البیان: الحج ۲۲: ۳۸-۴۱ (۴)


البیان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

(۴)

(گذشتہ سے پیوستہ)

اِنَّ اللّٰهَ يُدٰفِعُ عَنِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ٣٨(۳۸) اُذِنَ لِلَّذِيْنَيُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرُ٣٩(۳۹) اِۨلَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْدِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ اِلَّا٘ اَنْ يَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ يُذْكَرُ فِيْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِيْرًا وَلَيَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ٤(۴۰) اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِي الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ وَلِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ٤١(۴۱)

(اِس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی راہ سے روک رہے ہیں، اُن کے بارے میں) اللہ کا فیصلہ ہے کہ وہ ( اُن کے مقابلے میں اب) اُن لوگوں کی مدافعت کرے گا جو ایمان لے آئے ہیں۷۵۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی دغاباز ناشکرے کو پسند نہیں کرتا۷۶۔ (چنانچہ) جن سے جنگ کی جائے، اُنھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی ہے، اِس لیے کہ اُن پر ظلم ہوا ہے اور اللہ یقینا ً اُن کی مدد پر قادر ہے۔ وہ جو ناحق اپنے گھروں سے نکال دیے گئے، صرف اِس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے۷۷۔ (یہ اجازت اِس لیے دی گئی کہ)اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے سے دفع نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کنیسے۷۸ اور مسجدیں جن میں کثرت سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، سب ڈھائے جاچکے ہوتے۷۹۔ اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اُس کی مدد کے لیے اُٹھیں گے۸۰۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ زبردست ہے، وہ سب پر غالب ہے۸۱۔ وہی۸۲ کہ جن کو اگر ہم اِس سرزمین میں اقتدار بخشیں گے تو نماز کا اہتما م کریں گے۸۳ اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور بھلائی کی تلقین کریں گے اور برائی سے روکیں گے۸۴۔ (اللہ ضرور اُن کی مدد کرے گا) اور سب کاموں کاانجام تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۸۵۔ ۳۸- ۴۱

[۷۵]۔اِن آیتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے فوراً بعد یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ اب جزا و سزا کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے جس میں مسلمان اگر کوئی اقدام کریں گے تو اللہ یقیناً اُن کی مدد کرے گا۔ آیت۴۱تک اِسی مضمون کی وضاحت ہے۔

[۷۶]۔یہ قریش کی طرف اشارہ ہے جو اپنے آبا ــــــابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام ــــــسے کیا ہوا عہد بھلا چکے تھے اور بیت اللہ کے نام پر حقوق تو حاصل کرتے تھے، لیکن جس خدا نے یہ حیثیت اُن کو دی تھی، اُس کی شکر گزاری کا حق ادا کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

[۷۷]۔یہ قرآن کی پہلی آیات ہیں جن میں مہاجرین صحابہ کو اِس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ اگر چاہیں تو جارحیت کے جواب میں جنگ کا اقدام کر سکتے ہیں۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے جنھیں بالکل بے قصور محض اِس جرم پر اُن کے گھروں سے نکلنے کے لیے مجبور کر دیا گیا کہ وہ اللہ ہی کو اپنا رب قرار دیتے تھے۔ قریش کے شدائد ومظالم کی پوری فرد قرارداد جرم، اگر غور کیجیے تو اِس ایک جملے میں سمٹ آئی ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے وطن اور گھربار کو اُس وقت تک چھوڑنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا، جب تک اُس کے لیے وطن کی سرزمین بالکل تنگ نہ کر دی جائے۔ آیت میں 'بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا' کا اشارہ اِنھی مظالم کی طرف ہے اور قرآن نے اِنھی کی بنیاد پر مسلمانوں کو یہ حق دیا ہے کہ اب وہ جارحیت کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں، خواہ یہ جارحیت خدا کی راہ سے اُنھیں روکنے کے لیے کی جائے یا حرم کی راہ سے۔ یہ حق اُنھیں بحیثیت جماعت دیا گیا ہے، اِس لیے کہ اپنی انفرادی حیثیت میں وہ اِن آیتوں کے مخاطب ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا اِس معاملے میں اقدام کا حق بھی اُن کے نظم اجتماعی کو حاصل ہے۔ اُن کے اندر کا کوئی فرد یا گروہ ہرگز یہ حق نہیں رکھتاکہ اُن کی طرف سے اِس طرح کے کسی اقدام کا فیصلہ کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر فرمایا ہے کہ مسلمانوں کا حکمران اُن کی سپر ہے، قتال اُسی کے پیچھے رہ کر کیا جاتا ہے*۔

