البیان: الحج ۲۲: ۵۸- ۷۸ (۶)


البیان

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

(گذشتہ سے پیوستہ)

وَالَّذِيْنَ هَاجَرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْ٘ا اَوْ مَاتُوْا لَيَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًاحَسَنًا وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ٥(٨۵۸) لَيُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا يَّرْضَوْنَهٗﵧ وَاِنَّاللّٰهَ لَعَلِيْمٌ حَلِيْمٌ٥٩(۵۹)

ذٰلِكَ وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُﵧ اِنَّاللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ٦(۶۰)

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ يُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ وَاَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۣ بَصِيْرٌ٦١(۶۱) ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَاَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ٦٢(۶۲)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ٦٣(۶۳) لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ٦٤(۶۴)

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ وَالْفُلْكَ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِبِاَمْرِهٖ وَيُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَي الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِلَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ٦٥(۶۵) وَهُوَ الَّذِيْ٘ اَحْيَاكُمْﵟ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ اِنَّالْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ٦٦(۶۶)

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰي رَبِّكَ اِنَّكَ لَعَلٰي هُدًي مُّسْتَقِيْمٍ٦٧(۶۷) وَاِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ٦٨(۶۸) اَللّٰهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ٦٩(۶۹) اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ اِنَّ ذٰلِكَ فِيْ كِتٰبٍﵧ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ٧(۷۰)

وَيَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّمَا لَيْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ وَمَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ نَّصِيْرٍ٧١(۷۱) وَاِذَا تُتْلٰي عَلَيْهِمْ اٰيٰتُنَا بَيِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ يَكَادُوْنَ يَسْطُوْنَ بِالَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ اَلنَّارُ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ٧٢(۷۲)

يٰ٘اَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ اِنَّ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِلَنْ يَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّلَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ وَاِنْ يَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْـًٔا لَّا يَسْتَنْقِذُوْهُمِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُوَالْمَطْلُوْبُ٧٣(۷۳) مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّقَدْرِهٖ اِنَّ اللّٰهَلَقَوِيٌّ عَزِيْزٌ٧٤(۷۴)

اَللّٰهُ يَصْطَفِيْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّمِنَ النَّاسِ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۣ بَصِيْرٌ٧٥(۷۵) يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَاِلَي اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ٧٦(۷۶)

يٰ٘اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَاسْجُدُوْا وَاعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَافْعَلُواالْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ٧٧(۷۷) وَجَاهِدُوْا فِي اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ هُوَ اجْتَبٰىكُمْوَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّيْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَفِيْ هٰذَا لِيَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِيْدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَي النَّاسِ فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ وَاعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ هُوَ مَوْلٰىكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلٰي وَنِعْمَ النَّصِيْرُ٧٨(۷۸)

(اِن کے ظلم سے عاجز ہو کر) جن لوگوں نے خدا کی راہ میں ہجرت کی، پھر مارے گئے یا اپنی موتسے مر گئے، اللہ اُن کو ضرور اچھا رزق عطا فرمائے گا۔ بے شک، اللہ ہی ہے جو بہتر ین رزق عطا فرمانے والا ہے[100]۔وہ اُن کوضرور ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ راضی ہوں گے[101]۔بے شک،اللہ سب کے حال سے واقف ہے، وہ بڑا ہی بردبار ہے[102]۔۵۸- ۵۹

یہ اِسی طرح ہو گا اور (مزید یہ کہ) جو (کسی ظلم کا) ویسا ہی بدلہ لے، جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا[103]، پھر اُس پر زیادتی کی جائے تو اللہ اُس کی ضرور مدد فرمائے گا۔ (لیکن چندے درگذر کرے تو بہتر ہے)، اِس میں شبہ نہیں کہ اللہ معاف کرنے والا، درگذر فرمانے والا ہے۔۶۰

(اللہ ضرور اُس کی مدد فرمائے گا)۔ یہ اِس لیے کہ اللہ ہی ہے جو رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، اور اِس لیے کہ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ یہ اِس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور جن چیزوں کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ سب باطل ہیں اور اِس لیے کہ اللہ ہی برتر ہے ، وہ سب سے بڑا ہے[104]۔۶۱- ۶۲

