البیان: الفرقان ۲۵: ۱۰ - ۳۴ (۲)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

تَبٰرَكَ الَّذِيْ٘ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَيْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَيَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا(۱۰) بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِيْرًا (۱۱) اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۣ بَعِيْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَيُّظًا وَّزَفِيْرًا (۱۲) وَاِذَا٘ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَيِّقًا مُّقَرَّنِيْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًا (۱۳) لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِيْرًا (۱۴) قُلْ اَذٰلِكَ خَيْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِيْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّمَصِيْرًا (۱۵) لَهُمْ فِيْهَا مَا يَشَآءُوْنَ خٰلِدِيْنَﵧ كَانَ عَلٰي رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلًا (۱۶) بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جو اگر چاہے تو تمھیں اِس سے کہیں بہتر چیزیں بخش دے ــــــــ (ایک نہیں)، بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں اور اُن میں تمھارے لیے محل بنوا دے[15]۔ نہیں، یہ بات نہیں ہے[16]، بلکہ اِنھوں نے قیامت کو جھٹلا دیا ہے اور جو قیامت کو جھٹلا دیں، اُن کے لیے ہم نے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ وہ جب اِن کو دور ہی سے دیکھےگی تو (دیکھتے ہی بپھر جائے گی اور) یہ اُس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے اور جب اُس کی کسی تنگ جگہ میں باندھ کر ڈال دیے جائیں گے تواُس وقت موت کو پکاریں گے[17] ــــــــ آج ایک ہی موت کو نہیں، بہت سی موتوں کو پکارو[18]۔اِن سے پوچھو، کیا یہ بہتر ہے یا ہمیشہ کی جنت جس کا وعدہ خدا سے ڈرنے والوں سے کیا گیا ہے؟ وہ اُن کے عمل کی جزا اور اُن کا ٹھکانا ہوگی۔ اُس میں جو چیز بھی چاہیں گے، اُن کے لیے موجود ہو گی۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ تیرے پروردگار کے ذمے ایک وعدہ ہے جس کو اُسے ہر حال میں پورا کرنا ہے[19]۔ ۱۰- ۱۶وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ ءَاَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰ٘ؤُلَآءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ (۱۷) قَالُوْا سُبْحٰنَكَ مَا كَانَ يَنْۣبَغِيْ لَنَا٘ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِكَ مِنْ اَوْلِيَآءَ وَلٰكِنْ مَّتَّعْتَهُمْ وَاٰبَآءَهُمْ حَتّٰي نَسُوا الذِّكْرَ وَكَانُوْا قَوْمًاۣ بُوْرًا (۱۸) فَقَدْ كَذَّبُوْكُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ فَمَا تَسْتَطِيْعُوْنَ صَرْفًا وَّلَا نَصْرًا وَمَنْ يَّظْلِمْ مِّنْكُمْ نُذِقْهُ عَذَابًا كَبِيْرًا (۱۹)یہ اُس دن کا دھیان کریں، جس دن وہ اِنھیں اکٹھا کرے گا اور اُن کو بھی جنھیں یہ خدا کے سوا پوجتے ہیں[20]، پھر اُن سے پوچھے گا: کیا تم نے میرے اِن بندوں کو گم راہ کیا تھا یا یہ خود ہی راہ راست سے بھٹک گئے تھے؟ وہ جواب دیں گے کہ پاک ہے تیری ذات، ہمیں یہ حق بھی کہاں تھا کہ ہم تیرے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں! مگر ہوا یہ کہ تو نے اِن کو اور اِن کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا، یہاں تک کہ وہ تیری یاددہانی بھلا بیٹھے اور ایسے لوگ بن گئے جو برباد ہو کررہے[21] ـــــــ یہ لو، اِنھوں نے تو جو تم کہتے تھے، اُس میں تمھیں جھوٹا ٹھیرا دیا۔ سو اب نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ اپنی کوئی مدد کر سکو گے اور تم میں سے جو بھی ظلم[22] کے مرتکب ہوں گے، اُنھیں ہم ایک بڑا عذاب چکھائیں گے۔ ۱۷ -۱۹ وَمَا٘ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا٘ اِنَّهُمْ لَيَاْكُلُوْنَ الطَّعَامَ وَيَمْشُوْنَ فِي الْاَسْوَاقِ وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً اَتَصْبِرُوْنَ وَكَانَ رَبُّكَ بَصِيْرًا (۲۰) تم سے پہلے بھی جتنے رسول ہم نے بھیجے ہیں، وہ سب کھانا کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے تھے[23]۔ (ایمان والو)، ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمایش بنا دیا ہے[24] تو بولو،اِن سب باتوں پر صبر کرتے ہو[25]؟ (تم مطمئن رہو، اے پیغمبر، یہ جو کچھ کر رہے ہیں)، تیرا پروردگار سب دیکھ رہا ہے[26]۔۲۰وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا لَوْلَا٘ اُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ نَرٰي رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوْا فِيْ٘ اَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا كَبِيْرًا (۲۱) يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلٰٓئِكَةَ لَا بُشْرٰي يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِيْنَ وَيَقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا (۲۲) وَقَدِمْنَا٘ اِلٰي مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا (۲۳) اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِيْلًا (۲۴)اور (اِن میں) جو ہمارے حضور پیشی کا اندیشہ نہیں رکھتے[27]، وہ کہتے ہیں کہ (تمھاری جگہ) ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے؟ یا ایسا کیوں نہیں ہوا کہ ہم براہ راست اپنے پروردگار ہی کو دیکھتے[28]؟ یہ اپنے جی میں بڑا گھمنڈ لیے بیٹھے ہیں اور اپنی سرکشی میں بہت بڑھ گئے ہیں[29]۔ جس دن یہ فرشتوں کو دیکھیں گے، اُس دن اِن مجرموں کے لیے کوئی خوش خبری نہ ہو گی۔ یہ(اُن کو دیکھ کر) چیخ اُٹھیں گے کہ پناہ، پناہ[30]۔ اور اِنھوں نے جو عمل بھی کیے ہوں گے، ہم اُن کی طرف بڑھیں گے اور اُنھیں (لے کر) اڑتی ہوئی خاک بنا دیں گے۔ اُس دن جنت کے لوگ بہترین ٹھکانے اور نہایت اچھی آرام گاہ میں ہوں گے[31]۔ ۲۱ -۲۴ وَيَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِكَةُ تَنْزِيْلًا (۲۵) اَلْمُلْكُ يَوْمَئِذِ اِۨلْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِﵧ وَكَانَ يَوْمًا عَلَي الْكٰفِرِيْنَ عَسِيْرًا (۲۶) وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْهِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا (۲۷) يٰوَيْلَتٰي لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا (۲۸) لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِيْﵧ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا (۲۹) وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا (۳۰) وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِيْنَ وَكَفٰي بِرَبِّكَ هَادِيًا وَّنَصِيْرًا (۳۱)جس دن آسمان ایک بدلی کے اوپر سے پھٹ جائے گا۔ (وہ نمودار ہو گی) اور فرشتوں کے پرے کے پرے (اُس کے اندر سے) اتار دیے جائیں گے۔ اُس دن حقیقی بادشاہی صرف خداے رحمٰن کی ہو گی[32]۔ وہ دن منکروں کے لیے بڑا سخت دن ہو گا۔ جس دن ظالم[33]اپنے ہاتھ حسرت سے کاٹے گا اور کہے گا کہ کاش، میں نے رسول کے ساتھ راہ (حق) اختیار کی ہوتی! ہاے میری بدبختی، کاش میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا! اُسی نے گم راہ کر کے مجھے خدا کی یاددہانی سے بہکا دیاتھا[34]،اِس کے بعد کہ وہ میرے پاس آ چکی تھی۔ ارشاد ہو گا: شیطان انسان کے ساتھ بڑا ہی بے وفائی کرنے والا ہے! اور رسول کہے گا کہ پروردگار، میری قوم کے لوگوں نے اِس قرآن کو بالکل نظر انداز کر دیا تھا[35] ــــــ (یہ جس طرح تمھارے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں، اے پیغمبر)، ہم نے اِسی طرح مجرموں میں سے ہر نبی کے دشمن بنائے ہیں[36]۔ (تم مطمئن رہو)، تمھارا پروردگار رہنمائی اور مدد کے لیے کافی ہے۔ ۲۵ -۳۱وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً كَذٰلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنٰهُ تَرْتِيْلًا (۳۲) وَلَا يَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِيْرًا (۳۳) اَلَّذِيْنَ يُحْشَرُوْنَ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ اِلٰي جَهَنَّمَ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ سَبِيْلًا (۳۴)یہ منکرین کہتے ہیں کہ قرآن سارے کا سارااِس کے اوپر ایک ہی وقت میں کیوں نہیں اتار دیا گیا[37]؟ ہم نے ایسا ہی کیا ہے، اِس لیے کہ اِس کے ذریعے سے ہم تمھارے دل کو مضبوط کریں[38] اور یہی سبب ہے کہ ہم نے اِس کو ٹھیر ٹھیر کر اتارا ہے۔ یہ لوگ جو اعتراض بھی تمھارے پاس لے کر آئیں گے، اُس کا ٹھیک جواب اور اُس کی بہترین توجیہ ہم تمھیں بتا دیں گے۔ (اِن کے لیے اب دوزخ ہی ہے اور) جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف گھسیٹے جائیں گے[39]، اُنھی کا ٹھکانا بہت برا ہے اور وہی سب سے بڑھ کر گم کردہ راہ ہیں[40]۔ ۳۲- ۳۴

