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ آج ہم نے تمھیں کتاب اور حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمھارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمھارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی۔ یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا: کیا تم اِس کا اقرار کرتے ہو اور اس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہ داری اٹھاتے ہو؟ اُنھوں نے کہا: ہاں، ہم اقرار کرتے ہیں، اللہ نے فرمایا: اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔'' (مودودی)

احمدی حضرات اس آیت میں مذکور میثاق کو نبیوں سے لیا گیا میثاق قرار دیتے ہیں، جیسا کہ مولانا مودودی کے ترجمے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے، اور پھر درج ذیل سورۂ احزاب کی آیت میں مذکور نبیوں کے میثاق سے اس کا تعلق جوڑتے ہیں اور یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہی میثاق لیا گیا تھا کہ ان کے بعد بھی اگر کوئی رسول آئے تو وہ بھی اس کی تصدیق کریں گے، آیت یہ ہے:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا.(الاحزاب ۳۳: ۷)

''اور یاد رکھو، جب ہم نے سب نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیا۔''

یہ درست ہے کہ ''میثاق النبیین'' سے نبیوں سے میثاق کا مفہوم علما کے ایک طبقے نے سمجھا ہے، لیکن ہمارے نزدیک یہ مفہوم لیتے ہوئے اس آیت کی تالیف اور اس کا سیاق و سباق نظر انداز ہوا ہے، جو اس سے بالکل الگ مفہوم ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ پہلے یہ تعین کرنے کی ضرورت ہے کہ درج بالا سورۂ آل عمران کی آیت کے مخاطب کون ہیں؟ اس کا تعین آیت کا سیاق و سباق بہت واضح طور پر کر دیتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

وَمِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْہُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّہٖٓ اِلَیْکَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْہِ قَآءِمًا ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ. بَلٰی مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہٖ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ. اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَاَیْمَانِھِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓءِکَ لَاخَلَاقَ لَھُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُھُمُ اللّٰہُ وَلَا یَنْظُرُ اِلَیْھِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَلَایُزَکِّیْھِمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ. وَاِنَّ مِنْھُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَھُمْ بِالْکِتٰبِ لِتَحْسَبُوْہُ مِنَ الْکِتٰبِ وَمَا ھُوَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَقُوْلُوْنَ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَمَا ھُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ وَیَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ. مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ اللّٰہُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَلٰکِنْ کُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا کُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْکِتٰبَ وَبِمَا کُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ. وَلَا یَاْمُرَکُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَآٰءِکَۃَ وَالنَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا اَیَاْمُرُکُمْ بِالْکُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ. وَاِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَ. فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ. اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰہِ یَبْغُوْنَ وَلَہٗٓ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّکَرْھًا وَّاِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ.(آل عمران۳: ۷۵۔۸۳)

