’’احیائے ملت اور دینی جماعتیں‘‘


تصنیف: مولانا الطاف احمد اعظمی،

ضخامت: ۵۲۰،

قیمت: ۲۵۰،

ناشر: دارلتذکیر، رحمان مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور۔

''احیائے ملت اور دینی جماعتیں ''نامی کتاب کے مصنف الطاف احمد اعظمی صاحب ہیں ۔ یہ کتاب ، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، دینی جماعتوں کی اس جدوجہد سے متعلق ہے جو انھوں نے عصر حاضر میں برصغیر پاک و ہند میں کی ہے ۔ کتاب اصلاً تنقیدی نوعیت کی ہے ۔ اس میں تین دینی جماعتوں جماعت اسلامی ، تبلیغی جماعت اور جمعۃ العلماء ہند کے افکار ، اعمال اور نمائندہ شخصیات کے خیالات پر تنقید کی گئی ہے ۔

اس سے قبل کہ ہم کتاب پر گفتگو کا آغاز کریں ، یہ بات واضح کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کسی تنقید پر تمام لوگ یک رائے نہیں ہو سکتے ۔ جس فکر ، جماعت یا شخصیت پر تنقید کی جاتی ہے ، اس سے متعلق لوگ ہمیشہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تنقید بدنیتی پر مبنی ہے ۔ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کرتے ۔ وہ ہر ایسی بات کو سازش قرار دے کر اسے رد کر دیتے ہیں ۔جبکہ مخالفین اس تنقید کو ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں ۔ وہ اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ تاہم ایک اچھے ناقد کی طرح کسی تنقید کے قاری کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ غیر جانب داری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور ہر قسم کے منفی و مثبت تعصب سے بے نیاز ہو کر تنقید کا مطالعہ کرے ۔ جو چیز اس میں میرٹ کی بنیاد پر درست ہے ، اسے قبول کرے اور جو غلط محسوس ہو اسے چھوڑ دے ۔ ہم اس تبصرہ میں کوشش کریں گے کہ اس تنقید کی اصابت کو زیر بحث نہ لائیں اور خود کو کتاب کے تعارف تک محدود رکھ کر تنقید کی صحت کا فیصلہ قارئین پر چھوڑ دیں ۔

پیش نظر کتاب تین ابواب اور ایک مقدمہ پر مشتمل ہے ۔ مقدمہ میں مصنف نے کتاب کی وجہ تصنیف بیان کی ہے ۔ ایک فکر انگیز تمہید سے مقدمہ کا آغاز ہوتا ہے اور پھر مصنف تینوں جماعتوں کا تعارف کراتے ہیں ۔ ساتھ ساتھ مختصراً اپنی تنقید بھی بیان کرتے ہیں ۔ ان تین جماعتوں کے ساتھ ساتھ مقدمہ میں اقبال کو بھی ہدف تنقید بنایا گیا ہے ۔ گو ان پر کتاب میں کوئی تنقید نہیں کی گئی ، مگر مصنف نے اپنی ایک دوسری تصنیف کا ذکر کیا ہے جس میں اقبال پر تصوف کے حوالے سے تنقید کی گئی ہے ۔ دوران تنقید میں مصنف نے اپنے نقطۂ نظر کے مطابق درست قرآنی فکر کو بھی بیان کیا ہے جس سے ان کے خیال میں دوسرے صرف نظر کر گئے اور جس کے نتیجے میں امت میں اختلاف و انتشار کا دروازہ کھل گیا۔ آخر میں مصنف نے اپنی تنقید اور دوسری تنقیدوں میں فرق واضح کیا ہے جو اس سے قبل ان جماعتوں پر کی جا چکی ہیں ۔

