اخلاقیات (11)


(گزشتہ سے پیوستہ ) ذکر کثیر

دسویں چیز ذکر کثیر ہے۔ یعنی اللہ کو بہت زیادہ یاد کیا جائے۔ بندۂ مومن کے دل میں جب اپنے پروردگار کا خیال پوری طرح بس جاتا ہے تو پھر وہ مقررہ اوقات میں کوئی عبادت کر لینے ہی کو کافی نہیں سمجھتا، بلکہ ہمہ وقت اپنی زبان کو خدا کے ذکر سے تر رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھتا ہے تو 'سبحان اللّٰہ' کہتا ہے۔ کسی کام کی ابتدا کرتا ہے تو 'بسم اللّٰہ' سے کرتا ہے۔ کوئی نعمت پاتا ہے تو 'الحمد للّٰہ' کہہ کر خدا کا شکر بجا لاتا ہے۔ 'ان شاء اللّٰہ ' اور 'ما شاء اللّٰہ'کے بغیر اپنے کسی ارادے اور کسی عزم کا اظہار نہیں کرتا۔ اپنے ہر معاملے میں اللہ سے مدد چاہتا ہے۔ ہر آفت آنے پر اس کی رحمت کا طلب گار ہوتا ہے۔ ہر مشکل میں اس سے رجوع کرتا ہے۔ سوتا ہے تو اس کو یاد کر کے سوتا ہے اور اٹھتا ہے تو اس کا نام لیتے ہوئے اٹھتا ہے۔ غرض ہر موقع پر اور ہر معاملے میں اس کی زبان پر اللہ ہی کا ذکر ہوتا ہے۔ پھر یہی نہیں، وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، روزہ رکھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، قرآن کی تلاوت کرتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، انفاق کرتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، برائی سے بچتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے، اس کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے اور فوراً اس سے رجوع کے لیے بے تاب ہو جاتا ہے۔ اس ذکر کی ایک صورت فکر بھی ہے۔ خدا کی اس دنیا کو دیکھیے تو اس میں ہزاروں مخلوقات ہیں، ان کی رنگا رنگی اور بو قلمونی ہے، پھر عقل انسانی اور اس کے کرشمے ہیں، سمندروں کا تلاطم ہے، دریاؤں کی روانی ہے، لہلہاتا سبزہ اور آسمان سے برستا ہوا پانی ہے، لیل ونہار کی گردش ہے، ہوااور بادلوں کے تصرفات ہیں، زمین وآسمان کی خلقت اور ان کی حیرت انگیز ساخت ہے، ان کی نفع رسانی اور فیض بخشی ہے، ان کی مقصدیت اور حکمت ہے، پھر انفس وآفاق میں خدا کی وہ نشانیاں ہیں جو ہر آن نئی شان سے نمودار ہوتی ہیں۔ بندۂ مومن ان آیات الہٰی پر غور کرتا ہے تو اس کے دل ودماغ کو یہ خداکی یاد سے بھر دیتی ہیں۔ چنانچہ وہ پکار اٹھتا ہے کہ پروردگار، یہ کارخانہ تو نے عبث نہیں بنایا۔ تیری شان علم و حکمت کے منافی ہے کہ تو کوئی بے مقصد کام کرے۔ میں جانتا ہوں کہ اس جہان رنگ وبو کا خاتمہ لازماً ایک روز جزا پر ہو گا جس میں وہ لوگ عذاب اور رسوائی سے دوچار ہوں گے جو تیری اس دنیا کو کسی کھلنڈرے کا کھیل سمجھ کر اس میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ ان کے انجام سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَاخْتِلاَفِ الَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُوْلِی الْاَلْبَابِ، الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا، وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ، وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً، سُبْحٰنَکَ، فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.(آل عمران ۳: ۱۹۰۔۱۹۱)

''زمین و آسمان کی خلقت میں اور شب وروز کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اُن کے لیے جو اٹھتے، بیٹھتے اور پہلووں پر لیٹے ہوئے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین وآسمان کی خلقت پر غور کرتے رہتے ہیں۔ (ان کی دعا یہ ہوتی ہے کہ) پروردگار، تونے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو اس سے پاک ہے کہ کوئی عبث کام کرے۔ سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔''