[15]۔ یعنی جو کچھ قیامت میں دینے والا ہے، وہ اِسی دنیا میں تمھیں دے دے۔ یہ اُس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

[16]۔ یعنی اصل بات یہ نہیں ہے جو یہ زبان سے کہہ رہے ہیں۔

[17]۔ اِس لیے کہ جس طرح کا عذاب وہاں ہو گا، اُس سے رہائی کی ایک ہی صورت اُن کو نظر آئے گی کہ کسی طرح موت آ جائے۔

[18]۔ یہ بات قولاً بھی ہو سکتی ہے اور اُس صورت حال کی تعبیر بھی جس سے وہ دوچار ہوں گے۔

[19]۔ اُن کی جو تجویز یں اوپر نقل ہوئی ہیں، اُنھی کو سامنے رکھ کر یہ دوزخ اور جنت، دونوں کے احوال بیان کر دیے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اگر تم دیکھ سکتے کہ تمھارے لیے وہاں کیا عذاب تیار ہے اور ایمان والوں کے لیے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام کیا گیا ہے تو کبھی وہ باتیں نہ کرتے جو پیغمبر کی دعوت کے جواب میں کر رہے ہو۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''اِس جنت سے متعلق یہاں چار باتیں فرمائی گئی ہیں: ایک یہ کہ یہ اہل ایمان کو اُن کے اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر ملے گی۔ اللہ تعالیٰ اُن کو یہ اطمینان دلا دے گا کہ یہ تم نے اپنی سعی وعمل سے حاصل کی ہے اور تم اِس کے پوری طرح حق دار ہو۔ دوسری یہ کہ یہ اُن کی ابدی قیام گاہ ہو گی۔ اِس سے محروم ہونے کا اُن کو کبھی کوئی اندیشہ نہ ہو گا۔ تیسری یہ کہ اِس میں وہ سب کچھ ملے گا جو وہ چاہیں گے اور ہمیشہ کے لیے ملے گا۔ چوتھی یہ کہ اِس جنت کا اہل ایمان سے اللہ تعالیٰ نے حتمی وعدہ فرمایا ہے اور از خود اپنے اوپر اِس کا ایفا واجب اور اپنے بندوں کے آگے اُس کے لیے اپنے کو ذمہ دار ومسئول ٹھیرایا ہے۔''(تدبر قرآن ۵/ ۴۵۵)