کتاب میں زمانی ترتیب کے بجائے ، بقول مصنف ، تینوں جماعتوں پر ان کی تحریکی اہمیت کے اعتبار سے ان کا مقام متعین کر کے تنقید کی گئی ہے ۔ پہلا باب جماعت اسلامی سے متعلق ہے ۔ کتاب کے نصف سے ذرا کم صفحات پر جماعت اسلامی کو موضوع سخن بنایا گیا ہے ۔ بحث کا آغاز بانی جماعت مولانا مودودی کے شخصی و فکری تعارف سے ہوتا ہے ۔ مگر یہ تذکرہ تعارف تک محدود نہیں رہتا ، بلکہ ایک بھر پور تنقید کے روپ میں قاری کے سامنے آتا ہے ۔ جس میں وہ مولانا کی مختلف کتابوں کے اقتباسات لے کر ان کی فکر کے مختلف گوشوں پر جرح وتنقید کرتے ہیں ۔ تاہم یہ تنقید مولانا کے دینی تصورات پر اتنی نہیں جتنی ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر ہے ۔ مثال کے طور پر درج ذیل تبصرہ ملاحظہ ہو جو مصنف نے مولانا کے کچھ اقتباسات نقل کرنے کے بعد لکھا ہے :

''ان کی سیاسی انتہا پسندی نے تو وہ گل کھلائے کہ الامان الحفیظ ۔۔۔ مولانا انتہا پسند ہی نہیں ، بلکہ عینیت پسند بھی تھے ۔ اور یہ چیز انتہا پسندی اور خطیبانہ رنگ گفتار سے کہیں زیادہ مضرت رساں ہے ۔ اور یہ چیز اگر ایک مذہبی داعی کے یہاں ہو تو اس کی دعوت کی ناکامی یقینی ہے ۔ مذہبی تاریخ میں اس کی بکثرت مثالیں موجود ہیں ۔ عینیت پسندی کے معنی یہ ہیں کہ داعی میں حقیقت پسندی کا جوہر بہت کم یانایاب ہے ۔ اس سے پہلے ان کی انتہا پسندی کے ذکر میں ان کی تحریروں سے جو اقتباسات نقل کیے گئے ہیں ۔ ان میں ان کے عینیت پسند ذہن کا عکس صاف نظر آتا ہے ۔ ان کی تحریروں کو پڑھ کر ہر شخص یہی کہے گا کہ وہ سنہرے خواب دیکھنے والے داعی دین اور خطیب اسلام تھے ۔ '' (۳۲۔۳۳)

مولانا پر تنقید کے بعد وہ ایک ایک کر کے جماعت کے فکر کے مختلف پہلوؤں کو لے کر ان پر تنقید کرتے ہیں ۔ تقریباً ڈیڑھ سو صفحات میں وہ کم و بیش تمام اہم اعتبارات سے جماعت کی فکر پر اپنی تنقید مکمل کرتے ہیں ۔ فکر سے فارغ ہو کر وہ عمل کے میدان میں آتے ہیں اور یہاں بھی ایک ایک کر کے عنوان باندھتے ہیں اور میدان عمل میں جماعت اسلامی کے مختلف اقدامات کو ہدف تنقید بناتے ہیں ۔ آخر میں وہ جماعت اسلامی کی ناکامی کے اسباب پر بحث کرتے ہیں اور اختتام بحث میں ارباب جماعت کی خدمت میں کچھ مشورے پیش کرتے ہیں ۔

جماعت اور بانی جماعت کی فکر پر کی گئی اس طویل تنقید میں یہ بات صاف طور پر محسوس ہوتی ہے کہ مصنف کو اس فکر کی بنیاد ہی سے شدید اختلاف ہے ۔ جس کے اظہار میں مصنف نے کسی بخل سے کام نہیں لیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ مصنف نے براہ راست مولانا مودودی کی شخصیت پر قطیعت کے ساتھ بعض فیصلے دیے ہیں مثلاً انتہا پسندی ، عینیت پسندی اور عجلت پسندی وغیرہ ۔ گو کہ ان مقامات پر مصنف نے ان کی تحریروں سے حوالے بھی دیے ہیں ، مگر مناسب یہ تھا کہ مصنف خود کو فکر پر تنقید تک محدود رکھتے اور شخصیت پر تبصرہ کرنے سے پرہیز کرتے ۔ نیز مصنف نے مولانا کی سیرت کے وہ پہلو بھی بعض حوالوں سے بیان کیے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ۔ مثلاً مولانا ابتداءً بے ریش تھے یا پھر دو تین مرتبہ دوسروں کے کہنے پر سینما دیکھنے گئے۔ گو مصنف کہتے ہیں کہ وہ اس طرح کی چیزوں کو اہمیت نہیں دیتے ، مگر اس طرح کی چیزوں کا تذکرہ اپنے اندر دینی اعتبار سے فائدے سے زیادہ نقصان کا پہلو رکھتا ہے ۔