اس طرح کی کتنی ہی دعائیں اور اذکار ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی منقول ہیں۔ خدا کو یاد کر نے کی بہترین صورت نماز کے بعد یہی ہے۔ ہم مسلمانوں کی خوش بختی ہے کہ کم وبیش آپ ہی کے الفاظ میں یہ دعائیں اور اذکار ہمارے پاس موجود ہیں۔ ان کا حسن، لطافت اور معنویت زبان وبیان کا معجزہ ہے۔ بارگاہ الہٰی میں پیش کرنے کے لیے ان سے بہتر کوئی چیز شاید ہی میسر ہو سکے۔ذکروفکر کا ذوق ہو تو ان کو بھی حرز جاں بنا لینا چاہیے۔

ان میں سے چند منتخب دعائیں اور اذکار درج ذیل ہیں:

۱۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ.۸۳؂

''اللہ پاک ہے، شکر اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ ذکر مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر آفتاب طلوع ہوتا ہے۔

۲۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ.۸۴؂

''اللہ پاک ہے اور ستودہ صفات بھی۔''

ارشادفرمایا ہے کہ جس نے دن میں سو مرتبہ یہ ذکر کیا، اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، اگرچہ دریا کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ ۸۵؂

۳۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ، سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ.۸۶؂

''اللہ پاک ہے اور ستودہ صفات بھی، اللہ پاک ہے عظمت والا۔''

فرمایا ہے کہ یہ دو کلمات ہیں جو زبان پر ہلکے، میزان میں بھاری اور اللہ کو بہت محبوب ہیں۔

۴۔ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.۸۷؂

''اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہی اُس کی ہے اور حمد بھی اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتاہے۔''

فرمایاہے جو شخص یہ ذکر دن میں سو مرتبہ کرے، اس کے لیے دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر اجر ہے، اس کے علاوہ سو نیکیاں اس کے نامۂ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور سو گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۸۸؂ اور شام تک وہ شیطان سے پناہ میں ہوتا ہے۔

۵۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ.۸۹؂

''ہمت اور قدرت، سب اللہ ہی کی عنایت سے ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ یہ کلمہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

۶۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ، خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ، وَاَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، اَبُوءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ، وَاَبُوْءُ لَکَ بِذَنْبِیْ، فَاغْفِرْلِیْ، فَاِنَّہُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْتَ.۹۰؂

''اے اللہ، تو میرا پروردگار ہے؛ تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ تونے مجھے پیدا کیا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں اور اپنی استطاعت کے مطابق تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں؛میں اپنے اعمال کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں؛ اپنے اوپر تیری نعمتوں کا اعتراف اور اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں؛ تو مجھے بخش دے، اس لیے کہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرتا۔''

فرمایا ہے کہ اگر کوئی یقین کے ساتھ یہ دن میں کہے اور اسی دن شام سے پہلے دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے جنت ہے اور رات میں کہے اور صبح سے پہلے رخصت ہو جائے تو اس کے لیے بھی جنت ہے۔

۷۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَا اَمَاتَنَا، وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ. ۹۱؂

''شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہم کو موت کے بعد پھر زندگی عطا فرمائی اور ایک دن لوٹنا بھی اسی کی طرف ہے۔''

۸۔ اَمْسَیْنَا وَاَمْسَی الْمُلْکُ لِلّٰہِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ، لَا اِلٰہَ اِلَا اللّٰہُ، وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ، وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ. اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْءَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ، وَخَیْرِ مَا فِیْھَا، وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّھَا، وَشَرِّ مَا فِیْھَا. اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ وَالْہَرَمِ، وَسُوْءِ الْکِبْرِ، وَفِتْنَۃِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْقَبْرِِ. ۹۲؂

''ہم نے شام کی اور خدا کی بادشاہی بھی شام میں داخل ہو گئی ہے۔ شکر اللہ کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں؛ وہ اکیلا ہے، اُس کا کوئی شریک نہیں؛ بادشاہی اس کی ہے اور حمد بھی اُسی کے لیے ہے ، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اے اللہ، میں اِس رات کی بھلائی چاہتا ہوں اور اُس کی بھی جو اِس میں ہے؛ اور رات کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اُس سے بھی جو اِس میں ہے۔ اے اللہ، میں سستی سے، بڑھاپے سے، بڑھاپے کی برائی سے ، دنیا کی آزمایش سے اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔''