(وہ ضرور مدد فرمائے گا، اگرچہ حالات کتنے ہی ناموافق ہوں)۔ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا تو اُس سے زمین سرسبزوشاداب ہو جاتی ہے[105]؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا ہی باریک بین ہے، (ہر چیز کی) خبر رکھنے والا ہے[106]۔اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینمیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو بے نیاز ہے اور وہی ستودہ صفات بھی ہے[107]۔۶۳- ۶۴

کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے زمین کی سب چیزوں کو تمھارے کام میں لگا رکھا ہے اور کشتی کو بھی[108]؟وہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ اور وہ آسمان کو تھامے ہوئے ہے کہ مبادا زمین پر گر پڑے[109]، الاّ یہ کہ وہی اِس کا اذن دے۔ یقیناً اللہ لوگوں پر بڑا ہی مہربان ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے[110]۔ وہی ہے جس نے تمھیں زندگی دی، پھر مارتا ہے، پھر تم کو زندہ کرے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے[111]۔۶۵ -۶۶

(اِنھیں اعتراض ہے کہ یہ نئی شریعت مختلف کیوں ہے؟اِنھیں بتاؤ کہ) ہم نے ہر امت کے لیےایک طریقہ مقرر کیا ہے کہ وہ اُسی پر چلیں گے[112]۔ (ہم نے اِس وقت بھی یہی کیا ہے)۔سو اِس معاملےمیں وہ تمھارے ساتھ ہرگز کوئی جھگڑا نہ کرنے پائیں[113]۔لہٰذا نظر انداز کرو اور اپنے پروردگارکی طرف بلاتے رہو۔ یقیناًتم سیدھے راستے پر ہو۔اِس کے بعد بھی اگر وہ تم سے جھگڑنے کے درپےہوں تو اِن سے کہہ دوکہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔ اللہ قیامت کے دن تمھارے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ یہ سب ایک دفتر میں محفوظ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے لیے یہ نہایت آسان ہے[114]۔۶۷ -۷۰

اللہ کے سوا یہ اُن کی پرستش کرتے ہیں جن کے حق میں اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری ہے اور جن کے بارے میں اِن کو کوئی علم بھی نہیں ہے۔ (یہ احمق سمجھتے ہیں کہ آخرت میں وہ اِن کے مددگار ہوں گے)۔ حقیقت یہ ہے کہ اِن ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہو گا۔ اِنھیں جب ہماری صاف صاف آیتیں سنائی جاتی ہیں تو اِن منکروں کے چہروں پر تم ناگواری دیکھتے ہو[115]۔ گویا یہ اُن لوگوں پر حملہ کر دیں گے جو اِن کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ اِن سے کہو، تو کیا میں اِس سے بڑھ کر تمھیں ایک ناگوار چیز بتاؤں؟ دوزخ کی آگ، اللہ نے منکروں کے حق میں اُس کا وعدہ کر رکھا ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔۷۱-۷۲

لوگو،(تم اپنے اِن معبودوں کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو) ایک مثال بیان کی جاتی ہے ، سواُس کو غور سے سنو۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا تم جن کو پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے، اگرچہ وہ اِس کے لیے سب مل کر کوشش کریں۔ اور اگر وہ مکھی اُن سے کچھ چھین لے تو اُس سے وہ اُس کو چھڑا بھی نہیں سکتے۔ چاہنے والے بھی بودے اور جن کو چاہتے ہیں، وہ بھی بالکل بودے[116]۔اِنھوں نے اللہ کی قدر نہیں پہچانی، جیسا کہ اُس کے پہچاننے کا حق ہے[117]۔ بے شک، اللہ قوی ہے، وہ سب پر غالب ہے۔۷۳ -۷۴

(یہ اِسی ناقدری کا نتیجہ ہے کہ فرشتوں کو معبود بنائے بیٹھے ہیں)۔ اللہ فرشتوں میں سے بھی (اپنے) پیغام بر چنتا ہے اور انسانوں میں سے بھی۔ (اِس سے وہ خدائی میں شریک کیوں ہو جائیں گے)؟حقیقت یہ ہے کہ اللہ (خود) سمیع و بصیر ہے۔ اِن (فرشتوں) کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے، وہ اُس سے واقف ہے اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں[118]۔۷۵- ۷۶