اس طویل تنقید میں ایسا نہیں ہوا کہ مصنف نے صرف اور صرف تنقید کے نشتر کوہاتھ میں اٹھا رکھا ہو ، بلکہ بعض موقعوں پر وہ شان دار الفاظ میں مولانا مودودی کی خدمات کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ مثلاً ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :

''مولانا نے تقسیم ہند سے پہلے جس طو رپر متحدہ قومیت کے نظریے کے طلسم کو توڑا اس کے لیے برصغیر کے مسلمان ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں گے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے مادیت، الحاد اور اشتراکی نظریہ کے خلاف جس طرز پر مدلل اور منظم جہاد قلمی کیا اس طرز جامعیت کے ساتھ اس دور کے کسی عالم نے یہ کام نہیں کیا اور نہ کر سکتا تھا۔ اس لیے کہ مولانا قدیم علوم کے ساتھ جدید علوم سے بھی آشنائی رکھتے تھے ۔ اس پر مستزاد ان کا بے مثل اسلوب نگارش جس نے ان کی تحریروں کو بے حد موثر بنا دیا تھا۔ ان کامنطقی اسلوب بیان دلوں میں بآسانی گھر کر جاتا تھا۔ اس دورمیں ان کی تحریریں بلاشبہ دینی لٹریچر میں ادب عالیہ کا درجہ رکھتی ہیں ۔۔۔ مزید براں مولانا نے اسلامی عقائد اور اسلام کے تمدنی افکار و نظریات پر مخالفین کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات کے دندان شکن ، مگر عالمانہ جواب دیے اور اسلامی نظریات کی صحت افادیت کو واضح کیا۔ میں بلامبالغہ کہتا ہوں کہ اس میدان میں مولانا شبلی کے بعد اگر کسی عالم دین کی خدمات وقیع اور ناقابل فراموش ہیں تو وہ مولانا مودودی کی ذات باکمال ہے ۔ '' (۲۳۰۔ ۲۳۱)

جماعت اسلامی کے بعد دوسری جماعت جو کتاب میں موضوع بحث بنی ہے ، وہ تبلیغی جماعت ہے ۔ تاہم مولانا مودودی کے برعکس انھیں بانی جماعت مولانا الیاس کی فکر سے بنیادی اور اصولی اختلاف نہیں ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :

''مولانا محمد الیاس نے اصلاح امت کی جو تدبیر بتائی ہے اور جس طریقۂ تعلیم کی طرف رہبری کی ہے وہ بلاشبہ مفید بھی ہے اور حکیمانہ بھی ۔ لاریب کلمۂ طیبہ کی درستی ، نماز کی حقیقی اقامت اور امتزاج علم و ذکر سے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی آراستگی ہے اور اسی پر دین قیم کا قیام اور اس کا استحکام منحصر ہے ۔ مسلمانوں کی اصلاح و تربیت کا نقطۂ آغاز اس کے سوا کوئی دوسری چیز ہو ہی نہیں سکتی ۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مولانا نے جو دعوت دی ہے وہ ہر پہلو سے مکمل ہے ۔ اس میں بعض نقائص بھی ہیں ۔ مثلاً صلوٰۃ و زکوٰۃ اور ایمان و عمل میں تفریق وغیرہ ۔ اس کے علاوہ مولانا نے تبلیغ دین کا جو طریقہ وضع کیا ہے وہ قرآن حکیم کے طریقۂ تبلیغ کے خلاف ہے ۔ زندگی کے آخری ایام میں مولانا کو ان نقائص کا احساس ہو گیا تھا اور ان کے تدارک کی انھوں نے کوششیں بھی کیں ، لیکن عمر نے وفا نہ کی اور جلد ہی اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ اس لیے یہ کام مکمل نہ ہو سکا اور ہنوز تشنۂ تکمیل ہے ۔ ''