یہی دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم الفاظ کی مناسب تبدیلی کے ساتھ صبح کے وقت بھی کرتے تھے۔

۹۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّی اَسْلَمْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ، وَاَلْجَأْتُ ظَھْرِیْ اِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْکَ اِلَّا اِلَیْکَ، اَللّٰھُمَّ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ، وَبِنَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ. ۹۳؂

''اے اللہ، میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہے اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے اور تجھ سے ٹیک لگالی ہے، تیری عظمت سے لرزتے ہوئے اور تیرے اشتیاق میں بڑھتے ہوئے۔ تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ اور کہیں ٹھکانا نہیں، اور اگر ہے تو تیرے ہی پاس ہے۔ پروردگار میں تیری کتاب پر ایمان لایا ہوں جو تونے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر ایمان لایا ہوں جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس نے رات کو سوتے وقت یہ دعا کی اور اسی رات دنیا سے رخصت ہو گیا، اس کی موت اسلام پر ہوگی۔

۱۰۔ اَللّٰھُمَّ، رَبَّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَرَبَّ کُلِّ شَیْءٍِ، فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَی، مُنَزِّلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْقُرْآنِ، اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ ذِیْ شَرٍّ، اَنْتَ اٰخِذٌ بِنَاصِیَتِہِ؛ اَنْتَ الْاَوَّلُ، فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْءٌ؛ وَاَنْتَ الآخِرُ، فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْءٌ؛ وَاَنْتَ الظَّاھِرُ، فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْءٌ؛ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ، فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْءٌ؛ اِقْضِ عَنِّی الدَّیْنَ وَاغْنِنِیْ مِنَ الْفَقْرِ. ۹۴؂

''اے اللہ، زمین و آسمان کے پروردگار اور ہر چیز کے پروردگار؛ دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے، تورات و انجیل اور قرآن کے نازل کرنے والے؛ شر کی اُن سب چیزوں کے شر سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں جن کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے؛تو اول ہے، تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور توآخر ہے، تیرے بعد کوئی چیز نہیں؛ تو ظاہر ہے، تیرے اوپر کوئی چیز نہیں اورتو باطن ہے، تیرے نیچے کوئی چیز نہیں۔ تو میرے قرض ادا فرما اور میری محتاجی کو دور کر کے مجھے غنی کردے۔''

۱۱۔ سُبْحَانَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا ھٰذَا، وَمَا کُنَّا لَہُ مُقْرِنِیْنَ، وَاِنَّا اِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ. اَللّٰھُمَّ، اِنَّا نَسْأَلُکَ فِیْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوَیٰ، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَیٰ. اَللّٰھُُمَّ، ھَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہُ. اَللّٰھُمَّ، اَنْتَ الصَّاحِبُُ فِی السَّفَرِ وَالْخَلِیْفَۃُ فِی الْاَھْلِ. اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ، وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ. ۹۵؂

''وہ ذات پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے لیے تابع فرمان بنا دیاہے، دراں حالیکہ ہم اس پر غلبہ حاصل نہیں کر سکتے تھے، اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ ، ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کی توفیق مانگتے ہیں اور ایسے عمل کی توفیق مانگتے ہیں جو تجھے راضی کر دے۔ اے اللہ، تو ہمارے اس سفر کو ہم پر سہل کر دے اور اس کی درازی سمیٹ دے۔ اے اللہ، تو سفر میں ساتھی ہے اور پیچھے اہل وعیال میں رکھوالا ہے۔ اے اللہ، میں اس سفر کی مشقت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس سے بھی کہ کوئی برا منظر میرے سامنے آئے اور اس سے بھی کہ اپنے اہل وعیال اور اموال میں لوٹوں تو کوئی خرابی میرے لیے منتظر ہو۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر کی ابتدا بالعموم اسی دعا سے کرتے تھے۔