[20]۔ اِن معبودوں کا ذکر اوپر آیت۳ میں گزر چکا ہے۔

[21]۔ دولت اور اقتدار کے ساتھ دو تین پشتیں گزر جائیں تو اکثر لوگ اِس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ یہ اب اُن کا پیدایشی حق ہے، اور آخرت اول تو ہو گی نہیں، اور اگر بالفرض ہوئی بھی تو جس طرح دنیا میں اُنھیں دوسروں سے کہیں بڑھ کر ملا ہے، آخرت میں بھی لازماً مل جائے گا۔ یہ اِسی ذہنیت کا بیان ہے اور صاف واضح ہے کہ یہ اصنام واوثان نہیں، بلکہ اُن انبیا وصلحا اور ملائکہ کا جواب ہو گا جن کی یہ لوگ پرستش کرتے رہے۔

[22]۔ یعنی شرک وکفر جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کی سزا کے لیے اصل میں 'عَذَابًا كَبِيْرًا' کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن میں اِسے 'ظُلْمٌ عَظِيْمٌ' قرار دیا گیا ہے۔

[23]۔ اوپر قریش مکہ کا اعتراض نقل ہوا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ قرآن نے یہ اِسی اعتراض کا جواب دیا ہے کہ اِس سے پہلے جن رسولوں کو مانتے ہو، اُن میں سے کون سا رسول ایسا تھا جو نہ کھانا کھاتا ہو اور نہ بازاروں میں چلتا پھرتا ہو؟ نوح، ابراہیم، اسمٰعیل، اور موسیٰ وعیسیٰ علیہم السلام، جن کی رسالت کے تم قائل ہو، وہ کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔پھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ نرالا اعتراض کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟

[24]۔ یعنی اُن کی طرف سے تحقیر وتضحیک کے رویے کو تمھارے لیے اور تمھاری غربت کو اُن کے لیے آزمایش بنا دیا ہے کہ اِسی کے باعث وہ یہ کہہ کر حق کا انکار کر رہے ہیں کہ یہ اگر خدا کا دین ہوتا تو اِس سے مکہ اور طائف کے رؤسا واکابر بہرہ یاب کیے جاتے، یہ اِن قلاش مسلمانوں کو نہ ملتا۔

[25]۔ مطلب یہ ہے کہ و ہ تو اپنے شکر کے امتحان میں بالکل ناکام ہو گئے ہیں۔ اب بتاؤ، کہ اُن کے استکبار اور طنز واستہزا کے مقابلے میں تم کیا رویہ اختیار کرو گے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...یہ مسلمانوں کو اِس بات پر ابھارا گیا ہے کہ اگر تمھارے مخالفین اپنے امتحان میں ناکام رہے تو اُن کو اُن کی قسمت کے حوالے کرو۔ تمھارے سامنے صبر کے امتحان کا جو مرحلہ ہے، اُس میں کامیابی کے لیے عزم و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھو۔''(تدبر قرآن ۵/ ۴۵۸)

[26]۔ یعنی جب دیکھ رہا ہے تو مطمئن رہو، ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم وہ تمھیں فائز المرام بھی کرے گا۔

[27]۔ یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ آگے جو بات نقل ہوئی ہے، وہ ایسے سر پھرے اور مغرور لوگ ہی کہہ سکتے ہیں جو آخرت سے بالکل نچنت اور بے خو ف ہو گئے ہوں۔ چنانچہ 'الذين كفروا' کے بجاے اُن کا ذکر ایک ایسی صفت سے کیا ہے جو اُن کے جہل وغرور کو پوری طرح بے نقاب کر دے۔

[28]۔ خدا کو بے حجاب دیکھنے کا یہ مطالبہ بھی نہایت مغرورانہ ہے۔ مدعا یہ ہے کہ کسی کو پیغام بر بنا کر بھیجنے کے بجاے، اُسے خود سامنے آ کر ہمارے ساتھ بات کرنی چاہیے تھی کہ وہ صورت حال پیدا ہی نہ ہوتی جو اِس وقت پیدا کر دی گئی ہے۔