تبلیغی جماعت کے حوالے سے مصنف کی تنقید کا اصل ہدف مولانا الیاس کے جانشین ہیں ۔ وہ مقدمہ میں لکھتے ہیں :

''۔۔۔اس مرد مومن (مولانا الیاس) کے انتقال کے بعد تبلیغی جماعت مولانا محمد زکریا کے زیر اثر آ گئی اور یہیں سے اس کا فکری اور عملی انحراف شروع ہوا۔ جس دعوت کو بانی جماعت نے دین کی 'الف ، ب ، پ' کہا تھا اس کو کل دین قرار دے دیا گیا اور آج تک تبلیغی جماعت اسی راہ میں گامزن ہے ۔

اس سے بڑا ستم یہ ہوا کہ دین کے بعض بنیادی امور میں افراط و تفریط کے رجحان کوجس کا آغاز بانی جماعت کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا، فروغ ملا اور وہ کافی پختہ ہو گیا ۔ مثلاً ایمان و عمل میں تفریق اور نمازو زکوٰۃ میں تفریق وغیرہ ۔ پہلی تفریق نے انھیں کردار سازی سے غافل کیا اور دوسری تفریق نے بندگان خدا کی خدمت کے تصور سے بے گانہ بنایا ۔ اس کے علاوہ توکل کے غیر قرآنی تصور کا بھی اس جماعت میں رواج ہے ۔ اور اس سے بڑھ کر پیر پرستی کی بیماری ہے جس میں اس جماعت کے خاص و عام سب مبتلا ہیں ۔ اس جماعت کی فکری رہنما تبلیغی نصاب ''فضائل اعمال'' نامی کتاب ہے جس میں بے شمار موضوع اور ضعیف روایتیں اور بے سروپا حکایتیں بھری ہوئی ہیں جیسا کہ زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہو گا ۔ لیکن اس کے باوجود اہل تبلیغ میں اس کتاب کو وہ ہر دلعزیزی حاصل ہے کہ اس کی کوئی دوسری نظیر تاریخ امت میں کم از کم مجھے نہیں ملی ۔ اس مقبولیت کی وجہ مولف کتاب سے اہل تبلیغ کی اندھی عقیدت ہے جو پیری مریدی کا لازمی نتیجہ ہے ۔ مگر افسوس ہے کہ مسلمان اس حقیقت سے اب تک غافل ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب امت مسلمہ کے حق میں ایک بہت بڑا فتنہ ہے ، لیکن افسوس کہ مسلمان اس حقیقت کے ادراک سے اب تک قاصر ہیں ۔