ایمان والو، (اِن کا عہد تمام ہوا، اب تمھارا دور شروع ہو رہا ہے تو) رکوع و سجود کرو[119]اور اپنے پروردگار کی بندگی کرو[120]اور نیکی کے کام کرو[121] تاکہ تم فلاح پاؤ۔ اور (مزید یہ کہ اپنے منصب کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے) اللہ کی راہ میں جدوجہد کرو، جیسا کہ جدوجہد کرنے کا حق ہے[122]۔اُس نے تمھیں چن لیا ہے[123]اور (جو) شریعت (تمھیں عطا فرمائی ہے، اُس) میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ہے[124]۔ تمھارے باپ ــــــ ابراہیم ــــــ کی ملت تمھارے لیے پسند فرمائی ہے[125]۔ اُسینے تمھارا نام مسلم رکھا تھا[126]، اِس سے پہلے اور اِس قرآن میں بھی (تمھارا نام مسلم ہے)۔ اِس لیے چن لیا ہے کہ رسول تم پر (اِس دین کی) گواہی دے اور دنیا کے سب لوگوں پر تم (اِس کی) گواہی دینے والے بنو[127]۔ سو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ ادا کرتے رہو اور اللہ کو مضبوط پکڑو[128]۔ وہی تمھارا مولیٰ ہے۔ سو کیا ہی اچھا مولیٰ ہے اور کیا ہی اچھا مددگار!۷۷- ۷۸

___________

[100]۔لفظ 'رزق' کے معنی صرف روزی کے نہیں ہیں ۔ یہ خدا کے بے پایاں انعامات کی ایک جامع تعبیرہے۔ سورۂ آل عمران (۳)کی آیت۱۶۹میں صراحت ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُنھیں مردہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ وہ اپنے پروردگار کے حضور میں زندہ ہوتے ہیں اور برزخ کی زندگی میں بھی خاص اپنے پروردگارکے خوان نعمت سے رزق پاتے ہیں۔ یہاں مزیدوضاحت فرمائی ہے کہ آدمی خدا کی راہ میں نکلا ہو تو اُس کی طبعی موت بھی شہادت کے حکم میں ہے۔

[101]۔یعنی نہال ہو جائیں گے، اِس لیے کہ جو کچھ اُن کو ملے گا، اُس کا وہ دنیا میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔

[102]۔یعنی پکڑنے میں جلدی نہیں کرتا، بلکہ لوگوں کو اصلاح حال کا پورا موقع دیتا ہے۔ لہٰذا اُس کے بندے مطمئن رہیں۔ وہ اعداے حق کے ہاتھوں جو کچھ جھیل رہے ہیں، وہ اُس سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ اُن کے تمام حالات سے واقف ہے۔

[103]۔اصل الفاظ ہیں:'وَمَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَبِهٖ'۔اِن میں'عُوْقِبَبِهٖ' مجانست کے اسلوب پر ہے، جیسے 'دناهم كما دانوا'۔

[104]۔یہ وعدۂ نصرت کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ مطلب یہ ہےکہ جس خدا کی یہ قدرت ہے کہ لیل و نہار کیگردش اُسی کے حکم سے ہے۔ پھر وہ سمیع و بصیر بھی ہے، جو کچھ جہاں اور جس طرح ہو رہا ہے ، اُس کو دیکھ اور سن رہا ہے اور اُس کے سوا کوئی دوسرا معبود بھی نہیں ہے کہ اِن ظالموں کی مدد کر سکے، نہ اُس سے کوئی بڑا یا برتر ہے تو اُس کے بندے اُس کی مدد سے کیوں محروم رہیں گے، وہ ضرور اُن کی مدد فرمائے گا۔

[105]۔چنانچہ اِسی طرح وہ جب چاہے گا ، اپنی رحمت و نصرت کی گھٹائیں اپنے بندوں کے لیے بھی بھیج دے گا اور وہ نہال ہو جائیں گے۔

[106]۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا یہ حوالہ نہایت لطیف طریقے سے آیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''... یعنی وہ اپنی تدبیروں کو اِس طرح بروے کار لاتا ہے کہ کسی کو اُن کا سان گمان بھی نہیں ہوتا۔ وہ بڑی خبر رکھنے والا ہے۔ لوگ صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں، لیکن وہ ماضی کے پردوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے، اُس سے بھی باخبر ہے اور مستقبل کے اوٹ میں جو کچھ ہے، اُس سے بھی باخبر ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۸۱)

