البیان: الفرقان ۲۵: ۳۵- ۴۴ (۳)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَي الْكِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَهٗ٘ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِيْرًا (٣٥) فَقُلْنَا اذْهَبَا٘ اِلَي الْقَوْمِ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاﵧ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِيْرًا (٣٦) وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَجَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰيَةً وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ عَذَابًا اَلِيْمًا (٣٧) وَّعَادًا وَّثَمُوْدَا۠ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًاۣ بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا (٣٨) وَكُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ وَكُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِيْرًا (٣٩) وَلَقَدْ اَتَوْا عَلَي الْقَرْيَةِ الَّتِيْ٘ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ اَفَلَمْ يَكُوْنُوْا يَرَوْنَهَاﵐ بَلْ كَانُوْا لَا يَرْجُوْنَ نُشُوْرًا(٤٠) ہم نے موسیٰ کو بھی اِسی طرح کتاب عطا فرمائی تھی اور اُس کے ساتھ اُس کے بھائی ہارون کو اُس کا مددگار بنا دیا تھا[41]۔ پھر دونوں کو حکم دیا تھا کہ اُن لوگوں کے پاس جاؤ جنھوں نے (اُن دونوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعدبھی بالآخر) ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے بھی اُنھیں پامال کرکے رکھ دیا۔ اِسی طرح جب نوح کی قوم نے رسولوں[42] کو جھٹلایا تو اُن کو بھی ہم نے غرق کر دیا اور لوگوں کے لیے اُنھیں عبرت کی ایک نشانی بنا دیا۔ اِس طرح کے ظالموں کے لیے (آگے بھی)ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ عاد، ثمود، اصحاب الرس[43] اور اُن کے درمیان بہت سی قوموں کو بھی ہم نے اِسی طرح ہلاک کیا[44]۔ اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے (پچھلی قوموں کی) مثالیں دے کر سمجھایا، اور( نہیں سمجھے تو بالآخر)ہر ایک کو ہم نے نیست و نابود کر دیا۔ یہ (قریش کے لوگ) تواُس بستی پر سے گزرے بھی ہیں جس پر بری طرح پتھر برسائے گئے تھے[45]۔ پھر کیا اُس کو دیکھتے نہیں رہے؟ نہیں، یہ بات نہیں، بلکہ یہ دوبارہ اٹھائے جانے کی امید نہیں رکھتے ہیں۔ ۳۵- ۴۰ وَاِذَا رَاَوْكَ اِنْ يَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا اَهٰذَا الَّذِيْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا (٤١) اِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْلَا٘ اَنْ صَبَرْنَا عَلَيْهَاﵧ وَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ حِيْنَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِيْلًا (٤٢) اَرَءَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُﵧ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَيْهِ وَكِيْلًا (٤٣) اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُوْنَ اَوْ يَعْقِلُوْنَﵧ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِيْلًا (٤٤) (چنانچہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ) یہ جب بھی تمھیں دیکھتے ہیں، تمھارا مذاق ہی بناتے ہیں کہ اچھا، یہی ہے جس کو خدا نے (اپنا) رسول بنا کر بھیجا ہے! اِس نے تو ہمارے معبودوں سے ہمیں برگشتہ ہی کر دیا تھا، اگر ہم اُن (کی پرستش) پر جمے نہ رہتے۔ (اِنھیں اِس بات پر اصرار ہے، دراں حالیکہ) وہ وقت اب زیادہ دور نہیں، جب یہ عذاب دیکھیں گے تو خود جان لیں گے کہ کون بہت زیادہ راہ سے بھٹکا ہوا ہے۔ تم نے اُس شخص کو دیکھا ہے، (اے پیغمبر)، جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟ پھر کیا تم اُس کا ذمہ لے سکتے ہو[46]؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ اِن میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں؟ یہ تو محض جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی زیادہ بے راہ ہیں[47]۔ ۴۱- ۴۴

[41]۔ یہ اِس لیے کیا گیا کہ حضرت موسیٰ اپنے زمانے کے ایک باجبروت بادشاہ کی طرف بھیجے جا رہے تھے اور اُن کا احساس تھا کہ اُن کے بھائی ہارون فصاحت وبلاغت اور زبان آوری میں اُن سے بڑھ کر ہیں، لہٰذا ساتھ ہوں گے تو وہ اپنا فرض بہتر طریقے پر ادا کر سکیں گے۔

[42]۔ اُن کی طرف اگرچہ ایک ہی رسول کی بعثت ہوئی تھی، مگر کوئی رسول بھی یہ دعوت اُن کے سامنے پیش کرتاتو اُس کے ساتھ وہ یہی کرتے۔ اِس لیے ایک رسول کی نافرمانی کو تمام رسولوں کی نافرمانی قرار دیا ہے۔

[43]۔ اِن کے بارے میں، افسوس ہے کہ ابھی تک تحقیق نہیں ہوسکی کہ یہ کون لوگ تھے۔ قرآن کے مفسرین نے مختلف روایات بیان کی ہیں، لیکن اِن میں سے کوئی چیز بھی قابل اطمینان نہیں ہے۔ شعراے جاہلیت میں سے زہیر نے اپنے ایک شعر میں کسی وادی رس کا ذکر کیا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ غالباً عرب کی اقوام بائدہ میں سے کسی قوم کا حوالہ ہے جس کی طرف رسول کی بعثت ہوئی اور اُنھوں نے اُس کا انکار کر دیا۔

[44]۔ آیت میں فعل 'أهلكنا' بر بناے قرینہ محذوف ہے۔ یہ اُسی کا ترجمہ ہے۔

[45]۔ یہ اشارہ قوم لوط کی بستی کی طرف ہے جس پر سے قریش آئے دن اپنے تجارتی سفروں میں گزرتے رہتے تھے۔

[46]۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ آپ اِن کی ہدایت کے لیے پریشان نہ ہوں، اِس لیے کہ جو لوگ اپنی باگ خواہشوں کے ہاتھ میں پکڑا دیں، اُنھیں کوئی راہ راست پر نہیں لا سکتا۔ استاذ امام کے الفاظ میں، انسان کے اندر رہنمائی کا چراغ عقل ہے نہ کہ نفس کی خواہشیں تو جو لوگ اِس چراغ کو گل کرکے اپنی خواہشوں کے پرستار بن جائیں گے، آخر اُن کو رستہ دکھانا کس کے بس میں ہے!

[47]۔ اِس لیے کہ وہ اپنی جبلت سے کبھی انحراف نہیں کرتے، مگر انسان جب خواہشوں کا غلام بن جاتا ہے تو اپنی جبلت اور فطرت کے حدود بھی توڑ دیتا ہے۔

[باقی]

_________