البیان: الحج ۲۲: ۴۲- ۵۷ (۵)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(۵)

(گذشتہ سے پیوستہ)

وَاِنْ يُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّعَادٌوَّثَمُوْدُ٤٢(۴۲) وَقَوْمُ اِبْرٰهِيْمَ وَقَوْمُ لُوْطٍ٤٣(۴۳) وَّاَصْحٰبُ مَدْيَنَ وَكُذِّبَمُوْسٰي فَاَمْلَيْتُ لِلْكٰفِرِيْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيْرِ٤٤(۴۴) فَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَهِيَ ظَالِمَةٌ فَهِيَ خَاوِيَةٌ عَلٰي عُرُوْشِهَا وَبِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّقَصْرٍ مَّشِيْدٍ٤٥(۴۵) اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَا٘ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا فَاِنَّهَا لَا تَعْمَي الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَي الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ٤٦(۴۶)

وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ وَاِنَّ يَوْمًا عِنْدَرَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ٤٧(۴۷) وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اَمْلَيْتُ لَهَاوَهِيَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا وَاِلَيَّ الْمَصِيْرُ٤٨(۴۸)

قُلْ يٰ٘اَيُّهَا النَّاسُ اِنَّمَا٘ اَنَا لَكُمْ نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ٤٩(۴۹) فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِلَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّرِزْقٌ كَرِيْمٌ٥(۵۰) وَالَّذِيْنَ سَعَوْا فِيْ٘ اٰيٰتِنَا مُعٰجِزِيْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ٥١(۵۱)

وَمَا٘ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ اِلَّا٘ اِذَا تَمَنّٰ٘ي اَلْقَي الشَّيْطٰنُ فِيْ٘ اُمْنِيَّتِهٖ فَيَنْسَخُ اللّٰهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ ثُمَّيُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ٥٢(۵۲) لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُفِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍۣ بَعِيْدٍ٥٣(۵۳) وَّلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَيُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَاٰمَنُوْ٘ا اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ٥٤(۵۴)

وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتّٰي تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ يَاْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ٥٥(۵۵) اَلْمُلْكُ يَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِيْ جَنّٰتِ النَّعِيْمِ٥٦(۵۶) وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَكَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌمُّهِيْنٌ٥٧(۵۷)

(اے پیغمبر)، اگر یہ تمھیں جھٹلاتے ہیں تو اِس پر تعجب کیوں؟ اِن سے پہلے نوح کی قوم، عاد و ثمود، ابراہیم کی قوم،لوط کی قوم اور مدین کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں، اور موسیٰ کو بھی اِسی طرح جھٹلایا گیا تھا۸۶۔ پھر اُن کے منکروں کو میں نے کچھ ڈھیل دی، پھر اُن کو دھر لیا تو دیکھو کہ کیسی ہوئی میری پھٹکار! سو کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو ہم نے ہلاک کیا ہے اور وہ ظالم تھیں ۔ اب وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں۔ اور کتنے کنویں بے کار۸۷ اور کتنے پختہ محل ہیں جو ویران پڑے ہیں۸۸۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ (عبرت کی اِن جگہوں کو دیکھ کر) اِن کے دل ایسے ہو جاتے کہ یہ اُن سے سمجھتے اور کان ایسے ہو جاتے کہ اُن سے سنتے؟ سو بات یہ ہے کہ سروں کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۸۹۔ ۴۲ -۴۶

یہ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے ہیں، دراں حالیکہ (اللہ نے عذاب کی وعید سنائی ہے تو) اللہ ہرگز اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہ کرے گا۔ ( اِنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) تیرے پروردگار کے ہاں کا ایک دن تمھاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۹۰۔ (سو یہ بھی بے خوف نہ ہوں)۔ کتنی ہی بستیاں ہیں جن کو میں نے اُن کے ظلم کے باوجود اِسی طرح ڈھیل دی، پھر اُن کو پکڑ لیا اور سب کو واپس تو میرے پاس ہی آنا ہے۔۴۷ -۴۸