[۷۸] ۔ اصل میں 'صَوَامِع'، 'بِیَع' اور 'صَلَوٰت' کے الفاظ آئے ہیں۔'صَوَامِع' 'صومعة' کی جمع ہے۔مسیحی راہب جن بلند پہاڑوں اور عمارتوں میں خلوت اورگوشہ نشینی کی زندگی گزارتے تھے، یہ لفظ اصلاً اُن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ہم نے اِسی رعایت سے اِس کا ترجمہ 'خانقاہیں' کیا ہے۔ 'بِیَع' 'بیعة' کی جمع ہے۔ یہ یہود و نصاریٰ، دونوں کے عبادت خانوں کے لیے آتا ہے،لیکن یہود کے عبادت خانوں کے لیے الگ لفظ 'صَلَوٰت' آگیا ہے، اِس لیے اِس کو یہاں مسیحی عبادت گاہوں کے لیے خاص سمجھنا چاہیے۔ 'صَلَوٰت' 'صلٰوة' کی جمع ہے۔ اِس سے مراد یہودیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے۔ یہودیوں کے ہاں اِس کا نام 'صلوتا' تھا جو آرامی زبان کا لفظ ہے۔

[۷۹]۔مطلب یہ ہے کہ جنگ کوئی مطلوب چیز نہیں ہے، لیکن خدا کی طرف سے اِس کی اجازت ہمیشہ اِسی لیے دی گئی ہے کہ یہ اگر نہ دی جاتی تو قوموں کی سرکشی اِس انتہا کو پہنچ جاتی کہ تمدن کی بربادی کا تو کیا ذکر، معبد تک ویران کر دیے جاتے اور اُن جگہوں پر خاک اڑتی جہاں شب و روز اللہ پروردگار عالم کا نام لیا جاتا اور اُس کی عبادت کی جاتی ہے۔ اِس میں خاص طور پر یہود و نصاریٰ کی عبادت گاہوں کا ذکر اِس لیے کیا گیا ہے کہ مسلمانوں کے کسی اقدام پر مذہبی نقطۂ نظر سے وہی معترض ہو سکتے تھے۔ اُنھیں بتایا گیا ہے کہ تمھاری یہ عبادت گاہیں آج اگر قائم ہیں تو اِسی لیے قائم ہیں کہ خدا کے صالح بندے اُن لوگوں کے مقابلے میں اپنی جان دے کر اِن کی حفاظت کرتے رہے ہیں جو اِن کی ویرانی کے درپے ہوئے۔چنانچہ مسلمانوں کو بھی جنگ کی اجازت اِسی مقصد سے دی جا رہی ہے کہ وہ خدا اور اُس کے حرم کی راہ سے روکنے والوں کو اُن کے اِس ظلم سے باز رکھ سکیں۔

[۸۰]۔اوپر جس وعدۂ نصرت کا ذکر ہے، یہ اُس کی تاکید مزید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا اور اُس کے حرم کی راہ سے روکنے والوں کے خلاف اٹھنا درحقیقت خدا کی مدد کے لیے اٹھنا ہے اور خدا کی سنت یہ ہے کہ جو اُس کی مدد کے لیے اٹھے، خدا ضرور اُس کی مدد کرتا ہے۔ اِس نصرت الہٰی کا ضابطہ سورۂ انفال (۸)کی آیات۶۵- ۶۶میں بیان ہو چکا ہے۔

[۸۱]۔اِس جملے میں کئی پہلو ملحوظ ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''خدا قوی و عزیز ہے، اِس وجہ سے وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اُس کی مدد کرتے ہیں، وہ درحقیقت خود اپنے لیے خدا کی مدد کی راہ کھولتے ہیں۔