[107]۔یعنی صرف بے نیاز ہی نہیں، اِس کے ساتھ ستودہ صفات بھی ہے۔ لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ اُس کے بندےاُس سے مایوس ہوں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ بے ہمہ ہے، لیکن ہر لحظہ اُن کا نگران اور اُن کے ساتھ بھی ہے۔

[108]۔اُس زمانے میں انسان کی سب سے اہم ایجاد کشتی تھی۔ قرآن نے بتا دیا ہے کہ وہ بھی درحقیقت خدا کی ایجاد ہے اور اُسی کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے۔ اِس زمانے کی غیر معمولی ایجادات کو بھی اِسی پر قیاس کر لیجیے۔

[109]۔اصل الفاظ ہیں:'اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ'۔ اِن میں 'اَنْ'سے پہلے ایک مضاف عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گیا ہے۔

[110]۔مطلب یہ ہے کہ اُس کی مہربانی اور شفقت ہے کہ زمین و آسمان قائم ہیں اور اُن کی یہ سب چیزیں تمھاری خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔

[111]۔مطلب یہ ہے کہ خدا کی رأ فت و عنایت سے جو نعمتیں انسان کو حاصل ہیں، اُن سے خدا کی معرفت حاصل کرنے ، اُس کا شکر ادا کرنے اور اُس کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھانے کے بجاے یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ انسان ناشکرا ہو کر اُس حقیقت کا انکار کیےجاتاہے جسے پیغمبرنے پیش کیا ہے۔

[112]۔آیت میں اِس کے لیے لفظ 'مَنْسَك'استعمال ہوا ہے۔ سورۂ مائدہ (۵)کی آیت۴۸میں یہی مفہوم 'شِرْعَة'اور 'مِنْهَاج'کے الفاظ سے ادا کیا ہے۔ فرمایا کہ ہر امت کو اُس کے لیے خاص ایک شریعت دی گئی جس میں دوسروں سے کچھ اختلاف تھا۔ مائدہ میں اِس کی یہ حکمت بیان فرمائی ہے کہ اِس سے لوگوں کی آزمایش مقصود تھی کہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ کون ظواہر و رسوم کے تعصب میں گرفتار ہو کر حقائق سے منہ موڑ لیتا ہے اورکون حق کا سچا طالب بنتا ہے اور اُس کو ہر صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار ہوجاتاہے، اِس لیے کہ وہ اُس کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔

[113]۔یعنی اِنھیںاِس معاملے میں مناظرے یا مجادلے کی کوئی راہ نہ ملے کہ اِس طرح کی فروعات کو موضوع بحثبنا کر یہ اصل بات سے لوگوں کی توجہ ہٹا دیں۔

[114]۔یعنی ہزاروں، لاکھوں، بلکہ اربوں انسانوں کے ہر قول و فعل کا ریکارڈ محفوظ رکھنا اللہ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے، اِس لیے متنبہ ہو جاؤ، یہ سب ایک دن اِس طرح سامنے آئے گا کہ ہر شخص پکار اٹھے گا کہ یہ کیسادفتر ہے کہ جس نے ہر چھوٹی بڑی چیز پوری جزئیات کے ساتھ اپنے اندر سمیٹ لی ہے۔ آیت کا خطاب اگرچہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم سے ہے، لیکن اِس کے لفظ لفظ میں جو عتاب ہے، اُس کا رخ تمام تر اُنھی لوگوں کی طرف ہے جو سورہ کے مخاطبین ہیں اور آپ کی دعوت کا انکار کیے جا رہے تھے۔

[115]۔اِس لیے کہ اُن میں زیادہ تر توحید اور اُس کے دلائل کا بیان ہوتا ہے اور اپنے مزعومہ معبودوں کے لیے جو حمیت اِن کے اندر ہے، وہ اُسے گوارا نہیں کرتی۔

[116]۔اِس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ معبود تو اُسی کو بنایاجاتاہے جو انسان کے ضعف اور ناتوانی کا مداوا کر سکے، لیکن یہ ایسے نادان ہیں کہ جن کو معبود بنائے ہوئے ہیں، وہ اِن سے بھی زیادہ عاجز اور بے بس ہیں۔

[117]۔یعنی اُنھوں نے خدا کو مانا ہے، مگر اُس کی عظمت و قدرت کے صحیح شعور کے ساتھ نہیں مانا، ورنہ ایسے مضحکہ خیز عقیدے نہ ایجاد کرتے، اِس لیے کہ اِس طرح کے تمام عقیدے درحقیقت خدائی کے کم تر اندازے پر مبنی عقیدے ہیں۔