اِن سے کہہ دو کہ لوگو، میں تمھارے لیے صرف ایک کھلا ہوا خبردار کرنے والا ہوں۹۱۔ پھر جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے ، اُن کے لیے مغفرت بھی ہے اور عزت کی روزی بھی۔ اور جن کی تگ و دو ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کے لیے ہے، وہی دوزخ کے لوگ ہیں۔ ۴۹ -۵۱

ہم نے، (اے پیغمبر)، تم سے پہلے جو رسول اور جو نبی بھی بھیجا ہے۹۲، اُس کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا کہ اُس نے جب بھی کوئی تمنا کی۹۳، شیطان اُس کی تمنا میں خلل انداز ہو گیا ہے۹۴۔ پھر شیطان کی اِس خلل اندازی کو اللہ مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیتوں کو قرار بخشتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۹۵۔ یہ اِس لیے ہوتا ہے کہ اللہ شیطان کی اِس خلل اندازی کو اُن لوگوں کے لیے فتنہ بنا دے جن کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے اور جن کے دل سخت ہو چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم (اپنی) مخالفت میں بہت دور نکل گئے ہیں۔ اور اِس لیے بھی ہوتا ہے کہ جن کو خدا کی کتاب کاعلم عطا ہوا ہے، وہ اچھی طرح جان لیں کہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے۔ سو اُن کے ایمان اُس پر پختہ ہوں اور اُن کے دل اُس کے آگے جھک جائیں۹۶۔ اور اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ اُن لوگوں کو جو ایمان لے آئے ہیں، ضرور سیدھی راہ دکھائے گا۹۷۔ ۵۲ -۵۴

اِس کے برخلاف جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کر لیا ہے، وہ اِس علم کی طرف سے شک ہی میں رہیں گے، یہاں تک کہ اُن کے سر پر قیامت یکایک آ موجود ہو یا ایک منحوس دن۹۸ کا عذاب اُن پرنازل ہو جائے۔ (وہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ) اُس دن سارا اختیار اللہ ہی کا ہو گا۔ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کر دے گا ۔ پھر جو ایمان لائے ہوں گے اور اُنھوں نے اچھے عمل بھی کیے ہوں گے، وہ راحت کے باغوں میں ہوں گے اور جنھوں نے انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلادیا ہے تو وہی ہیں کہ جن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۹۹۔۵۵ -۵۷

____________

۸۶ ۔ موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی قوم نے نہیں، بلکہ فرعون نے جھٹلایا تھا۔ اُن کی تکذیب کا ذکر غالباً اِسی بنا پر صیغۂ مجہول سے کیا ہے۔

۸۷ ۔ اُس زمانے کے عرب میں پانی کی قلت کے باعث بستیاں کنووں ہی سے آباد ہوتی تھیں، اِس لیے اُن کی ویرانی گویا اِس بات کی تعبیر ہے کہ تمام چہل پہل اور ہما ہمی ختم ہو گئی ہے۔

۸۸ ۔ آیت میں یہ الفاظ وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کر دیے گئے ہیں۔

۸۹ ۔ دلوں کے ساتھ یہ قید اِس بات کا قرینہ ہے کہ آنکھوں کے ساتھ بھی 'في الرؤوس' یا اِس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔ یہ سائنس کی نہیں، بلکہ ادب کی زبان ہے اور ادبی زبان میں دماغ کے بیش تر افعال دل ہی کی طرف منسوب کیے جاتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... چونکہ یہاں حال بے بصیرت لوگوں کا بیان ہو رہا ہے، اِس وجہ سے ضروری ہوا کہ دل کا پتا اُس کے مقام و محل کے تعین کے ساتھ دیا جائے کہ اصلی اندھا پن دل کا اندھا پن ہے اور یہ مکذبین رسول اِسی اندھے پن میں مبتلاہیں۔ کوئی اِن کے سر کی آنکھیں کھلی دیکھ کر اِن کو بینا نہ سمجھے، اِس لیے کہ آنکھوں کے اندر بصیرت کی روشنی دل کی راہ سے آتی ہے اور اِن کے دل کی آنکھیں بالکل اندھی ہیں۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۶۵)