مسلمان اپنی قلت تعداد اور دشمن کی بھاری جمعیت سے ہراساں نہ ہوں۔ جو خداوند ذوالجلال اُن کی پشت پناہی کا وعدہ کر رہا ہے، وہ قوی و عزیز ہے۔

کفار مسلمانوں کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اِس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ یہ چند چنے بھلا کیا بھاڑ پھوڑیں گے! یہی قطرے اب طوفان بنیں گے، اِس لیے کہ اِن کو خدا کی نصرت و حمایت حاصل ہے اور خدا قوی و عزیز ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۵۷)

[۸۲]۔یہاں سے آگے اب اللہ تعالیٰ نے وہ فرائض بیان فرمائے ہیں جو مسلمانوں کو اگر کسی جگہ اقتدار حاصل ہو تو اُن کے پروردگار کی طرف سے اُن پر عائد ہوتے ہیں۔ آیت میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ جن لوگوں سے اقتدار چھین کر اُسے مسلمانوں کے سپرد کیا جائے گا، اُنھوں نے یہ فرائض پورے نہیں کیے، بلکہ اِنھیں برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ چنانچہ پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے بعدخدا کا قانون یہی ہے کہ اِس طرح کے غاصبوں کو اقتدار سے معزول کر دیا جائے۔

[۸۳]۔حکومت کی سطح پر نماز قائم کرنے کے لیے جو سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی ہے، اُس کی رو سے، اولاً مسلمانوں کے ارباب حل و عقد خود بھی نماز کا اہتمام کریں گے اور اپنے عمال کوبھی اِس کا پابند بنائیں گے، ثانیاً نماز جمعہ اور نماز عیدین کا خطاب اور اُن کی امامت ہر جگہ یہ ارباب حل و عقد اور اِن کے مقرر کردہ حکام ہی کریں گے یا اِن کی طرف سے اِن کا کوئی نمایندہ یہ خدمت انجام دے گا۔ اِسی طرح زکوٰۃ کے بارے میں یہ سنت قائم فرمائی ہے کہ یہی تنہاٹیکسہے جومسلمانوں پر عائد کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ ریاست کے مسلمان شہریوں میں سے ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ عائد ہوتی ہو، اپنے مال، مواشی اور پیداوار میں مقررہ حصہ اپنے سرمایے سے الگ کرکے لازماً حکومت کے حوالے کر دے گا اور حکومت دوسرے مصارف کے ساتھ اُس سے اپنے حاجت مند شہریوں کی ضرورتیں، اُن کی فریاد سے پہلے، اُن کے دروازے پر پہنچ کر پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔

[۸۴]۔بھلائی کے لیے اصل میں 'مَعْرُوْف' اور برائی کے لیے 'مُنْكَر' کا لفظ استعمال ہوا ہے، یعنی وہ چیزیں جنھیں پوری انسانیت بھلائی یا برائی کی حیثیت سے جانتی ہے۔ یہ ذمہ داری، ظاہر ہے کہ بعض معاملات میں تبلیغ و تلقین کے ذریعے سے اور بعض معاملات میں قانون کی طاقت سے پوری کی جائے گی۔ پہلی صورت کے لیے جمعہ کا منبر ہے جو اِسی مقصد سے ارباب حل و عقد کے لیے خاص کیا گیا ہے۔ دوسری صورت کے لیے پولیس کا محکمہ ہے جو مسلمانوں کی حکومت میں اِسی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے قائم کیا جاتا اور اپنے لیے متعین کردہ حدود کے مطابق اِس کام کو انجام دیتا ہے۔

[۸۵]۔مطلب یہ ہے کہ اِس وقت حالات جیسے بھی ہوں، انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اُس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اب مسلمانوں کی مدد کرے گا۔ چنانچہ منکرین متنبہ ہو جائیں کہ اب اُن کا معاملہ اِن مظلوموں کے ساتھ نہیں، بلکہ زمین و آسمان کے خالق، اللہ پروردگار عالم کے ساتھ ہے۔

________

* بخاری، رقم ۲۹۵۷۔

[باقی]

___________