''اور اہل کتاب میں وہ لوگ بھی ہیں کہ اگر تم مال و دولت کا ڈھیر اُن کے پاس امانت رکھ دو تو وہ تمھیں ادا کر دیں گے اور اِن میں وہ بھی ہیں کہ اگر تم ایک دینار بھی اُن کی امانت میں دے دو تو جب تک اُن کے سر پر سوار نہ ہوجاؤ ، وہ اُس کو تمھیں ادا نہ کریں گے۔ یہ اِس وجہ سے کہ اُنھوں نے کہہ رکھا ہے کہ اِن امیوں کے معاملے میں ہم پرکوئی الزام نہیں ہے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) وہ جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ ہاں، کیوں نہیں؟ جو اُس کے عہد کو پورا کر ے اور پرہیز گار رہے، (وہ اُسے محبوب ہے)، اِس لیے کہ اللہ پرہیز گاروں سے محبت کرتا ہے۔ (اِس کے برخلاف)، جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ دیتے ہیں، اُن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے، اور اللہ قیامت کے دن نہ اُن سے بات کرے گا، نہ اُن کی طرف نگاہ التفات سے دیکھے گا اور نہ اُنھیں (گناہوں سے) پاک کرے گا، بلکہ وہاں اُن کے لیے ایک درد ناک سزا ہے۔ اور اِن میں وہ لوگ بھی ہیں کہ اللہ کی کتاب کو پڑھتے ہوئے اپنی زبان کو اِس طرح توڑتے مروڑتے ہیں کہ تم سمجھو کہ (جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں)، وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، دراں حا لیکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی، اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، دراں حالیکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا، اور (اِس طرح) جانتے بوجھتے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ (پھر یہی نہیں، وہ اللہ کے پیغمبر پر بھی جھوٹ باندھتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ) کسی انسان کی یہ شان نہیں ہے کہ اللہ اُس کو اپنی کتاب دے اور(اُس کے مطابق) فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور نبوت عطا فرمائے، پھر وہ لوگوں سے یہ کہے کہ اللہ کے بجاے تم میرے بندے بن جاؤ۔ (نہیں)، بلکہ (وہ تو یہی کہے گا کہ لوگو)، اللہ والے بنو، اِس لیے کہ تم اللہ کی کتاب پڑھتے اور پڑھاتے ہو۔ اور نہ وہ تم سے یہ کہے گا کہ فرشتوں اور نبیوں کو اپنا رب بنا لو۔ تمھارے مسلمان ہو چکنے کے بعد کیا وہ تمھیں کفر اختیار کر لینے کی ترغیب دے گا؟ اور (اِنھیں یاد دلاؤ)، جب اللہ نے نبیوں کے بارے میں (اِن سے)عہد لیا کہ میں نے جو شریعت اور حکمت تمھیں عطا فرمائی ہے، پھر تمھارے پاس کوئی رسول اُس کی تصدیق کرتے ہوئے آئے جو تمھارے پاس موجود ہے تو تم اُس پرضرور ایمان لاؤ گے اور اُس کی مدد کرو گے۔ (اِس کے بعد) پوچھا: کیا تم نے اقرار کیا اور اِس پر میرے عہد کی ذمہ داری اٹھا لی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ ہم نے اقرار کیا تو فرمایا کہ پھر گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔ (فرمایا کہ) پھر اِس کے بعد جو (اِس عہد سے) پھریں گے تو وہی نافرمان ہیں۔ تو کیا یہ لوگ (اب) اللہ کے دین کے سوا کسی اور دین کی تلاش میں ہیں، دراں حالیکہ زمین اور آسمانوں میں طوعاًوکرہاً، سب اُسی کے فرماں بردار ہیں اور اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔''

خط کشیدہ الفاظ میں ہم نے دونوں طرح کے تراجم کے متعلقہ حصے برائے بحث لکھے ہیں جو مترجمین نے مراد لیے ہیں۔ اس آیت کا سیاق سارے کا سارا بنی اسرائیل کو مخاطب کر رہا ہے۔ نیز میثاق النبیین کے بعد اس میثاق کو توڑنے کی صورت میں جو لب ولہجہ اختیار کیا گیا کہ اگر انھوں نے اس عہد کہ وہ ہر آنے والے رسول پر ایمان لائیں گے کو پورا نہ کیا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ لائے تو وہ فاسق کہلائیں گے، اور انھیں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کیا وہ خدا کے دین کو چھوڑ کر نیا دین بنا لینا چاہتے ہیں۔ کیا یہ اندازِ تخاطب انبیا کے لیے ہو سکتا ہے؟

میثاق النبیین سے جن مفسرین نے ''نبیوں سے میثاق'' سمجھا ہے، ہمارے نزدیک انھوں نے درست نہیں سمجھا۔ '''مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ' میں اضافت فاعل کی طرف نہیں، بلکہ مفعول کی طرف ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ انبیا سے میثاق لیا گیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ انبیا کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے میثاق لیا''(تدبر قرآن)۔ہمارے نزدیک ان مفسرین کی بات درست ہے جو میثاق النبیین سے 'وَإِذْ أَخَذَ اللّٰہُ الْمِیثَاقَ الَّذِی وَثَّقَہُ اللّٰہُ للأنبیاء علی أممہم'، ''جب اللہ نے وہ میثاق لیا جو اس نے انبیا کی امتوں سے ان کے انبیا کے لیے لیا'' (التفسیر الکبیر ۸/ ۲۷۴) لیتے ہیں۔