تبلیغی جماعت کو جو عوام میں مقبولیت حاصل ہے اس کو دیکھ کر بہت سے لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ وہ بالکلیہ حق پر ہے ۔ یہ خیال صحیح نہیں ہے ۔ عوام میں تبلیغی جماعت کی مقبولیت ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کی جو ذہنی اور فکری سطح ہے وہ جماعت کی فکری اور ذہنی سطح سے پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔ اس کے علاوہ عبادت کے چند اعمال و رسوم کی ظاہری پیروی کو کل دین کی حیثیت دے دی گئی ہے ۔ جس کی وجہ سے عام مسلمان بآسانی اس سے وابستہ ہو جاتے ہیں ، لیکن یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اعمال و اخلاق کی جن خرابیوں میں غیر تبلیغی مسلمان مبتلا ہیں ان خرابیوں میں تبلیغی جماعت کے افراد بھی مستثنیات سے قطع نظر ملوث نظر آتے ہیں ۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے ۔ جب ذکر لسانی، درود شریف ، تبلیغی گشت ، نصاب خوانی اور نوافل کا اہتمام کرنے والے کے لیے جنت میں ہزاروں محلوں کی تعمیر کا مژدہ سنایا جا رہا ہو تو پھر کسی مسلمان کو کیا پڑی ہے کہ وہ اعمال صالحہ کی گھاٹی عبور کرنے کی مشقت اٹھائے ۔ تعمیر سیرت سے مکمل طور پر بے اعتنائی کرنے کی وجہ سے تبلیغی جماعت کی افادیت اس کے وسیع حلقۂ اثر کے باوجود بہت تھوڑی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی مضرت کہیں زیادہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ تبلیغی جماعت نے ظاہری مذہبیت اور اس میں غلو اور شخصیت پرستی کے علاوہ اور کچھ نہیں دیا اور نہ آیندہ کچھ دے سکتی ہے ۔ جس جماعت کی فکری رہنما فضائل اعمال جیسی کتاب ہو اس سے خیر وصلاح کی توقع زمین شور سے روئیدگی کی توقع کے ہم معنی ہے ۔ '' (۷،۸)

تبصرہ گرچہ بے حد تلخ ہے ، مگر جیسا کہ مصنف نے ایک جگہ اشارہ کیا ، اس کے تفصیلی دلائل کتاب میں دیے گئے ہیں ۔ تبلیغی جماعت پر تبصرے کا آغاز مصنف نے مولانا محمد الیاس کے شخصی و فکری تعارف سے کیا ہے ۔ مولانا الیاس کے تذکرہ کے بعد انھوں نے تبلیغی جماعت کے بنیادی اصول بیان کیے ہیں ۔ پھر یہ بتایا ہے کہ کس طرح مولانا الیاس کے جانشینوں نے ان کی ابتدائی دعوت سے منہ موڑ لیا اور ان کی تعلیمات میں تحریف کر دی ۔ پھر ایک ایک کر کے ان چیزوں کو لیا جن میں انھیں تبلیغی جماعت سے اصولی طور پر اختلاف ہے ۔ آخر میں تبلیغی نصاب پر تبصرہ کیا ہے ۔ اس میں مولانا محمد زکریا صاحب کا تعارف کرایا گیا ہے ۔ صاحب کتاب پر گفتگو کے بعد انھوں نے تبلیغی نصاب کی سات کتابوں یعنی فضائل نماز ، فضائل قرآن ، فضائل رمضان، فضائل تبلیغ، فضائل درود شریف، فضائل ذکر اور حکایات صحابہ کا تعارف کرایا ہے ۔ اس کے بعد ایک بڑی اہم بحث بانی جماعت کی جانشینی سے متعلق ہے ۔ اوپر کا تبصرہ جن لوگوں کو زیادتی پر مبنی لگا ہو وہ اگر اس ساری تفصیل کو ٹھنڈے دل اور غیرجانب داری کے ساتھ پڑھ لیں تو امید ہے کہ ان کی رائے بدل جائے گی اور وہ فاضل مصنف کی رائے کا وزن محسوس کر لیں گے۔ مصنف نے اپنی تنقید کو تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ مولانا احتشام کاندھلوی جو کہ مولانا الیاس کے برادر نسبتی اور خصوصی معتمد تھے کے تبصرہ سے مویدکیا ہے جو انھوں نے تبلیغی جماعت سے علیحدہ ہونے کے بعد کیا تھا۔ آخر میں مصنف نے تبلیغی جماعت کو بھی کچھ مشورے پیش کیے ہیں ۔