[118]۔مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کو رسالت کا منصب ضرور دیا گیا ہے، لیکن اِس لیے نہیں کہ خدا کسی بھی لحاظسے اُن کا محتاج ہے۔ وہ کائنات کا پروردگار ہے اور اُس کا علم اور اُس کی قدرت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ استاذامام لکھتے ہیں:

''... اِس وجہ سے نہ وہ خدا کے علم میں کوئی اضافہ کر سکتے، نہ اُن کا کوئی قول و فعل خدا کی نگرانی سے بالاتر ہو سکتا اور نہ وہ کسی کے باب میں خدا سے یہ کہنے کی پوزیشن میں ہیں کہ اُن کو اِس کے بارے میں علم ہے، خدا کو نہیں ہے۔ سارے امور خدا ہی کے حضور میں پیش ہوتے ہیں۔ نہ اِن فرشتوں کے آگے پیش ہوتے ہیں نہ پیش ہوں گے۔ خود اِن فرشتوں کو جو امور تفویض ہوتے ہیں ،اُن کی رپورٹ بھی خد اہی کے حضور اُن کو پیش کرنی ہوتی ہے۔''(تدبرقرآن۵/ ۲۸۶)

[119]۔یعنی گھٹنوں پر جھک جاؤ اور اپنا سر سجدے میں ڈال دو کہ خدا کی عظمت و جلالت کے اعتراف کی اِس سے بڑھ کر کوئی صورت نہیں ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ انسان اگر پورے شعور کے ساتھ رکوع و سجود کرے اور اُس پر مداومت رکھے تو کبھی استکبار میں مبتلا نہیں ہوتا اور ہمیشہ تیار رہتا ہے کہ کوئی حق آئے تو بغیر کسی تردد کے اُس کے آگے سرتسلیم خم کر دے۔

[120]۔اصل میں 'عبادت' کا لفظ آیا ہے اور یہ جامع مفہوم میں ہے۔ رکوع و سجود کی ہدایت کے بعد، ظاہر ہے کہ یہ خاص کے بعد عام کا ذکر ہے۔ چنانچہ مدعا یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں خدا ہی کی بندگی اور اُسی کی اطاعت اختیار کرو۔

[121]۔یہ مزید عام ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، اِس سے اُن نیکیوں اور بھلائیوں کی طرف بھی اشارہ کر دیا ہے جن کا درجہ اگرچہ فرائض و اوامر کا نہیں ہے، لیکن وہ فضائل و مکارم میں داخل ہیں اور زندگی کے سنوارنے میں اُن کو بڑا دخل ہے۔

[122]۔آیت میں مضاف محذوف ہے۔ چنانچہ 'فِى اللّٰهِ'کا لفظ 'فى سبيل اللّٰه'کے معنی میں ہے۔ یہہدایت اُس منصب کے حوالے سے کی گئی ہے جس کے لیے انتخاب کا ذکر آگے ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اتمامحجت کے درجے میں خدا کا پیغام پوری انسانیت تک پہنچانے کی کوشش کرو اور اِس میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھانہ رکھو۔ نیز اِس راہ میں اگر کوئی مزاحمت پیش آئے تو اُس کو دور کرنے کے لیے اپنے دل و دماغ ، جسم و جان اور مال ودولت کی ساری قوتیں صرف کر دو۔

[123]۔یعنی اُسی طرح منتخب کر لیا ہے، جس طرح بنی آدم میں سے وہ بعض ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔ اِس سے پہلے بنی اسرائیل بھی اِسی طرح منتخب کیے گئے تھے، لیکن اپنی سرکشی اور بغاوت کیشی کی وجہ سے خدا کے غضب کے مستحق ہوئے اور اُن پر لعنت کر دی گئی۔

[124]۔یہ اِس لیے فرمایا کہ اُس کے احکام میں وہ سختی نہیں ہے جو بنی اسرائیل کی شریعت میں تھی۔ اِس تخفیف کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ بنی اسرائیل براہ راست خدا کی حکومت میں رہے، مگر بنی اسمٰعیل کے ساتھ یہ معاملہنہیں ہے۔ اُن کے بارے میں خدا کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے ارباب حل و عقد کی قیادت میں یہ خدمت انجام دیںگے۔