اس مطالبہ کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ ہر نبی نے اپنی امت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ چونکہ یہاں اس آیت کو لانے سے مقصود محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان کا مطالبہ ہے، نیز چونکہ انبیا کا بعثت محمدی کے وقت زندہ ہونا امکانات میں سے نہیں، اس لیے لا محالہ یہ مطالبہ انبیا کی اس امت سے ہے جو اس وقت موجود تھی، یعنی بنی اسرائیل سے۔ نیز آیت کا سیاق و سباق بھی اس کی تصدیق کرتا ہے کہ مخاطب وہی ہیں، اس لیے میثاق النبیین کی درست تالیف وہی ہے جو ہم نے اپنے موقف کی تائید میں پیش کی۔

اس آیت کا سیاق سارے کا سارا بنی اسرائیل کو مخاطب کر رہا ہے۔ نیز میثاق النبیین کے ذکر کے بعد اس میثاق کو توڑنے کی صورت میں جو لب ولہجہ اختیار کیا گیا ہے، وہ انداز تخاطب انبیا کے لیے یہاں موزوں نہیں، یعنی کہ اگر انھوں نے اس عہد کہ وہ ہر آنے والے رسول پر ایمان لائیں گے کو پورا نہ کیا تووہ فاسق کہلائیں گے، اوریہ کہ کیا وہ خدا کے دین کو چھوڑ کر نیا دین بنا لینا چاہتے ہیں؟ ڈانٹ کا یہ انداز بنی اسرائیل کے لیے اختیار کیا گیا ہے جو اس آیت کے سیاق میں بھی موجود ہے اور اسی موقع کی درج ذیل آیت سے بھی واضح ہوگا:

وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ وَبَعَثْنَا مِنْھُمُ اثْنَیْ عَشَرَ نَقِیْبًا وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ لَءِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ وَعَزَّرْتُمُوْھُمْ وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَلَاُدْخِلَنَّکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ.(المائدہ ۵: ۱۲)

''اللہ نے (اِسی طرح) بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور (اُس کی نگرانی کے لیے) ہم نے اُن میں سے بارہ نقیب اُن پر مقرر کیے تھے اوراللہ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمھارے ساتھ رہوں گا۔ اگر تم نے نماز کا اہتمام کیا اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں کو مانا اور اُن کی مدد کی اور اللہ، (اپنے پروردگار) کو قرض دیتے رہے، اچھا قرض تو یقین رکھو کہ میں تمھاری لغزشیں تم سے دور کردوں گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پھر اِس (عہد و میثاق) کے بعد بھی جو تم میں سے منکر ہوں تو (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔''

اس آیت میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عہدبھی وہی ہے، لب و لہجہ بھی وہی، تنبیہ بھی ویسی ہی ہے اور مخاطبت بھی اہل کتاب سے ہے۔

چنانچہ اس آیت کا درست مفہوم ہمارے نزدیک یہ ہے:

''اور (اِنھیں یاد دلاؤ)، جب اللہ نے نبیوں کے بارے میں (اِن سے) عہد لیا کہ میں نے جو شریعت اور حکمت تمھیں عطا فرمائی ہے، پھر تمھار ے پاس کوئی رسول اُس کی تصدیق کرتے ہوئے آئے جو تمھارے پاس موجود ہے تو تم اُس پرضرور ایمان لاؤ گے اور اُس کی مدد کرو گے۔ (اِس کے بعد ) پوچھا: کیا تم نے اقرار کیا اور اِس پر میرے عہد کی ذمہ داری اٹھا لی ہے؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ ہم نے اقرار کیا تو فرمایا کہ پھر گواہ رہو اور میں بھی تمھارے ساتھ گواہ ہوں۔'' (البیان، غامدی)

اب سوال یہ ہے کہ سورۂ احزاب کی مذکورہ آیت میں 'انبیا کے میثاق' سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت بھی اس کے سیاق سے ہو جاتی ہے:

وَاِذْ اَخَذْنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیْثَاقَھُمْ وَمِنْکَ وَمِنْ نُّوْحٍ وَّاِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاَخَذْنَا مِنْھُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا. لِّیَسْءَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِہِمْ وَاَعَدَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا.(الاحزاب۳۳: ۷۔۸)

''اور یاد رکھو، جب ہم نے سب نبیوں سے اُن کا عہد لیا اور تم سے بھی اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی، اور ہم نے اُن سے نہایت پختہ عہد لیا (کہ ہمارا پیغام بے کم و کاست پہنچا دو)۔ تاکہ اللہ راست بازوں سے اُن کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے (اور منکروں اور منافقوں سے اُن کے کفر و نفاق کے بارے میں)، اور منکروں کے لیے تو اُس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔''

اس آیت میں '' تاکہ اللہ راست بازوں سے اُن کی راست بازی کے بارے میں سوال کرے'' یہ طے کر رہا ہے کہ یہ میثاق انبیا سے اس بات کا عہد لیا گیا ہے کہ وہ ابلاغ میں کوئی کمی نہ چھوڑیں گے، یعنی اتمام حجت کریں گے اور اسی بنا پر کفار عذا ب کے مستحق قرار پائیں گے۔اس بات کی وضاحت سورہ مائدہ میں اس موقع کی آیات سے ہو تی ہے جہاں اس صورت حال میں سچوں کی سچائی پرکھنے کا مرحلہ درپیش دکھایا گیا ہے۔یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام سے اسی بات کا سوال کریں گے کہ کیا انھوں نے خدا کا پیغام بے کم و کاست پہنچا دیا تھا، اور پھر اسی بنا پر فرمائیں گے کہ آج سچوں کو ان کی سچائی کا صلہ ملے گا:

وَاِذْ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ ءَ اَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَاُمِّیَ اِلٰھَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ قَالَ سُبْحٰنَکَ مَا یَکُوْنُ لِیْٓ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ بِحَقٍّ اِنْ کُنْتُ قُلْتُہٗ فَقَدْ عَلِمْتَہٗ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَلَآ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِکَ اِنَّکَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ. مَا قُلْتُ لَھُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ وَکُنْتُ عَلَیْھِمْ شَھِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْہِمْ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ کُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْھِمْ وَاَنْتَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَھِیْدٌ. اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَغْفِرْ لَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. قَالَ اللّٰہُ ھٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُھُمْ لَھُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ.(المائدہ۵: ۱۱۶۔۱۱۹)

''اور یاد کرو، جب (یہ باتیں یاد دلا کر) اللہ پوچھے گا: اے مریم کے بیٹے عیسیٰ، کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا تم مجھے اور میری ماں کو معبود بنالو۔ وہ عرض کرے گا: سبحان اللہ، یہ کس طرح روا تھا کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں ہے۔ اگر میں نے یہ بات کہی ہوتی تو آپ کے علم میں ہوتی، (اِس لیے کہ) آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور آپ کے دل کی باتیں میں نہیں جانتا۔ تمام چھپی ہوئی باتوں کے جاننے والے تو آپ ہی ہیں۔ میں نے تو اُن سے وہی بات کہی تھی جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمھارا بھی۔ میں اُن پر نگران رہا، جب تک میں اُن کے درمیان تھا۔ پھر جب آپ نے مجھے وفات دی تو اُس کے بعد آپ ہی اُن کے نگران رہے ہیں اور آپ ہر چیز پر گواہ ہیں۔ اب اگر آپ اُنھیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ ہی زبردست ہیں، بڑی حکمت والے ہیں۔ اللہ فرمائے گا: یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کی سچائی اُن کے کام آئے گی۔ اُن کے لیے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔''

اس بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ درج بالا آیت سے تسلسل نبوت کا استدلال درست نہیں۔

۳۔ درج ذیل آیت سے بھی تسلسل نبوت کا استدلال کیا گیا ہے:

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَآٰءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ.(الحج ۲۲: ۷۵)

''اللہ فرشتوں میں سے بھی (اپنے) پیغام بر چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (اِس سے وہ خدائی میں شریک کیوں ہو جائیں گے)؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ (خود) سمیع و بصیر ہے۔''