[29]۔ اُن کے مطالبات میں جو گھمنڈ چھپا ہواتھا، یہ قرآن نے اُس پر ضرب لگائی ہے۔

[30]۔ اصل میں 'حِجْرًا مَّحْجُوْرًا' کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ عربی زبان میں 'حِجْرًا' استعاذہ کے لیے بھی آتا ہے، جیسے معاذ اللہ۔ اِس صورت میں یہ فعل محذوف سے منصوب ہوتا ہے اور اِس کے ساتھ 'مَحْجُوْرًا' بالکل اُسی طرح آ جاتا ہے، جیسے لفظ 'ذيل' کے ساتھ 'ذائل' اور 'موت' کے ساتھ 'مائت'۔

[31]۔ اصل میں لفظ 'مَقِيْل' استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی قیلولہ کی جگہ کے ہیں، لیکن اپنے عام استعمال میں یہ اِس سے مجرد ہو کر محض آرام گاہ کے معنی میں بھی آ جاتا ہے۔ یہی معاملہ 'أفعل' کا ہے۔ یہ بھی آیت میں دونوں جگہ تقابل کے مفہوم سے مجرد ہو کر آ گیا ہے۔

[32]۔ یعنی تمام پردے اٹھ جائیں گے اور جو لوگ یہاں اپنی بادشاہی کے زعم میں ہیں، اُن پر بھی واضح ہو جائے گا کہ کائنات کا حقیقی بادشاہ اللہ ہی ہے۔

[33]۔ لفظ 'ظَالِم' یہاں 'ظالم لنفسه' کے معنی میں ہے۔ یعنی اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا۔

[34]۔ اصل الفاظ ہیں:'اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ'۔ اِن میں 'عَنْ' اِس بات کا قرینہ ہے کہ فعل 'اَضَلَّ' یہاں 'صرف' کے مفہوم پر بھی متضمن ہے۔ یعنی اُس نے مجھے گم راہ کر کے خدا کی یاددہانی سے برگشتہ کر دیا۔

[35]۔ آیت میں رسول سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب قرآن کو جھٹلانے والے قیامت میں اپنی بدبختی کا ماتم کر رہے ہوں گے، اُس وقت آپ بھی اپنا شکوہ خدا کے سامنے پیش کر دیں گے جس کے بعد اِن بدبختوں میں سے کسی کے لیے کچھ کہنے کی گنجایش باقی نہ رہے گی۔

[36]۔ یعنی اُن کو مہلت دی کہ وہ پیغمبر کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوں۔ یہ مہلت چونکہ خدا کی سنت ابتلا کے تحت ملتی ہے، اِس لیے اِسے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔

[37]۔ یہ اعتراض اِس پہلو سے کیا جاتا تھا کہ قرآن کی صورت میں یہ جو سوچ سوچ کر کبھی کچھ مضمون لاتے ہیں اور کبھی کچھ، یہ اِس بات کی صریح علامت ہے کہ اِسے خود ہی گھڑ گھڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اِس لیے کہ خدا کو تو اِس طرح سوچنے اور تھوڑا تھوڑا کر کے لکھنے یا بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہو سکتی۔

[38]۔ یعنی حق وباطل کی جس کشمکش میں اِس کتاب نے تمھیں ڈال دیا ہے، اُس میں تمھاری ہمت بندھائیں تاکہ تمھیں اطمینان رہے کہ تمھارا پروردگار تمھاری طرف متوجہ ہے، اِس راہ کی مشکلات میں ہر موقع پر تمھاری رہنمائی کر رہا ہے اور ہر ضرورت میں تمھارے ساتھ ہوتا ہے۔ اِن میں سے کوئی چیز بھی تمھیں حاصل نہیں ہو سکتی تھی، اگر یہ کتاب ایک ہی دفعہ تمھارے ہاتھ میں پکڑا کر تمام مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تمھیں یوں ہی چھوڑ دیا جاتا اور تم محسوس کرتے کہ گویا ایک تختے پر بٹھا کر سمندر کی موجوں کے حوالے کر دیے گئے ہو۔

[39]۔ آیت میں 'يُحْشَرُوْنَ' کے بعد 'عَلٰي' تضمین پر دلالت کرتا ہے، یعنی 'يحشرون ويسبحون علٰي وجوههم'۔

[40]۔ اِس لیے کہ جس راہ پر چلے تھے، اُس کی منزل دوزخ کی شکل میں سامنے آگئی ہے۔

[باقی]

__________