۱۲۔ اَللّٰھُمَّ، رَحْمَتَکَ اَرْجُوْ، فَلَا تَکِلْنِیْ اِلَی نَفْسِیْ طَرْفَۃَ عَیْنٍ، وَاَصْلِحْ لِیْ شَأْنِیْ کُلَّہُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتََ. ۹۶؂

''اے اللہ، میں تیری رحمت کا امیدوار ہوں، تو لمحے بھر کے لیے بھی مجھ کو میرے نفس کے حوالے نہ کر اور میرے تمام معاملات درست فرما دے۔ (پروردگار)، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں۔''

۱۳۔ اَللّٰھُمَّ، اکْفِنِیْ بِحَلَالِِکَ عَنْ حَرَامِکَ، وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ. ۹۷؂

''اے اللہ، حرام کو چھوڑ کر تیرا حلال ہی میرے لیے کافی ہوجائے۔ اور اپنے فضل سے تو مجھے اپنے سوا ہر چیز سے بے پروا کر دے۔''

۱۴۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ عَبْدُکَ، وَابْنُ عَبْدِکَ، وَابْنُ اَمَتِکَ ؛ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ، مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ، عَدْلٌ فِیَّ قَضَاءُ کَ، اَسْأَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ، سَمَّیْتَ بِہِ نَفْسَکَ، اَوْ اَنْزَلْتَہُ فِیْ کِتَابِکَ، اَوْ عَلَّمْتَہُ اَحَدًا مِّنْ خَلْقِکَ، اَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِہِ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ، اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ، وَنُوْرَ صَدْرِیْ، وَجِلَاءَ حُزْنِیْ، وَذَھَابَ ھَمِّیْ. ۹۸؂

''اے اللہ، میں تیرا بندہ ہوں، تیرے غلام اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے، تیرا حکم مجھ پر جاری ہے، تیرا فیصلہ میرے لیے حق ہے۔ میں تیرے ہر اس نام کے وسیلے سے جس کے ساتھ تونے اپنے آپ کو پکارا ہے یا اپنی کتاب میں نازل کیا ہے یا اپنی مخلوقات میں سے کسی کو سکھایا ہے یا اپنے علم غیب میں اختیار فرمایا ہے،یہ درخواست کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا مداوا اور میری پریشانیوں کا علاج بنا دے۔''

۱۵۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْھَمِّ، وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ، وَالْکَسَلِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّیْنِ، وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ.۹۹؂

''اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، فکر سے، غم سے، عاجزی، سستی، بزدلی ، بخل اور قرض کے بوجھ سے اور لوگوں کے غلبے سے۔''

۱۶۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْکَسَلِ، وَالْہَرَمِ، وَالْمَغْرَمِ، وَالْمَاْثَمِ. اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَۃِ النَّارِ، وَفِتْنَۃِ الْقَبْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْغِنٰی، وَشَرِّ فِتْنَۃِ الْفَقْرِ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَۃِ الْمَسِیْحِ الدَّجَّالِ. اَللّٰھُمَّ، اغْسِلْ خَطَایَایَ بِمَاءِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ، وَنَقِّ قَلْبِیْ کَمَا یُنَقَّی الثَّوْبُ الْاَبْیَضُ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ خَطَایَایَ کَمَا بَاعَدْتَ بَیْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ. ۱۰۰؂

''اے اللہ، میں سستی سے، بڑھاپے سے اور تاوان اور گناہ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ، میں پناہ مانگتا ہوں، آگ کے عذاب سے، آگ کی آزمایش سے، قبر کی آزمایش سے، قبر کے عذاب سے، دولت کی آزمایش کے شر سے، فقر کی آزمایش کے شر سے اور مسیح دجال کی آزمایش کے شر سے۔ اے اللہ، تو میرے گناہوں کو برف اور اولوں کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو پاک کر دے، جس طرح سفید کپڑا میل سے پاک کیا جاتا ہے، اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان میں ایسی دوری پیدا کردے، جیسی دوری تو نے مشرق اور مغرب میں پیدا کر رکھی ہے۔''