اس آیت کواس کے پورے سیاق و سباق میں دیکھتے ہیں:

اَللّٰہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَآٰءِکَۃِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ م بَصِیْرٌ. یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ. یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ. وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہٖ ھُوَاجْتَبٰکُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُمُ الْمُسْلِمِیْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِیْ ھٰذَا لِیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ شَھِیْدًا عَلَیْکُمْ وَتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰہِ ھُوَ مَوْلٰکُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ.(الحج۲۲: ۷۵۔۷۸)

''اللہ فرشتوں میں سے بھی (اپنے) پیغام بر چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (اِس سے وہ خدائی میں شریک کیوں ہو جائیں گے)؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ (خود) سمیع و بصیر ہے۔اِن (فرشتوں) کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے، وہ اُس سے واقف ہے اور تمام معاملات اُسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ایمان والو، (اِن کا عہد تمام ہوا، اب تمھارا دور شروع ہو رہا ہے تو) رکوع و سجود کرو اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو اور نیکی کے کام کرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور (مزید یہ کہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے) اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو، جیسا کہ جدوجہد کرنے کا حق ہے۔ اُس نے تمھیں چن لیا ہے اور (جو) شریعت (تمھیں عطا فرمائی ہے، اُس) میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے۔ تمھارے باپ ابراہیم کی ملت تمھارے لیے پسند فرمائی ہے۔ اُسی نے تمھارا نام مسلم رکھا تھا، اِس سے پہلے اور اِس (قرآن)میں بھی (تمھارا نام مسلم ہے)۔ اِس لیے (چن لیا ہے) کہ رسول تم پر (اِس دین کی)گواہی دے اور دنیا کے سب لوگوں پر تم (اِس کی) گواہی دینے والے بنو۔ سو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط پکڑو۔ وہی تمھارا مولیٰ ہے۔ سو کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار!''

آیت ۷۵ آگے آنے والی آیات کی تمہید ہے، جس میں ذریت ابراہیم میں سے بنی اسماعیل کے چنے جانے کا ذکر ہے، یعنی جس طرح اللہ افراد کو نبوت کے لیے منتخب کرتا ہے، اسی طرح اقوام کو بھی کار نبوت کی انجام دہی کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اس منصب کے لیے پہلے بنی اسرائیل کو چنا گیا، اور ان کے بعد اب بنی اسماعیل کو چنا گیا۔ یہ خدا کی طرف سے افراد و اقوام کے چنے جانے کا بیان ہے، نہ کہ تسلسل نبوت کا، یعنی خدا ایسا کرتا ہے، یہ نہیں کہ وہ ایسا کرتا بھی رہے گا۔ چنانچہ نبوت میں اس نے آخری دفعہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چنا اور اقوام میں سے بنی اسماعیل کو۔ اس کے بعد یہ سلسلہ اس نے بند کردیا۔ اگر خدااس کا تسلسل برقرار رکھتا تو قرآن میں بیان کر دیتا کہ وہ مزید کن افراد اور اقوام کو چننے کا ارادہ رکھتا ہے، جیسے قرآن سے پیشتر اس نے قدیم صحائف میں پیشین گوئیوں کی صورت میں پہلے سے یہ بیان کر دیا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بنی اسماعیل کو چنے گا۔ چنانچہ استثناء میں ہے:

''میں اُنکے لیے اُن ہی کے بھائیوں (یعنی بنی اسماعیل) میں سے تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اُسکے منہ میں ڈالونگا اور جو کچھ میں اُسے حکم دونگا وہی وہ اُن سے کہے گا ۔ اور جو کوئی میری اُن باتوں کو جنکو وہ میرا نام لیکر کہے گا نہ سُنے تو میں اُنکا حساب اُس سے لونگا۔'' (۱۸: ۱۸۔۱۹)

لیکن قرآن میں ایسے کسی فرد یا قوم کا ذکر نہیں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چنا جانا پیش نظر ہو، بلکہ وہاں نبوت کے سلسلے ہی کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

احمدیت کی اشاعت اور بنیادی استدلالات کا مختصر جائزہ (2/2)

____________