تیسرا باب جمعیۃ العلماء ہند سے متعلق ہے ۔ یہ جماعت علماے دیو بند نے ۱۹۱۹ء میں قائم کی ۔ یہ ایک سیاسی جماعت تھی۔ مذہبی سیاسی جماعتوں کی اصطلاح جس سے اہل پاکستان بخوبی واقف ہیں ، یہ اس نوعیت کی پہلی جماعت تھی ۔ گو اس کے مقاصد میں ایک اہم مقصد مسلمانوں کی مذہبی نقطۂ نظر سے سیاسی امور پر رہنمائی تھی ، مگر عملاً یہ مسلم لیگ اور کانگریس کے سیاسی تنازع میں کانگریس کی حلیف بن گئی جو آزادی ہند کی جدوجہد میں وہ غیر مشروط طور پر کانگریس کے ساتھ مل کر کر رہی تھی ۔ مصنف کے نزدیک جمعیۃ العلماء ہند کی سب سے بڑی سیاسی غلطی یہ تھی کہ اس نے انگریز دشمنی میں آ کر غیر مشروط طور پر کانگریس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا اور بعد از آزادی مسلمانوں کے حقوق سے متعلق کانگریس سے کوئی تحریری معاہدہ کیے بغیر اپنا تمام وزن کانگریس کے پلڑے میں ڈال دیا۔ آزادی کے بعد یہ ایک نیم سیاسی اور نیم مذہبی جماعت بن گئی ۔ اس کی موجودہ صورت حال کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں :

''حقیقت یہ ہے کہ اس جماعت کے پاس حقیقی معنی میں اب نہ کوئی دینی لائحۂ عمل ہے اور نہ کوئی مثبت اصلاحی اور سماجی پروگرام ۔ '' (۹)

مصنف نے جمعیۃ کے ذکر میں مولانا آزاد کو بھی موضوع بحث بنایا ہے اور ان پر شدید تنقید کی ہے ۔ وہ مقدمہ میں رقم طراز ہیں ۔

''جمعیۃ العلماء کا تعارف نامکمل رہے گا اگر یہاں مولانا آزاد کا ذکر نہ کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ جمعیۃ العلماء کی مذہبی اور سیاسی فکر کی تشکیل میں مولانا آزاد کی فکر کو نمایاں مقام ہے متحدہ قومیت کا مسئلہ یا جنگ آزادی میں مسلمانوں کی شرکت اور کانگریس کی حمایت کا معاملہ، جمعیۃ العلماء نے مولانا کے نقوش قدم کی پیروی کی ہے ۔ اور انھی کے چشمۂ فکر سے اپنے جام و ساغر بھرے ہیں ۔ اس کتاب میں مولانا آزاد کی سیاسی ، مذہبی اور قرآنی فکر پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے تاکہ جمعیۃ العلماء کے ساتھ خود مولانا آزاد کے افکار و خیالات کی غلطی واضح ہو جائے ۔ '' (۹)

کتاب میں جمعیۃ العلماء پر بحث اس کے قیام کے تاریخی پس منظر سے شروع ہوتی ہے ۔ اس کے قیام کی بنیاد تحریک خلافت کے دوران میں رکھی گئی تھی ، لہٰذا وہ تحریک خلافت اور اس میں مولانا آزاد اور مولانا محمد علی کے کردار کو بھی زیر بحث لاتے ہیں ۔ اس کے بعد وہ جمعیۃ العلماء کے سیاسی کردار اور غلطیوں پر بحث کرتے ہیں۔ یہیں سے مولانا آزاد کا تفصیلی تذکرہ شروع ہوتاہے اور ان کی مذہبی و سیاسی فکر اور قرآنی بصیرت زیر بحث آتی ہے ۔ پچاسی صفحوں پر پھیلی یہ تنقید پڑھنے کے قابل ہے ۔ اس کے بعد مولانا حسین احمد مدنی اور ان کے افکار پر گفتگو کی گئی ہے ۔ آخر میں موجودہ جمعیۃ العلماء ہند کے حالات پر تبصرہ ہے ۔