۱۷۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ عِلْمٍ لَّا یَنْفَعُ، وَمِنْ قَلْبٍ لَّا یَخْْشَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَّا تَشْبَعُ، وَمِنْ دَعْوَۃٍ لَّا یُسْتَجَابُ لَھَا.۱۰۱؂

''اے اللہ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں، ایسے علم سے جو نفع نہ دے اور ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو، اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔''

۱۸۔ اَللّٰھُمَّ، اغْفِرْ لِیْ خَطِیْءَتِیْ، وَجَھْلِیْ، وَاِسْرَافِیْ فِیْ اَمْرِیْ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ. اَللّٰھُمَّ، اغْفِرْلِیْ جِدِّیْ وَھَزْلِیْ، وَخَطَءِیْ وَعَمْدِیْ، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ. اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ مَا قَدَّمْتُ وَمَا اَخَّرْتُ، وَمَا اَسْرَرْتُ وَمَا اَعْلَنْتُ، وَمَا اَنْتَ اَعْلَمُ بِہِ مِنِّیْ. اَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَاَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَاَنْتَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.۱۰۲؂

''اے اللہ، تو میری خطا اور نادانی اور معاملات میں میری زیادتی کو معاف فرما دے اور اُن سب چیزوں کو بھی جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ اے اللہ ، تو میرے قصد اور میری ہنسی اور میرے دانستہ اور نادانستہ، سب معاف فرما دے، یہ سب میری ہی طرف سے ہے۔ اے اللہ، تو بخش دے جو کچھ میں نے آگے بھیجا ہے اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، اور جو کچھ چھپایا اور جو کچھ علانیہ کیا ہے، اور وہ بھی جسے تو مجھ سے زیادہ جانتاہے۔ تو ہی آگے کرنے والا اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔''

۱۹۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْھُدَیٰ، وَالتُّقیٰ، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنٰی.۱۰۳؂

''اے اللہ، میں تجھ سے ہدایت اور تقویٰ اور نفس کی پاکیزگی اور استغنا کا سوال کرتا ہوں۔''

۲۰۔ اَللّٰھُمَّ، اغْفِرْ لِیْ، وَارْحَمْنِیْ، وَاھْدِنِیْ، وَعَافِنِیْ، وَارْزُقْنِیْ.۱۰۴؂

''اے اللہ، تو مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے ہدایت دے، عافیت دے اور رزق عطا فرما۔''

۲۱۔ اَللّٰھُمَّ، اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً، وَّفِی الاْٰخِرَۃِ حَسَنَۃً، وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِِ. ۱۰۵؂

''اے اللہ، ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی ، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔''

۲۲۔ اَللّٰھُمَّ، اِنِّیْ اَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَّعَمَلاً مُتَقَبِّلاً، وَّرِزْقًا طَیِّبًا.۱۰۶؂

''اے اللہ، میں تجھ سے ایسے علم کا سوال کرتا ہوں جو نفع دے اور ایسے عمل کا جو قبول کیا جائے اور ایسی روزی کا جو پاکیزہ ہو۔''

۲۳۔ اَللّٰھُمَّ، بِعِلْمِکَ الْغَیْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ، اَحْیِنِیْ مَا عَلِمْتَ الْحَیَاۃَ خَیْرًا لِّیْ، وَتَوَفَّنِیْ اِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاۃَ خَیْرًا لِّیْ. اَللّٰھُمَّ، وَاَسْأَلُکَ خَشْیَتَکَ فِی الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ، وَاَسْاَلُکَ کَلِمَۃَ الْحَقِّ فِی الرِّضَاءِ وَالْغَضَبِ، وَاَسْأَلْکَ الْقَصْدَ فِی الْفَقْرِ وَالْغِنَی، وَاَسْأَلُکَ نَعِیْمًا لَّا یَنْفَدُ، وَاَسْأَلُکَ قُرَّۃَ عَیْنٍ لَّا تَنْقَطِعُ، وَاَسْأَلُکَ الرِّضَاءَ بَعْدَ الْقََضَاءِ، وَاَسْأَلُکَ بَرْدَ الْعَیْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَاَسْأَلُکَ لَذَّۃَ النَّظَرِ اِلَی وَجْھِکَ وَالشَّوْقَ اِلَی لِقَاءِکَ، فِیْ غَیْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّۃٍ، وَّلَا فِتْنَۃٍ مُضِلِّۃٍ، اَللّٰھُمَّ، زَیِّنَّا بِزِیْنَۃِ الْاِیْمَانِ، وَاجْعَلْنَا ھُدَاۃً مُھْتَدِیْنَ. ۱۰۷؂