[125]۔یعنی اصل اسلام جس میں یہودیت یا نصرانیت کی کوئی آمیزش نہیں ہے اور وہ تمھارے باپ ــــــ ابراہیم ــــــ کی ملت ہے۔ ہم نے اُسی کو تجدید و اصلاح اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ تمھارا دین اور تمھاری شریعت بنا دیا ہے۔ باپ کی حیثیت سے ابراہیم علیہ السلام کا حوالہ بنی اسمٰعیل کی تشویق کے لیے ہے کہ یہ تمھارے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں ہے، تمھارے باپ کا دین ہے اور باپ کے دین سے زیادہ اولادکو اور کون سا دیناور کون سی ملت مطلوب و محبوب ہو سکتی ہے۔ نیز یہ حقیقت بھی اِس سے واضح ہوتی ہے کہ اصلاً اِس ذمہ داری کےلیے بنی اسمٰعیل کو چنا گیا ہے۔ دوسرے سب لوگ جب اُن کی دعوت قبول کرکے اسلام میں داخل ہو تے ہیں تو تبعاً اُس میں شریک ہو جاتے ہیں۔ سورۂ بقرہ (۲)میں اللہ تعالیٰ نے اِسی بنا پر بنی اسمٰعیل کو درمیان کی جماعت 'اُمَّةً وَّسَطًا'قرار دیا ہے جس کے ایک طرف خدا اور اُس کا رسول اور دوسری طرف'النَّاس'، یعنی دنیا کی سب اقوام ہیں اور فرمایا ہے کہ جو شہادت رسول نے تم پر دی ہے، اب وہی شہادت باقی دنیا پر تمھیں دینا ہو گی۔ سورۂ آل عمران (۳)کی آیت۳۳میں اِسی کو آل ابراہیم کے اصطفا سے تعبیر کیا ہے۔ بنی اسرائیل یہ ذمہ داری پوری کر رہے تھے تو اُن کی دعوت کا مرکز بیت المقدس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اُس کی یہ حیثیت ختم ہوگئی اور اُس کی امانت بھی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی گئی۔ چنانچہ قیامت تک کے لیے دعوت حق کامرکز اب وہی قدیم گھر ہے جسے ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام نے اپنے مقدس ہاتھوں سے ام القریٰ مکہ میں تعمیر کیا تھااور جسے 'بَيْتُ اللّٰهِ'،'الْبَيْت'، 'الْبَيْتُ الْعَتِيْق'اور 'الْمَسْجِدُ الْحَرَام'کے نام سے موسوم کیاجاتاہے۔

[126]۔یہ ابراہیم علیہ السلام کی اُس دعا کی طرف اشارہ ہے جو سورۂ بقرہ (۲)میں اِس طرح نقل ہوئی ہے: 'رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآاُمَّةًمُّسْلِمَةً لَّكَ'۔ اِس میں' امت مسلمہ' کے الفاظ اُسی امت کے لیے آئے ہیں جس کا ذکر یہاں ہو رہا ہے۔

[127]۔اوپر جس انتخاب کا ذکر تھا، یہ اُس کی وضاحت کر دی ہے کہ وہ دین حق کی شہادت کے لیے کیا گیا ہے۔ یہ شہادت محض دعوت و تبلیغ نہیں ہے، بلکہ اِس کے ساتھ خدا کی دینونت کا ظہور بھی ہے جس کے تحت یہ اگر حق پر قائم ہوں اور اُسے بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتے رہیں تو اُن کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالیٰ اُن قوموں پر اِنھیں غلبہ عطا فرماتے ہیں اور اُس سے انحراف کریں تو اُنھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ اِن کا وجود اُن حقائق کی گواہی بن جاتا ہے جو یہ زبان و قلم سے پیش کرتے ہیں۔ دعوت و تبلیغ کے بجاے 'شہادت' کا لفظ اِسی رعایت سے استعمال کیا گیاہے۔ یہ درحقیقت اتمام حجت ہے جو اگر ہو جائے تو دنیا اور آخرت، دونوں میں فیصلۂ الہٰی کی بنیاد بنجاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عالمی سطح پر اِس اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہی انتظام فرمایا ہے۔

[128]۔یعنی اُس نے جو ہدایت تمھیں دی ہے، اُس کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو اور اُس کی مدد و نصرت پرہر حال میں بھروسا کرو۔ یہ وہی بات ہے جو دوسری جگہ 'اِعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ'کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔

__________