یہ کتاب اپنے اندر جامعیت کا بڑا غیر معمولی پہلو رکھتی ہے ۔ اور متعلقہ جماعتوں کے کم و بیش تمام یا اکثر پہلوؤں کو اس میں زیر بحث لایا گیا ہے ۔ ہم قارئین کو پھر یاد دلا دیں کہ یہ کتاب تنقیدی نوعیت کی ہے ۔ تنقید کرتے وقت کچھ اصول پیش نظر رہنے چاہییں ۔ اچھی تنقید عیب جوئی نہیں ہوتی ۔ اس کا کام کیڑے نکالنا نہیں ہوتا ، بلکہ وہ دردمندی کے احساس کے تحت کی جاتی ہے۔ اس میں نیت پر حملہ کرنے سے پرہیز کیا جاتا ہے ۔ تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ اس کی دلیل بھی ساتھ بیان کی جائے ۔ پھر یہ دلیل بھی نکتہ آفرینی کی نوعیت کی نہ ہو ۔ نہ کسی کی طرف ایسی بات منسوب ہو جو وہ کرنا ہی نہیں چاہتا، مگر ناقد سیاق و سباق سے کاٹ کر اس کی بات پیش کر دے ۔ مجموعی طور پر جس تنقید میں یہ پہلو غالب ہوں ، وہ اچھی تنقید کہلاتی ہے ۔ ان اعتبارات سے دیکھا جائے تو مصنف نے بیشتر جگہوں پر تنقید کے اصولوں کو ملحوظ رکھا ہے ۔ گو اس تنقید پر بھی تنقید کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور ضروری نہیں کہ ایک قاری تمام معاملات کو اسی نگاہ سے دیکھے جس سے فاضل مصنف نے دیکھا ہے ۔

یہاں ہم کچھ ایسے گوشے واضح کرنا چاہیں گے جن میں ہمیں مصنف سے اختلاف ہے ۔ مثلاً یہ حقیقت ہے کہ مصنف کا قلم بار ہا بہت تلخ ہو گیا ہے ۔ اس بات کا احساس بالعموم تنقیدکرنے والے کو نہیں ہوتا ، مگر جو لوگ کسی فکر یا جماعت سے وابستہ ہوتے ہیں ، لہجے کی ترشی ان کی دل آزاری کا سبب بن جاتی ہے اور وہ مصنف کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ تنقید کوئی مفید نتیجہ پیدا نہیں کر پاتی ۔ اگرچہ مصنف نے یہ بات مقدمہ میں خود تسلیم کی ہے کہ کہیں کہیں ان کے انداز بیان میں تھوڑی سی شدت پیدا ہو گئی ہے ، انھوں نے اس کاعذر بھی پیش کیا ہے ،لیکن مقصود اگر اصلاح ہے تو خیر خواہانہ انداز گفتگو اس کا لازمی تقاضا ہے ۔

دوسرے یہ کہ مقدمہ میں مصنف نے اپنے متعلق یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان کی یہ تنقید دوسروں کی تنقید سے مختلف ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں غیر جانب داری کو ملحوظ رکھا گیا ہے ۔ جبکہ دوسری تنقیدیں ان لوگوں نے لکھی ہیں جنھوں نے ان جماعتوں کو چھوڑا اور پھر ان پر اظہار رائے کیا اس بنا پر ان کی تنقید میں غیر جانب داری تقریباً ناممکن تھی اور ان میں معروضی نقطۂ نظر کی خاصی کمی ہے ۔ مصنف نے ایک اور فرق اپنی اور دوسری تنقیدوں میں یہ بیانکیا ہے کہ دوسری کتابوں میں کیا گیا حق کی بازیافت کا دعویٰ محل نظر ہے ۔ اس کی دلیل مصنف کے نزدیک یہ ہے کہ پہلے وہ لوگ ان جماعتوں میں رہے اور حق ان کی نگاہوں سے اوجھل رہا ۔ اچانک ان کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ اب تک وہ جماعت جس کے ساتھ وہ رہے سر تا سرناحق ہے ۔ پھر اس کی کیا ضمانت ہے کہ جس حق تک اب ان کی رسائی ہوئی ہے ، آنے والے کل میں ناحق نہیں ہو جائے گا۔ فاضل مصنف نے یہ تبصرہ کسی ایک آدھ تنقید پر کیا ہوتا تو ہم اس سے صرف نظر کر جاتے ،مگر انھوں نے یہ بات بالکلیہ تمام تنقیدوں کے بارے میں کہی ہے ۔ اس لیے اس بات کی وضاحت کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔

جہاں تک پہلی بات کا سوال ہے تو اس سلسلے میں ہم صرف ایک مثال پیش کرنا کافی سمجھتے ہیں ۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کا شمار عالم اسلام کے عظیم علما میں کیا جاتا ہے ۔ وہ ابتدائی دور میں جماعت اسلامی میں شامل رہے ، مگر تھوڑے عرصے میں اس سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ انھوں نے مولانا مودودی کی کتاب''قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں''جو مولانا کے فکر کی اساس ہے، پر تنقید لکھی ۔ مگر جماعت چھوڑتے وقت نہیں ، بلکہ اس واقعہ پر کئی دہائیاں گزرنے کے بعد۔ ان کی یہ تنقید ''عصر حاضر میں دین کی تفہیم و تشریح '' کے نام سے شائع ہوئی ۔ الطاف صاحب نے پہلے نکتہ کے تحت جو کچھ فرمایا یہ کتاب اس کی کھلی ہوئی تردید ہے ۔

جہاں تک دوسرے نکتے کا تعلق ہے تو یہ بات اصلاً یاد رہنی چاہیے کہ پہلے دن سے حق صرف انبیاء علیھم السلام کے پاس ہوتا ہے ۔ ہر دوسرا شخص حق کی دریافت ایک فکری سفر کے بعد کرتا ہے ۔ اور اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ حق ہی دریافت کر لے ۔ اس سے صرف یہ مطلوب ہے کہ زندگی کے جس مرحلے پر اسے جو کچھ دیانت داری کے ساتھ حق محسوس ہو ، بلاجھجک وہ اسے اختیار کر لے ۔ یہ عین ممکن ہے کہ اسے کچھ عرصہ بعد یہی ناحق لگنے لگے ۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ حرج اس بات میں ہے کہ انسان باطل کو باطل جان لے اور پھر بھی اس سے چمٹا رہے ۔

مصنف کا تعلق ہندوستان سے ہے ۔ اس حوالے سے ممکن ہے کہ کتاب کے بعض پہلو، بالخصوص تیسرے باب میں ایک پاکستانی قاری کو کچھ باتیں اجنبی لگیں ، تاہم جن جماعتوں ، افکار اور شخصیات پر بحث کی گئی ہے وہ ، برصغیر پاک و ہند کے دینی اور علمی حلقوں میں اتنی معروف ہیں کہ بحیثیت مجموعی یہ کتاب پاکستان و ہندوستان میں یکساں دلچسپی سے پڑھی جانے کے قابل ہے۔ ویسے بھی مذہبی اعتبار سے دونوں ملکوں میں ہر مکتب فکر اور جماعت کا جو کچھ کام بھی ہوتا نظرآتا ہے ، وہ نصف صدی قبل ایک ہی سرچشمہ سے پھوٹا تھا۔ تنقید اگر اسی سر چشمہ پر کی جا رہی ہے تو پھر دونوں ملکوں کی سیاسی علیحدگی تنقید کی افادیت میں مانع نہیں ہوتی ۔

یہ ایک اعلیٰ علمی نوعیت کی کتاب ہے جس کے مندرجات سے اختلاف تو ممکن ہے ، مگر اس کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے ۔ مجموعی طور پر یہ ایک فکر انگیز کتاب ہے اور جو شخص مندرج بالا تینوں جماعتوں کا مطالعہ علمی بنیادوں پر کرنا چاہے، اس کے لیے یہ ایک بہترین رہنما ہے۔

____________