۹۰ ۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کے معاملات کو اپنے محدود پیمانوں سے نہیں ناپنا چاہیے۔ تمھارے ہاں صدیاں گزر جاتی ہیں، لیکن خدا کی تقویم میں شاید چند لمحے بھی نہیں گزرے ہوتے۔ اِس کو اِس مثال سے سمجھ لو کہ تمھارے ہاں کے ایک ہزار سال بعض اوقات خدا کے ہاں ایک دن کی طرح ہوتے ہیں۔ اِس لیے عذاب کے لیے جلدی مچانے کے بجاے اُس مہلت سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو جو خدا نے اِس وقت تمھیں دے رکھی ہے۔

۹۱۔ اصل میں 'نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ'کے الفاظ آئے ہیں۔ عربی ادب کے ذوق آشنا جانتے ہیں کہ اِس میں نذیر عریاں کی طرف تلمیح ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... عربوں میں یہ طریقہ تھا کہ قبیلہ یا قافلہ جہاں ڈیرا ڈالتا، وہاں کسی اونچی جگہ پر ایک نگران پہرا دیتا اور اگر وہ کسی طرف سے کوئی خطرہ محسوس کرتا تو اپنے کپڑے اتار کر ننگا ہو جاتا اور خطرے کا اعلان کرتا جس کے بعد قبیلے یا قافلے کے سارے مرد تلواریں سونت کر مدافعت کے لیے تیار ہو جاتے۔ اِس کو 'نذیر عریاں' کہتے تھے۔ یہ تعبیر چونکہ ناشایستہ تھی، نبی کے لیے اِس کا استعمال موزوں نہ تھا، اِس وجہ سے قرآن نے اِس کو 'نَذِيْرٌ مُّبِيْنٌ ' کی شکل میں شایستہ بنا لیا ہے۔'' (تدبر قرآن ۵/ ۲۶۷)

۹۲۔ یہ الفاظ صاف ظاہر کرتے ہیں کہ نبی اور رسول میں فرق ہے۔ یہ فرق کیا ہے؟ قرآن کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن لوگوں کو خلق کی ہدایت کے لیے مبعوث فرماتا ہے اور اپنی طرف سے وحی و الہام کے ذریعے سے اُن کی رہنمائی کرتا ہے، اُنھیں نبی کہا جاتا ہے۔ لیکن ہر نبی کے لیے ضروری نہیں ہے کہ وہ رسول بھی ہو۔رسالت ایک خاص منصب ہے جو نبیوں میں سے چند ہی کو حاصل ہوا ہے ۔ قرآن میں اِس کی تفصیلات کے مطابق رسول اپنے مخاطبین کے لیے خدا کی عدالت بن کر آتا اور اُن کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ چنانچہ اُس کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اللہ تعالیٰ اُس کے ماننے والوں کو غلبہ عطا فرماتا اور اُس کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کر دیتا ہے۔

۹۳۔ نبی کی تمنا، ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتی ہے کہ اُس کی مساعی بار آور ہوں اور قوم کے ارباب حل و عقد اُس کی دعوت پر ایمان لے آئیں۔ چنانچہ وہ ہر صبح اِس آرزو کے ساتھ اٹھتا ہے کہ آج کسی عتبہ، کسی مغیرہ، کسی عمرو یا عمر کو اللہ ضرور یہ سعادت عطا فرمائے گا کہ وہ اُس کی دعوت کو قبول کر لے۔

۹۴۔ یعنی اُس نے اِس تمنا کے بر آنے میں رکاوٹ پیدا کرنے کے لیے قسم قسم کے شبہات، اعتراضات، طعن و تشنیع اور شگوفہ بازیوں کا ایک طوفان برپا کر دیا ہے۔