''اے اللہ، تو اپنے علم غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے وسیلے سے مجھے اس وقت تک زندگی دے جب تک تو جینے کو میرے لیے بہتر جانے؛ اور اس وقت دنیا سے لے جا، جب تو لے جانے کو بہتر جانے۔ اے اللہ، اور میں کھلے اور چھپے میں تیری خشیت مانگتا ہوں؛ اور خوشی اور رنج میں سچی بات کی تو فیق چاہتا ہوں؛ اور فقروغنا میں میانہ روی کی درخواست کرتا ہوں؛ اور ایسی نعمت چاہتا ہوں جو تمام نہ ہو، اور آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی ختم نہ ہو۔ اور تیرے فیصلوں پر راضی رہنے کا حوصلہ مانگتا ہوں اور موت کے بعد زندگی کی راحت مانگتا ہوں؛ اور تجھ سے ملاقات کا شوق اور تیرے دیدار کی لذت مانگتا ہوں، اس طرح کہ نہ تکلیف دینے والی سختی میں رہوں اور نہ گم راہ کر دینے والے فتنوں میں۔ اے اللہ، تو ہمیں ایمان کی زینت عطا فرما اور ایسا بنا دے کہ خود بھی ہدایت پر رہیں اور دوسروں کو بھی ہدایت دیں۔''

____________

۸۳ ؂ مسلم، رقم ۲۶۹۵۔

۸۴؂ بخاری ، رقم ۶۴۰۵ ۔ مسلم ، رقم ۲۶۹۱۔

۸۵؂ یعنی وہ گناہ جو حقوق العباد سے متعلق نہیں ہیں یا جن کے لیے توبہ اور تلافی کرنا یا کفارہ ادا کرنا ضروری نہیں ہے۔

۸۶؂ بخاری ، رقم ۶۶۸۲ ۔ مسلم ، رقم ۲۶۹۴۔

۸۷؂ بخاری ، رقم ۳۲۹۳۔

۸۸؂ اس سے بھی وہی گناہ مراد ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے۔

۸۹؂ بخاری ، رقم ۴۲۰۵ ۔ مسلم ، رقم ۲۷۰۴۔

۹۰؂ بخاری ، رقم ۶۳۰۶۔

۹۱؂ بخاری ، رقم ۶۳۱۲ ۔ مسلم ، رقم ۲۷۱۱۔

۹۲؂ مسلم، رقم ۲۷۲۳۔

۹۳؂ بخاری ، رقم ۲۴۷ ۔ مسلم ، رقم ۲۷۱۰۔

۹۴؂ ابوداؤد ، رقم ۵۰۵۱۔

۹۵؂ مسلم ، رقم ۱۳۴۲۔

۹۶؂ ابوداؤد ، رقم ۵۰۹۰۔

۹۷؂ ترمذی ، رقم ۳۵۶۳۔

۹۸؂ صحیح ابن حبان ، رقم ۹۷۲ ۔ مسند احمد ، رقم ۳۷۰۴۔

۹۹؂ بخاری ، رقم ۶۳۶۹۔

۱۰۰؂ بخاری ، رقم ۶۳۷۵۔

۱۰۱؂ مسلم ، رقم ۲۷۲۲۔

۱۰۲؂ مسلم ، رقم ۲۷۱۹۔

۱۰۳؂ مسلم ، رقم ۲۷۲۱۔

۱۰۴؂ مسلم ، رقم ۲۶۹۷۔

۱۰۵؂ بخاری ، رقم ۴۵۲۲ ۔ مسلم ، رقم ۲۶۸۸۔

۱۰۶؂ مسند احمد ، رقم ۲۶۵۶۴ ۔ ابن ماجہ ، رقم ۹۲۵۔

۱۰۷؂ نسائی ، رقم ۱۳۰۵۔