البیان: الفرقان ۲۵: ۱ - ۹ (۱)


البیان

الفرقان - الشعراء

۲۵ - ۲۶

یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

__________

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

سورة الفرقان

(۱)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِتَبٰرَكَ الَّذِيْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰي عَبْدِهٖ لِيَكُوْنَ لِلْعٰلَمِيْنَ نَذِيْرَا ١ اِۨلَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا ٢ وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖ٘ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًا ٣

ـــــــــ ۱ ـــــــــ

اللہ کے نام سے جو سراسر رحمت ہے ، جس کی شفقت ابدی ہے۔بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان[1] اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو[2]۔وہی جس کے لیے زمین اور آسمانوں کی بادشاہی ہے[3]،اُس نے اپنی کوئی اولاد نہیں بنائی ہے[4]، اُس کی بادشاہی میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہے، اُس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اُس کا ایک خاص اندازہ ٹھیرایا ہے[5]۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُنھوں نے اُس کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے، وہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں اور اپنے لیے بھی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ نہ موت پر کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرے ہوؤں کو اٹھانا اُن کے اختیار میں ہے [6]۔۱- ۳وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْ٘ا اِنْ هٰذَا٘ اِلَّا٘ اِفْكُ اِۨفْتَرٰىهُ وَاَعَانَهٗ عَلَيْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا ٤ وَقَالُوْ٘ا اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلٰي عَلَيْهِ بُكْرَةً وَّاَصِيْلًا ٥ قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِيْ يَعْلَمُ السِّرَّ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِﵧ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ٦(اِس کے) منکرین کہتے ہیں کہ یہ قرآن محض جھوٹ ہے جس کو اِس شخص نے گھڑ لیا ہے[7] اور کچھ دوسرے لوگوں نے اِس کام میں اِس کی مدد کی ہے[8]۔ یہ کہہ کر اُنھوں نے بڑے ظلم اور جھوٹ کا ارتکاب کیا ہے[9]۔ کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں جو اِس نے (کسی سے) لکھوا لیے ہیں۔ سو وہی اب صبح وشام اِس کتاب میں لکھنے کے لیے اِس کو سنائے جاتے ہیں[10]۔ اُن سے کہو کہ (یہ کتاب تو اپنے لفظ لفظ سے شہادت دے رہی ہے کہ) اِسے اُس (پروردگار) نے اتارا ہے جو زمین اور آسمانوں کے بھید جانتا ہے[11]۔ (تم جیسے سرکشوں کے لیے وہ اِس کی جگہ عذاب بھی اتار سکتا تھا، مگر) حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔۴ -۶وَقَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ يَاْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِيْ فِي الْاَسْوَاقِ لَوْلَا٘ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِيْرًا ٧ اَوْ يُلْقٰ٘ي اِلَيْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ يَّاْكُلُ مِنْهَا وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا ٨ اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا ٩ کہتے ہیں کہ یہ کیسا رسول ہے؟ یہ تو (ہماری طرح) کھانا کھاتا ہے اور (اپنی ضرورتوں کے لیے) بازاروں میں پھرتا ہے! اِس کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا کہ اِس کے ساتھ ہو کر وہ (نہ ماننے والوں کو) خبردار کرتا[12]؟ یا اِس پر کوئی خزانہ اتارا جاتا یا (زیادہ نہیں تو) اِس کے لیے کوئی باغہی ہوتا جس سے یہ کھاتا پیتا[13] ــــ یہ ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک سحرزدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو۔ دیکھو، (اے پیغمبر)، یہ تمھاری نسبت کیسی کیسی باتیں بنا رہے ہیں۔ سو بالکل کھوئے گئے ہیں، اب کوئی راستہ نہیں پا رہے ہیں[14]۔ ۷ -۹

[1]۔ یعنی ایک ایسی کتاب جو حق وباطل میں امتیاز کے لیے ایک کسوٹی، ایک معیار فیصلہ اور حجت قاطع ہے۔ دوسری جگہ یہی حقیقت لفظ 'میزان' سے واضح فرمائی ہے، یعنی ایک ترازو تاکہ ہر شخص اُس پر تول کر دیکھ سکے کہ کیا چیز حق اور کیا باطل ہے۔ چنانچہ اپنے دعاوی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کوثابت کرنے کے لیے بھی یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے، بلکہ بجاے خود دلیل وحجت ہے۔ قرآن کی یہی حیثیت ہے جس کی بنا پر ہم نے اپنی کتاب ''میزان'' کے مقدمہ ''اصول ومبادی'' میں لکھا ہے کہ خدا کی اِس کتاب کے بارے میں یہ دو باتیں بطور اصول ماننی چاہییں:

''پہلی یہ کہ قرآن کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم وتغیر نہیں کر سکتا۔ دین میں ہر چیز کے رد وقبول کا فیصلہ اِس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہو گی اور اِسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی، ہر الہام، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اِس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ وشافعی، بخاری ومسلم، اشعری وماتریدی اور جنید وشبلی، سب پر اِس کی حکومت قائم ہے اور اِس کے خلاف اِن میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔ دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے، پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اُس سے مختلف ہے نہ متبائن۔ اِس کے شہرستان معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اِس کے الفاظ ہیں۔ وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں، اُس میں کسی ریب وگمان کے لیے ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔''(۲۵)

[2]۔ یعنی صرف ام القریٰ مکہ اور اُس کے گرد وپیش کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ پورے عالم کے لیے۔ سورۂ انعام (۶) کی آیت ۱۹ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ قرآن کی دعوت آنے والے تمام زمانوں کے لیے بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: 'اُوْحِيَ اِلَيَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۣ بَلَغَ '(یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے سے میں تمھیں انذار کروں اور اُن کو بھی جنھیں یہ پہنچے)۔قرآن کی یہ حیثیت لازماً تقاضا کرتی ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لیے بھی یہ اپنے ثبوت اور دلالت کے لحاظ سے اُسی طرح قطعی رہے، جس طرح اپنے اولین مخاطبین کے لیے تھا۔ خدا کی عنایت ہے کہ ایسا ہی ہے اور اُس کی یہ کتاب اِسی قطعیت کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیت میں 'عَلٰي عَبْدِهٖ ' کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ التفات خاص کا اسلوب ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اِس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو وہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی اسباب ووسائل سے بے تعلقی پر چوٹیں کرتے اور اِس چیز کو آپ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مستکبرین کی اِسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندۂ خاص پر 'فرقان' کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے، اُس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے، اُس کی تکمیل کے لیے وہ جس زاد وراحلہ کا محتاج ہے، وہ سب بدرجۂ کمال اُس کے پاس موجود ہے۔'' (تدبر قرآن ۵/ ۴۴۳)

[3]۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اِس کتاب کو سائل کی درخواست نہ سمجھے۔ یہ اِس کائنات کے بادشاہ حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اِسے جھٹلایا گیا تو اُس کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔

[4]۔ خدا کے لیے جن لوگوں نے بیٹے او ربیٹیاں فرض کر رکھی ہیں، اُن کے بارے میں وہ لازماً اِس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اُنھیں وہ خدا کی پکڑ سے بچا لیں گی۔ قرآن نے یہ اِسی زعم باطل کی نفی کی ہے۔

[5]۔ یہ خدا کی توحید اور یکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جب وہ ہر چیز کا خالق ہے اور اُسی نے ہر چیز کے لیے صورت، جسامت، قوت واستعداد، اوصاف وخصائص، عروج وارتقا اور بقا وزوال کے حدود وقیود متعین کیے ہیں تو کوئی دوسرا اُس کی خدائی میں کہاں سے شریک ہو گا؟ کیا کسی شخص کے لیے ممکن ہے کہ اُس کی بنائی ہوئی کسی چیز کو اُس کے ٹھیرائے ہوئے اندازے سے سرمو کم وبیش یا آگے پیچھے کر سکے؟

[6]۔ مطلب یہ ہے کہ اِس سے بڑھ کر خردباختگی کیا ہوگی کہ ایسے بے بس معبودوں کے سہارے پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلا دیا جائے؟

[7]۔ یعنی وحی الہٰی نہیں ہے، جس طرح کہ دعویٰ کیا جا رہا ہے، بلکہ اپنے ذہن کا گھڑا ہوا کلام ہے جسے خدا کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔

[8]۔ اُنھوں نے یہ بات کسی نام کی تصریح کے ساتھ اِس لیے نہیں کی کہ الزام جھوٹا ہو تو ابہام ہی کا اسلوب موزوں ہوتا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، اگر اُس کے لیے تصریح کا اسلوب اختیار کر لیا جائے تو بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔ قرآن کو (معاذ اللہ) جھوٹ قرار دے کر اُس کے ساتھ یہ بات اُنھیں اِس لیے کہنا پڑی کہ قرآن میں پچھلے انبیا علیہم السلام کی سرگذشتوں کے حوالے بھی تھے۔ اُن کے بارے میں یہ سوال ہر شخص کے ذہن میں پیدا ہو سکتا تھا کہ اگر یہ وحی الہٰی نہیں ہے تو آخر یہ سب باتیں اُنھی کے اندر کے ایک شخص کو اِس صحت اور تفصیل کے ساتھ کس طرح معلوم ہو گئی ہیں۔ اِس کے جواب میں اُنھوں نے اُن لوگوں کی طرف اشارہ کر دیا جو اہل کتاب میں سے آپ پر ایمان لے آئے تھے کہ یہ اُن کی سکھائی ہوئی ہیں۔ اپنی بات کو موکد کرنے کی یہ ایسی کوشش ہے جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حق کی دشمنی میں یہ لوگ کیسے اندھے ہو گئے تھے اور کس قدر صریح جھوٹ اور بے انصافی پر اتر آئے تھے۔

[9]۔ قرآن جس عظیم علم وحکمت کا حامل اور زبان وبیان کے لحاظ سے جس پایے کا شہ پارۂ ادب ہے اور اُس میں انبیا علیہم السلام کی سرگذشتیں جس طریقے سے اور جن مضامین پر استدلال کے لیے سنائی گئی ہیں، اُن کو دیکھ کر ہر سلیم الطبع انسان اندازہ کر سکتا ہے کہ جس الزام کا ذکر ہواہے، وہ کس قدر پوچ، کیسا لغو اور مہمل اور کتنا بے وزن ہے۔ چنانچہ یہی بات کافی تھی جو قرآن نے اُس کے جواب میں کہہ دی ہے۔ جو لوگ ایسی بالبداہت مہمل باتیں اِس ڈھٹائی کے ساتھ کہیں، اُن کی تردید میں اِس سے زیادہ کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

[10]۔ یہ اُسی الزام کی مزید وضاحت ہے جو اوپر نقل ہوا ہے۔ آیت میں اِس کے لیے 'تُمْلٰی عَلَيْهِ ' کے الفاظ اِس لیے آگئے ہیں کہ جو چیز سنائی جا رہی تھی، اُسے یاد کرنے والے یاد کر رہے اور لکھنے والے ساتھ ساتھ لکھ بھی رہے تھے۔

[11]۔ مطلب یہ ہے کہ جو علم وحکمت اور ماضی، حال اور مستقبل کے جو حقائق اِس کتاب میں بیان کیے جارہے ہیں، وہ نہ کسی عربی کے لیے جاننا ممکن ہیں، نہ کسی عجمی کے لیے۔ اُن کا ماخذ علم اور منبع الہام تو وہی ذات ہو سکتی ہے جو زمین وآسمان کے سارے بھیدوں اور تمام اسرار ورموز سے واقف ہو۔ یہ بات اِس کتاب کی سطر سطر سے واضح ہے۔ اِس کے بعد خود سمجھ سکتے ہو کہ تمھارا الزام کس قدر پوچ اور مہمل ہے۔

[12]۔ یعنی اِن کے ساتھ ساتھ پھرتا اور منادی کرتا کہ لوگو، یہ اللہ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا رہے ہیں، اُس سے ڈرو، ورنہ ابھی خدا کا عذاب برسا دیتا ہوں۔

[13]۔ مطلب یہ ہے کہ اُسی سے اپنی معاش حاصل کر لیتا اور اِسے کوئی ضرورت نہ ہوتی کہ عام آدمیوں کی طرح بازاروں میں جوتیاں چٹخاتا پھرے۔

[14]۔ یعنی حقیقت اتنی واضح ہے کہ اُس کی تردید کے لیے کوئی راستہ نہیں پا رہے ہیں۔ چنانچہ عناد اور تعصب میں اندھے ہو کر ایسی لچر اور پوچ باتیں کر رہے ہیں جن کے بارے میں خود بھی جانتے ہیں کہ اُن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

[باقی]

__________