۹۵۔ یعنی اُ س کے پیدا کیے ہوئے شبہات و اعتراضات کی حقیقت لوگوں پر واضح کر دیتا ہے۔ چنانچہ اُس کے اٹھائے ہوئے سب فتنے بالآخر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں اور خدا کی آیتیں اِس طرح محکم ہو کر سامنے آتی ہیں کہ کسی سلیم الطبع انسان کے دل میں اُن کے بارے میں کوئی تردد باقی نہیں رہتا۔ اللہ شیطان کو شبہات و اعتراضات پیدا کرنے کا یہ موقع اِس لیے دیتا ہے کہ وہ علیم و حکیم ہے اور خوب جانتا ہے کہ دنیا جس اسکیم کے مطابق بنائی گئی ہے، وہ اِسی طرح پوری ہو سکتی ہے۔ آگے اِسی بات کی وضاحت فرمائی ہے۔

۹۶۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ بھی ہوتا ہے، تطہیر و تمحیص کے لیے ہوتا ہے کہ باطل کی پرستش کرنے والے حق پرستوں سے بالکل الگ ہو جائیں اور حق پرستوں کے یقین میں اضافہ ہو۔ دنیا میں خدا کی اسکیم کا یہی تقاضا ہے۔اِس کے بغیر اُن لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جا سکتا جو خدا کو اپنی جنت کے لیے مطلوب ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

'' یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ اشیا کی اصل حقیقت اُن کے اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے۔ ایک بات کو آپ جانتے اور مانتے ہیں، لیکن اُس کے خلاف جو کچھ کہا جا سکتا ہے، وہ اگر آپ کے سامنے نہیں آیا تو اِس بات کا بڑا امکان ہے کہ وہ جب سامنے آئے تو آپ کا علم و ایمان متزلزل ہو جائے۔ لیکن وہ سب کچھ اگر آپ کے سامنے آچکا ہے اور اُس کے کھرے کھوٹے میں امتیاز کر کے آپ نے اُس حق کو قبول کیا ہے تو اُس کو علی وجہ البصیرت آپ نے اختیار کیا ہے۔ پھر اِس بات کا کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ کوئی باد مخالف آپ کے موقف سے آپ کو ہٹا سکے۔ دین میں یہی بصیرت پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اِس دنیا میں یہ انتظام فرمایا کہ حق کے مخالفین کو بھی یہ موقع دیا ہے کہ وہ حق کے خلاف جو زہر اگلنا چاہتے ہیں، وہ اگل لیں تاکہ جو لوگ حق کو قبول کریں، محض تقلیدی طور پر نہ اختیار کریں ،بلکہ پوری معرفت کے ساتھ اختیار کریں۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۷۲)

۹۷۔ اوپر فرمایا تھا کہ جن کے دلوں میں منافقت کا روگ ہے، وہ اپنی مخالفت میں اتنی دور جا چکے ہیں کہ اب اُن کی بازگشت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ اُسی کے بالمقابل اب اہل ایمان کو بشارت دی ہے کہ اللہ اِن آزمایشوں میں اُن کے ایمان کو ضائع نہیں ہونے دے گا، بلکہ جب وہ ہر طرح کے امتحانات اور آزمایشوں سے گزر کر اپنی وابستگی حق کے ساتھ ثابت کر دیں گے تو اُن کا ہاتھ پکڑ کر اُنھیں اُس راہ پر لے جائے گا جو سیدھی منزل کی طرف جاتی ہے۔

۹۸۔ اصل میں لفظ 'عَقِيْم'استعمال ہوا ہے۔ یہ بانجھ کے معنی میں آتا ہے جس سے بے فیض اور منحوس کا مفہوم اِس میں پیدا ہو گیا ہے، یعنی ایک ایسا دن جس میں کوئی تدبیر کارگر نہ ہو، ہر کوشش الٹی پڑے اور ہر امید مایوسی میں تبدیل ہو جائے۔

۹۹ ۔ اِس لیے کہ اُنھوں نے خدا و رسول کے مقابلے میں استکبار کیا اور استکبار کی سزا یہی ہونی چاہیے کہ اُس میں تعذیب کے ساتھ توہین و تذلیل کی پھٹکار بھی شامل کر دی جائے۔

_______________